القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ الانعام

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 سب تعریف اﷲ کو جس نے بنائے آسمان و زمین، ٹھہرایا اندھیرا اور اُجالا۔

پھر یہ منکر اپنے رب کے ساتھ کسی کو برابر کرتے ہیں۔

.1

 وہی ہے جن نے بنایا تم کو مٹی سے پھر ٹھہرایا ایک وعدہ (مقرر کر دی ایک مدت)۔

اور ایک وعدہ (قیامت کا جو) صحیح ہو رہا ہے اس (اﷲ) کے پاس، پھر (بھی) تم شک لاتے ہو۔

.2

 اور وہی ہے(ایک) اﷲ آسمان و زمین میں۔

جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا ،اور جانتا ہے جو (بھلائی یا برائی) کماتے ہو۔

.3

 اور نہیں پہنچتی انکو نشانی، اُنکے رب کی نشانیوں میں، مگر کرتے ہیں اس سے تغافل (منہ موڑ لیتے ہیں) ۔

.4

سو جھٹلا چکے حق بات کو، جب اُن تک پہنچی۔

جب آگے(سو عنقریب) آئے گی اُن پر حقیقت اس بات کی جس پر ہنستے تھے۔

.5

کیا دیکھتے نہیں کتنی ہلاک کیں پہلے ان سے سنگتیں (قومیں) ، ان کو جمایا (اقتدار دیا) تھا ہم نے ملک میں، جتنا تم کو نہیں جمایا،

اور چھوڑ دیا ہم نے اُن پر آسمان برساتا ( موسلادار بارش) ، اور بنا دیں نہریں بہتی اُنکے نیچے،

پھر ہلاک کیا اُن کو اُنکے گناہوں پر،ا ور لا کھڑی کی اُنکے پیچھے اور سنگت (قوم) ۔

.6

 اور اگر اتاریں ہم ان پر لکھا ہوا کاغذ میں، پھر ٹٹول لیں اسکو اپنے ہاتھ سے،

 البتہ (پھر بھی) کہیں گے (یہ) منکر،یہ کچھ نہیں مگر جادو ہے صریح (کھلا) ۔

.7

 اور کہتے ہیں کیوں نہ اترا اس پر کوئی فرشتہ؟

اور اگر ہم فرشتہ اتاریں تو فیصلہ ہو چکے کام، پھر ان کو فرصت (مہلت)نہ ملے۔

.8

 اور اگر ہم رسول کرتے کوئی فرشتہ، تو وہ بھی صورت میں ایک مرد کرتے، اور اُن پر شبہ ڈالتے وہی شبہ جو لاتے (جس میں مبتلا)ہیں۔

.9

اور ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تیرے (سے)پہلے،

پھر الٹ پڑی ان سے ہنسی والوں پر جس بات پر ہنسا کرتے تھے۔

.10

 تُو کہہ، پھرو ملک میں، تو دیکھو آخر کیسا ہوا جھٹلانے والوں کا۔

.11

 پُوچھ! کہ کس کا ہے جو کچھ ہے آسمان و زمین میں؟

کہہ اﷲ کا۔

اس نے لکھی (لازم کر لی)ہے اپنے ذمہ مہربانی (رحمت)۔

 البتہ تم کو جمع کرے گا، دن قیامت تک، اس میں شک نہیں۔

اور جنہوں نے ہاری (خسارے میں ڈالی)اپنی جان، وہی(اسے) نہیں مانتے۔

.12

 اور اسی کا ہے جو بستا ہے رات میں اور دن میں۔

 اور وہی ہے سب سنتا جانتا۔

.13

 تُو کہہ، کیا اور کوئی پکڑوں اپنا مددگار اﷲ کے سوا؟

(وہ)جو بنانے والا ہے آسمان اور زمین کا اور سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔

کہہ مجھ کو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں، اور(یہ کہ ہر گز) تُو نہ ہو شریک پکڑنے والا۔

.14

تُو کہہ، میں ڈرتا ہوں، اگر حکم نہ مانوں اپنے رب کا، ایک بڑے دن کے عذاب سے۔

.15

 جس پر سے وہ (عذاب)ٹلا اُس دن اس پر رحم کیا۔

 اور یہی ہے بڑی مراد ملنی۔

.16

اور اگر پہنچا دے تجھ کو اﷲ کچھ سختی، پھر اسکو کوئی نہ اٹھا ئے سوا اس کے۔

اور اگر تجھ کو پہنچا دے بھلائی، تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

.17

 اور اسی کا زور پہنچتا (کامل اختیار)ہے اپنے بندوں پر۔

 اور وہی ہے حکمت والا خبردار۔

.18

 تُو کہہ (پوچھ)، کس چیز کی بڑی گواہی؟

کہہ، اﷲ گواہ میرے اور تمہارے بیچ۔

اور اترا (وحی کیا گیا)ہے مجھ کو یہ قرآن، کہ تم کو اس سے خبر (متنبہ) کروں، اور (ہر اسکو)جس کو یہ پہنچے۔

کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اﷲ کے ساتھ معبود اور بھی ہیں۔

تُو کہہ، میں نہ گواہی دوں گا۔

تُو کہہ، وہی ہے معبود ایک، اور میں قبول نہیں رکھتا، جو تم شریک کرتے ہو۔

.19

جن کو ہم نے دی ہے کتاب، اس کو پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو،

جنہوں نے ہاری (خسارے میں ڈالی)اپنی جان، وہی نہیں مانتے۔

.20

 اور اس سے ظالم کون جو جھوٹ باندھے اﷲ پر یا جھٹلائے اسکی آیتیں ،

مقرر (یقیناً) بھلا (فلاح) نہیں پاتے گنہگار۔

.21

 اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو کہیں (پوچھیں) گے شریک والوں کو، کہاں ہیں شریک تمہارے جنکا تم دعوٰی کرتے تھے؟

.22

پھر نہ رہے گی اُن کی شررت، مگر یہی کہ کہیں گے قسم اﷲ کی اپنے رب کی ہم شریک نہ کرتے تھے؟

.23

 دیکھ تو کیسا جھوٹ بولے اپنے اوپر،

 اور کھوئی گئیں ان سے جو باتیں بناتے تھے۔

.24

 اور بعضے ان میں کان (لگائے) رکھتے ہیں تیری طرف۔

اور ہم نے انکے دلوں پر غلاف رکھے ہیں کہ اس کو نہ سمجھیں، اور اُن کے کانوں پر بوجھ۔

اور اگر دیکھیں ساری نشانیاں، یقین نہ لائیں ان پر۔

(حتی کہ) جب تک نہ آئیں تیرے پاس جھگڑنے کو، کہتے ہیں وہ منکر یہ کچھ نہیں مگر نقلیں (کہانیاں) ہیں اگلوں (پہلوں) کی۔

