Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Nahl

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


 

أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ

اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا، اب اس کی جلدی نہ مچاؤ

اللہ تعالیٰ قیامت کی نزد یکی کی خبر دے رہا ہے اور گو یا کہ وہ قائم ہو چکی ۔ اس لئے ماضی کے لفظ سے بیان فرماتا ہے

 جیسے فرمان ہے :

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَـبُهُمْ وَهُمْ فِى غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ (۲۱:۱)

لوگوں کا حساب قریب آچکا پھر بھی وہ غفلت کے ساتھ منہ موڑے ہوئے ہیں ۔

اور آیت میں ہے:

اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ (۵۴:۱)

قیامت آچکی ۔ چاند پھٹ گیا ۔

 پھر فرمایا اس قریب والی چیز کے اور قریب ہونے کی تمنائیں نہ کرو ۔

 ہ کی ضمیر کا مر جع یا تو لفظ اللہ ہے یعنی اللہ سے جلدی نہ چاہو یا عذاب ہیں یعنی عذابوں کی جلدی نہ مچاؤ۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے لازم ملزوم ہیں ۔

 جیسے اور آیت میں ہے:

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلاَ أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ ـ يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَـفِرِينَ (۲۹:۵۳،۵۴)

یہ لوگ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں مگر ہماری طرف سے اس کا وقت مقرر نہ ہوتا تو بیشک ان پر عذاب آجاتے لیکن عذاب ان پر آئے گا ضرور اور وہ بھی نا گہاں ان کی غفلت میں ۔ یہ عذابوں کی جلدی کرتے ہیں اور جہنم ان سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔

 ضحاک رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کا ایک عجیب مطلب بیان کیا ہے یعنی وہ کہتے ہیں کہ مراد ہے کہ اللہ فرائض اور حدود نازل ہو چکے ۔

 امام ابن جریر نے اسے خوب رد کیا ہے اور فرمایا ہے ایک شخص بھی تو ہمارے علم میں ایسا نہیں جس نے شریعت کے وجود سے پہلے اسے مانگنے میں عجلت کی ہو ۔

 مراد اس سے عذابوں کی جلدی ہے جو کافروں کی عادت تھی کیو نکہ وہ انہیں مانتے ہی نہ تھے ۔

جیسے قرآن پاک نے فرمایا ہے:

يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ (۴۲:۱۸)

بے ایمان تو اس کی جلدی مچا رہے ہیں اور ایما ندار ان سے لر زاں و ترساں ہیں کیو نکہ وہ انہیں برحق مانتے ہیں ۔

 بات یہ ہے کہ عذاب الہٰی میں شک کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑتے ہیں ۔

 ابن ابی حاتم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہے:

 قیامت کے قریب مغرب کی جانب سے ڈھال کی طرح کا سیاہ ابر نمودار ہو گا اور وہ بہت جلد آسمان پر چڑھے گا پھر اس میں سے ایک منا دی کرے گا لوگ تعجب سے ایک دو سرے سے کہیں گے میاں کچھ سنا بھی ؟

بعض ہاں کہیں گے اور بعض بات کو اڑا دیں گے

وہ پھر دوبارہ ندا کرے گا اور کہے گا اے لوگو ! اب تو سب کہیں گے کہ ہاں صاحب آواز تو آئی ۔

 پھر وہ تیسری دفعہ منادی کرے گا اور کہے گا اے لوگو امر الہٰی آ پہنچا اب جلدی نہ کرو۔

 اللہ کی قسم دو شخص جو کسی کپڑے کو پھیلائے ہوئے ہوں گے سمیٹنے بھی نہ پائیں گے جو قیامت قائم ہو جائے گی کوئی اپنے حوض کو ٹھیک کر رہا ہو گا ابھی پانی بھی پلا نہ پایا ہو گا جو قیامت آئے گی دودھ دوہنے والے پی بھی نہ سکیں گے کہ قیامت آ جائے گی ہر ایک نفسا نفسی میں لگ جائے گا ۔

سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (۱)

تمام پاکی اس کے لئے ہے وہ برتر ہے ان سب سے جنہیں یہ اللہ کے نزدیک شریک بتلاتے ہیں۔‏

 پھر اللہ تعالیٰ اپنے نفس کریم سے شرک اور عبادت غیر پاکیزگی بیان فرماتا ہے فی الواقع وہ ان تمام باتوں سے پاک بہت دور اور بہت بلند ہے یہی مشرک ہیں جو منکر قیامت بھی ہیں اللہ سجانہ و تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے ۔

يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ (۲)

وہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو۔‏

رُوح سے مراد یہاں وحی ہے

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَـبُ وَلاَ الإِيمَـنُ وَلَـكِن جَعَلْنَـهُ نُوراً نَّهْدِى بِهِ مَن نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا (۴۳:۵۲)

ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے وحی نازل فرمائی حالانکہ تجھے تو یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کی ماہیت کیا ہے ؟ ہاں ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا اپنے بندوں میں سے راستہ دکھا دیا ۔

یہاں فرمان ہے کہ ہم جن بندوں کو چاہیں پیغمبری عطا فرماتے ہیں ہمیں ہی اس کا پورا علم ہے کہ اس کے لائق کون ؟

اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ  (۶:۱۲۴)

اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے

اللَّهُ يَصْطَفِى مِنَ الْمَلَـئِكَةِ رُسُلاً وَمِنَ النَّاسِ (۲۲:۷۵)

ہم ہی فرشتوں میں سے بھی اس اعلیٰ منصب کے فرشتے چھانٹ لیتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ۔

رَفِيعُ الدَّرَجَـتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِى الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلاَقِ ـ يَوْمَ هُم بَـرِزُونَ لاَ يَخْفَى عَلَى اللَّهِ مِنْهُمْ شَىْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ  (۴۰:۱۵،۱۶)

وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن ڈرائے۔‏ جس دن سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ فقط اللہ واحد و قہار کی۔

یہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں وحدانیت رب کا اعلان کر دیں اور پارسائی سے دور مشرکوں کو ڈرائیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ مجھ سے ڈرتے رہا کریں ۔

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ

اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا

عالم علوی اور سفلی کا خالق اللہ کریم ہی ہے ۔ بلند آسمان اور پھیلی ہوئی زمین مع تمام مخلوق کے اسی کی پیدا کی ہوئی ہے اور یہ سب بطور حق ہے نہ بطور عبث۔ نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہو گی ۔

لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى (۵۳:۳۱)

تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے

 تَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (۳)

وہ اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں۔‏

وہ تمام دوسرے معبودوں اور مشرکوں سے بری اور بےزار ہے۔ واحد ہے ، لا شریک ہے ، اکیلا ہی خالق کل ہے۔ اسی لئے اکیلا ہی سزا وار عبادت ہے۔انسان حقیر و ذلیل لیکن خالق کا انتہائی نا فرمان ہے ۔

خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ (۴)

اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا ۔

اس نے انسان کا سلسلہ نطفے سے جاری رکھا ہے جو ایک پانی ہے ۔ حقیر و ذلیل یہ جب ٹھیک ٹھاک بنا دیا جاتا ہے تو اکڑفوں میں آ جاتا ہے رب سے جھگڑنے لگتا ہے رسولوں کی مخالفت پر تل جاتا ہے ۔ بندہ تھا چاہئے تو تھا کہ بندگی میں لگا رہتا لیکن یہ تو زندگی کرنے لگا ۔

 اور آیت میں ہے:

وَهُوَ الَّذِى خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَراً فَجَعَلَهُ نَسَباً وَصِهْراً وَكَانَ رَبُّكَ قَدِيراً ـ وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لاَ يَنفَعُهُمْ وَلاَ يَضُرُّهُمْ وَكَانَ الْكَـفِرُ عَلَى رَبِّهِ ظَهِيراً (۲۵:۵۴،۵۵)

وہ جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والا کر دیا بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے۔‏ یہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو انہیں کوئی نفع دے سکیں نہ کوئی نقصان پہنچا سکیں، اور کافر تو ہے ہی اپنے رب کے خلاف (شیطان کی) مدد کرنے والا۔‏

سورہ یٰسین میں فرمایا :

أَوَلَمْ يَرَ الإِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ ـ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ ـ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ (۳۶:۷۷،۷۹)

کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا۔‏ اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان کی گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے؟‏ آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے اول مرتبہ پیدا کیا ہے جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے۔‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوک کر فرمایا کہ جناب باری فرماتا ہے:

 اے انسان تو مجھے کیا عاجز کر سکتا ہے میں نے تو تجھے اس تھوک جیسی چیز سے پیدا کیا ہے

 جب تو زندگی پا گیا تنومند ہو گیا لباس مکان مل گیا تو لگا سمیٹنے اور میری راہ سے روکنے ؟

