صحیح بخاری شریف

 تہجد کا بیان

Previous           Index           Next

احادیث ۶۸ 

(۱۱۲۰-۱۱۸۷)

رات میں تہجد پڑھنا

اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ بنی اسرائیل میں) فرمایا:

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ

ا اور رات کے ایک حصہ میں تہجد پڑھ یہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے زیادہ حکم ہے۔ (۱۷:۷۹)

حدیث نمبر ۱۱۲۰

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے۔

اللهم لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن ولك الحمد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ لك ملك السموات والأرض ومن فيهن،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولك الحمد أنت نور السموات والأرض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولك الحمد أنت الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ووعدك الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولقاؤك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وقولك حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والجنة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنار حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والنبيون حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ومحمد صلى الله عليه وسلم حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ والساعة حق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ اللهم لك أسلمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك آمنت وعليك توكلت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك أنبت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وبك خاصمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإليك حاكمت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فاغفر لي ما قدمت وما أخرت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وما أسررت وما أعلنت،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أنت المقدم وأنت المؤخر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏لا إله إلا أنت، لا إله غيرك

اے میرے اللہ! ہر طرح کی تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو آسمان اور زمین اور ان میں رہنے والی تمام مخلوق کا سنبھالنے والا ہے اور حمد تمام کی تمام بس تیرے ہی لیے مناسب ہے آسمان اور زمین اور ان کی تمام مخلوقات پر حکومت صرف تیرے ہی لیے ہے اور تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان اور زمین کا نور ہے اور تعریف تیرے ہی لیے زیبا ہے، تو سچا ہے، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی، تیرا فرمان سچا ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، انبیاء سچے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور قیامت کا ہونا سچ ہے۔ اے میرے اللہ! میں تیرا ہی فرماں بردار ہوں اور تجھی پر ایمان رکھتا ہوں، تجھی پر بھروسہ ہے، تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں، تیرے ہی عطا کئے ہوئے دلائل کے ذریعہ بحث کرتا ہوں اور تجھی کو حکم بناتا ہوں۔ پس جو خطائیں مجھ سے پہلے ہوئیں اور جو بعد میں ہوں گی ان سب کی مغفرت فرما، خواہ وہ ظاہر ہوئی ہوں یا پوشیدہ۔ آگے کرنے والا اور پیچھے رکھنے والا تو ہی ہے۔ معبود صرف تو ہی ہے۔ یا (یہ کہا کہ) تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

 ابوسفیان نے بیان کیا کہ عبدالکریم ابوامیہ نے اس دعا میں یہ زیادتی کی ہے  لا حول ولا قوة إلا بالله

 سفیان نے بیان کیا کہ سلیمان بن مسلم نے طاؤس سے یہ حدیث سنی تھی، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

رات کی نماز کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر  ۱۱۲۱

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دیتے)

میرے بھی دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا، میں ابھی نوجوان تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتا تھا۔ چنانچہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتے مجھے پکڑ کر دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے (یعنی اس پر کنویں کی سی منڈیر بنی ہوئی ہے) اس کے دو جانب تھے۔ دوزخ میں بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جنہیں میں پہچانتا تھا۔ میں کہنے لگا دوزخ سے اللہ کی پناہ! انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کو ایک فرشتہ ملا اور اس نے مجھ سے کہا ڈرو نہیں۔

 

حدیث نمبر  ۱۱۲۲

یہ خواب میں نے (اپنی بہن) حفصہ رضی اللہ عنہا کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ تعبیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے۔ کاش رات میں نماز پڑھا کرتا۔

 (راوی نے کہا کہ آپ کے اس فرمان کے بعد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رات میں بہت کم سوتے تھے (زیادہ عبادت ہی کرتے رہتے)۔

رات کی نمازوں میں لمبے سجدے کرنا

حدیث نمبر  ۱۱۲۳

راوی: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی نماز تھی۔ لیکن اس کے سجدے اتنے لمبے ہوا کرتے کہ تم میں سے کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اٹھانے سے قبل پچاس آیتیں پڑھ سکتا تھا

(اور طلوع فجر ہونے پر) فجر کی نماز سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت سنت پڑھتے۔ اس کے بعد دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ آخر مؤذن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلانے آتا۔

مریض بیماری میں تہجد ترک سکتا ہے

حدیث نمبر  ۱۱۲۴

راوی: جندب رضی اللہ عنہ

آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو ایک یا دو رات تک (نماز کے لیے) نہ اٹھ سکے۔

