Sahih Bukhari

Imam Muhammad Bin Ismail Bukhari

صحیح بخاری

امام محمد بن اسماعیل بخاری

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

كتاب العلم

The Book of Knowledge

76 Ahadith

Paperback Edition

Electronic Version

حدیث

سیریل

علم کی فضیلت کے بیان میں

جو تم میں ایماندار ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے اللہ ان کے درجات بلند کرے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ طہٰ  میں فرمایا کہ یوں دعا کیا کرو:

وَقُل رَّبِّ زِدۡنِى عِلۡمً۬ا (۲۰:۱۱۴)

اور کہہ، پروردگار مجھ کو علم میں ترقی عطا فرما۔

اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اپنی کسی دوسری بات میں مشغول ہو

پس ( ادب کا تقاضا ہے کہ ) وہ پہلے اپنی بات پوری کر لے پھر پوچھنے والے کو جواب دے

حدیث نمبر 59

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں بیٹھے ہوئے ان سے باتیں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ قیامت کب آئے گی؟

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مصروف رہے۔

 بعض لوگ جو مجلس میں تھےکہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہاتی کی بات سنی لیکن پسند نہیں کی اور بعض کہنے لگے کہ نہیں بلکہ آپ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی باتیں پوری کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ قیامت کے بارے میں پوچھنے والا کہاں گیا؟

 اس دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ! میں موجود ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب امانت ایمانداری دنیا سے اٹھ جائے تو قیامت قائم ہونے کا انتظار کر۔

اس نے کہا ایمانداری اٹھنے کا کیا مطلب ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حکومت کے کاروبار نالائق لوگوں کو سونپ دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کر۔

 

 

اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا

حدیث نمبر 60

راوی:عبداللہ بن عمرو ؓ

ایک سفر میں جو ہم نے کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اس وقت ملے جب عصر کی نماز کا وقت آن پہنچا تھا ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے۔ پس پاؤں کو خوب دھونے کے بدل ہم یوں ہی سا دھو رہے تھے۔ یہ حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے پکارا دیکھو ایڑیوں کی خرابی دوزخ سے ہونے والی ہے دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ہی بلند آواز سےفرمایا۔

 

 

 

 

استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے

حدیث نمبر 62

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ

ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟

یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔

عبداللہ نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (وہاں بہت سے بزرگ موجود تھے اس لیے) مجھ کو شرم آئی۔

آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی بیان فرما دیجیئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔

 

 

 

 

حدیث نمبر 64

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا ایک خط دے کر بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ اسے حاکم بحرین کے پاس لے جائے۔ بحرین کے حاکم نے وہ خط کسریٰ شاہ ایران کے پاس بھیج دیا۔ جس وقت اس نے وہ خط پڑھا تو چاک کر ڈالا

ذیلی راوی کہتے ہیں) ابن مسیب نے (اس کے بعد) مجھ سے کہا کہ (اس واقعہ کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایران کے لیے بددعا کی کہ وہ بھی چاک شدہ خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔

 

 

 

 

وہ شخص جو مجلس کے آخر میں بیٹھ جائے اور وہ شخص جو درمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے

) بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو (

حدیث نمبر 66

راوی: ابوواقد اللیثی

 ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمی وہاں آئے ان میں سے دو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ گئے اور ایک واپس چلا گیا۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد ان میں سے ایک نے (جب مجلس میں ایک جگہ کچھ گنجائش دیکھی، تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا اہل مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا جو تھا وہ لوٹ گیا۔

تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو سے فارغ ہوئے تو صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟

 تو سنو

-       ان میں سے ایک نے اللہ سے پناہ چاہی اللہ نے اسے پناہ دی

-       اور دوسرے کو شرم آئی تو اللہ بھی اس سے شرمایا کہ اسے بھی بخش دیا

-       اور تیسرے شخص نے منہ موڑا، تو اللہ نے بھی اس سے منہ موڑ لیا۔

 

 

 

 

اس بیان میں کہ علم ( کا درجہ ) قول و عمل سے پہلے ہے

اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَٱعۡلَمۡ أَنَّهُ ۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ (۴۷:۱۹)

آپ جان لیجیئے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے

 تو گویا اللہ تعالیٰ نے علم سے ابتداء فرمائی اور حدیث میں ہے:

علماء انبیاء کے وارث ہیں۔

اور پیغمبروں نے علم ہی کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پھر جس نے علم حاصل کیا اس نے دولت کی بہت بڑی مقدار حاصل کر لی۔ اور جو شخص کسی راستے پر حصول علم کے لیے چلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کی راہ آسان کر دیتا ہے۔

 اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

إِنَّمَا يَخۡشَى ٱللَّهَ مِنۡ عِبَادِهِ ٱلۡعُلَمَـٰٓؤُاْۗ (۳۵:۲۸)

اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

اور دوسری جگہ فرمایا :

وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَـٰلِمُونَ  (۲۹:۴۳)

اور اس کو عالموں کے سوا کوئی نہیں سمجھتا۔

اور فرمایا:

وَقَالُواْ لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ أَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ أَصۡحَـٰبِ ٱلسَّعِيرِ (۶۷:۱۰)