 اور جب دم گلے میں اٹکا تو تو کہنے لگا کہ اب میں صدقہ کرتا ہو ، اللہ کی راہ میں دیتا ہوں ۔ بس اب صدقہ خیرات کا وقت نکل گیا ۔

وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا ۗ لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ (۵)

اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔‏

جو چوپائے اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور انسان ان سے مختلف فائدے اٹھا رہا ہے اس نعمت کو رب العالمین فرما رہا ہے جیسے اونٹ گائے بکری ۔ جس کا مفصل بیان سورہ انعام کی آیت میں آٹھ قسموں سے کیا ہے ۔ ان کے بال اون صوف وغیرہ کا گرم لباس اور جڑاول بنتی ہے دودھ پیتے ہیں گوشت کھاتے ہیں ۔

دِفْ کے معنی کپڑا اور وَمَنَافِعُ سے مراد کھانا پینا ، نسل حاصل کرنا ، سواری کرنا ، گوشت کھانا ، دودھ پینا ہے۔

وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ (۶)

ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر لاؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی ۔

شام کو جب وہ چر چگ کر واپس آتے ہیں ، بھری ہوئی کو کھوں والے ، بھرے ہوئے تھنوں والے ، اونچی کوہانوں والے ، کتنے بھلے معلوم ہو تے ہیں اور جب چراگاہ کی طرف جاتے ہیں کیسے پیارے معلوم ہو تے ہیں

وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ ۚ

اور وہ تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم آدھی جان کیئے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔

پھر تمہارے بھاری بھاری بوجھ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اپنی کمر پر لاد کر لے جاتے ہیں کہ تمہارا وہاں پہنچنا بغیر آدھی جان کئے مشکل تھا ۔ حج و عمرہ کے، جہاد کے ، تجارت کے اور ایسے ہی اور سفر انہیں پر ہوتے ہیں تمہیں لے جاتے ہیں تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں ۔

جیسے آیت میں ہے:

وَإِنَّ لَكُمْ فِى الاٌّنْعَـمِ لَعِبْرَةً نُّسْقِيكُمْ مِّمَّا فِى بُطُونِهَا وَلَكُمْ فيِهَا مَنَـفِعُ كَثِيرَةٌ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ـ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ (۲۳:۲۱،۲۲)

کہ یہ چوپائے جانور بھی تمہاری عبرت کا باعث ہیں ان کے پیٹ ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور ان سے بہت سے فائدے پہنچاتے ہیں ان کا گوشت بھی تم کھاتے ہو ان پر سواریاں بھی کرتے ہو ۔ سمندر کی سواری کے لئے کشتیاں ہم نے بنا دی ہیں ۔

 اور آیت میں ہے:

اللَّهُ الَّذِى جَعَلَ لَكُمُ الاٌّنْعَـمَ لِتَرْكَـبُواْ مِنْهَا وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ ـ وَلَكُمْ فِيهَا مَنَـفِعُ وَلِتَـبْلُغُواْ عَلَيْهَا حَاجَةً فِى صُدُورِكُمْ وَعَلَيْهَا وَعَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُونَ ـ وَيُرِيكُمْ ءَايَـتِهِ فَأَىَّ ءَايَـتِ اللَّهِ تُنكِرُونَ (۴۰:۷۹،۸۱)

 اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے ہیں کہ تم ان پر سواری کرو انہیں کھاؤ نفع اٹھاؤ دلی حاجتیں پوری کرو اور تمہیں کشتیوں پر بھی سوار کرایا اور بہت سی نشانیاں دکھائیں پس تم ہمارے کس کس نشان کا انکار کرو گے؟

إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (۷)

یقیناً تمہارا رب بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔‏

 یہاں بھی اپنی یہ نعمتیں جتا کر فرمایا کہ تمہارا وہ رب جس کا مطیع بنا دیا ہے وہ تم پر بہت ہی شفقت و رحمت والا ہے

 جیسے سورہ یٰسین میں فرمایا :

أَوَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعـماً فَهُمْ لَهَا مَـلِكُونَ ـ وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ (۳۶:۷۱،۷۲)

کیا وہ نہیں دیکھتے ہم نے اپنے ہاتھوں بنائی ہوئی چیزوں میں سے انکے لئے چوپائے بھی پیدا کئے جنکے کہ یہ مالک ہوگئے ہیں اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کے تابع فرمان کردیا جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔‏

اور آیت میں ہے:

وَالَّذِى خَلَقَ الأَزْوَجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَالاٌّنْعَـمِ مَا تَرْكَبُونَ ـ لِتَسْتَوُواْ عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُواْ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُواْ سُبْحَـنَ الَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ ـ وَإِنَّآ إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ (۴۳:۱۲،۱۴)

جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو۔‏ تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے ہمارے بس میں کر دیا حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی۔‏ اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‏

وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (۸)

گھوڑوں کو، خچروں کو گدھوں کو اس نے پیدا کیا کہ تم ان کی سواری لو اور وہ باعث زینت بھی ہیں۔

اور بھی ایسی بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ۔

اپنی ایک اور نعمت بیان فرما رہا ہے کہ زینت کے لئے اور سواری کے لئے اس نے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے ہیں بڑا مقصد ان جانوروں کی پید ائش سے انسان کا ہی فائدہ ہے ۔ انہیں اور چوپایوں پر فضیلت دی اور علیحدہ ذکر کیا اس وجہ سے بعض علماء نے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کی دلیل اس آیت سے لی ہے۔

 جیسے امام ابوحنیفہ اور ان کی موافقت کرنے والے فقہا کہتے ہیں کہ خچر اور گدھے کے ساتھ گھوڑے کا ذکر ہے اور پہلے کے دونوں جانور حرام ہیں اس لئے یہ بھی حرام ہوا ۔ چنانچہ خچر اور گدھے کی حرمت احادیث میں آئی ہے اور اکثر علماء کا مذہب بھی ہے ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان تینوں کی حرمت آئی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :

 اس آیت سے پہلے کی آیت میں چوپایوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انہیں تو کھاتے ہو پس یہ تو ہوئے کھانے کے جانور اور ان تینوں کا بیان کر کے فرمایا کہ ان پر تم سواری کرتے ہو پس یہ ہوئے سواری کے جانور۔

مسند کی حدیث میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے خچروں کے اور گدھوں کے گوشت کو منع فرمایا ہے

لیکن اس کے راویوں میں ایک راوی صالح ابن یحییٰ بن مقدام ہیں جن میں کلام ہے ۔

 مسند کی اور حدیث میں مقدام بن معدی کرب سے منقول ہے:

 ہم حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صائقہ کی جنگ میں تھے، میرے پاس میرے ساتھی گوشت لائے ، مجھ سے ایک پتھر مانگا میں نے دیا ۔

 انہوں نے فرمایا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے لوگوں نے یہودیوں کے کھیتوں پر جلدی کر دی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ لوگوں میں ندا کر دوں کہ نماز کے لئے آ جائیں اور مسلمانوں کے سوا کوئی نہ آئے

 پھر فرمایا کہ اے لوگو تم نے یہودیوں کے باغات میں گھسنے کی جلدی کی سنو معاہدہ کا مال بغیر حق کے حلال نہیں اور پالتو گدھوں کے اور گھوڑوں کے اور خچروں کے گوشت اور ہر ایک کچلیوں والا درندہ اور ہر ایک پنجے سے شکار کھلینے والا پرندہ حرام ہے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت یہود کے باغات سے شاید اس وقت تھی جب ان سے معاہدہ ہو گیا ۔

 پس اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو بیشک گھوڑے کی حرمت کے بارے میں تو نص تھی لیکن اس میں بخاری و مسلم کی حدیث کے مقا بلے کی قوت نہیں جس میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کو منع فرما دیا اور گھوڑوں کے گوشت کی اجازت دی۔

 اور حدیث میں ہے:

 ہم نے خیبر والے دن گھوڑے اور خچر اور گدھے ذبح کئے تو ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خچر اور گدھے کے گوشت سے تو منع کر دیا لیکن گھوڑے کے گوشت سے نہیں روکا ۔

 صحیح مسلم شریف میں حضرت اسماء بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :

 ہم نے مدینے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا ۔

 پس یہ سب سے بڑی سب سے قوی اور سب سے زیادہ ثبوت والی حدیث ہے اور یہی مذہب جمہور علماء کا ہے ۔

 مالک ،شا فعی ، احمد، ان کے سب ساتھی اور اکثر سلف و کلف یہی کہتے ہیں ۔ واللہ اعلم۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے:

 پہلے گھوڑوں میں وحشت اور جنگلی پن تھا اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے اسے مطیع کر دیا ۔

 وہب نے اسرائیلی روایتوں میں بیان کیا ہے کہ جنوبی ہوا سے گھوڑے پیدا ہو تے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔

 ان تینوں جانوروں پر سواری لینے کا جواز تو قرآن کے لفظوں سے ثابت ہے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیے میں دیا گیا تھا جس پر آپ سواری کرتے تھے ہاں یہ آپ نے منع فرمایا ہے کہ گھوڑوں کو گدھیوں سے ملایا جائے۔ یہ ممانعت اس لئے ہے کہ نسل منقطع نہ ہو جائے۔

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم گھوڑے اور گدھی کے ملاپ سے خچر لیں اور آپ اس پر سوار ہوں

 آپ نے فرمایا یہ کام وہ کرتے ہیں جو علم سے کورے ہیں ۔

وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ ۚ

اور اللہ پر سیدھی راہ کا بتا دینا ہے اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں،

دنیوی راہیں طے کرنے کے اسباب بیان فرما کر اب دینی راہ چلنے کے اسباب بیان فرماتا ہے ۔ محسوسات سے معنویات کی طرف رجوع کرتا ہے قرآن میں اکثر بیانات اس قسم کے موجود ہیں سفر حج کے توشہ کا ذکر کر کے تقوے کے توشے کا جو آخرت میں کام دے بیان ہوا ہے

وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى (۲:۱۹۷)

اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے

 ظاہری لباس کا ذکر فرما کر لباس تقوی کی اچھائی بیان کی ہے

يَـبَنِى آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَرِى سَوْءَتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (۷:۲۶)

اے آدم ؑ کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوےٰ کا لباس یہ اس سے بڑھ کر

اسی طرح یہاں حیوانات سے دنیا کے کٹھن راستے اور دراز سفر طے ہونے کا بیان فرما کر آخرت کے راستے دینی راہیں بیان فرمائیں

وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ (۶:۱۵۳)

اور یہ کہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی۔

فرمایا میری طرف پہنچنے کی سیدھی راہ یہی ہے جو میں نے بتائی ہے طریق جو اللہ سے ملانے والا ہے اللہ نے ظاہر کر دیا ہے اور وہ دین اسلام ہے جسے اللہ نے واضح کر دیا ہے اور ساتھ ہی دو سرے راستوں کی گمراہی بھی بیان فرما دی ہے ۔

قَالَ هَذَا صِرَطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ (۱۵:۴۱)

ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے

 پس سچا راستہ ایک ہی ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے باقی اور راہیں غلط راہیں ہیں ، حق سے الگ تھلگ ہیں ، لوگوں کی اپنی ایجاد ہیں جیسے یہودیت نصرانیت مجوسیت وغیرہ ۔

وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ (۹)

 اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر لگا دیتا ۔‏

 پھر فرماتا ہے کہ ہدایت رب کے قبضے کی چیز ہے اگر چاہے تو روئے زمین کے لوگوں کو نیک راہ پر لگا دے زمین کے تمام باشندے مؤمن بن جائیں سب لوگ ایک ہی دین کے عامل ہو جائیں

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِى الاٌّرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا (۱۰:۴۹)

اور اگر آپ کا رب چاہتا تمام روئے زمین کے لوگ سب کے سب ایمان لے آتے

لیکن یہ اختلاف باقی ہی رہے گا مگر جس پر اللہ رحم فرمائے ۔ اسی کے لئے انہیں پیدا کیا ہے تیرے رب کی بات پوری ہو کر ہی رہے گی کہ جنت دوزخ انسان سے بھر جائے ۔

وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ ـ إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبّكَ لاَمْلاَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (۱۱:۱۱۸،۱۱۹)

اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کر دیتا۔ وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے۔‏ بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اس لئے پیدا کیا ہے، اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا

هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً ۖ لَكُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ (۱۰)

وہی تمہارے فائدے کے لئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے ہو اور اسی سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو۔‏

چوپائے اور دوسرے جانوروں کی پیدائش کا احسان بیان فرما کر مزید احسانوں کا ذکر فرماتا ہے کہ اوپر سے پانی وہی برساتا ہے جس سے تم فائدہ اٹھاتے ہو اور تمہارے فائدے کے جانور بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں میٹھا صاف شفاف خوش گوار اچھے ذائقے کا پانی تمہارے پینے کے کام آتا ہے اس کا احسان نہ ہو تو وہ کھاری اور کڑوا بنا دے

 اسی آب باراں سے درخت اُگتے ہیں اور وہ درخت تمہارے جانوروں کا چارہ بنتے ہیں ۔

 سوم کے معنی چرنے کے ہیں اسی وجہ سے ابل سائمہ چرنے والے اونٹوں کو کہتے ہیں ۔

ابن ماجہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے سے پہلے چرانے کو منع فرمایا ۔