.25

 اور وہ اس سے منع کرتے ہیں (لوگوں کو) اور (خود بھی) اس سے بھاگتے ہیں،

اور ہلاک کرتے ہیں مگر آپ (خود) کو، اور نہیں سمجھتے۔

.26

 اور کبھی تُو دیکھے، جس وقت ان کو ٹھہرایا (کھڑا کیا) ہے آگ پر تو کہتے ہیں،

اے کاش کے ہم کو پھیر (واپس) بھیجیں، اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتیں اور رہیں ایمان والوں میں۔

.27

 کوئی نہیں، بلکہ کھل گیا جو چھپاتے تھے پہلے۔

اور اگر پھیر (واپس) بھیجیں تو پھر کریں وہی جو منع ہوا تھا ان کو، اور وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

.28

 اور کہتے ہیں ہم کو زندگی نہیں مگر یہی دنیا کی، اور ہم کو پھر نہیں اُٹھنا(زندہ نہیں ہوں گے) ۔

.29

 اور کبھی تُو دیکھے، جس وقت ان کو کھڑا کیا ہے اُن کے رب کے سامنے،

فرمایا، (کیا) اب یہ سچ نہیں،

بولے کیوں نہیں(یہ حقیقت ہے) ، قسم ہمارے رب کی،

فرمایا تو چکھو عذاب، بدلہ اپنے کُفر کا۔

.30

 خراب ہوئے جنہوں نے جھوٹ جانا ملنا اﷲ کا،

جب تک کہ آپہنچی اُن پر قیامت بے خبر (اچانک) ، کہنے لگے، اے افسوس! کیا ہم نے قصور کیا (کوتاہی کی) اس میں،

اور وہ اُٹھاتے ہیں اپنے بوجھ اپنی پیٹھ پر۔

سنتا ہے (کیسا) بُرا بوجھ ہے جو اُٹھاتے ہیں۔

.31

 اور کچھ نہیں دنیا کا جینا مگر کھیل اور جی بہلانا۔

اور پچھلا گھر جو ہے، سو بہتر ہے ڈر والوں کو؟ کیا تم کو سمجھ نہیں؟

.32

 ہم جانتے ہیں کہ تجھ کو غم دلاتی ہیں اُن کی باتیں،

سو وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے، لیکن بے انصاف اﷲ کے حکموں سے منکر ہوئے جاتے ہیں۔

.33

 اور جھٹلایا بہت رسولوں کو تجھ سے پہلے، پھر صبر کرتے رہے جھٹلانے پر، اور ایذا ہے، جب تک پہنچی ان کو مدد ہماری،

اور کوئی بدلنے والا نہیں اﷲ کی باتیں۔

 اور تجھ کو پہنچ چکا ہے کچھ احوال رسولوں کا۔

.34

اور اگر تجھ پر بھاری ہے ان کا تغافل (بے رخی) کرنا،

تو اگر تُو سکے ڈھونڈھ نکالنی کوئی سرنگ زمین میں، یا کوئی سیڑھی آسمان میں، پھر ان کو لا دے ایک نشانی۔

اور اگر اﷲ چاہتا، جمع کر لاتا سب کو راہ پر،  

سو تُو مت ہو نادانوں میں۔

.35

 مانتے وہ ہیں جو سنتے ہیں۔ اور مُردوں کو اٹھائے گا اﷲ، پھر اسکی طرف جائیں گے۔

.36

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اُتری اس پر کچھ نشانی اس کے رب سے؟

تُو کہہ اﷲ کو قدرت ہے کہ اُتارے کچھ نشانی، لیکن ان بہتوں کو سمجھ نہیں۔

.37

اور کوئی ہلتا (چلنے پھرنے والا) نہیں زمین میں، نہ جانور ہے کہ اڑتا ہے دو پر سے، مگر ایک ایک اُمت ہے تمہاری طرح۔

چھوڑی نہیں ہم نے لکھنے میں کوئی چیز،

پھر اپنے رب کی طرف اکٹھے ہوں گے۔

.38

 اور وہ جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتیں، بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں۔

جس کو چاہے اﷲ گمراہ کرے۔ اور جس کو چاہے ڈال دے سیدھی راہ پر۔

.39

 تُو کہہ، دیکھ تو اگر آئے تم پر عذاب اﷲ کا یا آئے تم پر قیامت،(تو) کیا اﷲ کے سوا کسی کو پکارو گے؟

بتاؤ اگر تم سچے ہو۔

.40

بلکہ (ایسے مواقع پر) اسی کو پکارتے ہو، پھر کھول (دُور کر) دیتا ہے جس پر پُکارتے تھے، اگر (وہ) چاہتا ہے۔

اور بھول جاتے ہوجن کو شریک کرتے تھے۔

.41

 اور ہم نے رسول بھیجے تھے بہت اُمتوں پر تجھ سے پہلے،پھر اُن کو پکڑا سختی میں اور تکلیف میں، شاید وہ گڑگڑائیں۔

.42

پھر کیوں نہ جب پہنچا اُن پر عذاب ہمارا گڑگڑاتے ہوتے (جھکے ہوتے عاجزی سے) ،

اور لیکن سخت ہو گئے دل اُن کے اور اُن کو بھلے دکھائے شیطان نے جو کام کر رہے تھے۔

.43

پھر جب بھول گئے جو نصیحت کی تھی اُن کو کھول دیئے ہم نے اُن پر دروازے ہر چیز کے،

یہاں تک کہ جب خوش (خوب مگن) ہوئے پائی ہوئی چیز سے پکڑا ہم نے اُن کو بے خبر، پھر تب ہی وہ رہ گئے نا اُمید۔

.44

اور سراہتے کام (سب تعریفیں)اﷲ (کی) کا

جو رب ہے سارے جہان کا۔

.45

 تُو کہہ، دیکھو تو! اگر چھین لے اﷲ تمہارے کان اور آنکھیں اور مُہر کر دے تمہارے دل پر،

 کون وہ رب ہے اﷲ کے سوا جو تم کو یہ لادے؟

دیکھ، ہم کیسی پھیرتے (بار بار پیش کرتے)ہیں باتیں، پھر وہ کنارہ (رُوگردانی) کرتے ہیں۔

.46

 تُو کہہ، دیکھو تو! اگر آئے تم پر عذاب اﷲ کا بے خبر (اچانک) یا روبرو(عَلانیہ) ، کوئی ہلاک ہو گا، مگر وہی لوگ (جو) گنہگار ہیں؟

.47

 اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں، نہیں مگر خوشی اور ڈر سنانے کو،

پھر جو یقین لایا اور سنوار پکڑی (اصلاح کر لی) ، تو نہ ڈر ہے اُن پر اور نہ وہ غم کھائیں۔