اور ان لوگوں (کافروں)نے کہا اگر ہم سنتے یا عقل رکھتے تو جہنمی نہ ہوتے۔

 اور فرمایا:

هَلۡ يَسۡتَوِى ٱلَّذِينَ يَعۡلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعۡلَمُونَ‌ۗ (۳۹:۹)

کیا علم والے اور جاہل برابر ہیں؟

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جس شخص کے ساتھ اللہ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔

 اور علم تو سیکھنے ہی سے آتا ہے۔

 اور ابوذر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر تم اس پر تلوار رکھ دو، اور اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا، اور مجھے گمان ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ایک کلمہ سنا ہے، گردن کٹنے سے پہلے بیان کر سکوں گا تو یقیناً میں اسے بیان کر ہی دوں گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حاضر کو چاہیے کہ (میری بات)غائب کو پہنچا دے۔

 اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ آیت  كُونُواْ رَبَّـٰنِيِّـۧنَ ‏(۳:۷۹) سے مراد حکماء، فقہاء، علماء ہیں۔

اور رباني اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بڑے مسائل سے پہلے چھوٹے مسائل سمجھا کر لوگوں کی علمی تربیت کرے۔

 حدیث نمبر 68

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرمانے کے لیے کچھ دن مقرر کر دیئے تھے اس ڈر سے کہ کہیں ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں۔

 

 

 

 

اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے ( تو یہ جائز ہے )

یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے

 حدیث نمبر 70

راوی: ابووائل ؓ

عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ ہر جمعرات کے دن لوگوں کو وعظ سنایا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمٰن! میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیں ہر روز وعظ سنایا کرو۔

انہوں نے فرمایا، تو سن لو کہ مجھے اس امر سے کوئی چیز مانع ہے تو یہ کہ میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کہیں تم تنگ نہ ہو جاؤ اور میں وعظ میں تمہاری فرصت کا وقت تلاش کیا کرتا ہوں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خیال سے کہ ہم کبیدہ خاطر نہ ہو جائیں، وعظ کے لیے ہمارے اوقات فرصت کا خیال رکھتے تھے۔

 

 

 اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے

حدیث نمبر 71

راوی: معاویہؓ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :

 جس شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے اور میں تو محض تقسیم کرنے والا ہوں، دینے والا تو اللہ ہی ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی اور جو شخص ان کی مخالفت کرے گا، انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا، یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ جائے ۔

 

 

 علم میں سمجھداری سے کام لینے کے بیان میں

حدیث نمبر 72

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ

 ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور کا ایک گابھا لایا گیا۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت ایسا ہے اس کی مثال مسلمان کی طرح ہے۔

ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ یہ سن کرمیں نے ارادہ کیا کہ عرض کروں کہ وہ (درخت) کھجور کا ہے مگر چونکہ میں سب میں چھوٹا تھا اس لیے خاموش رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور ہے۔

 

 

 

 

موسیٰ علیہ السلام کے خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں

اور اللہ تعالیٰ کا ارشادجو موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے:

هَلۡ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰٓ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمۡتَ رُشۡدً۬ا (۱۸:۶۶)

کہے تو تیرے ساتھ رہوں، اس پر کہ مجھ کو سکھا دے کچھ، جو تجھ کو سکھائی ہے بھلی راہ۔

 حدیث نمبر 74

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہ

 وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحثے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ خضر علیہ السلام تھے۔ پھر ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میں اور میرے یہ رفیق موسیٰ علیہ السلام کے اس ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے انہوں نے ملاقات چاہی تھی۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ ذکر سنا ہے۔

 انہوں نے کہا، ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔

 ایک دن موسیٰ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ (دنیا میں)کوئی آپ سے بھی بڑھ کر عالم موجود ہے؟

موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں۔

 اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ اسلام کے پاس وحی بھیجی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر ہے (جس کا علم تم سے زیادہ ہے)

موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دریافت کیا کہ خضر علیہ السلام سے ملنے کی کیا صورت ہے؟

 اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان سے ملاقات کی علامت قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم اس مچھلی کو گم کر دو تو (واپس) لوٹ جاؤ، تب خضر سے تمہاری ملاقات ہو گی۔

 تب موسیٰ چلے اور دریا میں مچھلی کی علامت تلاش کرتے رہے۔ اس وقت ان کے ساتھی نے کہا جب ہم پتھر کے پاس تھے، کیا آپ نے دیکھا تھا، میں اس وقت مچھلی کا کہنا بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر بھلا دیا۔

موسیٰ علیہ السلام نے کہا، اسی مقام کی ہمیں تلاش تھی۔ تب وہ اپنے نشانات قدم پر باتیں کرتے ہوئے لوٹے وہاں انہوں نے خضر علیہ السلام کو پایا۔ پھر ان کا وہی قصہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں بیان کیا ہے۔

 

 

 

 

