صحیح بخاری شریف

اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کا بیان

احادیث ۱۹۳

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا

حدیث نمبر ۷۳۷۱

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔

حدیث نمبر ۷۳۷۲

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں اور میری رسالت کو مانیں جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔

حدیث نمبر ۷۳۷۳

راوی: معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ!کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔

کیا تمہیں معلوم ہے پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔

حدیث نمبر ۷۳۷۴

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

ایک شخص نے ایک دوسرے شخص قتادہ بن نعمان کو باربار قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس طرح واقعہ بیان کیا جیسے وہ اسے کم سمجھتے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔

حدیث نمبر ۷۳۷۵

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد

قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ ۖ أَيًّا مَا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى

آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمٰن کو، جس نام سے بھی پکارو گے تو اللہ کے سب اچھے نام ہیں (۱۷:۱۱۰)

حدیث نمبر ۷۳۷۶

راوی: جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں پر رحم نہیں کھاتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کھاتا۔

حدیث نمبر ۷۳۷۷

راوی: اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی زینب کے بھیجے ہوئے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کے لڑکے جاں کنی میں مبتلا ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں بتا دو کہ اللہ ہی کا سب مال ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے دیدے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے پس ان سے کہو کہ صبر کریں اور اس پر صبر ثواب کی نیت سے کریں۔

صاحبزادی نے دوبارہ آپ کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن معاذ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی کھڑے ہوئے پھر جب آپ صاحبزادی کے گھر پہنچے تو بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی جیسے پرانی مشک کا حال ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ!یہ کیا ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ والذاریات میں ارشاد :

إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ

میں بہت روزی دینے والا، زوردار مضبوط ہوں (۵۱:۵۸)

حدیث نمبر ۷۳۷۸

راوی: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے، کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الجن میں ارشاد کہ وہ غیب کا جاننے والا ہے اور اپنے غیب کو کسی پر نہیں کھولتا (۷۲:۲۶)

اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ لقمان میں فرمایا :

إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ

بلاشبہ اللہ کے پاس قیامت کا علم ہے۔ (۳۱:۳۴)

اور أَنزَلَهُ ۥ بِعِلۡمِهِۦ‌ۖ اس نے اپنے علم ہی سے اسے نازل کیا۔ (۴:۱۶۶)

سورہ فاطر میں فرمایا:

وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ۚ

اور عورت جسے اپنے پیٹ میں اٹھاتی ہے اور جو کچھ جنتی ہے وہ اسی کے علم کے مطابق ہوتا ہے ۔ (۳۵:۱۱)

إِلَيۡهِ يُرَدُّ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ‌ۚ اور اسی کی طرف قیامت میں لوٹایا جائے گا۔ (۴۱:۴۷)

یحییٰ بن زیادہ فراء نے کہا ہر چیز پر ظاہر ہے یعنی علم کی وجہ سے اور ہر چیز پر باطن ہے یعنی علم کی وجہ سے۔

حدیث نمبر ۷۳۷۹

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیب کی پانچ کنجیاں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔

- اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا ہے،

- اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا،

- اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی،

- اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس جگہ کوئی مرے گا

- اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔

حدیث نمبر ۷۳۸۰

راوی: مسروق

عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحشر میں ارشاد اللہ سلامتی دینے والا السلام امن دینے والا مؤمن ہے (۵۹:۲۳)

حدیث نمبر ۷۳۸۱

راوی: عبداللہ رضی اللہ عنہ

ہم ابتداء اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ تو خود ہی السَّلَامُ ہے، البتہ اس طرح کہا کرو :

التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ،‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ،‏‏‏‏

السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ،‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الناس میں ارشاد کہ لوگوں کا بادشاہ (۱۱۴:۲)

حدیث نمبر ۷۳۸۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہے ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور وہی غالب ہے، حکمت والا

اور فرمایا اے رسول!تیرا مالک عزت والا ہے، ان باتوں سے پاک ہے جو یہ کافر بناتے ہیں۔

اور فرمایا عزت اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہے۔ اور جو شخص اللہ کی عزت اور اس کی دوسری صفات کی قسم کھاتے تو وہ قسم منعقد ہو جائے گی۔

اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو جہنم کہے گی بس بس، تیری عزت کی قسم!

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا جو سب سے آخری دوزخی ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے اور کہے گا اے رب!میرا چہرہ جہنم سے پھیر دے، تیری عزت کی قسم اس کے سوا اور میں کچھ نہیں مانگوں گا۔

ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل کہے گا کہ تمہارے لیے یہ ہے اور اس سے دس گنا

اور ایوب علیہ السلام نے دعا کی اور تیری عزت کی قسم!کیا میں تیری عنایت اور سرفرازی سے کبھی بےپروا ہو سکتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۳۸۳

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی معبود تیرے سوا نہیں، تیری ایسی ذات ہے جسے موت نہیں اور جن و انس فنا ہو جائیں گے۔

حدیث نمبر ۷۳۸۴

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخیوں کو برابر دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہے جائے گی کہ کیا ابھی اور ہے۔ یہاں تک کہ رب العالمین اس پر اپنا قدم رکھ دے گا اور پھر اس کا بعض بعض سے سمٹ جائے گا اور اس وقت وہ کہے گی کہ بس بس تیری عزت اور کرم کی قسم!اور جنت میں جگہ باقی رہ جائے گی۔ یہاں تک کہ اللہ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا کر دے گا اور وہ لوگ جنت کے باقی حصے میں رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں ارشاد :

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ

اور وہی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا (۶:۷۳)

حدیث نمبر ۷۳۸۵

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں یہ دعا کرتے تھے :

اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ،‏‏‏‏ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ،‏‏‏‏ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ لَكَ الْحَمْدُ،

‏ اے اللہ!تیرے ہی لیے تعریف ہے تو آسمان و زمین کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہی ہے تو آسمان و زمین کا قائم کرنے والا ہے اور ان سب کا جو اس میں ہیں۔ تیری ہی لیے حمد ہے

‏‏‏‏ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ قَوْلُكَ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ،‏‏‏‏

تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تیری ملاقات سچ اور جنت سچ اور دوزخ سچ ہے اور قیامت سچ ہے۔

اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ،‏‏‏‏ وَبِكَ آمَنْتُ،‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ،‏‏‏‏ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ،‏‏‏‏

اے اللہ!میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا، میں تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔

وَبِكَ خَاصَمْتُ،‏‏‏‏ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ،

میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔

‏‏‏‏ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ،‏‏‏‏ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ،‏‏‏‏ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ لِي غَيْرُكَ

پس تو میری مغفرت کر، ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں جو میں نے چھپا رکھے ہیں اور جن کا میں نے اظہار کیا ہے، تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد اور اللہ بہت سننے والا، بہت دیکھنے والا ہے

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ساری حمد اسی اللہ کے لیے سزاوار ہے جو تمام آوازوں کو سنتا ہے پھر خولہ بنت ثعلبہ کا قصہ بیان کیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا

اللہ تعالیٰ نے اس کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑا کرتی تھی۔ (۵۸:۱)

حدیث نمبر ۷۳۸۶

راوی: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور جب ہم بلندی پر چڑھتے تو زور سے چلا کر تکبیر کہتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو!اپنے اوپر رحم کھاؤ!اللہ بہرا نہیں ہے اور نہ وہ کہیں دور ہے۔ تم ایک بہت سننے، بہت واقف کار اور قریب رہنے والی ذات کو بلاتے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں اس وقت دل میں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ‏‏‏‏ کہہ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا عبداللہ بن قیس! لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ کہا کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

حدیث نمبر ۷۳۸۷ - ۷۳۸۸

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ!مجھے ایسی دعا سکھائیے جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پڑھا کرو :

اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ،

اے اللہ!میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا گناہوں کو اور کوئی نہیں بخشتا،

‏‏‏‏ فَاغْفِرْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَغْفِرَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

پس میرے گناہ اپنے پاس سے بخش دے، بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔

حدیث نمبر ۷۳۸۹

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی اور وہ بھی سن لیا جو انہوں نے آپ کو جواب دیا۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں فرمانا کہ کہہ دیجئیے کہ وہی قدرت والا ہے

حدیث نمبر ۷۳۹۰

راوی: جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے :

اے اللہ!میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔

کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔

اے اللہ!پس اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ میرے دین میں اور گزران میں

اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔

اے اللہ!اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور گزراہ کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے،

یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔

اللہ کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ دلوں کا پھیرنے والا ہے

اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں فرمان :

وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ

اور ہم ان کے دلوں کو اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے (۶:۱۱۰)

حدیث نمبر ۷۳۹۱

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم اس طرح کھاتے قسم اس کی جو دلوں کا پھیر دینے والا ہے۔

اللہ کے ننانوے نام ہیں

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ذُو الْجَلَالِ کے معنی جلال اور عظمت والا۔ الْبَرُّ کے معنی لطیف اور باریک بین۔

حدیث نمبر ۷۳۹۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں جائے گا۔

اللہ کے ناموں کے وسیلہ سے مانگنا اور ان کے ذریعہ پناہ چاہنا

حدیث نمبر ۷۳۹۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ صاف کر لے اور یہ دعا پڑھے:

بِاسْمِكَ رَبِّ،‏‏‏‏ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي،‏‏‏‏ فَاغْفِرْ لَهَا

اے میرے رب!تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا

وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا،‏‏‏‏ فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ

اور اگر اسے اپنی طرف سوتے ہی میں اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۳۹۴

راوی: حذیفہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے جاتے تو یہ دعا کرتے:

اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ

اے اللہ!تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ مروں گا۔

اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے :

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اس کے بعد زندہ کیا کہ ہم مر چکے تھے اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔

حدیث نمبر ۷۳۹۵

راوی: ابوذر رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں لیٹنے جاتے تو کہتے

بِاسْمِكَ نَمُوتُ وَنَحْيَا

ہم تیرے ہی نام سے مریں گے اور اسی سے زندہ ہوں گے۔

اور جب بیدار ہوتے تو کہتے

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ

تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔

حدیث نمبر ۷۳۹۶

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے

بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا

شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ!ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔

تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

حدیث نمبر ۷۳۹۷

راوی: عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان کے ساتھ اللہ کا نام بھی لے لو، پھر وہ کوئی شکار پکڑیں اور اسے کھائیں نہیں تو تم اسے کھا سکتے ہو اور جب شکار پر بن پھال کے تیر یعنی لکڑی سے کوئی شکار مارے لیکن وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار بھی کھاؤ۔

حدیث نمبر ۷۳۹۸

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

لوگوں نے کہا یا رسول اللہ!وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔

حدیث نمبر ۷۳۹۹

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا۔

حدیث نمبر ۷۴۰۰

راوی: جندب رضی اللہ عنہ

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔

حدیث نمبر ۷۴۰۱

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو، اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔

اللہ تعالیٰ کو ذات کہہ سکتے ہیں اسی طرح شخص بھی کہہ سکتے ہیں یہ اس کے اسماء اور صفات ہیں

اور خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت کہا کہ یہ سب تکلیف اللہ کی ذات مقدس کے لیے ہے تو اللہ کے نام کے ساتھ انہوں نے ذات کا لفظ لگایا۔

حدیث نمبر ۷۴۰۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر دس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کے ہاں بھیجا۔ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے اور قید میں تھے تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا، جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔

اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا

اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا۔

پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں ارشاد اور اللہ اپنی ذات سے تمہیں ڈراتا ہے (۳:۲۸)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ المائدہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے الفاظ میں :

تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ

اور یا اللہ!تو وہ جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے لیکن میں وہ نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے۔ (۵:۱۱۶)

حدیث نمبر ۷۴۰۳

راوی: عبداللہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں اور اسی لیے اس نے فواحش کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۰۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں اسے لکھا، اس نے اپنی ذات کے متعلق بھی لکھا اور یہ اب بھی عرش پر لکھا ہوا موجود ہے

إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي

میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۰۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ القصص میں ارشاد اللہ کے منہ کے سوا تمام چیزیں مٹ جانے والی ہیں (۲۸:۸۸)

حدیث نمبر ۷۴۰۶

راوی: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

جب یہ آیت نازل ہوئی :

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ

آپ کہہ دیجئیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے۔ (۶:۶۵)

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا أَعُوذُ بِوَجْهِكَ میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

پھر آیت کے یہ الفاظ نازل ہوئے :

أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ

وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب آ جائے۔ (۶:۶۵)

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا کیأَعُوذُ بِوَجْهِكَ کہ میں تیرے منہ کی پناہ چاہتا ہوں۔

پھر یہ آیت نازل ہوئی :

أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا

یا تمہیں فرقہ بندی میں مبتلا کر دے ۔ (۶:۶۵)

کہ یہ بھی عذاب کی قسم ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسان ہے بہ نسبت اگلے عذابوں کے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ طہٰ میں موسیٰ علیہ السلام سے فرمانا کہ میری آنکھوں کے سامنے تو پرورش پائے (۲۰:۳۹)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ القمر میں تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا نوح کی کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے پانی پر تیر رہی تھی۔ (۵۴:۱۴)

حدیث نمبر ۷۴۰۷

راوی: عبداللہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔

حدیث نمبر ۷۴۰۸

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جتنے نبی بھیجے ان سب نے جھوٹے کانے دجال سے اپنی قوم کو ڈرایا، وہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب آنکھوں والا ہے کانا نہیں ہے، اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا لفظ کافر۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الحشر میں ارشاد:

هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ

وہی اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا نقشہ کھینچنے والا ہے (۵۹:۲۴)

حدیث نمبر ۷۴۰۹

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

غزوہ بنو المصطلق میں انہیں باندیاں غنیمت میں ملیں تو انہوں نے چاہا کہ ان سے ہمبستری کریں لیکن حمل نہ ٹھہرے۔ چنانچہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عزل بھی کرو تو کوئی قباحت نہیں مگر قیامت تک جس جان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا لکھ دیا ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی اس لیے تمہارا عزل کرنا بیکار ہے۔