.48

 اور جنہوں نے جھٹلائیں ہماری آیتیں، اُن کو لگے گا عذاب اس پر کہ بے حکمی کرتے تھے۔

.49

 تُو کہہ، میں نہیں کہتا تم سے، کہ مجھ پاس ہیں خزانے اﷲ کے، نہ میں جانوں غیب کی بات، اور نہ میں کہوں تم سے کہ میں فرشتہ ہوں۔

میں اسی پر چلتا ہوں جو مجھ کو حکم آتا ہے،

تُو کہہ، کب برابر ہو سکے اندھا اور دیکھتا؟

کیا تم دھیان (غور) نہیں کرتے؟

.50

 اور خبردار کر دے اس قرآن سے جنکو ڈر ہے کہ جمع ہوں گے اپنے رب کے پاس،انکا کوئی نہیں اسکے سوا حمایتی، نہ سفارش والا،

 شاید وہ بچتے رہیں (تقویٰ اختیار کر لیں) ۔

.51

اور نہ ہانک (دور ہٹاؤ خود سے) ان کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں اس کا منہ (کی خوشنودی) ۔

تجھ پر نہیں اُن کے حساب میں سے کچھ، اور نہ تیرے حساب میں سے اُن پر ہے کچھ،

کہ تو ان کو ہانک دے(دور ہٹاؤ) ، پھر (اگر ایسا کیا تو) ہوئے بے انصافوں میں۔

.52

 اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے ایک کو ایک سے کہ کہیں، کیا یہی لوگ ہیں جن پر اﷲ نے فضل کیا، ہم سب میں؟

کیا اﷲ کو معلوم نہیں حق ماننے (شکر کرنے) والے؟۔

.53

 اور جب آئیں تیرے پاس ہماری آیتیں ماننے والے، تُو کہہ، سلام ہے تم پر،

لکھی ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر مہر (رحمت) کرنی،

کہ جو کوئی کرے تم میں برائی نادانی سے، پھر اسکے بعد توبہ کی اور سنوار پکڑی (اصلاح کر لی) ،

 تو یوں ہے کہ (بیشک) وہ ہے بخشنے والا مہربان۔

.54

 اور اسی طرح ہم بیان کرتے ہیں آیتیں (نشانیاں) اور تو کھل (نمایاں ہو) جائے راہ گنہگاروں کی۔

.55

 تُو کہہ مجھ کو منع ہوا ہے کہ پُوجوں جنکو پکارتے ہو اﷲ کے سوا،

تُو کہہ، میں نہیں چلتا تمہاری خوشی (خواہش) پر، سو تو میں بہک چکا (اگر ایسا کیا) ، اور نہ ہوا راہ پانے والا۔

.56

 تُو کہہ، مجھ کو شہادت پہنچی میرے رب کی، اور تم نے اس کو جھٹلایا،

میرے پاس (اختیار میں) نہیں جسکی شتابی (جلدی) کرتے ہو،

حکم کسی کا نہیں سوا اﷲ کے، کھولتا ہے حق بات، اور وہ ہے بہتر چکانے (فیصلہ کرنے والا) والا۔

.57

 تُو کہہ، اگر میرے پاس ہو جس کی شتابی (جلدی) کرتے ہو، تو فیصلہ ہو چکے کام(اس جھگڑے کا) ، میرے تمہارے بیچ۔

اور اﷲ کو خوب معلوم ہیں بے انصاف۔

.58

 اور اسی کے پاس کنجیاں ہیں غیب کی، ان کو کوئی نہیں جانتا اس کے سوا۔

اور وہ جانتا ہے جو جنگل اور دریا میں،

اور نہیں جھڑتا کوئی پات (پتہ) ، جو وہ نہیں جانتا،

 اور نہ کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں،اور نہ ہرا نہ سوکھا، جو نہیں کھلی کتاب میں۔

.59

 اور وہی ہے تم کو بھر (روح قبض کر) لیتا ہے رات کو، اور جانتا ہے جو کما چکے ہو دن کو،

پھر تم کو اُٹھانا ہے اس (اگلے دن) میں، کہ پورا ہو وعدہ (زندگی کی مدت) جو تھا ٹھہرا (مقرر کر) دیا۔

پھر اسی کی طرف پھیرے (لوٹائے) جاؤ گے، پھر جتا (بتا) دےگا تم کو، جو کرتے (رہے) ہو۔

.60

 اور اسی کا حکم غالب ہے اپنے بندوں پر، اور بھیجتا ہے تم پر نگہبان (فرشتے) ۔

یہاں تک کہ جب پہنچے تم میں کسی کو موت، اسکو بھر لیویں (روح قبض کر لیں) ہمارے بھیجے لوگ (فرشتے) ،

اور وہ قصور (کوتاہی) نہیں کرتے۔

.61

پھر پہنچائے (لوٹائے) جائیں گے اﷲ کی طرف، جو مالک (حقیقی) ان کا ہے۔

تحقیق سن رکھو حکم اسی کا ہے، اور وہ شتاب (تیز) لیتا ہے حساب۔

.62

 تُو کہہ، کون تم کو بچا لاتا ہے جنگل کے اندھیروں سے اور دریا کے، جس کو (تم) پکارتے ہو گڑگڑاتے اورچپکے،

اور اگر ہم کو بچا لے اس بلا سے تو البتہ (ضرور) ہم احسان مانیں (شکرگزار ہوں) ۔

.63

 تُو کہہ، اﷲ تم کو بچاتا ہے ان سے، اور ہر گھبراہٹ سے، پھر تم شریک ٹھہراتے ہو۔

.64

 تُو کہہ، اسی کو قدرت ہے کہ بھیجے تم پر عذاب اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے،

یا ٹھہرائے تم کو کئی فرقے کر کر اور چکھائے ایک کو لڑائی ایک کی۔

دیکھ! کس پھیر (گھماؤ) سے ہم کہتے ہیں باتیں شاید وہ سمجھیں۔

.65

 اور اس (قرآن) کو جھوٹ بتایا تیری قوم نے اور یہ تحقیق (حق) ہے۔

تُو کہہ، میں نہیں (بنایا گیا) تم پر داروغہ۔

.66

 ہر چیز کا ایک وقت ٹھہر رہا (مقرر) ہے

اور آگے (عنقریب) جان لو گے۔

.67

 اور جب تُو دیکھے وہ لوگ کہ بکتے (نکتہ چینی کرتے) ہیں ہماری آیتوں میں، تو اُن سے کنارہ کر،

جبتک کہ بکنے لگیں (وہ مشغول ہوں) اور کسی بات میں۔

اور کبھی بھلا دے تجھ کو شیطان، تو نہ بیٹھ بعد نصیحت کے، بے انصاف قوم کیساتھ۔

.68

 اور پرہیزگاروں پر نہیں کچھ اُن کا حساب (ذمہ داری) ،لیکن نصیحت کرنی (فرض) ہے، شاید وہ ڈریں(غلط روی سے بچیں) ۔

