Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ المائدہ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ

اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓؓ سے کہا! آپ مجھے خاص نصیحت کیجئے۔

 آپ نے فرمایا جب تو قرآن میں لفظ آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا سن لے تو فوراً کان لگا کر دل سے متوجہ ہو جا، کیونکہ اس کے بعد کسی نہ کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی نہ کسی برائی سے ممانعت ہو گی۔

حضرت زہری فرماتے ہیں:

جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو کوئی حکم دیا ہے اس حکم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہیں۔

حضرت خیثمہ فرماتے ہیں کہ توراۃ میں بجائے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا کے يَا أَيُّهَا الَّمَسَکِينَ ہے۔

 ایک روایت ابن عباسؓ کے نام سے بیان کی جاتی ہے:

 جہاں کہیں لفظ آیت يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ہے ، ان تمام مواقع پر ان سب ایمان والوں کے سردار و شریف اور امیر حضرت علیؓ ہیں، اصحاب رسول میں سے ہر ایک کو ڈانٹا گیا ہے بجز حضرت علیؓ کے کہ انہیں کسی امر میں نہیں ڈانٹا گیا،

 یاد رہے کہ یہ اثر بالکل بےدلیل ہے۔ اس کے الفاظ منکر ہیں اور اس کی سند بھی صحیح نہیں۔

حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا راوی عیسیٰ بن راشد مجہول ہے، اس کی روایت منکر ہے۔

 میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا دوسرا راوی علی بن بذیمہ گو ثقہ ہے مگر اعلیٰ درجہ کا شیعہ ہے۔ پھر بھلا اس کی ایسی روایت جو اس کے اپنے خاص خیالات کی تائید میں ہو، کیسے قبول کی جا سکے گی؟ یقیناًوہ اس میں ناقابل قبول ٹھہرے گا،

اس روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام صحابہؓ  کو بجز حضرت علیؓ کے ڈانٹا گیا، اس سے مراد ان کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ نکالنے کا حکم دیا تھا، پس ایک سے زیادہ مفسرین نے کہا ہے کہ اس پر عمل صرف حضرت علیؓ ہی نے کیا اور پھر یہ فرمان اترا کہ أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ (۵۸:۱۳) لیکن یہ غلط ہے کہ اس آیت میں صحابہؓ  کو ڈانٹا گیا، بلکہ دراصل یہ حکم بطور واجب کے تھا ہی نہیں، اختیاری امر تھا۔ پھر اس پر عمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا۔ پس حقیقتاً  کسی سے اس کے خلاف عمل سرزد ہی نہیں ہوا۔

پھر یہ بات بھی غلط ہے کہ حضرت علیؓ  کو کسی بات میں ڈانٹا نہیں گیا۔ سورہ انفال کی آیت ملاحظہ ہو جس میں ان تمام صحابہؓ  کو ڈانٹا گیا ہے۔ جنہوں نے بدری قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا، دراصل سوائے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باقی تمام صحابہؓ کا مشورہ یہی تھا پس یہ ڈانٹ بجز حضرت عمر ؓکے باقی سب کو ہے، جن میں حضرت علیؓ بھی شامل ہیں،

پس یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی دلیل ہیں کہ یہ اثر بالکل ضعیف اور بودا ہے، واللہ اعلم۔

ابن جریر میں حضرت محمد بن سلمہ فرماتے ہیں:

 جو کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھوا کر دی تھی جبکہ انہیں نجران بھیجا تھا، اس کتاب کو میں نے ابوبکر بن حزم کے پاس دیکھا تھا اور اسے پڑھا تھا، اس میں اللہ اور رسول کے بہت سے احکام تھے، اس میں آیت يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِسے إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۵:۱،۴)  تک بھی لکھا ہوا تھا۔

ابن ابی حاتم میں ہے:

 حضرت عمرو بن حزم کے پوتے حضرت ابوبکر بن محمد نے فرمایا ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کتاب ہے جسے آپ نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھ کر دی تھی جبکہ انہیں یمن والوں کو دینی سمجھ اور حدیث سکھانے کے لئے اور ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے یمن بھیجا تھا، اس وقت یہ کتاب لکھ کر دی تھی، اس میں عہد و پیمان اور حکم احکام کا بیان یہ۔ اس میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِکے بعد لکھا ہے یہ کتاب ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے، ایمان والو وعدوں کو اور عہد و پیمان کو پورا کرو، یہ عہد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرو بن حزم کے لئے ہے جبکہ انہیں یمن بھیجا انہیں اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کا حکم ہے یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے رہیں اور جو احسان خلوص اور نیکی کریں۔

حضرت ابن عباسؓ وغیرہ فرماتے ہیں عُقُود سے مراد عہد ہیں۔

ابن جریر اس پر اجماع بتاتے ہیں۔ خواہ قسمیہ عہد و پیمان ہو یا اور وعدے ہوں، سب کو پورا کرنا فرض ہے۔

 حضرت ابن عباسؓ سے یہ بھی مروی ہے  :

عہد کو پورا کرنے میں اللہ کے حلال کو حلال جاننا، اس کے حرام کو حرام جاننا، اس کے فرائض کی پابندی کرنا، اس کی حد بندی کی نگہداشت کرنا بھی ہے، کسی بات کا خلاف نہ کرو، حد کو نہ توڑو، کسی حرام کام کو نہ کرو، اس پر سختی بہت ہے۔

جیسے قرآن میں فرمایا:

وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ اللّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُوْلَئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (۱۳:۲۵)

اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے

حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ کہ اللہ کے حلال کو، اس کے حرام کو، اس کے وعدوں کو، جو ایمان کے بعد ہر مؤمن کے ذمہ آ جاتے ہیں پورا کرنا اللہ کی طرف سے فرض ہے، فرائض کی پابندی، حلال حرام کی عقیدت مندی وغیرہ وغیرہ

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ یہ چھ عہد ہیں،

-          اللہ کا عہد ،

-         آپس کی یگانگت کا قسمیہ عہد،

-          شرکت کا عہد،

-         تجارت کا عہد،

-          نکاح کا عہد

-          اور قسمیہ وعدہ

محمد بن کعب کہتے ہیں پانچ ہیں، جن میں جاہلیت کے زمانہ کی قسمیں ہیں اور شرکت تجارت کے عہد و پیمان ہیں، جو لوگ کہتے ہیں کہ خرید و فروخت پوری ہو چکنے کے بعد گو اب تک خریدا اور بیچنے والے ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے ہوں تاہم واپس لوٹانے کا اختیار نہیں وہ اپنی دلیل اس آیت کو بتلاتے ہیں۔امام ابو حنیفہ اور امام مالک کا یہی مذہب ہے،

 لیکن امام شافعی اور امام احمد اس کے خلاف ہیں اور جمہور علماء کرام بھی اس کے مخالف ہیں ، اور دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جو صحیح بخاری مسلم میں حضرت ابن عمر ؓسے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی ﷺ نے فرمایا :

خرید و فروخت کرنے والوں کو سودے کے واپس لینے دینے کا اختیار ہے جب تک کہ جدا جدا نہ ہو جائیں

صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں یوں بھی ہے :

جب دو شخصوں نے خرید و فروخت کر لی تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہے۔

 یہ حدیث صاف اور صریح ہے کہ یہ اختیار خرید و فروخت پورے ہو چکنے کے بعد کا ہے۔ ہاں اسے بیع کے لازم ہو جانے کے خلاف نہ سمجھا جائے بلکہ یہ شرعی طور پر اسی کا مقتضی ہے، پس اسے نبھانا بھی اسی آیت کے ماتحت ضروری ہے۔

أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ

تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں

اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے مویشی چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے ہیں یعنی اونٹ، گائے، بکری۔

ابوالحسن، قتادہ کا یہی قول ہے۔

 ابن جریر فرماتے ہیں عرب میں ان کے لغت کے مطابق بھی یہی ہے

حضرت ابن عمر ؓحضرت ابن عباسؓ اور  بہت سے بزرگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ جس حلال مادہ کو ذبح کیا جائے اور اس کے پیٹ میں سے بچہ نکلے گو وہ مردہ ہو پھر بھی حلال ہے۔

 ابو داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے:

صحابہؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اونٹنی، گائے، بکری ذبح کی جاتی ہے، ان کے پیٹ سے بچہ نکلتا ہے تو ہم اسے کھا لیں یا پھینک دیں۔

آپ ﷺنے فرمایا اگر چاہو کھا لو ، اس کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے۔

امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں،

 ابو داؤد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

پیٹ کے اندر والے بچے کا ذبیحہ اس کی ماں کا ذبیحہ ہے۔

إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ ۗ

 بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے مگر حالت احرام میں شکار کو حلال جاننے والے نہ بننا،

پھر فرماتا ہے مگر وہ جن کا بیان تمہارے سامنے کیا جائے گا۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں اس سے مطلب مردار، خون اور خنزیر کا گوشت ہے۔

حضرت قتادہ فرماتے ہیں مراد اس سے از خود مرا ہوا جانور اور وہ جانور ہوے جس کے ذبیحہ پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو

پورا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد اللہ کا یہ فرمان ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ (۵:۳)

 تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو، اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو، جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو ، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں

جو جانور پرستش گاہوں پر ذبح کیا جائے، وہ بھی حرام ہے اور ایسا حرام کہ اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں، اسی لئے اس سے استدراک نہیں کیا گیا اور حلال کے ساتھ اس کا کوئی فرد ملایا نہیں گیا،

پس یہاں یہی فرمایا جا رہا ہے کہ چوپائے مویشی تم پر حلال ہیں لیکن وہ جن کا ذکر ابھی آئے گا۔ بعض احوال میں حرام ہیں، اس کے بعد کا جملہ حالیت کی بناء پر منصوب ہے۔

 مراد أَنْعَام سے عام ہے بعض تو وہ جو انسانوں میں رہتے پلتے ہیں، جیسے اونٹ، گائے، بکری اور بعض وہ جو جنگلی ہیں جیسے ہرن، نیل گائے اور جنگلی گدھے، پس پالتو جانوروں میں سے تو ان کو مخصوص کر لیا جو بیان ہوئے اور وحشی جانوروں میں سےاحرام کی حالت میں کسی کو بھی شکار کرنا ممنوع قرار دیا،

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ ہم نے تمہارے لئے چوپائے جانور ہر حال میں حلال کئے ہیں پس تم احرام کی حالت میں شکار کھیلنے سے رک جاؤ اور اسے حرام جانو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے جس طرح اس کے تمام احکام سراسر حکمت سے پر ہیں، اسی طرح اس کی ہر ممانعت میں بھی حکمت ہے،

إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ (۱)

یقیناً   اللہ تعالیٰ جو چاہے حکم کرتا ہے۔‏

اللہ وہ حکم فرماتا ہے جو ارادہ کرتا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بےحرمتی نہ کرو نہ ادب والے مہینوں کی

اے ایمان والو! رب کی نشانیوں کی توہین نہ کرو، یعنی مناسک حج، صفا، مروہ، قربانی کے جانور، اونٹ اور اللہ کی حرام کردہ ہر چیز، حرمت والے مہینوں سمیت کسی کی توہین نہ کرو، ان کا ادب کرو، ان کا لحاظ رکھو، ان کی عظمت کو مانو اور ان میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی نافرمانیوں سے بچو اور ان مبارک اور محترم مہینوں میں اپنے دشمنوں سے از خود لڑائی نہ چھیڑو۔جیسے ارشاد ہے:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ (۲:۲۱۷)

لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا سخت گناہ ہے

 اور آیت میں ہے:

إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا (۹:۳۶)

مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے۔

 صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الودع میں فرمایا :

زمانہ گھوم گھام کر ٹھیک اسی طرز پر آ گیا ہے جس پر وہ اس وقت تھا، جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ ماہ کا ہے، جن میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں۔ تین تو یکے بعد دیگرے ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا رجب، جسے قبیلہ مضر رجب کہتا ہے جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔

 اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مہینوں کی حرمت تاقیامت ہے جیسے کہ سلف کی ایک جماعت کا مذہب ہے

 آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ سے یہ مروی ہے  کہ ان مہینوں میں لڑائی کرنا حلال نہ کر لیا کرو۔

لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے اور حرمت والے مہینوں میں بھی دشمنان اسلام سے جہاد کی ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔

 ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ (۹:۵)

پھر حرمت والے مہینوں کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو انہیں گرفتار کرو ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جابیٹھو

اور مراد یہاں ان چار مہینوں کا گزر جانا ہے، جب وہ چار مہینے گزر چکے جو اس وقت تھے، تو اب ان کے بعد برابر جہاد جاری ہے اور قرآن نے پھر کوئی مہینہ خاص نہیں کیا، بلکہ امام ابو جعفر ؒتو اس پر اجماع نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے جہاد کرنا، ہر وقت اور ہر مہینے میں جاری ہی رکھا ہے۔

 آپ فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اجماع ہے کہ اگر کوئی کافر حرم کے تمام درختوں کی چھال اپنے اوپر لپیٹ لے تب بھی اس کے لئے امن و امان نہ سمجھی جائے گی۔ اگر مسلمانوں نے از خود اس سے پہلے اسے امن نہ دیا ہو۔

 اس مسئلہ کی پوری بحث یہاں نہیں ہو سکتی۔

وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ رَبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۚ

نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جا رہے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو بیت اللہ کے قصد سے اپنے رب تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضا جوئی کی نیت سے جا رہے ہوں

پھر فرمایا کہ هَدْيَ اور قَلَائِدَ کی بےحرمتی بھی مت کرو۔

یعنی بیت اللہ شریف کی طرف قربانیاں بھیجنا بند نہ کرو، کیونکہ اس میں اللہ کی نشانوں کی تعظیم ہے اور قربانی کے لئے جو اونٹ بیت الحرام کی طرف بھیجو، ان کے گلے میں بطور نشان پٹا ڈالنے سے بھی نہ رکو۔ تا کہ اس نشان سے ہر کوئی پہچان لے کہ یہ جانور اللہ کے لئے اللہ کی راہ کے لئے وقف ہو چکا ہے اب اسے کوئی برائی سے ہاتھ نہ لگائے گا بلکہ اسے دیکھ کر دوسروں کو بھی شوق پیدا ہو گا کہ ہم بھی اس طرح اللہ کے نام جانور بھیجیں اور اس صورت میں تمہیں اس کی نیکی پر بھی اجر ملے گا کیونکہ جو شخص دوسروں کو ہدایت کی طرف بلائے اسے بھی وہ اجر ملے گا، جو اس کی بات مان کر اس پر عمل کرنے والوں کو ملتا ہے۔

یہ بھی خیال رہے اللہ تعالیٰ ان کے اجر کو کم کر کے اسے نہیں دے گا بلکہ اسے اپنے پاس سے عطا فرمائے گا۔

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لئے نکلے تو آپ نے وادی عقیق یعنی ذوالحلیفہ میں رات گزاری، صبح اپنی نو بیویوں کے پاس گئے، پھر غسل کر کے خوشبو ملی اور دو رکعت نماز ادا کی اور اپنی قربانی کے جانور کے کوہان پر نشان کیا اور گلے میں پٹہ ڈالا اور حج اور عمرے کا احرام باندھا۔ قربانی کے لئے آپ نے بہت خوش رنگ مضبوط اور نوجوان اونٹ ساٹھ سے اوپر اوپر اپنے ساتھ لئے تھے،

جیسے کہ قرآن کا فرمان ہے:

وَمَن يُعَظِّمْ شَعَـئِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ  (۲۲:۳۲)

اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے ۔

بعض سلف کا فرمان ہے کہ تعظیم یہ بھی ہے کہ قربانی کے جانوروں کو اچھی طرح رکھا جائے اور انہیں خوب کھلایا جائے اور مضبوط اور موٹا کیا جائے۔

حضرت علی ؓفرماتے ہیں:

ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قربانی کے جانوروں کی آنکھیں اور کان دیکھ بھال کر خریدیں (رواہ اہل السنن)

مقاتل بن حیان فرماتے ہیں:

جاہلیت کے زمانے میں جب یہ لوگ اپنے وطن سے نکلتے تھے اور حرمت والے مہینے نہیں ہوتے تھے تو یہ اپنے اوپر بالوں اور اون کو لپیٹ لیتے تھے اور حرم میں رہنے والے مشرک لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں اپنے جسم پر باندھ لیتے تھے، اس سے عام لوگ انہیں امن دیتے تھے اور ان کو مارتے پیٹتے نہ تھے۔

حضرت ابن عباسؓ سے بروایت حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ اس سورت کی دو آیتیں منسوخ ہیں آیت وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ اور یہ آیت فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ  (۵:۴۲)  لیکن حضرت حسن سے جب سوال ہوتا ہے کہ کیا اس سورت میں سے کوئی آیت منسوخ ہوئی ہے؟   تو آپ فرماتے ہیں نہیں

 حضرت عطاء فرماتے ہیں :

وہ لوگ حرم کے درختوں کی چھالیں لٹکا لیا کرتے تھے اور اس سے انہیں امن ملتا تھا، پس اللہ تعالیٰ نے حرم کے درختوں کو کاٹنا منع فرما دیا۔

يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ رَبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۚ

اور نہ ان لوگوں کی جو بیت اللہ کے قصد سے اپنے رب تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضا جوئی کی نیت سے جا رہے ہوں

اللہ  فرماتا ہے جو لوگ بیت اللہ کے ارادے سے نکلے ہوں، ان سے لڑائی مت لڑو۔ یہاں جو آئے وہ امن میں پہنچ گیا، پس جو اس کے قصد سے چلا ہے اس کی نیت اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضامندی کی جستجو ہے تو اب اسے ڈر خوف کے دباؤ میں نہ رکھو، اس کی عزت اور ادب کرو اور اسے بیت اللہ سے نہ روکو۔

بعض کا قول ہے کہ اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مراد تجارت ہے۔

جیسے اس آیت میں ہے:

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُواْ فَضْلاً مِّن رَّبِّكُمْ (۲:۱۹۸)

زمانہ حج میں تجارت کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔

رِضْوَانسے مراد حج کرنے میں اللہ کی مرضی کو تلاش کرنا ہے۔

 ابن جریر فرماتے ہیں :

یہ آیت خطیم بن ہند، کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس شخص نے مدینہ کی چراگاہ پر دھاوا ڈالا تھا پھر اگلے سال یہ عمرے کے ارادے سے آ رہا تھا تو بعض صحابہؓ  کا ارادہ ہوا کہ اسے راستے میں روکیں، اس پر یہ فرمان نازل ہوا۔

امام ابن جرید نے اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے :

جو مشرک مسلمانوں کی امان لئے ہوئے نہ ہو تو چاہے وہ بیت اللہ شریف کے ارادے سے جا رہا ہو یا بیت المقدس کے ارادے سے، اسے قتل کرنا جائز ہے یہ حکم ان کے حق میں منسوخ ہے واللہ اعلم

 وہاں جو شخص وہاں الحاد پھیلانے کیلئے جا رہا ہے اور شرک و کفر کے ارادے کا قصد کرتا ہو تو اسے روکا جائے گا۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 پہلے مؤمن و مشرک سب حج کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ممانعت تھی کہ کسی مؤمن کافر کو نہ روکو لیکن اس کے بعد یہ آیت اتری:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا (۹:۲۸)

اے ایمان والو! بیشک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں

 اور فرمان ہے:

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ (۹:۱۸)

لائق نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو آباد کریں

مشرکین اللہ کی مسجد کو آباد رکھنے کے ہرگز اہل نہیں فرمان ہے:

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (۹:۱۸)

اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں

پس مشرکین مسجدوں سے روک دیئے گئے،

حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے،

جاہلیت کے زمانہ میں جب کوئی شخص اپنے گھر سے حج کے ارادے سے نکلتا تو وہ درخت کی چھال وغیرہ باندھ لیتا تو راستے میں اسے کوئی نہ ستاتا، پھر لوٹتے وقت بالوں کا ہار ڈال لیتا اور محفوظ رہتا اس وقت تک مشرکین بیت اللہ سے روکے نہ جاتے تھے،

 اب مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ حرمت والے مہینوں میں نہ لڑیں اور نہ بیت اللہ کے پاس لڑیں، پھر اس حکم کو اس آیت نے منسوخ کر دیا کہ مشرکین سے لڑو جہاں کہیں انہیں پاؤ۔

ابن جریر کا قول ہے کہ قَلَائِدَ سے مراد یہی ہے جو ہار وہ حرم سے گلے میں ڈال لیتے تھے اور اس کی وجہ سے امن میں رہتے تھے، عرب میں اس کی تعظیم برابر چلی آ رہی تھی اور جو اس کے خلاف کرتا تھا اسے بہت برا کہا جاتا تھااور شاعر اس کو ہجو کرتے تھے

وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ۚ

ہاں جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کھیل سکتے ہو

اللہ  فرماتا ہے جب تم احرام کھول ڈالو تو شکار کر سکتے ہو

احرام میں شکار کی ممانعت تھی، اب احرام کے بعد پھر اس کی اباحت ہو گئی جو حکم ممانعت کے بعد ہو اس حکم سے وہی ثابت ہوتا ہے جو ممانعت سے پہلے اصل میں تھا۔ یعنی اگر وجوب اصلی تھا تو ممانعت کے بعد کا امر بھی وجوب کیلئے ہو گا۔ اور اسی طرح مستحب و مباح کے بارے میں۔ گو بعض نے کہا ہے کہ ایسا امر وجوب کے لئے  ہی ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے، صرف مباح ہونے کیلئے ہی ہوتا ہے لیکن دونوں جماعتوں کے خلاف قرآن کی آیتیں موجود ہیں۔ پس صحیح مذہب جس سے تمام دلیلیں مل جائیں وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا اور بعض علماء اصول نے بھی اسے ہی اختیار کیا واللہ اعلم۔

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا ۘ

جن لوگوں نے تمہیں مسجد احرام سے روکا تھا ان کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم حد سے گزر جاؤ

پھر فرماتا ہے جس قوم نے تمہیں حدیبیہ والے سال مسجد حرام سے روکا تھا تو تم ان سے دشمنی باندھ کر قصاص پر آمادہ ہو کر اللہ کے حکم سے آگے بڑھ کر ظلم و زیادتی پر نہ اتر آنا، بلکہ تمہیں کسی وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہ چھوڑنا چاہئے۔