اس بارے میں کہ بچے کا ( حدیث ) سننا کس عمر میں صحیح ہے ؟

حدیث نمبر 76

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

 میں ایک مرتبہ گدھی پر سوار ہو کر چلا، اس زمانے میں، میں بلوغ کے قریب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے سامنے دیوار کی آڑ نہ تھی، تو میں بعض صفوں کے سامنے سے گزرا اور گدھی کو چھوڑ دیا۔ وہ چرنے لگی، جب کہ میں صف میں شامل ہو گیا (مگر) کسی نے مجھے اس بات پر ٹوکا نہیں۔

 

 

 

 

علم کی تلاش میں نکلنے کے بارے میں

جابر بن عبداللہ کا ایک حدیث کی خاطر عبداللہ بن انیس کے پاس جانے کے لیے ایک ماہ کی مسافت طے کرنا۔

حدیث نمبر 78

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

ابن عباس اور حر بن قیس بن حصن فزاری موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں جھگڑے۔ اس دوران میں ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا لیا اور کہا کہ میں اور میرے یہ ساتھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے ملنے کی موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی تھی۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ان کا ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے؟

 ابی نے کہا کہ ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال بیان فرماتے ہوئے سنا ہے۔

آپ فرما رہے تھے کہ ایک بار موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی عالم موجود ہے۔

موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں۔

 تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر (علم میں تم سے بڑھ کر) ہے۔

تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کی راہ دریافت کی،

 اس وقت اللہ تعالیٰ نے (ان سے ملاقات کے لیے)مچھلی کو نشانی قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو لوٹ جانا، تب تم خضر علیہ السلام سے ملاقات کر لو گے۔

موسیٰ علیہ السلام دریا میں مچھلی کے نشان کا انتظار کرتے رہے۔ تب ان کے خادم نے ان سے کہا۔ کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم پتھر کے پاس تھے، تو میں وہاں مچھلی بھول گیا۔ اور مجھے شیطان ہی نے غافل کر دیا۔

 موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہم اسی مقام کے تو متلاشی تھے، تب وہ اپنے قدموں کےنشانوں پر باتیں کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ وہاں خضر علیہ السلام کو انہوں نے پایا۔ پھر ان کا قصہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔

 

 

 

 

علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں

اور ربیعہ کا قول ہے کہ جس کے پاس کچھ علم ہو، اسے یہ جائز نہیں کہ دوسرے کام میں لگ کر علم کو چھوڑ دے اور اپنے آپ کو ضائع کر دے۔  

حدیث نمبر80

راوی: انس ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ (دینی)علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اور (علانیہ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔

 

 

 

 

علم کی فضیلت کے بیان میں

حدیث نمبر 82

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

میں سو رہا تھا (اسی حالت میں) مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا۔ میں نے (خوب اچھی طرح) پی لیا۔ حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا (دودھ) عمر بن الخطاب کو دے دیا۔

 صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علم۔

 

 

 

 

اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے

حدیث نمبر 84

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے آخری حج میں کسی نے پوچھا کہ میں نے رمی کرنےسے پہلے ذبح کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا کچھ حرج نہیں۔ کسی نے کہا کہ میں نے ذبح سے پہلے حلق کرا ( سر منڈوا) لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے اشارہ فرما دیا کہ کچھ حرج نہیں۔

 

 

 

 

حدیث نمبر 86

راوی: اسماء ؓ

 میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے؟ تو انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی سورج کو گہن لگا ہے)

 اتنے میں لوگ (نماز کے لیے)کھڑے ہو گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، اللہ پاک ہے۔

 میں نے کہا کیا یہ گہن کوئی خاص نشانی ہے؟

 انہوں نے سر سے اشارہ کیا یعنی ہاں!

پھر میں بھی نماز کے لیےکھڑی ہو گئی۔ حتیٰ کہ مجھے غش آنے لگا، تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔

پھر نماز کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفت بیان فرمائی، پھر فرمایا، جو چیز مجھے پہلے دکھلائی نہیں گئی تھی آج وہ سب اس جگہ میں نے دیکھ لی، یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھ لیا اور مجھ پر یہ وحی کی گئی کہ تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے،

مثل یا قرب کا کون سا لفظ اسماء نے فرمایا، میں نہیں جانتی، ذیلی راوی فاطمہ کہتی ہیں

یعنی فتنہ دجال کی طرح آزمائے جاؤ گے) کہا جائے گا (قبر کے اندر کہ تم اس آدمی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟

 تو جو صاحب ایمان یا صاحب یقین ہو گا، (کون سا لفظ فرمایا اسماء رضی اللہ عنہا نے، مجھے یاد نہیں)  وہ کہے گا وہ محمد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جو ہمارے پاس اللہ کی ہدایت اور دلیلیں لے کر آئے تو ہم نے ان کو قبول کر لیا اور ان کی پیروی کی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

 تین بار اسی طرح کہے گاپھر اس سےکہہ دیا جائے گا کہ آرام سے سو جا بیشک ہم نے جان لیا کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتا تھا۔

 اور بہرحال منافق یا شکی آدمی،(ذیلی راوی کا کہنا ہے کہ  میں نہیں جانتی کہ ان میں سے کون سا لفظ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا) تو وہ منافق یا شکی آدمی کہے گا کہ جو لوگوں کو میں نے کہتے سنا میں نےبھی وہی کہہ دیا۔