.69

 اور چھوڑ دے جنہوں نے ٹھہرایا اپنا دین کھیل اور تماشا اور بہکے دنیا کی زندگی پر،

اور اس سے نصیحت دے اُن کو، کہ گرفتار نہ ہو جائے کوئی اپنے کئے (کرتوتوں کے وبال) میں ،

کہ نہیں اس کو اﷲ کے سوا حمایتی نہ سفارش والا، اور اگر بدلہ (میں) دے سارے بدلے، قبول نہ ہوں اُس سے،

وہی ہیں جو گرفتار ہوئے اپنے کئے (کمائی کے نتیجے) میں۔

ان کو پینا ہے گرم پانی، اور مار ہے دُکھ والی، بدلہ کُفر کرنے کا ۔

.70

 تُو کہہ کیا ہم پکاریں اﷲ کے سوا، جو نہ بھلا کرے ہمارا نہ بُرا،اور (کیا) پھر جائیں الٹے پاؤں، جب اﷲ ہم کو راہ دے چکا،

(اور ہو جائیں) جیسے ایک شخص کو بھُلا (بھٹکا) دیا جِنوں (شیطانوں) نے، جنگل میں بہکتا،

(جبکہ) اس کے رفیق پکارتے ہیں راہ کی طرف، کہ آ ہمارے پاس۔

تُو کہہ اﷲ نے راہ بتائی، سو وہی (صحیح) راہ ہے۔ اور ہم کو حکم ہوا ہے کہ تابع رہیں جہان کے صاحب کے۔

.71

 اور یہ کہ کھڑی (قائم) رکھو نماز اور اس سے ڈرتے رہو۔

اور وہی ہے جس پاس اکھٹے ہو (کئے جاؤ) گے۔

.72

 وہی ہے جس نے ٹھیک بنائے (پیدا کئے) آسمان و زمین۔

اور جس دن کہے گا ہو تو (حشر برپا) ہو جائے گا۔

اسی کی بات سچ ہے۔

 اسی کو سلطنت ہے جس دن پھونکا جائے صور۔

چُھپااور کھلاجاننے والا،

 اور وہی تدبیر والا خبردار۔

.73

 اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر کو، تُو کیا پکڑتا (بناتا) ہے مورتوں کو خدا؟

میں دیکھتا ہوں، تُو اور تیری قوم صریح بہکے ہو۔

.74

 اور اسی طرح ہم دکھانے لگے ابراہیم کو سلطنت آسمان و زمین کی، اور تا (کہ) اس کو یقین آئے۔

.75

پھر جب اندھیری آئی اس پر رات، دیکھا ایک تارا۔

بولا یہ ہے رب میرا،

پھر جب وہ غائب ہوا، بولا مجھ کو خوش (پسند) نہیں آتے چھپ جانے والے۔

.76

پھر جب دیکھا چاند چمکتا، بولا یہ ہے رب میرا۔

پھر جب وہ غائب ہوا، بولا اگر نہ راہ دے مجھ کورب میرا، تو بیشک میں رہوں بہکتے لوگوں میں۔

.77

 پھر جب دیکھا سورج جھلکتا (روشن) ، بولا یہ ہے میرا رب، یہ رب سب سے بڑا۔

پھر جب وہ غائب ہوا، بولا، اے قوم! میں بیزار ہوں ان سے جنکو تم شریک کرتے ہو (اﷲ کے ساتھ) ۔

.78

میں نے اپنا منہ کیا اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان و زمین، ایک طرف کا (یکسو) ہو کر،

اور میں نہیں شریک کرنے والا۔

.79

 اور اس سے جھگڑی اس کی قوم۔

بولا تم مجھ سے جھگڑتے ہو اﷲ پر؟ اور وہ مجھ کو سوجھا (ہدایت دے) چکا۔

اور میں ڈرتا نہیں اُن سے جن کو شریک ٹھہراتے ہو اس کا، مگر کہ میرا رب کچھ چاہے۔

سمائی ہے میرے رب کے علم میں سب چیز کو۔ کیا تم دھیان نہیں کرتے؟

.80

 اور میں کیوں کر ڈروں تمہارے شریکوں سے؟

اور (جبکہ) تم نہیں ڈرتے (اس بات سے) کہ شریک ٹھہراتے ہو اﷲ کے ساتھ، جس پر نہیں اتاری اس نے تم کو کچھ سند۔

اب دونوں فرقوں میں کس کو چاہیئے خاطر جمع (دلجمعی) ، کہو اگر سمجھ رکھتے ہو۔

.81

جو لوگ یقین لائے اور ملائی نہیں اپنے یقین میں کچھ تقصیر (کوتاہی) انہی کو ہے خاطر جمع (دلجمعی) ، اور وہی ہیں راہ پائے۔

.82

 اور یہ ہماری دلیل ہے، کہ ہم نے دی ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابل۔

درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کو چاہیں۔

تیرا رب تدبیر والا ہے خبردار۔

.83

 اور اس کو بخشا ہم نے اسحٰق اور یعقوب۔

 سب کو ہدایت دی۔

اور نوح کو ہدایت دی ان سب سے پہلے،

اور اسکی اولاد میں داؤد اور سلیمان کو، اور ایوب اور یوسف کو، اور موسیٰ اور ہارون کو۔

اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں، نیک کام والوں کو۔

.84

 اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو۔

 سب ہیں نیک بختوں میں۔

.85

 اور اسمٰعیل اور الیسع کو، اور یونس کو اور لوط کو،

اور سب کو ہم نے بزرگی دی سارے جہان والوں پر۔

.86

 اور بعضوں کو اُن کے باپ دادوں میں اور اولاد میں اور بھائیوں میں۔

اوران کو ہم نے پسند کیا، اور راہ سیدھی چلایا۔

.87

 یہ اﷲ کی ہدایت ہے، اس پر راہ دے جس کو چاہے اپنے بندوں میں،

اور اگر وہ شریک کرتے، البتہ ضائع ہوتا جو کچھ کیا تھا۔

.88

(یہی) وہ لوگ تھے، جنکو دی ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوّت۔

پھر اگر ان باتوں کو نہ مانیں یہ لوگ تو ہم نے ان پر مقرر کئے ہیں وہ شخص کہ وہ نہیں اُن سے منکر۔

.89

 وہ لوگ تھے جن کو ہدایت دی اﷲ نے، سو تُو چل اُن کی راہ،

تُو کہہ، میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری۔

یہ محض نصیحت ہے جہان کے لوگوں کو۔

.90

 اور انہوں نے نہ جانچا اﷲ کو پورا جانچنا، جب کہنے لگے، اﷲ نے اتارا نہیں کسی انسان پر کچھ۔

