القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ القمر

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ

پاس آ لگی وہ گھڑی (قیامت کی) اور پھٹ گیا چاند۔

.1

وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ

اور اگر وہ دیکھیں کوئی نشانی (تو) ٹال دیں، اور کہیں کہ یہ جادو ہے (پہلے سے) چلا آتا ۔

.2

وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ

اور جھٹلایا اور چلے اپنی چاؤں (خواہشات) پر،

وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ

اور ہر کام ٹھہر رہا (پہنچنا) ہے وقت (انجام) پر۔

.3

وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ

 اور پہنچ چکے ہیں ان کو احوال (پچھلی قوموں کے) جتنے میں ڈانٹ (عبرت) ہو سکتی ہے۔

.4

حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ

پوری عقل کی بات ہے،

فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ

پھر کام نہیں کرتے(فائدہ نہیں اٹھاتے) ڈر سناتے (تنبیہات سے) ۔

.5

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ

سو تو ہٹ آ اُن کی طرف سے،

يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَى شَيْءٍ نُكُرٍ

جس دن پکارے پکارنے والا ایک ان دیکھی چیز کو،

.6

خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ

 نِویں (جھکی، سہمی) آنکھیں، نکل پڑیں قبروں سے جیسے ٹڈی بکھر پڑی (منتشر) ۔

.7

مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ

دوڑتے جائیں پکار پر۔

يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَذَا يَوْمٌ عَسِرٌ

کہتے منکر یہ دن مشکل آیا۔

.8

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ

جھٹلا چکے ہیں انسے پہلے نوح کی قوم پھر جھوٹا کہا ہمارے بندے کواور بولے دیوانہ ہے اور جھڑک لیا۔

.9

فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ

پھر (نوحؑ نے) پکارا اپنے رب کو کہ میں دب (مغلوب ہو) گیا ہوں تو بدلہ لے۔

.10

فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ

 پھر ہم نے کھول دیئے دہانے آسمان کے، ریل سے پانی (موسلا دھار بارش) کے۔

.11

وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ

 اور بہا دیئے زمین سے چشمے، پھر مل گیا پانی ایک کام پر جو ٹہرا رہا تھا ،

.12

وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ

اور سوار کیا اس کو ایک تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر،

.13

تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا

 بہتی ہماری آنکھوں (نگرانی) کے سامنے،

جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ

(یہ) بدلہ (تھا) اس کی طرف سے (خاطر) جس کی قدر نہ جانی تھی،

.14

وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً

اور اس کو ہم نے رہنے دیا نشان کر،

فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ

پھر کوئی ہے سوچنے (نصیحت قبول کرنے) والا۔

.15

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

پھرکیسا تھا میرا عذاب اور میرا دڑکا (تنبیہہ) ؟

.16

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ

اور ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو، پھر ہے کوئی سوچنے والا (نصیحت قبول کرنے) ؟

.17

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

جھٹلایا عاد نے، پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا دڑکا (تنبیہہ) ؟

.18

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ

ہم نے بھیجی ان پر باؤ (ہوا) ٹھری (ٹھنڈی) سناٹے کی ایک نحوست کے دن، جو چلی گئی،

.19

تَنْزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ

اکھاڑ مارتی لوگوں کو، جیسے وہ جڑیں کھجور کی ہیں اکھڑی پڑی۔

.20

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

 پھرکیسا ہوا میرا عذاب اور میرا دڑکا (تنبیہہ) ؟

.21

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ

اور ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو، پھر ہے کوئی سوچنے والا (نصیحت قبول کرنے) ؟

.22

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ  

جھٹلائے ثمود نے ڈر سناتے (تنبیہات کو) ،

.23

فَقَالُوا أَبَشَرًا مِنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُهُ

پھر کہنے لگے، کیا ایک آدمی ہم ہی میں کا اکیلا (جو ہم میں ہی سے ہے) ہم اسکے کہے پر چلیں گے

إِنَّا إِذًا لَفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ

تو ہم غلطی میں پڑے(بہک گئے) اور سودا میں(ہماری مت ماری گئی)۔

.24

أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا

  کیا اتری اسی پر سمجھوتی (وحی)ہم سب میں سے؟

بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ

کوئی نہیں یہ جھوٹا ہے بڑائی مارتا (شیخی باز)۔

.25

سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ

 اب جان لیں گے کل کو، کون ہے جھوٹا بڑائی مارتا (شیخی باز)۔

.26

إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ

ہم بھیجتے ہیں اونٹنی ان کے جانچنے (آزمائش)کو، سو دیکھتا رہ ان کو اور ٹھہرا رہ (صبر کر)،

