صحیح بخاری شریف

قسموں اور نذروں کا بیان

احادیث ۸۷

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے


قسموں اور نذروں کا بیان

اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا :

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ ... كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اللہ تعالیٰ لغو قسموں پر تم کو نہیں پکڑے گا، البتہ ان قسموں پر پکڑے گا جنہیں تم پکے طور سے کھاؤ۔

پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو معمولی کھانا کھلانا ہے، اس اوسط کھانے کے مطابق جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا۔

پس جو شخص یہ چیزیں نہ پائے تو اس کے لیے تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جس وقت تم قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے حکموں کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم شکر کرو۔ (۵:۸۹)

حدیث نمبر ۶۶۲۱

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

بوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کا کفارہ اتارا۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔

حدیث نمبر ۶۶۲۲

راوی: عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھا لے گا، تو جان، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو۔

حدیث نمبر ۶۶۲۳

راوی: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ، میں تمہارے لیے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لیے عنایت فرمایا۔

جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا، واللہ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی۔ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے۔

چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں، واللہ! کوئی بھی قسم اگر کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ جس میں بھلائی ہو گی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا۔

حدیث نمبر ۶۶۲۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔

حدیث نمبر ۶۶۲۵

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ (بسا اوقات) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ (قسم توڑ کر) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے۔

حدیث نمبر ۶۶۲۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں قسم کھانا وَايْمُ اللَّهِ اللہ کی قسم

حدیث نمبر ۶۶۲۷

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیر بنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور اللہ کی قسم! وَايْمُ اللَّهِ زید امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ (اسامہ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے۔

اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ

حدیث نمبر ۶۶۴۶

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خبردار تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے (بشرط صدق) چاہئے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔

حدیث نمبر ۶۶۴۷

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔

حدیث نمبر ۶۶۴۸

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔

حدیث نمبر ۶۶۴۹

راوی: زہدم

جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھا لی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔

جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قسم کھا چکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی قسم سے غافل کر دیا۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پا سکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔

لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھائے

حدیث نمبر ۶۶۵۰

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم تو اسے پھر کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ لینا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہئے کہ (اس کے کفارہ میں) صدقہ کرے۔

بن قسم دیئے قسم کھانا کیسا ہے

حدیث نمبر ۶۶۵۱

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں اس کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔

اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لات اور عزیٰ کی (اتفاقاً بغیر قصد اور عقیدت کے) قسم کھا لی اسے بطور کفارہ کلمہ توحید لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھ لینا چاہئے (ایسے بھول چوک میں قسم کھانے والے کو) آپ نے کفر کی طرف منسوب نہیں فرمایا۔

حدیث نمبر ۶۶۵۲

راوی: ثابت بن ضحاک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا

اور مؤمن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مؤمن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔

اور کیا کوئی شخص یوں کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو اللہ کا آسرا ہے پھر آپ کا؟

یوں کہنا منع ہے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہ ہو گا)

حدیث نمبر ۶۶۵۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانا چاہا (پھر سارا قصہ بیان کیا) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میری روزی کے سارے ذریعے کٹ گئے ہیں اب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا (یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔

اللہ پاک کا سورۃ النور میں ارشاد یہ منافق اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں (۲۴:۵۳)

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! مجھ سے بیان فرمائیے میں نے تعبیر دینے میں کیا غلطی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم مت کھا۔

حدیث نمبر ۶۶۵۴

راوی: براء رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھانے والے کو سچا کرنے کا حکم فرمایا۔

حدیث نمبر ۶۶۵۵

راوی: اسامہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی (زینب) نے آپ کو بلا بھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم بھی بیٹھے تھے۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔

صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلا بھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے۔ اس وقت آپ اٹھے، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے۔ آپ نے اسے گود میں بٹھا لیا وہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ حال پرملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ۶۶۵۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔

حدیث نمبر ۶۶۵۷

راوی: حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے (اس کی قسم پوری کر دے) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔

اگر کسی نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں یا اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتا ہوں

حدیث نمبر ۶۶۵۸

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا زمانہ، پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔

ابراہیم نے کہا کہ ہمارے اساتذہ جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔

جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے

حدیث نمبر ۶۶۵۹

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس مقصد سے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی :

إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ ‏

بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے ذریعہ خریدتے ہیں۔(۳:۷۷)

حدیث نمبر ۶۶۶۰

راوی: اشعث رضی اللہ عنہ

یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا۔

اللہ تعالیٰ کی عزت، اس کی صفات اور اس کے کلمات کی قسم کھانا

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا اور عرض کرے گا اے میرے رب! میرا چہرہ دوزخ سے دوسری طرف پھیر دے، ہرگز نہیں، تیری عزت کی قسم، میں کچھ اور تجھ سے نہیں مانگوں گا۔

ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کے دس گنا اور زیادہ۔

ایوب علیہ السلام نے کہا کہ اور تیری عزت کی قسم، تیری برکت سے میں بےپرواہ نہیں ہو سکتا۔

حدیث نمبر ۶۶۶۱

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔

کوئی شخص کہے کہ لَعَمْرُ اللَّهِ یعنی اللہ کی بقا کی قسم کھانا

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لَعَمْرُكَ ‏ کے بارے میں کہا کہ اس سے لَعَيْشُكَ ‏ مراد ہے۔

حدیث نمبر ۶۶۶۲

راوی: عروہ بن زبیر

میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کیا۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔

پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! لَعَمْرُ اللَّهِ ہم ضرور اسے قتل کر دیں گے۔

مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے۔

سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان :

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ

وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا بلکہ ان قسموں کے بارے میں کرے گا جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو گا اور اللہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا بہت بردبار ہے۔ (۲:۲۲۵)

حدیث نمبر ۶۶۶۳

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

اللہ تعالیٰ کا فرمان:

لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ

اللہ تعالیٰ تم سے لغو قسموں کے بارے میں پکڑ نہیں کرے گا۔(۲:۲۲۵)

راوی نے بیان کیا کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت لَا وَاللَّهِ‏‏‏‏ بَلَى وَاللَّهِ (بے ساختہ جو قسمیں عادت بنا لی جاتی ہیں) کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں

اور اللہ عزوجل نے فرمایا ‏‏‏‏ :

وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُمْ بِهِ ‏

تم پر اس قسم کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جو غلطی سے تم کھا بیٹھو۔ (۳۳:۵)

اور فرمایا ‏‏‏‏ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ کہ بھول چوک میں مجھ پر مؤاخذہ نہ کرو۔ (۱۸:۷۳)

حدیث نمبر ۶۶۶۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان غلطیوں کو معاف کیا ہے جن کا صرف دل میں وسوسہ گزرے یا دل میں اس کے کرنے کی خواہش پیدا ہو، مگر اس کے مطابق عمل نہ ہو اور نہ بات کی ہو۔

حدیث نمبر ۶۶۶۵

راوی: عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجۃ الوداع میں) قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان کو فلاں فلاں ارکان سے پہلے خیال کرتا تھا (اس غلطی سے ان کو آگے پیچھے ادا کیا) اس کے بعد دوسرے صاحب کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں فلاں فلاں ارکان حج کے متعلق یونہی خیال کرتا تھا ان کا اشارہ حلق، رمی اور نحرکی طرف تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یونہی کر لو (تقدیم و تاخیر کرنے میں) آج ان میں سے کسی کام میں کوئی حرج نہیں ہے۔

چنانچہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس مسئلہ میں بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ کر لو کوئی حرج نہیں۔

حدیث نمبر ۶۶۶۶

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ تیسرے نے کہا کہ میں نے رمی کرنے سے پہلے ہی ذبح کر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔

حدیث نمبر ۶۶۶۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

ایک صحابی مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کنارے تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ صحابی آئے اور سلام کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا پھر نماز پڑھ، اس لیے کہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور پھر نماز پڑھ کر آئے اور سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی ان سے یہی فرمایا کہ واپس جا اور نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی۔ آخر تیسری مرتبہ میں وہ صحابی بولے کہ پھر مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کر لیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر کہو اور جو کچھ قرآن مجید میں تمہیں یاد ہے اور تم آسانی کے ساتھ پڑھ سکتے ہو اسے پڑھا کرو، پھر رکوع کرو اور سکون کے ساتھ رکوع کر چکو تو اپنا سر اٹھاؤ اور جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو سجدہ کرو، جب سجدے کی حالت میں اچھی طرح ہو جاؤ تو سجدہ سے سر اٹھاؤ، یہاں تک کہ سیدھے ہو جاؤ اور اطمینان سے بیٹھ جاؤ، پھر سجدہ کرو اور جب اطمینان سے سجدہ کر لو تو سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، یہ عمل تم اپنی پوری نماز میں کرو۔

حدیث نمبر ۶۶۶۸

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

جب احد کی لڑائی میں مشرک شکست کھا گئے اور اپنی شکست ان میں مشہور ہو گئی تو ابلیس نے چیخ کر کہا (مسلمانوں سے) کہ اے اللہ کے بندو! پیچھے دشمن ہے چنانچہ آگے کے لوگ پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والے (مسلمانوں ہی سے) لڑ پڑے۔ اس حالت میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ان کے مسلمان والد کو بےخبری میں مار رہے ہیں تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ یہ تو میرے والد ہیں جو مسلمان ہیں، میرے والد!

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم لوگ پھر بھی باز نہیں آئے اور آخر انہیں قتل کر ہی ڈالا۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تمہاری مغفرت کرے۔

عروہ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد کی اس طرح شہادت کا آخر وقت تک رنج اور افسوس ہی رہا یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔

حدیث نمبر ۶۶۶۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے روزہ رکھا ہو اور بھول کر کھا لیا ہو تو اسے اپنا روزہ پورا کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔

حدیث نمبر ۶۶۷۰

راوی: عبداللہ بن بجینہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعات کے بعد بیٹھنے سے پہلے ہی اٹھ گئے اور نماز پوری کر لی۔ جب نماز پڑھ چکے تو لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کا انتظار کیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور دوبارہ تکبیر کہہ کر سجدہ کیا۔ پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور سلام پھیرا۔

حدیث نمبر ۶۶۷۱

راوی: ابن مسعود رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی اور نماز میں کوئی چیز زیادہ یا کم کر دی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ! نماز میں کچھ کمی کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس اس طرح نماز پڑھائی ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو سجدے (سہو کے) کئے

اور فرمایا یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں جسے یقین نہ ہو کہ اس نے اپنی نماز میں کمی یا زیادہ کر دی ہے اسے چاہئے کہ صحیح بات تک پہنچنے کے لیے ذہن پر زور ڈالے اور جو باقی رہ گیا ہو اسے پورا کرے پھر دو سجدے (سہو کے) کر لے۔

حدیث نمبر ۶۶۷۲

راوی: ابی بن کعب رضی اللہ عنہ

آیت لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا (۱۸:۷۳)کے متعلق کہ پہلی مرتبہ اعتراض موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوا تھا۔

حدیث نمبر ۶۶۷۳

راوی: براء بن عازب رضی اللہ عنہ

ان کے یہاں کچھ ان کے مہمان ٹھہرے ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ان کے واپس آنے سے پہلے جانور ذبح کر لیں تاکہ ان کے مہمان کھائیں، چنانچہ انہوں نے نماز عید الاضحی سے پہلے جانور ذبح کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ نماز کے بعد دوبارہ ذبح کریں۔ براء رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس ایک سال سے زیادہ دودھ والی بکری ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بڑھ کر ہے۔

ابن عوف شعبی کی حدیث کے اس مقام پر ٹھہر جاتے تھے اور محمد بن سیرین سے اسی حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے تھے اور اس مقام پر رک کر کہتے تھے کہ مجھے معلوم نہیں، یہ رخصت دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے یا صرف براء رضی اللہ عنہ کے لیے ہی تھی۔

حدیث نمبر ۶۶۷۴

راوی: جندب رضی اللہ عنہ

میں اس وقت تک موجود تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو اسے چاہئے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ابھی ذبح نہ کیا ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا نام لے کر جانور ذبح کرے۔