پوچھ تو کس نے اتاری وہ کتاب جو موسیٰ لایا، روشنی اور ہدایت لوگوں کی،

جسکو تم نے ورق ورق کر دکھایا، اور بہت چھپا رکھا۔

اور تم کو اس میں سکھایاجو نہ جانتے تھے تم، نہ تمہارے باپ دادے۔

کہہ اﷲ نے اتاری،

پھر چھوڑ دے ان کو، اپنی بک بک (فضول گوئی) میں کھیلا کریں۔

.91

 اور ایک یہ کتاب ہے کہ ہم نے اتاری برکت کی، سچ بتاتی اپنے اگلے کو،اور تا (کہ) تو ڈرائے اصل بستی کو اور آس پاس والوں کو۔

اور جن کو یقین ہے آخرت کا، وہ اس کو مانتے ہیں ،اور وہ ہیں اپنی نماز سے خبردار (کی حفاظت کرتے) ۔

.92

 اور اس سے ظالم کون جو باندھے اﷲ پر جھوٹ یا کہے مجھ کو وحی آئی اور اسکو وحی کچھ نہیں آئی،

اور جو کہے میں اتارتا ہوں برابر اس کے جو اﷲ نے اتارا۔

اور کبھی تو دیکھے، جس وقت ہیں ظالم بیہوشی میں، اور فرشتے ہاتھ کھول رہے ہیں کہ نکالو اپنی جان۔

آج تم کو جزا ملے گی ذلّت کی مار، اس پرکہ کہتے اﷲ پر جھوٹ باتیں،اور اس کی آیتوں سے تکبّر کرتے تھے۔

.93

 اور تم ہمارے پاس آئے ایک ایک (تنہا) ، جیسے ہم نے بنائے (پیدا کیے) تھے پہلی بار،

اور چھوڑ دیا (آئے) جو ہم نے اسباب دیا تھا (دنیا میں) (اپنی) پیٹھ کے پیچھے۔

اور ہم دیکھتے نہیں تمہارے ساتھ سفارش والے، جن کو تم بتاتے تھے کہ اُن کا تم میں ساجھا ہے۔

ٹوٹ (منقطع ہو) گئے تم آپس میں، اور جاتے رہے جو دعوٰی تم کرتے تھے۔

.94

 (بیشک) اﷲ ہے کہ پھوڑ نکالتا (پھاڑ نکالتا) ہے دانہ اور گھٹلی۔

نکالتا ہے مُردہ سے زندہ، اور نکالنے والا ہے زندہ سے مُردہ۔

یہ ہے (تمہارا) اﷲ، پھر کہاں پھرے جاتے ہو؟

.95

 پھوڑ نکالنے والا صبح کی روشنی۔

 اور رات بنائی آرام(کیلئے)،

 اور سورج اور چاند حساب (کیلئے) ۔

یہ اندازہ رکھا ہے زورآور خبردار نے۔

.96

 اور اسی نے بنا دیئے تم کو تارے کہ اُن سے راہ پاؤ، اندھیروں میں جنگل اور دریا کے۔

(بیشک) ہم نے کھول سنائے پتے (نشانیاں) ان لوگوں کو جو جانتے (علم رکھتے) ہیں۔

.97

 اور اسی نے تم (سب) کو نکالا ایک جان سے، پھر کہیں تم کو ٹھہراؤ ہے اور کہیں سُپرد رہنا،

ہم نے کھول سنائے پتے (نشانیاں) اس قوم کو جو بوجھتے ہیں۔

.98

 اور اُسی نے اُتارا آسمان سے پانی۔پھر نکالی ہم نے اس سے اُگنے والی ہر چیز،

پھر اس میں سے نکالا سبزہ، جس سے نکالتے ہیں دانے جڑے ہوئے۔اور کھجور کے گابھے میں سے گچھے لٹکتے ہیں،

اور باغ انگور کے، اور زیتون اور انار، آپس میں ملتے اور جُدا۔

دیکھو! اس کا پھل جب پھل لاتا ہے اور اس کا پکنا۔

(بیشک) ان چیزوں میں سب پتے (نشانیاں) ہیں یقین لانے والوں کو۔

.99

 اور ٹھہراتے ہیں شریک اﷲ کے جِنّ، اور اُس (اﷲ) نے ان کو بنایا،

اور تراشتے ہیں اسکے واسطے بیٹے اور بیٹیاں بن سمجھے،

وہ اس لائق نہیں(پاک اور بالاتر ہے) ، اور بہت دُور ہے ان باتوں سے جو بتاتے ہیں۔

.100

 نئی طرح بنانے والا آسمان و زمین کا۔

اس کو کہاں سے ہو بیٹا؟ اور (حالانکہ) اس کو کوئی عورت نہیں۔

اور اس نے بنائی(تو پیدا کیا) ہر چیز۔ اور وہ ہر چیز سے واقف ہے۔

.101

یہ اﷲ ہے رب تمہارا، اس کے سوا کسی کو بندگی نہیں۔

 بنانے (اپیدا کرنے) والا ہر چیز کا، سو تم اس کی بندگی کرو۔

اور اُس پر ہر چیز کا حوالہ (سُپردگی) ہے۔

.102

اس کو نہیں پا سکتیں آنکھیں اور وہ پا سکتا ہے آنکھوں کو،

اور وہ بھید جانتا ہے خبردار۔

.103

 تم کو پہنچ چکیں سوجھ (سمجھ) کی باتیں تمہارے رب سے۔

پھر جو سوجھا (سمجھا) سو اپنے واسطے اور جو اندھا رہا سو اپنے بُرے کو۔

اور میں نہیں تم پر نگہبان۔

.104

 اور یوں پھیر پھیر (مختلف طریقوں طے) سمجھاتے ہیں ہم آیتیں،اور تا کہیں کہ تو (کسی سے) پڑھا ہے

اور تا (کہ) واضع کریں ہم اس کو واسطے سمجھ والوں کو۔

.105

 تو چل اُس پر جو حکم(وحی) آئے تجھ کو تیرے رب سے۔

کسی کی بندگی نہیں سوا اس (اﷲ) کے۔ اور جانے دے شریک والوں کو۔

.106

 اور اگر اﷲ چاہتا تو شریک نہ کرتے۔

اور تجھ کو ہم نے نہیں کیا ان کا نگہبان۔ اور تجھ پر نہیں ان کا حوالہ (سپردگی) ۔

.107

 اور تم لوگ بُرا نہ کہو جن کو وہ پکارتے ہیں اﷲ کے سوا، کہ وہ بُرا کہہ بیٹھیں اﷲ کو بے ادبی سے بن سمجھ(جہالت کی بناپر) ۔