اسی طرح کی وہ آیت بھی ہے جس میں فرمایا ہے:

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (۵:۸)

کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو

بعض سلف کا قول ہے  کہ گو کوئی تجھ سے تیرے بارے میں اللہ کی نافرمانی کرے لیکن تجھے چاہئے کہ تو اس کے بارے میں اللہ کی فرمانبرداری ہی کرے۔ عدل ہی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحاب کو جبکہ مشرکین نے بیت اللہ کی زیارت سے روکا اور حدیبیہ سے آگے بڑھنے ہی نہ دیا، اسی رنج و غم میں صحابہؓ واپس آ رہے تھے جو مشرقی مشرک مکہ جاتے ہوئے انہیں ملے تو ان کا ارادہ ہوا کہ جیسے ان کے گروہوں نے ہمیں روکا ہم بھی انہیں ان تک نہ جانے دیں۔ اس پر یہ آیت اتری

شَنَآنُ کے معنی بغض کے ہیں

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (۲)

نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ ظلم زیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔‏

پھر اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والے بندوں کو نیکی کے کاموں پر ایک دوسرے کی تائید کرنے کو فرماتا ہے،

بِرِّ کہتے ہیں نیکیاں کرنے کواور التَّقْوَى کہتے ہیں برائیوں کے چھوڑنے کو اور انہیں منع فرماتا ہے گناہوں اور حرام کاموں پر کسی کی مدد کرنے کو

 ابن جریر فرماتے ہیں کہ جس کام کے کرنے کا اللہ کا حکم ہو اور انسان اسے نہ کرے، یہ إِثْم ہے اور دین میں جو حدیں اللہ نے مقرر کر دی ہیں جو فرائض اپنی جان یا دوسروں کے بارے میں جناب باری نے مقرر فرمائے ہیں، ان سے آگے نکل جانا عُدْوَان ہے۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظالم ہو خواہ مظلوم ہو

تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مظلوم ہونے کی صورت میں مدد کرنا ٹھیک ہے لیکن ظالم ہونے کی صورت میں کیسے مدد کریں؟

فرمایا اسے ظلم نہ کرنے دو، ظلم سے روک لو، یہی اس وقت کی اس کی مدد ہے

یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے،

 مسند احمد میں ہے :

جو مسلمان لوگوں سے ملے جلے اور دین کے حوالے سے ان کی ایذاؤں پر صبر کرے وہ ان مسلمانوں سے بڑے اجر والا ہے، جو نہ لوگوں سے ملے جلے، نہ ان کی ایذاؤں پر صبر کرے

مسند بزار میں ہے:

جو شخص کسی بھلی بات کی دوسرے کو ہدایت کرے وہ اس بھلائی کے کرنے والے جیسا ہی ہے

امام ابوبکر بزار اسے بیان فرما کر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اسی ایک سند سے مروی ہے۔

لیکن میں کہتا ہوں اس کی شاہد یہ صحیح حدیث ہے:

 جو شخص ہدایت کی طرف لوگوں کو بلائے، اسے ان تمام کے برابر ثواب ملے گا جو قیامت تک آئیں گے اور اس کی تابعداری کریں گے۔ لیکن ان کے ثواب میں سے گھٹا کر نہیں اور جو شخص کسی کو برائی کی طرف چلائے تو قیامت تک جتنے لوگ اس برائی کو کریں گے۔ ان سب کا جتنا گناہ ہو گا، وہ سارا اس اکیلے کو ہو گا۔ لیکن ان کے گناہ گھٹا کر نہیں۔

طبرانی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

جو شخص کسی ظالم کے ساتھ جائے تاکہ اس کی اعانت و امداد کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ ظالم ہے وہ یقیناً دین اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ

تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو،

ان آیتوں میں اللہ ان کا بیان فرما رہا ہے جن کا کھانا اس نے حرام کیا ہے، یہ خبر ان چیزوں کے نہ کھانے کے حکم میں شامل ہے

الْمَيْتَةُ وہ ہے جو از خود اپنے آپ مر جائے، نہ تو اسے ذبح کیا جائے، نہ شکار کیا جائے۔ اس کا کھانا اس لئے حرام کیا گیا کہ اس کا وہ خون جو مضر ہے اسی میں رہ جاتا ہے، ذبح کرنے سے توبہہ جاتا ہے اور یہ خون دین اور بدن کو مضر ہے،

ہاں یہ یاد رہے ہر مردار حرام ہے مگر مچھلی نہیں۔

کیونکہ موطا مالک، مسند شافعی، مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجو، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا:

 اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے

 اور اسی طرح،ٹڈی بھی گو خود ہی مر گئی ہو، حلال ہے۔ اس کی دلیل کی حدیث آ رہی ہے۔

 الدَّمُ سے مراد وہ خون ہے جو بوقت ذبح بہتا ہے۔

حضرت ابن عباسؓ سے سوال ہوتا ہے کہ آیا تلی کھا سکتے ہیں؟

 آپ فرماتے ہیں ہاں،

لوگوں نے کہا وہ تو خون ہے،

 آپ نے فرمایا ہاں صرف وہ خون حرام ہے جو بوقت ذبح بہا ہو۔

حضرت عائشہؓ بھی یہی فرماتی ہیں کہ صرف بہا ہوا خون حرام ہے۔

 امام شافعیؒ حدیث لائے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ہمارے لئے دو قسم کے مردے اور دو خون حلال کئے گئے ہیں، مچھلی، ٹڈی، کلیجی اور تلی۔

یہ حدیث مسند احمد، ابن ماجہ، دار قطنی اور بیہقی میں بھی بروایت عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں،

حافظ بیہقی فرماتے ہیں عبد الرحمٰن کے ساتھ ہی اسے اسماعیل بن ادریس اور عبداللہ بھی روایت کرتے ہیں لیکن میں کہتا ہوں یہ دونوں بھی ضعیف ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے ضعف میں کمی بیشی ہے۔

لیمان بن بلال نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور وہ ہیں بھی ثقہ لیکن اس روایت کو بعض نے ابن عمر ؓپر موقوف رکھا ہے۔ حافظ ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے۔

 ابن ابی حاتم میں حضرت سدی بن عجلان سے مروی ہے  کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی طرف بھیجا کہ میں انہیں اللہ کی طرف بلاؤں اور احکام اسلام ان کے سامنے پیش کروں۔ میں وہاں پہنچ کر اپنے کام میں مشغول ہو گیا، اتفاقاً ایک روز وہ ایک پیالہ خون کا بھر کر میرے سامنے آ بیٹھے اور حلقہ باندھ کر کھانے کے ارادے سے بیٹھے اور مجھے سے کہنے لگے آؤ سدی تم بھی کھالو میں نے کہا۔ تم غضب کر رہے ہو میں تو ان کے پاس سے آ رہا ہوں جو اس کا کھانا ہم سب پر حرام کرتے ہیں، تب تو وہ سب کے سب میری طرف متوجہ ہو گئے اور کہا پوری بات کہو تو میں نے یہی آیت حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ پڑھ کر سنا دی،

یہ روایت ابن مردویہ میں بھی ہے اس میں اس کے بعد یہ بھی ہے :

میں وہاں بہت دنوں تک رہا اور انہیں پیغام اسلام پہنچاتا رہا لیکن وہ ایمان نہ لائے، ایک دن جبکہ میں سخت پیاسا ہوا اور پانی بالکل نہ ملا تو میں نے ان سے پانی مانگا اور کہا کہ پیاس کے مارے میرا برا حال ہے، تھوڑا سا پانی پلا دو، لیکن کسی نے مجھے پانی نہ دیا، بلکہ کہا ہم تو تجھے یونہی پیاسا ہی تڑپا تڑپا کر مار ڈالیں گے، میں غمناک ہو کر دھوپ میں تپتے ہوئے انگاروں جیسے سنگریزوں پر اپنا کھردرا کمبل منہ پر ڈال کر اسی سخت گرمی میں میدان میں پڑا رہا،

 اتفاقاً میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بہترین جام لئے ہوئے اور اس میں بہترین خوش ذائقہ مزیدار پینے کی چیز لئے ہوئے میرے پاس آیا اور جام میرے ہاتھ میں دے دیا، میں نے خوب پیٹ بھر کر اس میں سے پیا،

 وہیں آنکھ کھل گئی تو اللہ کی قسم مجھے مطلق پیاس نہ تھی بلکہ اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی پیاس کی تکلیف ہی نہیں ہوئی، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پیاس ہی نہیں لگی۔

یہ لوگ میرے جاگنے کے بعد آپس میں کہنے لگے کہ آخر تو یہ تمہاری قوم کا سردار ہے ، تمہارا مہمان بن کر آیا ہے ، اتنی بےرخی بھی ٹھیک نہیں کہ ایک گھونٹ پانی بھی ہم اسے نہ دیں ،

چنانچہ اب یہ لوگ میرے پاس کچھ لے کر آئے ، میں نے کہا اب تو مجھے کوئی حاجت نہیں ، مجھے میرے رب نے کھلا پلا دیا ، یہ کہہ کر میں نے انہیں اپنا بھرا ہوا پیٹ دکھا دیا ، اس کرامت کو دیکھ کر وہ سب کے سب مسلمان ہو گئے

اعشی نے اپنے قصیدے میں کیا ہی خواب کہا ہے:

مردار کے قریب بھی نہ ہو اور کسی جانور کی رگ کاٹ کر خون نکال کر نہ پی اور پرستش گاہوں پر چڑھا ہوا نہ کھا

اور اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کر ، صرف اللہ ہی کی عبادت کیا کر

لَحْمُ الْخِنْزِيرِ حرام ہے خواہ وہ جنگلی ہو ،

لفظ لَحْمُ شامل ہے اس کے تمام اجزاء کو ، جس میں چربی بھی داخل ہے

 پس ظاہر یہ کی طرح تکلفات کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ دوسری آیت میں سے فَإِنَّهُ رِجْسٌ (۶:۱۴۵) لے کر ضمیر کا مرجع خنزیر کو بتلاتے ہیں تاکہ اس کے تمام اجزاء حرمت میں آ جائیں۔ در حقیقت یہ لغت سے بعید ہے مضاف الیہ کی طرف سے ایسے موقعوں پر ضمیر پھرتی ہی نہیں ، صرف مضاف ہی ضمیر کا مرجع ہوتا ہے۔ صاف ظاہر بات یہی ہے کہ لفظ لَحْمُ شامل ہے تمام اجزاء کو۔ لغت عرب کا مفہوم اور عام عرف یہی ہے۔

صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق شطرنج کھیلنے والا اپنے ہاتھوں کو سؤر کے گوشت و خون میں رنگنے والا ہے۔

خیال کیجئے کہ صرف چھونا بھی شرعاً کس قدر نفرت کے قابل ہے ، تو پھر کھانے کیلئے بیحد برا ہونے میں کیا شک رہا؟

اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ لفظ لَحْمُ شامل ہے تمام اجزاء کو خواہ چربی ہو خواہ اور

 بخاری و مسلم میں ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ نے شراب ، مردار ، خنزیر بتوں کی تجارت کی ممانعت کر دی ہے ،

پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردار کی چربی کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ وہ کشتیوں پر چڑھائی جاتی ہے ، کھالوں پر لگائی جاتی ہے اور چراغ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔

 آپ ﷺنے فرمایا نہیں! وہ حرام ہے

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 ابو سفیان نے ہر قل سے کہا  وہ (نبی) ہمیں مردار سے اور خون سے روکتا ہے۔ 

وہ جانور بھی حرام ہے جس کو ذبح کرنے کے وقت وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ یعنی اللہ کے سوا دوسرے کا نام لیا جائے

 اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر اسے فرض کر دیا وہ اسی کا نام لے کر جانور کو ذبح کرے ، پس اگر کوئی اس سے ہٹ جائے اور اس کے نام پاک کے بدلے کسی بت وغیرہ کا نام لے ، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو تو یقیناً وہ جانور بالا جماع حرام ہو جائے گا ،

 ہاں جس جانور کے ذبیحہ کے وقت بسم اللہ کہنا رہ جائے ، خواہ جان بوجھ کر خواہ بھولے چوکے سے وہ حرام ہے یا حلال؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کا بیان سورہ انعام میں آئیگا۔

حضرت ابو الطفیل فرماتے ہیں:

حضرت آدم ؑکے وقت سے لیکر آج تک یہ چاروں چیزیں حرام رہیں ، کس وقت ان میں سے کوئی بھی حلال نہیں ہوئی

-         مردار

-         خون

-         سؤر کا گوشت

-         اور اللہ کے سوا دوسرے کے نام کی چیز۔

 البتہ بنو اسرائیل کے پاپیوں کے پاپ  کی وجہ سے بعض غیر حرام چیزیں بھی ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑکے ذریعہ وہ دوبارہ حلال کر دی گئیں ، لیکن بنو اسرائیل نے آپکو سچا نہ جانا اور آپ کی مخالفت کی (ابن ابی حاتم)

یہ اثر غریب ہے۔

حضرت علیؓ جب کوفے کے حاکم تھے اس وقت ابن نائل نامی قبیلہ بنو رباح کا ایک شخص جو شاعر تھا ، فرزوق کے دادا غالب کے مقابل ہوا اور یہ شرط ٹھہری کہ دونوں آمنے سامنے ایک ایک سو اونٹوں کی کوچیں کاٹیں گے ، چنانچہ کوفے کی پشت پر پانی کی جگہ پر جب ان کے اونٹ آئے تو یہ اپنی تلواریں لے کر کھڑے ہو گئے اور اونٹوں کی کوچیں کاٹنی شروع کیں اور دکھاوے ، سناوے اور فخریہ ریاکاری کیلئے دونوں اس میں مشغول ہو گئے کوفیوں کو جب یہ معلوم ہوا تو وہ اپنے گدھوں اور خچروں پر سوار ہو کر گوشت لینے کیلئے آنا شروع ہوئے ، اتنے میں جناب علی مرتضیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر یہ منادی کرتے ہوئے وہاں پہنچے کہ لوگو یہ گوشت نہ کھانا یہ جانور وَمَا أُهِلَّ  لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ میں شامل ہیں۔ (ابن ابی حاتم)

یہ اثر بھی غریب ہے

ہاں اس کی صحت کی شاہد وہ حدیث ہے جو ابو داؤد میں ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراب کی طرح مقابلہ میں کوچیں کاٹنے سے ممانعت فرما دی ،

پھر ابو داؤد نے فرمایا کہ محمد بن جعفر ؒنے اسے ابن عباسؓ پر وقف کیا ہے۔

ابو داؤد کی اور حدیث میں ہے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں شخصوں کا کھانا کھانا منع فرما دیا جو آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا اور ریا کاری کرنا چاہتے ہوں۔

وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ

اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہواور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو، جو اونچائی سے گر کر مرا ہو جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو

الْمُنْخَنِقَةُ جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی نے عمداًگلا گھونٹ کر گلا مروڑ کر اسے مار ڈالا ہو ، خواہ از خود اس کا گلا گھٹ گیا ہو۔ مثلاً اپنے کھوٹنے میں بندھا ہوا ہے اور بھاگنے لگا ، پھندا گلے میں پڑ گیا اور کھچ کھچاؤ کرتا ہوا مر گیا پس یہ حرام ہے۔

 الْمَوْقُوذَةُ وہ ہے جس جانور کو کسی نے ضرب لگائی ، لکڑی وغیرہ ایسی چیز سے جو دھاری دار نہیں لیکن اسی سے وہ مر گیا ، تو وہ بھی حرام ہے ، جاہلیت میں یہ بھی دستور تھا کہ جانور کو لٹھ سے مار ڈالتے اور پھر کھاتے۔ لیکن قرآن نے ایسے جانور کو حرام بتایا۔ صحیح سند سے مروی ہے :

حضرت عدی بن حاتم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں معراض سے شکار کھیلتا ہوں تو کیا حکم ہے؟

 فرمایا جب تو اسے پھینکے اور وہ جانور کو زخم لگائے تو کھا سکتا ہے اور اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگے تو وہ جانور لٹھ مارے ہوئے  کے حکم میں ہے۔ اسے نہ کھا ۔

 پس آپ ﷺ نے جسے دھارا اور نوک سے شکار کیا ہو اور اس میں جسے چوڑائی کی جانب سے لگا ہو فرق کیا اول کو حلال اور دوسرے کو حرام قرار دیا۔

فقہا کے نزدیک بھی یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔ ہاں اختلاف اس میں ہے کہ جب کسی زخم کرنے والی چیز نے شکار کو صدمہ تو پہنچایا لیکن وہ مرا ہے اس کے بوجھ اور چوڑائی کی طرف سے تو آیا یہ جانور حلال ہے یا حرام۔

 امام شافعیؒ کے اس میں دونوں قول ہیں ،

-          ایک تو حرام ہونا اوپر والی حدیث کو سامنے رکھ کر۔

-         دوسرے حلال کرنا کتے کے شکار کی حلت کو مدنظر رکھ کر۔

 اس مسئلہ کی پوری تفصیل ملا حظہ ہو

علماء کرام کا اس میں اختلاف ہے کہ جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا اور کتے نے اسے اپنی مار سے اور بوجھ سے مار ڈالا ، زخمی نہیں کیا تو وہ حلال ہے یا نہیں؟

 اس میں دو قول ہیں

 ایک تو یہ کہ یہ حلال ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ عام ہیں فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ (۵:۴) یعنی وہ جن جانوروں کو روک لیں تم انہیں کھا سکتے ہو۔

 اسی طرح حضرت عدی کی صحیح حدیثیں بھی عام ہی ہیں۔

 امام شافعی کے ساتھیوں نے امام صاحب کا یہ قول نقل کیا ہے اور متآخرین نے اسکی صحت کی ہے ، جیسے نووی اور رافعی

میں کہتا ہوں کہ گو یوں کہا جاتا ہے لیکن امام صاحب کے کلام سے صاف طور پر یہ معلوم ہوتا۔ ملاحظہ ہو کتا الام اور مختصر ان دونوں میں جو کلام ہے وہ دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔ پس دونوں فریقوں نے اس کی توجیہہ کرکے دونوں جانب علی الاطلاق ایک قول کہہ دیا۔ ہم تو بصد مشکل صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس بحث میں حلال ہونے کے قول کی حکایت کچھ قدرے قلیل زخم کا ہونا بھی ہے۔ گو ان دونوں میں سے کسی کی تصریح نہیں اور نہ کسی کی مضبوط رائے ،

 ابن الصباح نے امام ابو حنیفہ سے حلال ہونے کا قول نقل کیا ہے اور دوسرا کوئی قول ان سے نقل نہیں کیا

 اور امام ابن جریر ابن اپنی تفسیر میں اس قول کو حضرت سلمان فارسی ؓ، حضرت ابوہریرہ ؓ، حضرت سعد بن وقاصؓ اور حضرت ابن عمر ؓسے نقل کیا ہے

 لیکن یہ بہت غریب ہے اور دراصل ان بزرگوں سے صراحت کے ساتھ یہ اقوال نہیں پائے جاتے۔ یہ صرف اپنا تصرف ہے واللہ اعلم۔

دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حلال نہیں ،

حضرت امام شافعیؒ کے دو قولوں میں سے ایک قول یہ ہے ، مزنی نے روایت کیا ہے اور یہی مشہور ہے امام احمد بن حنبل سے اور یہی قول ٹھیک ہونے سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے واللہ اعلم۔

 اس لئے کہ اصولی قواعد اور احکام شرعی کے مطابق یہی جاری ہے۔

 ابن الصباغ نے حضرت رافع بن خدیج کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کل دشمنوں سے بھڑنے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں تو کیا ہم تیز بانس سے ذبح کر لیا کریں؟

 آپﷺ نے فرمایا جو چیز خون بہائے اور اس کے اوپر اللہ کا نام ذکر کیا جائے اسے کھا لیا کرو (بخاری مسلم)

یہ حدیث گو ایک خاص موقعہ کیلئے ہے لیکن عام الفاظ کا حکم ہوگا ، جیسے کہ جمہور علماء اصول و فروغ کا فرمان ہے۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ تبع جوشہد کی نبیذ سے ہے ، اس کا کیا حکم ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا ہر وہ پینے کی چیز جو نشہ لائے حرام ہے ،

 پس یہاں سوال ہے شہد کی نبیذ سے لیکن جو اب کے الفاظ عام ہیں اور مسئلہ بھی ان سے عام سمجھا گیا ،اسی طرح اوپر والی حدیث ہے کہ گو سوال ایک خاص نوعیت میں ذبح کرنے کا ہے لیکن جواب کے الفاظ اسی اور اس کے سوا کی عام نوعیتوں پر مشتمل ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ایک خاص معجزہ ہے کہ الفاظ تھوڑے اور معافی بہت ،

 اسے ذہن میں رکھنے کے بعد اب غور کیجئے کہ کتے کے صدمے سے جو شکار مر جائے یا اس کے بوجھ یا تھپڑ کی وجہ سے شکار کا دم نکل جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کا خون کسی چیز سے نہیں بہا ، پس اس حدیث کے مفہوم کی بناء پر وہ حلال نہیں ہو سکتا ،اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کو کتے کے شکار کے مسئلہ سے دور کا تعلق بھی نہیں ، اس لئے کہ سائل نے ذبح کرنے کے ایک آلے کی نسبت سوال کیا تھا۔ ان کا سوال اس چیز کی نسبت نہ تھا ، جس سے ذبح کیا جائے ، اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دانت اور ناخن کو مستثنیٰ کر لیا اور فرمایا سوائے دانت اور ناخن کے۔

 اور میں تمہیں بتاؤں کہ انکے سوا کیوں ؟

دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری اور یہ قائدہ ہے کہ مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی  جنس پر دلالت کرتی ہے ، ورنہ متصل نہیں مانا جا سکتا ،

 پس ثابت ہوا کہ سوال آلہ ذبح کا ہی تھا تو اب کوئی دلالت تمہارے قول پر باقی نہیں رہی۔

 اس کا جواب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے جملے کو دیکھو آپ ﷺنے یہ فرمایا ہے کہ جو چیز خون بہا دے اور اس پر نام اللہ بھی لیا گیا ہو ، اسے کھالو۔ یہ نہیں فرمایا کہ اس کے ساتھ ذبح کر لو۔

