القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ احکاف

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

حٰم

.1

اتارا کتاب کا ہے اﷲ سے، جو زبردست ہے حکمت والا۔

.2

ہم نے جو بنائے آسمان و زمین، اور جو ان کے بیچ ہے، سو ایک کام (حق) پر،اور ایک ٹھہرے وعدے پر (وقت مقرر کیلئے) ۔

اور جو منکر ہیں،(انہیں) ڈر سُنایا (پر وہ) نہیں دھیان کرتے۔

.3

تو کہہ، بھلا دیکھو تو! جن کو پکارتے ہو اﷲ کے سِوا،

دکھاؤ تو مجھ کو انہوں نے کیا بنایا زمین میں یا انکو کچھ ساجھا (شرکت) ہے آسمانوں (کی تخلیق و تدبیر) میں؟

لاؤ میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی، یا چلا آتا کوئی علم، اگر ہو تم سچے۔

.4

اور اس سے (زیادہ) بہکا (گمراہ) کون جو پکارے اﷲ کے سوا ایسے کو کہ نہ پہنچے اسکی پکار کو دن قیامت تک،

اور ان کو خبر نہیں ان کے پکارنے کی۔

.5

اور جب لوگ جمع ہوں گے وہ (انکے معبود) ہوں گے انکے دشمن،اور ہوں گے اُن کے پوجنے سے منکر۔

.6

اور جب سُنایئے ان کو ہماری باتیں کھلی،

کہتے ہیں منکر سچی بات کو جب ان تک پہنچی، یہ جادو ہے صریح (کھلا) ۔

.7

   کیا کہتے ہیں یہ بنا لایا (یہ قرآن) ؟

تو کہہ، اگر میں یہ بنا لایا ہوں تو تم میرا بھلا نہیں کر سکتے، اﷲ کے سامنے کچھ۔

اس کو خوب خبر ہے، جن باتوں میں لگے ہو۔

وہ بس (کافی) ہے حق بتانے والا میرے تمہارے بیچ۔

اور وہی گناہ بخشتا مہربان۔

.8

تو کہہ، میں کچھ نیا رسول نہیں آیا، اور مجھ کو معلوم نہیں، کیا ہونا ہے مجھ سے، اور نہ تم سے؟

میں اسی پر چلتا ہوں، جو حکم آتا ہے مجھ کو، اور میرا کام یہی ڈر سنا دینا کھول کر(صاف صاف) ۔

.9

 تو کہہ، بھلا دیکھو تو! اگر یہ ہو اﷲ کے ہاں سے اور تم نے اس کو نہیں مانا،

اور گواہی دے چکا ایک گواہ بنی اسرائیل کا ایک ایسی کتاب کی، پھر وہ یقین لایا، اور تم نے غرور کیا۔

بیشک اﷲ راہ نہیں دیتا گناہگاروں کو۔

.10

اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو، اگر یہ کچھ بہتر ہوتا تو یہ نہ دوڑتے اس پر پہلے ہم سے۔

اور جب راہ پر نہیں آئے اس کے بتانے سے، تو یہ اب کہیں گے یہ جھوٹ ہے مدت کا (پرانا) ۔

.11

اور اس سے پہلے کتاب موسیٰ کی ہے، راہ ڈالتی اور مہر (رحمت) ۔

اور ایک یہ کتاب ہے اسکو سچّا کرتی، عربی زبان میں، کہ ڈر سنائے گناہگاروں کو اور خوشخبری نیکی والوں کو۔

.12

مقرر (یقیناً) جنہوں نے کہا، رب ہمارا اﷲ ہے، پھر ثابت رہے، تو نہ ڈر ہے ان پر، اور نہ وہ غم کھائیں گے۔

.13

وہ ہیں بہشت کے لوگ، سدا رہیں گے اس میں۔

بدلہ اس کا جو (اعمال) کرتے تھے۔

.14

اور ہم نے تقید (تاکید) کیا ہے انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلائی کا۔

پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تکلیف سے، اور جنا اس کو تکلیف سے۔