اسطرح ہم نے بھلے دکھائے ہیں ہر فرقہ کو اس کے کام۔

پھر ان کو اپنے رب پاس پہنچنا ہے، تب وہ جتائے گا جو کچھ کرتے تھے۔

.108

 اور قسمیں کھاتے ہیں اﷲ کی تاکید (سختی) سے، کہ اگر ان کو ایک نشانی پہنچے، البتہ اس کو مانیں(ایمان لے آئیں گے) ۔

تُو کہہ، نشانیاں تو اﷲ کے پاس ہیں، اور تم مسلمان کیا خبر رکھتے ہو کہ جب وہ آئیں گی تو یہ مانیں گے۔

.109

 اور ہم الٹ (پھی) دیں گے ان کے دل اور آنکھیں، جیسے منکر ہوئے ہیں اس سے پہلی بار،

اور چھوڑ رکھیں گے اُن کو اپنے جوش (سرکشی) میں بہکتے (بھٹکتے) ۔

.110

 اور اگر ہم اُن پر اتاریں فرشتے، اور اُن سے بولیں مُردے اور جِلا (پیش کر) دیں ہم ہر چیز کو ان کے سامنے،

(تب بھی) ہر گز ماننے والے نہیں، مگر جو چاہے اﷲ،

پر یہ اکثر نادان ہیں۔

.111

 اور اسی طرح رکھے ہیں ہم نے ہر نبی کے دُشمن، شیطان آدمی اور جن،

سکھاتے ہیں ایک دوسرے کو ملمع (چکنی چپڑی) باتیں فریب کی،

اور اگر تیرا رب چاہتا تو یہ کام نہ کرتے، سو چھوڑ دے، وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

.112

 اور تا (کہ) جھکیں اسطرف دل اُن کے جو یقین نہیں رکھتے آخرت کا،اور وہ اس کو پسند کریں،

 اور تا (کہ) کئے جائیں جو غلط کام کر رہے ہیں۔

.113

 اب سوا اﷲ کے کسی اور کو منصف کروں؟

 اور اسی نے تم کو کتاب بھیجی واضح (تفصیل کے ساتھ) ۔

اور جن کو ہم نے کتاب دی وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نازل ہوئی ہے تیرے رب کے پاس سے تحقیق(بر حق) ،

سو تُو مت ہو شک لانے والا۔

.114

 اور تیرے رب کی بات پوری سچ ہے انصاف کی۔

 کوئی بدلنے والا نہیں اس کے کلام کو۔

اور وہی ہے سنتا جانتا۔

.115

 اور اگر تُو کہا مانے اکثر لوگوں کاجو دنیا میں ہیں، تجھ کو بھلائیں (گمراہ کر دیں) اﷲ کی راہ سے۔

سب یہی چلتے ہیں خیال (گمان) پر، اور سب اٹکل (قیاس) دوڑاتے ہیں۔

.116

 تیرا رب ہی خوب جانتا ہے جو بہکتا ہے اس کی راہ سے،اور وہ خُوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر ہیں۔

.117

 سو تم کھاؤ اس میں سے جس پر نام لیا اﷲ کا، اگر تم کو اسکے حکم پر یقین ہے۔

.118

 اور کیا سبب کہ تم نہ کھاؤ اس میں سے، جس پر نام لیا اﷲ کا؟

اور وہ کھول چکا جو کچھ تم پر حرام کیا ہے، مگر جس وقت ناچار ہو اسکی طرف سے۔

اور بہت لوگ بہکاتے ہیں اپنے خیال (خواہش) پر بغیر تحقیق(علم کے) ۔

تیرا رب ہی خوب جانتا ہے جو لوگ حد سے بڑھتے ہیں۔

.119

 اور چھوڑ دو کھلا گناہ اور چھپا۔

جو لوگ گناہ کماتے ہیں، سزا پائیں گے اپنے کئے کی۔

.120

 اور اس میں سے نہ کھاؤ جس پر نام نہ لیا اﷲ کا، اور وہ گناہ ہے،

اور شیطان دل میں ڈالتے ہیں اپنے رفیقوں کے کہ تم سے جھگڑا کریں۔

اور اگر تم نے ان کا کہا مانا، تو تم مشرک ہوئے۔

.121

بھلا ایک شخص کہ مُردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندہ کیا، اور دی اس کو روشنی کہ لئے پھرتا ہے لوگوں میں،

برابر اس کے کہ جس کا حال یہ ہے، اندھیروں میں پڑا، وہاں سے نکل نہیں سکتا؟

اسی طرح بھلا (خوشنما) دکھایا ہے کافروں کو جو کام کر رہے ہیں۔

.122

 اور یوں ہی رکھے ہیں ہم نے ہر بستی میں گنہگاروں کے سردار کہ حیلہ (مکروفریب) لایا کریں وہاں،

اور جو حیلہ (مکروفریب) کرتے ہیں سو اپنے اوپر اور نہیں بوجھتے(شعور رکھتے) ۔

.123

اور جب پہنچی اُن کو ایک آیت، کہیں ہم ہر گز نہ مانیں گے جب تک ہم کو نہ ملے جیسا کچھ پاتے ہیں اﷲ کے رسول،

اﷲ بہتر جانتا ہے جہاں بھیجے اپنے پیغام،

اب پہنچے گی گنہگاروں کو ذلت اﷲ کے ہاں، اور عذاب سخت بدلہ حیلہ (فریب) بنانے کا۔

.124

 سو جس کو اﷲ چاہے کہ راہ دے، کھول دے اس کا سینہ حکم برداری کو۔

اور جس کو چاہے کہ راہ سے بھلا دے اسکا سینہ کر دے تنگ خفہ(گھٹا ہوا) ، گویا زور سے چڑھتا ہے آسمان پر۔

اسی طرح ڈالے گا اﷲ عذاب یقین نہ لانے والوں پر۔

.125

اور یہ ہے راہ تیرے رب کی سیدھی۔

ہم نے کھول (واضح کر)دیئے نشان دھیان (نصیحت قبول)کرنے والوں کو۔

.126

 ان کو ہے سلامتی کا گھر اپنے رب کے ہاں، اور وہ ان کا مددگار ہے، بدلہ ان کے کئے کا۔

.127

 اور جس دن جمع کریں گے ان سب کو۔ اے جماعت جنوں کی! تم نے بہت کچھ لیا (بہکا کر) انسانوں سے۔

اور بولے اُنکے دوستدار انسان،

 اے رب ہمارے! کام نکالا ہم میں ایک نے دوسرے سے اور پہنچے اپنے وعد، کو، جو تو نے ہمارا ٹھہرایا تھا۔