پس اس جملہ سے دو حکم ایک ساتھ معلوم ہوتے ہیں ، ذبح کرنے کے آلہ کا حکم بھی اور خود ذبیحہ کا حکم بھی اور یہ کہ اس جانور کا خون کسی آلہ سے بہانا ضروری ہے ، جو دانت اور ناخن کے سوا ہو۔

 ایک مسلک تو یہ ہے۔

دوسرا مسلک جو مزنی کا ہے وہ یہ کہ تیر کے بارے میں صاف لفظ آچکے کہ اگر وہ اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہے اور جانور مر گیا ہے تو نہ کھاؤ اور اگر اس نے اپنی دھار اور آنی سے زخمی کیا ہے پھر مرا ہے تو کھالو

 اور کتے کے بارے میں علی الاطلاق احکام ہیں پس چونکہ موجب یعنی شکار دونوں جگہ ایک ہی ہے تو مطلق کا حکم بھی مقید پر محمول ہوگا گو سبب الگ الگ ہوں۔ جیسے کہ ظہار کے وقت آزادگی گردن جو مطلق ہے محمول کی جاتی ہے قتل کی آزادگی گردن پر جو مقید ہے ایمان کے ساتھ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ ضرورت شکار کے اس مسئلہ میں ہے

یہ دلیل ان لوگوں پر یقینا ًبہت بڑی حجت ہے جو اس قاعدہ کی اصل کو مانتے ہیں اور چونکہ ان لوگوں میں اس قاعدے کے مسلم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تو ضروری ہے کہ یا تو وہ اسے تسلیم کریں ورنہ کوئی پختہ جواب دیں۔

 علاوہ ازیں فریق یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ چونکہ اس شکار کو کتے نے بوجہ اپنے ثقل کے مار ڈالا ہے اور یہ ثابت ہے کہ تیر جب اپنی چوڑائی سے لگ کر شکار کو مار ڈالے تو وہ حرام ہو جاتا ہے پس اس پر قیاس کر کے کتے کا یہ شکار بھی حرام ہو گیا کیونکہ دونوں میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں شکار کے آلات ہیں اور دونوں نے اپنے بوجھ اور زور سے شکار کی جان لی ہے اور آیت کا عموم اس کے معارض نہیں ہو سکتا کیونکہ عموم پر قیاس مقدم ہے جیسا کہ چاروں اماموں اور جمہور کا مذہب ہے۔ یہ مسلک بھی بہت اچھا ہے ،

 دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ (۵:۴) یعنی شکار کتے جس جانور کو روک رکھیں اس کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے ، یہ عام نوعیت پر یعنی اسے بھی جسے زخم کیا ہو اور اس کے سوا کو بھی ، لیکن جس صورت پر اس وقت بحث ہے وہ یا تو ٹکر لگا ہوا ہے یا اس کے حکم پر یا گلا گھونٹا ہوا ہے یا اس کے حکم میں ، بحر صورت اس آیت کی تقدیم ان وجوہ پر ضرور ہو گی۔

 اولاً تو یہ کہ شارع نے اس آیت کا حکم شکار کی حالت میں معتبر مانا ہے۔ کیونکہ حضرت عدی بن حاتم سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اگر وہ چوڑائی کی طرف سے لگا ہے تو وہ لٹھ مارا ہوا ہے اسے نہ کھاؤ۔ جہاں تک ہمارا علم ہے ہم جانتے ہیں کہ کسی عالم نے یہ نہیں کہا کہ لٹھ سے اور مار سے مرا ہوا تو شکار کی حالت میں معتبر ہو اور سینگ اور ٹکر لگا ہوا معتبر نہ ہو۔ پس جس صورت میں اس وقت بحث ہو رہی ہے اس جانور کو حلال کہنا اجماع کو توڑنا ہوگا ، جسے کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا بلکہ اکثر علماء اسے ممنوع بتاتے ہیں۔

 دوسرے یہ کہ آیت فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ اپنے عموم پر باقی نہیں اور اس پر اجتماع ہے ، بلکہ آیت سے مراد صرف حلال حیوان ہیں ۔ تو اس کے عام الفاظ سے وہ حیوان جن کا کھانا حرام ہے بالاتفاق نکل گئے اور یہ قاعدہ ہے کہ عموم محفوظ عموم غیر محفوظ پر مقدم ہوتا ہے۔

 ایک تقریر اسی مسئلہ میں اور بھی گوش گزار کر لیجئے کہ اس طرح کا شکار الْمَيْتَةُ کے حکم میں ہے ، پس جس وجہ سے مردار حرام ہے ، وہی وجہ یہاں بھی ہے تو یہ بھی اسی قیاس سے حلال نہیں۔

 ایک اور وجہ بھی سنئے کہ حرمت کی آیت حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ بالکل محکم ہے ، اس میں کسی طرح نسخ کا دخل نہیں ، نہ کوئی تخصیص ہوئی ہے ، ٹھیک اسی طرح آیت تحلیل بھی محکم ہی ہونی چاہئے۔ یعنی فرمان باری تعالیٰ آیت يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ (۵:۴) لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کیلئے حلال کیا ہے تو کہہ دے کہ تمام طیب چیزیں تمہارے لئے حلال ہبں۔

جب دونوں آیتیں محکم اور غیر منسوخ ہیں تو یقیناً ان میں تعارض نہ ہونا چاہئے لہذا حدیث کو اس کی وضاحت کیلئے سمجھنا چاہئے اور تیر کا واقعہ اسی کی شہادت دیتا ہے ، جس میں یہ بیان کیا ہے کہ اس آیت میں یہ صورت واضح طور پر شامل ہے کہ آنی اور دھار تیزی کی طرف سے زخم کرے تو جانور حلال ہوگا ، کیونکہ وہ الطَّيِّبَاتُ میں آ گیا۔

ساتھ ہی حدیث میں یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ آیت تحریم میں کونسی صورت شامل ہے۔ یعنی وہ صورت جس میں جانور کی موت تیر کی چوڑائی کی چوٹ سے ہوئی ہے ، وہ حرام ہو گیا جسے کھایا نہیں جائیگا۔ اس لئے کہ وہ وقیذ ہے اور وقیذ آیت تحریم کا ایک فرد ہے ، ٹھیک اسی طرح اگر شکاری کتے نے جانور کو اپنے دباؤ زور بوجہ اور سخت پکڑ کی وجہ سے مار ڈالا ہے تو وہ نطیح ہے یا فطیح یعنی ٹکر اور سینگ لگے ہوئے کے حکم میں ہے اور حلال نہیں ، ہاں اگر اسے مجروح کیا ہے تو وہ آیت تحلیل کے حکم میں ہے اور یقیناًحلال ہے۔

 اس پر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر یہی مقصود ہوتا تو کتے کے شکار میں بھی تفصیل بیان کر دی جاتی اور فرما دیا جاتا کہ اگر وہ جانور کو چیرے پھاڑے ، زخمی کرے تو حلال اور اگر زخم نہ لگائے تو حرام۔

اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ کتے کا بغیر زخمی کئے قتل کرنا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس کی عادت یہ نہیں بلکہ عادت تو یہ ہے کہ اپنے پنجوں یا کچلیوں سے ہی شکار کو مارے یا دونوں سے ، بہت کم کبھی کبھی شاذو نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے دباؤ اور بوجھ سے شکار کو مار ڈالے ، اس لئے اس کی ضرورت ہی نہ تھی کہ اس کا حکم بیان کیا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ جب آیت تحریم میں میتہ ، موقوذہ ، متردیہ ، نطیحہ کی حرمت موجود ہے تو اس کے جاننے والے کے سامنے اس قسم کے شکار کا حکم بالکل ظاہر ،

تیر اور معراض میں اس حکم کو اس لئے الگ بیان کر دیا کہ وہ عموماً خطا کر جاتا ہے بالخصوص اس شخص کے ہاتھ سے جو قادر تیر انداز نہ ہو یا نشانے میں خطا کرتا ہو ، اس لئے اس کے دونوں حکم تفصیل وار بیان فرما دیئے واللہ اعلم۔

 دیکھئے چونکہ کتے کے شکار میں یہ احتمال تھا کہ ممکن ہے وہ اپنے کئے ہوئے شکار میں سے کچھ کھا لے ، اس لئے یہ حکم صراحت کے ساتھ الگ بیان فرما دیا اور ارشاد ہوا :

 اگر وہ خود کھا لے تو تم اسے نہ کھاؤ ، ممکن ہے کہ اس نے خود اپنے لئے ہی شکار کو روکا ہو۔

یہ حدیث بخاری و مسلم میں موجود ہے

 اور یہ صورت اکثر حضرات کے نزدیک آیت تحلیل کے عموم سے مخصوص ہے اور ان کا قول ہے کہ جس شکار کو کتا کھا لے اس کا کھانا حلال نہیں ، حضرت ابو ہریرہؓ حضرت ابن عباسؓ سے یہی روایت کیا جاتا ہے۔

 حضرت حسن ، شعبی اور نخعی کا قول بھی یہی ہے اور اسی کی طرف ابو حنیفہ ، ان کے دونوں اصحاب ، احمد بن حنبل اور مشہور روایت میں شافعی بھی گئے ہیں۔

 ابن جریر نے اپنی تفسیر میں علی ، سعد ، سلمان ، ابو ہریرہ ؓ، ابن عمر ؓاور ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے:

 گو کتے نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تاہم اسے کھا لینا جائز ہے ،

بلکہ حضرت سعد ، حضرت سلمان ، حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں:

 گو کتا آدھا حصہ کھا گیا ہو تاہم اس شکار کا کھا لینا جائز ہے۔

 امام مالک اور شافعی بھی اپنے قدیم قول میں اسی طرف گئے ہیں اور قول جدید میں دونوں قولوں کی طرف اشارہ کیا ہے ، جیسے کہ امام ابو منصور بن صباغ نے کہا ہے۔

 ابو داؤد میں قوی سند سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب تو اپنے کتے کو چھوڑے اور اللہ کا نام تو نے لے لیا ہو تو کھا لے ، گو اس نے بھی اس میں سے کھا لیا ہو اور کھا لے اس چیز کو جسے تیرا ہاتھ تیری طرف لوٹا لائے

نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔

تفسیر ابن جریر میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جب کسی شخص نے اپنا کتا شکار پر چھوڑا ، اس نے شکار کو پکڑا اور اس کا کچھ گوشت کھا لیا تو اسے اختیار ہے کہ باقی جانور یہ اپنے کھانے کے کام میں لے۔

 اس میں اتنی علت ہے کہ یہ موقوفاً حضرت سلمان کے قول سے مروی ہے ، جمہور نے عدی والی حدیث کو اس پر مقدم کیا ہے اور ابو عجلہ وغیرہ کی حدیث کو ضعیف بتایا ہے۔

 بعض علماء کرام نے اس حدیث کو اس بات پر محمول کیا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے ، جب کتے نے شکار پکڑا اور دیر تک اپنے مالک کا انتظار کیا ، جب وہ نہ آیا تو بھوک وغیرہ کے باعث اس نے کچھ کھا لیا اس صورت میں یہ حکم ہے کہ باقی کا گوشت مالک کھا لے کیونکہ ایسی حالت میں یہ ڈر باقی نہیں رہتا کہ شاید کتا ابھی شکار کا سدھارا ہوا نہیں ، ممکن ہے اس نے اپنے لئے ہی شکار کیا ہو ، بخلاف اس کے کہ کتے نے پکڑتے ہی کھانا شروع کر دیا تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنے لئے ہی شکار دبوچا ہے واللہ اعلم۔

 اب رہے شکاری پرند تو امام شافعی نے صاف کہا ہے  کہ یہ کتے کے حکم میں ہیں۔ تو اگر یہ شکار میں سے کچھ کھا لیں تو شکار کا کھانا جمہور کے نزدیک تو حرام ہے اور دیگر کے نزدیک حلال ہے ،ہاں مزنی کا مختار یہ ہے کہ گوشکاری پرندوں نے شکار کا گوشت کھا لیا ہو تاہم وہ حرام نہیں۔یہی مذہب ابو حنیفہ اور احمد کا ہے۔

اس لئے کہ پرندوں کو کتوں کی طرح مار پیٹ کر سدھا بھی نہیں سکتے اور وہ تعلیم حاصل کر ہی نہیں سکتا جب تک اسے کھائے نہیں ، یہاں بات معاف ہے اور اس لئے بھی کہ نص کتے کے بارے میں وارد ہوئی ہےپرندوں کے بارے میں نہیں ،

شیخ ابو علی افصاح میں فرماتے ہیں جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ اس شکار کا کھانا حرام ہے جس میں سے شکاری کتے نے کھا لیا ہو تو جس شکار میں سے شکاری پرند کھا لے اس میں دو وجوہات ہیں۔ لیکن قاضی ابو الطیب نے اس فرع کا اور اس ترتیب سے انکار کیا ہے۔ کیونکہ امام شافعی نے ان دونوں کو صاف لفظوں میں برابر رکھا ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

وَالْمُتَرَدِّيَةُ وہ ہے جو پہاڑی یا کسی بلند جگہ سے گر کر مر گیا ہو تو وہ جانور بھی حرام ہے ،ابن عباسؓ یہی فرماتے ہیں۔

قتادہ فرماتے ہیں یہ وہ ہے جو کنویں میں گر پڑے ،

النَّطِيحَةُ وہ ہے جسے دوسرا جانور سینگ وغیرہ سے ٹکر لگائے اور وہ اس صدمہ سے مر جائے ، گو اس سے زخم بھی ہوا ہو اور گو اس سے خون بھی نکلا ہو ، بلکہ گو ٹھیک ذبح کرنے کی جگہ ہی لگا ہو اور خون بھی نکلا ،

یہ لفظ معنی میں مفعول یعنی منطوحہ کے ہے ، یہ وزن عموماً کلام عرب میں بغیر ت کے آتا ہے جیسے عین کحیل اور کف خضیب ان مواقع میں کحیلتہ اور خضیبتہ نہیں  کہتے ،اس جگہ ت اس لئے لایا گیا ہے کہ یہاں اس لفظ کا استعمال قائم مقام اسم کے ہے ، جیسے عرب کا یہ کلام طریقتہ طویلتہ۔

بعض نحوی کہتے ہیں تاء تانیث یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ پہلی مرتبہ ہی ثانیث پر دلالت ہو جائے بخلاف کحیل اور خضیب کے کہ وہاں تانیث کلام کے ابتدائی لفظ سے معلوم ہوتی ہے۔

وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ

 اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو، لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں،

وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ سے مراد وہ جانور ہے جس پر شیر ، بھیڑیا ، چیتا یا کتا وغیرہ درندہ حملہ کرے اور اس کا کوئی حصہ کھا جائے اور اس سبب سے مر جائے تو اس جانور کو کھانا بھی حرام ہے ، اگرچہ اس سے خون بہا ہو بلکہ اگرچہ ذبح کرنے کی جگہ سے ہی خون نکلا ہو تاہم وہ جانور بالاجماع حرام ہے۔اہل جاہلیت میں ایسے جانور کا بقیہ کھا لیا کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو اس سے منع فرمایا۔

پھر فرماتا ہے إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ مگر وہ جسے تم ذبح کر لو ، یعنی گلا گھونٹا ، لٹھ مارا ہوا ، اوپر سے گر پڑا ہو ، سینگ اور ٹکر لگا ہو ، درندوں کا کھایا ہو ، اگر اس حالت میں تمہیں مل جائے کہ اس میں جان باقی ہو اور تم اس پر باقاعدہ اللہ کا نام لے کر چھری پھیر لو تو پھر یہ جانور تمہارے لئے حلال ہو جائیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ سعید بن جیبر ، حسن اور سدی یہی فرماتے ہیں ،

حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ اگر تم ان کو اس حالت میں پالو کہ چھری پھیرتے ہوئے وہ دم رگڑیں یا پیر ہلائیں یا آنکھوں کے ڈھیلے پھرائیں تو بیشک ذبح کر کے کھا لو ،

 ابن جریر میں آپ سے مروی ہے  کہ جس جانور کو ضرب لگی ہو یا اوپر سے گر پڑا ہو یا ٹکر لگی ہو اور اس میں روح باقی ہو اور تمہیں وہ ہاتھ پیر رگڑتا مل جائے تو تم اسے ذبح کر کے کھا سکتے ہو۔

حضرت طاؤس ، حسن ، قتادہ ، عبید بن عمیر ، ضحاک اور بہت سے حضرات سے مروی ہے کہ بوقت ذبح اگر کوئی حرکت بھی اس جانور کی ایسی ظاہر ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ اس میں حیات ہے تو وہ حلال ہے۔

جمہور فقہاء کا یہی مذہب ہے تینوں اماموں کا بھی یہی قول ہے ،

 امام مالک اس بکری کے بارے میں جسے بھیڑیا پھاڑ ڈالے اور اس کی آنتیں نکل آئیں فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ اسے ذبح نہ کیا جائے اس میں سے کس چیز کا ذبیحہ ہوگا؟

 ایک مرتبہ آپ سے سوال ہوا کہ درندہ اگر حملہ کر کے بکری کی پیٹھ توڑ دے تو کیا اس بکری کو جان نکلنے سے پہلے ذبح کر سکتے ہیں؟آپ نے فرمایا اگر بالکل آخر تک پہنچ گیا ہے تو میری رائے میں نہ کھانی چاہئے اور اگر اطراف میں یہ ہے تو کوئی حرج نہیں ،

سائل نے کہا درندے نے اس پر حملہ کیا اور کود کر اسے پکڑ لیا ، جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی ہے تو آپ نے فرمایا مجھے اس کا کھانا پسند نہیں کیونکہ اتنی زبردست چوٹ کے بعد زندہ نہیں رہ سکتی ،

 آپ سے پھر پوچھا گیا کہ اچھا اگر پیٹ پھاڑ ڈالا اور آنتیں نہیں نکلیں تو کیا حکم ہے ، فرمایا میں تو یہی رائے رکھتا ہوں کہ نہ کھائی جائے۔

یہ ہے امام مالک کا مذہب لیکن چونکہ آیت عام ہے اس لئے امام صاحب نے جن صورتوں کو مخصوص کیا ہے ان پر کوئی خاص دلیل چاہئے ،۔

بخاری و مسلم میں حضرت رافع بن خدیجؓ سے مروی ہے  کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا۔حضور ﷺ ہم کل دشمن سے لڑائی میں باہم ٹکرانے والے ہیں اور ہمارے ساتھ چھریاں نہیں کیا ہم بانس سے ذبح کر لیں

 آپ ﷺنے فرمایا جو چیز خون بہائے اور اس پر اللہ کا نام لیا جائے ، اسے کھا لو ، سوائے دانت اور ناخن کے ، یہ اس لئے کہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں

مسند احمد اور سنن میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ذبیحہ صرف حلق اور نرخرے میں ہی ہوتا ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا اگر تو نے اس کی ران میں بھی زخم لگا دیا تو کافی ہے

یہ حدیث ہے تو سہی لیکن یہ حکم اس وقت ہے جبکہ صحیح طور پر ذبح کرنے پر قادر نہ ہوں۔

وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَلِكُمْ فِسْقٌ ۗ

اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو، اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو، یہ سب بدترین گناہ ہیں،

مجاہد فرماتے ہیں یہ پرستش گاہیں کعبہ کے اردگرد تھیں ،

 ابن جریج فرماتے ہیں یہ تین سو ساٹھ بت تھے ، جاہلیت کے عرب ان کے سامنے اپنے جانور قربان کرتے تھے اور ان میں سے جو بیت اللہ کے بالکل متصل تھا ، اس پر ان جانوروں کا خون چھڑکتے تھے اور گوشت ان بتوں پر بطور چڑھاوا چڑھاتے تھےپس اللہ تعالیٰ نے یہ کام مؤمنوں پر حرام کیا اور ان جانوروں کا کانا بھی حرام کر دیا۔ اگرچہ ان جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت بسم اللہ بھی کہی گئی ہو کیونکہ یہ شرک ہے جسے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے ، اور اسی لائق ہے ،

 اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی حرمت بیان ہو چکی ہے جو اللہ کے سوا دوسروں کے نام پر چڑھائے جائیں۔

أَزْلَام سے تقسیم کرنا حرام ہے ، یہ جاہلیت کے عرب میں دستور تھا کہ انہوں نے تین تیر رکھ چھوڑے تھے ،

-          ایک پر لکھا ہوا تھا افعل یعنی کر ،

-          دوسرے پر لکھا ہوا تھا لاتعفل یعنی نہ کر ،

-         تیسرا خالی تھا۔

بعض کہتے ہیں ایک پر لکھا تھا مجھے میرے رب کا حکم ہے ، دوسرے پر لکھا تھا مجھے میرے رب کی ممانعت ہے ، تیسرا خالی تھا اس پر کچھ بھی لکھا ہوا نہ تھا۔

 بطور قرعہ اندازی کے کسی کام کے کرنے نہ کرنے میں جب انہیں تردد ہوتا تو ان تیروں کو نکالتے ، اگر حکم کرنے کا  نکلا تو اس کام کو کرتے اگر ممانعت کا تیر نکلا تو باز آ جاتے اگر خالی تیر نکلا تو پھر نئے سرے سے قرعہ اندازی کرتے ،

 أَزْلَام جمع ہے زلم کی ۔ استسقام کے معنی ان تیروں سے تقسیم کی طلب ہے ،

قریشیوں کا سب سے بڑا بت ہبل خانہ کعبہ کے اندر کے کنوئیں پر نصب تھا ، جس کنویں میں کعبہ کے ہدیے اور مال جمع رہا کرتے تھے ، اس بت کے پاس سات تیر تھے ، جن پر کچھ لکھا ہوا تھا جس کام میں اختلاف پڑتا یہ قریشی یہاں آکر ان تیروں میں سے کسی تیر کو نکالتے اور اس پر جو لکھا پاتے اسی کے مطابق عمل کرتے۔

بخاری و مسلم میں ہے:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے مجسمے پائے ، جن کے ہاتھوں میں تیر تھے تو آپ نے فرمایا اللہ انہیں غارت کرے ، انہیں خوب معلوم ہے کہ ان بزرگوں نے کبھی تیروں سے فال نہیں لی۔

صحیح حدیث میں ہے:

 سراقہ بن مالک بن جعثم جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق کو ڈھونڈنے کیلئے نکلا کہ انہیں پکڑ کر کفار مکہ کے سپرد کرے اور آپ اس وقت ہجرت کر کے مکہ سے مدینے کو جا رہے تھے تو اس نے اسی طرح قرعہ اندازی کی اس کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ وہ تیر نکلا جو میری مرضی کے خلاف تھا میں نے پھر تیروں کو ملا جلا کر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی نکلا تو انہیں کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا ، میں نے پھر نہ مانا تیسری مرتبہ فال لینے کیلئے تیر نکالا تو اب کی مرتبہ بھی یہی تیر نکلا لیکن میں ہمت کر کے ان کا کوئی لحاظ نہ کر کے انعام حاصل کرنے اور سرخرو ہونے کیلئے آپ کی طلب میں نکل کھڑا ہوا۔ اس وقت تک سراقہ مسلمان نہیں ہوا تھا ، یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور پھر بعد میں اسے اللہ نے اسلام سے مشرف فرمایا۔

 ابن مردویہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

وہ شخص جنت کے بلند درجوں کو نہیں پا سکتا جو کہانت کرے ، یا تیر اندازی کرے یا کسی بدفالی کی وجہ سے سفر سے لوٹ آئے۔

حضرت مجاہد نے یہ بھی کہا کہ عرب ان تیروں کے ذریعہ اور فارسی اور رومی پانسوں کے ذریعہ جوا کھیلا کرتے تھے جو مسلمانوں پر حرام ہے۔ ممکن ہے کہ اس قول کے مطابق ہم یوں کہیں کہ تھے تو یہ تیر استخارے کیلئے مگر ان سے جو ابھی گاہے بگاہے کھیل لیا کرتے۔ واللہ اعلم

اسی سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے جوئے کو بھی حرام کیا ہے اور فرمایا :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ـ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللّهِ وَعَنِ الصَّلاَةِ  (۵:۹۰،۹۱)

اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کہ ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تمہیں باز رکھے ۔

اسی طرح یہاں بھی فرمان ہوتا ہے کہ تیروں سے تقسیم طلب کرنا حرام ہے ، اس کام کا کرنا فسق ، گمراہی ، جہالت اور شرک ہے۔اس کی  بجائے مؤمنوں کو حکم ہوا کہ جب تمہیں اپنے کسی کام میں تردد ہو تو تم اللہ تعالیٰ سے استخارہ کر لو ، اس کی عبادت کر کے اس سے بھلائی طلب کرو۔

مسند احمد ، بخاری اور سنن میں مروی ہے حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول ﷺ جس طرح قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے ، اسی طرح ہمارے کاموں میں استخارہ کرنا بھی تعلیم فرماتے تھے ، آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جب تم سے کسی کو کوئی اہم کام آ پڑے تو اسے چاہئے کہ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر یہ دعا پڑھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ،

اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمُرَ ويسميه باسمه خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَمَعَاشِي وعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ،

اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِه

اے اللہ میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعہ بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلے سے تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے بڑے فضل کا طالب ہوں ، یقینا تو ہر چیز پر قادر ہے اور میں محض مجبور ہوں ، تو تمام علم والا ہے اور میں مطلق بےعلم ہوں ، تو ہی تمام غیب کو بخوبی جاننے والا ہے ، اے میرے اللہ اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لئے دین دنیا میں آغاز و انجام کے اعتبار سے بہتر ہی بہتر ہے تو اسے میرے لئے مقدر کر دے اور اسے میرے لئے آسان بھی کر دے اور اس میں مجھے ہر طرح کی برکتیں عطا فرما اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لئے دین کی دنیا زندگی اور انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور میرے لئے خیرو برکت جہاں کہیں ہو مقرر کر دے پھر مجھے اسی سے راضی و ضا مند کر دے۔

دعا کے یہ الفاظ مسند احمد میں ہیں

هَذَا الْأَمُرَ جہاں ہے وہاں اپنے کام کا نام لے مثلاً نکاح ہو تو ھذا النکاح سفر میں ہو تو ھذا السفر بیوپار میں ہو تو ھذا التجارۃ وغیرہ۔

 بعض روایتوں میں خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَمَعَاشِي وعَاقِبَةِ أَمْرِي کے بجائے یہ الفاظ ہیں۔ خیر لی فی عاجل امری و اجلہ۔

 امام ترمذی اس حدیث کو حسن غریب بتلاتے ہیں ،

الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ

آج کفار دین سے ناامید ہوگئے، خبردار ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا،

اللہ  فرماتا ہے آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہو گئے ،

یعنی ان کی یہ امیدیں خاک میں مل گئیں کہ وہ تمہارے دین میں کچھ خلط ملط کر سکیں یعنی اپنے دین کو تمہارے دین میں شامل کر لیں۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 شیطان اس سے تو مایوس ہو چکا ہے کہ نمازی مسلمان جزیرہ عرب میں اس کی پرستش کریں ، ہاں وہ اس کوشش میں رہے گا کہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکائے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مشرکین مکہ اس سے مایوس ہو گئے کہ مسلمانوں سے مل جل کر رہیں ، کیونکہ احکام اسلام نے ان دونوں جماعتوں میں بہت کچھ تفاوت ڈال دیا ، اسی لئے حکم ربانی ہو رہا ہے کہ مؤمن صبر کریں ، ثابت قدم رہیں اور سوائے اللہ کے کسی سے نہ ڈریں ، کفار کی مخالفت کی کچھ پرواہ نہ کریں ، اللہ ان کی مدد کرے گا اور انہیں اپنے مخالفین پر غلبہ دے گا اور ان کے ضرر سے ان کی محافظت کرےگا اور دنیا و آخرت میں انہیں بلند و بالا رکھے گا۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

 آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا انعام  بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔

پھر اپنی زبردست بہترین اعلیٰ اور افضل تر نعمت کا ذکر فرماتا ہے کہ میں نے تمہارا دین ہر طرح اور ہر حیثیت سے کامل و مکمل کر دیا ، تمہیں اس دین کے سوا کسی دین کی احتیاج نہیں ، نہ اس نبی ﷺ کے سوا اور کسی نبی  کی تمہیں حاجت ہے ، اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کیا ہے ، انہیں تمام جنوں اور انسانوں کی طرف بھیجا ہے ، حلال وہی ہے جسے وہ حلال کہیں ، حرام وہی ہے جسے وہ حرام کہیں ، دین وہی ہے جسے یہ مقرر کریں ، ان کی تمام باتیں حق و صداقت والی ، جن میں کسی طرح کا جھوٹ اور تضاد نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے:

وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا (۶:۱۱۵)

آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے

یعنی تیرے رب کا کلمہ پورا ہوا ، جو خبریں دینے میں سچا ہے اور حکم و منع میں عدل والا ہے۔ دین کو کامل کرنا تم پر اپنی نعمت کو بھرپور کرنا ہے چونکہ میں خود تمہارے اس دین اسلام پر خوش ہوں ، اس لئے تم بھی اسی پر راضی رہو ، یہی دین اللہ کا پسندیدہ ، اسی کو دے کر اس نے اپنی افضل رسولﷺکو بھیجا ہے اور اپنی اشرف کتاب نازل فرمائی ہے۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 اس دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کامل کر دیا ہے اور اپنے نبی اور مؤمنوں کو اس کا کامل ہونا خود اپنے کلام میں فرما چکا ہے اب یہ رہتی دنیا تک کسی زیادتی کا محتاج نہیں ، اسے اللہ نے پورا کیا ہے جو قیامت تک ناقص نہیں ہوگا۔ اس سے اللہ خوش ہے اور کبھی بھی ناخوش نہیں ہونے والا ۔

حضرت سدی فرماتے ہیں  کہ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی ، اس کے بعد حلال و حرام کا کوئی حکم نہیں اترا ، اس حج سے لوٹ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ،

حضرت اسماء بنت عمیسؓ فرماتی ہیں اس آخری حج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی تھی ، ہم جا رہے تھے اتنے میں حضرت جبرائیل کی تجلی ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر جھک پڑے وحی اترنی شروع ہوئی ، اونٹنی وحی کے بوجھ کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ میں نے اسی وقت اپنی چادر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اوڑھا دی۔

 ابن جریر وغیرہ فرماتے ہیں کہ

 اس کے بعد اکیاسی  (۸۱) دن تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات رہے ، حج اکبر والے دن جبکہ یہ آیت اتری تو حضرت عمر ؓرونے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب دریافت فرمایا تو جواب دیا کہ ہم دین کی تعمیل میں کچھ زیادہ ہی تھے ، اب وہ کامل ہو گیا اور دستور یہ ہے کہ کمال کے بعد نقصان شروع ہو جاتا ہے ،

 آپ ﷺنے فرمایا سچ ہے ،

 اسی معنی کی شہادت اس ثابت شدہ حدیث سے ہوتی ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

 اسلام غربت اور پردیسی  پن سے شروع ہوا اور عنقریب پھر غریب و  انجان ہو جائیگا ، پس غرباء کیلئے خوشخبری ہے۔

 مسند احمد میں ہے:

 ایک یہودی نے حضرت فاروق اعظم سے کہا تم جو اس آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کو پڑھتے ہو اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید منا لیتے ۔

حضرت عمر ؓنے فرمایا واللہ مجھے علم ہے کہ آیت کس وقت اور کس دن نازل ہوئی ، عرفے کے دن جمعہ کی شام کو نازل ہوئی ہے ، ہم سب اس وقت میدان عرفہ میں تھے ،

 تمام سیرت والے اس بات پر متفق ہیں کہ حجتہ الوادع والے سال عرفے کا دن جمعہ کو تھا ،

 اور روایات میں ہے:

 حضرت کعبؓ نے حضرت عمر ؓسے یہ کہا تھا اور عمر ؓنے فرمایا یہ آیت ہمارے ہاں دوہری عید کے دن نازل ہوئی ہے۔

 حضرت ابن عباسؓ کی زبانی اس آیت کی تلاوت سن کر بھی یہودیوں نے یہی کہا تھا کہ جس پر آپ نے فرمایا ہمارے ہاں تو یہ آیت دوہری عید کے دن اتری ہے ، عید کا دن بھی تھا اور جمعہ کا دن تھی۔

 حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن شام کو اتری ہے ،

حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ نے منبر پر اس پوری آیت کی تلاوت کی اور فرمایا جمعہ کے دن عرفے کو یہ اتری یہ ہے۔

حضرت سمرہؓ فرماتے ہیں اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم موقف میں کھڑے ہوئے تھے ،

ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیر والے دن پیدا ہوئے ، پیر والے دن ہی مکہ سے نکلے اور پیر والے دن ہی مدینے میں تشریف لائے ،

یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند ضعیف ہے۔

 مسند احمد میں ہے کہ حضور ﷺ پیر والے دن پیدا ہوئے ، پیر والے دن نبی بنائے گئے ، پیر والے دن ہجرت کے ارادے سے نکلے ، پیر کے روز ہی مدینے پہنچے اور پیر کے دن ہی فوت کئے گئے ، حجر اسود بھی پیر کے دن ہی رکھا گیا  ،اس میں سورہ مائدہ کا پیر کے دن اترنا مذکور نہیں ، میرا خیال یہ ہے کہ ابن عباسؓ نے کہا ہو گا دو عیدوں کے دن یہ آیت اتری تو دو کیلئے بھی لفظ اثنین ہے ، اور پیر کے دن کو بھی اثنین کہتے ہیں اس لئے راوی کو شبہ سا ہو گیا واللہ اعلم۔

دو قول اس میں اور بھی مروی ہیں ایک تو یہ کہ یہ دن لوگوں کو نامعلوم ہے دوسرا یہ کہ یہ آیت غدیر خم کے دن نازل ہوئی ہے جس دن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کی نسبت فرمایا تھا کہ جس کا مولیٰ میں ہوں ، اس کا مولیٰ علی ہے گویا ذی الحجہ کی اٹھارویں تاریخ ہوئی ، جبکہ آپ حجتہ الوداع سے واپس لوٹ رہے تھے

لیکن یہ یاد رہے کہ یہ دونوں قول صحیح نہیں۔

بالکل صحیح اور بیشک و شبہ قول یہی ہے کہ یہ آیت عرفے کے دن جمعہ کو اتری ہے ،

امیر المؤمنین عمر ؓ اور امیر المؤمنین علی ؓ اور امیر المؤمنین حضرت امیر معاویہؓ اور ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت سمرہ بن جندبؓ سے یہی مروی ہےاور اسی کو حضرت شعبی ، حضرت قتادہ ، حضرت شہیر وغیرہ ائمہ اور علماء نے کہا ہے ، اور یہی مختار قول ابن جریر اور طبری کا ہے ،

فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۳)

پس جو شخص شدت کی بھوک میں بیقرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً   اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے

 اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے جو شخص ان حرام کردہ چیزوں میں سے کسی چیز کے استعمال کی طرف مجبور و بےبس ہو جائے تو وہ ایسے اضطرار کی حالت میں انہیں کام لا سکتا ہے۔اللہ غفور و رحیم ہے ، وہ جانتا ہے کہ اس بندے نے اس کی حد نہیں توڑی لیکن بےبسی اور اضطرار کے موقعہ پر اس نے یہ کیا ہے تو اللہ سے معاف فرما دے گا۔

صحیح ابن حبان میں حضرت ابن عمر ؓسے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی دی ہوئی رخصتوں پر بندوں کا عمل کرنا ایسا بھاتا ہے جیسے اپنی نافرمانی سے رک جانا۔

مسند احمد میں ہے:

 جو شخص اللہ کی دی ہوئی رخصت نہ قبول کرے ، اس پر عرفات کے پہاڑ برابر گناہ ہے ،

 اسی لئے فقہاء کہتے ہیں کہ بعض صورتوں میں مردار کا کھانا واجب ہو جاتا ہے جیسے کہ ایک شخص کی بھوک کی حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب مرا چاہتا ہے کہ کبھی جائز ہو جاتا ہے اور کبھی مباح ،

 ہاں اس میں اختلاف ہے کہ بھوک کے وقت جبکہ حلال چیز میسر نہ ہو تو حرام صرف اتنا ہی کھا سکتا ہے کہ جان بچ جائے یا پیٹ بھر سکتا ہے بلکہ ساتھ بھی رکھ سکتا ہے ، اس کے تفصیلی بیان کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں۔

 اس مسئلہ میں جب بھوکا شخص جس کے اوپر اضطرار کی حالت ہے ، مردار اور دوسرے کا کھانا اور حالت احرام میں شکار تینوں چیزیں موجود پائے تو کیا وہ مردار کھا لے؟

یاحالت احرام میں ہونے کے باوجود شکار کر لے اور اپنی آسانی کی حالت میں اس کی جزا یعنی فدیہ ادا کر دے

 یا دوسرے کی چیز بلا اجازت کھا لے اور اپنی آسانی کے وقت اسے وہ واپس کر دے ،

 اس میں دو قول ہیں امام شافعی سے دونوں مروی ہیں۔

 یہ بھی یاد رہے کہ مردار کھانے کی یہ شرط جو عوام میں مشہور ہے کہ جب تین دن کا فاقہ ہو جائے تو حلال ہوتا ہے یہ بالکل غلط ہے بلکہ جب اضطرار ، بےقراری اور مجبوری حالت میں ہو ، اس کیلئے مردار کھانا حلال ہو جاتا ہے۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم ایسی جگہ رہتے ہیں کہ آئے دن ہمیں فقر و فاقہ کی نوبت آ جاتی ہے ، تو ہمارے لئے مردار کا کھا لینا کیا جائز ہوتا ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا جب صبح شام نہ ملے اور نہ کوئی سبزی ملے تو تمہیں اختیار ہے۔

اس حدیث کی ایک سند میں ارسال بھی ہے ، لیکن مسند والی مرفع حدیث کی اسناد شرط شیخین پر صحیح ہے۔

ابن عون فرماتے ہیں  :

حضرت حسن کے پاس حضرت سمرہ کی کتاب تھی ، جسے میں ان کے سامنے پڑھتا تھا ، اس میں یہ بھی تھا کہ صبح شام نہ ملنا اضطرار ہے ، ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حرام کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا جب تک کہ تو اپنے بچوں کو دودھ سے شکم سیر نہ کر سکے اور جب تک ان کا سامان نہ آ جائے۔

ایک اعرابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حلال حرام کا سوال کیا ،

آپ ﷺنے جواب دیا کہ کل پاکیزہ چیزیں حلال اور کل خبیث چیزیں حرام ہاں جب کہ ان کی طرف محتاج ہو جائے تو انہیں کھا سکتا ہے جب تک کہ ان سے غنی نہ ہو جائے

اس نے پھر دریافت کیا کہ وہ محتاجی کونسی جس میں میرے لئے وہ حرام چیز حلال ہوئے اور وہ غنی ہونا کونسا جس میں مجھے اس سے رک جانا چاہئے

فرمایا جبکہ تو صرف رات کو اپنے بال بچوں کو دودھ سے آسودہ کر سکتا ہو تو تو حرام چیز سے پرہیز کر۔

ابو داؤد میں ہے:

 حضرت نجیع عامری نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہمارے لئے مردار کا کھانا کب حلال ہو جاتا ہے؟

آپ ﷺنے فرمایا تمہیں کھانے کو کیا ملتا ہے؟

 اس نے کہا صبح کو صرف ایک پیالہ دودھ اور شام کو بھی صرف ایک پیالہ دودھ آپ نے کہا ''یہی ہے اور کونسی بھوک ہو گی؟

پس اس حالت میں آپ نے انہیں مردار کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔

مطلب حدیث کا یہ ہے کہ صبح شام ایک ایک پیالہ دودھ کا انہیں ناکافی تھا ، بھوک باقی رہتی تھی ، اس لئے ان پر مردہ حلال کر دیا گیا ، تا کہ وہ پیٹ بھر لیا کریں ، اسی کو دلیل بنا کر بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اضطرار کے وقت مردار کو پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے ، صرف جان بچ جائے اتنا ہی کھانا جائز ہو ، یہ حد ٹھیک نہیں واللہ اعلم۔

ابو داؤد کی اور حدیث میں ہے :

ایک شخص مع اہل و عیال کے آیا اور حرہ میں ٹھہرا ، کسی صاحب کی اونٹنی گم ہو گئی تھی ، اس نے ان سے کہا اگر میری اونٹنی تمہیں مل جائے تو اسے پکڑ لینا۔ اتفاق سے یہ اونٹنی اسے مل گئی ، اب یہ اس کے مالک کو تلاش کرنے لگے لیکن وہ نہ ملا اور اونٹنی بیمار پڑ گئی تو اس شخص کی بیوی صاحبہ نے کہا کہ ہم بھوکے رہا کرتے ہیں ، تم اسے ذبح کر ڈالو لیکن اس نے انکار کر دیا ،

 آخر اونٹنی مر گئی تو پھر بیوی صاحبہ نے کہا ، اب اس کی کھال کھینچ لو اور اس کے گوشت اور چربی کو ٹکڑے کر کے سکھا لو ، ہم بھوکوں کو کام آ جائیگا ،اس بزرگ نے جواب دیا ، میں تو یہ بھی نہیں کرونگا ، ہاں اگر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں تو اور بات ہے۔

چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے تمام قصہ بیان کیا

 آپ ﷺنے فرمایا کیا تمہارے پاس اور کچھ کھانے کو ہے جو تمہیں کافی ہو؟

جواب دیا کہ نہیں

 آپ ﷺنے فرمایا پھر تم کھا سکتے ہو۔

اس کے بعد اونٹنی والے سے ملاقات ہوئی اور جب اسے یہ علم ہوا تو اس نے کہا پھر تم نے اسے ذبح کر کے کھا کیوں نہ لیا؟

 اس بزرگ صحابی نے جواب دیا کہ شرم معلوم ہوئی۔

یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ یہ بوقت اضطرار مردار کا پیٹ بھر کر کھانا بلکہ اپنی حاجت کے مطابق اپنے پاس رکھ لینا بھی جائز ہے واللہ اعلم ۔

 پھر ارشاد ہوا ہے کہ یہ حرام بوقت اضطرار اس کیلئے مباح ہے جو کسی گناہ کی طرف میلان نہ رکھتا ہو ، اس کیلئے اسے مباح کر کے دوسرے سے خاموشی ہے،جیسے سورہ بقرہ میں ہے:

فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (۲:۱۷۳)

پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے

 اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ کی کسی نافرمانی کے لئے  سفر کر رہا ہے ، اسے شریعت کی رخصتوں میں سے کوئی رخصت حاصل نہیں ، اس لئے کہ رخصتیں گناہوں سے حاصل نہیں ہوتیں و اللہ تعالیٰ اعلم۔

يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ

آپ سے دریافت کرتے ہیں ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟

چونکہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نقصان پہنچانے والی خبیث چیزوں کی حرمت کا بیان فرمایا خواہ نقصان جسمانی ہو یا دینی یا دونوں ، پھر ضرورت کی حالت کے احکامات مخصوص کرائے گئےجیسے فرمان ہے :

وَقَدۡ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيۡكُمۡ إِلَّا مَا ٱضۡطُرِرۡتُمۡ إِلَيۡهِ‌ۗ  (۶:۱۱۹)

اللہ تعالیٰ نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتا دی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے مگر وہ بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑ جائے تو حلال ہے

تو ارشاد ہو رہا ہے کہ

قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ

آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی گئیں ہیں

حلال چیزوں کے دریافت کرنیوالوں سے کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تم پر حلال ہیں ،

سورہ اعراف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ آپ طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ قبیلہ طائی کے دو شخصوں حضرت عدی بن حاتم اور زید بن مہلہل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مردہ جانور تو حرام ہو چکا اب حلال کیا ہے؟اس پر یہ آیت اتری۔

حضرت سعید فرماتے ہیں یعنی ذبح کئے ہوئے جانور حلال طیب ہیں ۔

مقاتل فرماتے ہیں ہر حلال رزق طیبات میں داخل ہے۔

امام زہری سے سوال کیا گیا کہ دوا کے طور پر پیشاب کا پینا کیسا ہے؟جواب دیا کہ وہ طیبات میں داخل نہیں۔

 امام مالک سے پوچھا گیا کہ اس مٹی کا بیچنا کیسا ہے جسے لوگ کھاتے ہیں فرمایا وہ طیبات میں داخل نہیں

وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ ۖ

 اور جن شکار کھیلنے والے جانوروں کو تم نے سدھار رکھا ہے، یعنی جنہیں تم تھوڑا بہت وہ سکھاتے ہو جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے تمہیں دے رکھی ہے