موجودہ جبری نسل بندی کا جواز اس سے نکالنا بالکل غلط ہے۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی جان جو پیدا ہونی ہے، اللہ تعالیٰ ضرور اسے پیدا کر کے رہے گا۔

اللہ تعالیٰ نے شیطان سے فرمایا تو نے اس کو کیوں سجدہ نہیں کیا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا

حدیث نمبر ۷۴۱۰

راوی: انس رضی اللہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی طرح جیسے ہم دنیا میں جمع ہوتے ہیں، مؤمنوں کو اکٹھا کرے گا وہ گرمی وغیرہ سے پریشان ہو کر کہیں گے کاش ہم کسی کی سفارش اپنے مالک کے پاس لے جاتے تاکہ ہمیں اپنی اس حالت سے آرام ملتا۔ چنانچہ سب مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ ان سے کہیں گے آدم!آپ لوگوں کا حال نہیں دیکھتے کس بلا میں گرفتار ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے ہاتھ سے بنایا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے نام آپ کو بتلائے ہر لغت میں بولنا بات کرنا سکھلایا کچھ سفارش کیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس جگہ سے نجات ہو کر آرام ملے۔ کہیں گے میں اس لائق نہیں، ان کو وہ گناہ یاد آ جائے گا جو انہوں نے کیا تھا ممنوع درخت میں سے کھانا ۔ وہ کہیں گے مگر تم لوگ ایسا کرو نوح علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا تھا۔

آخر وہ لوگ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے، میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے دنیا میں کی تھی یاد کریں گے۔ کہیں گے تم لوگ ایسا کرو پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ بھی اپنی خطائیں یاد کر کے کہیں گے میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ اللہ نے ان کو توراۃ عنائت فرمائی، ان سے بول کر باتیں کیں۔ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی کہیں گے میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے دنیا میں کی تھی یاد کریں گے مگر تم ایسا کرو عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کے خاص کلمہ اور خاص روح ہیں۔ یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں تم ایسا کرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کی اگلی پچھلی خطائیں سب بخش دی گئی ہیں۔

آخر یہ سب لوگ جمع ہو کر میرے پاس آئیں گے۔ میں چلوں گا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا، مجھ کو اجازت ملے گی۔ میں اپنے پروردگار کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اس کو منظور ہے وہ مجھ کو سجدے ہی میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد حکم ہو گا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری عرض سنی جائے گی تمہاری درخواست منظور ہو گی، تمہاری سفارش مقبول ہو گی اس وقت میں اپنے مالک کی ایسی ایسی تعریفیں کروں گا جو وہ مجھ کو سکھا چکا ہے۔ یا سکھلائے گا پھر لوگوں کی سفارش شروع کر دوں گا۔ سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اور اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔

اس کے بعد ارشاد ہو گا محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں یا سکھلائے گا اس کے بعد سفارش شروع کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا۔ عرض کروں گایا پاک پروردگار!اب تو دوزخ میں ایسے ہی لوگ رہ گئے ہیں جو قرآن کے بموجب دوزخ ہی میں ہمیشہ رہنے کے لائق ہیں یعنی کافر اور مشرک ۔

انس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ سے وہ لوگ نکال لیے جائیں گے جنہوں نے دنیا میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو گا اور ان کے دل میں ایک جَو برابر ایمان ہو گا پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو گا اور ان کے دل میں گیہوں برابر ایمان ہو گا۔ گیہوں جَو سے چھوٹا ہوتا ہے پھر وہ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو گا اور ان کے دل میں چیونٹی برابر یا بھنگے برابر ایمان ہو گا۔

حدیث نمبر ۷۴۱۱

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اسے رات دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب اس نے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں اس نے کتنا خرچ کیا ہے اس نے بھی اس میں کوئی کمی نہیں پیدا کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۱۲

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہو گا، پھر کہے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔

حدیث نمبر ۷۴۱۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا۔

حدیث نمبر ۷۴۱۴

راوی: عبداللہ رضی اللہ عنہ

ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد!اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور زمین کو بھی ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے یہاں تک کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ پھر سورۃ الانعام کی یہ آیت پڑھی :

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ (۶:۱۹)

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تعجب کی وجہ سے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیئے۔

حدیث نمبر ۷۴۱۵

راوی: عبداللہ رضی اللہ عنہ

اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم!اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، زمین کو ایک انگلی پر روک لے گا، درخت اور مٹی کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر ہنس دئیے، یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے، پھر آیت پڑھی :

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ (۶:۱۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد اللہ سے زیادہ غیرت مند اور کوئی نہیں

اور عبیداللہ بن عمرو نے عبدالملک سے روایت کی کہ اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۱۶

راوی: مغیرہ رضی اللہ عنہ

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھوں تو سیدھی تلوار سے اس کی گردن مار دوں پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے؟ بلاشبہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ نے غیرت ہی کی وجہ سے فواحش کو حرام کیا ہے۔ چاہے وہ ظاہر میں ہوں یا چھپ کر اور معذرت اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں، اسی لیے اس نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور تعریف اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں، اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں ارشاد اے پیغمبر!ان سے پوچھ کس شے کی گواہی سب سے بڑی گواہی ہے۔ (۶:۱۹)

تو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو شَيْئًا سے تعبیر کیا۔

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو شَيْئًا کہا۔

جب کہ قرآن بھی اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ

اللہ کی ذات کے سوا ہر شے ختم ہونے والی ہے۔ (۲۸:۸۸)

حدیث نمبر ۷۴۱۷

راوی: سہل بن سعد رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب سے پوچھا کیا آپ کو قرآن میں سے کچھ شے یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں انہوں نے ان کے نام بتائے۔

ہود میں اللہ کا فرمان اور اس کا عرش پانی پر تھا ، اور وہ عرش عظیم کا رب ہے۔ (۱۱:۷)

ابوالعالیہ نے بیان کیا کہ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوا۔

فَسَوَّاهُنَّ یعنی پھر انہیں پیدا کیا۔

مجاہد نے کہا کہ اسْتَوَى بمعنی عَلَى الْعَرْشِ ہے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ الْمَجِيدُ بمعنی الْكَرِيمُ ۔ وَالْوَدُودُ بمعنی الْحَبِيبُ بولتے ہیں۔ حَمِيدٌ ،‏‏‏‏ مَجِيدٌ ۔ گویا یہ فعیل کے وزن پر مَاجِدٍ سے ہے اور مَحْمُودٌ ،‏‏‏‏ حَمِدَ سے مشتق ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۱۸

راوی: عمران بن حصین رضی اللہ عنہما

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بنو تمیم!بشارت قبول کرو۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی، اب ہمیں بخشش بھی دیجئیے۔

پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن!بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی تم اسے قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لی۔ ہم آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھیں کہ کس طرح تھی؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی ۔

عمران بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ عمران اپنی اونٹنی کی خبر لو وہ بھاگ گئی ہے۔ چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان ریت کا چٹیل میدان حائل ہے اور اللہ کی قسم میری تمنا تھی کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سے نہ اٹھا ہوتا۔

حدیث نمبر ۷۴۱۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۲۰

راوی: انس رضی اللہ عنہ

زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کی شکایت کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔

بیان کیا چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت

وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ

اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے۔ (۳۳:۷۳)

زینب اور زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔

حدیث نمبر ۷۴۲۱

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

پردہ کی آیت ام المؤمنین زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی اور اس دن آپ نے روٹی اور گوشت کے ولیمہ کی دعوت دی اور زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے آسمان پر کرایا تھا۔

حدیث نمبر ۷۴۲۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ سے بڑھ کر ہے۔

حدیث نمبر ۲۳ ۷۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔ خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا وہیں مقیم رہا ہو جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ!کیا ہم اس کی اطلاع لوگوں کو نہ دے دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ درمیانہ درجے کی جنت ہے اور بلند ترین اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۲۴

راوی: ابوذر رضی اللہ عنہ

میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر!کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی ذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا ۔

حدیث نمبر ۷۴۲۵

راوی: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ۔۔۔ (۹:۱۲۸)

حدیث نمبر ۷۴۲۶

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے :

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْحَلِيمُ،‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ،

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت جاننے والا بڑا بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے،

‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

اللہ کے سوا کوئی رب نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔

حدیث نمبر ۲۷ ۷۴

راوی: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ بیہوش کر دئیے جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آ کر موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے۔

حدیث نمبر ۲۸ ۷۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں سب سے پہلے اٹھنے والا ہوں گا اور دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ المعارج میں فرمان فرشتے اور روح القدس اس کی طرف چڑھتے ہیں (۷۰:۴)

اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میںفرمان:

إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ‏‏‏‏

اس کی طرف پاکیزہ کلمے چڑھتے ہیں۔ (۳۵:۱۰)

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا کہ مجھے اس شخص کی خبر لا کر دو جو کہتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔

اور مجاہد نے کہا نیک عمل پاکیزہ کلمے کو اٹھا لیتا ہے۔ اللہ تک پہنچا دیتا ہے ذِي الْمَعَارِجِ سے مراد فرشتے ہیں جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۲۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یکے بعد دیگرے تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے آتے رہتے ہیں اور یہ عصر اور فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اوپر چڑھتے ہیں، جنہوں نے رات تمہارے ساتھ گزاری ہوتی ہے۔ پھر اللہ تمہارے بارے میں ان سے پوچھتا ہے حالانکہ اسے تمہاری خوب خبر ہے، پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

حدیث نمبر ۳۰ ۷۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی خیرات کی اور اللہ تک حلال کمائی ہی کی خیرات پہنچتی ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کر لیتا ہے اور خیرات کرنے والے کے لیے اسے اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ برابر ہو جاتی ہے۔

اللہ کی طرف وہی خیرات چڑھتی ہے جو حلال کمائی میں سے ہو۔

حدیث نمبر ۷۴۳۱

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پریشانی کے وقت کرتے تھے :

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ،‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ،‏‏‏‏

کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو عظیم ہے اور بردبار ہے، کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے،

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ

کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۳۲

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدری فزاری، علقمہ بن علاثہ العامری اور زید الخیل الطائی میں تقسیم کر دیا۔ اس پر قریش اور انصار کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک مصلحت کے لیے ان کا دل بہلاتا ہوں۔

پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی، داڑھی گھنی تھی، دونوں کلے پھولے ہوئے تھے اور سر گٹھا ہوا تھا۔ اس مردود نے کہا اے محمد!اللہ سے ڈر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بھی اس اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ پھر حاضرین میں سے ایک صحابی خالد رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔

پھر جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکال کر پھینک دئیے جائیں گے جس طرح تیر شکاری جانور میں سے پار نکل جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو کافر کہہ کر قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کا دور پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں گا۔

حدیث نمبر ۷۴۳۳

راوی: ابوذر رضی اللہ عنہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا (۳۶:۸۳) کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا مُسْتَقَرُّهَا عرش کے نیچے ہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ قیامت میں ارشاد

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ ۔ إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ

اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے، وہ اپنے رب کو دیکھنے والے ہوں گے، یا دیکھ رہے ہوں گے ۔(۷۵:۲۲،۲۳)

حدیث نمبر ۷۴۳۴

راوی: جریر رضی اللہ عنہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند تھا اور فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل نہیں ہو گی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کر لو۔

حدیث نمبر ۷۴۳۵

راوی: جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے رب کو صاف صاف دیکھو گے۔

حدیث نمبر ۷۴۳۶

راوی: جریر رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو قیامت کے دن اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی۔ کھلم کھلا دیکھو گے، بےتکلف، بےمشقت، بےزحمت۔

حدیث نمبر ۷۴۳۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ!کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ!پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا اسی طرح قبروں، تعزیوں کے پجاری قبروں، تعزیوں کے پیچھے لگ جائیں گے پھر یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں بڑے درجہ کے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے یا منافق بھی ہوں گے

پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ!مجھ کو محفوظ رکھ، مجھ کو محفوظ رکھ۔

اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ!تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے ۔

پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے یا اللہ!ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھیو ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح اگ کر نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو گا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب!میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم!اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا اے رب!مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔

پھر وہ کہے گا اے رب!اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم!اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔

پھر کہے گا اے رب!مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس!ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا اے رب!مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔

حدیث نمبر ۷۴۳۸

راوی: عطا بن یزید

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے۔ ان کی حدیث کا کوئی حصہ رد نہیں کرتے تھے۔ البتہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ یہ اور انہیں جیسی تمہیں اور ملیں گی تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے دس گنا ملیں گی اے ابوہریرہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد یاد ہے کہ یہ اور انہیں جیسی اور اس پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے آپ کا یہ ارشاد یاد کیا ہے کہ تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گی اور اس سے دس گنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخری داخل ہونے والا ہو گا۔

حدیث نمبر ۷۴۳۹

راوی: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

ہم نے کہا یا رسول اللہ!کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان بھی صاف ہو؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے رب کے دیدار میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پیش آئے گی جس طرح سورج اور چاند کو دیکھنے میں نہیں پیش آتی۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ، تمام جھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ ان میں نیک و بد دونوں قسم کے مسلمانوں ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔

پھر دوزخ ان کے سامنے پیش کی جائے گی وہ ایسی چمکدار ہو گی جیسے میدان کا ریت ہوتا ہے۔ جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے

پھر یہود سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر ابن اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ تم جھوٹے ہو اللہ کے نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی لڑکا۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیؤ وہ اس چمکتی ریت کی طرف پانی جان کر چلیں گے اور پھر وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔

پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کے نہ بیوی تھی اور نہ کوئی بچہ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانی سے سیراب کئے جائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیؤ ان کو بھی اس چمکتی ریت کی طرف چلایا جائے گا اور انہیں بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے، نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان، ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لیے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔

بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں!لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا: کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ السَّاقُ پنڈلی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مؤمن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔

پھر انہیں پل پر لایا جائے گا۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ!پل کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا , وہ ایک پھسلواں گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں، آنکڑے ہیں، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں، ان کے سر خمدار السَّعْدَانُ کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں۔ مؤمن اس پر پلک مارنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا

تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضا اور مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب!ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے نیک اعمال کرتے تھے ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما

چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک اشرفی کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض کا تو جہنم میں قدم اور آدھی پنڈلی جلی ہوئی ہے۔ چنانچہ جنہیں وہ پہچانیں گے انہیں دوزخ سے نکالیں گے، پھر واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھی اشرفی کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ پہچانے جانے والوں کو نکالیں گے۔

ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو

إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا

اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اگر نیکی ہے تو اسے بڑھاتا ہے۔ (۴:۴۰)

پھر انبیاء اور مؤمنین اور فرشتے شفاعت کریں گے اور پروردگار کا ارشاد ہو گا کہ اب خاص میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو گئے ہوں گے۔ پھر وہ جنت کے سرے پر ایک نہر میں ڈال دئیے جائیں گے جسے نہر آب حیات کہا جاتا ہے اور یہ لوگ اس کے کنارے سے اس طرح ابھریں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا تو جس پر دھوپ پڑتی رہتی ہے وہ سبزا بھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے۔ پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے موتی چمکتا ہے۔ اس کے بعد ان کی گردنوں پر مہر کر دی جائیں گے کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اہل جنت انہیں عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ کہیں گے۔ انہیں اللہ نے بلا عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بلا خیر کے جو ان سے صادر ہوئی ہو جنت میں داخل کیا ہے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی اور بھی ملے گا۔

حدیث نمبر ۷۴۴۰

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مؤمنوں کو گرم میدان میں روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور صلاح کر کے کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔ بیان کیا کہ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو باوجود رکنے کے درخت کھا لینے کی وجہ سے ان سے ہوئی تھی اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔

چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو بغیر علم کے اللہ رب العزت سے سوال کر کے اپنے بیٹے کی بخشش کے لیے انہوں نے کی تھی اور کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی عذر کریں گے کہ میں اس لائق نہیں اور وہ ان تین باتوں کو یاد کریں گے جن میں آپ نے بظاہر غلط بیانی کی تھی اور کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو نزدیک کر کے ان سے سرگوشی کی۔

بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور وہ غلطی یاد کریں گے جو ایک شخص کو قتل کر کے انہوں نے کی تھی۔ وہ کہیں گے البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے۔

چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلیٰ پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد!سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔

بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔

پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا اے محمد!سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا ب پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گا اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا یعنی کفار و مشرکین پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی

عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا

قریب ہے کہ آپ کا رب مقام محمود پر آپ کو بھیجے گا ۔ (۱۷:۷۹)

فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۴۱

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں ایک ڈیرے میں جمع کیا اور ان سے کہا کہ صبر کرو یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے آ کر ملو، میں حوض پر ہوں گا۔

حدیث نمبر ۷۴۴۲

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجد کی نماز میں یہ دعا کرتے تھے :

اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ،‏‏‏‏ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ

اے اللہ!اے ہمارے رب!حمد تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں

وَلَكَ الْحَمْدُ،‏‏‏‏ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ،‏‏‏‏

اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمان و زمین کا نور ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں۔

أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ

تو سچا ہے، تیرا قول سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، قیامت سچ ہے۔

اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ وَبِكَ حَاكَمْتُ،‏‏‏‏

اے اللہ!میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیرے پاس اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے مقابلہ کیا،

فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ،‏‏‏‏ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ،

پس تو مجھے معاف کر دے، میرے وہ گناہ بھی جو میں پہلے کر چکا ہوں اور وہ بھی جو بعد میں کروں گا اور وہ بھی جو میں نے پوشیدہ طور پر کئے اور وہ بھی جو ظاہر طور پر کیا

‏‏‏‏ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

اور وہ بھی جن میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۴۳

راوی: عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جس سے اس کا رب کلام نہ کرے، اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہو گا جو اسے چھپائے رکھے۔

حدیث نمبر ۷۴۴۴

راوی: عبداللہ بن قیس

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود اور اس میں سارا سامان چاندی کا ہو گا اور دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود اور اس کا سارا سامان سونے کا ہو گا اور جنت عدن میں قوم اور اللہ کے دیدار کے درمیان صرف چادر کبریائی رکاوٹ ہو گی جو اللہ رب العزت کے منہ پر پڑی ہو گی۔

حدیث نمبر ۷۴۴۵

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کھا کر مار لیا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیقاً قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کی

إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خَلاقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ...

بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے بیچتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ ان سے بات نہیں کرے گا...۳:۷۷)

حدیث نمبر ۷۴۴۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف رحمت سے دیکھے گا۔ ایک وہ جس نے کسی سامان کے متعلق قسم کھائی کہ اسے اس نے اتنے میں خریدا ہے، حالانکہ وہ جھوٹا ہے۔ دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم اس لیے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ناحق مار لے اور تیسرا وہ شخص جس نے ضرورت سے فالتو پانی مانگنے والے کو نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کہے گا کہ جس طرح تو نے اس زائد ضرورت، فالتو چیز سے دوسرے کو روکا جسے تیرے ہاتھوں نے بنایا بھی نہیں تھا، میں بھی تجھے اپنا فضل نہیں دوں گا۔

حدیث نمبر ۷۴۴۷

راوی: ابوبکرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ اپنی اصلی قدیم ہیئت پر گھوم کر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں چار مہینے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین مسلسل یعنی ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں آتا ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔

پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے پھر آپ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ طیبہ مکہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔

پھر فرمایا کہ پھر تمہارا خون اور تمہارے اموال۔ تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تمہارے اعمال کے متعلق تم سے سوال کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ آگاہ ہو جاؤ!جو موجود ہیں وہ غیر حاضروں کو میری یہ بات پہنچا دیں۔ شاید کوئی جسے بات پہنچائی گئی ہو وہ یہاں سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہاں!کیا میں نے پہنچا دیا؟

اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں روایات کہ بلاشبہ اللہ کی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہے (۷:۶۵)

حدیث نمبر ۷۴۴۸

راوی: اسامہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔

لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں!نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحم کرنے والوں پر ہی رحم کھاتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۴۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت و دوزخ نے اپنے رب کے حضور میں جھگڑا کیا۔ جنت نے کہا اے رب!کیا حال ہے کہ مجھ میں کمزور اور گرے پڑے لوگ ہی داخل ہوں گے اور دوزخ نے کہا کہ مجھ میں تو داخلہ کے لیے متکبروں کو خاص کر دیا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے اور جہنم سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعہ میں جسے چاہتا ہوں اس میں مبتلا کرتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کی بھرتی ہونے والی ہے۔

کہا کہ جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ اپنی مخلوق میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوزخ کی اس طرح سے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے گا دوزخ کے لیے پیدا کرے گا وہ اس میں ڈالی جائے گی اس کے بعد بھی دوزخ کہے گی اور کچھ مخلوق ہے میں ابھی خالی ہوں تین بار ایسا ہی ہو گا، آخر پروردگار اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا، اس وقت وہ بھر جائے گی، ایک پر ایک الٹ کر سمٹ جائے گی، کہنے لگے گی بس بس بس میں بھر گئی۔

حدیث نمبر ۷۴۵۰

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ ان گناہوں کی وجہ سے جو انہوں نے کئے ہوں گے، آگ سے جھلس جائیں گے یہ ان کی سزا ہو گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کرے گا اور جہنميوں کہا جائے گا۔۔۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ فاطر میں یہ فرمان

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا ۚ

بلاشبہ اللہ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے وہ اپنی جگہ سے ٹل نہیں سکتے (۳۵:۴۱)

حدیث نمبر ۷۴۵۱

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

ایک یہودی عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا اے محمد!قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، پہاڑوں کو ایک انگلی پر، درخت اور نہروں کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا۔ پھر اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے کہے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور سورۃ الزمر کی یہ آیت پڑھی

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ (۳۹:۶۷)

آسمانوں اور زمین اور دوسری مخلوق کے پیدا کرنے کا بیان

اور یہ پیدا کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایک فعل اور اس کا امر ہے۔ پس اللہ رب العزت اپنی صفات، اپنے فعل اور اپنے امر سمیت خالق ہے، وہی بنانے والا ہے اور غیر مخلوق ہے اور جو چیز بھی اس کے فعل، اس کے امر، اس کی تخلیق اور اس کی تکوین سے بنی ہیں وہ سب مخلوق اور مکون ہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۵۲

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

ایک رات میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری اس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس تھے۔ میرا مقصد رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر تو اپنی اہلیہ کے ساتھ بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ یا بعض حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لأُولِي الأَلْبَابِ

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ (۳:۱۰۹)

پھر اٹھ کر آپ نے وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں پڑھیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان دی اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر باہر آ گئے اور لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔

اللہ کا فرمان سورۃ والصافات میں

وَلَقَدۡ سَبَقَتۡ كَلِمَتُنَا ...وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ ٱلۡغَـٰلِبُونَ

یعنیہم تو پہلے ہی اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے باب میں یہ فرما چکے ہیں کہ ایک روز ان کی مدد ہو گی اور ہمارا ہی لشکر غالب ہو گا۔ (۳۷:۱۷۱،۳)

حدیث نمبر ۷۴۵۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کر چکا تو عرش کے اوپر اپنے پاس یہ لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ سے آگے بڑھ گئی ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۵۴

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جو صادق و مصدق ہیں کہ انسان کا نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن اور راتوں تک جمع رہتا ہے پھر وہ خون کی پھٹکی بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا ہو جاتا ہے پھر اس کے بعد فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت لکھ لیتا ہے۔ پھر اس میں روح پھونکتا ہے اور تم میں سے ایک شخص جنت والوں کے سے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فرق رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص دوزخ والوں کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آتی ہے اور جنت والوں کے کام کرنے لگتا ہے، پھر جنت میں داخل ہوتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۵۵

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جبرائیل!آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے میں کیا رکاوٹ ہے جتنا آپ آتے رہتے ہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی

وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا

اور ہم نازل نہیں ہوتے لیکن آپ کے رب کے حکم سے، اسی کا ہے وہ سب کچھ جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے ۔(۱۹:۴۶)

بیان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی جواب آیت میں اترا۔

حدیث نمبر ۷۴۵۶

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کی چھڑی پر ٹیکا لیتے جاتے تھے۔ پھر آپ یہودیوں کی ایک جماعت سے گزرے تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ ان سے روح کے متعلق پوچھو اور بعض نے کہا کہ اس کے متعلق مت پوچھو۔ آخر انہوں نے پوچھا تو آپ چھڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور میں آپ کے پیچھے تھا۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ چنانچہ آپ نے یہ آیت پڑھی

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا

اور لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر سے اور تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ (۱۷:۸۵)

اس پر بعض یہودیوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے کہا نہ تھا کہ مت پوچھو۔

حدیث نمبر ۷۴۵۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور اس کے لیے نکلنے کا مقصد اس کے راستے میں جہاد اور اس کے کلام کی تصدیق کے سوا اور کچھ نہیں تھا تو اللہ اس کا ضامن ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے اگر وہ شہید ہو گیا یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے وہیں واپس لوٹائے جہاں سے وہ آیا تھا۔

حدیث نمبر ۷۴۵۸

راوی: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ کوئی شخص حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، کوئی بہادری کی وجہ سے لڑتا ہے اور کوئی دکھاوے کے لیے لڑتا ہے۔ تو ان میں سے کون اللہ کے راستے میں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس لیے لڑتا ہے کہ اللہ کا کلمہ ہی بلند رہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ النحل میں فرمانا:

إِنَّمَا قَوۡلُنَا لِشَىۡءٍ إِذَآ أَرَدۡنَـٰهُ أَن نَّقُولَ لَهُ ۥ كُن فَيَكُونُ

ہم تو جب کوئی چیز بنانا چاہتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ (۱۶:۴۰)

حدیث نمبر ۷۴۵۹

راوی: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک گروہ دوسروں پر غالب رہے گا، یہاں تک کہ أَمْرُ اللَّهِ یعنی قیامت آ جائے گی۔

حدیث نمبر ۷۴۶۰

راوی: معاویہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ قرآن و حدیث پر قائم رہے گا، اسے جھٹلانے والے اور مخالفین کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ أَمْرُ اللَّهِ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ یہ گروہ شام میں ہو گا۔

حدیث نمبر ۷۴۶۱

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسیلمہ کے پاس رکے، وہ اپنے حامیوں کے ساتھ مدینہ میں آیا تھا اور اس سے فرمایا کہ اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے تو میں یہ بھی تجھ کو نہیں دے سکتا اور تمہارے بارے میں اللہ نے جو حکم دے رکھا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اگر تو نے اسلام سے پیٹھ پھیری تو اللہ تجھے ہلاک کر دے گا۔

حدیث نمبر ۷۴۶۲

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے ایک کھیت میں چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی کا سہارا لیتے جاتے تھے، پھر ہم یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے تو ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ کچھ یہودیوں نے مشورہ دیا کہ نہ پوچھو، کہیں کوئی ایسی بات نہ کہیں جس کا ان کی زبان سے سننا تم پسند نہ کرو۔ لیکن بعض نے اصرار کیا کہ نہیں!ہم پوچھیں گے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے اٹھ کر کہا اے ابوالقاسم!روح کیا چیز ہے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے۔ میں نے سمجھ لیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا

اور لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجئیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں اس کا علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔ (۱۷:۸۵)

