القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ طہٰ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 طا حا۔

.1

اس واسطے نہیں اتارا ہم نے تجھ پر قرآن کہ تُو محنت (مٹقت) میں پڑے۔

.2

مگر نصیحت کے واسطے جس کو ڈر ہے ۔

.3

 اُتارا ہے اس شخص (ذات) کا جس نے بنائی زمین اور آسمان اُونچے۔

.4

 وہ بڑی مہر (رحمت) والا تخت کے اوپر قائم (جلوہ فرما) ہوا۔

.5

 اسی کا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں اور ان دونوں کے بیچ اور نیچے سیلی زمین کے۔

.6

 اور اگر تو بات کہے پکار کر، تو اس کو خبر ہے چھپے کی اور اس سے چھپے کی۔

.7

 اﷲ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی۔

اس کے ہیں سب نام خاصے۔

.8

 اور پہنچی ہے تجھ کو بات موسیٰ کی؟

.9

جب اس نے دیکھی ایک آگ تو کہا اپنے گھر والوں کو، ٹھہرو! میں نے دیکھی ہے ایک آگ،

شاید لے آؤں تم پاس اس میں سے سلگا کر، یا پاؤں اس آگ پر راہ کا پتا۔

.10

 پھر جب پہنچا آگ پاس، آواز آئی اے موسیٰ!

.11

 میں ہوں تیرا رب، سو اتار اپنی پاپوشیں (جوتیاں) ،

تُو ہے پاک میدان طوٰی میں۔

.12

 اور میں نے تجھ کو پسند کیا، سو تو سنتا رہ جو حکم ہو۔

.13

 میں جو ہوں، میں اﷲ ہوں، کسی کی بندگی نہیں سِوا میرے،

سو میری بندگی کر اور نماز کھڑی رکھ میری یاد کو(کے لئے) ۔

.14

 قیامت مقرر (یقیناً) آنی ہے،

میں چھپا رکھتا ہوں اس کو، کہ بدلہ ملے ہر جی کو جو وہ کماتا ہے۔

.15

سو کہیں تجھ کو نہ روک دے اُس سے، وہ جو یقین نہیں رکھتا اسکا اور پیچھے پڑا ہے اپنے مزوں کے،

(اگر ایسا کیا) پھر تو پٹکا (ہلاکت میں پڑ) جائے۔

.16

 اور یہ کیا ہے تیرے داہنے ہاتھ میں اے موسیٰ؟

.17

بولا یہ میری لاٹھی ہے۔اس پر ٹیکتا ہوں، اور پتے جھاڑتا ہوں اس سے، اپنی بکریوں پر،

اور میرے اس میں کتنے کام ہیں اور۔

.18

 فرمایا، ڈال دے اس کو اے موسیٰ!

.19

 تو اس کو ڈال دیا،پھر تب ہی وہ سانپ ہے دوڑتا۔

.20

 فرمایا پکڑ لے اسکو اور نہ ڈر۔

 ہم پھیر (لوٹا) دیں گے اس کو پہلے حال پر۔

.21

 اور لگا اپنے ہاتھ بازو سے کہ نکلے چِٹا (سفید) ہو کر، نہ کچھ بری طرح(بغیر کسی تکلیف کے) ،ایک نشانی اور۔

.22

 کہ دکھاتے جائیں ہم تجھ کو اپنی نشانیاں بڑی۔

.23

 جا طرف فرعون کے، کہ اس نے سر اٹھایا(سرکش ہو گیا) ۔

.24

بولا، اے رب کشادہ کر میرا سینہ۔

.25

 اور آسان کر میرا کام۔

.26

 اور کھول گرہ میری زبان سے۔

.27

 کہ بوجھیں میری بات۔

.28

 اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والا، میرے گھر (خاندان) کا۔

.29

ہارون میرا بھائی۔

.30

 اس سے بندھا میری کمر(مضبوط کر میرے ہاتھ) ۔

.31

 اور شریک کر اسکو میرے کام کا۔

.32

 کہ تیری پاک ذات کا بیان کریں ہم بہت سا۔

.33

اور یاد کریں تجھ کو بہت سا۔

.34

 تُو تو ہے ہم کو خوب دیکھتا۔

.35

 فرمایا، ملا تجھ کو تیرا سوال اے موسیٰ۔

.36

 اور احسان کیا ہم نے تجھ پر ایک بار اور،

.37

 جب حکم بھیجا ہم نے تیری ماں کو، جو آگے بتاتے ہیں۔

.38

 کہ ڈال اسکو صندوق میں، پھر اسکو ڈال دے پانی میں،

پھر پانی اسکو لے ڈالے کنارے پر، اٹھا لے اسکو ایک دشمن میرا اور اسکا۔

اور ڈل دی میں نے تجھ پر محبت اپنی طرف۔ اور تا (کہ) تیار ہو تُو میری آنکھ کے سامنے۔