 اور تمہارے لئے شکاری جانوروں کے ذریعہ کھیلا ہوا شکار بھی حلال کیا جاتا ہے مثلاً سدھائے ہوئے کتے اور شِکرے وغیرہ کے ذریعے۔ یہی مذہب ہے جمہور صحابہؓ تابعین ائمہ کا۔

 ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ شکاری سدھائے ہوئے کتے ، باز ، چیتے ، شکرے وغیرہ ہر وہ پرندہ جو شکار کرنے کی تعلیم دیا جا سکتا ہواور بھی بہت سے بزرگوں سے یہی مروی ہے کہ پھاڑنے والے جانوروں اور ایسے ہی پرندوں میں سے جو بھی تعلیم حاصل کر لے ، ان کے ذریعہ شکار کھیلنا حلال ہے ،

لیکن حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے تمام شکاری پرندوں کا کیا ہوا شکار مکروہ کہا ہے اور دلیل میں وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ پڑھا ہے

سعید بن جبیر سے بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ ضحاک اور سدی کا بھی یہی قول ابن جریر میں مروی ہے۔

حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں باز وغیرہ جو شکار پکڑیں اگر وہ تمہیں زندہ مل جائے تو تم ذبح کر کے کھا لو ورنہ نہ کھاؤ ،

 لیکن جمہور علماء اسلام کا فتویٰ یہ ہے کہ شکاری پرندوں کے ذریعہ جو شکار ہو ، اس کا اور شکاری کتوں کے کئے ہوئے شکار کا ایک ہی حکم ہے ، ان میں تفریق کرنے کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ چاروں اماموں وغیرہ کا مذہب بھی یہی ہے ، امام ابن جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں اور اس کی دلیل میں اس حدیث کو لاتے ہیں ۔حضرت عدی بن حاتم نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز کے کئے ہوئے شکار کا مسئلہ پوچھا تو آپﷺ نے فرمایا:

جس جانور کو وہ تیرے لئے روک رکھے تو اسے کھا لے۔

امام احمد نے سیاہ کتے کا کیا ہوا شکار بھی مستثنیٰ کر لیا ہے ، اس لئے کہ ان کے نزدیک اس کا قتل کرنا واجب ہے اور پالنا حرام ہے ، کیونکہ صحیح مسلم میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

نماز کو تین چیزیں توڑ دیتی ہیں ، گدھا ، عورت اور سیاہ کتا۔

 اس پر حضرت ابی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ کتے کی خصوصیت کی کیا وجہ ہے؟

 تو آپﷺ نے فرمایاشیطان ہے۔

دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا

 پھر فرمایا انہیں کتوں سے کیا واسطہ؟

 ان کتوں میں سے سخت سیاہ کتوں کو مار ڈالا کرو۔

 شکاری حیوانات کو الْجَوَارِحِ اس لئے کہا گیا کہ جرح کہتے ہیں کسب اور کمائی کو ، جیسے عرب کہتے ہیں فلان جرح اہلہ خیرا یعنی فلاں شحص نے اپنی اہل کیلئے بھلائی حاصل کر لی اور عرب کہتے ہیں فلان لا جارح لہ فلاں شخص کا کوئی کماؤ نہیں ،قرآن میں بھی لفظ الْجَوَارِحِ کسب اور کمائی اور حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہےفرمان ہے:

وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ (۶:۶۰)

دن کو جو بھلائی برائی تم حاصل کرتے ہو اور اسے بھی اللہ جانتا ہے۔

 اس آیت کریمہ کے اترنے کی وجہ ابن ابی حاتم میں یہ ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ قتل کئے جانے لگے تو لوگوں نے آکر آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس اُمت کے قتل کا حکم آپ نے دیا ان سے ہمارے لئے کیا فائدہ حلال ہے؟

آپ خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری۔

پس آپ نے فرمایا جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار کے پیچھے چھوڑے اور بسم اللہ بھی کہے پھر وہ شکار پکڑ لے اور روک رکھے تو جب تک وہ نہ کھائے یہ کھا لے۔

 ابن جریر میں ہے:

جبرائیلؑ نے حضورﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی ، آپ نے اجازت دی لیکن وہ پھر بھی اندر نہ آئے تو آپ نے فرمایا اے قاصد رب ہم تو تمہیں اجازت دے چکے پھر کیوں نہیں آتے؟

اس پر فرشتے نے کہا! ہم اس گھر میں نہیں جاتے ، جس میں کتا ہو ،

 اس پر آپ نے حضرت رافع کو حکم دیا کہ مدینے کے کل کتے مار ڈالے جائیں ،

 ابو رافع فرماتے ہیں ، میں گیا اور سب کتوں کو قتل کرنے لگا ،

 ایک بڑھیا کے پاس کتا تھا ، جو اس کے دامن میں لپٹنے لگا اور بطور فریاد اس کے سامنے بھونکنے لگا ، مجھے رحم آگیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا اور آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی

 آپ نے حکم دیا کہ اسے بھی باقی نہ چھوڑو ،

میں پھر واپس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا ،

 اب لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جس اُمت کے قتل کا آپ نے حکم دیا ہے ، ان سے کوئی فائدہ ہمارے لئے حلال بھی ہے یا نہیں؟اس پر آیت يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ نازل ہوئی۔

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مدینے کے کتوں کو قتل کر کے پھر ابو رافع آس پاس کی بستیوں میں پہنچے اور مسئلہ دریافت کرنیوالوں کے نام بھی اس میں ہیں یعنی حضرت عاصم بن عذی حضرت سعید بن خیثمہ حضرت عمویمر بن ساعدرہ ۔

محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ آیت کا شان نزول کتوں کا قتل ہے

مُكَلِّبِينَ کا لفظ ممکن ہے کہ عَلَّمْتُمْ کی ضمیر یعنی فاعل کا حال ہو اور ممکن ہے کہ الْجَوَارِحِ یعنی مقتول کا حاصل ہو۔یعنی جن شکار حاصل کرنے والے جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اور حالانکہ وہ شکار کو اپنے پنجوں اور ناخنوں سے شکار کرتے ہوں ،

اس سے بھی یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ شکاری جانور جب شکار کو اپنے صدمے سے ہی دبوچ کر مار ڈالے تو وہ حلال نہ ہوگا جیسے کہ امام شافعؒی کے دونوں قولوں میں سے ایک قول ہے اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے۔

اسی لئے فرمایا تم نے انہیں اس سے کچھ سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں سکھا رکھا ہے یعنی جب تم چھوڑو ، جائے ، جب تم روک لو رک جائے اور شکار پکڑ کر تمہارے لئے روک رکھے۔ تاکہ تم جا کر اسے لے لو ، اس نے خود اپنے لئے اسے شکار نہ کیا ہو ،

اس لئے فرمایا کہ جب شکاری جانور سدھایا ہوا ہو اور اس نے اپنے چھوڑنے والے کیلئے شکار کیا ہو اور اس نے بھی اس کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لیا ہو تو وہ شکار مسلمانوں کیلئے حلال ہے گو وہ شکار مر بھی گیا ہو ، اس پر اجماع ہے۔

اس آیت کے مسئلہ کے مطابق ہی بخاری و مسلم کی یہ حدیث ہے:

 حضرت عبداللہ بن سلام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اللہ کا نام لے کر اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑتا ہوں

 تو آپ ﷺنے فرمایا جس جانور کو وہ پکڑ رکھے تو اسے کھا لے اگرچہ کتے نے اسے مار بھی ڈالا ہو ، ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے ساتھ شکار کرنے میں دوسرا کتا نہ ملا ہو اس لئے کہ تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہے دوسرے کو بسم اللہ پڑھ کر نہیں چھوڑا

میں نے کہا کہ میں نوکدار لکڑی سے شکار کھیلتا ہوں

فرمایا اگر وہ اپنی تیزی کی طرف سے زخمی کرے تو کھا لے اور اگر اپنی چوڑائی کی طرف سے لگا ہو تو نہ کھا کیونکہ وہ لٹھ مارا ہوا ہے ،

 دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں:

 جب تو اپنے کتے کو چھوڑے تو اللہ کا نام پڑھ لیا کر پھر وہ شکار کو تیرے لئے پکڑ رکھے اور تیرے پہنچ جانے پر شکار زندہ مل جائے تو تو اسے ذبح کر ڈال اور اگر کتے نے ہی اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تو اسے بھی کھا سکتا ہے اس لئے کہ کتے کا اسے شکار کر لینا ہی اس کا ذبیحہ ہے

 اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں :

اگر اس نے کھا لیا ہو تو پھر اسے نہ کھا ، مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں اس نے اپنے کھانے کیلئے شکار نہ پکڑا ہو؟

یہی دلیل جمہور کی ہے اور حقیقتاً امام شافعی کا صحیح مذہب بھی یہی ہے کہ جب کتا شکار کو کھا لے تو وہ مطلق حرام ہو جاتا ہے اس میں کوئی گنجاش نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔

 ہاں سلف کی ایک جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ مطلقاً حلال ہے۔ ان کے دلائل یہ ہیں۔

سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں تو کھا سکتا ہے اگرچہ کتے نے تہائی حصہ کھا لیا ہو ،

 حضرت سعید بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ گو ایک ٹکڑا ہی باقی رہ گیا ہو پھر بھی کھا سکتے ہیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں گو دو تہائیاں کتا کھا گیا ہو پھر بھی تو کھا سکتا ہے ،

حضرت ابوہریرہؓ کا بھی یہی فرمان ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓفرماتے ہیں جب بسم اللہ کہہ کر تو نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑا ہو تو جس جانور کو اس نے تیرے لئے پکڑ رکھا ہے تو اسے کھا لے کتے نے اس میں سے کھایا ہو یا نہ کھایا ہو ،

یہی مروی ہے حضرت علیؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے۔

حضرت عطاء اور حضرت حسن بصری سے اس میں مختلف اقوال مروی ہیں ، زہری ربیعہ اور مالک سے بھی یہی روایت کی گئی ہے ، اسی کی طرف امام شافعی اپنے پہلے قول میں گئے ہیں اور نئے قول میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے۔

حضرت سلمان فارسیؓ سے ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب کوئی شخص اپنے کتے کو شکار پر چھوڑے پھر شکار کو اس حالت میں پائے کہ کتے نے اسے کھا لیا ہو تو جو باقی ہو اسے وہ کھا سکتا ہے۔

 اس حدیث کی سند میں بقول ابن جریر نظر ہے اور سعید راوی کا حضرت سلمان سے سننا معلوم نہیں ہوا اور دوسرے ثقہ راوی اسے مرفوع نہیں کرتے بلکہ حضرت سلمان کا قول نقل کرتے ہیں

یہ قول ہے تو صحیح لیکن اسی معنی کی اور مرفوع حدیثیں بھی مروی ہیں ،ابو داؤد میں ہے حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:

 ایک اعرابی ابو ثعلبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس شکاری کتے سدھائے ہوئے ہیں ان کے شکار کی نسبت کیا فتویٰ ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا جو جانور وہ تیرے لئے پکڑیں وہ تجھ پر حلال ہے ،

 اس نے کہا ذبح کر سکوں جب بھی اور ذبح نہ کر سکوں تو بھی؟ اور اگرچہ کتے نے کھا لیا ہو تو بھی؟

آپ ﷺنے فرمایا ہاں گو کھا بھی لیا ہو ،

 انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ میں اپنے تیر کمان سے جو شکار کروں اس کا کیا فتویٰ ہے؟

فرمایا اسے بھی تو کھا سکتا ہے ،

 پوچھا اگر وہ زندہ ملے اور میں اسے ذبح کر سکوں تو بھی اور تیر لگتے ہی مر جائے تو بھی؟

 فرمایا بلکہ گو وہ تجھے نظر نہ پڑے اور ڈھونڈنے سے مل جائے تو بھی۔ بشرطیکہ اس میں کسی دوسرے شخص کے تیر کا نشان نہ ہو ،

انہوں نے تیسرا سوال کیا کہ بوقت ضرورت مجوسیوں کے برتنوں کا استعمال کرنا ہمارے لئے کیسا ہے؟

فرمایا تم انہیں دھو ڈالو پھر ان میں کھا پی سکتے ہو۔

یہ حدیث نسائی میں بھی ہے

 ابو داؤد کی دوسری حدیث میں ہے:

 جب تو نے اپنے کتے کو اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو تو اس کے شکار کو کھا سکتا ہے گو اس نے اس میں سے کھا بھی لیا ہو اور تیرا ہاتھ جس شکار کو تیرے لئے لایا ہو اسے بھی تو کھا سکتا ہے۔

 ان دونوں احادیث کی سندیں بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ ہیں

اور حدیث میں ہے:

تیرا سدھایا ہوا کتا جو شکار تیرے لئے کھیلے تو اسے کھا لے ،

 حضرت عدی نے پوچھا اگرچہ اس نے اس میں سے کھا لیا ہو

 فرمایا ہاں پھر بھی ،

 ان آثار اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ شکاری کتے نے شکار کو گو کھا لیا ہو تاہم بقیہ شکار شکاری کھا سکتا ہے۔

 کتے وغیرہ کے کھائے ہوئے شکار کو حرام نہ کہنے والوں کے یہ دلائل ہیں۔

 ایک اور جماعت ان دونوں جماعتوں کے درمیان ہے وہ کہتی ہے کہ اگر شکار پکڑتے ہی کھانے بیٹھ گیا تو بقیہ حرام اور اگر شکار پکڑ کر اپنے مالک کا انتظار کیا اور باوجود خاصی دیر گزر جانے کے اپنے مالک کو نہ پایا اور بھوک کی وجہ سے اسے کھا لیا تو بقیہ حلال ۔

پہلی بات پر محمول ہے حضرت عدی والی حدیث اور دوسری پر محمول ہے ابو ثعلبہ والی حدیث میں۔

 یہ فرق بھی بہت اچھا ہے اور اس سے دو صحیح حدیثیں بھی جمع ہو جاتی ہیں۔

 استاذ ابو المعالی جوینی نے اپنی کتاب نہایہ میں یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ کاش کوئی اس بارے  میں یہ وضاحت کرے تو الحمد اللہ یہ وضاحت لوگوں نے کر لی۔

 اس مسئلہ میں ایک چوتھا قول بھی ہے وہ یہ کہ کتے کا کھایا ہوا شکار تو حرام ہے جیسا کہ حضرت عدی کی حدیث میں ہے ، اور شکرے وغیرہ کا کھایا ہوا شکار حرام نہیں اس لئے کہ وہ تو کھانے سے ہی تعلیم قبول کرتا ہے۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اگر پرندہ  اپنے مالک کے پاس لوٹ آیا اور مار انہیںؔ پھر آ کر اس نے  پر نوچے اور گوشت کھائے تو  تو کھا لے۔

ابراہیم نخعی ، شعبی ، حماد بن سلیمان یہی کہتے ہیں ان کی دلیل ابن ابی حاتم کی یہ روایت ہے :

حضرت عدی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ ہم لوگ کتوں اور باز سے شکار کھیلا کرتے ہیں تو ہمارے لئے کیا حلال ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا جو شکاری جانور یا شکار حاصل کرنے والے خود شکار کرنے والے اور سدھائے ہوئے تمہارے لئے شکار روک رکھیں اور تم نے ان پر اللہ کا نام لے لیا ہو اسے تم کھا لو۔

پھر فرمایا جس کتے کو تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو وہ جس جانور کو روک رکھے تو اسے کھا لے

میں نے کہا گو اسے مار ڈالا ہوفرمایا گو مار ڈالا ہو لیکن یہ شرط ہے کہ کھایا نہ ہو

میں نے کہا اگر اس کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں؟

تو فرمایا پھر نہ کھا جب تک کہ تجھے اس بات کا پورا اطمینان نہ ہو کہ تیرے ہی کتے نے شکار کیا ہے۔

 میں نے کہا ہم لوگ تیر سے بھی شکار کیا کرتے ہیں اس میں سے کونسا حلال ہے؟

 فرمایا جو تیر زخمی کرے اور تو نے اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو اسے کھا لے ،

 وجہ دلالت یہ ہے کہ کتے میں نہ کھانے کی شرط آپ نے بتائی اور باز میں نہیں بتائی ، پس ان دونوں میں فرق ثابت ہو گیا واللہ اعلم۔

فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (۴)

پس جس شکار کو وہ تمہارے لئے پکڑ کر روک رکھیں تو تم اس سے کھا لو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کر لیا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقیناً   اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔‏

اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ تم کھا لو جن حلال جانوروں کو تمہارے یہ شکاری جانور پکڑ لیں اور تم نے ان کے چھوڑنے کے وقت اللہ کا نام لے لیا ہو۔جیسے کہ حضرت عدی اور حضرت ابو ثعلبہ کی حدیث میں ہے اسیلئے حضرت امام احمد وغیرہ اماموں نے یہ شرط ضروری بتلائی ہے کہ شکار کیلئے جانور کو چھوڑتے وقت اور تیر چلاتے وقت بسم اللہ پڑھنا شرط ہے۔

 جمہوری کا مشہور مذہب بھی یہی ہے کہ اس آیت اور اس حدیث سے مراد جانور کے چھوڑنے کا وقت ہے ،

 ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ اپنے شکاری جانور کو بھیجتے وقت بسم اللہ کہہ لے ہاں اگر بھول جائے تو کوئی حرج نہیں۔

 بعض لوگ کہتے ہیں کہ مراد کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا ہے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم میں عمر بن ابو سلمہ کے ربیبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مروی ہے کہ اللہ کا نام لے اور اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھا۔

صحیح بخاری شریف میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے :

لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لوگ ہمارے پاس جو لوگ گوشت لاتے ہیں وہ نو مسلم ہیں ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا بھی ہے یا نہیں؟ تو کیا ہم اسے کھا لیں

 آپ ﷺنے فرمایا تم خود اللہ کا نام لے لو اور کھا لو۔

 مسند میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھ صحابہؓ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی نے آ کر دو لقمے اس میں سے اٹھائے آپ نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ کہہ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کافی ہو جاتا تم میں سے جب کوئی کھانے بیٹھے تو بسم اللہ پڑھ لیا کرے اگر اول میں بھول گیا تو جب یاد آ جائے کہہ دے بسم اللہ اول و آخرہ

یہی حدیث منقطع سند کے ساتھ ابن ماجہ میں بھی ہے۔

 دوسری سند سے یہ حدیث ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی اور مسند احمد میں ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح بتاتے ہیں۔

جابربن صبیح فرماتے ہیں کہ حضرت مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی کے ساتھ میں نے واسط کا سفر کیا ان کی عادت یہ تھی کہ کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہہ لیتے اور آخری لقمہ کے وقت دعا بسم اللہ اول و آخرہ کہہ لیا کرتے اور مجھ سے انہوں نے فرمایا کہ خالد بن امیہ بن مخشی صحابی کا فرمان ہے کہ شیطان اس شخص کے ساتھ کھانا کھاتا رہتا ہے جس نے اللہ کا نام نہ لیا ہو جب کھانے والا اللہ کا نام یاد کرتا ہے تو اسے قے ہو جاتی ہے اور جتنا اس نے کھایا ہے سب نکل جاتا ہے (مسند احمد )

اس کے راوی کو ابن معین اور نسائی تو ثقہ کہتے ہیں لیکن ابو الفتح ازوی فرماتے ہیں یہ دلیل لینے کے قابل راوی نہیں۔

حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں:

ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ ایک لڑکی گرتی پڑتی آئی ، جیسے کوئی اسے دھکے دے رہا ہو اور آتے ہی اس نے لقمہ اٹھانا چاہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا

اور ایک اعرابی بھی اسی طرح آیا اور پیالے میں ہاتھ ڈالا آپ نے اس کا ہاتھ بھی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور فرمایا :

جب کسی کھانے پر بسم اللہ نہ کہی جائے تو شیطان اسے اپنے لئے حلال کر لیتا ہے وہ پہلے تو اس لڑکی کے ساتھ آیا تاکہ ہمارا کھانا کھائے تو میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا پھر وہ اعرابی کے ساتھ میں نے اس کا بھی ہاتھ تھام لیا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے (مسند ، مسلم ، ابو داؤد ، نسائی)

مسلم ، ابو داؤد ، نسائی اور ابن ماجہ میں ہے:

 جب انسان اپنے گھر میں جاتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ کا نام یاد کر لیا کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ اے شیطانو نہ تو تمہارے لئے رات گزارنے کی جگہ ہے نہ اس کا کھانا اور جب وہ گھر میں جاتے ہوئے کھاتے ہوئے اللہ کا نام نہیں لیتا تو وہ پکار دیتا ہے کہ تم نے شب باشی کی اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔

مسند ، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں ہے:

 ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی کہ ہم کھاتے ہیں اور ہمارا پیٹ نہیں بھرتا تو آپ ﷺنے فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے کھانا سب مل کر کھاؤ اور بسم اللہ کہہ لیا کرو اس میں اللہ کی طرف سے برکت دی جائے گی۔

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ

کل پاکیزہ چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں

حلال و حرام کے بیان کے بعد بطور خلاصہ فرمایا کہ کل ستھری چیزیں حلال ہیں ،

وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ ۖ

اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال،

یہاں یہود و نصاریٰ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کی حلت بیان فرمائی۔

حضرت ابن عباس ، ابو امامہ، مجاہد ، سعید بن جبیر ، عکرمہ ، عطاء ، حسن ، مکحول ، ابراہیم ، نخعی ، سدی ، مقاتل بن حیان یہ سب یہی کہتے ہیں کہ طَعَامُ سے مراد ان کا اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ہوا جانور ہے ، جس کا کھانا مسلمانوں کو حلال ہے ،

 علماء اسلام کا اس پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا ذبیحہ ہمارے لئے حلال ہے ، کیونکہ وہ بھی غیر اللہ کیلئے ذبح کرنا ناجائز جانتے ہیں اور ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا دوسرے کا نام نہیں لیتے گو ان کے عقیدے ذات باری کی نسبت یکسر اور سراسر باطل ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ بلند و بالا اور پاک و منزہ ہے۔

صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان ہے :

جنگ خیبر میں مجھے چربی کی بھری ہوئی ایک مشک مل گئی ، میں نے اسے قبضہ میں کیا اور کہا اس میں سے تو آج میں کسی کو بھی حصہ نہ دونگا ، اب جو ادھر ادھر نگاہ پھرائی تو دیکھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہی کھڑے ہوئے تبسم فرما رہے ہیں۔

