صحیح بخاری شریف

مشروبات کا بیان

احادیث ۶۶

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے


شراب کا بیان

إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

بلاشبہ شراب، جوا، بت اور پانسے گندے کام ہیں شیطان کے کاموں سے پس تم ان سے پرہیز کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (۵:۹۰)

حدیث نمبر  ۵۵۷۵

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔

حدیث نمبر  ۵۵۷۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو(بیت المقدس کے شہر)ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔

حدیث نمبر  ۵۵۷۷

راوی: انس رضی اللہ عنہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔

حدیث نمبر  ۵۵۷۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

- کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مؤمن نہیں ہوتا۔

- اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مؤمن نہیں ہوتا۔

- اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مؤمن نہیں ہوتا۔

ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے :

- کوئی شخص(دن دھاڑے)اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مؤمن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔

شراب انگور وغیرہ سے بھی بنتی ہے

حدیث نمبر  ۵۵۷۹

راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما

جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۰

راوی: انس رضی اللہ عنہ

جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۱

راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما

عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب(خمر) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔

شراب کی حرمت جب نازل ہوئی تو وہ کچی اور پکی کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی

حدیث نمبر  ۵۵۸۲

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۳

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۴

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔

شہد کی شراب جسے بتع کہتے تھے

معن بن عیسیٰ نے کہا کہ میں نے امام مالک بن انس سے فقاع (جو کشمش سے تیار کی جاتی تھی)کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں اور ابن الدراوردی نے بیان کیا کہ ہم نے اس کے متعلق پوچھا تو کہا کہ اگر اس میں نشہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۵

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۶

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتع کے متعلق سوال کیا گیا۔ یہ مشروب شہد سے تیار کیا جاتا تھا اور یمن میں اس کا عام رواج تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔

حدیث نمبر  ۵۵۸۷

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دباء اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ حنتم اور نقیر کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔

اس بارے میں کہ جو بھی پینے والی چیز عقل کو مدہوش کر دے وہ خمر ہے

حدیث نمبر  ۵۵۸۸

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جَو اور شہد سے اور خمر (شراب) وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے

اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کا حکم بتا جاتے، دادا کا مسئلہ، کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔

حدیث نمبر ۵۵۸۹

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی کشمش، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔

اس شخص کی برائی کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے

حدیث نمبر ۵۵۹۰

راوی: ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر(اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے)چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو(ان کی سرکشی کی وجہ سے)ہلاک کر دے گا پہاڑ کو(ان پر)گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔

برتنوں اور پتھر کے پیالوں میں نبیذ بھگونا جائز ہے

حدیث نمبر ۵۵۹۱

راوی: سہل بن سعد ساعدی

ابواسید مالک بن ربیع آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ان کی بیوی ہی سب کام کر رہی تھیں حالانکہ وہ نئی دلہن تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہوں نے پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کھجور بھگو دی تھی۔

ممانعت کے بعد ہر قسم کے برتنوں میں نبیذ بھگونے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت کا ہونا

حدیث نمبر ۵۵۹۲

راوی: جابر رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی(جن میں شراب بنتی تھی)ممانعت کر دی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے

حدیث نمبر ۵۵۹۳

راوی: عبداللہ بن عمرو بن عاص

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن لاکھ لگے گھڑے(روغن زفت لگے برتن)میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔

حدیث نمبر ۵۵۹۴

راوی: علی رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت(خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی)کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔

حدیث نمبر ۵۵۹۵

راوی: ابراہیم نخعی

میں نے اسود بن یزید سے پوچھا کیا تم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تھا کہ کس برتن میں نبیذ(کھجور کا میٹھا شربت)بنانا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں، میں نے عرض کیا ام المؤمنین! کس برتن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خاص گھر والوں کو کدو کی تونبی اور لاکھی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تھا۔

(ابراہیم نخعی نے بیان کیا کہ)میں نے اسود سے پوچھا انہوں نے گھڑے اور سبز مرتبان کا ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا، کیا وہ بھی بیان کر دوں جو میں نے نہ سنا ہو؟

حدیث نمبر ۵۵۹۶

راوی: سلیمان شیبانی

میں نے عبداللہ بن ابی اوفی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے سے منع فرمایا تھا، میں نے پوچھا کیا ہم سفید گھڑوں میں پی لیا کریں کہا کہ نہیں۔