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الکہف میں ارشاد:

قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا

کہئے کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی بن جائیں تو سمندر ختم ہو جائیں گے اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں گو اتنا ہی ہم اور بڑھا دیں (۱۸:۱۰۹)

اور سورۃ لقمان میں فرمایا:

وَ‏‏‏‏لَوْ أَنَّ مَا فِي الأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلاَمٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ‏‏‏‏،

اور اگر زمین کے سارے درخت قلم بن جائیں اور سات سمندر روشنائی کے ہو جائیں تو بھی میرے رب کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ (۳۱:۲۷)

‏‏‏‏اور سورۃ الاعراف میں فرمایا:

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ... تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

بلاشبہ تمہارا رب ہی وہ ہے جس نے آسمان کو اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بیٹھا وہ رات کو دن سے ڈھانپتا ہے جو ایک دوسرے کی طلب میں دوڑتے ہیں

اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔ آگاہ ہو جاؤ کہ خلق اور امر اسی کے لیے ہیں اللہ بابرکت ہے جو دونوں جہاں کا پالنے والا ہے۔(۷:۵۴)

حدیث نمبر ۷۴۶۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور اپنے گھر سے صرف اس غرض سے نکلا کہ خالص اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور اس کے کلمہ توحید کی تصدیق کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضمانت لے لیتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر ثواب اور غنیمت کے ساتھ اس کے گھر واپس کرے گا۔

مشیت اور ارادہ

اللہ نے سورۃ التکویر میں فرمایا تم کچھ نہیں چاہ سکتے جب تک اللہ نہ چاہے ۔ (۸۱:۲۹)

اور سورۃ آل عمران میں فرمایا کہ وہ اللہ جسے چاہتا ہے ملک دیتا ہے ۔ (۳:۲۶)

اور سورۃ الکہف میں فرمایا اور تم کسی چیز کے متعلق یہ نہ کہو کہ میں کل یہ کام کرنے والا ہوں مگر یہ کہ اللہ چاہے ۔ (۱۸:۲۳)

اور سورۃ قصص میں فرمایا کہ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، البتہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔ (۲۸:۵۶)

سعید بن مسیب نے اپنے والد سے کہا کہ جناب ابوطالب کے بارے میں یہ آیت مذکورہ نازل ہوئی۔

اور سورۃ البقرہ میں فرمایا کہ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی نہیں چاہتا۔ (۲:۱۸۵)

حدیث نمبر ۷۴۶۴

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم دعا کرو تو عزم کے ساتھ کرو اور کوئی دعا میں یہ نہ کہے کہ اگر تو چاہے تو فلاں چیز مجھے عطا کر، کیونکہ اللہ سے کوئی زبردستی کرنے والا نہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۶۵

راوی: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات میں تشریف لائے اور ان سے کہا کیا تم لوگ نماز تہجد نہیں پڑھتے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ!ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے گے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں نے آپ کو واپس جاتے وقت یہ کہتے سنا۔ آپ اپنی ران پر ہاتھ مار کر یہ فرما رہے تھے

وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا ‏

انسان بڑا ہی بحث کرنے والا ہے۔ (۱۸:۸۵)

حدیث نمبر ۷۴۶۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کی مثال کھیت کے نرم پودے کی سی ہے کہ جدھر ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر جھک جاتے ہیں اور جب ہوا رک جاتی ہے تو پتے بھی برابر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مؤمن آزمائشوں میں بچایا جاتا ہے

لیکن کافر کی مثال شمشاد کے سخت درخت جیسی ہے کہ ایک حالت پر کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ دیتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۶۷

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر کھڑے فرما رہے تھے کہ تمہارا زمانہ گزشتہ امتوں کے مقابلہ میں ایسا ہے جیسے عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توریت والوں کو توریت دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا، یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا۔ پھر وہ عاجز ہو گئے تو انہیں اس کے بدلے میں ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی تو انہوں نے اس پر عصر کی نماز کے وقت تک عمل کیا اور پھر وہ عمل سے عاجز آ گئے تو انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر سورج ڈوبنے تک عمل کیا اور تمہیں اس کے بدلے میں دو دو قیراط دئیے گئے۔ اہل توریت نے اس پر کہا کہ اے ہمارے رب!یہ لوگ مسلمان سب سے کم کام کرنے والے اور سب سے زیادہ اجر پانے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں اجر دینے میں کوئی ناانصافی کی ہے؟ وہ بولے کہ نہیں!تو اللہ تعالیٰ فرمایا کہ یہ تو میرا فضل ہے، میں جس پر چاہتا ہوں کرتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۴۶۸

راوی: عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ

- تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے،

- اسراف نہیں کرو گے،

- زنا نہیں کرو گے،

- اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے

- اور من گھڑت بہتان کسی پر نہیں لگاؤ گے

- اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔

پس تم میں سے جو کوئی اس عہد کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے کہیں لغزش کی اور اسے دنیا میں ہی پکڑ لیا گیا تو یہ حد اس کے لیے کفارہ اور پاکی بن جائے گی اور جس کی اللہ نے پردہ پوشی کی تو پھر اللہ پر ہے جسے چاہے عذاب دے اور جسے چاہے اس کا گناہ بخش دے۔

حدیث نمبر ۷۴۶۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیویاں تھیں تو انہوں نے کہا کہ آج رات میں تمام بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی حاملہ ہو گی اور پھر ایسا بچہ جنے گی جو شہسوار ہو گا اور اللہ کے راستے میں لڑے گا۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے۔ لیکن صرف ایک بیوی کے یہاں بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی ادھورا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر سلیمان علیہ السلام نے ان شاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو پھر ہر بیوی حاملہ ہوتی اور شہسوار جنتی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا۔

حدیث نمبر ۷۴۷۰

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس سے کہا کہ کوئی مضائقہ نہیں یہ بیماری تمہارے لیے پاکی کا باعث ہے، اس پر اس نے کہا کہ جناب یہ وہ بخار ہے جو ایک بڈھے پر جوش مار رہا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یونہی ہو گا۔

حدیث نمبر ۷۴۷۱

راوی: ابو قتادہ رضی اللہ عنہ

جب سب لوگ سوئے اور نماز قضاء ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے روک دیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے، پس تم اپنی ضرورتوں سے فارغ ہو کر وضو کرو، آخر جب سورج پوری طرح طلوع ہو گیا اور خوب دن نکل آیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔

حدیث نمبر ۷۴۷۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

ایک مسلمان اور ایک یہودی نے آپس میں جھگڑا کیا۔ مسلمان نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا میں چن لیا اور یہودی نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام دنیا میں چن لیا اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھایا اور یہودی کو طمانچہ مار دیا۔ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنا اور مسلمان کا معاملہ آپ سے ذکر کیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو، تمام لوگ قیامت کے دن پہلا صور پھونکنے پر بیہوش کر دئیے جائیں گے۔ پھر دوسرا صور پھونکنے پر میں سب سے پہلے بیدار ہوں گا لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارہ پکڑے ہوئے ہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ کیا وہ ان میں تھے جنہیں بیہوش کیا گیا تھا اور مجھ سے پہلے ہی انہیں ہوش آ گیا یا انہیں اللہ تعالیٰ نے استشناء کر دیا تھا۔

حدیث نمبر ۷۴۷۳

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال مدینہ تک آئے گا لیکن دیکھے گا کہ فرشتہ اس کی حفاظت کر رہے ہیں پس نہ تو دجال اس سے قریب ہو سکے گا اور نہ طاعون، اگر اللہ نے چاہا۔

حدیث نمبر ۷۴۷۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا قبول ہوتی ہے تو میں چاہتا ہوں اگر اللہ نے چاہا کہ اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھوں۔

حدیث نمبر ۷۴۷۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ پھر میں نے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا اس میں سے پانی نکالا۔ اس کے بعد ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ نے ڈول لے لیا اور انہوں نے بھی ایک دو ڈول پانی نکالا البتہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ انہیں معاف کرے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور وہ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے کسی قوی و بہادر کو اس طرح ڈول پر ڈول نکالتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگوں نے ان کے چاروں طرف مویشیوں کے لیے باڑیں بنا لیں۔

حدیث نمبر ۷۴۷۶

راوی: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مانگنے والا آتا یا کوئی ضرورت مند آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کی سفارش کرو تاکہ تمہیں بھی ثواب ملے، اللہ اپنے رسول کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو چاہتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۷۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس طرح دعا نہ کرے کہ اے اللہ!اگر تو چاہے تو میری مغفرت کر، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، اگر تو چاہے تو مجھے روزی دے، بلکہ پختگی کے ساتھ سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے کوئی اس پر جبر کرنے والا نہیں۔

حدیث نمبر ۷۴۷۸

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

وہ اور حر بن قیس بن حصین الفزاری، موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے کہ کیا وہ خضر علیہ السلام ہی تھے۔ اتنے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور ان سے کہا کہ میں اور میرا یہ ساتھی اس بارے میں شک میں ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہ صاحب کون تھے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ نہیں۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ کیوں نہیں ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملاقات کا راستہ معلوم کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مچھلی کو نشان قرار دیا اور آپ سے کہا گیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو لوٹ جانا کہ وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام مچھلی کا نشان دریا میں ڈھونڈنے لگے اور آپ کے ساتھی نے آپ کو بتایا کہ آپ کو معلوم ہے۔ جب ہم نے چٹان پر ڈیرہ ڈالا تھا تو وہیں میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان نے اسے بھلا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ جگہ وہی ہے جس کی تلاش میں ہم سرگرداں ہیں پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے اور انہوں نے خضر علیہ السلام کو پا لیا ان ہی دونوں کا یہ قصہ ہے جو اللہ نے بیان فرمایا۔

حدیث نمبر ۷۴۷۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا کہ ہم کل ان شاء اللہ خیف، بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں ایک زمانہ میں کفار مکہ نے کفر ہی پر قائم رہنے کی آپس میں قسمیں کھائیں تھیں آپ کی مراد وادی محصب سے تھی۔

حدیث نمبر ۷۴۸۰

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کو گھیر لیا، اس کو فتح نہیں کیا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ کو لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان بولے واہ ہم فتح کئے بغیر لوٹ جائیں، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہے تو پھر کل سویرے لڑائی شروع کرو، صبح کو مسلمان لڑنے لگے لیکن قلع فتح نہیں ہوا مسلمان زخمی ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کو اللہ نے چاہا تو ہم مدینہ لوٹ چلیں گے، اس پر مسلمان خوش ہوئے، مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد:

وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۔۔۔ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ

اور اس کے ہاں کسی کی شفاعت بغیر اللہ کی اجازت کے فائدہ نہیں دے سکتی،

وہاں فرشتوں کا بھی یہ حال ہے کہ جب اللہ پاک کوئی حکم اتارتا ہے تو فرشتے اسے سن کر اللہ کے خوف سے گھبرا جاتے ہیں

یہاں تک کہ جب ان کی گھبراہٹ دور ہوتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا ہے

وہ فرشتے کہتے ہیں کہ جو کچھ اس نے فرمایا وہ حق ہے اور وہ بلند ہے بڑا ہے۔ (۳۴:۲۳)

ابن مسعود رضی اللہ عنہ نےکہا کہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو آسمان والے بھی کچھ سنتے ہیں۔ پھر جب ان کے دلوں سے خوف دور ہو جاتا ہے اور آواز چپ ہو جاتی ہے تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ کلام حق ہے اور آواز دیتے ہیں ایک دوسرے کو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ جواب دیتے ہیں کہ بجا ارشاد فرمایا۔

عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ اپنے بندوں کو جمع کرے گا اور ایسی آواز کے ذریعہ ان کو پکارے گا جسے دور والے اسی طرح سنیں گے جس طرح نزدیک والے سنیں گے، میں بادشاہ ہوں ہر ایک کے اعمال کا بدلہ دینے والا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۴۸۱

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کے آگے عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے بازو مارتے ہیں اور ان سے ایسی آواز نکلتی ہے جیسے پتھر پر زنجیر ماری گئی ہو۔

پھر وہ حکم فرشتوں میں آتا ہے اور جب ان کے دلوں سے خوف دور ہو جاتا ہے تو وہ پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب کے کیا کہا؟ جواب دیتے ہیں کہ حق، اللہ وہ بلند و عظیم ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۸۲

راو ی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی بات کو اتنا متوجہ ہو کر نہیں سنتا جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن پڑھنا متوجہ ہو کر سنتا ہے جو خوش آوازی سے اس کو پڑھتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۸۳

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اے آدم!وہ کہیں گے لبيك وسعديك پھر بلند آواز سے ندا دے گا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا لشکر نکال۔

حدیث نمبر ۷۴۸۴

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

جس قدر مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا پر غیرت آتی تھی اور کسی عورت پر نہیں آتی تھی اور ان کے رب نے حکم دیا تھا کہ انہیں جنت میں ایک گھر کی بشارت دے دیں۔

جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ اللہ کا کلام کرنا اور اللہ کا فرشتوں کو پکارنا

اللہ تعالیٰجو فرمایا :

وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ

اے پیغمبر!تجھ کو قرآن اللہ کی طرف سے ملتا ہے جو حکمت والا خبردار ہے۔ (۲۷:۶)

اور معمر بن مثنیٰ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن تجھ پر ڈالا جاتا ہے اور تو اس کو لیتا ہے جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا

فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ

آدم نے اپنے پروردگار سے چند کلمہ حاصل کئے رب کا استقبال کر کے۔ (۲:۳۷)

حدیث نمبر ۷۴۸۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح روئے زمین میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۸۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے یکے بعد دیگرے آتے ہیں اور عصر اور فجر کی نمازیوں میں دو وقت کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ پھر جب وہ فرشتے اوپر جاتے ہیں جنہوں نے رات تمہارے ساتھ گزاری ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ بندوں کے احوال کا سب سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ ا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے انہیں اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے جب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