 

حدیث نمبر  ۱۱۲۵

جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام (ایک مرتبہ چند دنوں تک) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (وحی لے کر) نہیں آئے تو قریش کی ایک عورت (ام جمیل ابولہب کی بیوی) نے کہا کہ اب اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے سے دیر لگائی۔ اس پر یہ سورت اتری

وَالضُّحَى ـ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى ـ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا

حدیث نمبر  ۱۱۲۶

راوی: ام سلمہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جاگے تو فرمایا سبحان اللہ! آج رات کیا کیا بلائیں اتری ہیں اور ساتھ ہی (رحمت اور عنایت کے) کیسے خزانے نازل ہوئے ہیں۔ ان حجرے والیوں (ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن) کو کوئی جگانے والا ہے افسوس! کہ دنیا میں بہت سی کپڑے پہننے والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔

 

حدیث نمبر  ۱۱۲۷

راوی: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے؟

میں عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا۔

 ہماری اس عرض پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ران پر ہاتھ مار کر  سورۃ الکہف کی یہ آیت پڑھ رہے تھے

وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا  

 آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے  (۱۸:۵۴)

حدیث نمبر  ۱۱۲۸

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کام کو چھوڑ دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کرنا پسند ہوتا۔ اس خیال سے ترک کر دیتے کہ دوسرے صحابہ ؓبھی اس پر (آپ کو دیکھ کر) عمل شروع کر دیں اور اس طرح وہ کام ان پر فرض ہو جائے۔

 چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی لیکن میں پڑھتی ہوں۔

حدیث نمبر  ۱۱۲۹

راوی: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی۔ صحابہؓ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ نماز پڑھی۔ دوسری رات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے۔

صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے۔ میں نے اسے دیکھا لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے۔

یہ رمضان کا واقعہ تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ پاؤں سوج جاتے

اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ آپ کے پاؤں پھٹ جاتے تھے۔

فطور  کے معنی عربی زبان میں پھٹنا اور قرآن شریف میں لفظ  انفطرت  اسی سے ہے یعنی جب آسمان پھٹ جائے۔

حدیث نمبر  ۱۱۳۰

راوی: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم یا (یہ کہا کہ) پنڈلیوں پر ورم آ جاتا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ عرض کیا جاتا تو فرماتے کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

جو شخص سحر کے وقت سو گیا

حدیث نمبر  ۱۱۳۱

راوی: عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ سب نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور روزوں میں بھی داؤد علیہ السلام ہی کا روزہ۔

 آپ آدھی رات تک سوتے، اس کے بعد تہائی رات نماز پڑھنے میں گزارتے۔ پھر رات کے چھٹے حصے میں بھی سو جاتے۔ اسی طرح آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔

حدیث نمبر  ۱۱۳۲

راوی: مسروق

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا عمل زیادہ پسند تھا؟

 آپؓ نے جواب دیا کہ جس پر ہمیشگی کی جائے (خواہ وہ کوئی بھی نیک کام ہو)

میں نے دریافت کیا کہ آپ (رات میں نماز کے لیے) کب کھڑے ہوتے تھے؟

آپ ؓنے فرمایا کہ جب مرغ کی آواز سنتے۔

 ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابوالاحوص سلام بن سلیم نے خبر دی، ان سے اشعث نے بیان کیا کہ مرغ کی آواز سنتے ہی آپ کھڑے ہو جاتے اور نماز پڑھتے۔

حدیث نمبر  ۱۱۳۳

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

نے بتلایا کہ انہوں نے اپنے یہاں سحر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ لیٹے ہوئے پایا۔

اس بارے میں جو سحری کھانے کے بعد صبح کی نماز پڑھنے تک نہیں سویا

حدیث نمبر  ۱۱۳۴

راوی: قتادہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں نے مل کر سحری کھائی، سحری سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور دونوں نے نماز پڑھی۔

ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سحری سے فراغت اور نماز شروع کرنے کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہو گا؟

آپ نے جواب دیا کہ اتنی دیر میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ سکتا ہے۔

رات کے قیام میں نماز کو لمبا کرنا ( یعنی قرآت بہت کرنا )

حدیث نمبر  ۱۱۳۵

راوی: ابووائل

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا۔

 ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دوں۔

حدیث نمبر  ۱۱۳۶

راوی: حذیفہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے اپنا منہ مسواک سے خوب صاف کرتے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی کیا کیفیت تھی ؟