کھجور کا شربت یعنی نبیذ جب تک نشہ آور نہ ہو پینا جائز ہے

حدیث نمبر ۵۵۹۷

راوی: سہیل بن سعد

ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے اپنے ولیمہ کی دعوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، اس دن ان کی بیوی(ام اسید سلامہ)ہی مہمانوں کی خدمت کر رہی تھیں۔ زوجہ ابواسید نے کہا تم جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کس چیز کا شربت تیار کیا تھا پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کچھ کھجوریں بھگو دی تھیں اور دوسرے دن صبح کو آپ کو پلا دی تھی۔

باذق (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب)کے بارے میں

جس نے کہا کہ ہر نشہ آور مشروب حرام ہے اور عمر، ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ رضی اللہ عنہم کی رائے یہ تھی کہ جب کوئی ایسا شربت(طلا)پک کر ایک مثلث تہائی رہ جائے تو اس کو پینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور براء بن عازب اور ابوجحیفہ رضی اللہ عنہما نے(پک کر)آدھا رہ جانے پر بھی پیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ شیرہ جب تک تازہ ہو اسے پی سکتے ہو۔

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عبیداللہ(ان کے لڑکے)کے منہ میں ایک مشروب کی بو کے متعلق سنا ہے میں اس سے پوچھوں گا اگر وہ پینے کی چیز نشہ آور ثابت ہوئی تو میں اس پر حد شرعی جاری کروں گا۔

حدیث نمبر ۵۵۹۸

راوی: ابوالجویریہ

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے باذق (انگور کا شیرہ ہلکی آنچ دیا ہوا)کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے۔

ابوالجویریہ نے کہا کہ باذق تو حلال و طیب ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام خبیث ہے(نہ کہ حلال و طیب)۔

حدیث نمبر ۵۵۹۹

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلوا اور شہد کو دوست رکھتے تھے۔

گدری اور پکتہ کھجور ملا کر بھگونے سے جس نے منع کیا ہے نشہ کی وجہ سے اسی وجہ سے دو سالن ملانا منع ہے

حدیث نمبر ۵۶۰۰

راوی: انس رضی اللہ عنہ

میں نے ابوطلحہ، ابودجانہ اور سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہم کو کچی کھجور کی ملی ہوئی نبیذ پلا رہا تھا کہ شراب حرام کر دی گئی اور میں نے موجودہ شراب پھینک دی۔ میں ہی انہیں پلا رہا تھا میں سب سے کم عمر تھا۔ ہم اس نبیذ کو اس وقت شراب ہی سمجھتے تھے۔

حدیث نمبر ۵۶۰۱

راوی: جابر رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور(کے شیرہ)کو اور تازہ(پختہ، پکی ہوئی)کھجور اور نیم پختہ(کچی، گدری ہوئی)کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع فرمایا تھا، اس طور اس میں نشہ جلدی پیدا ہو جاتا ہے۔

حدیث نمبر ۵۶۰۲

راوی: ابو قتادہؓ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کی تھی کہ پختہ اور گدرائی ہوئی کھجور، پختہ کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کو جدا جدا بھگونے کا حکم دیا۔

دودھ پینا

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل میں فرمایا :

مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ

اللہ تعالیٰ پاک لید اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کرتا ہے جو پینے والوں کو خوب رچتا پچتا ہے۔(۱۶:۶۶)

حدیث نمبر ۵۶۰۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

شب معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کئے گئے۔

حدیث نمبر ۵۶۰۴

راوی: ام الفضل رضی اللہ عنہا

عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شبہ تھا۔ اس لیے میں نے آپ کے لیے ایک برتن میں دودھ بھیجا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا۔

حدیث نمبر ۵۶۰۵

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

ابو حمید ساعدی مقام نقیع سے دودھ کا ایک پیالہ(کھلا ہوا) لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے ایک لکڑی ہی اس پر رکھ لیتے۔

حدیث نمبر ۵۶۰۶

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

ایک انصاری صحابی ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ مقام نقیع سے ایک برتن میں دودھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اسے ڈھک کر کیوں نہیں لائے، اس پر لکڑی ہی رکھ دیتے۔