.39

 جب چلنے لگی تمہاری بہن، اور کہنے لگی میں بتاؤں تم کو ایک شخص کہ اسکو پالے(پر ورش کرے) ؟

پھر پہنچایا ہم نے تجھ کو تیری ماں پاس کہ ٹھنڈی رہے اسکی آنکھ اور غم نہ کھائے۔

اور تُو نے مار ڈالی ایک جان، پھر نکالا ہم نے تجھ کو اس غم سے اور جانچا  تجھ کو ایک ذرہ جانچنا (طرح طرح سے آزمانا) ۔

پھر ٹھہرا تو کئی برس مدین والوں میں،

پھر آیا تُو تقدیر سے یا موسیٰ۔

.40

اور بنایا میں نے تجھ کو خاص اپنے واسطے۔

.41

جا تُو اور تیرا بھائی لے کر میری نشانیاں، اور سستی نہ کرو میری یاد میں۔

.42

جاؤ طرف فرعون کے اُس نے سر اٹھایا۔

.43

 سو کہو اس سے بات نرم، شاید وہ سوچ کرے (نصیحت پکڑے) یا ڈرے۔

.44

 بولے، اے رب ہمارے! ہم ڈرتے ہیں کہ بھبکے (غصے ہو) ہم پر یا جوش میں آئے۔

.45

 فرمایا، نہ ڈرو،

میں ساتھ ہوں تمہارے، سنتا ہوں اور دیکھتا۔

.46

 سو جاؤ اُس پاس، اور کہو، ہم دونوں بھیجے ہیں تیرے رب کے،سو چلا (بھیج) دے ہمارے ساتھ بنی اسرائیل۔ اور نہ ستا ان کو،

ہم آئے ہیں تیرے پاس نشانی لے کر تیرے رب کی۔

اور سلامتی ہو اسکی جو مانے راہ (ہدایت) کی بات۔

.47

ہم کو حکم ہوا ہے کہ عذاب اس پر ہے جو جھٹلائے اور منہ پھیرے۔

.48

بولا، پھر کون ہے صاحب تم دونوں کا اے موسیٰ!

.49

کہا صاحب ہمارا وہ ہے جس نے دی ہر چیز کو اسکی صورت، پھر راہ سوجھائی۔

.50

بولا پھر کیا حقیقت ہے ان پہلی سنگتوں (قوموں) کی؟

.51

کہا، اُن کی خبر میرے رب کے پاس لکھی ہے۔

نہ بہکتا ہے میرا رب نہ بھولتا ہے۔

.52

 وہ ہے، جس نے بنا دی تم کو زمین بچھونا اور چلا دیں تم کو اس میں راہیں،

اور اُتارا آسمان سے پانی، پھر نکالا ہم نے اس سے بھانت بھانت (طرح طرح کا) سبزہ۔

.53

 کھاؤ اور چراؤ اپنے چوپایوں کو،

البتہ اس میں پتے (نشانیاں) ہیں عقل رکھنے والوں کو۔

.54

 اس زمین سے ہم نے تم کو بنایا، اور اسی میں تم کو پھر ڈالتے ہیں،اور اس سے نکالیں گے تم کو دوسری بار۔

.55

 اور ہم نے دکھا دیں اپنی سب نشانیاں، پھر جھٹلایا اور نہ مانا۔

.56

بولا، کیا تو آیا ہے ہم کو نکالنے ہمارے ملک سے، جادو کے زور سے، اے موسیٰ!