اور حمل میں رہنا اسکا، اور دودھ چھوڑنا تیس مہینے میں ہے۔

یہاں تک جب پہنچا اپنی قوّت کو، اور پہنچا چالیس برس کو، کہنے(دعا کرنے) لگا

اے رب میرے! میری قسمت میں کر کہ شکر کروں احسان تیرے کا جو مجھ پر کیا، اور میرے ماں باپ پر،

اور یہ کہ کروں نیک کام، جس سے تو راضی ہو، نیک دے مجھ کو اولاد میری۔

میں نے توبہ کی تیری طرف، اور میں ہوں حکم بردار۔

.15

(یہ) وہ لوگ ہیں جن سے ہم قبول کرتے ہیں بہتر سے بہتر کام جو کئے ہیں، اور معاف کرتے ہیں ہم برائیاں اُن کی،

(شامل ہوں گے یہ) جنت کے لوگوں میں۔

(یہ) سچا وعدہ (ہے) ، جو ان کو ملنا تھا۔

.16

اور جس شخص نے کہا اپنے ماں باپ کو، میں بیزار ہوں تم سے کیا مجھ کو وعدے دیتے (خوف دلاتے) ہو

کہ میں نکالا جاؤں گا قبر سے اور گزر چکی ہیں اتنی سنگتیں (نسلیں) مجھ سے پہلے۔

اور وہ دونوں (ماں باپ) فریاد کرتے ہیں اﷲ سے کہ اے خرابی تیری تو ایمان لا بیشک وعدہ اﷲ کا ٹھیک (سچ) ہے۔

پھر (مگر وہ ) کہتا ہے یہ سب نقلیں (قصے) ہیں پہلوں کی۔

.17

(یہ) وہ لوگ ہیں جن پر ثابت ہوئی بات (فیصلہ عذاب کا) شامل (ہو گئے)

اور(ان) فرقوں (امتوں) میں جو گزرے ہیں ان سے پہلے جِنّوں کے اور آدمیوں کے۔

بیشک وہ تھے ٹوٹے (خسارے) میں آئے۔

.18

 اور ہر فرقے کے(ایک کے لیے) کئی درجے ہیں، اپنے کئے کاموں (اعمال) سے

اور تا (کہ) پورا دے ان کو (بدلہ) کام اُن کے (کا) ، اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

.19

اور جس دن لائے جائیں گے منکر آگ کے سرے پر۔

(تو ان سے کہا جائے گا)

ضائع کئے تم نے اپنے مزے(اپنی نعمتیں) ، اپنے دنیا کے جیتے، اور ان کو برت (لطف اٹھا) چکے، اب سزا پاؤ گے ذلت کی مار،

بدلہ ان کا جو تم غرور کرتے تھے ملک میں نا حق، اور اس کا جو تم بے حکمی کرتے تھے۔

.20

اور یاد کر عاد کے بھائی (ہود ؑ  کو) جب ڈرایا اپنی قوم کو احقاف میں،

اور گزر چکے تھے چرانے (متنبہ کرنے) والے، آگے سے(پہلے بھی) اور پیچھے سے(بعد بھی) ،

کہ بندگی نہ کرو کسی کی اﷲ کے سِوا۔ میں ڈرتا ہوں تم پر آفت (عذاب) سے، ایک بڑے (ہولناک) دن کی۔

.21

بولے، کیا آیا ہے ہم پاس کہ پھیرے (بہکا دو) ہم کو ہمارے ٹھاکروں (معبودوں) سے؟

سو لے آ ہم پر (وہ عذاب) ، جو وعدے (ڈراوا) دیتا ہے، اگر ہے تو سچا۔

.22

(انہوں نے) کہا، یہ خبر (اس کا علم) تو اﷲ ہی کو ہے۔

اور میں پہنچا دیتا (رہا) ہوں جو کچھ دیا میرے ساتھ،

لیکن میں دیکھتا ہوں، تم لوگ نادانی کرتے ہو۔

.23

پھر جب دیکھا اُس (عذاب) کو ابر ( کی صورت میں) سامنے آیا اُن کے نالوں (وادیوں) کے،بولے یہ ابر ہے ہم پر برسے گا۔