حدیث نمبر ۷۴۸۷

راوی: ابوذر رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مرے گا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو گا تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا گو اس نے چوری اور زنا بھی کیا ہو؟ فرمایا کہ گو اس نے چوری اور زنا کیا ہو۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ نساء میں ارشاد اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو جان کر اتارا ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان :

أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ

اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو جان کر اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہ ہیں ۔ (۴:۱۶۶)

مجاہد نے بیان کیا کہ آیت يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ کا مفہوم یہ ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے درمیان اللہ کے حکم اترتے رہتے ہیں ۔(۶۵:۱۲)

حدیث نمبر ۷۴۸۸

راوی: براء بن عازب رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلان!جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا کرو

اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ،‏‏‏‏ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ،‏‏‏‏ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ،

اے اللہ!میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی اور اپنا رخ تیری طرف موڑ دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا

‏‏‏‏ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ،‏‏‏‏ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ،‏‏‏‏ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ،‏‏‏‏

اور تیری پناہ لی، تیری طرف رغبت کی وجہ سے اور تجھ سے ڈر کر۔ تیرے سوا کوئی پناہ اور نجات کی جگہ نہیں،

آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ،‏‏‏‏

میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جو تو نے بھیجے۔

فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ فِي لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ،‏‏‏‏ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ أَجْرًا

پس اگر تم آج رات مر گئے تو فطرت پر مرو گے اور صبح کو زندہ اٹھے تو ثواب ملے گا۔

حدیث نمبر ۷۴۸۹

راوی: عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن فرمایا اے اللہ!کتاب قرآن کے نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، ان دشمن جماعتوں کو شکست دے اور ان کے پاؤں ڈگمگا دے۔

حدیث نمبر ۷۴۹۰

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورۃ بنی اسرائیل کی آیت وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا (۱۷:۱۱۰) کے بارے میں کہ یہ اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ جب آپ نماز میں آواز بلند کرتے تو مشرکین سنتے اور قرآن مجید اور اس کے نازل کرنے والے اللہ کو اور اس کے لانے والے جبرائیل علیہ السلام کو گالی دیتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا َ:

لا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا

اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بالکل آہستہ (۱۷:۱۱۰)

یعنی آواز اتنی بلند بھی نہ کر کہ مشرکین سن لیں اور اتنی آہستہ بھی نہ کر کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کر۔

مطلب یہ ہے کہ اتنی آواز سے پڑھ کہ تیرے اصحاب سن لیں اور قرآن سیکھ لیں، اس سے زیادہ چلا کر نہ پڑھ۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الفتح ارشاد :

يُرِيدُونَ أَنْ يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ

یہ گنوار چاہتے ہیں کہ اللہ کا کلام بدل دیں (۴۸:۱۵)

یعنی اللہ نے جو وعدے حدیبیہ کے مسلمانوں سے کئے تھے کہ ان کو بلا شرکت غیرے فتح ملے گی۔

اور سورۃ الطارق میں فرمایا :

إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ ۔ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ

قرآن مجید فیصلہ کرنے والا کلام ہے وہ کچھ ہنسی دلی لگی نہیں ہے۔ (۸۶:۱۳،۱۴)

حدیث نمبر ۷۴۹۱

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں، میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہو رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔

حدیث نمبر ۹۲ ۷۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ روزہ خالص میرے لیے ہوتا ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دیتا ہوں۔ بندہ اپنی شہوت، کھانا پینا میری رضا کے لیے چھوڑتا ہے اور روزہ گناہوں سے بچنے کی ڈھال ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے اور ایک خوشی اس وقت جب وہ اپنے رب سے ملتا ہے اور روزہ دار کے منہ کی بو، اللہ کے نزدیک مشک عنبر کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

حدیث نمبر ۷۴۹۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایوب علیہ السلام کپڑے اتار کر نہا رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیوں کا ایک دل ان پر آ کر گرا اور آپ انہیں کپڑے میں سمیٹنے لگے۔ ان کے رب نے انہیں پکارا کہ اے ایوب!کیا میں نے تجھے مالدار بنا کر ان ٹڈیوں سے بےپروا نہیں کر دیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں بیشک تو نے مجھ کو بےپروا مالدار کیا ہے مگر تیرے فضل و کرم اور رحمت سے بھی میں کہیں بےپروا ہو سکتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۴۹۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر آتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کون بلاتا ہے کہ میں اسے جواب دوں، مجھ سے کون مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں، مجھ سے کون مغفرت طلب کرتا ہے میں اس کی مغفرت کروں؟

حدیث نمبر ۷۴۹۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گو دنیا میں ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن آخرت میں سب سے آگے ہوں گے۔

حدیث نمبر ۷۴۹۶

اور اسی سند سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم خرچ کرو تو میں تم پر خرچ کروں گا۔

حدیث نمبر ۷۴۹۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

جبرائیل علیہ السلام نے کہا یا رسول اللہ! یہ خدیجہ رضی اللہ عنہا جو آپ کے پاس برتن میں کھانا یا پانی لے کر آتی ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہئیے اور انہیں خولدار موتی کے ایک محل کی جنت میں خوشخبری سنائیے جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف ہو گی۔

حدیث نمبر ۷۴۹۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں، میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال گزرا۔

حدیث نمبر ۷۴۹۹

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد پڑھنے اٹھتے تو کہتے

اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ،‏‏‏‏ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ،‏‏‏‏

حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا نور ہے، حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے،

وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ،‏‏‏‏ أَنْتَ الْحَقُّ،‏‏‏‏

حمد تیرے ہی لیے ہے کہ تو آسمان و زمین کا اور جو کچھ اس میں ہے سب کا رب ہے۔

وَوَعْدُكَ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَلِقَاؤُكَ الْحَقُّ،‏‏‏‏ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ،‏‏‏‏ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ،‏‏‏‏

تو سچ ہے، تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول سچا ہے، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے اور دوزخ سچ ہے، سارے انبیاء سچے ہیں اور قیامت سچ ہے۔

اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ،‏‏‏‏ وَبِكَ آمَنْتُ،‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ،‏‏‏‏ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ،‏‏‏‏ وَبِكَ خَاصَمْتُ،‏‏‏‏ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ،‏‏‏‏

اے اللہ!میں تیرے سامنے ہی جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیرے ہی سامنے اپنا جھگڑا پیش کرتا اور تجھ ہی سے اپنا فیصلہ چاہتا ہوں،

فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ،‏‏‏‏ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ،‏‏‏‏ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

پس تو میری مغفرت کر دے اگلے پچھلے تمام گناہوں کی جو میں نے چھپا کر کئے اور جو ظاہر کئے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۰۰

راوی: عروہ بن زبیر سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ نے اس سے انہیں بَری قرار دیا تھا۔ ان سب نے بیان کیا اور ہر ایک نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیان کی ہوئی بات کا ایک حصہ بیان کیا۔

ام المؤمنین نے کہا اللہ کی قسم!مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میری پاکی بیان کرنے کے لیے وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی۔ میرے دل میں میرا درجہ اس سے بہت کم تھا کہ اللہ میرے بارے میں قرآن مجید میں وحی نازل کرے گا جس کی تلاوت ہو گی، البتہ مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس کے ذریعہ اللہ میری برأت کر دے گا، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ (۲۴:۱۱) نازل کی ہیں، دس آیات۔

حدیث نمبر ۷۵۰۱

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو یہاں تک کہ اسے کر نہ لے۔ جب اس کو کر لے پھر اسے اس کے برابر لکھو اور اگر اس برائی کو میرے خوف سے چھوڑ دے تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھو اور اگر بندہ کوئی نیکی کرنی چاہے تو اس کے لیے ارادہ ہی پر ایک نیکی اس کے لیے لکھو۔

حدیث نمبر ۷۵۰۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھہر جا۔ اس نے کہا کہ یہ قطع رحم ناطہٰ توڑنا سے تیری پناہ مانگنے کا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں ناطہٰ کو جوڑنے والے سے اپنے رحم کا ناطہٰ جوڑوں اور ناطہٰ کو کاٹنے والوں سے جدا ہو جاؤں۔ اس نے کہا کہ ضرور، میرے رب!اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہی تیرا مقام ہے۔

پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ محمد کی یہ آیت پڑھی:

فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ

ممکن ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ تو زمین میں فساد کرو اور قطع رحم کرو۔ (۴۷:۲۲)

حدیث نمبر ۷۵۰۳

راوی: زید بن خالد رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بارش ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بعض بندے صبح، کافر ہو کر کرتے ہیں اور بعض بندے صبح، مؤمن ہو کر کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۰۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملاقات پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملاقات ناپسند کرتا ہے تو میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۵۰۵

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۰۶

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے جس نے بنی اسرائیل میں سے کوئی نیک کام کبھی نہیں کیا تھا، وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اسے جلا ڈالیں اور اس کی آدھی راکھ خشکی میں اور آدھی دریا میں بکھیر دیں کیونکہ اللہ کی قسم اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو ایسا عذاب مجھ کو دے گا جو دنیا کے کسی شخص کو بھی وہ نہیں دے گا۔ پھر اللہ نے سمندر کو حکم دیا اور اس نے تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اس نے خشکی کو حکم دیا اور اس نے بھی اپنی تمام راکھ جمع کر دی جو اس کے اندر تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے عرض کیا اے رب!تیرے خوف سے میں نے ایسا کیا اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔

حدیث نمبر ۷۵۰۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بندے نے بہت گناہ کئے اور کہا اے میرے رب!میں تیرا ہی گنہگار بندہ ہوں تو مجھے بخش دے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر بندہ رکا رہا جتنا اللہ نے چاہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور عرض کیا اے میرے رب!میں نے دوبارہ گناہ کر لیا، اسے بھی بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے بدلے میں سزا بھی دیتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا بندہ گناہ سے رکا رہا اور پھر اس نے گناہ کیا اور اللہ کے حضور میں عرض کیا اے میرے رب!میں نے گناہ پھر کر لیا ہے تو مجھے بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا ایک رب ضرور ہے جو گناہ معاف کرتا ورنہ اس کی وجہ سی سزا بھی دیتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ تین مرتبہ، پس اب جو چاہے عمل کرے۔

حدیث نمبر ۷۵۰۸

راوی: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں میں سے ایک شخص کا ذکر کیا۔ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ فرمایا یعنی اللہ نے اسے مال و اولاد سب کچھ دیا تھا۔ جب اس کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے لڑکوں سے پوچھا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین باپ، اس پر اس نے کہا کہ لیکن تمہارے باپ نے اللہ کے ہاں کوئی نیکی نہیں بھیجی ہے اور اگر کہیں اللہ نے مجھے پکڑ پایا تو سخت عذاب کرے گا تو دیکھو جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو اسے خوب پیس لینا اور جس دن تیز آندھی آئے اس میں میری یہ راکھ اڑا دینا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر اس نے اپنے بیٹوں سے پختہ وعدہ لیا اور اللہ کی قسم کہ ان کے لڑکوں نے ایسا ہی کیا، جلا کر راکھ کر ڈالا، پھر انہوں نے اس کی راکھ کو تیز ہوا کے دن اڑا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے كن کا لفظ فرمایا کہ ہو جا تو وہ فوراً ایک مرد بن گیا جو کھڑا ہوا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے میرے بندے!تجھے کس بات نے اس پر آمادہ کیا کہ تو نے یہ کام کرایا۔ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے۔ بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ اس پر رحم کیا۔

اللہ تعالیٰ کا قیامت کے دن انبیاء اور دوسرے لوگوں سے کلام کرنا برحق ہے

حدیث نمبر ۷۵۰۹

راوی: انس رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا اے رب!جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کو بھی جنت میں داخل فرما دے۔ ایسے لوگ جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ میں پھر عرض کروں گا اے رب!جنت میں اسے بھی داخل کر دے جس کے دل میں معمولی سا بھی ایمان ہو۔

انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں اس وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کی طرف دیکھ رہا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۵۱۰

راوی: معبد بن ہلال العنزی

بصرہ کے کچھ لوگ ہمارے پاس جمع ہو گئے۔ پھر ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اپنے ساتھ ثابت رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے شفاعت کی حدیث پوچھیں۔ انس رضی اللہ عنہ اپنے محل میں تھے اور جب ہم پہنچے تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے ملاقات کی اجازت چاہی اور ہمیں اجازت مل گئی۔ اس وقت وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے۔ ہم نے ثابت سے کہا تھا کہ حدیث شفاعت سے پہلے ان سے اور کچھ نہ پوچھنا۔ چنانچہ انہوں نے کہا: اے ابوحمزہ!یہ آپ کے بھائی بصرہ سے آئے ہیں اور آپ سے شفاعت کی حدیث پوچھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کا دن جب آئے گا تو لوگ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ظاہر ہوں گے۔ پھر وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہماری اپنے رب کے پاس شفاعت کیجئے۔ وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے خلیل ہیں۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ سے شرف ہم کلامی پانے والے ہیں۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، البتہ تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں، ہاں تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔

لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں کہوں گا کہ میں شفاعت کے لیے ہوں اور پھر میں اپنے رب سے اجازت چاہوں گا اور مجھے اجازت دی جائے گی اور اللہ تعالیٰ تعریفوں کے الفاظ مجھے الہام کرے گا جن کے ذریعہ میں اللہ کی حمد بیان کروں گا جو اس وقت مجھے یاد نہیں ہیں۔ چنانچہ جب میں یہ تعریفیں بیان کروں گا اللہ کے حضور میں سجدہ کرنے والا ہو جاؤں گا تو مجھ سے کہا جائے گا اے محمد!اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو وہ سنا جائے گا، جو مانگو گے وہ دیا جائے گا، جو شفاعت کرو گے قبول کی جائے گی۔ پھر میں کہوں گا اے رب!میری امت، میری امت، کہا جائے گا کہ جاؤ اور ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لو جن کے دل میں ذرہ یا رائی برابر بھی ایمان ہو۔ چنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔

پھر میں لوٹوں گا اور یہی تعریفیں پھر کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا مجھ سے کہا جائے گا۔ اپنا سر اٹھاؤ کہو، آپ کی سنی جائے گی، میں کہوں گا اے رب!میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گاجاؤ اور جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے کم سے کم تر حصہ کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی جہنم سے نکال لو۔ پھر میں جاؤں گا اور نکالوں گا۔

پھر جب ہم انس رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلے تو میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے کہا کہ ہمیں امام حسن بصری کے پاس بھی چلنا چاہئیے، وہ اس وقت ابوخلیفہ کے مکان میں تھے اور ان سے وہ حدیث بیان کرنا چاہئیے جو انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کی ہے۔ چنانچہ ہم ان کے پاس آئے اور انہیں سلام کیا۔ پھر انہوں نے ہمیں اجازت دی اور ہم نے ان سے کہا اے ابوسعید!ہم آپ کے پاس آپ کے بھائی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے یہاں سے آئے ہیں اور انہوں نے ہم سے جو شفاعت کے متعلق حدیث بیان کی، اس جیسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا کہ بیان کرو۔ ہم نے ان سے حدیث بیان کی جب اس مقام تک پہنچے تو انہوں نے کہا کہ اور بیان کرو، ہم نے کہا کہ اس سے زیادہ انہوں نے نہیں بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ انس رضی اللہ عنہ جب صحت مند تھے، بیس سال اب سے پہلے تو انہوں نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی تھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ باقی بھول گئے یا اس لیے بیان کرنا ناپسند کیا کہ کہیں لوگ بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ ہم نے کہا ابوسعید!پھر ہم سے وہ حدیث بیان کیجئے۔ آپ اس پر ہنسے اور فرمایا انسان بڑا جلد باز پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے اس کا ذکر ہی اس لیے کیا ہے کہ تم سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح تم سے بیان کی اور اس میں یہ لفظ اور بڑھائے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں چوتھی مرتبہ لوٹوں گا اور وہی تعریفیں کروں گا اور اللہ کے لیے سجدہ میں چلا جاؤں گا۔ اللہ فرمائے گا اے محمد!اپنا سر اٹھاؤ، جو کہو گے سنا جائے گا، جو مانگو کے دیا جائے گا، جو شفاعت کرو کے قبول کی جائے گی۔ میں کہوں گا اے رب!مجھے ان کے بارے میں بھی اجازت دیجئیے جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میری عزت، میرے جلال، میری کبریائی، میری بڑائی کی قسم!اس میں سے میں انہیں بھی نکالوں گا جنہوں نے کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہے۔

حدیث نمبر ۱ ۷۵۱

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے بعد میں داخل ہونے والا اور دوزخ سے سب سے بعد میں نکلنے والا وہ شخص ہو گا جو گھسٹ کر نکلے گا، اس سے اس کا رب کہے گا جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا میرے رب!جنت تو بالکل بھری ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لیے دنیا کے دس گنا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۱۲

راوی: عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ہر شخص سے تمہارا رب اس طرح بات کرے گا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا اور اسے اپنے اعمال کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا اور وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا اور اسے اپنے اعمال کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر اپنے سامنے دیکھے گا تو اپنے سامنے جہنم کے سوا اور کوئی چیز نہ دیکھے گا۔ پس جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے۔

خیشمہ نے اس میں یہ لفظ زیادہ کئے کہ جہنم سے بچو خواہ ایک اچھی بات ہی کے ذریعہ ہو۔

حدیث نمبر ۷۵۱۳

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

یہودیوں کا ایک عالم خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور کہا کہ جب قیامت قائم ہو گی تو اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمین کو ایک انگلی پر، پانی اور کیچڑ کو ایک انگلی پر، اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھا لے گا اور پھر اسے ہلائے گا اور کہے گا میں بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپ کے دندان مبارک کھل گئے، اس بات کی تصدیق اور تعجب کرتے ہوئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی :

وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِه إِلَى قَوْلِهِ يُشْرِكُون...

انہوں نے اللہ کی شان کے مطابق قدر نہیں کی ... (۳۹:۷۶)

حدیث نمبر ۷۵۱۴

راوی: صفوان بن محرز

ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا سرگوشی کے بارے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کے قریب جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پردہ اس پر ڈال دے گا اور کہے گا تو نے یہ یہ عمل کیا تھا؟ بندہ کہے گا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ اس کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہ پر پردہ ڈالا تھا اور آج بھی تجھے معاف کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ نساء میں ارشاد کہ اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا (۴:۱۴۶)

حدیث نمبر ۵ ۷۵۱

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے بحث کی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہوں نے اپنی نسل کو جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے کہا کہ آپ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے پیغام اور کلام کے لیے منتخب کیا اور پھر بھی آپ مجھے ایک ایسی بات کے لیے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے ہی میری تقدیر میں لکھ دی تھی، چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔

حدیث نمبر ۷۵۱۶

راوی: انس رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان والے قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت کرتا تاکہ ہم اپنی اس حالت سے نجات پاتے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ آدم ہیں انسانوں کے پردادا۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور ہر چیز کے نام آپ کو سکھائے پس آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں، آپ جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں اور آپ اپنی غلطی انہیں یاد دلائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی۔

حدیث نمبر ۷۵۱۷

راوی: انس بن مالک رضی اللہ عنہ

جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس فرشتے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے نے کہا کہ ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو۔ اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ دوسری رات آئے جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ لیکن دل نہیں سو رہا تھا۔ انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔

چنانچہ انہوں نے آپ سے بات نہیں کی۔ بلکہ آپ کو اٹھا کر زمزم کے کنویں کے پاس لائے۔ یہاں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا کام سنبھالا اور آپ کے گلے سے دل کے نیچے تک سینہ چاک کیا اور سینے اور پیٹ کو پاک کر کے زمزم کے پانی سے اسے اپنے ہاتھ سے دھویا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ صاف ہو گیا۔ پھر آپ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک برتن ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو سیا اور اسے برابر کر دیا۔ پھر آپ کو لے کر آسمان دنیا پر چڑھے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر دستک دی۔

آسمان والوں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل انہوں نے پوچھا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ آسمان والوں نے کہا خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ آسمان والے اس سے خوش ہوئے۔ ان میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں کیا کرنا چاہتا ہے جب تک وہ انہیں بتا نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے بزرگ ترین دادا آدم ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا۔ کہا کہ خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ مبارک ہو اپنے بیٹے کو، آپ کیا ہی اچھے بیٹے ہیں۔ آپ نے آسمان دنیا میں دو نہریں دیکھیں جو بہہ رہی تھیں۔ پوچھا اے جبرائیل!یہ نہریں کیسی ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہے۔ پھر آپ آسمان پر اور چلے تو دیکھا کہ ایک دوسری نہر ہے جس کے اوپر موتی اور زبرجد کا محل ہے۔ اس پر اپنا ہاتھ مارا تو وہ مشک ہے۔ پوچھا جبرائیل!یہ کیا ہے؟ جواب دیا کہ یہ کوثر ہے جسے اللہ نے آپ کے لیے محفوظ رکھا ہے۔

پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے۔ فرشتوں نے یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے آسمان پر کیا تھا۔ کون ہیں؟ کہا جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ فرشتے بولے انہیں مرحبا اور بشارت ہو۔

پھر آپ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے اور دوسرے آسمان پر کیا تھا۔ پھر چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا پھر چھٹے آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر آپ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔

ہر آسمان پر انبیاء ہیں جن کے نام آپ نے لیے۔ مجھے یہ یاد ہے کہ ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر، اور دوسرے نبی پانچویں آسمان پر۔ جن کے نام مجھے یاد نہیں اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر۔ یہ انہیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی کی وجہ سے فضیلت ملی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا میرے رب!میرا خیال نہیں تھا کہ کسی کو مجھ سے بڑھایا جائے گا۔

پھر جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر آئے اور رب العزت اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسے کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ نے اور دوسری باتوں کے ساتھ آپ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کی وحی کی۔

پھر آپ اترے اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور پوچھا اے محمد!آپ کے رب نے آپ سے کیا عہد لیا ہے؟ فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے دن اور رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں۔ واپس جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی طرف سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے بھی اشارہ کیا کہ ہاں اگر چاہیں تو بہتر ہے۔ چنانچہ آپ پھر انہیں لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا اے رب!ہم سے کمی کر دے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی۔

پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو روکا۔ موسیٰ علیہ السلام آپ کو اسی طرح برابر اللہ رب العزت کے پاس واپس کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پانچ نمازیں ہو گئیں۔ پانچ نمازوں پر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا اور کہا اے محمد!میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا تجربہ اس سے کم پر کیا ہے وہ ناتواں ثابت ہوئے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو جسم، دل، بدن، نظر اور کان ہر اعتبار سے کمزور ہے، آپ واپس جائیے اور اللہ رب العزت اس میں بھی کمی کر دے گا۔ ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے تھے تاکہ ان سے مشورہ لیں اور جبرائیل علیہ السلام اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ جب وہ آپ کو پانچویں مرتبہ بھی لے گئے تو عرض کیا اے میرے رب!میری امت جسم، دل، نگاہ اور بند ہر حیثیت سے کمزور ہے، پس ہم سے اور کمی کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ وہ قول میرے یہاں بدلا نہیں جاتا جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب میں فرض کیا ہے۔ اور فرمایا کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے پس یہ ام الکتاب میں پچاس نمازیں ہیں لیکن تم پر فرض پانچ ہی ہیں۔

چنانچہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے اور انہوں نے پوچھا کیا ہوا؟ آپ نے کہا کہ ہم سے یہ تخفیف کی کہ ہر نیکی کے بدلے دس کا ثواب ملے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آزمایا ہے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ پس آپ واپس جائیے اور مزید کمی کرائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا اے موسیٰ، واللہ!مجھے اپنے رب سے اب شرم آتی ہے کیونکہ باربار آ جا چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پھر اللہ کا نام لے کر اتر جاؤ۔

پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد الحرام میں تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام ہی میں تھے کہ جاگ اٹھے، جاگ اٹھنے سے یہ مراد ہے کہ وہ حالت معراج کی جاتی رہی اور آپ اپنی حالت میں آ گئے۔

اللہ تعالیٰ کا جنت والوں سے باتیں کرنا

حدیث نمبر ۷۵۱۸

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا اے جنت والو!وہ بولیں گے حاضر تیری خدمت کے لیے مستعد، ساری بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تم خوش ہو؟ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں ہم خوش ہوں گے، اے رب!اور تو نے ہمیں وہ چیزیں عطا کی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل انعام نہ دوں؟ جنتی پوچھیں گے: اے رب!اس سے افضل کیا چیز ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں اپنی خوشی تم پر اتارتا ہوں اور اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔

حدیث نمبر ۷۵۱۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گفتگو کر رہے تھے، اس وقت آپ کے پاس ایک بدوی بھی تھا فرمایا کہ اہل جنت میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے کھیتی کی اجازت چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ سب کچھ تمہارے پاس نہیں ہے جو تم چاہتے ہو؟ وہ کہے گا کہ ضرور لیکن میں چاہتا ہوں کہ کھیتی کروں۔ چنانچہ بہت جلدی وہ بیج ڈالے گا اور پلک جھپکنے تک اس کا اگنا، برابر کٹنا اور پہاڑوں کی طرح غلے کے انبار لگ جانا ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا ابن آدم!اسے لے لے، تیرے پیٹ کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ!اس کا مزہ تو قریشی یا انصاری ہی اٹھایں گے کیونکہ وہی کھیتی باڑی والے ہیں، ہم تو کسان ہیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سن کر ہنسی آ گئی۔

اللہ اپنے بندوں کو حکم کر کے یاد کرتا ہے

اور بندے اس سے دعا اور عاجزی کر کے اور اللہ کا پیغام دوسروں کو پہنچا کر اس کی یاد کرتے ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ (۲:۱۲۵)

اور سورۃ یونس میں فرمایا :

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ... وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ

اے پیغمبر!ان کو نوح کا قصہ سنا جب اس نے اپنی قوم سے کہا۔ بھائیو!اگر میرا رہنا تم میں اور اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا تم پر گراں گزرتا ہے

تو میں نے اللہ پر اپنا کام چھوڑ دیا اس پر بھروسہ کیا تم بھی اپنے شریکوں کے ساتھ مل کر میرے قتل یا اخراج کی ٹھہرا لو۔

پھر اس تجویز کے پورا کرنے میں کچھ فکر نہ کرو بے تامل کر ڈالو۔ مجھ کو بھی فرصت نہ دو، اگر تم میری باتیں نہ مانو تو خیر میں تم سے کچھ دنیا کی اجرت نہیں مانگتا،

میری اجرت تو اللہ ہی پر ہے اس کی طرف سے مجھ کو اس کے تابعداروں میں شریک رہنے کا حکم ملا ہے۔ (۱۰:۷۱،۷۲)

غُمَّةٌکا معنی غم اور تنگی۔

مجاہد نے کہا اقْضُوا إِلَيَّ کا معنی یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو پورا کر ڈالو، قصہ تمام کرو۔ عرب لوگ کہتے ہیں افْرُقْ یعنی فیصلہ کر دے

اور مجاہد نے اس آیت (۹:۶) کی تفسیر میں کہا

وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ

یعنی اگر کوئی کافر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کا کلام اور جو آپ پر اترا اس کو سننے کے لیے آئے تو اس کو امن ہے جب تک وہ اس طرح آتا اور اللہ کا کلام سنتا رہے اور جب تک وہ اس امن کی جگہ نہ پہنچ جائے جہاں سے وہ آیا تھا