اور رات کی نماز کیوں کر پڑھنی چاہیے ؟

حدیث نمبر  ۱۱۳۷

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو، دو رکعت اور جب طلوع صبح ہونے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ کر اپنی ساری نماز کو طاق بنا لے۔

حدیث نمبر  ۱۱۳۸

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی۔

حدیث نمبر  ۱۱۳۹

راوی: مسروق بن اجدع

میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو آپؓ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات، نو اور گیارہ تک رکعتیں پڑھتے تھے۔ فجر کی سنت اس کے سوا ہوتی۔

حدیث نمبر  ۱۱۴۰

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

 آپ ؓنے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ وتر اور فجر کی دو سنت رکعتیں اسی میں ہوتیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کو قیام کرنے اور سونے کا بیان

اور اللہ تعالیٰ نے  میں  سورۃ مزمل میں  فرمایا:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ـ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ـ نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ـ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا  ـ إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ـ إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ـ إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا

 اے جھُرمٹ مارنے والے! ۔ـ  کھڑا رہ رات کو (نماز میں)، مگر کسی (تھوڑی سی) رات۔ ـ آدھی رات یا اس سے کم کر تھوڑا سا۔ یا زیادہ کر اس پر، اور کھول کھول (ٹھہر ٹھہر) پڑھ قرآن کو صاف۔  ہم آگے ڈالیں گے تجھ پر ایک بھاری بات (کلام)۔  البتہ اٹھان (اٹھنا) رات کا سخت روندتا ہے(سخت ہے نفس پر)، اور سیدھی نکلتی ہے بات۔البتہ تجھ کو دن میں شغل رہتا ہے لمبا۔ (۷۳:۱ـ،۷)

اور فرمایا :

عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ

عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ

وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ 

اس نے جانا کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے، پھر تم پر معافی بھیجی، سو پڑھو جتنا آسان ہو قرآن۔

جانا کہ آگے ہوں گے تم میں کتنے بیمار،اور کتنے اور پھرتے ملک میں ڈھونڈتے اﷲ کا فضل،اور کتنے اور لڑتے اﷲ کی راہ میں، سو پڑھو جتنا آسان اس میں سے،

اور کھڑی رکھو نماز، اور دیتے رہو زکوٰۃ، اور قرض دو اﷲ کو اچھی طرح قرض دینا۔

اور جو آگے بھیجو گے اپنے واسطے کوئی نیکی، اس کو پاؤ گے اﷲ کے پاس بہتر اور ثواب میں زیادہ اور معافی مانگو اﷲ سے۔بیشک اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔ (۷۳:۲۰)

 اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا قرآن میں جو لفظ  نَاشِئَةَ اللَّيْلِ   ہے ت نشأ  کے معنی حبشی زبان میں کھڑا ہوا

 اور  وِطَاءً ‏‏‏‏ کے معنی موافق ہونا یعنی رات کا قرآن کان اور آنکھ اور دل کو ملا کر پڑھا جاتا ہے۔

حدیث نمبر  ۱۱۴۱

راوی: انس رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں روزہ نہ رکھتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے اور اگر کسی مہینہ میں روزہ رکھنا شروع کرتے تو خیال ہوتا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مہینہ کا ایک دن بھی بغیر روزہ کے نہیں رہ جائے گا اور رات کو نماز تو ایسی پڑھتے تھے کہ تم جب چاہتے آپ کو نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جب چاہتے سوتا دیکھ لیتے۔

جب آدمی رات کو نماز نہ پڑھے تو شیطان کا گدی پر گرہ لگانا

حدیث نمبر  ۱۱۴۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے

پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے

پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔

پھر اگر نماز (فرض یا نفل) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔

 اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے۔

حدیث نمبر  ۱۱۴۳

راوی: سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن کا حافظ تھا مگر وہ قرآن سے غافل ہو گیا اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جایا کرتا تھا۔

جو شخص سوتا رہے اور ( صبح کی ) نماز نہ پڑھے ، معلوم ہوا کہ شیطان نے اس کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے

حدیث نمبر  ۱۱۴۴

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک پڑا سوتا رہا اور فرض نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا۔

 اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے۔

آخر رات میں دعا اور نماز کا بیان

اور اللہ تعالیٰ نے  سورۃ والذاریات میں  فرمایا :

كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ـ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

رات میں وہ بہت کم سوتے اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے۔  (۵۱:۱۷،۱۸)

 هجوع  کے معنی سونا۔

حدیث نمبر  ۱۱۴۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہے ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر آتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں۔

جو شخص رات کے شروع میں سو جائے اور اخیر میں جاگے

اور سلمان فارسی نے ابودرداء (رضی اللہ عنہما) سے فرمایا کہ شروع رات میں سو جا اور آخر رات میں عبادت کر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا تھا کہ سلمان نے بالکل سچ کہا۔

حدیث نمبر  ۱۱۴۶

راوی: اسود بن یزید

میں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟

آپؓ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آ جاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان اور غیر رمضان میں رات کو نماز پڑھنا

حدیث نمبر  ۱۱۴۷

راوی: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں (رات کو) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔

آپؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (رات میں) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور۔

 پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت پڑھتے۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟

اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

حدیث نمبر  ۱۱۴۸

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تو بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے لیکن جب تیس چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے پھر اس کو پڑھ کر رکوع کرتے تھے۔

دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر  ۱۱۴۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فجر کے وقت پوچھا کہ اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔

 بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیر لکھی گئی تھی۔

عبادت میں بہت سختی اٹھانا مکروہ ہے

حدیث نمبر  ۱۱۵۰

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ دریافت فرمایا کہ یہ رسی کیسی ہے؟

لوگوں نے عرض کی کہ یہ زینب رضی اللہ عنہا نے باندھی ہے جب وہ (نماز میں کھڑی کھڑی) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹکی رہتی ہیں۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں یہ رسی نہیں ہونی چاہیے اسے کھول ڈالو،

 تم میں ہر شخص کو چاہیے جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو بیٹھ جائے۔

حدیث نمبر  ۱۱۵۱

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

میرے پاس بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟

 میں نے کہا کہ یہ فلاں خاتون ہیں جو رات بھر نہیں سوتیں۔ ان کی نماز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا۔

 لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس تمہیں صرف اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنے کی تم میں طاقت ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (ثواب دینے سے) تھکتا ہی نہیں تم ہی عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔

جو شخص رات کو عبادت کیا کرتا تھا وہ اگر اسے چھوڑ دے تو اس کی یہ عادت مکروہ ہے

حدیث نمبر  ۱۱۵۲

راوی: عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی۔

حدیث نمبر  ۱۱۵۳

راوی: عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما

مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور پھر دن میں روزے رکھتے ہو؟

 میں نے کہا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کرتا ہوں۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں (بیداری کی وجہ سے) بیٹھ جائیں گی اور تیری جان ناتواں ہو جائے گی۔ یہ جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی بچوں کا بھی۔ اس لیے کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی بلا روزے کے بھی رہو، عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔

جس شخص کی رات کو آنکھ کھلے پھر وہ نماز پڑھے اس کی فضیلت

حدیث نمبر  ۱۱۵۴

راوی: عبادہ بن صامت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے

لا إله إلا الله وحده لا شريك له،‏‏‏‏ له الملك،‏‏‏‏ وله الحمد،‏‏‏‏ وهو على كل شىء قدير‏

‏ الحمد لله،‏‏‏‏ وسبحان الله،‏‏‏‏ ولا إله إلا الله،‏‏‏‏ والله أكبر،‏‏‏‏ ولا حول ولا قوة إلا بالله‏

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

 تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت

پھر یہ پڑھے

اللهم اغفر لي‏  (ترجمہ) اے اللہ! میری مغفرت فرما

یا   (یہ کہا کہ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔

 پھر اگر اس نے وضو کیا (اور نماز پڑھی) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے۔

حدیث نمبر  ۱۱۵۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے (اپنے نعتیہ اشعار میں) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی۔ آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اشعار سے تھی :

وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ

أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ

أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ

عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ

ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔

 ہم تو اندھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا۔

 ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں

حدیث نمبر  ۱۱۵۶

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ خواب دیکھا کہ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ ہے۔ جیسے میں جنت میں جس جگہ کا بھی ارادہ کرتا ہوں تو یہ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک فرشتہ ان سے آ کر ملا اور (مجھ سے) کہا کہ ڈرو نہیں (اور ان سے کہا کہ) اسے چھوڑ دو۔