.57

 سو ہم بھی لائیں گے تجھ پر ایک ایسا جادو، سو ٹھہرا ہمارے اپنے بیچ ایک وعدہ،

نہ تفاوت (خلاف ورزی) کریں اس سے ہم نہ تُو ایک میدان صاف میں۔

.58

 کہا وعدہ تمہارا ہے جشن کا دن، اور یہ کہ جمع کرے لوگوں کو دن چڑھے۔

.59

 پھر اُلٹا پھرا فرعون، پھر اکھٹے کئے اپنے سارے داؤ، پھر آیا۔

.60

 کہا ان کو موسیٰ نے،کمبختی تمہاری! جھوٹ نہ بولو اﷲ پر، پھر کھپائے(ہلاک کرے) تم کو کسی آفت سے۔

اور مُراد کو نہیں پہنچا جس نے جھوٹ باندھا۔

.61

 پھر جھگڑے اپنے کام پر آپس میں اور چھپ کر کی مشاورت۔

.62

بولے، مقرر (ضرور) یہ دونوں جادوگر ہیں،چاہتے ہیں کہ نکال دیں تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے،

اور اُٹھائیں (مٹائیں) تمہاری راہ خاصی(زندگی کی جو مثالی ہے) ۔

.63

سو مقرر کرو اپنی تدبیر، پھر آؤ قطار باندھ کر۔

اور جیت (فلاح پا) گیا آج جو اُوپر رہا۔

.64

بولے، اے موسیٰ! یا تُو ڈال اور یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے۔

.65

 کہا، نہیں! تم ڈالو!

پھر کبھی اُنکی رسیاں اور لاٹھیاں، اسکے خیال میں آتی ہیں جادو سے، کہ دوڑتی ہیں۔

.66

 پھر پانے لگا اپنے جی میں ڈر، موسیٰ۔

.67

 ہم نے کہا، تو نہ ڈر، مقرر (ضرور) تو ہی رہے گا اوپر۔

.68

 اور ڈال جو تیرے داہنے میں ہے، کہ نگل جائے اُنہوں نے بنایا۔

اُنکا بنایا تو فریب ہے جادوگر کا ،

اور جادوگر نہیں کام لے نکلتا (کامیاب ہوتا) جہاں(جس شان سے) آئے۔

.69

 اور گر پڑے جادوگر سجدے میں، بولے، ہم یقین لائے رب پر ہارون اور موسیٰ کے۔

.70

بولا فرعون، تم نے اسکو مان لیا، ابھی میں نے حکم نہ دیا تھا،

وہی تمہارا بڑا ہے جس نے سکھایا تم کو جادو۔

سو اب میں کٹواؤں گا تمہارے ہاتھ اور دوسرے پاؤں اور سولی دوں گا تم کو کھجور کے ڈھنڈ (تنے) پر۔

اور جان لو گے ہم میں کس کی مار سخت ہے اور دیر تک رہتی۔

.71

وہ بولے ہم تجھ کو زیادہ نہ سمجھیں گے اس چیز سے جو پہنچی ہم کو صاف دلیل اور اس سے جن نے ہم کو بنایا(پیدا کیا) ،

سو تُو کر چُک جو کرتا (کرنا چاہتا) ہے۔

تُو یہی کریگا اس دنیا کی زندگی میں۔

.72

 ہم یقین لائے ہیں اپنے رب پر، تا بخشے ہم کو ہماری تقصیریں (خطائیں) ،اور جو تُو نے کروایا ہم سے زورآوری یہ جادو۔

اور اﷲ بہتر ہے اور دیر (ہمیشہ) رہنے والا۔

.73

مقرر ہے، جو کوئی آیا اپنے رب پاس گنہگار ہو کر، سو اس کے واسطے دوزخ ہے،نہ مرے اس میں نہ جیوے۔

.74

 اور جو آیا اس پاس ایمان سے کر کر نیکیاں، سو ان لوگوں کو ہیں درجے بلند۔

.75

 باغ ہیں بسنے کے، بہتی ان کے نیچے سے نہریں، رہا کریں گے ان میں۔

اور یہ بدلہ ہے اس کا جو پاک ہوا۔

.76

 اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کو۔ کہ لے نکل میرے بندوں کو رات سے،

پھر ڈال دے ان کو راہ سمندر میں سوکھی،

نہ خطرہ تجھ کو آ پکڑنے کا نہ ڈر۔

.77

 پھر پیچھے لگا ان کے فرعون اپنا لشکر لے کر، کہ پھر گھیر لیا ان کو پانی نے، جیسا گھیر لیا۔