اور سورۃ نبا میں النَّبَأُ الْعَظِيمُ سے قرآن مراد ہے اور اس سورۃ میں جو صَوَابًا ہے تو صواب سے حق بات کہنا اور پر اس پر عمل کرنا مراد ہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ البقرہ میں ارشادفَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا پس اللہ کے شریک نہ بناؤ

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ حم سجدہ میں :

وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْدَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ‏‏‏‏

تم اس کے شریک بناتے ہو، وہ تو تمام دنیا کا مالک ہے۔ (۴۱:۹)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الفرقان میں :

وَالَّذِينَ لاَ يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ‏‏‏‏،

اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ۔ (۲۵:۶۸)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الزمر میں :

وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

اور بلاشبہ آپ پر اور آپ سے پہلے پیغمبروں پر وحی بھیجی گئی کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل غارت ہو جائے گا اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہو جاؤ گے ۔(۳۹:۶۵)

اور عکرمہ نے کہا وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ (۱۲:۱۰۶) کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ ان کا ایمان ہے لیکن عبادت غیر اللہ کی کرتے ہیں۔

اور اس باب میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ بندے کے افعال، ان کا کسب سب مخلوق الٰہی ہیں کیونکہ اللہ نے سورۃ الفرقان میں فرمایا :

وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا

اسی پروردگار نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر ایک انداز سے اس کو درست کیا۔ (۲۵:۲)

اور مجاہد نے کہا کہ سورۃ الحجرمیں جو ہے مَا تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ إِلَّا بِالْحَقِّ کا معنی یہ ہے کہ فرشتے اللہ کا پیغام اور اس کا عذاب لے کر اترتے ہیں۔ (۸:۱۵)

اور سورۃ الاحزاب میں جو فرمایا :

لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمُ

سچوں سے ان کی سچائی کا حال پوچھے یعنی پیغمبروں سے جو اللہ کا حکم پہنچاتے ہیں۔ (۳۳:۸)

اور سورۃ الحجرمیں فرمایا :

وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

ہم قرآن کے نگہبان ہیں۔ (۹:۱۵)

مجاہد نے کہا یعنی اپنے پاس

اور سورۃ الزمر میں فرمایا :

جَاءَ بِالصِّدْقِ

اور سچی بات لے کر آیا ۔ (۳۹:۳۳)

یعنی قرآن اور اس نے اس کو سچا جانا یعنی مؤمن جو قیامت کے دن پروردگار سے عرض کرے گا تو نے مجھ کو قرآن دیا تھا، میں نے اس پر عمل کیا۔

حدیث نمبر ۷۵۲۰

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا گناہ اللہ کے یہاں سب سے بڑا ہے؟

فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔

میں نے کہا یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے عرض کیا پھر کون سا؟

فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خطرہ کی وجہ سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔

میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟

فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ حم سجدہ میں فرمان :

وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ

تم جو دنیا میں چھپ کر گناہ کرتے تھے تو اس ڈر سے نہیں کہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف قیامت کے دن گواہی دیں گے

تم قیامت کے قائل ہی نہ تھے تم سمجھتے رہے کہ اللہ کو ہمارے بہت سارے کاموں کی خبر تک نہیں ہے (۴۱:۲۲)

حدیث نمبر ۷۵۲۱

راوی: عبداللہ رضی اللہ عنہ

خانہ کعبہ کے پاس دو ثقفی اور ایک قریشی یا یہ کہا کہ دو قریشی اور ایک ثقفی جمع ہوئے جن کے پیٹ کی چربی بہت تھی توند بڑی تھی اور جن میں سوجھ بوجھ کی بڑی کمی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ وہ سب کچھ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ جب ہم زور سے بولتے ہیں تو سنتا ہے لیکن اگر ہم آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی :

وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلا أَبْصَارُكُمْ وَلا جُلُودُكُمْ

تم جو دنیا میں چھپ کر گناہ کرتے تھے تو اس ڈر سے نہیں کہ تیرے کان تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف قیامت کے دن گواہی دیں گے ...(۴۱:۲۲)

اللہ تعالیٰ کا سورۃ رحمٰن میں فرمان:

كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ

پروردگار ہر دن ایک نیا کام کر رہا ہے (۵۵:۲۹)

اور سورۃ انبیاء میں فرمایا :

‏مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ

ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نیا حکم نہیں آتا۔ (۲۱:۲)

اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ الطلاق میں فرمان :

لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا

ممکن ہے کہ اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ (۶۵:۱)

صرف اتنی بات ہے کہ اللہ کا کوئی نیا کام کرنا مخلوق کے نئے کام کرنے سے مشابہت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشوریٰ میں فرمایا ہے:

لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ

اس جیسی کوئی چیز نہیں نہ ذات میں، نہ صفات میں اور وہ بہت سننے والا، بہت دیکھنے والا ہے۔ (۴۱:۱۱)

اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی کہ اللہ تعالیٰ جو نیا حکم چاہتا ہے دیتا ہے اور اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کرو۔

حدیث نمبر ۷۵۲۲

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے مسائل کے بارے میں کیونکر سوال کرتے ہو، تمہارے پاس خود اللہ کی کتاب موجود ہے جو زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے سب سے زیادہ قریب ہے، تم اسے پڑھتے ہو، وہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۲۳

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

اے مسلمانو!تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم!ہم تو ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھتے کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل ہوا ہے اس کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ القیامہ میں ارشاد :

لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ

قرآن نازل ہوتے وقت اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیا کر (۷۵:۱۶)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نقل کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں، اس وقت تک جب بھی وہ مجھے یاد کرتا ہے اور میری یاد میں اپنے ہونٹ ہلاتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۲۴

راوی: موسیٰ بن ابی عائشہ

سعید بن جبیر سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سورۃ القیامہ (۷۵:۱۶)میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ کے متعلق کہ وحی نازل ہوتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا بہت بار پڑتا ہے اور آپ اپنے ہونٹ ہلاتے۔

مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ہلا کے دکھاتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے۔ سعید نے کہا کہ جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما ہونٹ ہلا کر دکھاتے تھے، میں تمہارے سامنے اسی طرح ہلاتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:

لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ ‏‏‏‏ ۱ ۔ ‏‏‏‏ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ ‏‏‏‏ ۱

تمہارے سینے میں قرآن کا جما دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے جب ہم جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر اس کو پڑھ چکیں اس وقت تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔ (۷۵:۱۶،۱۷)

مطلب یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہو اور خاموش رہو، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تم سے ویسا ہی پڑھوا دیں گے۔

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آتے قرآن سناتے تو آپ کان لگا کر سنتے۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الملک میں ارشاد:

وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۔۔۔ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ

اپنی بات آہستہ سے کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ کیا وہ اسے نہیں جانے گا جو اس نے پیدا کیا اور وہ بہت باریک دیکھنے والا اور خبردار ہے (۶۷:۱۳،۱۴)

يَتَخَافَتُونَ کے معنی يَتَسَارُّونَ یعنی جو چپکے بات کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۲۵

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

اللہ تعالیٰ کے ارشاد:

وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا (۱۷:۱۱۰)

یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر اعمال اسلام ادا کرتے تھے لیکن جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے، جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو، اس کے اتارنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو گالی دیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی قرأت میں آواز بلند نہ کریں کہ مشرکین سنین اور پھر قرآن کو گالی دیں اور نہ اتنا آہستہ ہی پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔ (۱۷:۱۱۰)

حدیث نمبر ۷۵۲۶

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

آیت وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا (۱۷:۱۱۰) دعا کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی دعا نہ بہت چلا کر مانگ نہ آہستہ بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کر۔

حدیث نمبر ۷۵۲۷

راوی: ابوسلمہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔

اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا ہے یعنی اس کو پکار کر نہ پڑھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد :

ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات اور دن اس میں مشغول رہتا ہے، اور ایک شخص ہے جو کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے

تو اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ اس قرآن کے ساتھ قِيَامَهُ اس کا فعل ہے۔

اور فرمایا :

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ

اس کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا پیدا کرنا ہے اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا ہے۔ (۳۰:۲۲)

اور اللہ جل ذکرہ نے سورۃ الحج میں فرمایا :

وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اور نیکی کرتے رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو۔ (۲۲:۷۷)

حدیث نمبر ۷۵۲۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

- رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے، ایک اس پر جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا ہے تو ایک دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی اس کی طرح تلاوت کرتا رہتا

- اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اس کے حق میں خرچ کرتا ہے جسے دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ اتنا مال دیتا تو میں بھی اسی طرح خرچ کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۲۹

راوی: سالم کے والد رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے رات و دن خرچ کرتا رہا۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ المائدہ میں فرمان:

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ

اے رسول!تیرے پروردگار کی طرف سے جو تجھ پر اترا اس کو لوگوں تک پہنچا دے (۵:۶۷)

اور زہری نے کہا اللہ کی طرف سے پیغام بھیجنا اور اس کے رسول پر اللہ کا پیغام پہنچانا اور ہمارے اوپر اس کا تسلیم کرنا ہے۔

اور سورۃ الجن میں فرمایا :

لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالاتِ رَبِّهِمْ (۷۲:۲۸)

اس لیے کہ وہ پیغمبر جان لے کہ فرشتوں نے اپنے مالک کا پیغام پہنچا دیا۔

اور سورۃ الاعراف میں نوح علیہ السلام اور ہود علیہ السلام کی زبانوں سے فرمایا :

أُبَلِّغُكُمْ رِسَالاتِ رَبِّي

میں تم کو اپنے مالک کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ (۷:۲۶)

اور کعب بن مالک جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارے کام دیکھ لے گا اور

عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب تجھ کو کسی کا کام اچھا لگے تو یوں کہہ کہ عمل کئے جاؤ اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارا کام دیکھ لیں گے، کسی کا نیک عمل تجھ کو دھوکا میں نہ ڈالے۔

اور معمر نے کہا سورۃ البقرہ میں یہ جو فرمایا ذَلِكَ الْكِتَابُ تو کتاب سے مراد قرآن ہے۔

هُدًى لِلْمُتَّقِينَ وہ ہدایت کرنے والا ہے یعنی سچا راستہ بتانے والا ہے پرہیزگاروں کو۔

جیسے سورۃ الممتحنہ میں فرمایا ذَلِكُمْ حُكْمُ اللَّهِ (۶۰:۱۰) یہ اللہ کا حکم ہے اس میں کوئی شک نہیں یعنی بلا شک یہ اللہ کی اتاری ہوئی آیات ہیں یعنی قرآن کی نشانیاں

مطلب یہ ہے کہ دونوں آیات میں ذَلِكَ سے هَذِهِ مراد ہے اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے سورۃ یونس میں وَجَرَيْنَ بِهِمْ سے وَجَرَيْنَ بِكُمْ مراد ہے

اور انس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ماموں حرام بن ملحان کو ان کی قوم بنی عامر کی طرف بھیجا۔ حرام نے ان سے کہا کیا تم مجھ کو امان دو گے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام تم کو پہنچا دوں اور ان سے باتیں کرنے لگے۔

حدیث نمبر ۷۵۳۰

راوی: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو فی سبیل اللہ قتل کیا جائے گا وہ جنت میں جائے گا۔

حدیث نمبر ۷۵۳۱

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں کچھ چھپا لیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا وہ جھوٹا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے

يَأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ

اے رسول!پہنچا دیجئیے وہ پیغام جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اگر آپ نے یہ نہیں کیا تو آپ اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔ (۵:۶۷)

حدیث نمبر ۷۵۳۲

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

ایک صاحب نے عرض کیا یا رسول اللہ!کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟

فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت میں کسی کو بھی ساجھی بناؤ حالانکہ تمہیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ پوچھا پھر کون سا؟

فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ پوچھا پھر کون سا؟

فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں اس کی تصدیق میں قرآن نازل فرمایا:

وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ... وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ‏‏‏‏

اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود باطل کو نہیں پکارتے اور جو کسی ایسے کی جان نہیں لیتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوا حق کے

اور جو زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ گناہ سے بھڑ جائے گا۔ (۲۵:۶۸)

اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں یوں فرمانا اے رسول!کہہ دے اچھا تورات لاؤ اور اسے پڑھو (۳:۳۹)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں فرمانا کہ توراۃ والے توراۃ دئیے گئے انہوں نے اس پر عمل کیا۔ انجیل والے انجیل دئیے گئے انہوں نے اس پر عمل کیا۔ تم قرآن دئیے گئے تم نے اس پر عمل کیا۔

اور ابورزین نے کہا يَتْلُونَهُ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ اس پر جیسا عمل کرنا چاہئیے ویسا عمل کرتے ہیں تو تلاوت کرنا ایک عمل ٹھہرا۔ عرب کہتے ہیں يُتْلَى یعنی پڑھا جاتا ہے اور کہتے ہیں فلاں شخص کی تلاوت یا قرأت اچھی ہے

اور قرآن میں سورۃ الواقعہ میں ہے لَا يَمَسُّهُ یعنی قرآن کا مزہ وہی پائیں گے اس کا فائدہ وہی اٹھائیں گے جو کفر سے پاک یعنی قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور قرآن کو اس کے حق کے ساتھ وہی اٹھائے گا جس کو آخرت پر یقین ہو گا کیونکہ سورۃ الجمعہ میں فرمایا :

مَثَلُ الَّذِينَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا ... وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

ان لوگوں کی مثال جن سے توراۃ اٹھائی گئی پھر انہوں نے اس کو نہیں اٹھایا، اس پر عمل نہیں کیا ایسی ہے جیسے گدھے کی مثال جس پر کتابیں لدی ہوں۔

جن لوگوں نے اللہ کی باتوں کو جھٹلایا ان کی ایسی ہی بری مثال ہے اور اللہ ایسے شریر لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا۔ (۶۲:۵)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام اور ایمان دونوں کو مکمل فرمایا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم مجھ سے اپنا وہ زیادہ امید کا عمل بیان کرو جس کو تم نے اسلام کے زمانہ میں کیا ہو۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ!میں نے اسلام کے زمانہ میں اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا ہے کہ میں نے جب وضو کیا تو اس کے بعد تحیۃ الوضو کی دو رکعت نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا پھر وہ حج جس کے بعد گناہ نہ ہو۔

