صحیح بخاری شریف

غسل کے احکام و مسائل

Previous           Index           Next

احادیث ۴۶

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَإِن كُنتُمۡ جُنُبً۬ا فَٱطَّهَّرُواْ‌ۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٌ۬ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآٮِٕطِ أَوۡ لَـٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءً۬ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدً۬ا طَيِّبً۬ا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِڪُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُ‌ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجۡعَلَ عَلَيۡڪُم مِّنۡ حَرَجٍ۬ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمۡ وَلِيُتِمَّ نِعۡمَتَهُ ۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّڪُمۡ تَشۡكُرُونَ  (سورۃ المائدہ : ۶)

 اگر جنبی ہو جاؤ تو خوب اچھی طرح پاکی حاصل کرو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں یا کوئی تم میں پاخانہ سے آئے یا تم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا ہو پھر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور ہاتھ پر اسے مل لو ۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی کرے لیکن چاہتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور پوری کرے اپنی نعمت تم پر تاکہ تم اس کا شکر کرو ۔

اور اللہ کا دوسرا فرمان ہے :

يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقۡرَبُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنتُمۡ سُكَـٰرَىٰ حَتَّىٰ تَعۡلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغۡتَسِلُواْ‌ۚ

وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٌ۬ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآٮِٕطِ أَوۡ لَـٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءً۬ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدً۬ا طَيِّبً۬ا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُمۡ‌ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا  ( سورۃ النساء:۴۳)

اے ایمان والو نزدیک نہ جاؤ نماز کے جس وقت کہ تم نشہ میں ہو ۔ یہاں تک کہ سمجھنے لگو جو کہتے ہو اور نہ اس وقت کہ غسل کی حاجت ہو مگر حالت سفر میں یہاں تک کہ غسل کر لو اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں یا آئے تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے یا تم پاس گئے ہو عورتوں کے ، پھر نہ پاؤ تم پانی تو ارادہ کرو پاک مٹی کا ، پس ملو اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو ، بیشک اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے ۔

اس بارے میں کہ غسل سے پہلے وضو کر لینا چاہیے

حدیث نمبر 248

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل فرماتے تو

-        آپؐ پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے

-         پھر اسی طرح وضو کرتے جیسا نماز کے لیے آپؐ کیا کرتے تھے۔

-        پھر پانی میں اپنی انگلیاں داخل فرماتے اور ان سے بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔

-         پھر اپنے ہاتھوں سے تین چلو سر پر ڈالتے پھر تمام بدن پر پانی بہا لیتے۔

 حدیث نمبر 249

راوی: میمونہ رضی اللہ عنہا

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو کی طرح ایک مرتبہ وضو کیا، البتہ پاؤں نہیں دھوئے۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جہاں کہیں بھی نجاست لگ گئی تھی، اس کو دھویا۔ پھر اپنے اوپر پانی بہا لیا۔ پھر پہلی جگہ سے ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں کو دھویا۔ آپؐ کا غسل جنابت اسی طرح ہوا کرتا تھا۔

اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے

 حدیث نمبر 250

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے تھے اس برتن کو فرق کہا جاتا تھا۔

نوٹ: فرق کے اندر تقریباً ۶ لٹر پانی ہوتا ہے۔

اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

حدیث نمبر 251

راوی: ابوسلمہ ؓ

میں اور عائشہؓ کے بھائی عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔

نوٹ: صاع کے اندر تقریباً ڈھا ئی لٹر پانی ہوتا ہے۔

حدیث نمبر 252

راوی: ابوجعفرؒ(محمد باقر)

میں اور میرے  والدجناب زین العابدینؒ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایک صاع کافی ہے۔

 اس پر ایک شخص بولا یہ مجھے تو کافی نہ ہو گا۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے(یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

پھر جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔

 حدیث نمبر 253

راوی: عبداللہ بن عباسؓ

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور میمونہ رضی اللہ عنہا ایک برتن میں غسل کر لیتے تھے۔

اس کے بارے میں جو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہائے

حدیث نمبر 254

راوی: جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا۔

 حدیث نمبر 255

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے۔

 حدیث نمبر 256

راوی: ابوجعفرؒ(محمد باقر)

