Sahih Bukhari

Imam Muhammad Bin Ismail Bukhari

صحیح بخاری

امام محمد بن اسماعیل بخاری

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Book of Prostration During Recitation of Quran

کتاب سجود قرآن کے مسائل

Paperback Edition

Electronic Version

احادیث  ۱۲

(۱۰۶۷-۱۰۷۹)

سجدہ تلاوت اور اس کے سنت ہونے کا بیان

حدیث نمبر ۱۰۶۷

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جتنے آدمی تھے (مسلمان اور کافر) ان سب نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا البتہ ایک بوڑھا شخص (امیہ بن خلف) اپنے ہاتھ میں کنکری یا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی تک لے گیا اور کہا میرے لیے یہی کافی ہے میں نے دیکھا کہ بعد میں وہ بوڑھا حالت کفر میں ہی مارا گیا۔

سورۃ الم تنزیل میں سجدہ کرنا

حدیث نمبر ۱۰۶۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں الم تنزيل سورۃ  السجدة  اور  هل أتى على الإنسان‏   سورۃ دھر  پڑھا کرتے تھے۔

سورۃ ص میں سجدہ کرنا

حدیث نمبر ۱۰۶۹

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔

سورۃ النجم میں سجدہ کا بیان

اس کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔

حدیث نمبر ۱۰۷۰

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ کیا اس وقت قوم کا کوئی فرد (مسلمان اور کافر) بھی ایسا نہ تھا جس نے سجدہ نہ کیا ہو۔ البتہ ایک شخص (امیہ بن خلف) نے ہاتھ میں کنکری یا مٹی لے کر اپنے چہرہ تک اٹھائی اور کہا کہ میرے لیے یہی کافی ہے۔

 عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعد میں میں نے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت ہی میں قتل ہوا۔

مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے ( اس کو وضو کہاں سے آیا )

حالانکہ مشرک ناپاک ہے (اس کو وضو کہاں سے آیا) اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بےوضو سجدہ کیا کرتے تھے۔

حدیث نمبر ۱۰۷۱

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا تو مسلمانوں، مشرکوں اور جن و انس سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔

 اس حدیث کی روایت ابراہیم بن طہمان نے بھی ایوب سختیانی سے کی ہے۔

سجدہ کی آیت پڑھ کر سجدہ نہ کرنا

حدیث نمبر ۱۰۷۲

راوی: عطاء بن یسار

انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ آپ نے یقین کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت آپ نے کی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

حدیث نمبر ۱۰۷۳

راوی: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم کی تلاوت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

سورۃ اذا السماء انشقت میں سجدہ کرنا

حدیث نمبر ۱۰۷۴

راوی: ابوسلمہ

میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورۃ  إذا السماء انشقت پڑھتے دیکھا۔ آپ نے اس میں سجدہ کیا

میں نے کہا کہ اے ابوہریرہ! کیا میں نے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

 آپ نے کہا کہ اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کرتے نہ دیکھتا تو میں بھی نہ کرتا۔

سننے والا اسی وقت سجدہ کرے جب پڑھنے والا کرے

اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تمیم بن حذلم سے کہا کہ وہ لڑکا تھا اس نے سجدے کی آیت پڑھی سجدہ کر۔ کیونکہ تو اس سجدے میں ہمارا امام ہے۔

حدیث نمبر ۱۰۷۵

راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری موجودگی میں آیت سجدہ پڑھتے اور سجدہ کرتے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ہجوم کی وجہ سے) اس طرح سجدہ کرتے کہ پیشانی رکھنے کی جگہ بھی نہ ملتی جس پر سجدہ کرتے۔

امام جب سجدہ کی آیت پڑھے اور لوگ ہجوم کریں تو بہرحال سجدہ کرنا چاہیے

حدیث نمبر ۱۰۷۶

راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آیت سجدہ کی تلاوت اگر ہماری موجودگی میں کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم بھی سجدہ کرتے تھے۔ اس وقت اتنا اژدھام ہو جاتا کہ سجدہ کے لیے پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی جس پر سجدہ کرنے والا سجدہ کر سکے۔

اس شخص کی دلیل جس کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں کیا

اور عمران بن حصین صحابی سے ایک ایسے شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو آیت سجدہ سنتا ہے مگر وہ سننے کی نیت سے نہیں بیٹھا تھا تو کیا اس پر سجدہ واجب ہے۔

آپ نے اس کے جواب میں فرمایا اگر وہ اس نیت سے بیٹھا بھی ہو تو کیا (گویا انہوں نے سجدہ تلاوت کو واجب نہیں سمجھا)

سلمان فارسی نے فرمایا کہ ہم سجدہ تلاوت کے لیے نہیں آئے۔

عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سجدہ ان کے لیے ضروری ہے جنہوں نے آیت سجدہ قصد سے سنی ہو۔

 زہری نے فرمایا کہ سجدہ کے لیے طہارت ضروری ہے اگر کوئی سفر کی حالت میں نہ ہو بلکہ گھر پر ہو تو سجدہ قبلہ رو ہو کر کیا جائے گا اور سواری پر قبلہ رو ہونا ضروری نہیں جدھر بھی رخ ہو (اسی طرف سجدہ کر لینا چاہیے)

سائب بن یزید واعظوں و قصہ خوانوں کے سجدہ کرنے پر سجدہ نہ کرتے۔

حدیث نمبر ۱۰۷۷

ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی نے کہا۔۔۔ ابوبکر بن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ربیعہ بہت اچھے لوگوں میں سے تھے ربیعہ نے وہ حال بیان کیا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہوں نے دیکھا۔

عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی جب سجدہ کی آیت  ‏‏‏‏ ولله يسجد ما في السمٰوٰت   آخر تک پہنچے تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔

دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو کہنے لگے لوگو! ہم سجدہ کی آیت پڑھتے چلے جاتے ہیں پھر جو کوئی سجدہ کرے اس نے اچھا کیا اور جو کوئی نہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں ک

یا اور نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت فرض نہیں کیا ہماری خوشی پر رکھا۔

جس نے نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی اور نماز ہی میں سجدہ کیا

حدیث نمبر ۱۰۷۸

راوی: ابورافع

میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عشاء پڑھی۔ آپ نے  إذا السماء انشقت  کی تلاوت کی اور سجدہ کیا۔

میں نے عرض کیا کہ آپ نے یہ کیا کیا؟

 انہوں نے اس کا جواب دیا کہ میں نے اس میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں سجدہ کیا تھا اور ہمیشہ سجدہ کرتا ہوں گا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔

جو شخص ہجوم کی وجہ سے سجدہ تلاوت کی جگہ نہ پائے

حدیث نمبر ۱۰۷۹

راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی سورۃ کی تلاوت کرتے جس میں سجدہ ہوتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم میں کسی کو اپنی پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔

(معلوم ہوا کہ ایسی حالت میں سجدہ نہ کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے)  والله اعلم

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits since 2016

AmazingCounters.com