فرما دے گا آگ ہے گھر تمہارا، رہا کرو اس میں، مگر جو چاہے اﷲ،

(بیشک) تیرا رب حکمت والا خبردار ہے۔

.128

 اور اس طرح ہم ساتھ ملا دیں گے گنہگاروں کو ایک دوسرے کا، بدلہ اُن کی کمائی کا۔

.129

 اے جماعت جِنوں اور انسانوں کی کیا تم کو نہیں پہنچے تھے رسول تمہارے اندر کے(جو تم میں سے تھے) ،

سناتے تم کو میرا حکم اور ڈراتے یہ دن سامنے آنے سے۔

بولے، ہم نے مانے اپنے گناہ،

اور ان کو بہکایا دنیا کی زندگی نے، اور قائل ہوئے اپنے گناہ پر، کہ وہ تھے منکر۔

.130

یہ اس واسطے کہ تیرا رب ہلاک کرنے والا نہیں بستیوں کو ظلم سے اور وہاں کے لوگ بیخبر ہوں۔

.131

 اور ہر کسی کو درجے ہیں اپنے عمل کے۔

اور تیرا رب بے خبر نہیں ان کے کام سے۔

.132

 اور تیرا رب بے پرواہ ہے رحم والا۔

اگر چاہے تم کو لے جائے اور پیچھے (بعد) تمہارے قائم کرے (لے آئے) جس کو چاہے،

جیسا تم کو کھڑا (پیدا) کیا اوروں کی اولاد سے۔

.133

جو تم کو وعدہ دیا، سو آنے والا ہے اور تم تھکا نہ (اﷲ کو عاجز کر)سکو گے۔

.134

 تُو کہہ، لوگو! کام کرتے رہو اپنی جگہ، میں بھی کام کرتا ہوں۔

اب آگے (عنقریب) جان لو گے کس کو ملتا ہے آخرت کا گھر۔

مقرر (بلاشبہ) بھلا نہ ہو گا بے انصافوں کا۔

.135

اور ٹھہراتے ہیں اﷲ کا، اسکی پیدا کی کھیتی اور مویشی میں ایک حصّہ،

پھر کہتے ہیں یہ حِصّہ اﷲ کا ہے اپنے خیال پر اور یہ ہمارے شریکوں کا۔

سو جو ان کے شریکوں کا ہے سو نہ پہنچے اﷲ کی طرف۔

اور جو اﷲ کا ہے، سو پہنچے ان کے شریکوں کی طرف۔

کیا بُرا انصاف کرتے ہیں۔

.136

 اور اسی طرح بھلی دکھائی ہیں بہت مشرکوں کو اولاد مارنی ان کے شریکوں نے،کہ اُن کو ہلاک کریں۔ اور ان کا دین غلط کریں۔

اور اﷲ چاہتا تو یہ کام نہ کرتے، سو چھوڑ دے، وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔

.137

 اور کہتے ہیں یہ مویشی اور کھیتی منع ہے، اسکو نہ کھائے مگر جس کو ہم چاہیں اپنے خیال پر،

اور بعضے مویشی کی پیٹھ پر چڑھنا منع ٹھہرایا ہے، اور بعضے مویشی کے ذبح پر نام نہیں لیتے اﷲ کا، اس پر جھوٹ باندھ کر۔

وہ (اﷲ عنقریب) سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی۔

.138

 اور کہتے ہیں جو ان مویشی کے پیٹ میں ہو، سو نرا ہمارے مرد کھائیں اور حرام ہے ہماری عورتوں کو۔

اور جو مردہ ہو تو اس میں سب شریک ہوں۔

وہ سزا دے گا ان کو اُن تقریروں (گھڑی باتوں) کی۔

 (بیشک) وہ حکمت والا ہے خبردار۔

.139

بیشک خراب ہوئے جنہوں نے مار ڈالی اپنی اولاد نادانی سے، بن سمجھے ،اور حرام ٹھہرایا جو اﷲ نے ا نکو رزق دیا جھوٹ باندھ کر اﷲ پر۔

بیشک بہکے، اور نہ آئے راہ پر۔

.140

 اور اس نے پیدا کئے باغ چھتریوں کے، اور بغیر چھتریوں کے،

اور کھجور اور کھیتی، کئی طرح ہے اسکا پھل اور زیتون اور انار، آپس میں ملتا (جُلتا) اور جُدا (جُدا) ۔

کھاؤ اسکے پھل میں سے، جس وقت پھل لائے اور دو اس (اﷲ) کا حق جس دن کٹے، اور بے جا نہ اڑاؤ(اسراف نہ کرو) ۔

اس کو خوش (پسند) نہیں آتے اڑا دینے (اسراف کرنے) والے۔

.141

 اور پیدا کئے مویشی میں لدنے (بوجھ اٹھانے) والے اور دبے (کھانے والے) ۔

کھاؤ اﷲ کے رزق میں سے،اور مت چلو شیطان کے قدموں پر،

 وہ تمہارا دشمن ہے صریح (کھلا) ۔

.142

پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ، بھیڑ میں سے دو، اور بکری میں سے دو،

پوچھ تو کہ دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ، یا جو لپٹ رہا (بچے) ہے مادوں کے پیٹ میں؟

بتاؤ مجھ کو سند اگر تم سچے ہو۔

.143

 اور پیدا کئے اُونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو،

پوچھ تو دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا جو لپٹ رہا (بچے) ہے مادوں کے پیٹ میں؟

کیا تم حاضر تھے جس وقت اﷲ نے تم کو یہ کہہ دیا تھا؟

پھر اس سے ظالم کون جو جھوٹ باندھے اﷲ پر، تا لوگوں کو بہکا دے بغیر تحقیق؟

بیشک اﷲ راہ (ہدایت) نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو۔

.144

 تُو کہہ، میں نہیں پاتا جس حکم (وحی) میں کہ مجھ کو پہنچا کوئی چیز حرام کھانے والے کو جو اسکو کھائے

مگریہ کہ مردہ ہو یا لہو پھینک دینے کا(بہتا ہوا) ، یا گوشت سؤر کا، کہ وہ ناپاک ہے،

یا گناہ کی چیز، جس پر پکارا اﷲ کے سوا کسی کا نام۔

پھر جو کوئی عاجز ہو، نہ زور کرتا نہ زیادتی، تو تیرا رب معاف کرتا ہے مہربان۔

.145

 اور یہود پر ہم نے حرام کیا تھا ہر ناخن والا،

اور گائے اور بکری میں سے حرام کی اُنکی چربی،مگر جو لگی ہو پشت پر یا آنت میں، یا ملی ہو ہڈی کے ساتھ۔

