القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ الکہف

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ عَلَىٰ عَبۡدِهِ ٱلۡكِتَـٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَل لَّهُ ۥ عِوَجَاۜ  

 سراہئے (سب تعریف)اﷲ کو جس نے اتاری اپنے بندے پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کچھ کجی (ٹیڑھا پن)۔

.1

قَيِّمً۬ا لِّيُنذِرَ بَأۡسً۬ا شَدِيدً۬ا مِّن لَّدُنۡهُ

ٹھیک اتاری تا (کہ) ڈر سنائے ایک سخت آفت کا اسکی طرف سے،

وَيُبَشِّرَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعۡمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمۡ أَجۡرًا حَسَنً۬ا 

اور خوشخبری دے، یقین لانے والوں کو جو کرتے ہیں نیکیاں،کہ (یقیناً) انکو اچھا نیگ (اجر) ہے۔

.2

مَّـٰكِثِينَ فِيهِ أَبَدً۬ا 

جس میں رہا کریں ہمیشہ۔

.3

وَيُنذِرَ ٱلَّذِينَ قَالُواْ ٱتَّخَذَ ٱللَّهُ وَلَدً۬ا 

 اور ڈر سنائے ان کو جو کہتے ہیں اﷲ اولاد رکھتا ہے۔

.4

مَّا لَهُم بِهِۦ مِنۡ عِلۡمٍ۬ وَلَا لِأَبَآٮِٕهِمۡ‌ۚ

 کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی، نہ انکے باپ دادوں کو۔

كَبُرَتۡ ڪَلِمَةً۬ تَخۡرُجُ مِنۡ أَفۡوَٲهِهِمۡ‌ۚ

کیا بڑی بات ہو کر نکلتی ہے انکے منہ سے۔

إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبً۬ا 

سب جھوٹ ہے جو کہتے ہیں۔

.5

فَلَعَلَّكَ بَـٰخِعٌ۬ نَّفۡسَكَ عَلَىٰٓ ءَاثَـٰرِهِمۡ إِن لَّمۡ يُؤۡمِنُواْ بِهَـٰذَا ٱلۡحَدِيثِ أَسَفًا 

سو کہیں تُو گھونٹ (مار) ڈالے گا اپنی جان انکے پیچھے، اگر وہ نہ مانیں گے اس بات (قرآن) کو پچتا پچتا کر( غم کر کے) ۔

.6

إِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَى ٱلۡأَرۡضِ زِينَةً۬ لَّهَالِنَبۡلُوَهُمۡ أَيُّہُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلاً۬   

 ہم نے بنایا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسکی رونق، تا (کہ) جانچیں لوگوں کو، کون ان میں اچھا کرتا ہے کام۔

.7

وَإِنَّا لَجَـٰعِلُونَ مَا عَلَيۡہَا صَعِيدً۬ا جُرُزًا 

 اور ہم کو کرنا ہے جو کچھ اس پر ہے میدان چھانٹ (چٹیل بنا) کر۔

.8

أَمۡ حَسِبۡتَ أَنَّ أَصۡحَـٰبَ ٱلۡكَهۡفِ وَٱلرَّقِيمِ كَانُواْ مِنۡ ءَايَـٰتِنَا عَجَبًا 

 کیا تو خیال رکھتا ہے کہ غار اور کھوہ والے ہماری قدرتوں میں اچنبھا (عجیب) تھے۔

.9

إِذۡ أَوَى ٱلۡفِتۡيَةُ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ فَقَالُواْ

 جب جا بیٹھے وہ جوان اس کھوہ میں، پھر بولے،

رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةً۬ وَهَيِّئۡ لَنَا مِنۡ أَمۡرِنَا رَشَدً۬ا 

اے رب! دے ہم کو اپنے پاس سے مہر (رحمت) اور بنا ہمارے کام کا بناؤ(درستی) ۔

.10

فَضَرَبۡنَا عَلَىٰٓ ءَاذَانِهِمۡ فِى ٱلۡكَهۡفِ سِنِينَ عَدَدً۬ا 

پھر تھپک دیئے ہم نے اُنکے کان (سُلا دیا) اُس کھوہ میں، کئی برس گنتی کے۔

.11

ثُمَّ بَعَثۡنَـٰهُمۡ لِنَعۡلَمَ أَىُّ ٱلۡحِزۡبَيۡنِ أَحۡصَىٰ لِمَا لَبِثُوٓاْ أَمَدً۬ا   

 پھر ہم نے اُن کو اٹھایا کہ معلوم کریں دو فرقوں میں، کس نے یاد رکھی ہے جتنی مدت وہ رہے۔

.12

نَّحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ نَبَأَهُم بِٱلۡحَقِّ‌ۚ

 ہم سنا دیں تجھ کو ان کا احوال تحقیق (ٹھیک ٹھیک) ۔

إِنَّہُمۡ فِتۡيَةٌ ءَامَنُواْ بِرَبِّهِمۡ وَزِدۡنَـٰهُمۡ هُدً۬ى

وہ کئی جوان ہیں، کہ یقین لائے اپنے رب پر اور زیادہ دی ہم نے انکو سوجھ (ہدایت) ۔

.13

وَرَبَطۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ إِذۡ قَامُواْ فَقَالُواْ

 اور گِرہ دی (مضبوط کر دیئے) اُنکے دل پر جب کھڑے ہوئے، پھر بولے،

رَبُّنَا رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ لَن نَّدۡعُوَاْ مِن دُونِهِۦۤ إِلَـٰهً۬ا‌ۖ

ہمارا رب ہے رب آسمان و زمین کا، نہ پکاریں گے ہم اسکے سوا کسی کو ٹھاکر (معبود) ،

لَّقَدۡ قُلۡنَآ إِذً۬ا شَطَطًا  

(اگر ایسا کہیں) تو کہی ہم نے بات عقل سے دُور۔

.14

هَـٰٓؤُلَآءِ قَوۡمُنَا ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦۤ ءَالِهَةً۬‌ۖ

یہ ہماری قوم ہے! پکڑے (بنا لئے) ہیں انہوں نے اسکے سوا اور پوجنے (معبود) ۔

لَّوۡلَا يَأۡتُونَ عَلَيۡهِم بِسُلۡطَـٰنِۭ بَيِّنٍ۬‌ۖ

کیوں نہیں لاتے ان کے واسطے کوئی سند کھلی۔

فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبً۬ا 

پھر اس سے گنہگار کون جس نے باندھا اﷲ پر جھوٹ۔

.15

وَإِذِ ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ إِلَّا ٱللَّهَ فَأۡوُ ۥۤاْ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ

 اور جب تم نے کنارہ پکڑا ان سے اور جن کو وہ پوجتے ہیں اﷲ کے سوا، اب جا بیٹھو اُس کھوہ میں،

يَنشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّن رَّحۡمَتِهِۦ وَيُهَيِّئۡ لَكُم مِّنۡ أَمۡرِكُم مِّرۡفَقً۬ا 

پھیلا دے تم پر رب تمہارا کچھ اپنی مہر(رحمت) اور بنا (آسان کر ) دے تم کو تمہارے کام کا آرام۔

.16

وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٲوَرُ عَن كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ

 اور تُو دیکھے دھوپ، جب نکلتی ہے بچ جاتی ہے اُنکی کھوہ سے داہنے کو،

وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُہُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ وَهُمۡ فِى فَجۡوَةٍ۬ مِّنۡهُ‌ۚ