اس حدیث سے یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ مال غنیمت میں سے کھانے پینے کی ضروری چیزیں تقسیم سے پہلے بھی لے لینی جائز ہیں اور یہ استدلال اس حدیث سے صاف ظاہر ہے ،

 تینوں مذہب کے فقہاء نے مالکیوں پر اپنی سند پیش کی ہے اور کہا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ اہل کتاب کا وہی کھانا ہم پر حلال ہے جو خود ان کے ہاں بھی حلال ہو یہ غلط ہے کیونکہ چربی کو یہودی حرام جانتے ہیں لیکن مسلمان کیلئے حلال ہے لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ ہے۔البتہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ وہ چربی ہو جسے خود یہودی بھی حلال جانتے تھے یعنی پشت کی چربی انتڑیوں سے لگی ہوئی چربی اور ہڈی سے ملی ہوئی چربی ،

 اس سے بھی زیادہ دلالت والی تو وہ روایت ہے جس میں ہے:

 خیبر والوں نے سالم بھنی ہوئی ایک بکری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دی جس کے شانے کے گوشت کو انہوں نے زہر آلود کر رکھا تھا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شانے کا گوشت پسند ہے ، چنانچہ آپ نے اس کا یہی گوشت لے کر منہ میں رکھ کر دانتوں سے توڑا تو فرمان باری سے اس شانے نے کہا ، مجھ میں زہر ملا ہوا ہے ، آپ نے اسی وقت اسے تھوک دیا اور اس کا اثر آپ کے سامنے کے دانتوں وغیرہ میں رہ گیا ، آپ کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرورؓ بھی تھے ، جو اسی کے اثر سے راہی بقاء ہوئے ، جن کے قصاص میں زہر ملانے والی عورت کو بھی قتل کیا گیا ، جس کا نام زینب تھا ،

وجہ دلالت یہ ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مع اپنے ساتھیوں کے اس گوشت کے کھانے کا پختہ ارادہ کر لیا اور یہ نہ پوچھا کہ اس کی جس چربی کو تم حلال جانتے ہو اسے نکال بھی ڈالا ہے یا نہیں؟

 اور حدیث میں ہے کہ ایک یہودی نے آپ کی دعوت میں جو کی روٹی اور پرانی سوکھی چربی پیش کی تھی ،

حضرت مکحول فرماتے ہیں جس چیز پر نام رب نہ لیا جائے اس کا کھانا حرام کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر رحم فرما کر منسوخ کر کے اہل کتاب کے ذبح کئے جانور حلال کر دئیے

یہ یاد رہے کہ اہل کتاب کا ذبیحہ حلال ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جس جانور پر بھی نام الہٰی نہ لیا جائے وہ حلال ہو؟ اس لئے کہ وہ اپنے ذبیحوں پر اللہ کا نام لیتے تھے بلکہ جس گوشت کو کھاتے تھے اسے ذبیحہ پر موقوف نہ رکھتے تھے بلکہ مردہ جانور بھی کھا لیتے تھے لیکن سامرہ اور صائبہ اور ابراہیم وشیث وغیرہ پیغمبروں کے دین کے مدعی اس سے مستثنیٰ تھے ، جیسے کہ علماء کے دو اقوال میں سے ایک قول ہے اور عرب کے نصرانی جیسے بنو تغلب ، تنوخ بہرا ، جذام لحم ، عاملہ  اور ان جیسے اور کہ جمہور کے نزدیک ان کے ہاتھ کا کیا ہوا ذبیحہ نہیں کھایا جائے گا۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں قبیلہ بنو تغلب کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور نہ کھاؤ ، اس لئے کہ انہوں نے تو نصرانیت سے سوائے شراب نوشی کے اور کوئی چیز نہیں لی ،ہاں سعید بن مسیب اور حسن بنو تغلب کے نصاریٰ کے ہاتھوں ذبح کئے ہوئے جانور کے کھا لینے میں کوئی حرج نہیں جانتے تھے ،

باقی رہے مجوسی ان سے گو جزیہ لیا گیا ہے کیونکہ انہیں اس مسئلہ میں یہود و نصاریٰ میں ملا دیا گیا ہے اور ان کا ہی تابع کر دیا گیا ہے ، لیکن ان کی عورتوں سے نکاح کرنا اور ان کے ذبح کئے ہوئے جانور کا کھانا ممنوع ہے۔

ہاں ابو ثور ابراہیم بن خالد کلبی جو شافعی اور احمد کے ساتھیوں میں سے تھے ، اس کے خلاف ہیں ، جب انہوں نے اسے جائز کہا اور لوگوں میں اس کی شہرت ہوئی تو فقہاء نے اس قول کی زبردست تردید کی ہے۔ یہاں تک کہ حضرت امام احمد بن حنبل نے تو فرمایا کہ ابو ثور اس مسئلہ میں اپنے نام کی طرح ہی ہے یعنی بیل کا باپ ،

ممکن ہے ابو ثور نے ایک حدیث کے عموم کو سامنے رکھ کر یہ فتویٰ دیا ہو جس میں حکم ہے کہ مجوسیوں کے ساتھ اہل کتاب کا سا طریقہ برتو لیکن اولاً تو یہ روایت ان الفاظ سے ثابت ہی نہیں دوسرے یہ روایت مرسل ہے ، ہاں البتہ صحیح بخاری شریف میں صرف اتنا تو ہے کہ ہجر کے مجوسیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا ۔

 علاوہ ان سب کے ہم کہتے ہیں کہ ابوثور کی پیش کردہ حدیث کو اگر ہم صحیح مان لیں ، تو بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کے عموم سے بھی اس آیت میں حکم امتناعی کو دلیل بنا کر اہل کتاب کے سوا اور دین والوں کا ذبیحہ بھی ہمارے لئے حرام ثابت ہوتا ہے ،

پھر فرماتا ہے کہ تمہارا ذبیحہ ان کیلئے حلال ہے

یعنی تم انہیں اپنا ذبیحہ کھلا سکتے ہو۔ یہ اس امر کی خبر نہیں کہ ان کے دین میں ان کیلئے تمہارا ذبیحہ حلال ہے ہاں زیادہ سے زیادہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ انہیں بھی ان کی کتاب میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور کا ذبیحہ اللہ کے نام پر ہوا ہو اسے وہ کھا سکتا ہے بلحاظ اس سے کہ ذبح کرنے والا انہیں میں سے ہو یا ان کے سوا کوئی اور ہو ، لیکن زیادہ باوزن بات پہلی ہی ہے۔ یعنی یہ کہ تمہیں اجازت ہے کہ انہیں اپنا ذبیحہ کھلاؤ جیسے کہ ان کے ذبح کئے ہوئے جانور تم کھا لیتے ہو۔

یہ گویا ادل بدل کے طور پر ہے ، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی بن سلول منافق کو اپنے خاص کرتے ہیں کفن دیا جس کی وجہ سے بعض حضرات نے یہ بیان کیا ہے کہ اس نے آپ کے چچا حضرت عباسؓ کو اپنا کرتا دیا تھا جب وہ مدینے میں آئے تھے تو آپ نے اس کا بدلہ چکا دیا۔

ہاں ایک حدیث میں ہے کہ مؤمن کے سوا کسی اور کی ہم نشینی نہ کر اور اپنا کھانا بجز پرہیز گاروں کے اور کسی کو نہ کھلا

 اسے اس بدلے کے خلاف نہ سمجھنا چاہئے ، ہو سکتا ہے کہ حدیث کا یہ حکم بطور پسندیدگی اور افضلیت کے ہو ، واللہ اعلم۔

وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ

اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پاک دامن مؤمن عورتوں سے نکاح کرنا تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ہے یہ بطور تمہید کے ہے اسی لئے اسکے بعد ہی فرمایا کہ تم سے پہلے جنہیں کتاب دی گئی ہے ان کی عفیفہ عورتوں سے بھی نکاح تمہیں حلال ہے۔

یہ قول بھی ہے کہ مراد مُحْصَنَات سے آزاد عورتیں ہیں یعنی لونڈیاں نہ ہوں۔

 یہ قول حضرت مجاہد کی طرف منسوب ہے اور حضرت مجاہد کے الفاظ یہ ہیں کہ مُحْصَنَات سے آزاد مراد ہیں اور جب یہ ہے تو جہاں اس قول کا وہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ لونڈیاں اس سے خارج ہیں وہاں یہ معنی بھی لئے جا سکتے ہیں کہ پاک دامن عفت شعار ، جیسے کہ انہی سے دوسری روایت ان ہی لفظوں میں موجود ہے ،

 جمہور بھی کہتے ہیں اور یہ زیادہ ٹھیک بھی ہے۔ تاکہ ذمیہ ہونے کے ساتھ ہی غیر عفیفہ ہونا شامل ہو کر بالکل ہی باعث فساد نہ بن جائے اور اس کا خاوند صرف فضول بھرتی کے طور پر اور برے پیمانے کے طور پر نہ ہو جائے۔ پس بظاہر یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے کہ مُحْصَنَات سے مراد عفت مآب اور بدکاری سے بچاؤ والیاں ہی لی جائیں ، جیسے دوسری آیت میں مُحْصَنَات کے ساتھ ہی غَيْرَ مُسَـفِحَـتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ (۴:۲۵) آیا ہے۔

علماء اور مفسرین کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ کیا آیت ہر کتابیہ عفیفہ عورت پر مشتمل ہے؟ خواہ وہ آزاد ہو خواہ لونڈی ہو؟

ابن جریر میں سلف کی ایک جماعت سے اسے نقل کیا ہے جو کہتے ہیں کہ مُحْصَنَات سے مراد پاک دامن ہے ،

 ایک قول یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں مراد اہل کتاب سے اسرائیلی عورتیں ہیں ،امام شافعی کا یہی مذہب ہے

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ذمیہ عورتیں ہیں سوائے آزاد عورتوں کےاور دلیل یہ آیت ہے:

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ (۹:۲۹)

ان سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے ،

چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر نصرانیہ عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں جانتے تھے اور فرماتے تھے اس سے بڑا شرک کیا ہو گا کہ وہ کہتی ہو کہ اس کا رب عیسیٰ ہے اور جب یہ مشرک ٹھہریں تو نص قرآنی موجود ہے:

وَلاَ تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ (۲:۲۲۱)

مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لائیں ،

 ابن ابی حاتم میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے:

 جب مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرنے کا حکم نازل ہوا تو صحابہؓ ان سے رک گئے یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اہل کتاب کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کرنے کی رخصت نازل ہوئی تو صحابہؓ نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کئےاور صحابہؓ کی ایک جماعت سے ایسے نکاح اسی آیت کو دلیل بنا کر کرنے ثابت ہیں تو گویا پہلے سورہ بقرہ کی آیت کی ممانعت میں یہ داخل تھیں لیکن دوسری آیت نے انہیں مخصوص کر دیا۔

یہ اس وقت جب یہ مان لیا جائے کہ ممانعت والی آیت کے حکم میں یہ بھی داخل تھیں ورنہ ان دونوں آیتوں میں کوئی معارض نہیں ، اس لئے کہ اور بھی بہت سی آیتوں میں عام مشرکین سے انہیں الگ بیان کیا گیا ہے جیسے

لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (۹۸:۱)

 کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ظاہر دلیل نہ آ جائے باز رہنے والے نہ تھے

اور

وَقُل لِّلَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ وَالأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اهْتَدَواْ (۳:۲۰)

اور اہل کتاب سے اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دیجئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟

 پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً  ہدایت والے ہیں

إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ

جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ اعلانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو،

پھر فرماتا ہے جب تم انہیں ان کے مقررہ مہر دے دو وہ اپنے نفس کو بچانے والیاں ہوں اور تم ان کے مہر ادا کرنے والے ہو ،

 حضرت جابر بن عبداللہ عامر شعبی ابراہیم نخعی حسن بصری کا فتویٰ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور دخول سے پہلے اس نے بدکاری کی تو میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے گی اور جو مہر خاوند نے عورت کو دیا ہے اسے واپس دلوایا جائے گا (ابن جریر)

پھر فرماتا ہے تم بھی پاک دامن عفت مآب رہو اور علانیہ یا پوشیدہ بدکار نہ ہو۔

پس عورتوں میں جس طرح پاک دامن اور عفیفہ ہونے کی شرط لگائی تھی مردوں میں بھی یہی شرط لگائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ وہ کھلے بدکار نہ ہوں کہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہوں اور نہ ایسے ہوں کہ خاص تعلق سے حرام کاری کرتے ہوں۔ سورہ نساء میں بھی اسی کے برابر گزر چکا ہے۔

حضرت امام احمد اسی طرف گئے ہیں کہ زانیہ عورتوں سے توبہ سے پہلے ہرگز کسی بھلے آدمی کو نکاح کرنا جائز نہیں ، اور یہی حکم ان کے نزدیک مردوں کا بھی ہے کہ بدکار مردوں کا نکاح نیک کار عفت شعار عورتوں سے بھی ناجائز ہے جب تک وہ سچی توبہ نہ کریں اور اس رذیل فعل سے باز نہ آجائیں۔ان کی دلیل ایک حدیث بھی ہے جس میں ہے کوڑے لگایا ہوا زانی اپنے جیسی سے ہی نکاح کر سکتا ہے۔

خلیفتہ المؤمنین حضرت عمر فاروق نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں ارادہ کر رہا ہوں کہ جو مسلمان کوئی بدکاری کرے میں اسے ہرگز کسی مسلمان پاک دامن عورت سے نکاح نہ کرنے دوں۔

 اس پر حضرت ابی بن کعب نے عرض کی کہ اے امیر المؤمنین شرک اس سے بہت بڑا ہے اس کے باوجود بھی اس کی توبہ قبول ہے۔

 اس مسئلے کو ہم آیت الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ (۲۴:۳) کی تفسیر میں پوری طرح بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔

وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ (۵)

 منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وہ ہارنے والوں میں سے ہیں۔‏

 ارشاد ہوتا ہے کہ کفار کے اعمال اکارت ہیں اور وہ آخرت میں نقصان یافتہ ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کہنیوں سمیت دھو لو ۔

وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ

اپنے سروں کو مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرلو

اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ حکم وضو اس وقت ہے جب کہ آدمی بےوضو ہو۔

 ایک جماعت کہتی ہے جب تم کھڑے ہو یعنی نیند سے جاگو

یہ دونوں قول تقریباً ایک ہی مطلب کے ہیں

 اور حضرات فرماتے ہیں آیت تو عام ہے اور اپنے عموم پر ہی رہے گی لیکن جو بےوضو ہو اس پر وضو کرنے کا حکم وجوباً ہے اور جو باوضو ہو اس پر استحباباً۔

ایک جماعت کا خیال ہے کہ ابتداء اسلام میں ہر صلوٰۃ کے وقت وضو کرنے کا حکم تھا پھر منسوخ ہو گیا۔

مسند احمد میں ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے تازہ وضو کیا کرتے تھے ، فتح مکہ والے دن آپ نے وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا اور اسی ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کیں ،

یہ دیکھ کر حضرت عمر ؓنے کہا یا رسول اللہ ﷺ آج آپ نے وہ کام کیا جو آج سے پہلے نہیں کرتے تھے۔

 آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے بھول کر ایسا نہیں کیا بلکہ جان بوجھ کر قصداً یہ کیا ہے ،

 ابن ماجہ میں ہے:

 حضرت جابر بن عبداللہؓ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھا کرتے تھے ہاں پیشاب کریں یا وضو ٹوٹ جائے تو نیا وضو کر لیا کرتے اور وضو ہی کے بچے ہوئے پانی سے جرابوں پر مسح کر لیا کرتے۔

یہ دیکھ کر حضرت فضل بن مبشر نے سوال کیا کہ کیا آپ اسے اپنی رائے سے کرتے ہیں؟

فرمایا نہیں بلکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ،

مسند احمد میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرتے دیکھ کر خواہ وضو ٹوٹا ہو یا نہ ٹوٹا ہو ان کے صاحبزادے عبید اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ اس کی کیا سند ہے؟

 فرمایا اس سے حضرت اسماء بنت زید بن خطابؓ نے کہا ہے کہ ان سے حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے جو فرشتوں کے غسل دئیے ہوئے کے صاحبزادے تھے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کیلئے تازہ وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حالت میں وضو باقی ہو تو بھی اور نہ ہو تو بھی ،لیکن اس میں قدرے مشقت معلوم ہوئی تو وضو کے حکم کے بدلے مسواک کا حکم رکھا گیا ہاں جب وضو ٹوٹے تو نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہےاسے سامنے رکھ کر حضرت عبداللہؓ کا خیال ہے کہ چونکہ انہیں قوت ہے اس لئے وہ ہر نماز کے وقت وضو کرتے ہیں۔ آخری دم تک آپ کا یہی حال رہا ۔

 اس کے ایک راوی حضرت محمد بن اسحاق ہیں لیکن چونکہ انہوں نے صراحت کے ساتھ حدثنا ءکہا ہے اس لئے تدلیس کا خوف بھی جاتا رہا۔ ہاں ابن عساکر کی روایت میں یہ لفظ نہیں اللہ اعلم۔

حضرت عبداللہ کے اس فعل اور اس پر ہمیشگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مستحب ضرور ہے اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔

 ابن جریر میں ہے کہ خلفاء ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرتے تھے ،

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے اور دلیل میں یہ آیت تلاوت فرما دیتے

 ایک مرتبہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما تھے پھر پانی لایا گیا اور آپ نے منہ دھویا ہاتھ دھوئے پھر سر کا مسح کیا اور پھر پیر کا۔ اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو ،

 ایک مرتبہ آپ نے خفیف وضو کر کے بھی یہی فرمایا تھا۔

حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

ابوداؤد طیالسی میں حضرت سعید بن مسیب کا قول ہے کہ وضو ٹوٹے بغیر وضو کرنا زیادتی ہے۔

 اولاً تو یہ فعل سنداً بہت غریب ہے ، دوسرا یہ کہ مراد اس سے وہ شخص ہے جو اسے واجب جانتا ہو اور صرف مستحب سمجھ کر جو ایسا کرے وہ تو عامل بالحدیث ہے ،

 بخاری سنن وغیرہ میں مروی ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کیلئے نیا وضو کرتے تھے ،

 ایک انصاری نے حضرت انسؓ سے یہ سن کر کہا اور آپ لوگ کیا کرتے تھے؟

فرمایا ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھتے تھے جب تک وضو ٹوٹے نہیں ،

 ابن جریر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے:

 جو شخص وضو پر وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ،

ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور امام ترمذی نے اسے ضعیف کہا ہے

 ایک جماعت کہتی ہے کہ آیت سے صرف اتنا ہی مقصود ہے کہ کسی اور کام کے وقت وضو کرنا واجب نہیں صرف نماز کیلئے ہی اس کا وجوب ہے۔ یہ فرمان اس لئے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ تھی کہ وضو ٹوٹنے پر کوئی کام نہ کرتے تھے جب تک پھر وضو نہ کر لیں ،

 ابن ابی حاتم وغیرہ کی ایک ضعیف غریب روایت میں ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کا ارادہ کرتے ہم آپ سے بولتے لیکن آپ جواب نہ دیتے ہم سلام علیک کرتے پھر بھی جواب نہ دیتے یہاں تک کہ یہ آیت رخصت کی اتری۔

 ابوداؤد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پاخانے سے نکلے اور کھانا آپ کے سامنے لایا گیا تو ہم نے کہا اگر فرمائیں تو وضو کا پانی کا حاضر کریں

 فرمایا وضو کا حکم تو مجھے صرف نماز کیلئے کھڑا ہونے کے وقت ہی کیا گیا ہے۔

 امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں۔

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے کچھ نماز تھوڑا ہی پڑھنی ہے جو میں وضو کروں۔

 آیت کے ان الفاظ سے کہ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہو تو وضو کر لیا کرو علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ وضو میں نیت واجب ہے ، مطلب کلام اللہ شریف کا یہ ہے کہ نماز کیلئے وضو کر لیا کرو۔ جیسے عرب میں کہا جاتا ہے ، جب تو امیر کو دیکھے تو کھڑا ہو جا تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ امیر کیلئے کھڑا ہو جا۔

 بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے:

 اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی ہے جو وہ نیت کرے

 اور منہ کے دھونے سے پہلے وضو میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ کیونکہ ایک پختہ اور بالکل صحیح حدیث میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں جو اپنے وضو میں بسم اللہ نہ کہے

حدیث کے ظاہری الفاظ تو نیت کی طرح بسم اللہ کہنے پر بھی وجوب کی دلالت کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مترجم

یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے کا ان کا دھو لینا مستحب ہے اور جب نیند سے اٹھا ہو تب تو سخت تاکید آتی ہے بخاری و مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مروی ہے:

 تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک کہ تین مرتبہ دھو نہ لے ، اسے نہیں معلوم کہ اس کے ہاتھ رات کے وقت کہاں رہے ہوں؟

منہ کی حد فقہاء کے نزدیک لمبائی میں سر کے بالوں کی اُگنے کی جو جگہ عموماً ہے وہاں سے داڑھی کی ہڈی اور تھوڑی تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک۔

 اس میں اختلاف ہے کہ دونوں جانب کی پیشانی کے اڑے ہوئے بالوں کی جگہ سر کے حکم میں ہے یا منہ کے؟

 اور داڑھی کے لٹکتے ہوئے بالوں کا دھونا منہ کے دھونے کی فرضیت میں داخل ہے یا نہیں؟

 اس میں دو قول ہیں ، ایک تو یہ کہ ان پر پانی کا بہانا واجب ہے اس لئے کہ منہ سامنے کرنے کے وقت اس کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

 ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو داڑھی ڈھانپے ہوئے دیکھ کر فرمایا اسے کھول دے یہ بھی منہ میں داخل ہے ،

حضرت مجاہد فرماتے ہیں عرب کا محاورہ بھی یہی ہے کہ جب بچے کے داڑھی نکلتی ہے تو وہ کہتے ہیں طلع وجھہ

پس معلوم ہوتا ہے کہ کلام عرب میں داڑھی منہ کے حکم میں ہے اور لفظ وجھہ میں داخل ہے۔