قسموں کا بیان

اللہ نے سورۃ النحل میں فرمایا:

وَلا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلا بَيْنَكُمْ ... وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

اپنی قسموں کو آپس میں فساد کی بنیاد نہ بناؤ اس لیے کہ اسلام پر لوگوں کا قدم جمے اور پھر اکھڑ جائے اور اللہ کی راہ سے روکنے کے بدلے تم کو دوزخ کا عذاب چکھنا پڑے، تم کو سخت سزا دی جائے۔(۱۶:۹۴)

اس آیت میں جو دَخَلًا کا لفظ ہے اس کے معنی دغا اور فریب کے ہیں۔

حدیث نمبر ۶۶۷۵

راوی: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کی ناحق جان لینا

اور وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ قصداً جھوٹی قسم کھانے کو کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمانا :

‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا ... وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

جو لوگ اللہ کا نام لے کر عہد کر کے قسمیں کھا کر اپنی قسموں کے بدلہ میں تھوڑی پونجی دنیا کی مول لیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نیک نہیں ہو گا

اور اللہ ان سے بات بھی نہیں کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف رحمت کی نظر ہی کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا (۳:۷۷)

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ‏‏‏‏ ‏

اور اللہ کو قسمیں کھا کر نیکی اور پرہیزگاری اور لوگوں میں میل کرا دینے کی روک نہ بناؤ اور اللہ سنتا جانتا ہے (۲:۲۲۴)

اور سورۃ النحل میں فرمایا:

وَلاَ تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً إِنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ‏

اللہ کا عہد کر کے دنیا کا تھوڑا سا مول مت لو۔ اللہ کے پاس جو کچھ ثواب اور اجر ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو (۱۶:۹۵)

اور سورۃ النحل میں فرمایا:

وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلاَ تَنْقُضُوا الأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلاً ‏

اور اللہ کا نام لے کر جو عہد کرو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد پھر نہ توڑو (کیسے توڑو گے) تم اللہ کی ضمانت اپنی بات پر دے چکے ہو۔ (۱۶:۹۱)

حدیث نمبر ۶۶۷۶

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس طور سے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق وحی کے ذریعہ نازل کی:

إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا ‏

بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی دنیا کی پونجی خریدتے ہیں ... ۔(۳:۷۷)

حدیث نمبر ۶۶۷۷

راوی: اشعث بن قیس

عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی۔

انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی۔

میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا۔

ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لیے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

حدیث نمبر ۶۶۷۸

راوی: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا (کیونکہ موجود نہیں ہیں) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا (یہ کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا۔

حدیث نمبر ۶۶۷۹

راوی: زہری

میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے سنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کی بات کے متعلق، جب ان پر اتہام لگانے والوں نے اتہام لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس اتہام سے بری قرار دیا تھا، ان سب لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کوئی ایک ٹکڑا بیان کیا (اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ ‏

بلاشبہ جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے(۲۴:۱۱) دس آیتوں تک۔

جو سب کی سب میری پاکی بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی تھیں۔

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ قرابت کی وجہ سے ان کا خرچ اپنے ذمہ لیے ہوئے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم اب کبھی مسطح پر کوئی چیز ایک پیسہ خرچ نہیں کروں گا۔ اس کے بعد کہ اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس طرح کی جھوٹی تہمت لگائی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی :

وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل(اور صاحب)وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں کچھ خرچ نہیں دیں گے ۔(۲۴:۲۲)

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا، کیوں نہیں، اللہ کی قسم میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ انہوں نے پھر مسطح کو وہ خرچ دینا شروع کر دیا جو اس سے پہلے انہیں دیا کرتے تھے اور کہا کہ اللہ کی قسم میں اب خرچ دینے کو کبھی نہیں روکوں گا۔

حدیث نمبر ۶۶۸۰

راوی: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

میں قبیلہ اشعر کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ تھے پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد فرمایا واللہ، اللہ نے چاہا تو میں کبھی بھی اگر کوئی قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور قسم توڑ دوں گا۔

جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا

پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل کلام چار ہیں،سُبْحَانَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ،‏‏‏‏ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ‏‏‏‏

ابوسفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو لکھا تھا، آ جاؤ اس کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر مانا جاتا ہے۔

مجاہد نے کہا کہ كلمہ التقوىٰ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ہے۔

حدیث نمبر ۶۶۸۱

راوی: مسیب رضی اللہ عنہ

جب جناب ابوطالب کی موت کی وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کہہ دیجئیے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تو میں آپ کے لیے اللہ سے جھگڑ سکوں گا۔

حدیث نمبر ۶۶۸۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر (آخرت میں) بھاری ہیں اور اللہ رحمٰن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ۔

حدیث نمبر ۶۶۸۳

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے (اسی پر قیاس کرتے ہوئے) دوسرا کلمہ کہا (کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو گا تو وہ جہنم میں جائے گا۔ اور میں نے دوسری بات کہی کہ جو شخص اس حال میں مر جائے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو گا وہ جنت میں جائے گا۔

جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا

اور مہینے ۲۹ دن کا ہوا اور وہ اپنی عورت کے پاس گیا تو وہ بگاڑنہ ہو گا

حدیث نمبر ۶۶۸۴

راوی: انس رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ ایلاء کیا (یعنی قسم کھائی کہ آپ ان کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے پھر وہاں سے اترے، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے ایلاء ایک مہینے کے لیے کیا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔

اگر کسی نے قسم کھائی کہ نبیذ نہیں پئے گا

پھر قسم کے بعد اس نے انگور کا پکا ہوا یا میٹھا پانی یا کوئی نشہ آور چیز یا انگور سے نچوڑا ہوا پانی پیا

تو بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کیونکہ یہ چیزیں ان کے رائے میں نبیذ نہیں ہیں

حدیث نمبر ۶۶۸۵

راوی: سہل بن سعد رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں، پھر سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، تمہیں معلوم ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ کہا کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا۔

حدیث نمبر ۶۶۸۶

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ سودہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ان کی ایک بکری مر گئی تو اس کے چمڑے کو ہم نے دباغت دے دیا۔ پھر ہم اس کی مشک میں نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہو گئی۔

جب کسی نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھائے گا

پھر اس نے روٹی کھجور کے ساتھ کھائی یا کسی اور سالن کے طور پر استعمال ہو سکنے والی چیز کھائی (تو اس کو سالن ہی مانا جائے گا)

حدیث نمبر ۶۶۸۷

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پے در پے تین دن تک سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی نہیں کھا سکے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔

حدیث نمبر ۶۶۸۸

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں سن کر آ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز (فاقوں کی وجہ سے) کمزور پڑ گئی ہے اور میں نے آواز سے آپ کے فاقہ کا اندازہ لگایا ہے۔ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں اور ایک اوڑھنی لے کر روٹی کو اس کے ایک کونے سے لپیٹ دیا اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھجوایا۔

میں لے کر گیا تو میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے ساتھ کچھ لوگ ہیں، میں ان کے پاس جا کے کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا تمہیں ابوطلحہ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا جو ساتھ تھے کہ اٹھو اور چلو، میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔ آخر میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں پہنچا اور ان کو اطلاع دی۔ ابوطلحہ نے کہا ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور ہمارے پاس تو کوئی ایسا کھانا نہیں ہے جو سب کو پیش کیا جا سکے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔

پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ باہر نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوطلحہ گھر کی طرف بڑھے اور اندر گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ام سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے میرے پاس لاؤ۔ وہ یہی روٹیاں لائیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کو چورا کر دیا گیا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک (گھی کی) کپی کو نچوڑا گیا یہی سالن تھا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا کہ اللہ نے چاہا دعا پڑھی اور فرمایا کہ دس دس آدمیوں کو اندر بلاؤ انہیں بلایا گیا اور اس طرح سب لوگوں نے کھایا اور خوب سیر ہو گئے، حاضرین کی تعداد ستر یا اسی آدمیوں کی تھی۔

قسموں میں نیت کا اعتبار ہو گا

حدیث نمبر ۶۶۸۹

راوی: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ بلاشبہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور انسان کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو واقعی وہ انہیں کے لیے ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