اور جب ڈوبتی ہے کترا جاتی ہے ان سے بائیں کو،اور وہ میدان میں ہیں اس کے۔

ذَٲلِكَ مِنۡ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ‌ۗ

ہے یہ قدرتوں سے اﷲ کی۔

مَن يَہۡدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِ‌ۖ

جسکو راہ (ہدایت) دے اﷲ وہی آئے راہ (ہدایت) پر۔

وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُ ۥ وَلِيًّ۬ا مُّرۡشِدً۬ا 

اور جس کو وہ بچلادے (بھٹکا دے) پھر تو نہ پائے اسکا کوئی رفیق راہ پر لانے والا۔

.17

وَتَحۡسَبُہُمۡ أَيۡقَاظً۬ا وَهُمۡ رُقُودٌ۬‌ۚ

 اور تُو جانے وہ جاگتے ہیں اور وہ سوتے ہیں۔

وَنُقَلِّبُهُمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَذَاتَ ٱلشِّمَالِ‌ۖ

 اور کروٹ دلاتے ہیں ہم ان کو داہنے اور بائیں۔

وَكَلۡبُهُم بَـٰسِطٌ۬ ذِرَاعَيۡهِ بِٱلۡوَصِيدِ‌ۚ

اور کتّا انکا پسار رہا اپنی باہیں چوکھٹ پر۔

لَوِ ٱطَّلَعۡتَ عَلَيۡہِمۡ لَوَلَّيۡتَ مِنۡهُمۡ فِرَارً۬ا وَلَمُلِئۡتَ مِنۡہُمۡ رُعۡبً۬ا

اگر تُو جھانک دیکھے انکو تو پیٹھ دے کر بھاگے اُن سے اور بھر جائے تجھ (تمہارے دل) میں ان کی دہشت۔

.18

وَڪَذَٲلِكَ بَعَثۡنَـٰهُمۡ لِيَتَسَآءَلُواْ بَيۡنَہُمۡ‌ۚ

 اور اسی طرح ان کو جگا دیا ہم نے کہ آپس میں لگے پوچھنے۔

قَالَ قَآٮِٕلٌ۬ مِّنۡہُمۡ ڪَمۡ لَبِثۡتُمۡ‌ۖ

ایک بولا ان میں کتنی دیر ٹھہرے تم۔

قَالُواْ لَبِثۡنَا يَوۡمًا أَوۡ بَعۡضَ يَوۡمٍ۬‌ۚ

بولے ہم ٹھہرے ایک دن یا دن سے کم۔

قَالُواْ رَبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثۡتُمۡ

بولے، تمہارا رب بہتر جانے جتنی دیر رہے ہو۔

فَٱبۡعَثُوٓاْ أَحَدَڪُم بِوَرِقِكُمۡ هَـٰذِهِۦۤ إِلَى ٱلۡمَدِينَةِ

اب بھیجو اپنے میں سے ایک، یہ روپیہ لے کر اپنا اس شہر کو،

فَلۡيَنظُرۡ أَيُّہَآ أَزۡكَىٰ طَعَامً۬افَلۡيَأۡتِڪُم بِرِزۡقٍ۬ مِّنۡهُ

پھر دیکھے کونسا ستھرا کھانا، سو لا دے تم کو اس میں سے کھانا،

وَلۡيَتَلَطَّفۡ وَلَا يُشۡعِرَنَّ بِڪُمۡ أَحَدًا 

اور نرمی (ہوشیاری)سے جائے اور جتا (بتا) نہ دے تمہاری خبر کسی کو۔

.19

إِنَّہُمۡ إِن يَظۡهَرُواْ عَلَيۡكُمۡ يَرۡجُمُوكُمۡ أَوۡ يُعِيدُوڪُمۡ فِى مِلَّتِهِمۡ وَلَن تُفۡلِحُوٓاْ إِذًا أَبَدً۬ا 

 وہ لوگ اگر خبر پائیں تمہاری، پتھراؤ سے ماریں تم کو یا الٹا پھیریں تم کو اپنے دین میں،تب بھلا نہ ہو تمہارا کبھی۔

.20

وَڪَذَٲلِكَ أَعۡثَرۡنَا عَلَيۡہِمۡ لِيَعۡلَمُوٓاْأَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقٌّ۬

 اور اسی طرح خبر کھول دی ہم نے اُنکی تا (کہ) لوگ جانیں کہ وعدہ اﷲ کا ٹھیک ہے،

وَأَنَّ ٱلسَّاعَةَ لَا رَيۡبَ فِيهَآ

وہ گھڑی آنی، اس میں دھوکا (شک) نہیں۔

إِذۡ يَتَنَـٰزَعُونَ بَيۡنَہُمۡ أَمۡرَهُمۡ‌ۖ فَقَالُواْ ٱبۡنُواْ عَلَيۡہِم بُنۡيَـٰنً۬ا‌ۖ

جب جھگڑ رہے تھے اپنی بات پر، پھر کہنے لگے، بناؤ ان پر ایک عمارت۔

رَّبُّهُمۡ أَعۡلَمُ بِهِمۡ‌ۚ

ان کا رب بہتر جانے ان کو۔

قَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيۡہِم مَّسۡجِدً۬ا 

بولے جنکا کام زبر تھا(جو غالب تھے) ، ہم بنا دیں گے اُن کے مکان پر عبادت خانہ۔

.21

سَيَقُولُونَ ثَلَـٰثَةٌ۬ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ

 اب یہ بھی کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتّا ،

وَيَقُولُونَ خَمۡسَةٌ۬ سَادِسُہُمۡ كَلۡبُہُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَيۡبِ‌ۖ

اور یہ بھی کہیں گے وہ پانچ ہیں اور چھٹا ان کا کتّا ، بن دیکھے نشانہ پتھر چلانا(بے تُکی باتیں) ،

وَيَقُولُونَ سَبۡعَةٌ۬ وَثَامِنُہُمۡ ڪَلۡبُہُمۡ‌ۚ

اور یہ بھی کہیں گے وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتّا ۔

قُل رَّبِّىٓ أَعۡلَمُ بِعِدَّتِہِم مَّا يَعۡلَمُهُمۡ إِلَّا قَلِيلٌ۬‌ۗ

تُو کہہ، میرا رب بہتر جانے اُن کی گنتی، ان کی خبر نہیں رکھتے مگر تھوڑے لوگ۔

فَلَا تُمَارِ فِيہِمۡ إِلَّا مِرَآءً۬ ظَـٰهِرً۬ا وَلَا تَسۡتَفۡتِ فِيهِم مِّنۡهُمۡ أَحَدً۬ا

سو تُو مت جھگڑ ان کی بات میں مگر سرسری جھگڑا۔ اور مت تحقیق کر ان کا احوال اُن میں کسی سے۔

.22

وَلَا تَقُولَنَّ لِشَاْىۡءٍ إِنِّى فَاعِلٌ۬ ذَٲلِكَ غَدًا 

 اور نہ کہیو کسی کام کو کہ میں کروں گا کل۔

.23

إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ‌ۚ

 مگر یہ کہ اﷲ چاہے،

وَٱذۡكُر رَّبَّكَ إِذَا نَسِيتَ وَقُلۡ عَسَىٰٓ أَن يَهۡدِيَنِ رَبِّى لِأَقۡرَبَ مِنۡ هَـٰذَا رَشَدً۬ا 