 داڑھی گھنی اور بھری ہوئی ہو تو اس کا خلال کرنا بھی مستحب ہے۔

حضرت عثمان ؓکے وضو کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ آپ نے منہ دھوتے وقت تین دفعہ داڑھی کا خلال کیا۔ پھر فرمایا  جس طرح تم نے مجھے کرتے دیکھا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے (ترمذی)

اس روایت کو امام بخاری اور امام ترمذی حسن بتاتے ہیں

 ابو داؤد میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے وقت ایک چلو پانی لے کر اپنی تھوڑی تلے ڈال کر اپنی داڑھی مبارک کا خلال کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے میرے رب عزوجل نے اسی طرح حکم فرمایا ہے۔

حضرت امام بیہقی فرماتے ہیں داڑھی کا خلال کرنا حضرت عمارؓ حضرت عائشہؓ حضرت ام سلمہؓ حضرت علی ؓسے مروی ہے اور اس کے ترک کی رخصت ابن عمر ؓحسن بن علیؓ اور تابعین کی ایک جماعت سے مروی ہے

صحاح میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے بیٹھتے کلی کرتے اور ناک میں پانی ڈالتے۔

 أئمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ دونوں وضو اور غسل میں میں واجب ہیں یا مستحب؟

 امام احمد کا مذہب تو وجوب کا ہے اور امام شافعی اور امام مالک مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل سنن کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں جلدی جلدی نماز پڑھنے والے سے حضور ﷺ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ وضو کر جس طرح اللہ نے تجھے حکم دیا ہے ،

امام حنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ غسل میں واجب اور وضو میں نہیں ،

 ایک روایت امام احمد سے مروی ہے کہ ناک میں پانی دینا تو واجب اور کلی کرنا مستحب ، کیونکہ بخاری و مسلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے جو وضو کرے وہ ناک میں پانی ڈالے

اور روایت میں ہے تم میں سے جو وضو کرے وہ اپنے دونوں نتھنوں میں پانی ڈالے اور اچھی طرح وضو کرے۔

مسند احمد اور بخاری میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عباسؓ وضو کرنے بیٹھے تو منہ دھویا ایک چلو پانی کا لے کر کلی کی اور ناک کو صاف کیا پھر ایک چلو لے کر داہنا ہاتھ دھویا پھر ایک چلو لے کر اسی سے بایاں ہاتھ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر پانی کا ایک چلو لے کر اپنے داہنے پاؤں پر ڈال کر اسے دھویا پھر ایک چلو سے بایاں پاؤں دھویا۔ پھر فرمایا میں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔

إِلَى الْمَرَافِقِ سے مراد مَع  الْمَرَافِقِ ہے ،جیسے فرمان ہے:

وَلاَ تَأْكُلُواْ أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا (۴:۲)

یتیموں کے مالوں کو اپنے مالوں سمیت نہ کھا جایا کرو یہ بڑا ہی گناہ ہے۔

 اسی طرح یہاں بھی ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک نہیں ، بلکہ کہنیوں سمیت دھونا چاہئے۔

 دار قطنی میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہوئے اپنی کہنیوں پر پانی بہاتے تھے ،

لیکن اس کے دو راویوں میں کلام ہے۔ واللہ اعلم۔

 وضو کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ کہنیوں سے آگے اپنے شانے کو بھی وضو میں دھوئے کیونکہ بخاری مسلم میں حدیث ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 میری اُمت وضو کے نشانوں کی وجہ سے قیامت کے دن چمکتے ہوئے اعضاؤں سے آئے گی پس تم میں سے جس سے وہ ہو سکے وہ اپنی چمک کو دور تک لے جائے

صحیح مسلم میں ہے:

مؤمن کو وہاں تک زیور پہنائے جائیں گے جہاں تک اس کے وضو کا پانی پہنچتا تھا۔

بِرُءُوسِكُمْ میں جو ب ہے اس کا الصاق یعنی ملا دینے کیلئے ہونا تو زیادہ غالب ہے اور تبعیض یعنی کچھ حصے کیلئے ہونا تامل طلب ہے۔

 بعض اصولی حضرات فرماتے ہیں چونکہ آیت میں اجمال ہے اس لئے سنت نے جو اس کی تفصیل کی ہے وہی معتبر ہے اور اسی کی طرف لوٹنا پڑے گا ،

حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم صحابی سے ایک شخص نے کہا آپ وضو کر کے ہمیں بتلایئے۔

 آپ نے پانی منگوایا اور اپنے دونوں ہاتھ دو دو دفعہ دھوئے ، پھر تین بار کلی کی اور ناک میں پانی دیا ، تین ہی دفعہ اپنا منہ دھویا ، پھر کہنیوں سمیت اپنے دونوں ہاتھ دو مرتبہ دھوئے ، پھر دونوں ہاتھ سے سر کا مسح کیا سر کے ابتدائی حصے سے گدی تک لے گئے ، پھر وہاں سے یہیں تک واپس لائے ، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے (بخاری و مسلم)

حضرت علیؓ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ اسی طرح منقول ہے۔

 ابو داؤد میں حضرت معاویہ ؓاور حضرت مقدادؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے ،

یہ حدیثیں دلیل ہیں اس پر کہ پورے سر کا مسح فرض ہے۔ یہی مذہب حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا ہے اور یہی مذہب ان تمام حضرات کا ہے جو آیت کو مجمل مانتے ہیں اور حدیث کو اس کی وضاحت جانتے ہیں

 حنیفوں کا خیال ہے کہ چوتھائی سر کا مسح فرض ہے جو سر کا ابتدائی حصہ ہے اور ہمارے ساتھی کہتے ہیں کہ فرض صرف اتنا ہے جتنے پر مسح کا اطلاق ہو جائے ، ا کی کوئی حد نہیں۔ سر کے چند بالوں پر بھی مسح ہو گیا تو فرضیت پوری ہو گئی،  ان دونوں جماعتوں کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ والی حدیث ہے:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا جب آپ قضائے حاجت کر چکے تو مجھ سے پانی طلب کیا میں لوٹا لے آیا آپ نے اپنے دونوں پہنچے دھوئے پھر منہ دھویا پھر کلائیوں پر سے کپڑا ہٹایا اور پیشانی سے ملے ہوئے بالوں اور پگڑی پر مسح کر کے باقی پگڑی پر پورا کر لیا

 اور اس کی بہت سی مثالیں احادیث میں ہیں ۔آپ صافے پر اور جرابوں پر برابر مسح کیا کرتے تھے ، پس یہی اولیٰ ہے اور اس میں ہرگز اس بات پر کوئی دلالت نہیں کہ سر کے بعض حصے پر یا صرف پیشانی کے بالوں پر ہی مسح کر لے اور اس کی تکمیل پگڑی پر نہ ہو۔ واللہ اعلم

 پھر اس میں بھی اختلاف ہے کہ سر کا مسح بھی تین بار ہو یا ایک ہی بار؟

 امام شافعی کا مشہور مذہب اول ہے اور امام احمد اور ان کے متبعین کا دوم ۔دلائل یہ ہیں :

حضرت عثمان بن عفانؓ وضو کرنے بیٹھتے ہیں اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے ہیں ، انہیں دھو کر پھر کلی کرتے ہیں اور ناک میں پانی دیتے ہیں ، پھر تین مرتبہ منہ دھوتے ہیں ، پھر تین تین بار دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھوتے ہیں ، پہلے دایاں پھر بایاں۔ پھر اپنے سر کا مسح کرتے ہیں پھر دونوں پیر تین تین بار دھوتے ہیں پہلے داہنا پھر بایاں۔

 پھر آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا اور وضو کے بعد آپ نے فرمایا جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں (بخاری و مسلم)

سنن ابی داؤد میں اسی روایت میں سر کے مسح کرنے کے ساتھ ہی یہ لفظ بھی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ کیا ،

حضرت علیؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے

 اور جن لوگوں نے سر کے مسح کو بھی تین بار کہا ہے انہوں نے حدیث سے دلیل لی ہے۔ جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار اعضاء وضو کو دھویا۔

حضرت عثمانؓ سے مروی ہے کہ آپ نے وضو کیا پھر اسی طرح روایت ہے اور اس میں کلی کرنی اور ناک میں پانی دینے کا ذکر نہیں اور اس میں ہے کہ پھر آپ نے تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ اپنے دونوں پیر دھوئے۔پھر فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا اور آپ نے فرمایا جو ایسا وضو کرے اسے کافی ہے۔

لیکن حضرت عثمانؓ سے جو حدیثیں صحاح میں مروی ہیں ان سے تو سر کا مسح ایک بار ہی ثابت ہوتا ہے

أَرْجُلَكُمْ لام کی زبر سے عطف ہے جو وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ پر ماتحت ہے دھونے کے حکم کے۔

 حضرت ابن عباسؓ یونہی پڑھتے تھے اور یہی فرماتے تھے ، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عروہ ، حضرت عطاء ، حضرت عکرمہ ، حضرت حسن ، حضرت مجاہد ، حضرت ابراہیم ، حضرت ضحاک ، حضرت سدی ، حضرت مقاتل بن حیان ، حضرت زہری ، حضرت ابراہیم تیمی کا یہی قول اور یہی قرأت ہے ،

 اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ پاؤں دھونے چاہئیں ، یہی سلف کا فرمان ہے اور یہیں سے جمہور نے وضو کی ترتیب کے وجوب پر استدلال کیا ہے ،

صرف ابو حنیفہ ؒاس کے خلاف ہیں ، وہ وضو میں ترتیب کو شرط نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی شخص پہلے پیروں کو دھوئے پھر سر کا مسح کرے پھر ہاتھ دھوئے پھر منہ دھوئے جب بھی جائز ہے اس لئے کہ آیت نے ان اعضاء کے دھونے کا حکم دیا ہے۔

واؤ کی دلالت ترتیب پر نہیں ہوتی ، اس کے جواب جمہور نے کئی ایک دیئے ہیں ، ایک تو یہ کہ ف ترتیب پر دلالت کرتی ہے ، آیت کے الفاظ میں نماز پڑھنے والے کو منہ دھونے کا حکم لفظ فَاغْسِلُوا سے ہوتا ہے۔ تو کم از کم منہ کا اول اول دھونا تو لفظوں سے ثابت ہو گیا اب اس کے بعد کے اعضاء میں ترتیب اجماع سے ثابت ہے جس میں اختلاف نظر نہیں آتا۔

پھر جبکہ ف جو تعقیب کیلئے ہے اور جو ترتیب کی مقتضی ہے ایک پر داخل ہو چکی تو اس ایک کی ترتیب مانتے ہوئے دوسری کی ترتیب کا انکار کوئی نہیں کرتا بلکہ تو سب کی ترتیب کے قائل ہیں یا کسی ایک کی بھی ترتیب کے قائل نہیں۔ پس یہ آیت ان پر یقینا ًحجت ہے جو سرے سے ترتیب کے منکر ہیں ،

 دوسرا جواب یہ ہے کہ واؤ ترتیب پر دلالت نہیں کرتا اسے بھی ہم تسلیم نہیں کرتے بلکہ وہ ترتیب پر دلالت کرتا ہے جیسے کہ نحویوں کی ایک جماعت کا اور بعض فقہاء کا مذہب ہے

 پھر یہ چیز بھی قابل غور ہے کہ بالفرض لغتاً اس کی دلالت پر ترتیب پر نہ بھی ہوتا ہم شرعاً تو جن چیزوں میں ترتیب ہو سکتی ہے ان میں اس کی دلالت ترتیب پر ہوتی ہے ، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کر کے باب صفا سے نکلے تو آپ آیت إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ (۲:۱۵۸) کی تلاوت کر رہے تھے اور فرمایا میں اسی سے شروع کروں گا جسے اللہ نے پہلے بیان فرمایا ، چنانچہ صفا سے سعی شروع کی ،

نسائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم دینا بھی مروی ہے:

 اس سے شروع کرو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا۔

 اس کی اسناد بھی صحیح ہے اور اس میں امر ہے

 پس معلوم ہوا کہ جس کا ذکر پہلے ہو اسے پہلے کرنا اور اس کے بعد اسے جس کا ذکر بعد میں ہو کرنا واجب ہے۔ پس صاف ثابت ہو گیا کہ ایسے مواقع پر شرعاً ترتیب مراد ہوتی ہے۔ واللہ اعلم ،

 تیسری جماعت جواباً کہتی ہے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونے کے حکم اور پیروں کو دھونے کے حکم کے درمیان سر کے مسح کے حکم کو بیان کرنا اس امر کی صاف دلیل ہے کہ مراد ترتیب کو باقی رکھنا ہے ، ورنہ نظم کلام کو یوں الٹ پلٹ نہ کیا جاتا۔

 ایک جواب اس کا یہ بھی ہے کہ ابو داؤد میں صحیح سند سے مروی ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھو کر وضو کیا پھر فرمایا یہ وضو ہے کہ جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نے نماز کو قبول نہیں کرتا۔

اب دو صورتیں ہیں یا تو اس وضو میں ترتیب تھی یا نہ تھی؟

 اگر کہا جائے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وضو مرتب تھا یعنی باقاعدہ ایک کے پیچھے ایک عضو دھویا تھا تو معلوم ہوا کہ جس وضو میں تقدیم تاخیر ہو اور صحیح طور پر ترتیب نہ ہو وہ نماز نامقبول لہذا ترتیب واجب و فرض اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس وضو میں ترتیب نہ تھی بلکہ بےترتیب تھا ، پیر دھو لئے پھر کلی کر لی پھر مسح کر لیا پھر منہ دھو لیا وغیرہ تو عدم ترتیب واجب ہو جائے گی حالانکہ اس کا قائل اُمت میں سے ایک بھی نہیں پس ثابت ہو گیا کہ وضو میں ترتیب فرض ہے ،

 آیت کے اس جملے کی ایک قرأت اور بھی ہے أَرْجُلِكُمْ لام کے زیر سے اور اسی سے شیعہ نے اپنے اس قول کی دلیل لی ہے کہ پیروں پر مسح کرنا واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عطف سر کے مسح کرنے پر ہے۔

بعض سلف سے بھی کچھ ایسے اقوال مروی ہیں جن سے مسح کے قول کا وہم پڑتا ہے ، چنانچہ ابن جریر میں ہے:

موسیٰ بن انس نے حضرت انسؓ سے لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ حجاج نے اہواز میں خطبہ دیتے ہوئے طہارت اور وضو کے احکام میں کہا کہ منہ ہاتھ دھوؤ اور سر کا مسح کرو اور پیروں کو دھویا کرو عموماً پیروں پر ہی گندگی لگتی ہے۔ پس تلوؤں کو اور پیروں کی پشت کو اور ایڑی کو خوب اچھی طرح دھویا کرو۔

حضرت انسؓ نے جواباً کہا کہ اللہ سچا ہے اور حجاج چھوٹا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ

 اور حضرت انسؓ  کی عادت تھی کہ پیروں کا جب مسح کرتے انہیں بالکل بھگو لیا کرتے ،

 آپ ہی سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں پیروں پر مسح کرنے کا حکم ہے ، ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پیروں کا دھونا ہے۔

ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ وضو میں دو چیزوں کا دھونا ہے اور دو پر مسح کرنا۔

حضرت قتادہؓ سے بھی یہی مروی ہے۔

 ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ آیت میں پیروں پر مسح کرنے کا بیان ہے۔ابن عمر ، علقمہ ، ابو جعفر ، محمد بن علی اور ایک روایت میں حضرت حسن اور جابر بن زید اور ایک روایت میں مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

حضرت عکرمہ اپنے پیروں پر مسح کر لیا کرتے تھے

شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل کی معرفت مسح کا حکم نازل ہوا ہے ،

 آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن چیزوں کے دھونے کا حکم تھا ان پر تو تیمم کے وقت مسح کا حکم رہا اور جن چیزوں پر مسح کا حکم تھا تیمم کے وقت انہیں چھوڑ دیا گیا

عامر سے کسی نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں حضرت جبرائیل پیروں کے دھونے کا حکم لائے ہیں

 آپ نے فرمایا جبرائیل مسح کے حکم کے ساتھ نازل ہوئے تھے۔

 پس یہ سب آثار بالکل غریب ہیں اور محمول ہیں اس امر پر کہ مراد مسح سے ان بزرگوں کی ہلکا دھونا ہے ، کیونکہ سنت سے صاف ثابت ہے کہ پیروں کا دھونا واجب ہے ،

یاد رہے کہ زیر کی قرأت یا تو مجاورت اور تناسب کلام کی وجہ سے ہے جیسے عرب کا کلام حجر ضب خرب میں اور اللہ کے کلام آیت عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ (۷۶:۲۱) میں لغت میں عرب میں پاس ہونے کی وجہ سے دونوں لفظوں کو ایک ہی اعراب دے دینا یہ اکثر پایا گیا ہے۔

حضرت امام شافعی نے اس کی ایک توجیہہ یہ بھی بیان کی ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب پیروں پر جرابیں ہوں

بعض کہتے ہیں مراد مسح سے ہلکا دھو لینا ہے جیسے کہ بعض روایتوں میں سنت سے ثابت ہے۔

 الغرض پیروں کا دھونا فرض ہے جس کے بغیر وضو نہ ہوگا۔ آیت بھی یہی ہے اور احادیث میں بھی یہی ہے جیسے کہ اب ہم انہیں وارد کریں گے ، انشاء اللہ تعالیٰ

بیہقی میں ہے :

حضرت علی ؓ ظہر کی نماز کے بعد بیٹھک میں بیٹھے رہے پھر پانی منگوایا اور ایک چلو سے منہ کا ، دونوں ہاتھوں سر کا اور دونوں پیروں کا مسح کیا اور کھڑے ہو کر بچا ہوا پانی پی لیا

 پھر فرمانے لگے کہ لوگ کھڑے کھڑے پانی پینے کو مکروہ کہتے ہیں اور میں نے جو کیا یہی کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور فرمایا یہ وضو ہے اس کا جو بےوضو نہ ہوا ہو (بخاری)

شیعوں میں جن لوگوں نے پیروں کو مسح اسی طرح قرار دیا جس طرح جرابوں پر مسح کرتے ہیں ان لوگوں نے یقیناً غلطی کی اور لوگوں کو گمراہی میں ڈالا۔اسی طرح وہ لوگ بھی خطا کار ہیں جو مسح اور دھونا دونوں کو جائز قرار دیتے ہیں

 اور جن لوگوں نے امام ابن جریر کی نسبت یہ خیال کیا ہے کہ انہوں نے احادیث کی بنا پر پیروں کے دھونے کو اور آیت قرآنی کی بنا پر پیروں کے مسح کو فرض قرار دیا ہے۔ ان کی تحقیق بھی صحیح نہیں ، تفسیر ابن جریر ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے :

پیروں کو رگڑنا واجب ہے اور اعضاء میں یہ واجب نہیں کیونکہ پیر زمین کی مٹی وغیرہ سے رگڑتے رہتے ہیں تو ان کو دھونا ضروری ہے تا کہ جو کچھ لگا ہو ہٹ جائے

 لیکن اس رگڑنے کیلئے مسح کا لفظ لائے ہیں اور اسی سے بعض لوگوں کو شبہ ہو گیا ہے اور وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مسح اور غسل جمع کر دیا ہے حالانکہ دراصل اس کے کچھ معنی ہی نہیں ہوتے مسح تو غسل میں داخل ہے چاہے مقدم ہو چاہے مؤخر ہو پس حقیقتاً امام صاحب کا ارادہ یہی ہے جو میں نے ذکر کیا اور اس کو نہ سمجھ کر اکثر فقہاء نے اسے مشکل جان لیا ، میں نے مکرر غورو فکر کیا تو مجھ پر صاف طور سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امام صاحب دونوں قرأتوں کو جمع کرنا چاہتے ہیں پس زیر کی قرأت یعنی مسح کو تو وہ محمول کرتے ہیں دلک پر یعنی اچھی طرح مل رگڑ کر صاف کرنے پر اور زبر کی قرأت کو غسل پر یعنی دھونے پر دلیل ہے ہی پس وہ دھونے اور ملنے دونوں کو واجب کہتے ہیں تا کہ زیر اور زبر کی دونوں قرأتوں پر ایک ساتھ ہو جائے

اب ان احادیث کو سنئے جن میں پیروں کے دھونے کا اور پیروں کے دھونے کے ضروری ہونے کا ذکر ہے

امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفانؓ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابو طالبؓ حضرت ابن عباسؓ حضرت معاویہ ؓحضرت عبداللہ بن زید عاصم ؓحضرت مقداد بن معدی کربؓ کی روایات پہلے بیان ہو چکی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنے پیروں کو دھویا ، ایک بار یا دو بار یا تین بار ،

عمرو بن شعیب کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں پیر دھوئے پھر فرمایا یہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتا۔

بخاری و مسلم میں ہے:

ایک مرتبہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے تھے جب آپ آئے تو ہم جلدی جلدی وضو کر رہے تھے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت کافی دیر سے ہو چکا تھا ہم نے جلدی جلدی اپنے پیروں پر چھوا چھوئی شروع کر دی تو آپ نے بہت بلند آواز سے فرمایا:

 وضو کو کامل اور پورا کرو ایڑیوں کو خرابی سے آگ کے لگنے سے ،

 ایک اور حدیث میں ہے:

ویل ہے ایڑیوں کیلئے اور تلووں کیلئے آگ سے (بیہقی و حاکم)

اور روایت میں ہے ٹخنوں کو ویل ہے آگ سے (مسند امام احمد)

ایک شخص کے پیر میں ایک درہم کے برابر جگہ بےدھلی دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خرابی ہے ایڑیوں کےلئے آگ سے (مسند)

ابن ماجہ میں ہے کہ کچھ لوگوں کو وضو کرتے ہوئے دیکھ کر جن کی ایڑیوں پر اچھی طرح پانی نہیں پہنچا تھا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان ایڑیوں کو آگ سے خرابی ہو گی ،

مسند احمد میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ وارد ہیں۔

 ابن جریر میں دو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان الفاظ کو کہنا وارد ہے

راوی حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں پھر تو مسجد میں ایک بھی شریف و وضیع ایسا نہ رہا جو اپنی ایڑیوں کو بار بار دھو کر نہ دیکھتا ہو

 اور روایت میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کی ایڑی یا ٹخنے میں بقدر نیم درہم کے چمڑی خشک رہ گئی تھی تو یہی فرمایا پھر تو یہ حالت تھی کہ اگر ذرا سی جگہ پیر کی کسی خشک رہ جاتی تو وہ پورا وضو پھر سے کرتا ،