 

 

 

 

جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے لیے سفر کرنا ( کیسا ہے ؟(

حدیث نمبر 88

راوی: عبداللہ بن ابی ملیکہؓ

عقبہ ابن الحارث کے واسطے سے نقل کیا کہ عقبہ نے ابواہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا تو ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے اس کا نکاح ہوا ہے، اس کو دودھ پلایا ہے۔ یہ سن کرعقبہ نے کہا، مجھے نہیں معلوم کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے کبھی مجھے بتایا ہے۔

 تب عقبہ سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس طرح تم اس لڑکی سے رشتہ رکھو گے) حالانکہ (اس کے متعلق یہ کہا گیا ہے ۔تب عقبہ بن حارث نے اس لڑکی کو چھوڑ دیا اور اس نے دوسرا خاوند کر لیا۔

 

 

 

 

استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے

حدیث نمبر 90

راوی: ابومسعود انصاری ؓ

ایک شخص (حزم بن ابی کعب) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کرعرض کیا۔ یا رسول اللہ! فلاں شخص (معاذ بن جبل)لمبی نماز پڑھاتے ہیں اس لیے میں (جماعت کی) نماز میں شریک نہیں ہو سکتا کیونکہ میں دن بھر اونٹ چرانے کی وجہ سے رات کو تھک کر چکنا چور ہو جاتا ہوں اور طویل قرآت سننے کی طاقت نہیں رکھتا

 ابومسعود راوی کہتے ہیں کہ اس دن سے زیادہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ کے دوران اتنا غضب ناک نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اے لوگو! تم ایسی شدت اختیار کر کے لوگوں کو دین سےنفرت دلانے لگے ہو۔ سن لوجو شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ ہلکی پڑھائے، کیونکہ ان میں بیمار، کمزور اور حاجت والے سب ہی قسم کے لوگہوتے ہیں۔

 

 

 

 

استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے

حدیث نمبر 92

راوی: ابوموسیٰ ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ ایسی باتیں دریافت کی گئیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اور جب اس قسم کے سوالات کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت زیادتی کی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا اچھا اب مجھ سے جو چاہو پوچھو۔ تو ایک شخص نے دریافت کیا کہ میرا باپ کون ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تیرا باپ حذافہ ہے۔

 پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا باپ سالم شبیہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔

آخر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چہرہ مبارک کا حال دیکھا تو عرض کیا یا رسول اللہ! ہم ان باتوں کے دریافت کرنے سے اللہ سے توبہ کرتے ہیں۔

 

 

 

 

اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے ( ایک ) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے  ألا وقول الزور  اس کو تین بار دہراتے رہے

اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تم کو پہنچا دیا یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا۔

حدیث نمبر 94

راوی: انس رضی اللہ عنہ

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے اور جب کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار دہراتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا۔

 

 

 

 

 حدیث نمبر 96

راوی:عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما

ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے۔ تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا یا تنگ ہو گیا تھا اور ہم وضو کر رہے تھے۔ ہم اپنے پیروں پر پانی کا ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا :

 آگ کے عذاب سے ان ایڑیوں کی (جو خشک رہ جائیں) خرابی ہے۔

یہ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔

 

 

 

 

اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا   

حدیث نمبر 98

راوی:ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ عید کے موقع پر مردوں کی صفوں میں سےنکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کو خطبہ اچھی طرح نہیں سنائی دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں علیحدہ نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا

یہ وعظ سن کرکوئی عورت بالی اور کوئی عورت انگوٹھی ڈالنے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں (یہ چیزیں) لینے لگے۔

 

 

 

 

اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا ؟

خلیفہ خامس عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی بھی حدیثیں ہوں، ان پر نظر کرو اور انہیں لکھ لو، کیونکہ مجھے علم دین کے مٹنے اور علماء دین کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی حدیث قبول نہ کرو اور لوگوں کو چاہیے کہ علم پھیلائیں اور ایک جگہ جم کربیٹھیں تاکہ جاہل بھی جان لے اور علم چھپانے ہی سے ضائع ہوتا ہے۔

حدیث نمبر 100

راوی: عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ پختہ کارعلماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

 

 

اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے ؟

حدیث نمبر 101

راوی:ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے وعظ کےلیے بھی کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔

اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اوراحکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی:

 جو کوئی عورت تم میں سے اپنےتین لڑکےآگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔

 اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو بچے بھیج دے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور دو کا بھی یہ حکم ہے۔

 

 

 حدیث نمبر102

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔

 اور دوسری سند میں عبدالرحمٰن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوحازم سے سنا، وہ ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ایسے تین بچےجو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔

 

اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے

حدیث نمبر 103

راوی:ابن ابی ملیکہ ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔

 عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف اللہ کے دربار  میں پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی (سمجھو) وہ غارت ہو گیا۔

 

 

اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں

 حدیث نمبر 104

راوی: سعید بن ابی سعیدؓ

ابوشریح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن سعید والی مدینہسے جب وہ مکہ میں ابن زبیر سے لڑنے کے لیےفوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس حدیثکو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلےاللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:

 مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو سن لوکہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول کے لڑنےکی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو یہ بات پہنچا دے۔

یہ حدیث سننے کے بعد راوی حدیث ابوشریح سے پوچھا گیا کہ آپ کی یہ بات سن کرعمرو نے کیا جواب دیا؟

 کہا یوں کہ اے ابوشریح! حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ مگر حرم (مکہ)کسی خطاکار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔

 

 

 

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے

حدیث نمبر 106

راوی: حضرت علی رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر جھوٹ مت بولو۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو۔

 

 

 

 

 

حدیث نمبر 108

راوی: انس رضی اللہ عنہ

مجھے بہت سی حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

 

 

 حدیث نمبر109

راوی: سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

 

 

حدیث نمبر 110

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

-       اپنی اولادکا میرے نام کے اوپر نام رکھو۔ مگر میری کنیت اختیار نہ کرو

-       اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلاشبہ اس نے مجھے دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا

-       اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے۔

 

 

) دینی (علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں

حدیث نمبر 111

راوی: شعبی رحمہ اللہ

ابوحجیفہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی اور بھی کتاب ہے؟

انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔

 میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟

 انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔

 

 

 حدیث نمبر 112

راوی؛ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

قبیلہ خزاعہ کے کسی شخصنے بنو لیث کے کسی آدمی کو اپنے کسی مقتول کے بدلے میں مار دیا تھا، یہ فتح مکہ والے سال کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی، آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا اور فرمایا :

اللہ نے مکہ سے قتل یا ہاتھی کو روک لیا۔

 امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لفظ کو شک کے ساتھ سمجھو، ایسا ہی ابونعیم وغیرہ نے القتلاور الفيلکہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ الفيلکہتے ہیں۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ نے ان پر اپنے رسول اور مسلمان کو غالب کر دیا اور سمجھ لو کہ وہ( مکہ) کسی کے لیے حلال نہیں ہوا۔ نہ مجھ سے پہلے اور نہ آئندہ کبھی ہو گا اور میرے لیے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا۔ سن لو کہ وہ اس وقت حرام ہے۔ نہ اس کا کوئی کانٹا توڑا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیزیں بھی وہی اٹھائے جس کا منشاء یہ ہو کہ وہ اس چیز کا تعارف کرا دے گا۔

تو اگر کوئی شخص مارا جائے تو اس کے عزیزوں کواختیار ہے دو باتوں کا، یا دیت لیں یا بدلہ۔

اتنے میں ایک یمنی آدمی (ابوشاہ نامی) آیا اور کہنے لگا یہ مسائل میرے لیے لکھوا دیجیئے۔

تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوفلاں کے لیے یہ مسائل لکھ دو۔

 تو ایک قریشی شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر (یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجیئے)کیونکہ اسے ہم گھروں کی چھتوں پر ڈالتے ہیں۔ یا مٹی ملا کر اپنی قبروں میں بھی ڈالتے ہیں

یہ سن کررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاںمگر اذخر، مگر اذخر۔

 

 

حدیث نمبر 113

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا۔ مگر وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔

 

 

 حدیث نمبر 114

راوی: عبیداللہ بن عبداللہ

ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سامان کتابت لاؤ تاکہ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ بعد میں تم گمراہ نہ ہو سکو،

 اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے (لوگوں سے) کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن موجود ہے جو ہمیں (ہدایت کے لیے) کافی ہے۔

اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی اور شور و غل زیادہ ہونے لگا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو، میرے پاس جھگڑنا ٹھیک نہیں،

اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ بیشک مصیبت بڑی سخت مصیبت ہے (وہ چیز جو) ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔

 

 

اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے

 حدیث نمبر 115

راوی:  ام سلمہ رضی اللہ عنہا

ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا :

 سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں جودنیا میں( باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔

 

 

اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے

حدیث نمبر 116

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

آخر عمر میں ایک دفعہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا :

تمہاری آج کی رات وہ ہے کہ اس رات سے سو برس کے آخر تک کوئی شخص جو زمین پر ہے وہ باقی نہیں رہے گا۔

 

 

 حدیث نمبر 117

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن) ان کی رات میں ان ہی کے گھر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی۔ پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعت نماز نفل پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے،

پھر اٹھے اور فرمایا کہ ابھی تک یہ لڑکا سو رہا ہے یا اسی جیسا لفظ فرمایا۔

پھر آپ (نماز پڑھنے)کھڑے ہو گئے اور میں بھی وضو کر کےآپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں جانب (کھڑا)کر لیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت پڑھیں۔ پھر دو پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز کے لیے باہرتشریف لے آئے۔

 

 

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے

لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں اورمیں کہتا ہوںکہ قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر یہ آیت پڑھی:

إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡتُمُونَ مَآ أَنزَلۡنَا مِنَ ٱلۡبَيِّنَـٰتِ وَٱلۡهُدَىٰ مِنۢ بَعۡدِ مَا بَيَّنَّـٰهُ لِلنَّاسِ فِى ٱلۡكِتَـٰبِ‌ۙ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ يَلۡعَنُہُمُ ٱللَّهُ وَيَلۡعَنُہُمُ ٱللَّـٰعِنُونَ   

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُواْ وَأَصۡلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ أَتُوبُ عَلَيۡہِمۡ‌ۚ وَأَنَا ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ  (۲:۱۵۹،۱۶۰)

جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتارا صاف حکم اور راہ کے نشان، بعد اسکے کہ ہم انکو کھول چکے لوگوں کے واسطے کتاب میں،

ان کو لعنت دیتا ہے اﷲ، اور لعنت دیتے ہیں سب لعنت دینے والے۔ 

مگر جنہوں نے توبہ کی اور سنوارا اور بیان کر دیا تو ان کو معاف کرتا ہوں ، اور میں ہوں معاف کرنے والا مہربان۔

واقعہ یہ ہے کہ ہمارے مہاجرین بھائی تو بازار کی خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے اور انصار بھائی اپنی جائیدادوں میں مشغول رہتے اور ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جی بھر کر رہتا تاکہ آپ کی رفاقت میں شکم پری سے بھی بےفکری رہے اور (ان مجلسوں میں)حاضر رہتا جن (مجلسوں) میں دوسرے حاضر نہ ہوتے اور وہ (باتیں) محفوظ رکھتا جو دوسرے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔

 

 

علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں

حدیث نمبر 119

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

 میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت باتیں سنتا ہوں، مگر بھول جاتا ہوں۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے اپنی چادر پھیلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کی چلو بنائی اور  میری چادر میں ڈال دی  فرمایا کہ  چادر کو  لپیٹ لو۔

 میں نے چادر کو اپنے بدن پرلپیٹ لیا، پھر اس کے بعدمیں کوئی چیز نہیں بھولا۔

 

 

حدیث نمبر 120

راوی:  ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم کےدو برتن(kinds of knowledge) یاد کر لیے ہیں، ایک کو میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا برتن اگر میں پھیلاؤں تو میرا یہ نرخرا کاٹ دیا جائے۔

 

 

اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے

حدیث نمبر 121

راوی: جریر رضی اللہ عنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حجۃ الوداع میں فرمایا کہ لوگوں کو بالکل خاموش کر دو تاکہ وہ خوب سن لیں ۔

پھر فرمایا، لوگو! میرے بعد پھر کافر مت بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔

 

 

اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے

یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون سب سے بڑا عالم ہے

 حدیث نمبر 122

راوی: سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کا یہ خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جو خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے وہ موسیٰ بنی اسرائیل والے نہیں تھے بلکہ دوسرے موسیٰ تھے، یہ سن کرابن عباس رضی اللہ عنہما بولے کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔

ہم سے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ ایک روزموسیٰ علیہ السلام نے کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب علم کون ہے؟

 انہوں نے فرمایا کہ میں ہوں۔

 اس وجہ سے اللہ کا غصہ ان پر ہوا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کر دیا۔ تب اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ دریاؤں کے سنگم پر ہے۔ وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے،

موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے پروردگار! میری ان سے ملاقات کیسے ہو؟

حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لو، پھر جہاں تم اس مچھلی کو گم کر دو گے تو وہ بندہ تمہیں وہیں ملے گا۔

 تب موسیٰ علیہ السلام چلے اور ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لے لیا اور انہوں نے زنبیل میں مچھلی رکھ لی، جب ایک پتھر کے پاس پہنچے، دونوں اپنے سر اس پر رکھ کر سو گئے اور مچھلی زنبیل سے نکل کر دریا میں اپنی راہ بناتی چلی گئی اور یہ بات موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کے لیے بےحد تعجب کی تھی، پھر دونوں باقی رات اور دن میں جتنا وقت باقی تھاچلتے رہے، جب صبح ہوئی موسیٰ علیہ السلام نے خادم سے کہا، ہمارا ناشتہ لاؤ، اس سفر میں ہم نے کافی تکلیف اٹھائی ہے

 اور موسیٰ علیہ السلام بالکل نہیں تھکے تھے، مگر جب اس جگہ سے آگے نکل گئے، جہاں تک انہیں جانے کا حکم ملا تھا، تب ان کے خادم نے کہا، کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم صخرہ کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا ذکر بھول گیا، یہ سن کرموسیٰ علیہ السلام بولے کہ یہ ہی وہ جگہ ہے جس کی ہمیں تلاش تھی، تو وہ پچھلے پاؤں واپس ہو گئے،

 جب پتھر تک پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے موجود ہےموسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا، خضر علیہ السلام نے کہا کہ تمہاری سر زمین میں سلام کہاں؟

 پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں موسیٰ علیہ السلام ہوں،

 خضر بولے کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟

 انہوں نے جواب دیا کہ ہاں!