اور یاد کر لے اپنے رب کو جب بھول جائے،اور کہہ، امید ہے کہ میرا رب مجھ کو سجھائے، اس سے نزدیک راہ نیکی کی۔

.24

وَلَبِثُواْ فِى كَهۡفِهِمۡ ثَلَـٰثَ مِاْئَةٍ۬ سِنِينَ وَٱزۡدَادُواْ تِسۡعً۬ا 

 اور مدت گذری ان پر اپنی کھوہ میں تین سو برس اور اُوپر سے نو (۹) ۔

.25

قُلِ ٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا لَبِثُواْ‌ۖ لَهُ ۥ غَيۡبُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ‌ۖ

 تُو کہہ، اﷲ خوب جانتا ہے جتنی مدت وہ رہے۔ اُسی پاس ہیں چھپے بھید آسمان اور زمین کے۔

أَبۡصِرۡ بِهِۦ وَأَسۡمِعۡ‌ۚ

عجب (خوب) دیکھتا سنتا ہے۔

مَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ۬ وَلَا يُشۡرِكُ فِى حُكۡمِهِۦۤ أَحَدً۬ا 

کوئی نہیں بندوں پر اسکے سوا مختار۔ اور نہیں شریک کرتا اپنے حکم میں کسی کو۔

.26

وَٱتۡلُ مَآ أُوحِىَ إِلَيۡكَ مِن ڪِتَابِ رَبِّكَ‌ۖ

اور پڑھ جو وحی ہوئی تجھ کو، تیرے رب سے اسکی کتاب کو۔

لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِهِۦ مُلۡتَحَدً۬ا 

کوئی بدلنے والا نہیں اسکی باتیں اور کہیں نہ پائے گا تُو اسکے سوا چھپنے کی جگہ۔

.27

وَٱصۡبِرۡ نَفۡسَكَ مَعَ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّہُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُ ۥ‌ۖ

اور تھام رکھ آپ کو اُنکے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، طالب ہیں اسکے منہ (رضا) کے،

وَلَا تَعۡدُ عَيۡنَاكَ عَنۡہُمۡ تُرِيدُ زِينَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا‌ۖ

اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں ان کو چھوڑ کر تلاش میں رونق دنیا کی زندگی کی۔

وَلَا تُطِعۡ مَنۡ أَغۡفَلۡنَا قَلۡبَهُ ۥ عَن ذِكۡرِنَاوَٱتَّبَعَ هَوَٮٰهُ وَكَانَ أَمۡرُهُ ۥ فُرُطً۬ا

اور نہ کہا مان اس کا جسکا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے،اور پیچھے لگا ہے اپنی چاؤ (خواہش) کے، اور اسکا کام ہے حد پر نہ رہنا۔

.28

وَقُلِ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡ‌ۖ فَمَن شَآءَ فَلۡيُؤۡمِن وَمَن شَآءَ فَلۡيَكۡفُرۡ‌ۚ

 اور کہہ، سچی بات ہے تمہارے رب کی طرف سے،پھر جو کوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے نہ مانے۔

إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا لِلظَّـٰلِمِينَ نَارًا أَحَاطَ بِہِمۡ سُرَادِقُهَا‌ۚ

ہم نے رکھی ہے گنہگاروں کے واسطے آگ، جو گھیر رہی ہے ان کو اسکی قناتیں (لپٹیں) ۔

وَإِن يَسۡتَغِيثُواْ يُغَاثُواْ بِمَآءٍ۬ كَٱلۡمُهۡلِ يَشۡوِى ٱلۡوُجُوهَ‌ۚ

اور اگر فریاد کریں گے تو ملے گا پانی جیسا پیپ، بھون ڈالے منہ کو،

بِئۡسَ ٱلشَّرَابُ وَسَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا 

کیا بُرا پینا ہے اور کیا بُرا آرام۔

.29

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجۡرَ مَنۡ أَحۡسَنَ عَمَلاً 

جو لوگ یقین لائے اور کیں نیکیاں، ہم نہیں کھوتے (ضائع کرتے) نیگ (اجر) اس کا، جس نے بھلا کیا کام۔

.30

أُوْلَـٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ عَدۡنٍ۬ تَجۡرِى مِن تَحۡتِہِمُ ٱلۡأَنۡہَـٰرُ

 ایسوں کو باغ ہیں بسنے کے، بہتی انکے نیچے نہریں،

يُحَلَّوۡنَ فِيہَا مِنۡ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ۬ وَيَلۡبَسُونَ ثِيَابًا خُضۡرً۬ا مِّن سُندُسٍ۬ وَإِسۡتَبۡرَقٍ۬

پہناتے ہیں ان کو وہاں کچھ کنگن سونے کے اور پہنتے ہیں کپڑے سبز پتلے اور گاڑھے ریشم کے،

مُّتَّكِـِٔينَ فِيہَا عَلَى ٱلۡأَرَآٮِٕكِ‌ۚ نِعۡمَ ٱلثَّوَابُ وَحَسُنَتۡ مُرۡتَفَقً۬ا

لگے بیٹھے ہیں ان میں تختوں پر۔کیا خوب بدلہ ہے اور کیا خوب آرام۔

.31

وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلاً۬ رَّجُلَيۡنِ

 اور بتا ا ن کو کہاوت دو مَردوں کی،

جَعَلۡنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيۡنِ مِنۡ أَعۡنَـٰبٍ۬ وَحَفَفۡنَـٰهُمَا بِنَخۡلٍ۬ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَہُمَا زَرۡعً۬ا

بنا دیئے ہم نے ایک کو دو باغ انگور کے اور گرد انکے کھجوریں،اور رکھی دونوں کے بیچ میں کھیتی۔

.32

كِلۡتَا ٱلۡجَنَّتَيۡنِ ءَاتَتۡ أُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِم مِّنۡهُ شَيۡـًٔ۬ا‌ۚ

دونوں باغ لاتے اپنا میوہ اور نہ گھٹاتے اس میں سے کچھ،

وَفَجَّرۡنَا خِلَـٰلَهُمَا نَہَرً۬ا

اور بہائی ہم نے ان دونوں کے بیچ نہر۔

.33

وَكَانَ لَهُ ۥ ثَمَرٌ۬ فَقَالَ لِصَـٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ ۥۤ أَنَا۟ أَكۡثَرُ مِنكَ مَالاً۬ وَأَعَزُّ نَفَرً۬ا

 اور اسکو پھل ملا پھر بولا اپنے دوسرے سے، جب باتیں کرنے لگا اس سے،

مجھ پاس زیادہ ہے تجھ سے مال اور آبرو کے (قدرومنزلت والے، طاقتور) لوگ۔

.34

وَدَخَلَ جَنَّتَهُ ۥ وَهُوَ ظَالِمٌ۬ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـٰذِهِۦۤ أَبَدً۬ا

 اور گیا اپنے باغ میں، اور وہ بُرا کر رہا تھا اپنی جان پر۔بولا، مجھ کو نہیں آتا خیال میں کہ خراب ہو یہ باغ کبھی۔

.35

وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآٮِٕمَةً۬

 اور مجھ کو خیال میں نہیں آتا کہ قیامت ہونی ہے۔

وَلَٮِٕن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّى لَأَجِدَنَّ خَيۡرً۬ا مِّنۡهَا مُنقَلَبً۬ا 