 ہم سے جابر نے بیان کیا کہ میرے پاس تمہارے چچا کے بیٹے(ان کی مراد حسن بن محمد ابن حنفیہ سے تھی) آئے۔ انہوں نے پوچھا کہ جنابت کے غسل کا کیا طریقہ ہے؟

 میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تین چلو پانی لیتے اور انکو اپنے سر پر بہاتے تھے۔ پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہاتے تھے۔

 حسن نے اس پر کہا کہ میں تو بہت بالوں والا آدمی ہوں۔

میں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔

اس بیان میں کہ صرف ایک مرتبہ بدن پر پانی ڈال کر اگر غسل کیا جائے تو کافی ہو گا

 حدیث نمبر 257

راوی: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے

-        اپنے ہاتھ دو مرتبہ یا تین مرتبہ دھوئے۔

-        پھر پانی اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔

-         پھر زمین پر ہاتھ رگڑا۔

-        اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔

-         پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور اپنی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھوئے۔

اس بارے میں کہ جس نے حلاب سے یا خوشبو لگا کر غسل کیا تو اس کا بھی غسل ہو گیا

حدیث نمبر 258

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرنا چاہتے تو حلاب کی طرح ایک چیز منگاتے۔ پھر(پانی کا چلو) اپنے ہاتھ میں لیتے اور سر کے داہنے حصے سے غسل کی ابتداء کرتے۔ پھر بائیں حصہ کا غسل کرتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو سر کے بیچ میں لگاتے تھے۔

اس بیان میں کہ غسل جنابت کرتے وقت کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے

 حدیث نمبر 259

راوی:  میمونہ رضی اللہ عنہا

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ تو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو دائیں ہاتھ سے بائیں پر گرایا۔ اس طرح اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنی شرمگاہ کو دھویا۔ پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑ کر اسے مٹی سے ملا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ پھر اپنے چہرہ کو دھویا اور اپنے سر پر پانی بہایا۔ پھر ایک طرف ہو کر دونوں پاؤں دھوئے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رومال دیا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پانی کو خشک نہیں کیا۔

اس بارے میں کہ( گندگی پاک کرنے کے بعد( ہاتھ مٹی سے ملنا تاکہ وہ خوب صاف ہو جائیں

حدیث نمبر 260

راوی:  میمونہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا تو پہلے اپنی شرمگاہ کو اپنے ہاتھ سے دھویا۔ پھر ہاتھ کو دیوار پر رگڑ کر دھویا۔ پھر نماز کی طرح وضو کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غسل سے فارغ ہو گئے تو دونوں پاؤں دھوئے۔

کیا جنبی اپنے ہاتھوں کو دھونے سے پہلے برتن میں ڈال سکتا ہے ؟

جب کہ جنابت کے سوا ہاتھ میں کوئی گندگی نہیں لگی ہوئی ہو

 حدیث نمبر 261

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں اس طرح غسل کرتے تھے کہ ہمارے ہاتھ باری باری اس میں پڑتے تھے۔

حدیث نمبر 262

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے تو(پہلے) اپنے ہاتھ دھوتے۔

حدیث نمبر 263

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم(دونوں مل کر) ایک ہی برتن میں غسل جنابت کرتے تھے۔

 حدیث نمبر 264

راوی: انس بن مالک ؓسے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی کوئی زوجہ مطہرہ ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔

اس بیان میں کہ غسل اور وضو کے درمیان وقفہ کرنا بھی جائز ہے

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے قدموں کو وضو کردہ اعضاء کے خشک ہونے کے بعد دھویا۔

 حدیث نمبر 265

راوی: میمونہ رضی اللہ عنہا

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر گرا کر انہیں دو یا تین بار دھویا۔

پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں پر گرا کر اپنی شرمگاہوں کو دھویا۔

 پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔

 پھر اپنے سر کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہایا،

پھر آپ اپنی غسل کی جگہ سے الگ ہو گئے۔ پھر اپنے قدموں کو دھویا۔

اس شخص سے متعلق جس نے غسل میں اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی گرایا

حدیث نمبر 266

راوی: میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے(غسل کا) پانی رکھا اور پردہ کر دیا،

-        آپ نے(پہلے غسل میں) اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور اسے ایک یا دو بار دھویا۔