حدیث نمبر ۷۵۳۳

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور وہ عاجز ہو گئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر اہل کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو عمل کہا

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۳۴

راوی: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کون سا عمل سب سے افضل ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک معاملہ کرنا، پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ المعارج میں فرمان :

إِنَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا۔ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا۔ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا

آدم زاد دل کا کچا پیدا کیا گیا ہے، جب اس پر کوئی مصیبت آئی تو آہ و زاری کرنے لگ جاتا ہے اور جب راحت ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے ۔ (۷۰:۱۹،۲۱)

حدیث نمبر ۷۵۳۵

راوی: امام حسن بصری

عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا اور آپ نے اس میں سے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اس پر کچھ لوگ ناراض ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا اور جسے نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے جسے دیتا ہوں۔ میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں گھبراہٹ اور بے چینی ہے اور دوسرے لوگوں پر اعتماد کرتا ہوں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو بے نیازی اور بھلائی عطا فرمائی ہے۔

انہیں میں سے عمرو بن تغلب بھی ہیں۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمہ کے مقابلہ میں مجھے لال لال اونٹ ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے روایت کرنا

حدیث نمبر ۷۵۳۶

راوی: انس رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے روایت کیا کہ اللہ پاک فرماتا ہے کہ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس سے قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میرے پاس پیدل چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آ جاتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۵۳۷

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۵۳۸

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ پروردگار نے فرمایا ہر گناہ کا ایک کفارہ ہے جس سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے اور روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۳۹

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی۔

حدیث نمبر ۷۵۴۰

راوی: شعبہ

معاویہ بن قرہ نے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے اور سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے اس میں ترجیع کی۔

شعبہ نے کہا یہ حدیث بیان کر کے معاویہ نے اس طرح آواز دہرا کر قرأت کی جیسے عبداللہ بن مغفل کیا کرتے تھے اور معاویہ نے کہا اگر مجھ کو اس کا خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر ہجوم کریں گے تو میں اسی طرح آواز دہرا کر قرأت کرتا جس طرح عبداللہ بن مغفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آواز دہرانے کو نقل کیا تھا۔

شعبہ نے کہا میں نے معاویہ سے پوچھا ابن مغفل کیوں کر آواز دہراتے تھے؟ انہوں نے کہا آآآ تین تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے۔

تورات اور اس کے علاوہ دوسری آسمانی کتابوں کی تفسیر اور ترجمہ عربی وغیرہ میں کرنے کا جائز ہونا

اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی روشنی میں بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ کہ پس تم توریت لاؤ اور اسے پڑو اگر تم سچے ہو۔ (۳:۳۹)

حدیث نمبر ۷۵۴۱

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

مجھے ابوسفیان بن حرب نے خبر دی کہ ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بہت نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل کی جانب۔ پھر یہ آیت لکھی تھی

وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ...

اے کتاب والو!اس بات پر آ جاؤ جو ہم میں تم میں یکساں مانی جاتی ہے... (۳:۶۴)

حدیث نمبر ۷۵۴۲

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب، بلکہ کہو

آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ...

ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے ... (۲:۱۳۶)

حدیث نمبر ۷۵۴۳

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں رسوا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر توریت لاؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو چنانچہ وہ توریت لائے اور ایک شخص سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا کہ اے اعور!پڑھو۔ چنانچہ اس نے پڑھا اور جب اس کے ایک مقام پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس میں آیت رجم بالکل واضح طور پر موجود تھی، اس نے کہا: اے محمد!ان پر رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں۔ چنانچہ دونوں رجم کئے گئے، میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد :

قرآن کا ماہر جید حافظ قیامت کے دن لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا جو عزت والے اور اللہ کے تابعدار ہیں

اور یہ فرمانا وَزَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ کہ قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو۔

حدیث نمبر ۷۵۴۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اچھی آواز سے پڑھنے پر نبی کے قرآن مجید کو سنتا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۴۵

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کے سلسلہ میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ پھر میں روتے روتے اپنے بستر پر لیٹ گئی اور مجھے یقین تھا کہ جب میں اس تہمت سے بَری ہوں تو اللہ تعالیٰ میری برأت کرے گا، لیکن واللہ!اس کا مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوں گی جن کی قیامت تک تلاوت کی جائے گی اور میرے خیال میں میری حیثیت اس سے بہت کم تھی کہ اللہ میرے بارے میں پاک کلام نازل فرمائے جس کی تلاوت ہو اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیت نازل کی :

إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ

بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے تہمت لگائی پوری دس آیتوں تک (۲۴:۲،۱۱)۔

حدیث نمبر ۷۵۴۶

راوی: براء بن عازب

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عشاء کی نماز میں وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ پڑھ رہے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہترین آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔

حدیث نمبر ۷۵۴۷

راوی: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے، مشرکین جب سنتے تو قرآن کو برا بھلا کہتے اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بہت پست (۱۷:۱۱۰)۔

حدیث نمبر ۷۵۴۸

راوی: عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ کے والد

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نےان سے کہا میرا خیال ہے کہ تم بکریوں کو اور جنگل کو پسند کرتے ہو۔ پس جب تم اپنی بکریوں میں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ دو کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے گی اور اسے جن و انس اور دوسری جو چیزیں بھی سنیں گی وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۴۹

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی قرآن پڑھتے تھے جب آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ مزمل میں فرمان پس قرآن میں سے وہ پڑھو جو تم سے آسانی سے ہو سکے یعنی نماز میں (۷۳:۲۰)

حدیث نمبر ۷۵۵۰

راوی: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے دیکھا کہ وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر میں ہلہ کر دوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں اپنی چادر کا پھندا لگا دیا اور ان سے کہا تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی جسے میں نے ابھی تم سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا تم جھوٹے ہو، مجھے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف قرأت سکھائی ہے جو تم پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان اس طرح پڑھتے سنا جو آپ نے مجھے نہیں سکھائی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو۔ ہشام!تم پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے وہی قرأت پڑھی جو میں ان سے سن چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اے عمر!اب تم پڑھو!میں نے اس قرأت کے مطابق پڑھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ یہ قرآن عرب کی سات بولیوں پر اتارا گیا ہے۔ پس تمہیں جس قرأت میں سہولت ہو پڑھو۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ القمر میں فرمان اور ہم نے قرآن مجید کو سمجھنے یا یاد کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے (۵۴:۱۷)

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص کے لیے وہی امر آسان کیا گیا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔مُيَسَّرٌ بمعنی تیار کیا گیا آسان کیا گیا

مُيَسَّرٌ بمعنی تیار کیا گیا آسان کیا گیا

اور مجاہد نے کہا کہ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ بِلِسَانِكَ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی قرأت کو تیری زبان میں آسان کر دیا۔ یعنی اس کا پڑھنا تجھ پر آسان کر دیا۔

اور مطر الوراق نے کہا کہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ (۵۴:۱۷) کا مطلب یہ ہے کہ کیا کوئی شخص ہے جو علم قرآن کی خواہش رکھتا ہو پھر اللہ اس کی مدد نہ کرے؟

حدیث نمبر ۷۵۵۱

راوی: عمران رضی اللہ عنہ

میں نے کہا یا رسول اللہ!پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۵۲

راوی: علی رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے پھر آپ نے ایک لکڑی لی اور اس سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ جہنم میں یا جنت میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے کہا پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى۔۔۔

جس شخص نے بخشش کی اور تقویٰ اختیار کیا ۔۔۔(۹۲:۵)

اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمان بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے (۸۵:۲۱،۲۲)

اور سورۃ الطور میں فرمایا :

وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ‏‏‏‏

اور طور پہاڑ کی قسم اور کتاب کی قسم جو مسطور ہے۔

قتادہ نے کہا مَسْطُورٍ کے معنی لکھی گئی اور اسی سے ہے يَسْطُرُونَ یعنی لکھتے ہیں۔ فِي أُمِّ الْكِتَابِ یعنی مجموعی اصل کتاب میں،

یہ جو سورۃ ق (۵۰:۱۸) میں فرمایا مَا يَلْفِظُ مَا يَتَكَلَّمُ اس کا معنی یہ ہے کہ جو بات وہ منہ سے نکالتا ہے اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہے

حدیث نمبر ۷۵۵۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب خلقت کا پیدا کرنا ٹھہرا چکا یا جب خلقت پیدا کر چکا تو اس نے عرش کے اوپر اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھی اس میں یوں ہے میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے۔

حدیث نمبر ۷۵۵۴

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک تحریر لکھی کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ کر ہے، چنانچہ یہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھا ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ الصافات میں ارشاد اور اللہ نے پیدا کیا تمہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو (۳۷:۶۹)

اور سورۃ القمر میں فرمایا :

إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ

بلاشبہ ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ۔(۵۴:۴۹)

اور مصوروں سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس میں جان ڈالو۔

اور سورۃ الاعراف میں فرمایا :

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ ... وَالأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ

بلاشبہ تمہارا مالک اللہ وہ ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر زمین آسمان بنا کر تخت پر چڑھا،

رات کو دن سے ڈھانپتا ہے اور دن کو رات سے، دونوں ایک دوسرے کے پیچھے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔

ہاں سن لو!اسی نے سب کچھ بنایا اسی کا حکم چلتا ہے۔ اللہ کی ذات بہت بابرکت ہے جو سارے جہان کو پالنے والا ہے۔ (۷:۴۵)

سفیان بن عیینہ نے کہا کہ اللہ نے الْأَمْرِکو الْخَلْقَسے الگ کیا تب، تو یوں فرمایا۔

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو بھی عمل کہا۔

ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

یہ بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے۔ (۳۲:۱۷)

قبیلہ عبدالقیس کے وفد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں آپ چند ایسے جامع اعمال بتا دیں جن پر اگر ہم عمل کر لیں تو جنت میں داخل ہو جائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایمان، شہادت، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا۔ اسی طرح آپ نے ان سب چیزوں کو عمل قرار دیا۔

حدیث نمبر ۷۵۵۵

راوی: زہدم

قبیلہ جرم اور اشعریوں میں محبت اور بھائی چارہ کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ ان کے ہاں ایک بنی تیم اللہ کا بھی شخص تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اور اسی وقت سے قسم کھا لی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔

ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، سنو!میں تم سے اس کے متعلق ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کرتا ہوں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریوں کے کچھ افراد کو لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ!میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے اپنے عمل کے متعلق سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں۔

ہم نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں، واللہ!ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ ہم واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ سے صورت حال کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سواری نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ دے رہا ہے۔ واللہ!میں اگر کوئی قسم کھا لیتا ہوں اور پھر اس کے خلاف میں دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جس میں بھلائی ہوتی ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔

حدیث نمبر ۷۵۵۶

راوی: ابن عباس رضی اللہ عنہما

قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں، یہ کہ کدو کی تونبی اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو۔

حدیث نمبر ۷۵۵۷

راوی: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ۔

حدیث نمبر ۷۵۵۸

راوی: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔

حدیث نمبر ۷۵۵۹

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر حد سے تجاوز کرنے والا اور کون ہے جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بناتا ہے، ذرا وہ چنے کا دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں یا گیہوں کا ایک دانہ یا جَو کا ایک دانہ پیدا کر کے تو دیکھیں۔

فاسق اور منافق کی تلاوت کا بیان

اور اس کا بیان کہ ان کی آواز اور ان کی تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی

حدیث نمبر ۷۵۶۰

راوی: ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

- اس مؤمن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ترنج کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا اور اس کی خوشبو بھی عمدہ ہے

- اور وہ مؤمن جو نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے کہ اس کا مزہ تو اچھا ہے لیکن اس میں خوشبو نہیں

- اور اس فاسق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے مردہ کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے لیکن اس کا مزہ کڑوا ہے

- اور جو فاسق قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی کڑوا ہے اور کوئی خوشبو بھی نہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۶۱

راوی: عائشہ رضی اللہ عنہا

کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے متعلق سوال کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ!یہ لوگ بعض ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صحیح بات وہ ہے جسے شیطان فرشتوں سے سن کر یاد رکھ لیتا ہے اور پھر اسے مرغی کے کٹ کٹ کرنے کی طرح کاہنوں کے کانوں میں ڈال دیتا ہے اور یہ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملاتے ہیں۔

حدیث نمبر ۷۵۶۲

راوی: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ مشرق کی طرف سے نکلیں گے اور قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ دین سے اس طرح دور پھینک دئیے جائیں گے جیسے تیر پھینک دیا جاتا ہے۔ پھر یہ لوگ کبھی دین میں نہیں واپس آ سکتے، یہاں تک کہ تیر اپنی جگہ خود واپس آ جائے، پوچھا گیا کہ ان کی علامت کیا ہو گی؟ تو فرمایا کہ ان کی علامت سر منڈوانا ہو گی۔

اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازو رکھیں گے اور آدمیوں کے اعمال اور اقوال ان میں تولے جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کا سورۃ انبیاء میں فرمان :

وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٲزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ

اور قیامت کے دن ہم ٹھیک ترازوئیں رکھیں گے (۲۱:۴۷)

مجاہد نے کہا کہ قسطاس کا لفظ جو قرآن شریف میں آیا ہے رومی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ترازو کے ہیں۔ المقسط کے معنی عادل اور منصف کے ہیں

حدیث نمبر ۷۵۶۳

راوی: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے ایسے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو بہت ہی پسند ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں بوجھل اور باوزن ہوں گے، وہ کلمات مبارکہ یہ ہیں

سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ ۔


Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana,

Lahore, Pakistan

Email: cmaj37@gmail.com

Visits wef 2019


website hit counter