حدیث نمبر ۵۶۰۷

راوی: براء بن عازب رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ(راستہ میں)ہم ایک چرواہے کے قریب سے گزرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیاسے تھے پھر میں نے ایک پیالے میں(چرواہے سے پوچھ کر)کچھ دودھ دوہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دودھ پیا اور اس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی

اور سراقہ بن جعشم گھوڑے پر سوار ہمارے پاس(تعاقب کرتے ہوئے)پہنچ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی۔ آخر اس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بددعا نہ کریں اور وہ واپس ہو جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔

حدیث نمبر ۵۶۰۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ اونٹنی ہے جس نے بچہ پیدا کیا ہو اور وہ بہت زیادہ دودھ دیتی ہو، یا وہ بکری جو کثرت سے دودھ دیتی ہو، اور کسی کو دی جائے کہ وہ اس کا استعمال کرے۔ ایک پیالہ صبح اور ایک شام کو دودھ میں ڈال کر۔

حدیث نمبر ۵۶۰۹

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا پھر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔

حدیث نمبر ۵۶۱۰

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔

پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے اور تمہاری امت نے اصل فطرت کو پا لیا۔

میٹھا پانی ڈھونڈنا

حدیث نمبر ۵۶۱۱

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ کے تمام انصار میں سب سے زیادہ کھجور کے باغات تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے جاتے تھے اور اس کا عمدہ پانی پیتے تھے۔

جب آیت لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏ تم ہرگز نیکی نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو (۳:۹۲) ۔ نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہرگز نیکی کو نہیں پاؤ گے جب تک وہ مال نہ خرچ کرو جو تمہیں عزیز ہو۔ اور مجھے اپنے مال میں سب سے زیادہ عزیز بیرحاء کا باغ ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ ہے، اس کا ثواب اور اجر میں اللہ کے یہاں پانے کی امید رکھتا ہوں، اس لیے یا رسول اللہ! آپ جہاں اسے مناسب خیال فرمائیں خرچ کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوب یہ بہت ہی فائدہ بخش مال ہے ۔ مزید فرمایا کہ جو کچھ تو نے کہا ہے میں نے سن لیا میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ایسا ہی کروں گا یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں اپنے چچا کے لڑکوں میں اسے تقسیم کر دیا۔

دودھ میں پانی ملانا(بشرطیکہ دھوکے سے بیچا نہ جائے)جائز ہے

حدیث نمبر ۵۶۱۲

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پیتے دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تھے(بیان کیا کہ)میں نے بکری کا دودھ نکالا اور اس میں کنویں کا تازہ پانی ملا کر(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو) پیش کیا آپ نے پیالہ لے کر پیا۔

آپ کے بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا آپ نے اپنا باقی دودھ اعرابی کو دیا اور فرمایا کہ پہلے دائیں طرف سے، ہاں دائیں طرف والے کا حق ہے۔

حدیث نمبر ۵۶۱۳

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق(ابوبکر رضی اللہ عنہ)بھی تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے یہاں اسی رات کا باسی پانی کسی مشکیزے میں رکھا ہوا ہو(تو ہمیں پلاؤ) ورنہ منہ لگا کے پانی پی لیں گے۔

جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ صاحب(جن کے یہاں آپ تشریف لیے گئے تھے)اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ ان صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس رات کا باسی پانی موجود ہے، آپ چھپر میں تشریف لے چلیں۔ پھر وہ ان دونوں حضرات کو ساتھ لے کر گئے پھر انہوں نے ایک پیالہ میں پانی لیا اور اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا اس میں دودھ نکالا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، اس کے بعد آپ کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیا۔

کسی میٹھی چیز کا شربت اور شہد کا شربت بنانا جائز ہے

زہری نے کہا اگر پیاس کی شدت ہو اور پانی نہ ملے تو بھی انسان کا پیشاب پینا جائز نہیں کیونکہ وہ نجاست ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتُ کہ تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں ۔ (۵:۵)

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نشہ لانے والی چیزوں کے بارے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حرام چیزوں میں شفاء نہیں رکھی ہے۔

حدیث نمبر ۵۶۱۴

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شیرینی اور شہد کو دوست رکھتے تھے۔

کھڑے کھڑے پانی پینا

حدیث نمبر ۵۶۱۵

راوی: نزال

وہ علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مسجد کوفہ کے صحن میں حاضر ہوئے پھر علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیا اور کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے۔