.78

 اور بہکایا فرعون نے اپنی قوم کو اور نہ سمجھایا۔

.79

 اے اولاد اسرائیل! چھڑایا ہم نے تجھ کو تمہارے دشمن سے ،

اور وعدہ رکھا تم سے داہنی طرف پہاڑ کے،

اور اتارا تم پر من اور سلوٰی۔

.80

 کھاؤ ستھری چیزیں جو روزی دی ہم نے تم کو،

اور نہ کرو اس میں زیادتی، پھر اُترے تم پر میرا غصہ۔

اور جن پر اترا میرا غصہ وہ پٹکا (ہلاک ہو) گیا۔

.81

 اور میری بڑی بخشش ہے اس پر جو توبہ کرے اور یقین لائے اور کرے بھلا کام پھر راہ پر رہے۔

.82

اور کیوں جلدی کی تُو نے اپنی قوم سے اے موسیٰ!

.83

 بولا وہ، یہ ہیں میرے پیچھے، اور میں جلدی آیا تیری طرف، اے رب! کہ تُو راضی ہو۔

.84

فرمایا، ہم نے تو بچلا دیا (آزمائش میں ڈالا) تیری قوم کو تیرے پیچھے اور بہکایا ان کو سامری نے۔

.85

پھر اُلٹا پھرا موسیٰ اپنی قوم پاس، غصے بھرا پچتاتا(افسوس کرتا) ۔

کہا، اے قوم! تم کو وعدہ نہ دیا تھا تمہارے رب نے اچھا وعدہ۔

کیا لمبی ہو گئی تم پر مدت؟

یا چاہا تم نے کہ اترے تم پر غضب تمہارے رب کا، اس سے خلاف کیا تم نے میرا وعدہ۔

.86

بولے، ہم نے خلاف نہیں کیا تیرا وعدہ اپنے اختیار سے،

اور لیکن ہم کو کہا تھا کہ اٹھا لیں کتنے بوجھ اس قوم کا گہنا، پھر ہم نے وہ پھینک دیئے،

پھر یہ نقشہ ڈالا سامری نے۔

.87

پھر بنا نکالا ان کے واسطے ایک بچھڑا، ایک دھڑ، جس میں چلانا گائے کا،

پھر کہنے لگے یہ صاحب ہے تمہارا اور صاحب موسیٰ کا، سو وہ بھول گیا۔

.88

بھلا یہ نہیں دیکھتے کہ وہ جواب نہیں دیتا ان کو کسی بات کا۔ اور اختیار نہیں رکھتا اُن کے بُرے کا نہ بھلے کا۔

.89

 اور کہا ان کو ہارون نے پہلے سے، اے قوم! اور کچھ نہیں، تم کو بہکا دیا گیا ہے اس پر،

اور تمہارا رب رحمٰن ہے، سو میری راہ چلو اور مانو بات میری۔

.90

بولے ہم رہیں گے اسی پر لگے بیٹھے، جب تک پھر آئے ہم پر موسیٰ۔

.91

کہا موسیٰ نے، اے ہارون! تجھ کو کیا اٹکاؤ تھا (رُکاوٹ تھی) جب دیکھا تو نے کہ وہ بہکے۔

.92

تو میرے پیچھے نہ آیا۔

کیا تو نے رد کیا میرا حکم؟

.93

 وہ بولا، اے میری ماں کے جنے! نہ پکڑ میری داڑھی اور نہ سر۔

میں ڈرا کہ تُو کہے گا پھوٹ ڈال دی تُو نے بنی اسرائیل میں، اور یاد نہ رکھی میری بات۔

.94

 کہا موسیٰ نے، اب تیری کیا حقیقت ہے، اے سامری!

.95

 بولا، میں نے دیکھ لیا، جو سب نے نہ دیکھا ،

پھر بھر لی میں نے ایک مٹھی پاؤں کے نیچے سے اس بھیجے ہوئے کے،پھر میں نے وہی ڈال دی