پھر کہا کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں، تاکہ آپ مجھے ہدایت کی وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے خاص آپ ہی کو سکھلائی ہیں۔

 خضر علیہ السلام بولے کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ اسے موسیٰ! مجھے اللہ نے ایسا علم دیا ہے جسے تم نہیں جانتے اور تم کو جو علم دیا ہے اسے میں نہیں جانتا۔

اس پرموسیٰ نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

پھر دونوں دریا کے کنارے کنارے پیدل چلے، ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی کہ ایک کشتی ان کے سامنے سے گزری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو۔ خضر علیہ السلام کو انہوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کر لیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی، پھر سمندر میں اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں اسے دیکھ کرخضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہو گا جتنا اس چڑیا نے سمندر کے پانی سے

 پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال ڈالا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں کرایہ لیے بغیر مفت میں سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی لکڑی اکھاڑ ڈالی تاکہ یہ ڈوب جائیں،

خضر علیہ السلام بولے کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟

اس پرموسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھول پر میری گرفت نہ کرو۔

 موسیٰ علیہ السلام نے بھول کر یہ پہلا اعتراض کیا تھا۔پھر دونوں چلے کشتی سے اتر کر

ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام نے اوپر سے اس کا سر پکڑ کر ہاتھ سے اسے الگ کر دیا۔

موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو بغیر کسی جانی حق کے مار ڈالا غضب ہو گیا

خضر علیہ السلام بولے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے

پھر دونوں چلتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے، ان سے کھانا لینا چاہا۔ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے وہیں دیکھا کہ ایک دیوار اسی گاؤں میں گرنے کے قریب تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے سیدھا کر دیا۔

موسیٰ بول اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو گاؤں والوں سےاس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔

 خضر نے کہا کہ بس ابہم اور تم میں جدائی کا وقت آ گیا ہے۔

جناب محبوب کبریا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ موسیٰ پر رحم کرے، ہماری تمنا تھی کہ موسیٰ کچھ دیر اور صبر کرتے تو مزید واقعات ان دونوں کے بیان کئے جاتے اور ہمارے سامنے روشنی میں آتے، مگر موسیٰ علیہ السلام کی عجلت نے اس علم لدنی کے سلسلہ کو جلد ہی منقطع کرا دیا۔

 

 

کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو

حدیث نمبر 123

راوی: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں لڑائی کی کیا صورت ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی غصہ کی وجہ سے اور کوئی غیرت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سر اٹھایا، اور سر اسی لیے اٹھایا کہ پوچھنے والا کھڑا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جو اللہ کے کلمے کو سربلند کرنے کے لیے لڑے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتاہے۔

 

 

رمی جمار ( یعنی حج میں پتھر پھینکنے ) کے وقت بھی مسئلہ پوچھنا جائز ہے

حدیث نمبر 124

راوی: عبداللہ بن عمرو ؓ

 میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمی جمار کے وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا جا رہا تھا تو ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نے رمی سے قبل قربانی کر لی؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب رمی کر لو کچھ حرج نہیں ہوا۔

دوسرے نے کہا، یا رسول اللہ! میں نے قربانی سے پہلے سر منڈا لیا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قربانی کر لو کچھ حرج نہیں۔

اس وقت جس چیز کے بارے میں جو آگے پیچھے ہو گئی تھی، آپ سے پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہی جواب دیا ابکر لو کچھ حرج نہیں۔

 

 

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے

حدیث نمبر 125

راوی: عبداللہ بن مسعود ؓ

ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے کھنڈرات میں چل رہا تھا اور آپ کھجور کی چھڑی پر سہارا دے کر چل رہے تھے، تو کچھ یہودیوں کا ادھر سےگزر ہوا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ آپ سے روح کے بارے میں کچھ پوچھو، ان میں سے کسی نے کہا مت پوچھو، ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی ایسی بات کہہ دیں جو تمہیں ناگوار ہو مگران میں سے بعض نے کہا کہ ہم ضرور پوچھیں گے،

پھر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا، اے ابوالقاسم! روح کیا چیز ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی،

میں نے دل میں کہا کہ آپ پر وحی آ رہی ہے۔ اس لیے میں کھڑا ہو گیا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیتدور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قرآن کی یہ آیت جو اس وقت نازل ہوئی تھی تلاوت فرمائی :

وَيَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِ‌ۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنۡ أَمۡرِ رَبِّى وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلاً۬  (۱۷:۸۵)

اے نبی! تم سے یہ لوگ روح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تمہیں علم کا بہت تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔

اس لیے تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔

 

 

اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے

اس سے زیادہ سخت ( یعنی ناجائز ) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں

حدیث نمبر 126

راوی: اسودؓ

مجھ سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا تم سے بہت باتیں چھپا کر کہتی تھیں، تو کیا تم سے کعبہ کے بارے میں بھی کچھ بیان کیا،

میں نے کہا ہاںمجھ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا تھا :

 اے عائشہ! اگر تیری قوم دور جاہلیت کے ساتھ نہ ہوتی بلکہ پرانی ہو گئی ہوتی) ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا یعنی زمانہ کفر کے ساتھ (قریب نہ ہوتی تو میں کعبہ کو توڑ دیتا اور اس کے لیے دو دروازے بنا دیتا۔ ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکلتے،

بعد میں ابن زبیر نے یہ کام کیا۔

 

 

اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی ( یہ عین مناسب ہے )

علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے :

لوگوں سے وہ باتیں کرو جنھیں وہ پہچانتے ہوں۔ کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیں؟

حدیث نمبر 127

راوی:  ابوالطفیل

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے  کہ لوگوں سے وہ باتیں کرو جنھیں وہ پہچانتے ہوں۔ کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا دیں؟

 

 

 حدیث نمبر 128

راوی:انس بن مالک ؓ

ایک مرتبہ معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے معاذ!