اور اگر کبھی پہنچایا مجھ کو میرے رب کے پاس، پاؤں گا بہتر اس سے اس طرف پہنچ کر۔

.36

قَالَ لَهُ ۥ صَاحِبُهُ ۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ ۥۤ

 کہا اس کو دوسرے نے جب بات کرنے لگا،

أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِى خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ۬ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٍ۬ ثُمَّ سَوَّٮٰكَ رَجُلاً۬ 

کیا تو منکر ہو گیا اس شخص (ذات) سے جس نے بنایا تجھ کو مٹی سے، پھر بوند سے پھر پورا کردیا تجھ کو مرد۔

.37

لَّـٰكِنَّا۟ هُوَ ٱللَّهُ رَبِّى وَلَآ أُشۡرِكُ بِرَبِّىٓ أَحَدً۬ا 

 پر میں تو کہوں، وہی اﷲ ہے میرا رب اور نہ مانوں ساجھی (شریک) اپنے رب کا کسی کو۔

.38

وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِ‌ۚ

 اور کیوں نہ جب تو آیا تھا اپنے باغ میں کہا ہوتا؟ جو چاہا اﷲ کا، کچھ زور نہیں مگر دیا اﷲ کا۔

إِن تَرَنِ أَنَا۟ أَقَلَّ مِنكَ مَالاً۬ وَوَلَدً۬ا

اگر تُو دیکھتا ہے مجھ کو کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں۔

.39

فَعَسَىٰ رَبِّىٓ أَن يُؤۡتِيَنِ خَيۡرً۬ا مِّن جَنَّتِكَ

 تو امید ہے کہ میرا رب دے مجھ کو تیرے باغ سے بہتر،

وَيُرۡسِلَ عَلَيۡہَا حُسۡبَانً۬ا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَتُصۡبِحَ صَعِيدً۬ا زَلَقًا

اور بھیج دے اس پر ایک بھبوکا (آفت) آسمان سے، پھر صبح کو رہ جائے میدان پٹپڑ(چٹیل) ۔

.40

أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرً۬ا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُ ۥ طَلَبً۬ا 

 یا صبح کو ہو رہے اسکا پانی خشک، پھر نہ سکے تُو کہ اسکو ڈھونڈ لائے۔

.41

وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيہَا وَهِىَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِہَا

 اور سمیٹ لیا اسکا سارا پھل، پھر صبح کو رہ گیا ہاتھ نچاتا اس مال پر جو اس میں لگایا تھا،

اور وہ ڈھیا (گرا) پڑا تھا اپنی چھتریوں (چھپروں) پر،

وَيَقُولُ يَـٰلَيۡتَنِى لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّىٓ أَحَدً۬ا 

اور کہنے لگا کیا خوب تھا اگر میں ساجھی (شریک) نہ بناتا اپنے رب کا کسی کو۔

.42

وَلَمۡ تَكُن لَّهُ ۥ فِئَةٌ۬ يَنصُرُونَهُ ۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا

 اور نہ ہوئی اسکی جماعت کہ مدد کریں اسکو اﷲ کے سوا ،اور نہ ہوا وہ کہ بدلہ لے سکے۔

.43

هُنَالِكَ ٱلۡوَلَـٰيَةُ لِلَّهِ ٱلۡحَقِّ‌ۚ

 وہاں سب اختیار ہے اﷲ سچے کا۔

هُوَ خَيۡرٌ۬ ثَوَابً۬ا وَخَيۡرٌ عُقۡبً۬ا 

اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا بدلہ۔

.44

وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا

 اور بتا انکو کہاوت دنیا کی زندگی کی،

كَمَآءٍ أَنزَلۡنَـٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمً۬ا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَـٰحُ‌ۗ

جیسے پانی اتارا ہم نے آسمان سے، پھر بھڑ کر نکلا اس سے زمین کا سبزہ،پھر کل کو ہو رہا چورا (بھُس) باؤ (ہوا) میں اڑتا۔

وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىۡءٍ۬ مُّقۡتَدِرًا

اور اﷲ کو ہے ہر چیز پر قدرت۔

.45

ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا‌ۖ

مال اور بیٹے رونق ہیں دنیا کے جیتے۔

وَٱلۡبَـٰقِيَـٰتُ ٱلصَّـٰلِحَـٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابً۬ا وَخَيۡرٌ أَمَلاً۬ 

اور رہنے والی نیکیوں پر بہتر ہے تیرے رب کے ہاں بدلہ اور بہتر ہے توقع۔

.46

وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ ٱلۡجِبَالَ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةً۬

 اور جس دن ہم چلائیں پہاڑ اور تُو دیکھے زمین کھل گئی،

وَحَشَرۡنَـٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡہُمۡ أَحَدً۬ا 

اور گھیر بلائیں (اکھٹا کریں) ان کو، پھر نہ چھوڑیں ان میں (کسی) ایک کو۔

.47

وَعُرِضُواْ عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّ۬ا

 اور سامنے لائے (پیش کئے گئے پاس) تیرے رب کے قطار کر کر(صف در صف) ۔

لَّقَدۡ جِئۡتُمُونَا كَمَا خَلَقۡنَـٰكُمۡ أَوَّلَ مَرَّةِۭ‌ۚ

اور(بلاشبہ) آ پہنچے تم ہمارے پاس، جیسا ہم نے بنایا (پیدا کیا) تھا تم کو پہلی بار۔

بَلۡ زَعَمۡتُمۡ أَلَّن نَّجۡعَلَ لَكُم مَّوۡعِدً۬ا 

نہیں(جبکہ) تم بتاتے (سمجھتے) تھے کہ نہ ٹھہرائیں گے ہم تمہارا کوئی وعدہ(پیشی کا وقت) ۔

.48

وَوُضِعَ ٱلۡكِتَـٰبُ فَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا فِيهِ

 اور رکھا جائے گا کاغذ(اعمالنامہ) ، پھر تو دیکھے گنہگار ڈرتے ہیں اسکے بیچ لکھے سے،

وَيَقُولُونَ يَـٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا ٱلۡڪِتَـٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً۬ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحۡصَٮٰهَا‌ۚ

اور کہتے ہیں اے خرابی! کیسا ہے یہ لکھا؟نہ چھوڑے چھوٹی بات نہ بڑی بات، جو اس میں نہیں گھیری۔

وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِرً۬ا‌ۗ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ أَحَدً۬ا

اور پائیں گے جو کیا ہے سامنے۔اور تیرا رب ظلم نہ کرے گا کسی پر۔

.49

وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓٮِٕكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأَدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ

 اور جب کہا ہم نے فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو،، تو سجدہ کر پڑے مگر ابلیس۔

كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦۤ‌ۗ

تھا جِنّ کی قِسم سے سو نکل بھاگا اپنے رب کے حکم سے۔

أَفَتَتَّخِذُونَهُ ۥ وَذُرِّيَّتَهُ ۥۤ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِى وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢ‌ۚ

سو اب تم ٹھہراتے ہو اسکو اور اسکی اولاد کو رفیق میرے سوا، اور وہ تمہارے دشمن ہیں۔

بِئۡسَ لِلظَّـٰلِمِينَ بَدَلاً۬

بُرا ہاتھ لگا بے انصافوں کو بدلہ۔

.50

مَّآ أَشۡہَدتُّہُمۡ خَلۡقَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَا خَلۡقَ أَنفُسِہِمۡ