 اور یہی مصلحت دی مجھ کو میرے جی نے۔

.96

 کہا موسیٰ نے چل! تجھ کو زندگی میں، اتنا ہے کہ کہا کر، نہ چھیڑو(چھونا مجھے) ۔

اور تجھ کو ایک وعدہ ہے وہ تجھ سے خلاف نہ ہو گا۔

اور دیکھ اپنے ٹھاکر (معبود) کوجس پر سارے دن لگا بیٹھا تھا۔

ہم اس کو جلا دیں گے، پھر بکھیریں گے دریا میں اُڑا کر۔

.97

 تمہارا صاحب وہی اﷲ ہے جس کے سوا بندگی نہیں کسی کی۔

سب چیز سما گئی ہے اس کی خبر (کے علم) میں۔

.98

 یوں سناتے ہیں ہم تجھ کو احوال ان کے جو پہلے گذرے۔

اور ہم نے دیا تجھ کو اپنے پاس سے ایک پڑھنا(نصیحت کا ذکر)۔

.99

جو کوئی منہ پھیرے اُس سے، سو اٹھائے گا دن قیامت کے ایک بوجھ۔

.100

 (ہمیشہ کے لئے) پڑے رہیں گے اس میں۔

اور برا ہے ان پر قیامت میں بوجھ اٹھانے کا۔

.101

جس دن پھونکیں گے صُور میں ،

اور گھیر لائیں گے ہم گنہگاروں کو اُس دن (اس حالت میں کہ اُنکی) نیلی (پتھرائی ہوئی) آنکھیں۔

.102

 چپکے چپکے کہیں آپس میں دیر نہیں ہوئی تم کو مگر دس دن۔

.103

 ہم کو خوب معلوم ہے جو کہتے ہیں،

جب بولے گا ان میں اچھی راہ والا، تم کو دیر نہیں لگی (دنیا میں) مگر ایک دن۔

.104

 اور تجھ سے پوچھتے ہیں پہاڑوں کا حال،

سو تُو کہہ، ان کو بکھیر دے گا میرا رب اُڑا کر۔

.105

 پھر کر چھوڑے گا زمین کو پٹپرا (چٹیل) میدان۔

.106

 نہ دیکھے گا اس میں موڑ نہ ٹیلا۔

.107

 اس دن پیچھے دوڑیں گے پکارنے والے کے، ٹیڑھی نہیں جس کی بات۔

اور دب گئیں آوازیں رحمٰن کے ڈر سے، پھر نہ تو سنے کھِس کھِسی آواز(کھُسر پھُسر) ۔

.108

 اس دن کام نہ آئے گی سفارش، مگر جس کا حکم دیا رحمٰن نے، اور پسند کی اس کی بات۔

.109

 وہ جانتا ہے جو انکے آگے اور پیچھے ،اور یہ قابو میں نہیں لاتے (احاطہ نہیں کر سکتے) اس کو دریافت کر کر(اپنے علم سے) ۔

.110

 اور کرتے ہیں منہ آگے (جھُک جائیں گے) اس جیتے ہمیشہ رہتے (حی و قیوم) کے۔

اور خراب (نامراد) ہوا جس نے بوجھ اٹھایا ظلم کا۔

.111

 اور جو کوئی کرے کچھ بھلائیاں اور وہ یقین رکھتا ہو،سو اس کو ڈر نہیں بے انصافی کا اور نہ دبانے (حق تلفی) کا۔

.112

 اور اسی طرح اُتارا ہم نے تجھ پر قرآن عربی زبان کا اور پھیر پھیر (طرح طرح)سنایا اس میں ڈر کا(تنبیہات)،

شاید وہ بچ چلیں(پرہیزگار بن جائیں)، یا ڈالے ا ن کے دل میں سوچ (سمجھ)۔

.113

سو بلند درجہ اﷲ کا، اس سچے بادشاہ کا ،

اور تُو جلدی نہ کر قرآن لینے میں، جب تک پورا ہو چکے اس کا اترنا،

اور کہہ، اے رب! مجھ کو بڑھتی (زیادہ) دے بوجھ (علم)۔

.114

 اور ہم نے تقید (تاکید) کر دیا تھا آدم کو اس سے پہلے،

پھر بھول گیا اور نہ پائی ہم نے اس میں کچھ ہمت (عزم) ۔

.115

 اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کر آدم کو، تو سجدے میں گر پڑے مگرابلیس نے نہ مانا۔