یہ ہم نے اُن کو سزا دی تھی انکی شرارت پر، اور ہم سچ کہتے ہیں۔

.146

پھر اگر تجھ کو جھٹلائیں تو کہہ تمہارے رب کی مہر (رحمت) میں بڑی سمائی (وسعت) ہے۔

(لیکن) پھرتا نہیں اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے۔

.147

 اب کہیں گے مشرک، اگر اﷲ چاہتا تو شریک نہ ٹھہراتے ہم اور نہ ہمارے باپ اور نہ حرام کر لیتے کوئی چیز۔

اسی طرح جھٹلایا کئے اُن سے اگلے، جب تک چکھا ہمارا عذاب۔

تُو کہہ، کچھ علم بھی ہے تم پاس کہ ہمارے آگے نکالو (پیش کرو) ؟

یا نری اٹکل (گمان) پر چلتے ہو، اور سب تجویزیں (قیاس آرائیاں) کرتے ہو۔

.148

 تُو کہہ، پس اﷲ کا الزام پورا(کی حجت پوری) ہے۔ سو اگر چاہتا تو راہ (ہدایت) دیتا تم سب کو۔

.149

 تو کہہ، لاؤ اپنے گواہ، جو بتا دیں کہ اﷲ نے حرام کی ہے یہ چیز۔

پھر اگر وہ کہیں بھی تو تُو نہ کہہ اُن کے ساتھ۔

اور نہ چل انکی خوشی (خواہش) پر، جنہوں نے جھٹلائے ہمارے حکم،

اور جو یقین نہیں رکھتے آخرت کا، اور وہ اپنے رب کے برابر کرتے ہیں اور (دوسروں) کو۔

.150

 تُو کہہ، آؤ میں سنادوں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے،

کہ شریک نہ کرو اس (اﷲ) کے ساتھ کسی چیز کو ،

اور ماں باپ سے نیکی (کرو سلوک نیک) ۔

اور مار نہ ڈالو اپنی اولاد مفلسی (کے ڈر) سے، ہم رزق دیتے ہیں تم کو اور اُن کو (بھی) ،

اور نزدیک نہ ہو بے حیائی کے کام سے، جو کھلا ہو اس میں اور جو چھپا۔

اور مار نہ ڈالو جان جس کو حرام کیا اﷲ نے، مگر حق پر۔

یہ تم کو کہہ (حکم) دیا ہے، شاید تم سمجھو ۔

.151

 اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے، مگر جس طرح بہتر ہو، جب تک (حتّٰی کہ) وہ پہنچے اپنی قوت (سِنّ رُشد) کو،

اور پوری کرو ماپ اور تول انصاف سے۔

ہم کسی پر وہی رکھتے ہیں جو اس کو مقدور (گنجائش) ہے ۔

اور جب بات کہو تو حق کی کہو، اگرچہ وہ ہو اپنا ناتے والا۔

اور اﷲ کا قول پورا کرو۔

یہ تم کو کہہ (حکم) دیا ہے شاید تم دھیان (نصیحت قبول) کرو۔

.152

 اور کہا، یہ راہ ہے میری سیدھی، سو اس پر چلو۔

اور مت چلو کئی راہیں، پھر تم کو پھٹائیں (بھٹکائیں) گے اسکی راہ سے۔

یہ کہہ (حکم) دیا ہے تم کو، شاید تم بچتے رہو(تقوٰی اختیار کرو) ۔

.153

پھر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب، پورا فضل نیکی والے پر اور بیان ہر چیز کا،اور ہدایت اور مہر (رحمت) ،

شاید وہ لوگ اپنے رب کا ملنا یقین کریں۔

.154

اور ایک یہ کتاب ہے (قرآن) کہ ہم نے اتاری برکت کی، سو اس پر چلو اور بچتے رہو، شاید تم پر رحم ہو۔

.155

اس واسطے کہ کبھی کہو کتاب جو اتری تھی سو دو ہی فرقوں پر ہم سے پہلے،اور ہم کو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر نہ تھی۔

.156

یا کہو، اگر ہم پر اترتی کتاب تو ہم راہ چلتے اُن سے بہتر،

سو آچکی تم کو تمہارے رب سے شاہدی (روشن دلیل) ، اور ہدایت اور مہربانی (رحمت) ۔

اب اس سے بے انصاف کون؟ جو جھٹلائے اﷲ کی آیتیں اور ان سے کترائے (منہ موڑے) ۔

ہم سزا دیں گے کترانے (منہ موڑنے) والوں کو ہماری آیتوں سے بری طرح کی مار، بدلہ اس کترانے کا۔

.157

 کاہے کی راہ دیکھتے ہیں لوگ مگر یہی کہ اُن پر آئیں فرشتے، یا آئے تیرا رب، یا آئے کوئی نشان تیرے رب کا؟

جس دن آئے گا ایک نشان تیرے رب کا، کام نہ آئے گا ایمان لانا کسی کو،جو پہلے سے ایمان نہ لایا تھا،

 یا اپنے ایمان میں کچھ نیکی نہ کی تھی۔

تُو کہہ: راہ دیکھو (انتظار کرو) ، ہم بھی راہ دیکھتے (انتظار کرتے) ہیں۔

.158

جنہوں نے راہیں نکالیں اپنے دین میں، اور ہو گئے کئی فرقے، تجھ کو ان سے کچھ کام نہیں۔

اُن کا کام حوالے اﷲ کے، پھر وہی جتائے (بتائے) گا ان کو جیسا کچھ کرتے تھے۔

.159

 جو کوئی لایا نیکی اسکو ہے اسکے دس برابر۔

اور جو لایا بُرائی، سو سزا پائے گا تو اتنی ہی، اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

.160

 تُو کہہ: مجھ کو تو سوجھائی میرے رب نے راہ سیدھی، دین صحیح، ملت ابراہیم کی جو ایک طرف کا تھا۔

اور نہ تھا شریک والوں میں۔

.161

 تُو کہہ، میری نماز اور قربانی اور میرا جینا اور مرنا اﷲ کی طرف ہے، جو صاحب سارے جہان کا۔

.162

 کوئی نہیں اس کا شریک،

اور یہی مجھ کو حکم ہوا اور میں سب سے پہلے حکم بردار ہوں۔

.163

 تُو کہہ، اب میں سوا اﷲ کے تلاش کروں کوئی رب؟

 اور وہی ہے رب ہر چیز کا،

اور جو کوئی کمائے سو اس کے ذمہ پر۔

اور بوجھ نہ اٹھائے گا ایک شخص دوسرے کا۔

پھر تمہارے رب پاس ہے رجوع تمہاری، سو وہ جتا (بتا) دے گا، جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔

.164

 اور اسی نے تم کو کیا ہے نائب زمین میں،اور بلند کئے تم میں درجے ایک کے ایک پر، کہ آزمائے تم کو اپنے دیئے حکم میں۔

تیرا رب شتاب (تیزی سے) کرتا ہے عذاب، او ر (بیشک) وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

*********

.165

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com