 ذیلی راوی سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں ذیلی راوی(سالم بن ابی الجعد) نے تیسری بار کا بھی ذکر کیا یا نہیں۔

-        پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی ڈالا۔ اور شرمگاہ دھوئی،

-        پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر رگڑا۔

-        پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔

-        اور سر کو دھویا۔

-         پھر سارے بدن پر پانی بہایا۔

-        پھر ایک طرف سرک کر دونوں پاؤں دھوئے۔

 بعد میں میں نے ایک کپڑا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اس طرح کہ اسے ہٹاؤ اور آپ نے اس کپڑے کا ارادہ نہیں فرمایا۔

جس نے جماع کیا اور پھر دوبارہ کیا اور جس نے اپنی کئی بیویوں سے ہمبستر ہو کر ایک ہی غسل کیا اس کا بیان

حدیث نمبر 267

راوی: ابراہیم بن محمد بن منتشر   اپنے والد سے روایت کرتے ہیں

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس مسئلہ کا ذکر کیاتو آپ نے فرمایا، اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج(مطہرات) کے پاس تشریف لے گئے اور صبح کو احرام اس حالت میں باندھا کہ خوشبو سے بدن مہک رہا تھا۔

 حدیث نمبر 268

راوی: قتادہؓ

انس بن مالکؓ فرماتے ہیں  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن اور رات کے ایک ہی وقت میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس گئے اور یہ گیارہ تھیں۔(نو منکوحہ اور دو لونڈیاں)

میں نے انسؓ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طاقت رکھتے تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیس مردوں کے برابر طاقت دی گئی ہے

اور سعید نے کہا قتادہ ؓ کے واسطہ سے کہ ہم کہتے تھے کہ انس نے ان سے نو (۹)ازواج کا ذکر کیا۔

اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے

 حدیث نمبر 269

راوی: علی رضی اللہ عنہ

آپ نے فرمایا کہ مجھے مذی بکثرت آتی تھی، چونکہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی(فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا) تھیں۔ اس لیے میں نے ایک شخص(مقداد بن اسود اپنے شاگرد) سے کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق مسئلہ معلوم کریں

 انہوں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر اور شرمگاہ کو دھو(یہی کافی ہے)۔

اس بارے میں کہ جس نے خوشبو لگائی پھر غسل کیا اور خوشبو کا اثر اب بھی باقی رہا

حدیث نمبر 270

راوی: ابراہیم بن محمد بن منتشر   اپنے والد سے روایت کرتے ہیں

انہوں  نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کا ذکر کیا کہ میں اسے گوارا نہیں کر سکتا کہ میں احرام باندھوں اور خوشبو میرے جسم سے مہک رہی ہو۔

تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی۔ پھر آپ اپنی تمام ازواج کے پاس گئے اور اس کے بعد احرام باندھا۔

 حدیث نمبر 271

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا سے،

آپ نے فرمایا گویا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھے ہوئے ہیں۔

بالوں کا خلال کرنا اور جب یقین ہو جائے کہ کھال تر ہو گئی تو اس پر پانی بہا دینا( جائز ہے)

حدیث نمبر 272

راوی: ہشام بن عروہ نے ، نے اپنے والد کے حوالہ سے بیان کیا

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کا غسل کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔ پھر غسل کرتے۔ پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے اور جب یقین کر لیتے کہ جسم تر ہو گیا ہے۔ تو تین مرتبہ اس پر پانی بہاتے، پھر تمام بدن کا غسل کرتے۔

 حدیث نمبر 273

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں غسل کرتے تھے۔ ہم دونوں اس سے چلو بھربھر کر پانی لیتے تھے۔

جس نے جنابت میں وضو کیا پھر اپنے تمام بدن کو دھویا ، لیکن وضو کے اعضاء کو دوبارہ نہیں دھویا

حدیث نمبر 274

راوی: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دو یا تین مرتبہ اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ پھر شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر یا دیوار پر دو یا تین بار رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ پھر اپنی جگہ سے سرک کر پاؤں دھوئے۔

 میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں ایک کپڑا لائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں لیا اور ہاتھوں ہی سے پانی جھاڑنے لگے۔