.116

 پھر کہہ دیا ہم نے اے آدم! یہ دشمن ہے تیرا اور تیرے جوڑے (بیوی) کا،

سو نکلوا نہ دے تم کو بہشت سے، پھر تُو تکلیف میں پڑے گا۔

.117

تجھ کو یہ ملا(آسائش ہے) ، کہ نہ بھوکا ہو تُو اس میں اور نہ ننگا۔

.118

 اور یہ کہ نہ پیاس کھینچے تُو اس میں نہ دھوپ۔

.119

پھر جی میں ڈالا اسکے شیطان نے،

کہا اے آدم! میں بتاؤں تجھ کو درخت سدا جینے کا، اور بادشاہی جو پرانی نہ ہو۔

.120

پھر دونوں کھا گئے اس میں سے، پھر کھل گئیں ان پر انکی بری چیزیں (ستر)،اور لگے گانٹھنے(ذھانکنے) اپنے اوپر پتے بہشت کے،

اور حکم ٹالا آدم نے اپنے رب کا، پھر راہ سے بہکا۔

.121

پھر نوازا اسکو اسکے رب نے ،پھر متوجہ ہوا (توبہ قبول فرمائی) اور راہ (ہدایت) پر لایا۔

.122

 فرمایا، اُترو یہاں سے دونوں ، اکھٹے رہو ایک دوسرے کے دشمن۔

پھر کبھی پہنچے تم کو میری طرف سے راہ (ہدایت) کی خبر۔ پھر جو چلا میری بتائی راہ پر، نہ وہ بہکے گا نہ وہ تکلیف میں پڑے گا۔

.123

 اور جس نے منہ پھیرا میری یاد سے تو اس کو ملنی ہے گزران (زندگی) تنگی کی ،

اور لائیں گے ہم اس کو دن قیامت کے اندھا۔

.124

 وہ کہے گا اے رب! کیوں اٹھا لایا تو مجھ کو اندھا اور میں تو تھا دیکھتا۔

.125

 فرمایا، یوں ہی پہنچیں تھیں تجھ کو ہماری آیتیں، پھر تُو نے ان کو بھلا دیا ،

اور اسی طرح آج تجھ کو بھلا دیں گے۔

.126

 اور اسی طرح ہم بدلہ دیں گے اسکو جن نے ہاتھ چھوڑا اور یقین نہ لایا اپنے رب کی باتیں۔

اور پچھلے گھر کا عذاب سخت ہے اور بہت دیر رہتا۔

.127

 سو کیا سوجھ (رہنمائی) ان کو نہ آئی اس سے، کہ کتنی کھپا (ہلاک) دیں ہم نے پہلے ان سے سنگتیں(قومیں) ؟

یہ پھرتے ہیں ان کے گھروں میں۔

اس میں خوب پتے (نشانیاں) ہیں عقل رکھنے والوں کو۔

.128

 اور کبھی نہ ہوئی ایک بات، نکل گئی تیرے رب سے، تو مقرر ہوتی بھینٹ اور جو نہ ہوتا وعدہ ٹھہرا۔

.129

سو تو سہتا رہ جو کہیں،

اور پڑھتا رہ خوبیاں (تسبیح کر) اپنے رب کی سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔

اور کچھ گھڑیوں میں رات کی پڑھا کر، اور دن کی حدّوں پر، شاید تو راضی ہو گا۔

.130

 اور نہ پسار اپنی آنکھیں اُس چیز پر جو برتنے کو دی ہم نے ان بھانت بھانت لوگوں کو،

رونق دنیا کے جیتے۔ ان کے جانچنے (آزمائش) کو۔

اور تیرے رب کی دی روزی بہتر ہے اور دیر رہنے والی۔

.131

 اور حکم کر اپنے گھر والوں کو نماز کا، اور آپ قائم رہ اس پر۔

ہم نہیں مانگتے تجھ سے روزی۔ ہم روزی دیتے ہیں تجھ کو۔

اور آخر بھلا ہے پرہیزگاری کا۔

.132

 اور لوگ کہتے ہیں، یہ کیوں نہیں لے آتا ہم پاس کوئی نشانی اپنے رب سے؟

کیا پہنچ نہیں چکی ان کو نشانی اگلی کتابوں میں کی۔

.133

 اور اگر ہم کھپا دیتے ان کو کسی آفت میں اس سے پہلے تو کہتے،

اے رب کیوں نہ بھیجا ہم تک کسی کو پیغام لے کر، کہ ہم چلتے تیرے کلام پر، ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے۔

.134

 تُو کہہ، ہر کوئی راہ دیکھتا ہے، سو تم راہ دیکھو۔

آگے جان لو گے کون ہیں سیدھی راہ والے، اور کون سوجھے ہیں راہ (ہدایت یافتہ) ۔

********

.135

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com