جب کوئی شخص اپنا مال نذر یا توبہ کے طور پر خیرات کر دے

حدیث نمبر ۶۶۹۰

راوی: عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک

جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں ایک یہی کہیں آنے جانے میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت ‏‏‏‏ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا کے سلسلہ میں سنا، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ (میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ) اپنی توبہ کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔

اگر کوئی شخص اپنا کھانا اپنے اوپر حرام کر لے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ التحریم میں فرمایا:

يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ ... قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ

‏اے نبی! آپ کیوں وہ چیز حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے، آپ اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہیں

اور اللہ بڑا مغفرت کرنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کا کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے۔ (۶۶:۱،۲)

اورسورۃ المائدہ میں فرمایا:

لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ

حرام نہ کرو ان پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔ (۵:۸۷)

حدیث نمبر ۶۶۹۱

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں رکتے تھے اور شہد پیتے تھے۔ پھر میں نے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے عہد کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئیں تو وہ کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے، آپ نے مغافیر تو نہیں کھائی ہے؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایک کے یہاں تشریف لائے تو انہوں نے یہی بات آپ سے پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے شہد پیا ہے زینب بنت جحش کے یہاں اور اب کبھی نہیں پیؤں گا۔ (کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین ہو گیا کہ واقعی اس میں مغافیر کی بو آتی ہے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی :

يَأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ

اے نبی! آپ ایسی چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے۔(۶۶:۱)

إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ (۶۶:۴) میں عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف اشارہ ہے اور وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سے اشارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف ہے کہ نہیں میں نے شہد پیا ہے۔

اور مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے ہشام سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اب کبھی میں شہد نہیں پیؤں گا میں نے قسم کھا لی ہے تم اس کی کسی کو خبر نہ کرنا (پھر آپ نے اس قسم کو توڑ دیا)۔

منت، نذر پوری کرنا واجب ہے

اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ الدہر میں ارشاد يُوفُونَ بِالنَّذْرِ ‏ (۷۶:۷) وہ جو اپنی منت، نذر پوری کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ۶۶۹۲

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے۔

حدیث نمبر ۶۶۹۳

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ کسی چیز کو واپس نہیں کر سکتی، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے۔

حدیث نمبر ۶۶۹۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نذر انسان کو کوئی ایسی چیز نہیں دیتی جو اس کے مقدر میں نہ ہو، البتہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ بخیل سے اس کا مال نکلواتا ہے اور اس طرح وہ چیزیں صدقہ کر دیتا ہے جس کی اس سے پہلے اس کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔

اس شخص کا گناہ جو نذر پوری نہ کرے

حدیث نمبر ۶۶۹۵

راوی: زہدم بن مضرب

میں نے عمران بن حصین سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، اس کے بعد ان کا جو اس کے قریب ہوں گے۔ اس کے بعد وہ جو اس سے قریب ہوں گے۔ پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو نذر مانے گی اور اسے پورا نہیں کرے گی، خیانت کرے گی اور ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔ وہ گواہی دینے کے لیے تیار رہیں گے جب کہ ان سے گواہی کے لیے کہا بھی نہیں جائے گا اور ان میں موٹاپا عام ہو جائے گا۔

اسی نذر کا پورا کرنا لازم ہے جو عبادت اور اطاعت کے کام کے لیے کی جائے نہ کہ گناہ کے لیے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ۔۔۔

جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو یا شیطان کی راہ میں اللہ کو اس کی خبر ہے اسی طرح جو نذر تم مانو ۔۔۔(۲:۲۷۰)

حدیث نمبر ۶۶۹۶

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس کی نذر مانی ہو کہ اللہ کی اطاعت کرے گا تو اسے اطاعت کرنی چاہئے لیکن جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہو اسے نہ کرنی چاہئے۔

جب کسی نے جاہلیت میں (اسلام لانے سے پہلے) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو؟

حدیث نمبر ۶۶۹۷

راوی: ابن عمر رضی اللہ عنہما

عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد الحرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر۔

جو مر گیا اور اس پر کوئی نذر باقی رہ گئی

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک عورت سے، جس کی ماں نے قباء میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی، کہا کہ اس کی طرف سے تم پڑھ لو۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی یہی کہا تھا۔