حدیث نمبر  ۱۱۵۷

میری بہن (ام المؤمنین) حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ایک خواب بیان کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بڑا ہی اچھا آدمی ہے کاش رات کو بھی نماز پڑھا کرتا۔

 عبداللہ رضی اللہ عنہ اس کے بعد ہمیشہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے۔

حدیث نمبر  ۱۱۵۸

بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے خواب بیان کئے کہ شب قدر (رمضان کی) ستائیسویں رات ہے۔

اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب رمضان کے آخری عشرے میں (شب قدر کے ہونے پر) متفق ہو گئے ہیں۔ اس لیے جسے شب قدر کی تلاش ہو وہ رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈے۔

فجر کی سنتوں کو ہمیشہ پڑھنا

حدیث نمبر  ۱۱۵۹

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی پھر رات کو اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تہجد کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں صبح کی اذان و اقامت کے درمیان پڑھیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے (فجر کی سنتوں پر مداومت ثابت ہوئی)۔

فجر کی سنتیں پڑھ کر داہنی کروٹ پر لیٹ جانا

حدیث نمبر  ۱۱۶۰

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنت رکعتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے۔

فجر کی سنتیں پڑھ کر باتیں کرنا اور نہ لیٹنا

حدیث نمبر ۱۱۶۱

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے جب تک نماز کی اذان ہوتی۔

نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا

امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا اور عمار اور ابوذر اور یونس رضی اللہ عنہم صحابیوں سے بیان کیا، اور جابر بن زید، عکرمہ اور زہری رحمہ اللہ علیہم تابعیوں سے ایسا ہی منقول ہے اور یحییٰ بن سعید انصاری (تابعی) نے کہا کہ میں نے اپنے ملک (مدینہ طیبہ) کے عالموں کو یہی دیکھا کہ وہ نوافل میں (دن کو) ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا کرتے تھے۔

حدیث نمبر ۱۱۶۲

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھلاتے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارے سامنے ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے

اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك،‏‏‏‏ وأسألك من فضلك العظيم،‏‏‏‏ فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب،‏‏‏‏ اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري

أو قال  عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري

أو قال في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه،‏‏‏‏ واقدر لي الخير

اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ قدرت تو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام جس کے لیے استخارہ کیا جا رہا ہے میرے دین دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے

یا   (آپ نے یہ فرمایا کہ) میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ (خیر ہے) تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں مجھے برکت عطا کر اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے۔

یا   (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ) میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے (برا ہے) تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے۔ پھر میرے لیے خیر مقدر فرما دے، جہاں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کام کی جگہ اس کام کا نام لے۔

حدیث نمبر ۱۱۶۳

راوی: ابوقتادہ بن ربعی انصاری صحابی رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی تم میں سے مسجد میں آئے تو نہ بیٹھے جب تک دو رکعت (تحیۃ المسجد کی) نہ پڑھ لے۔

حدیث نمبر ۱۱۶۴

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمارے گھر میں جب دعوت میں آئے تھے) دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔

حدیث نمبر ۱۱۶۵

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی اور ظہر کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت (نماز سنت) پڑھی ہے۔

حدیث نمبر ۱۱۶۶

راوی: جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص بھی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد کی) پڑھ لے۔

حدیث نمبر ۱۱۶۷

راوی: مجاہد

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (مکہ شریف میں) اپنے گھر آئے۔ کسی نے کہا بیٹھے کیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  آ گئے بلکہ کعبہ کے اندر بھی تشریف لے جا چکے ہیں۔

عبداللہ ؓنے کہا یہ سن کر میں آیا۔

 دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے باہر نکل چکے ہیں اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے بلال! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی؟

انہوں نے کہا کہ ہاں پڑھی تھی۔

 میں نے پوچھا کہ کہاں پڑھی تھی؟

انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور دو رکعتیں کعبہ کے دروازے کے سامنے پڑھیں

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی دو رکعتوں کی وصیت کی تھی

اور عتبان نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما صبح دن چڑھے میرے گھر تشریف لائے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی۔

فجر کی سنتوں کے بعد باتیں کرنا

حدیث نمبر ۱۱۶۸

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دو رکعت (فجر کی سنت) پڑھ چکتے تو اس وقت اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے۔

میں نے سفیان سے کہا کہ بعض راوی فجر کی دو رکعتیں اسے بتاتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں یہ وہی ہیں۔

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com