دکھا نہیں لیا میں نے ان کو بنانا آسمان و زمین کا اور نہ بنانا ان کا۔

وَمَا كُنتُ مُتَّخِذَ ٱلۡمُضِلِّينَ عَضُدً۬ا

اور میں وہ نہیں کہ پکڑوں (بناؤں) بہکانے والوں کو بازو (مددگار) ۔

.51

وَيَوۡمَ يَقُولُ نَادُواْ شُرَڪَآءِىَ ٱلَّذِينَ زَعَمۡتُمۡ فَدَعَوۡهُمۡ

 اور جس دن فرمائے گا، پکارو میرے شریکوں کو جو تم بتاتے تھے، پھر پکاریں گے،

فَلَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُمۡ وَجَعَلۡنَا بَيۡنَہُم مَّوۡبِقً۬ا

پھر وہ جواب نہ دیں گے، اور کر دیں گے ہم انکے بیچ مرنے کے اسباب۔

.52

وَرَءَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٱلنَّارَ فَظَنُّوٓاْ أَنَّہُم مُّوَاقِعُوهَاوَلَمۡ يَجِدُواْ عَنۡہَا مَصۡرِفً۬ا 

 اور دیکھیں گے گنہگار آگ کو، پھر اٹکلیں (سمجھیں) گے کہ اُن کو پڑنا ہے اس میں،

اور نہ پائیں گے اس سے راہ بدلنی(بچنے کا راستہ) ۔

.53

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِى هَـٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ لِلنَّاسِ مِن ڪُلِّ مَثَلٍ۬‌ۚ

 اور پھیر پھیر (طرح طرح سے) سمجھائی ہم نے، اس قرآن سے لوگوں کو ہر ایک کہاوت۔

وَكَانَ ٱلۡإِنسَـٰنُ أَڪۡثَرَ شَىۡءٍ۬ جَدَلاً۬ 

اور ہے انسان سب چیز سے زیادہ جھگڑنے کو (لو) ۔

.54

وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ

 اور لوگوں کو اٹکاؤ (روک) جو رہا اس سے کہ یقین لائیں جب پہنچی انکو راہ کی سوجھ (ہدایت)

اور گناہ بخشوائیں اپنے رب سے،

إِلَّآ أَن تَأۡتِيَہُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ

سو یہی کہ پہنچے ان پر رسم پہلوں کی،

أَوۡ يَأۡتِيَہُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلاً۬ 

 یا آ کھڑا ہو ان پر عذاب سامنے۔

.55

وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ‌ۚ

 اور ہم جو رسول بھیجتے ہیں، سو خوشی اور ڈر سنانے کو۔

وَيُجَـٰدِلُ ٱلَّذِينَ ڪَفَرُواْ بِٱلۡبَـٰطِلِ لِيُدۡحِضُواْ بِهِ ٱلۡحَقَّ‌ۖ

اور جھگڑے لاتے ہیں منکر جھوٹے جھگڑے، کہ ڈِگا (گرا) دیں اس سے سچی بات،

وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَـٰتِى وَمَآ أُنذِرُواْ هُزُوً۬ا 

اور ٹھہرایا ہے میرے کلام کو، اور جو ڈر سنائے، ٹھٹھا(مذاق) ۔

.56

وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِۦ فَأَعۡرَضَ عَنۡہَاوَنَسِىَ مَا قَدَّمَتۡ يَدَاهُ‌ۚ

 اور کون ظالم اس سے؟ جس کو سمجھایا اس کے رب کے کلام سے،

پھر منہ پھیرا اسکی طرف سے، اور بھول گیا جو آگے بھیج چکے ہیں اسکے ہاتھ۔

إِنَّا جَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَڪِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِىٓ ءَاذَانِہِمۡ وَقۡرً۬ا‌ۖ

ہم نے رکھی ہے انکے دلوں پر اوٹ کہ اسکو نہ سمجھیں، اور ان کے کانوں میں بوجھ (بہرہ پن) ۔

وَإِن تَدۡعُهُمۡ إِلَى ٱلۡهُدَىٰ فَلَن يَہۡتَدُوٓاْ إِذًا أَبَدً۬ا 

اور جو تُو ان کو بلائے راہ پر، تو ہر گز نہ آئیں راہ پر اس وقت کبھی۔

.57

وَرَبُّكَ ٱلۡغَفُورُ ذُو ٱلرَّحۡمَةِ‌ۖ لَوۡ يُؤَاخِذُهُم بِمَا ڪَسَبُواْ لَعَجَّلَ لَهُمُ ٱلۡعَذَابَ‌ۚ

 اور تیرا رب بڑا بخشنے والا ہے مہر رکھتا (رحم فرمانے والا) ۔اگر ان کو پکڑے ان کے کِئے پر، تو جلد ڈالے ان پر عذاب۔

بَل لَّهُم مَّوۡعِدٌ۬ لَّن يَجِدُواْ مِن دُونِهِۦ مَوۡٮِٕلاً۬ 

پر اُن کا ایک وعدہ (وقت مقرر) ہے، کہیں نہ پائیں گے اس سے ورے سرکنے(بچ نکلنے) کو جگہ (راستہ) ۔

.58

وَتِلۡكَ ٱلۡقُرَىٰٓ أَهۡلَكۡنَـٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُواْ

 اور یہ سب بستیاں جن کو ہم نے کھپا (ہلاک کر) دیا، جب ظالم ہو گئے،

وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِم مَّوۡعِدً۬ا

اور رکھا تھا ان کے کھپنے (ہلاکت) کا ایک وعدہ (وقت مقرر) ۔

.59

وَإِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَٮٰهُ لَآ أَبۡرَحُ حَتَّىٰٓ أَبۡلُغَ مَجۡمَعَ ٱلۡبَحۡرَيۡنِ أَوۡ أَمۡضِىَ حُقُبً۬ا 

 اور جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان (خادم) کو،

میں نہ ہٹوں گا جب تک نہ پہنچیں دو دریا کے ملاپ (سنگم) تک، یا چلتا جاؤں قرنوں (برسوں) ۔

.60

فَلَمَّا بَلَغَا مَجۡمَعَ بَيۡنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُ ۥ فِى ٱلۡبَحۡرِ سَرَبً۬ا 

 پھر جب پہنچے دونوں دریا کے ملاپ (سنگم) تک، بھول گئے اپنی مچھلی،پھر اس نے راہ لی دریا میں سرنگ بنا کر۔

.61

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتَٮٰهُ ءَاتِنَا غَدَآءَنَا لَقَدۡ لَقِينَا مِن سَفَرِنَا هَـٰذَا نَصَبً۬ا

پھر جب آگے چلے، کہا موسیٰ نے اپنے جوان (خادم) کو،

 لا ہمارے پاس ہمارا کھانا،ہم نے پائی ہے اپنے اس سفر میں تکلیف ۔

.62

قَالَ أَرَءَيۡتَ إِذۡ أَوَيۡنَآ إِلَى ٱلصَّخۡرَةِ فَإِنِّى نَسِيتُ ٱلۡحُوتَ

بولا وہ دیکھا تُو نے جب ہم نے جگہ پکڑی(ٹھہرے تھے) اس پتھر پاس، سو میں بھول گیا مچھلی۔