حدیث نمبر ۶۶۹۸

راوی: سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جو ان کی والدہ کے ذمہ باقی تھی اور ان کی موت نذر پوری کرنے سے پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فتویٰ دیا کہ نذر وہ اپنی ماں کی طرف سے پوری کر دیں۔ چنانچہ بعد میں یہی طریقہ مسنونہ قرار پایا۔

حدیث نمبر ۶۶۹۹

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میری بہن نے نذر مانی تھی کہ حج کریں گی لیکن اب ان کا انتقال ہو چکا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ان پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟ انہوں نے عرض کی ضرور ادا کرتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کا قرض پورا ادا کیا جائے۔

ایسی چیز کی نذر جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے

حدیث نمبر ۶۷۰۰

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی ہو اسے چاہئے کہ اطاعت کرے اور جس نے گناہ کرنے کی نذر مانی ہو پس وہ گناہ نہ کرے۔

حدیث نمبر ۶۷۰۱

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا تھا۔

حدیث نمبر ۶۷۰۲

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا۔

حدیث نمبر ۶۷۰۳

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کعبہ کا ایک شخص اس طرح طواف کر رہا تھا کہ دوسرا شخص اس کی ناک میں رسی باندھ کر اس کے آگے سے اس کی رہنمائی کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی اپنے ہاتھ سے کاٹ دی، پھر حکم دیا کہ ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے۔

حدیث نمبر ۶۷۰۴

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کو کھڑے دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل نامی ہیں۔ انہوں نے نذر مانی ہے کہ کھڑے ہی رہیں گے، بیٹھیں گے نہیں، نہ کسی چیز کے سایہ میں بیٹھیں گے اور نہ کسی سے بات کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو کہ بات کریں، سایہ کے نیچے بیٹھیں اٹھیں اور اپنا روزہ پورا کر لیں۔

جس نے کچھ خاص دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو

پھر اتفاق سے ان دنوں میں بقر عید یا عید ہو گئی تو اس دن روزہ نہ رکھے (جمہور کا یہی قول ہے)

حدیث نمبر ۶۷۰۵

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں؟

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے۔

حدیث نمبر ۶۷۰۶

راوی: زیادہ بن جبیر

میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے نذر مانی ہے کہ ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا۔ اتفاق سے اسی دن کی بقر عید پڑ گئی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور ہمیں بقر عید کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس شخص نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا تو آپ نے پھر اس سے صرف اتنی ہی بات کہی اس پر کوئی زیادتی نہیں کی۔

کیا قسموں اور نذروں میں زین، بکریاں، کھیتی اور سامان بھی آتے ہیں؟

عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے ایسی زمین مل گئی ہے کہ کبھی اس سے عمدہ مال نہیں ملا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاہو تو اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، بیرحاء نامی باغ مجھے اپنے تمام اموال میں سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ یہ مسجد نبوی کے سامنے ایک باغ تھا۔

حدیث نمبر ۶۷۰۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی کے لیے نکلے۔ اس لڑائی میں ہمیں سونا، چاندی غنیمت میں نہیں ملا تھا بلکہ دوسرے اموال، کپڑے اور سامان ملا تھا۔ پھر بنی خبیب کے ایک شخص رفاعہ بن زید نامی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ میں دیا غلام کا نام مدعم تھا۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وادی قریٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور جب آپ وادی القریٰ میں پہنچ گئے تو مدعم کو جب کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ درست کر رہا تھا۔ ایک انجان تیر آ کر لگا اور اس کی موت ہو گئی۔ لوگوں نے کہا کہ جنت اسے مبارک ہو، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ کمبل جو اس نے تقسیم سے پہلے خیبر کے مال غنیمت میں سے چرا لیا تھا، وہ اس پر آگ کا انگارہ بن کر بھڑ رہا ہے۔

جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک شخص چپل کا تسمہ یا دو تسمے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آگ کا تسمہ ہے یا دو تسمے آگ کے ہیں۔


Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana,

Lahore, Pakistan

Email: cmaj37@gmail.com

Visits wef 2019


website hit counter