میں نے عرض کیا، حاضر ہوں یا رسول اللہ!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا، اے معاذ!

میں نے عرض کیا، حاضر ہوں اے اللہ کے رسول!

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہ بارہ فرمایا، اے معاذ!

میں نے عرض کیا، حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول، تین بار ایسا ہوا۔

 اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ پر حرام کر دیتا ہے۔

میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا اس بات سے لوگوں کو باخبر نہ کر دوں تاکہ وہ خوش ہو جائیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  اگر تم یہ خبر سناؤ گےتو لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے اور عمل چھوڑ دیں گے

معاذ رضی اللہ عنہ نے انتقال کے وقت یہ حدیث اس خیال سے بیان فرما دی کہ کہیں حدیث رسول چھپانے کے گناہ پر ان سے آخرت میں مواخذہ نہ ہو۔

 

 

 حدیث نمبر 129

راوی: انس رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روز معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :

 جو شخص اللہ سے اس کیفیت کے ساتھ ملاقات کرے کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو، وہ یقیناًجنت میں داخل ہو گا،

معاذ بولے، یا رسول اللہ! کیا میں اس بات کی لوگوں کو بشارت نہ سنا دوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، مجھے خوف ہے کہ لوگ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔

 

 

اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے !

مجاہد کہتے ہیں کہ متکبر اور شرمانے والا آدمی علم حاصل نہیں کر سکتا۔

 ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ انصار کی عورتیں اچھی عورتیں ہیں کہ شرم انہیں دین میں سمجھ پیدا کرنے سے نہیں روکتی۔

حدیث نمبر 130

راوی: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا

ام سلیم نامی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا اس لیے میں پوچھتی ہوں کہ کیا احتلام سے عورت پر بھی غسل ضروری ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب عورت پانی دیکھ لے۔ (یعنی کپڑے وغیرہ پر منی کا اثر معلوم ہو)

 تو یہ سن کرام سلمہ رضی اللہ عنہا نے شرم کی وجہ سےاپنا چہرہ چھپا لیا اور کہا، یا رسول اللہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں! تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، پھر کیوں اس کا بچہ اس کی صورت کے مشابہ ہوتا ہے (یعنی یہی اس کے احتلام کا ثبوت ہے)۔

 

 

حدیث نمبر 131

راوی: عبداللہ بن عمر ؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا :

درختوں میں سے ایک درخت ایساہے۔ جس کے پتے کبھی نہیں جھڑتے اور اس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ مجھے بتلاؤ وہ کیا درخت ہے؟  

تو لوگ جنگلی درختوں کی سوچ میں پڑ گئے اور میرے دل میں آیا کہ میں بتلا دوں کہ وہ کھجور کا پیڑ  ہے،

 عبداللہ کہتے ہیں کہ پھر مجھے شرم آ گئی اور میں چپ ہی رہا

تب لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی خوداس کے بارے میں بتلائیے،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ کھجور ہے۔

 عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے جی میں جو بات تھی وہ میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ کو بتلائی،

وہ کہنے لگے کہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو میرے لیے ایسے ایسے قیمتی سرمایہ سے زیادہ محبوب ہوتا۔

 

 

اس بیان میں کہ مسائل شرعیہ معلوم کرنے میں جو شخص ( کسی معقول وجہ سے ) شرمائے

 وہ کسی دوسرے آدمی کے ذریعے سے مسئلہ معلوم کر لے

حدیث نمبر 132

راوی: علی رضی اللہ عنہ

میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے اپنے شاگردمقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 اس مرض میں غسل نہیں ہے ہاں وضو فرض ہے۔

 

 

مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے

حدیث نمبر 133

راوی:نافع انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا

 ایک مرتبہ  ایک آدمی نے مسجد میں کھڑے ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ ہمیں کس جگہ سے احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں؟

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مدینہ والے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں، اور اہل شام جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے۔

 ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا، کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔

 اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ مجھے یہ آخری جملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد نہیں۔

 

 

سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا ،  ( تاکہ اسے تفصیلی معلومات ہو جائیں )

حدیث نمبر 134

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

 ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے؟

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 نہ قمیص پہنے نہ صافہ باندھے اور نہ پاجامہ اور نہ کوئی سرپوش اوڑھے اور نہ کوئی زعفران اور ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہنے اور اگر جوتے نہ ملیں تو موزے پہن لے اور انہیں اس طرح کاٹ دے کہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔

 

 

59-1

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits since 2016

AmazingCounters.com