جب کوئی مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم نہ کرے

حدیث نمبر 275

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نماز کی تکبیر ہوئی اور صفیں برابر ہو گئیں، لوگ کھڑے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے ہماری طرف تشریف لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو چکے تو یاد آیا کہ آپ جنبی ہیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور آپ واپس چلے گئے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا اور واپس ہماری طرف تشریف لائے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے تکبیر کہی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔

اس بارے میں کہ غسل جنابت کے بعد ہاتھوں سے پانی جھاڑ لینا( سنت نبوی ہے)

 حدیث نمبر 276

راوی: میمونہ رضی اللہ عنہا

 میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور ایک کپڑے سے پردہ کر دیا۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں دھویا۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پانی لیا اور شرمگاہ دھوئی۔ پھر ہاتھ کو زمین پر مارا اور دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور چہرے اور بازو دھوئے۔ پھر سر پر پانی بہایا اور سارے بدن کا غسل کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام غسل سے ایک طرف ہو گئے۔ پھر دونوں پاؤں دھوئے۔

 اس کے بعد میں نے آپؐ کو ایک کپڑا دینا چاہا۔ تو آپؐ نے اسے نہیں لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں سے پانی جھاڑنے لگے۔

اس شخص کے متعلق جس نے اپنے سر کے داہنے حصے سے غسل کیا

 حدیث نمبر 277

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

ہم ازواج(مطہرات) میں سے کسی کو اگر جنابت لاحق ہوتی تو وہ ہاتھوں میں پانی لے کر سر پر تین مرتبہ ڈالتیں۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر سر کے داہنے حصے کا غسل کرتیں اور دوسرے ہاتھ سے بائیں حصے کا غسل کرتیں۔

اس شخص کے بارے میں جس نے تنہائی میں ننگے ہو کر غسل کیا اور جس نے کپڑا باندھ کر غسل کیا

اور کپڑا باندھ کر غسل کرنا افضل ہے

اور بہز بن حکیم نے اپنے والد سے، انہوں نے بہز کے دادامعاویہ بن حیدہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے۔

 حدیث نمبر 278

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 بنی اسرائیل ننگے ہو کر اس طرح نہاتے تھے کہ ایک شخص دوسرے کو دیکھتا لیکن موسیٰ علیہ السلام تنہا پردہ سے غسل فرماتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بخدا موسیٰ کو ہمارے ساتھ غسل کرنے میں صرف یہ چیز مانع ہے کہ آپ کے خصیے بڑھے ہوئے ہیں۔

 ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے لگے اور آپ نے کپڑوں کو ایک پتھر پر رکھ دیا۔ اتنے میں پتھر کپڑوں کو لے کر بھاگا اور موسیٰ علیہ السلام بھی اس کے پیچھے بڑی تیزی سے دوڑے۔

 آپ کہتے جاتے تھے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اے پتھر! میرا کپڑا دے۔ اس عرصہ میں بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ لیا اور کہنے لگے کہ بخدا موسیٰ کو کوئی بیماری نہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کپڑا لیا اور پتھر کو مارنے لگے۔

 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بخدا اس پتھر پر چھ یا سات مار کے نشان باقی ہیں۔

 حدیث نمبر 279

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

ایک بار ایوب علیہ السلام ننگے غسل فرما رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں آپ پر گرنے لگیں۔ ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے۔

 اتنے میں ان کے رب نے انہیں پکارا۔ کہ اے ایوب! کیا میں نے تمہیں اس چیز سے بےنیاز نہیں کر دیا، جسے تم دیکھ رہے ہو۔

 ایوب علیہ السلام نے جواب دیا ہاں تیری بزرگی کی قسم۔ لیکن تیری برکت سے میرے لیے بے نیازی کیونکر ممکن ہے۔

اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے

حدیث نمبر 280

راوی: ام ہانی بنت ابی طالب

میں فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ آپ غسل فرما رہے ہیں اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر رکھا ہے۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہیں۔ میں نے عرض کی کہ میں ام ہانی ہوں۔