.27

وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ

اور سنا دے ان کو، کہ پانی بانٹا ہے

كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ

 ان میں ہر( باری والے کو اپنی) باری پر پہنچنا ہے۔

.28

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ

پھر پکارے اپنے رفیق کو پھر ہاتھ چلایا اور (اونٹنی کو)کاٹا۔

.29

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ

پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور میرا دڑکا (تنبیہہ)؟

.30

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ  

ہم نے بھیجی ان پر ایک چنگھاڑ، پھر رہ گئے جیسے روندی (کچلی)باڑ کانٹوں کی۔

.31

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ  

اور ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو، پھر ہے کوئی سوچنے والا (نصیحت قبول کرنے) ؟

.32

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ

جھٹلائے لوط کی قوم نے ڈر سناتے (تنبیہات)۔

.33

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ

ہم نے بھیجی ان پر باؤ (ہوا) پتھراؤ کی، سوا لوط کے گھر کے

نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ 

 ان کو بچا دیا ہم نے پچھلی رات سے(رات کے پچھلے پہر) ،

.34

نِعْمَةً مِنْ عِنْدِنَا ۚ

فضل سے اپنی طرف کے۔

كَذَلِكَ نَجْزِي مَنْ شَكَرَ

ہم یوں بدلہ دیتے ہیں اس کو جو حق مانے۔

.35

وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ

اور وہ ڈرا چکا ان کو ہماری پکڑ سے، پھر لگے مکرانے (شک کرنے) ڈر کا (تنبیہات کا) ،

.36

وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ

اور اس (نوح) سے لینے لگے اسکے مہمان، پھر ہم نے مٹا دیں انکی آنکھیں (اندھا کر دیا) ،

فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ 

اب چکھو میرا عذاب اور میرا دڑکا (تنبیہہ) ۔

.37

وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ  

اور پڑا اُن پر صبح کو سویرے عذاب جو ٹھہر رہا(نہ ٹلنے والا) تھا۔

.38

فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ  

اب چکھو میرا عذاب اور میرا دڑکا (تنبیہہ) ۔

.39

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ  

اور ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو، پھر ہے کوئی سوچنے (نصیحت قبول کرنے)والا ؟

.40

وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ

اور پہنچے فرعون والوں پاس دڑکے (تنبیہات) ۔

.41

كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا

جھٹلائیں ہماری نشانیاں ساری،

فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُقْتَدِرٍ 

پھر پکڑی ہم نے اُن کو پکڑ زبردست کی، قابو میں لے کر،

.42

أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِكُمْ

اب تم میں جو منکر ہیں (کیا) کچھ بہتر ہیں ان سب سے؟

أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ  

یا تم کو فارغ خطی (معافی) لکھی گئی ورقوں (صحیفوں) میں؟

.43

أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ  

کیا کہتے ہیں ہم سب کا میل (جھتا، اکھٹ) ہے بدلہ لینے والے؟

.44

سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ 

اب شکست کھا لے گا میل (جھتا، اکھٹ)، اور بھاگیں گے پیٹھ دے (پھیر) کر،

.45

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ 

بلکہ وہ گھڑی (قیامت کا دن) ہے ان کے وعدہ کا وقت اور وہ گھڑی بڑی آفت ہے اور بہت کڑوی۔

.46

إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ 

جو لوگ گنہگار ہیں، غلطی میں ہیں، اور سودا میں(مت ماری گئی) ۔

.47

يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ

جس دن گھسیٹے جائیں گے آگ میں اوندھے منہ۔ (اور ان سے کہا جائے گا) چکھو مزہ آگ کا۔

.48

إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ  

ہم نے ہر چیز بنائی پہلے ٹھہرا کر (تقدیر کے مطابق) ،

.49

وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ  

 اور ہمارا کام یہی ایک دم کی بات ہے، جیسے لپک نگاہ کی۔

.50

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ 

اور ہم کھپا (ہلاک کر) چکے ہیں تمہارے ساتھ والوں کو، پھر ہے کوئی سوڈرنے (نصیحت قبول کرنے) والا؟

.51

وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ 

اور جو چیز انہوں نے کی ہے لکھی گئی ورقوں (اعمال ناموں) میں۔

.52

وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ 

اور ہر چھوٹی اور بڑی لکھنے میں آ چکی۔

.53

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ

جو لوگ ڈر والے (متقی) ہیں ، باغوں میں ہیں اور نہروں میں

.54

فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ 

بیٹھے سچی بیٹھک میں، نزدیک بادشاہ کے جس کا سب پر قبضہ ہے۔

*********

.55

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com