وَمَآ أَنۡسَٮٰنِيهُ إِلَّا ٱلشَّيۡطَـٰنُ أَنۡ أَذۡكُرَهُ ۥ‌ۚ

اور مجھ کو بھلایا شیطان ہی نے، کہ اس کا مذکور کروں۔

وَٱتَّخَذَ سَبِيلَهُ ۥ فِى ٱلۡبَحۡرِ عَجَبً۬ا

اور وہ کر (بنا) گئی اپنی راہ دریا میں عجب طرح۔

.63

قَالَ ذَٲلِكَ مَا كُنَّا نَبۡغِ‌ۚ فَٱرۡتَدَّا عَلَىٰٓ ءَاثَارِهِمَا قَصَصً۬ا

کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے۔پھر اُلٹے (واپس) پھرے اپنے پیر پہچانتے(نقوشِ قدم پر) ۔

.64

فَوَجَدَا عَبۡدً۬ا مِّنۡ عِبَادِنَآ

 پھر پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں کا

ءَاتَيۡنَـٰهُ رَحۡمَةً۬ مِّنۡ عِندِنَاوَعَلَّمۡنَـٰهُ مِن لَّدُنَّا عِلۡمً۬ا

 جس کو دی تھی (نوازا تھا) ہم نے اپنی مہر اپنے پاس (رحمتِ خاص)سے ،اور سکھایا تھا اپنے پاس سے ایک علم۔

.65

قَالَ لَهُ ۥ مُوسَىٰ هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدً۬ا

 کہا اس کو موسیٰ نے،کہے تو تیرے ساتھ رہوں، اس پر کہ مجھ کو سکھا دے کچھ، جو تجھ کو سکھائی ہے بھلی راہ۔

.66

قَالَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِىَ صَبۡرً۬ا

 بولا تُو نہ (کر) سکے گا میرے ساتھ ٹھہرنا (صبر) ۔

.67

وَكَيۡفَ تَصۡبِرُ عَلَىٰ مَا لَمۡ تُحِطۡ بِهِۦ خُبۡرً۬ا

 اور کیوں کر ٹھہرے (کرو صبر) دیکھ کر ایک چیز کو، جو تیرے قابو میں نہیں اسکی سمجھ؟

.68

قَالَ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ صَابِرً۬اوَلَآ أَعۡصِى لَكَ أَمۡرً۬ا

کہا تُو پائے گا اگر اﷲ نے چاہا مجھ کو ٹھہرنے (صبر کرنے) والا، اور نہ ٹالوں گا تیرا کوئی حکم۔

.69

قَالَ فَإِنِ ٱتَّبَعۡتَنِى فَلَا تَسۡـَٔلۡنِى عَن شَىۡءٍ حَتَّىٰٓ أُحۡدِثَ لَكَ مِنۡهُ ذِكۡرً۬ا

 بولا، پھر اگر میرے ساتھ رہتا ہے، تو مت پوچھیو مجھ سے کوئی چیز،

 جب تک میں شروع نہ کروں تیرے آگے اس کا مذکور۔

.70

فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا رَكِبَا فِى ٱلسَّفِينَةِ خَرَقَهَا‌ۖ

 پھر دونوں چلے۔ یہاں تک جب چڑھے ناؤ میں، اسکو پھاڑ (اس میں سوراخ کر) ڈالا۔

قَالَ أَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ أَهۡلَهَالَقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔا إِمۡرً۬ا 

موسیٰ بولا، تُو نے اس کو پھاڑ (اس میں سوراخ کر) ڈالا کہ ڈبو دے اسکے لوگوں کو؟ تُو نے کی ایک چیز (حرکت) انوکھی۔

.71

قَالَ أَلَمۡ أَقُلۡ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِىَ صَبۡرً۬ا

 بولا، میں نے نہ کہا تھا تُو نہ سکے گا میرے ساتھ ٹھہرنا (صبر) ؟

.72

قَالَ لَا تُؤَاخِذۡنِى بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرۡهِقۡنِى مِنۡ أَمۡرِى عُسۡرً۬ا 

 کہا، مجھ کو نہ پکڑ میری بھول پر، اور نہ ڈال مجھ پر میرا کام مشکل۔

.73

فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَا لَقِيَا غُلَـٰمً۬ا فَقَتَلَهُ ۥ

 پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ملے ایک لڑکے سے، اس کو مار ڈالا،

قَالَ أَقَتَلۡتَ نَفۡسً۬ا زَكِيَّةَۢ بِغَيۡرِ نَفۡسٍ۬ لَّقَدۡ جِئۡتَ شَيۡـًٔ۬ا نُّكۡرً۬ا

موسیٰ بولا، تُو نے مار ڈالی ایک جان ستھری (معصوم) بن بدلے کسی جان کے۔تُو نے کی ایک چیز نا معقول۔

.74

قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسۡتَطِيعَ مَعِىَ صَبۡرً۬ا 

بولا، میں نے تجھ کو نہ کہا تھا؟ تُو نہ سکے گا میرے ساتھ ٹھہرنا (صبر) ۔

.75

قَالَ إِن سَأَلۡتُكَ عَن شَىۡءِۭ بَعۡدَهَا فَلَا تُصَـٰحِبۡنِى‌ۖ قَدۡ بَلَغۡتَ مِن لَّدُنِّى عُذۡرً۬ا

 کہا، اگر تجھ سے پوچھوں کوئی چیز اسکے پیچھے (بعد) ، پھر مجھ کو ساتھ نہ رکھیو۔تُو اتار چکا میری طرف سے الزام۔

.76

فَٱنطَلَقَا حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَيَآ أَهۡلَ قَرۡيَةٍ ٱسۡتَطۡعَمَآ أَهۡلَهَا فَأَبَوۡاْ أَن يُضَيِّفُوهُمَا

پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ پہنچے ایک گاؤں کے لوگوں تک،کھانا چاہا وہاں کے لوگوں سے،

وہ نہ مانے کہ ان کو مہمان رکھیں،

فَوَجَدَا فِيہَا جِدَارً۬ا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۥ‌ۖ

پھر پائی اس میں ایک دیوار گرا چاہتی تھی، اس کو سیدھا کیا۔

قَالَ لَوۡ شِئۡتَ لَتَّخَذۡتَ عَلَيۡهِ أَجۡرً۬ا

بولا موسیٰ اگر تُو چاہتا، لیتا اس پر مزدوری۔

.77

قَالَ هَـٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِى وَبَيۡنِكَ‌ۚ

 کہا، اب جُدائی ہے میرے تیرے بیچ۔

سَأُنَبِّئُكَ بِتَأۡوِيلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا 

اب جتاتا (بتاتا) ہوں تجھ کو پھیر (حقیقت) ان باتوں کا، جس پر تُو نہ ٹھہر (صبر کر) سکا۔

.78

أَمَّا ٱلسَّفِينَةُ فَكَانَتۡ لِمَسَـٰكِينَ يَعۡمَلُونَ فِى ٱلۡبَحۡرِ

 وہ جو کشتی تھی، سو تھی کتنے محتاجوں کی، محنت کرتے تھے دریا میں،

فَأَرَدتُّ أَنۡ أَعِيبَہَا وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌ۬ يَأۡخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصۡبً۬ا