 حدیث نمبر 281

راوی: میمونہ رضی اللہ عنہا

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرما رہے تھے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پردہ کیا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پر پانی بہایا اور شرمگاہ دھوئی اور جو کچھ اس میں لگ گیا تھا اسے دھویا پھر ہاتھ کو زمین یا دیوار پر رگڑ کر(دھویا) پھر نماز کی طرح وضو کیا۔ پاؤں کے علاوہ۔ پھر پانی اپنے سارے بدن پر بہایا اور اس جگہ سے ہٹ کر دونوں قدموں کو دھویا۔

اس بیان میں کہ جب عورت کو احتلام ہو تو اس پر بھی غسل واجب ہے

 حدیث نمبر 282

راوی: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا

ام سلیم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا۔ کیا عورت پر بھی جب کہ اسے احتلام ہو غسل واجب ہو جاتا ہے۔

 تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں اگر(اپنی منی کا) پانی دیکھے(تو اسے بھی غسل کرنا ہو گا)۔

اس بیان میں کہ جنبی کا پسینہ اور بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا

حدیث نمبر 283

راوی: ابوہریرہؓ سے

مدینہ کے کسی راستے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوہریرہؓ کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت ابوہریرہ ؓ جنابت کی حالت میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں پیچھے رہ کر لوٹ گیا اور غسل کر کے واپس آیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے۔

 انہوں نے جواب دیا کہ میں جنابت کی حالت میں تھا۔ اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغیر غسل کے بیٹھنا برا جانا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 سبحان اللہ! مومن ہرگز نجس نہیں ہو سکتا۔

اس تفصیل میں کہ جنبی گھر سے باہر نکل سکتا اور بازار وغیرہ جا سکتا ہے

اور عطا نے کہا کہ جنبی پچھنا لگوا سکتا ہے، ناخن ترشوا سکتا ہے اور سر منڈوا سکتا ہے۔ اگرچہ وضو بھی نہ کیا ہو۔

حدیث نمبر 284

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں۔

 حدیث نمبر 285

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔

غسل سے پہلے جنبی کا گھر میں ٹھہرنا جب کہ وضو کر لے( جائز ہے)

حدیث نمبر 286

راوی: ابوسلمہ ؓ

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں گھر میں سوتے تھے؟

 کہا ہاں لیکن وضو کر لیتے تھے۔

اس بارے میں کہ بغیر غسل کئے جنبی کا سونا جائز ہے

 حدیث نمبر 287

راوی: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟

 فرمایا ہاں، وضو کر کے جنابت کی حالت میں بھی سو سکتے ہو۔

اس بارے میں کہ جنبی پہلے وضو کر لے پھر سوئے

 حدیث نمبر288

راوی:  عائشہ رضی اللہ عنہا

آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کی حالت میں ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو شرمگاہ کو دھو لیتے اور نماز کی طرح وضو کرتے۔

 حدیث نمبر 289

راوی: عمر رضی اللہ عنہ

آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا ہم جنابت کی حالت میں سو سکتے ہیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن وضو کر کے۔

 حدیث نمبر 290

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا

عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ رات میں انہیں غسل کی ضرورت ہو جایا کرتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر لیا کر اور شرمگاہ کو دھو کر سو جا۔

اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے

حدیث نمبر 291

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لیے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا۔

اس چیز کا دھونا جو عورت کی شرمگاہ سے لگ جائے ضروری ہے

 حدیث نمبر 292

راوی زید بن خالد جہنی

میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ مرد اپنی بیوی سے ہمبستر ہوا لیکن انزال نہیں ہوا تو وہ کیا کرے؟

عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز کی طرح وضو کر لے اور ذکر کو دھو لے

اور عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے۔

میں نے اس کے متعلق علی بن ابی طالب، زبیر بن العوام، طلحہ بن عبیداللہ، ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا

 یحییٰ نے کہا اور ابوسلمہ نے مجھے بتایا کہ انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں

 ابوایوب رضی اللہ عنہ بتایا نے کہ یہ بات انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔

 حدیث نمبر 293

راوی: ابی بن کعب ؓ

میں نے پوچھا یا رسول اللہ! جب مرد عورت سے جماع کرے اور انزال نہ ہو تو کیا کرے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے جو کچھ اسے لگ گیا اسے دھو لے پھر وضو کرے اور نماز پڑھے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا غسل میں زیادہ احتیاط ہے۔

---

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com