نمبر: ۵۶۱۶

راوی: نزال بن سبرہ

وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، ان کے سر اور پاؤں(کے دھونے کا بھی) ذکر کیا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا، وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔

حدیث نمبر ۵۶۱۷

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔

جس نے اونٹ پر بیٹھ کر(پانی یا دودھ)پیا

حدیث نمبر ۵۶۱۸

راوی: ام فضل بنت حارث

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ایک پیالہ بھیجا میدان عرفات میں۔ وہ عرفہ کے دن کی شام کا وقت تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم(اپنی سواری پر)سوار تھے، آپ نے اپنے ہاتھ میں وہ پیالہ لیا اور اسے پی لیا۔

پینے میں تقسیم کا دور داہنی طرف۔ پس داہنی طرف سے شروع ہو

حدیث نمبر ۵۶۱۹

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی ملا ہوا دودھ پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک دیہاتی تھا اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر باقی دیہاتی کو دیا اور فرمایا کہ دائیں طرف سے، پس دائیں طرف سے۔

اگر آدمی داہنی طرف والے سے اجازت لے کر پہلے بائیں طرف والے کو دے جو عمر میں بڑا ہو

حدیث نمبر ۵۶۲۰

راوی: سہل بن سعد رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ(خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بیٹھے ہوئے)تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے کہا کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان(شیوخ)کو(پہلے)دے دوں۔ لڑکے نے کہا اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ کے جھوٹے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں، میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔

حوض سے منہ لگا کر پانی پینا جائز ہے

حدیث نمبر ۵۶۲۱

راوی: جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ انصار کے ایک صحابی کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک رفیق بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رفیق نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں یہ بڑی گرمی کا وقت ہے وہ اپنے باغ میں پانی دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا پانی ہے(تو وہ پلا دو)ورنہ ہم منہ لگا کر پی لیں گے۔ وہ صاحب اس وقت بھی باغ میں پانی دے رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاس مشک میں رات کا رکھا ہوا باسی پانی ہے پھر وہ چھپر میں گئے اور ایک پیالے میں باسی پانی لیا پھر اپنی ایک دودھ دینے والی بکری کا دودھ اس میں نکالا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا پھر وہ دوبارہ لائے اور اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیا۔

بچوں کا بڑوں بوڑھوں کی خدمت کرنا ضروری ہے

حدیث نمبر ۵۶۲۲

راوی: انس رضی اللہ عنہ

میں کھڑا ہوا اپنے قبیلہ میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ میں ان میں سے سب سے چھوٹا تھا، اتنے میں کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی(ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے)کہا کہ شراب پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے پھینک دی۔

سلیمان نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس وقت لوگ کس چیز کی شراب پیتے تھے کہا کہ پکی اور کچی کھجور کی۔

رات کو برتن کا ڈھکنا ضروری ہے

حدیث نمبر ۵۶۲۳

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی جب ابتداء ہو تو اپنے بچوں کو روک لو(اور گھر سے باہر نہ نکلنے دو)کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اس وقت اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا

اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھک دو، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھک سکو اور اپنے چراغ(سونے سے پہلے)بجھا دیا کرو۔

حدیث نمبر ۵۶۲۴

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جب سونے لگو تو چراغ بجھا دو۔ دروازے بند کر دو، مشکوں کے منہ باندھ دو اور کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ دو۔

جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا خواہ لکڑی ہی کے ذریعہ سے ڈھک سکو جو اس کی چوڑائی میں بسم اللہ کہہ کر رکھ دی جائے۔

مشک میں منہ لگا کر پانی پینا درست نہیں ہے

حدیث نمبر ۵۶۲۵

راوی: سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کا منہ کھول کر اس میں منہ لگا کر پانی پینے سے روکا۔

حدیث نمبر ۵۶۲۶

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں اختناث سے منع فرمایا ہے۔ اختناث مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔

مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینا

حدیث نمبر ۵۶۲۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی اور اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ کوئی شخص اپنے پڑوس کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے روکے۔

حدیث نمبر ۵۶۲۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی۔

حدیث نمبر ۵۶۲۹

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کو منع فرمایا تھا۔

برتن میں سانس نہیں لینا چاہیئے

حدیث نمبر ۵۶۳۰

راوی: ابو قتادہؓ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو(پینے کے)برتن میں(پانی پیتے ہوئے)سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے اور جب استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے۔