سو میں نے چاہا کہ اُس میں نقصان (عیب) ڈالوں،

 اور(کیونکہ) انکے پریتھا (آگے) ایک بادشاہ، (جو) لے لیتا ہو کشتی چھین کر۔

.79

وَأَمَّا ٱلۡغُلَـٰمُ فَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤۡمِنَيۡنِ فَخَشِينَآ أَن يُرۡهِقَهُمَا طُغۡيَـٰنً۬ا وَڪُفۡرً۬ا

 اور جو لڑکا تھا، سو اسکے ماں باپ تھے ایمان پر،

پھر ہم ڈرے کہ اُن کو عاجز (تنگ) کرے، زبردستی (سرکشی) اور کفر کر کر(سے) ۔

.80

فَأَرَدۡنَآ أَن يُبۡدِلَهُمَا رَبُّہُمَاخَيۡرً۬ا مِّنۡهُ زَكَوٰةً۬ وَأَقۡرَبَ رُحۡمً۬ا 

 پھر ہم نے چاہا، کہ بدلا دے اُ ن کو انکا رب، اس سے بہتر ستھرائی میں، اور لگاؤ رکھتا محبت میں۔

.81

وَأَمَّا ٱلۡجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَـٰمَيۡنِ يَتِيمَيۡنِ فِى ٱلۡمَدِينَةِ

 اور وہ جو دیوار تھی، سو دو یتیم لڑکوں کی تھی، رہتے اس شہر میں،

وَكَانَ تَحۡتَهُ ۥ كَنزٌ۬ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَـٰلِحً۬ا

اور اس کے نیچے مال گڑا (دبا) تھا اُن کا، اور انکا باپ تھا نیک۔

فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبۡلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسۡتَخۡرِجَا كَنزَهُمَا رَحۡمَةً۬ مِّن رَّبِّكَ‌ۚ

پھر چاہا تیرے رب نے کہ وہ پہنچیں اپنے زور کو(جوان ہوں) ، اور نکالیں اپنا مال گڑا(دبا ہوا) ،

 مہربانی سے تیرے رب کی۔

وَمَا فَعَلۡتُهُ ۥ عَنۡ أَمۡرِى‌ۚ

اور میں نے یہ نہیں کیا اپنے حکم سے۔

ذَٲلِكَ تَأۡوِيلُ مَا لَمۡ تَسۡطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرً۬ا 

یہ پھیر (حقیقت) ہے ان چیزوں کا، جن پر تُو نہ ٹھہر (صبر کر) سکا۔

.82

وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَن ذِى ٱلۡقَرۡنَيۡنِ‌ۖ

 اور تجھ سے پوچھتے ہیں ذوالقرنین کو۔

قُلۡ سَأَتۡلُواْ عَلَيۡكُم مِّنۡهُ ذِڪۡرًا

کہہ، اب پڑھتا ہوں تمہارے آگے اس کا کچھ مذکور۔

.83

إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ ۥ فِى ٱلۡأَرۡضِ وَءَاتَيۡنَـٰهُ مِن كُلِّ شَىۡءٍ۬ سَبَبً۬ا  

 ہم نے اس کو جمایا تھا ملک میں، اور دیا تھا ہر چیز کا اسباب۔

.84

فَأَتۡبَعَ سَبَبًا

پھر پیچھے پڑا ایک اسباب کے۔

.85

حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَغۡرِبَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَغۡرُبُ فِى عَيۡنٍ حَمِئَةٍ۬ وَوَجَدَ عِندَهَا قَوۡمً۬ا‌ۗ

یہاں تک کہ جب پہنچا سورج ڈوبنے کی جگہ، پایا کہ وہ ڈوبتا ہے ایک دلدل کی ندی میں،

اور پائے اسکے پاس ایک لوگ۔

قُلۡنَا يَـٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِمَّآ أَن تُعَذِّبَ وَإِمَّآ أَن تَتَّخِذَ فِيہِمۡ حُسۡنً۬ا 

ہم نے کہا، اے ذوالقرنین! یا لوگوں کو تکلیف دے، اور یا رکھ ان میں خوبی(کے ساتھ اچھا رویہ) ۔

.86

قَالَ أَمَّا مَن ظَلَمَ فَسَوۡفَ نُعَذِّبُهُ ۥثُمَّ يُرَدُّ إِلَىٰ رَبِّهِۦ فَيُعَذِّبُهُ ۥ عَذَابً۬ا نُّكۡرً۬ا 

بولا، جو کوئی ہو گا بے انصاف سو ہم اسکو مار دیں گے،

پھر الٹا (لوٹ) جائے گا اپنے رب کے پاس، وہ مار دے گا اس کو بُری مار۔

.87

وَأَمَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَـٰلِحً۬ا فَلَهُ ۥ جَزَآءً ٱلۡحُسۡنَىٰ‌ۖ

اور جو کوئی یقین لایا اور کیا بھلا کام، سو اس کو بدلے میں بھلائی ہے،

وَسَنَقُولُ لَهُ ۥ مِنۡ أَمۡرِنَا يُسۡرً۬ا

اور ہم کہیں گے اس کو اپنے کام میں آسانی۔

.88

ثُمَّ أَتۡبَعَ سَبَبًا

 پھر لگا ایک اسباب کے پیچھے۔

.89

حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ مَطۡلِعَ ٱلشَّمۡسِ وَجَدَهَا تَطۡلُعُ عَلَىٰ قَوۡمٍ۬ لَّمۡ نَجۡعَل لَّهُم مِّن دُونِہَا سِتۡرً۬ا

یہاں تک جب پہنچا سورج نکلنے کی جگہ،

پایا کہ وہ نکلتا ہے ایک لوگوں پر، کہ نہیں بنا دی ہم نے ان کو اس سے ورے کچھ اوٹ۔

.90

كَذَٲلِكَ وَقَدۡ أَحَطۡنَا بِمَا لَدَيۡهِ خُبۡرً۬ا

 یوں ہی ہے! اور ہمارے قابو میں آچکی ہے اسکے پاس کی خبر۔

.91

ثُمَّ أَتۡبَعَ سَبَبًا

 پھر لگا ایک اسباب کے پیچھے۔

.92

حَتَّىٰٓ إِذَا بَلَغَ بَيۡنَ ٱلسَّدَّيۡنِ وَجَدَ مِن دُونِهِمَا قَوۡمً۬ا لَّا يَكَادُونَ يَفۡقَهُونَ قَوۡلاً۬

یہاں تک کہ جب پہنچا دو آڑ (پہاڑوں) کے بیچ،

پائے اُن سے ورے (قریب) ایک لوگ، لگتے نہیں کہ سمجھیں ایک بات۔

.93

قَالُواْ يَـٰذَا ٱلۡقَرۡنَيۡنِ إِنَّ يَأۡجُوجَ وَمَأۡجُوجَ مُفۡسِدُونَ فِى ٱلۡأَرۡضِ

بولے اے ذوالقرنین! یہ یاجوج و ماجوج! دھوم اُٹھاتے ہیں ملک میں،

فَهَلۡ نَجۡعَلُ لَكَ خَرۡجًا عَلَىٰٓ أَن تَجۡعَلَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَهُمۡ سَدًّ۬ا

سو کہے تو ہم ٹھہرا دیں تجھ کو کچھ محصول اس پر کہ بنا دے تُو ہم میں ان میں ایک آڑ۔

