القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ المعارج

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

مانگا ایک مانگنے والے نے، عذاب پڑنے (ہونے) والا،

.1

منکروں کے واسطے کوئی نہیں اس کو ہٹانے والا۔

.2

(ہو گا وہ) اﷲ کی طرف کا، جو چڑھتے درجوں کا صاحب۔

.3

چڑھیں گے اس کی طرف فرشتے اور رُوح اس دن میں جس کا لنباؤ (مقدار) پچاس ہزار برس ہے۔

.4

سو تو صبر کر، بھلی طرح کا صبر کرنا۔

.5

وہ دیکھتے ہیں اس کو دور،

.6

اور ہم دیکھتے ہیں اس کو نزدیک۔

.7

جس دن ہو گا آسمان جیسے تانبا پگلا،

.8

اور ہوں گے پہاڑ جیسے اون رنگی۔

.9

اور نہ پوچھے دوستدار دوستدار کو۔

.10

 سب نظر آ جائیں گے ان کو۔

منائے گا گنہگار کسی طرے چھڑائی میں دے اس دن کی مار سے اپنے بیٹے،

.11

اور ساتھ والی (بیوی)، اور بھائی،

.12

 اور اپنا گھرانا جس میں رہتا تھا،

.13

اور جتنے زمین پر ہیں سارے، پھر آپ (خود) کو بچائے۔

.14

کوئی (ہرگز) نہیں! وہ تپتی آگ ہے،

.15

   کھینچ لینے والی کلیجہ،

.16

پکارتی ہے اس کو جس نے پیٹھ دی (پھیری) اور پھر گیا،

.17

اور اکٹھا کی(مال) اور سینتا (سنبھالا)۔

.18

بیشک آدمی بنا ہے جی کا کچّا(بے صبرا)،

.19

جب لگے اس کو برائی تو گھابرا(گھبرایا)،

.20

 اور جب لگے اس کو بھلائی، تو ان دیوا ( ہوا بخیل)،

.21

 مگر وہ نمازی،

.22

جو اپنی نماز پر قائم ہیں،

.23

اور جن کے مال میں حصہ ٹھہر رہا (مقرر) ہے،

.24

مانگتے (سائل) کا اور ہارے (مسکین) کا،

.25

اور جو یقین کرتے ہیں انصاف کے دن کو،

.26

اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں،

.27

بیشک اُن کے رب کے عذاب سے نڈر (بے خوف) نہ ہوا جائے،

.28

اور جو اپنی شہوت کی جگہ تھامتے (حفاظت کرتے ہیں)،

.29

مگر اپنی جوروؤں سے، یا اپنے ہاتھ کے مال (مِلک) سے، سو ان پر نہیں اولاہنا (ملامت)۔

.30

پھر جو کوئی ڈھونڈھے اس کے سِوا سو وہی ہیں حد سے بڑھتے۔

.31

جو اپنی دھڑ دھریں (امانتیں) اور اپنا قول نباہتے ہیں،

.32

اور جو اپنی گواہی پر سیدھے (ثابت قدم) ہیں،

.33

اور جو اپنی نماز سے خبردار (حفاظت کرتے) ہیں۔

.34

وہ ہیں باغوں میں عزت سے۔

.35

پھر کیا ہوا ہے منکروں کو تیری طرف دوڑتے آتے ہیں،

.36

داہنے سے اور بائیں سے جُٹ کے جُٹ(گروہ در گروہ)۔

.37

کیا لالچ رکھتا ہے ہر ایک ان میں کہ داخل کریے نعمت کے باغ میں۔

.38

 کوئی (ہرگز) نہیں ! ہم نے ان کو بنایا ہے جس چیز سے جانتے ہیں۔

.39

سو میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں مغربوں کے مالک کی، ہم سکتے (قادر) ہیں کہ

.40

بدل کر لے آئیں ان سے بہتر، اور ہم سے چپر (بڑھ) نہ جائیں گے۔

.41

سو چھوڑ دے انکو، باتیں بنائیں اور کھیلیں جبتک بھڑیں (ملیں) اپنے اس دن سے جسکا ان سے وعدہ ہے۔

.42

جس دن نکل پڑیں گے قبروں سے دوڑتے، جیسے کسی نشانے پر دوڑتے جاتے ہیں۔

.43

نِوی (نیچی) ہیں ان کی آنکھیں، چڑھی آتی ہے ان پر ذلت۔

یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ ہے۔

*********

.44

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com