کوئی (ہرگز) نہیں! یہ وہ ہے جس کی تم شتابی (جلدی) کرتے تھے۔

باؤ (ہوا کا طوفان) ہے جس میں دُکھ کی مار (عذاب) ہے۔

.24

اکھاڑ مارے ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے، پھر کل کو رہ گئے، کوئی نظر نہیں آتا سوائے انکے گھروں کے۔

یوں ہم سزا دیتے ہیں گناہگار لوگوں کو۔

.25

اور ہم نے مقدور (اختیار) دیئے تھے ان کو، جو تم کو مقدورنہیں دیے،

اور ان کو دیئے تھے کان اور آنکھیں، اور دل۔

پھر کام نہ آئے ان کو کان ان کے نہ آنکھیں ان کی نہ دل ان کے کسی چیز میں،کہ تھے اس پر منکر ہوتے اﷲ کی باتوں سے،

اور اُلٹ پڑی ان پر جس بات سے ٹھٹھا (مذااق) کرتے تھے۔

.26

 اور ہم کھپا (ہلاک کر) چکے ہیں جتنی تمہارے آپ پاس ہیں بستیاں

اور پھر سُنائیں ان کو باتیں، شاید وہ پھر آئیں۔

.27

پھر کیوں نہ مدد (کو) پہنچے ان کی، جن کو پکڑا تھا اﷲ سے ورے (قریب) درجہ پانے کو پوجنا؟

کوئی نہیں! گم ہوئے اُن سے۔

اور یہی جھوٹ تھا ان کا، اور جو باندھتے تھے۔

.28

اور جب متوجہ کر دیئے ہم نے تیری طرف کتنے لوگ جِنّوں میں سے، سننے لگے قرآن۔

پھر جب پہنچے بولے، چپ رہو۔

پھر جب تمام ہوا(قرآن کی تلاوت) ، اُلٹے گئے اپنی قوم کو ڈر سناتے۔

.29

بولے اے قوم ہماری! ہم نے سُنی ایک کتاب، جو اُتری ہے موسیٰ کے بعد،سچا کرتی سب اگلیوں کو،

سجھاتی (بتاتی) سچادین، اور ایک راہ سیدھی۔

.30

اے قوم ہماری! مانو اﷲ کے(کی طرف) بلانے والے کو، اور اس پر یقین لاؤ

کہ بخشے تم کو کچھ گناہ تمہارے، اور بچائے تم کو ایک دُکھ کی مار (عذاب) سے۔

.31

اور جو کوئی نہ مانے گا اﷲ کے بلانے والے کو، تو وہ نہ تھکا سکے گا بھاگ کر زمین میں، اور کوئی نہیں اس کو اس کے سِوا مددگار۔

وہ لوگ بھٹکتے ہیں صریح۔

.32

 کیا نہیں دیکھتے کہ وہ اﷲ جس نے بنائے آسمان اور زمین، اور نہ تھکا ان کے بنانے میں

وہ (کر) سکتا(قادر) ہے کہ جِلاوے (زندہ کرے) مُردے۔

کیوں نہیں وہ ہر چیز کر سکتا ہے۔

.33

 اور جس دن سامنے لایئے منکروں کو آگ کے۔

(پوچھا جائے گا کیا) اب یہ ٹھیک (حق) نہیں؟

کہیں گے کیوں نہیں (حق ہے)! قَسم ہے ہمارے رب کی۔

کہا تو چکھومار، بدلہ اس کا جو تم منکر ہوتے تھے۔

.34

سو تو ٹھہرا رہ(صبر کر) ، جیسے ٹھہرے رہے ہمت والے رسول، اور شتابی (جلدی) نہ کر ان کے واسطے،

یہ لوگ جس دن دیکھیں گے جس چیز کا ان سے وعدے ہے، جیسے ڈھیل نہ پائی تھی، مگر ایک گھڑی دن۔

(یہ قرآن ہے بات کا) پہنچا دینا۔

اب وہی کھپیں (ہلاک ہوں) گے جو لوگ بے حکم ہیں۔

*********

.35

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com