.94

قَالَ مَا مَكَّنِّى فِيهِ رَبِّى خَيۡرٌ۬ فَأَعِينُونِى بِقُوَّةٍ أَجۡعَلۡ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَہُمۡ رَدۡمًا

بولا جو مقدور دی (عطا کر رکھا ہے) مجھ کو میرے رب نے وہ بہتر ہے،

سو مدد کرو میری محنت میں، بنا دوں تمہارے اور ان کے بیچ ایک دھابا (اوٹ)۔

.95

ءَاتُونِى زُبَرَ ٱلۡحَدِيدِ‌ۖ

 پکڑاؤ مجھ کو تختے لوہے کے۔

حَتَّىٰٓ إِذَا سَاوَىٰ بَيۡنَ ٱلصَّدَفَيۡنِ قَالَ ٱنفُخُواْ‌ۖ

یہاں تک کہ جب برابر کر دیا دو پھانکوں (پاٹوں) تک پہاڑ کے، کہا، دَھونکو۔

حَتَّىٰٓ إِذَا جَعَلَهُ ۥ نَارً۬ا قَالَ ءَاتُونِىٓ أُفۡرِغۡ عَلَيۡهِ قِطۡرً۬ا

یہاں تک جب کر دیا اس کو آگ، کہا، لاؤ میرے پاس کہ ڈالوں اس پر پگھلا تانبا۔

.96

فَمَا ٱسۡطَـٰعُوٓاْ أَن يَظۡهَرُوهُ وَمَا ٱسۡتَطَـٰعُواْ لَهُ ۥ نَقۡبً۬ا

پھر نہ سکے کہ اس پر چڑھ آئیں اور نہ سکے اس میں (نقب) سوراخ کرنا۔

.97

قَالَ هَـٰذَا رَحۡمَةٌ۬ مِّن رَّبِّى‌ۖ فَإِذَا جَآءَ وَعۡدُ رَبِّى جَعَلَهُ ۥ دَكَّآءَ‌ۖ

 بولا یہ ایک مہر (مہربانی) ہے میرے رب کی،

پھر جب آئے وعدہ میرے رب کا، گرا دے اس کو (ریزہ ریزہ) ڈھا کر۔

وَكَانَ وَعۡدُ رَبِّى حَقًّ۬ا

اور ہے وعدہ میرے رب کا سچا۔

.98

وَتَرَكۡنَا بَعۡضَہُمۡ يَوۡمَٮِٕذٍ۬ يَمُوجُ فِى بَعۡضٍ۬‌ۖ

 اور چھوڑ دیں گے ہم خلق کو اس دن ایک دوسرے میں دھنستے،

وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَجَمَعۡنَـٰهُمۡ جَمۡعً۬ا

اور پھونک مارے صُور میں، پھر جمع کر لائیں ہم ان کو سارے۔

.99

وَعَرَضۡنَا جَهَنَّمَ يَوۡمَٮِٕذٍ۬ لِّلۡكَـٰفِرِينَ عَرۡضًا

 اور دکھا دیں ہم دوزخ اُس دن کافروں کو سامنے۔

.100

ٱلَّذِينَ كَانَتۡ أَعۡيُنُہُمۡ فِى غِطَآءٍ عَن ذِكۡرِىوَكَانُواْ لَا يَسۡتَطِيعُونَ سَمۡعًا

جن کی آنکھوں پر پردہ پڑا تھا میری یاد سے،اور نہ سکتے تھے سننا۔

.101

أَفَحَسِبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَن يَتَّخِذُواْ عِبَادِى مِن دُونِىٓ أَوۡلِيَآءَ‌ۚ

 اب کیا سمجھے ہیں منکر؟ کہ ٹھہرا دیں میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی۔

إِنَّآ أَعۡتَدۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَـٰفِرِينَ نُزُلاً۬ 

ہم نے رکھی ہے دوزخ منکروں کی مہمانی۔

.102

قُلۡ هَلۡ نُنَبِّئُكُم بِٱلۡأَخۡسَرِينَ أَعۡمَـٰلاً 

 کہہ ہم بتا دیں تم کو، کن کے کئے (اعمال) بہت اکارت (برباد) ؟

.103

ٱلَّذِينَ ضَلَّ سَعۡيُہُمۡ فِى ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاوَهُمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّہُمۡ يُحۡسِنُونَ صُنۡعًا

جن کی دوڑ بھٹک رہی ہے دنیا کی زندگی میں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ خوب بناتے (کرتے) ہیں کام۔

.104

أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِـَٔايَـٰتِ رَبِّهِمۡ وَلِقَآٮِٕهِۦ فَحَبِطَتۡ أَعۡمَـٰلُهُمۡ

 وہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے رب کی نشانیوں سے اور اسکے ملنے سے، سو مٹ گئے ان کے کئے(اعمال) ،

فَلَا نُقِيمُ لَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِ وَزۡنً۬ا

پھر نہ کھڑی کریں گے ہم اُن کے واسطے قیامت کے دن تول۔

.105

ذَٲلِكَ جَزَآؤُهُمۡ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُواْ وَٱتَّخَذُوٓاْ ءَايَـٰتِى وَرُسُلِى هُزُوًا

 یہ بدلہ ہے ان کا دوزخ، اس پر کہ منکر ہوئے، اور ٹھہرائیں میری باتیں اور میرے رسول ٹھٹھا(مذاق) ۔

.106

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنَّـٰتُ ٱلۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلاً 

 جو لوگ یقین لائے ہیں اور کئے ہیں بھلے کام، اُن کو ہیں ٹھنڈی چھاؤں کے باغ، مہمانی۔

.107

خَـٰلِدِينَ فِيہَا لَا يَبۡغُونَ عَنۡہَا حِوَلاً۬ 

رہا کریں ان میں، نہ چاہیں وہاں سے جگہ بدلنی۔

.108

قُل لَّوۡ كَانَ ٱلۡبَحۡرُ مِدَادً۬ا لِّكَلِمَـٰتِ رَبِّى

 تُو کہہ، اگر دریا سیاہی ہو کہ لکھے میرے رب کی باتیں،

لَنَفِدَ ٱلۡبَحۡرُ قَبۡلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَـٰتُ رَبِّى وَلَوۡ جِئۡنَا بِمِثۡلِهِۦ مَدَدً۬ا

بیشک دریا نبڑ چکے(ختم ہو جائے) ابھی نہ نبڑیں (ختم ہوں) میرے رب کی باتیں،

اور اگر دوسرا بھی لا دیں ہم ویسا اسکی مدد کو۔

.109

قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۟ بَشَرٌ۬ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَىَّ أَنَّمَآ إِلَـٰهُكُمۡ إِلَـٰهٌ۬ وَٲحِدٌ۬‌ۖ

 تُو کہہ میں بھی ایک آدمی ہوں جیسے تم، حکم آتا ہے مجھ کو کہ تمہارا صاحب ایک صاحب ہے۔

فَمَن كَانَ يَرۡجُواْ لِقَآءَ رَبِّهِۦ فَلۡيَعۡمَلۡ عَمَلاً۬ صَـٰلِحً۬اوَلَا يُشۡرِكۡ بِعِبَادَةِ رَبِّهِۦۤ أَحَدَۢا 

پھر جس کو امید ہو ملنے کی اپنے رب سے، سو کرے کچھ کام نیک،اور ساجھا نہ رکھے اپنے رب کی بندگی میں کسی کا۔

*********

.110

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com