پس ان احادیث سے کھلم کھلا ظاہر ہے کہ پیرو کا دھونا فرض ہے ، اگر ان کا مسح فرض ہوتا تو ذرا سی جگہ کے خشک رہ جانے پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وعید سے اور وہ بھی جہنم کی آگ کی وعید سے نہ ڈراتے ، اس لئے کہ مسح میں ذرا ذرا اسی جگہ پر ہاتھ کا پہنچانا داخل ہی نہیں۔ بلکہ پھر تو پیر کے مسح کی وہی صورت ہوتی ہے جو پیر کے اوپر جراب ہونے کی صورت میں مسح کی صورت ہے۔ یہی چیز امام ابن جریر نے شیعوں کے مقابلہ میں پیش کی ہے۔

صحیح مسلم شریف میں ہے:

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اس کا پیر کسی جگہ سے ناخن کے برابر دھلا نہیں خشک رہ گیا تو آپ نے فرمایا لوٹ جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔

بیہقی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے ،

 مسند میں ہے:

 ایک نمازی کو آپ نے نماز میں دیکھا کہ اس کے پیر میں بقدر درہم کے جگہ خشک رہ گئی ہے تو اسے وضو لوٹانے کا حکم کیا۔

حضرت عثمان ؓسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا وضو کا طریقہ جو مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے انگلیوں کے درمیان خلال بھی کیا۔

سنن میں ہے حضرت صبرہ ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کی نسبت دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا :

وضو کامل اور اچھا کرو انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی اچھی طرح دو   ہاں روزے کی حالت میں ہو تو اور بات ہے ،

مسند و مسلم میں ہے کہ حضرت عمرو بن عنبسہ کہتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے وضو کی بابت خبر دیجئے

 آپ ﷺنے فرمایا

-          جو شخص وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی دیتا ہے اسکے منہ سے نتھنوں سے پانی کے ساتھ ہی خطائیں جھڑ جاتی ہیں

-           جبکہ وہ ناک جھاڑتا ہے پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کے منہ کی خطائیں داڑھی اور داڑھی کے بالوں سے پانی کے گرنے کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں

-           پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے کہنیوں سمیت تو اس کے ہاتھوں کو گناہ اس کی پوریوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں ،

-           پھر وہ مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی خطائیں اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ ہی جھڑ جاتی ہیں

-          پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت حکم الہٰی کے مطابق دھوتا ہے تو انگلیوں سے پانی ٹپکنے کے ساتھ ہی اس کے پیروں کے گناہ بھی دور ہو جاتے ہیں ،

-          پھر وہ کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کے لائق جو حمد وثنا ہے اسے بیان کر کے دو رکعت نماز جب ادا کرتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے وہ تولد ہوا ہو۔

یہ سن کر حضرت ابو امامہ نے حضرت عمرو بن عنبسہ سے کہا خوب غور کیجئے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے اسی طرح سنا ہے؟

کیا یہ سب کچھ ایک ہی مقام میں انسان حاصل کر لیتا ہے؟

حضرت عمرو نے جواب دیا کہ ابو امامہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، میری ہڈیاں ضعیف ہو چکی ہیں ، میری موت قریب آپہنچی ہے ، مجھے کیا فائدہ جو میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں ، ایک دفعہ نہیں ، دو دفعہ نہیں ، تین دفعہ نہیں ، میں نے تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سات بار بلکہ اس سے بھی زیادہ سنا ہے ،

 اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے۔

صحیح مسلم کی دوسری سند والی حدیث میں ہے پھر وہ اپنے دونوں پاؤں کو دھوتا ہے جیسا کہ اللہ نے اسے حکم دیا ہے۔

 پس صاف ثابت ہوا کہ قرآن حکیم کا حکم پیروں کے دھونے کا ہے۔

 ابو اسحاق سبیعی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بواسطہ حضرت حارث سے مروی ہے  کہ  آپ نے فرمایا دونوں پاؤں ٹخوں سمیت دھوؤ جیسے کہ تم حکم کئے گئے ہو

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس روایت میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں قدم جوتی میں ہی بھگو لئے اس سے مراد جوتیوں میں ہی ہلکا دھونا ہے اور چپل جوتی پیر میں ہوتے ہوئے پیر دھل سکتا ہے

غرض یہ حدیث بھی دھونے کی دلیل ہے البتہ اس سے ان وسواسی اور وہمی لوگوں کی تردید ہے جو حد سے گزر جاتے ہیں ،

 اسی طرح وہ دوسری حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کے کوڑا ڈالنے کی جگہ پر پیشاب کیا پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کر لیا ،

لیکن یہی حدیث دوسری سندوں سے مروی ہے اور ان میں سے کہ آپ نے اپنی جرابوں پر مسح کیا اور ان میں مطابقت کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جرابیں پیروں میں تھیں اور ان پر نعلین تھے اور ان دونوں پر آپ نے مسح کر لیا۔ یہی مطلب اس حدیث کا بھی ہے ،

 مسند احمد میں اوس ابو اوس ؓسے مروی ہے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دیکھتے ہوئے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا اور نماز کیلئے کھڑے ہو گئے ،

یہی روایت دوسری سند سے مروی ہے اس میں آپ کا کوڑے پر پیشاب کرنا پھر وضو کرنا اور اس میں نعلین اور دونوں قدموں پر مسح کرنا مذکور ہے ، امام ابن جریر اسے بیان کرتے ہیں ، پھر فرمایا ہے کہ یہ محمول اس پر ہے کہ اس وقت آپ کا پہلا وضو تھا

بھلا کوئی مسلمان یہ کیسے قبول کر سکتا ہے کہ اللہ کے فریضے میں اور پیغمبر کی سنت میں تعارض ہو اللہ کچھ فرمائے اور پیغمبر کچھ اور ہی کریں؟

 پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمیشہ کے فعل سے وضو میں پیروں کے دھونے کی فرضیت ثابت ہے

 اور آیت کا صحیح مطلب بھی یہ ہے جس کے کانوں تک یہ دلیلیں پہنچ جائیں اس پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی۔ چونکہ زیر کی قرأت سے پیروں کا دھونا اور زیر کی قرأت کا بھی اسی پر محمول ہونا فرضیت کا قطعی ثبوت ہے

 اس سے بعض سلف تو یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اس آیت سے جرابوں کا مسح ہی منسوخ ہے ، گو ایک روایت حضرت علی ؓسے بھی ایسی مروی ہے لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں بلکہ خود آپ سے صحت کے ساتھ اس کے خلاف ثابت ہے اور جن کا بھی یہ قول ہے ان کا یہ خیال صحیح نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔

 مسند احمد میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کا قول ہے کہ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد ہی میں مسلمان ہوا اور اپنے اسلام کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جرابوں پر مسح کرتے دیکھا۔

بخاری و مسلم میں ہے:

 حضرت جریر نے پیشاب کیا پھر وضو کرتے ہوئے اپنی جرابوں پر مسح کیا

 ان سے پوچھا گیا کہ آپ ایسا کرتے ہیں؟

تو فرمایا یہی کرتے ہوئے میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔

 راوی حدیث حضرت ابراہیم فرماتے ہیں لوگوں کو یہ حدیث بہت اچھی لگتی تھی اس لئے کہ حضرت جریر کا اسلام لانا سورہ مائدہ کے نازل ہو چکنے کے بعد کا تھا۔

 احکام کی بڑی بڑی کتابوں میں تواتر کے ساتھ حضور ﷺکے قول و فعل سے جرابوں پر مسح کرنا ثابت ہے۔

 اب مسح کی مدت ہے یا نہیں؟

اس کے ذکر کی یہ جگہ نہیں احکام کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے ،

 رافضیوں نے اس میں بھی گمراہی اختیار کی ہے۔ خود حضرت علیؓ کی روایت سے صحیح مسلم میں یہ ثابت ہے ، لیکن روافض اسے نہیں مانتے ، جیسے کہ حضرت علیؓ کی ہی روایت سے بخاری مسلم میں نکاح متعہ کی ممانعت ثابت ہے لیکن تاہم شیعہ اسے مباح قرار دیتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہ آیت کریمہ دونوں پیروں کے دھونے پر صاف دلالت کرتی ہے اور یہی امر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا متواتر احادیث سے ثابت ہے لیکن شیعہ جماعت اس کی بھی مخالف ہے۔ فی الواقع ان مسائل میں ان کے ہاتھ دلیل سے بالکل خالی ہیں۔ وللہ الحمد۔

 اسی طرح ان لوگوں نے آیت کا اور سلف صالحین کا مسح کے بارے میں بھی الٹ مفہوم لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قدم کی پشت ابھار کعبین ہے پس ان کے نزدیک ہر قدم میں ایک ہی کعب یعنی ٹخنہ ہے اور جمہور کے نزدیک ٹخنے کی وہ ہڈیاں جو پنڈلی اور قدم کے درمیان ابھری ہوئی ہیں اور وہ کعبین ہیں۔

 امام شافعی کا فرمان ہے کہ جن کعبین کا یہاں ذکر ہے یہ ٹخنے کی دو ہڈیاں ہیں جو ادھر ادھر قدرے ظاہر دونوں طرف ہیں ، ایک ہی قدم میں کعبین ہیں

لوگوں کے عرض میں بھی یہی ہے اور حدیث کی دلالت بھی اسی پر ہے۔

 بخاری مسلم میں ہے:

حضرت عثمانؓ نے وضو کرتے ہوئے اپنے داہنے پاؤں کو کعبین سمیت دھویا پھر بائیں کو بھی اسی طرح۔

بخاری میں تعلیقاً بصیغہ جزم اور صحیح ابن خزیمہ میں اور سنن ابی داؤد میں ہے:

 ہماری طرف متوجہ ہو کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی صفیں ٹھیک ٹھیک درست کر لو تین بار یہ فرما کر فرمایا قسم اللہ کی یا تو تم اپنی صفوں کو پوری طرح درست کرو گے یا اللہ تمہارے دلوں میں مخالفت ڈال دے گا۔

حضرت نعمان بن بشیر راوی حدیث فرماتے ہیں پھر تو یہ ہو گیا کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ اور گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا ملا لیا کرتا تھا۔

 اس روایت سے صاف معلوم ہو گیا کہ کعبین اس ہڈی کا نام نہیں جو قدم کی پشت کی طرف ہے کیونکہ اس کا ملانا دو پاس پاس کے شخصوں میں ممکن نہیں بلکہ وہی دو ابھری ہوئی ہڈیاں ہیں جو پنڈلی کے خاتمے پر ہیں اور یہی مذہب اہلسنت کا ہے۔

 ابن ابی حاتم میں یحییٰ بن حارث تیمی سے منقول ہے  کہ زید کے جو ساتھی شیعہ قتل کئے گئے تھے انہیں میں نے دیکھا تو ان کا ٹخنہ قدم کی پشت پر پایا انہیں قدرتی سزا تھی جو ان کی موت کے بعد ظاہر کی گئی اور مخالفت حق اور کتمان حق کا بدلہ دیا گیا۔

وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ ۚ

ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم سے کوئی حاجت ضروری فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو

یہاں تیمم کی صورتیں اور تیمم کا طریقہ بیان ہوا ہے اس کی پوری تفسیر سورہ نساء میں گزر چکی ہے لہذا یہاں بیان نہیں کی جاتی۔آیت تیمم کا شان نزول بھی وہیں بیان کر دیا گیا ہے۔ لیکن امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاریؒ نے اس آیت کے متعلق خاصتًا ایک حدیث وارد کی ہے اسے سن لیجئے :

حضرت عائشہ صدیقہؓ ام المؤمنین کا بیان ہے کہ میرے گلے کا ہار بیداء میں گر گیا ہم مدینہ میں داخل ہونے والے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری روکی اور میری گود میں سر رکھ کر سو گئے اتنے میں میرے والد حضرت ابوبکر صدیق ؓمیرے پاس تشریف لائے اور مجھ پر بگڑنے لگے کہ تو نے ہار کھو کر لوگوں کو روک دیا اور مجھے کچو کے مارنے لگے۔ جس سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند میں خلل اندازی نہ ہو ، اس خیال سے میں ہلی جلی نہیں ،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب جاگے اور صبح کی نماز کا وقت ہو گیا اور پانی کی تلاش کی گئی تو پانی نہ ملا ، اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی۔

حضرت اسید بن حفیر کہنے لگے اے آل ابوبکر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کیلئے تمہیں بابرکت بنا دیا ہے تم ان کیلئے سرتاپا برکت ہو۔

مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ

اللہ تعالیٰ تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ تم پر حرج ڈالنا نہیں چاہتا اسی لئے اپنے دین کو سہل آسان اور ہلکا کر دیا ہے۔ بوجھل سخت اور مشکل نہیں۔حکم تو اس کا یہ تھا کہ پانی سے وضو کرو لیکن جب میسر نہ ہو یا بیماری ہو تو تمہیں تیمم کرنے کی رخصت عطا فرماتا ہے ، باقی احکام احکام کی کتابوں میں ملاحظہ ہوں۔

وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۶)

بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔‏

بلکہ اللہ کی چاہت یہ ہے کہ تمہیں پاک صاف کر دے اور تمہیں پوری پوری نعمتیں عطا فرمائے تا کہ تم اس کی رحمتوں پر اس کی شکر گزاری کرو اس کی توسیع احکام اور رأفت و رحمت آسانی اور رخصت پر اس کا احسان مانو۔

 وضو کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے جو گویا اس آیت کے ماتحت ہے۔

 مسند ، سنن اور صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے:

 ہم باری باری اونٹوں کو چرایا کرتے تھے میں اپنی باری والی رات عشاء کے وقت چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں سے کچھ فرما رہے ہیں میں بھی پہنچ گیا اس وقت میں نے آپ سے یہ سنا :

 جو مسلمان اچھی طرح وضو کر کے دلی توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز ادا کرے اس کیلئے جنت واجب ہے۔

میں نے کہا واہ واہ یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میری یہ بات سن کر ایک صاحب نے جو میرے آگے ہی بیٹھے تھے فرمایا اس سے پہلے جو بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے وہ اس سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ میں نے جو غور سے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروقؓ تھے آپ مجھ سے فرمانے لگے تم ابھی آئے ہو ، تمہارے آنے سے پہلے حضور ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص عمدگی اور اچھائی سے وضو کرے پھر کہے :

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ

اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس میں سے چاہے داخل ہو۔

 ایک اور روایت میں ہے:

 جب ایمان و اسلام والا وضو کرنے بیٹھتا ہے اس کے منہ دھوتے ہوئے اس کی آنکھوں کی تمام خطائیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ جھڑ جاتی ہے ہیں اسی طرح ہاتھوں کے دھونے کے وقت ہاتھوں کی تمام خطائیں اور اسی طرح پیروں کے دھونے کے وقت پیروں کی تمام خطائیں دھل جاتی ہیں وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف ہو جاتا ہے۔

 ابن جریر میں ہے  کہ جو شخص وضو کرتے ہوئے جب اپنے ہاتھ یا بازوؤں کو دھوتا ہے تو ان سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں ، منہ کو دھوتے وقت منہ کے گناہ الگ ہو جاتے ہیں ، سر کا مسح سر کے گناہ جھاڑ دیتا ہے پیر کا دھونا ان کے گناہ دھو دیتا ہے۔

 دوسری سند میں سر کے مسح کا ذکر نہیں۔

 ابن جریر میں ہے  کہ جو شخص اچھی طرح وضو کر کے نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہے اس کے کانوں سے آنکھوں سے ہاتھوں سے پاؤں سے سب گناہ الگ ہو جاتے ہیں۔

 صحیح مسلم شریف میں ہے:

 وضو آدھا ایمان ہے ، الحمد للہ کہنے سے نیکی کا پلڑا بھر جاتا ہے۔ قرآن یا تو تیری موافقت میں دلیل ہے یا تیرے خلاف دلیل ہے ، ہر شخص صبح ہی صبح اپنے نفس کی فروخت کرتا ہے پس یا تو اپنے تئیں آزاد کرا لیتا ہے یا ہلاک کر لیتا ہے

 اور حدیث میں ہے:

مال حرام کا صدقہ اللہ قبول نہیں فرماتا اور بےوضو کی نماز بھی غیر مقبول ہے (صحیح مسلم)

یہ روایت ابو داؤد ، طیالسی ، مسند احمد ، ابو داؤد نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔

وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُمْ بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ

تم پر اللہ کی نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور اسکے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہدہ ہوا ہے جبکہ تم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو،

اس دین عظیم اور اس رسول کریم کو بھیج کر جو احسان اللہ تعالیٰ نے اس اُمت پر کیا ہے ، اسے یاد دلا رہا ہے اور اس عہد پر مضبوط رہنے کی ہدایت کر رہا ہے جو مسلمانوں نے اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری اور امداد کرنے ، دین پر قائم رہنے ، اسے قبول کر لینے ، اسے دوسروں تک پہنچانے کیلئے کیا ہے ،

 اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مؤمن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا ، چنانچہ صحابہؓ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی :

ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے ، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے ، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے۔

باری تعالیٰ عزوجل کا ارشاد ہے:

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (۵۷:۸)

تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ حالانکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہےاور اگر تم مؤمن ہو تو وہ تم سے مضبوط عہد و پیمان بھی لے چکا ہے ۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں ، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدمؑ   کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا ، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں ،

لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے ،سدی اور ابن عباسؓ سے وہی مروی ہے اور ابن جریر نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔

ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہئے۔

إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۷)

 یقیناً   اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔‏

دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ

اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ

ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔

بخاری و مسلم میں حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے:

میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دے رکھا تھا ، میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا کہ میں تو اس وقت تک مطمئن نہیں ہونے لگی جب تک کہ تم اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لو ،

 میرے باپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے واقعہ بیان کیا تو آپﷺ نے دریافت فرمایا کیا اپنی دوسری اولاد کو بھی ایسا ہی عطیہ دیا ہے؟

جواب دیا کہ نہیں تو آپ ﷺنے فرمایا اللہ سے ڈرو ، اپنی اولاد میں عدل کیا کرو ، جاؤ میں کسی ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔

چنانچہ میرے باپ نے وہ صدقہ لوٹا لیا ،

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ

کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے

پھر فرمایا دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آکر عدل سے نہ ہٹ جانا۔

اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ۖ

عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے،

دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہئے ، تقویٰ سے زیادہ قریب یہی ہے ،

 هُوَ کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظیریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی ، جیسے قرآن میں اور جگہ ہے:

وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ (۲۴:۲۸)

اور اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزہ ہے

پس یہاں هُوَ کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں ، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا اسی طرح مندرجہ بالا آیت میں یعنی عدل کرنا۔

یہ بھی یاد رہے کہ یہاں پر أَقْرَبُ افعل التفضیل کا صیغہ ایسے موقعہ پر ہے کہ دوسری جانب اور کوئی چیز نہیں ، جیسے اس آیت میں ہے:

أَصْحَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا (۲۵:۲۴)

 البتہ اس دن جنتیوں کا ٹھکانا بہتر ہوگا اور خواب گاہ بھی عمدہ ہوگی

اور جیسے کہ کسی صحابیہ کا حضرت عمر ؓسے کہنا کہ انت واغلظ من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (۸)

اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔‏

اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے ، خیرو شر کا پورا پورا بدلہ دے گا۔

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ (۹)

اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر اور ثواب ہے۔‏

ہر وہ ایمان والوں ، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔

گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فضل الہٰی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔

پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (۱۰)

جن لوگوں نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھٹلایا وہ دوزخی ہیں۔‏

حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو احسان تم پر کیا ہے اسے یاد کرو جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو

پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے ، جس کی تفصیل یہ ہے ، حضرت جابر ؓفرماتے ہیں:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے ، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے آپ نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آکر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟

 آپ ﷺنے فوراً جواب دیا کہ اللہ عزوجل ،

 اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا ،

تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی ،

 اب آپ ﷺنے صحابہؓ  کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا ، اعرابی اس وقت بھی موجود تھا ، لیکن آپ نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا۔

قتادہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے دھوکے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنا چاہا تھا اور انہوں نے اس اعرابی کو آپ کی گھات میں بھیجا تھا لیکن اللہ نے اسے ناکام اور نامراد رکھا فالحمدللہ۔

 اس اعرابی کا نام صحیح احادیث میں غوث بن حارث آیا ہے۔

 ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ یہودیوں نے آپ کو اور آپ کے صحابہؓ کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کر دی ، لیکن اللہ نے آپ کو آگاہ کر دیا اور آپ بچ رہے ،

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا۔

ابن اسحاق کہتے ہیں:

 اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا ، آپ مع اپنے صحابہؓ کے وہیں سے پلٹ گئے ، اسی کا ذکر اس آیت میں ہے ،

وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (۱۱)

 اور مؤمنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔‏

مؤمنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے جو کفایت کرنے والا ، حفاظت کرنے والا ہے۔

 اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے ، محاصرہ کیا ، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔

وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ

اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیماں لیا اور انہی میں سے بارہ سردار ہم نے مقرر فرمائے

اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مؤمن بندوں کو عہد و پیمان کی وفاداری کا ، حق پر مستقیم رہنے کا اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا ، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے ،

پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا ، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔

 ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔

حضرت موسیٰ جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔

-          اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا ،

-           شمعونیوں کا سردار شافاط بن جدی ،

-          یہودا کا کالب بن یوحنا ،

-          فیخائیل کا ابن یوسف

-           افرایم کا یوشع بن نون

-          بنیامین کے قبیلے کا سردار قنطمی بن وفون ،

-          زبولون کا جدی بن شوری ،

-          منشاء کاجدی بن سوسی ،

-           دان حملاسل کا ابن حمل ،

-          اشار کا ساطور ،

-          تفتای کا بحر

-          اور یاسخر کالابل۔

توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم

موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔

-          بنو ادبیل پر صونی بن سادون ،

-          بنی شمعون پر شموال بن صور ،

-          بنو یہود پر حشون بن عمیاذب ،

-          بنو یساخر پر شال بن صاعون ،

-           بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب ،

-          بنو افرایم پر منشا بن عنہور ،

-          بنو منشاء پر حمائیل