پانی دو یا تین سانس میں پینا چاہیئے

حدیث نمبر ۵۶۳۱

راوی: شمامہ بن عبداللہ

انس رضی اللہ عنہ دو یا تین سانسوں میں پانی پیتے تھے۔

سونے کے برتن میں کھانا اور پینا حرام ہے

حدیث نمبر ۵۶۳۲

راوی: کیم بن ابی لیلیٰ

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن کو اس پر پھینک مارا

پھر کہا میں نے برتن صرف اس وجہ سے پھینکا ہے کہ اس شخص کو میں اس سے منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم و دیبا کے پہننے سے اور سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ چیزیں ان کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گے۔

چاندی کے برتن میں پینا حرام ہے

حدیث نمبر ۵۶۳۳

راوی: حذیفہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیبا پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دینا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔

حدیث نمبر ۵۶۳۴

راوی: ام سلمہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔

حدیث نمبر ۵۶۳۵

راوی: براء بن عازب رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا تھا اور سات چیزوں سے ہم کو منع فرمایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں

- بیمار کی عیادت کرنے،

- جنازے کے پیچھے چلنے،

- چھینکنے والے کے جواب میں يرحمك الله کہنے،

- دعوت کرنے والے کی دعوت کو قبول کرنے،

- سلام پھیلانے،

- مظلوم کی مدد کرنے اور

- قسم کھانے کے بعد کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا تھا

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں

- سونے کی انگوٹھیوں سے،

- چاندی کے برتن میں پینے سے،

- میثر(زین یا کجاوہ کے اوپر ریشم کا گدا)کے استعمال کرنے سے اور

- قسی(اطراف مصر میں تیار کیا جانے والا ایک کپڑا جس میں ریشم کے دھاگے بھی استعمال ہوتے تھے)کے استعمال کرنے سے

- اور ریشم و دیبا اور استبرق پہننے سے منع فرمایا تھا۔

کٹورہ میں پینا درست ہے

حدیث نمبر ۵۶۳۶

راوی: ام الفضل رضی اللہ عنہا

لوگوں نے عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شبہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک کٹورہ پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالے اور برتن میں پینا

ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا۔

حدیث نمبر ۵۶۳۷

راوی: سہل بن سعد رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا پھر آپ نے اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس انہیں لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے بھیجا اور وہ آئیں اور بنی ساعدہ کے قلعہ میں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور ان کے پاس گئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگیں کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں نے تجھ کو پناہ دی

! لوگوں نے بعد میں ان سے پوچھا۔ تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون تھے۔ اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے تم سے نکاح کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس پر وہ بولیں کہ پھر تو میں بڑی بدبخت ہوں(کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر کے واپس کر دیا)

اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابی کے ساتھ بیٹھے پھر فرمایا کہ سہل! پانی پلاؤ۔ میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا۔

سہل رضی اللہ عنہ ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ ان کو ہبہ کر دیا تھا۔

حدیث نمبر ۵۶۳۸

راوی: عاصم احول

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا ہے وہ پھٹ گیا تھا تو انس رضی اللہ عنہ نے اسے چاندی سے جوڑ دیا۔ پھر عاصم نے بیان کیا کہ وہ عمدہ چوڑا پیالہ ہے۔ چمکدار لکڑی کا بنا ہوا۔

انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے اس پیالہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہا پلایا ہے۔

متبرک پانی پینا

حدیث نمبر ۵۶۳۹

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھوڑے سے بچے ہوئے پانی کے سوا ہمارے پاس اور کوئی پانی نہیں تھا اسے ایک برتن میں رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اپنی انگلیاں پھیلا دیں پھر فرمایا آؤ وضو کر لو یہ اللہ کی طرف سے برکت ہے۔

میں نے دیکھا کہ پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ پھوٹ کر نکل رہا تھا چنانچہ سب لوگوں نے اس سے وضو کیا اور پیا بھی۔ میں نے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ پیٹ میں کتنا پانی جا رہا ہے خوب پانی پیا کیونکہ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ برکت کا پانی ہے۔

میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگ اس وقت کتنی تعداد میں تھے؟ بتلایا کہ ایک ہزار چار سو۔


Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana,

Lahore, Pakistan

Email: cmaj37@gmail.com

Visits wef 2019


website hit counter