يُنْبِتُ لَكُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّيْتُونَ وَالنَّخِيلَ وَالْأَعْنَابَ وَمِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ۗ

اسی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اُگاتا ہے

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ ایک ہی پانی سے مختلف مزے کے ، مختلف شکل و صورت کے ، مختلف خوشبو کے طرح طرح کے پھل پھول وہ تمہارے لئے پیدا کرتا ہے

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (۱۱)

بیشک ان لوگوں کے لئے تو اس میں بڑی نشانی ہے اور غور و فکر کرتے ہیں۔‏

 پس یہ سب نشانیاں ایک شخص کو اللہ کی وحدانیت جاننے کے لئے کافی ہیں اسی کا بیان اور آیتوں میں اس طرح ہوا ہے:

أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ وَأَنزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَنبَتْنَا بِهِ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنبِتُواْ شَجَرَهَا أَإِلَـهٌ مَّعَ اللَّهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ (۲۷:۶۰)

بھلا بتاؤکہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے بارونق باغات اگائے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہرگز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راہ سے)۔‏

وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِأَمْرِهِ ۗ

اسی نے رات دن اور سورج چاند کو تمہارے لئے تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اس کے حکم کے ماتحت ہیں،

اللہ تعالیٰ اپنی اور نعمتیں یاد دلاتا ہے کہ دن رات برابر تمہارے فائدے کے لئے آتے جاتے ہیں ۔ سورج چاند گردش میں ہیں ، ستارے چمک چمک کر تمہیں روشنی پہنچا رہے ہیں ، ہر ایک ایسا صحیح اندازہ اللہ نے مقرر کر رکھا ہے جس سے وہ نہ ادھر ادھر ہوں نہ تمہیں کوئی نقصان ہو ۔ ہر ایک رب کی قدرت میں اور اس کے غلبے تلے ہے ۔

 جیسے فرمایا:

إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِى خَلَقَ السَمَـوَتِ وَالاٌّرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِى الَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَتٍ بِأَمْرِهِ أَلاَ لَهُ الْخَلْقُ وَالاٌّمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَـلَمِينَ (۷:۵۴)

بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھہ روز میں پیدا کیا ہے پھر عرش پر قائم ہوا وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔‏

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۲)

یقیناً اس میں عقلمند لوگوں کے لئے کئی ایک نشانیاں موجود ہیں ۔

جو سوچ سمجھ رکھتا ہو اس کے لئے تو اس میں اللہ کی قدرت و سلطنت کی بڑی نشانیاں ہیں ۔

وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ۗ

اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح کے رنگ روپ کی اس نے تمہارے لئے زمین پر پھیلا رکھی ہے۔

ان آسمانی چیزوں کے بعد اب تم زمینی چیزیں دیکھو کہ حیوان ، کان، نباتات، جمادات ، وغیرہ مختلف رنگ روپ کی چیزیں بیشمار فوائد کی چیزیں اسی نے تمہارے لئے زمین پر پیدا کر رکھی ہیں ۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ (۱۳)

 بیشک نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے اس میں بڑی بھاری نشانی ہے ۔

 جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو سوچیں اور قدر کریں ان کے لئے تو یہ زبردست نشان ہے۔

وَهُوَ الَّذِي سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَأْكُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا

اور دریا بھی اس نے تمہارے بس میں کر دیئے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو

اللہ تعالیٰ اپنی اور مہربانی جتاتا ہے کہ سمندر پر دریا پر بھی اس نے تمہیں قابض کر دیا باوجود اپنی گہرائی کے اور اپنی موجوں کے وہ تمہارا تابع ہے، تمہاری کشتیاں اس میں چلتی ہیں ۔

 اسی طرح اس میں سے مچھلیاں نکال کر ان کے ترو تازہ گوشت تم کھاتے ہو مچھلی حلت کی حالت میں احرام کی حالت میں زندہ یا مردہ ہو اللہ کی طرف سے حلال ہے

لولو اور جواہر اس نے تمہارے لئے اس میں پیدا کئے ہیں جنہیں تم سہولت سے نکال لیتے ہو اور بطور زیور کے اپنے کام میں لیتے ہو

وَتَرَى الْفُلْكَ مَوَاخِرَ فِيهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۱۴)

اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں اور اس لئے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہو سکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو

پھر اس میں کشتیاں ہواؤں کو ہٹاتی پانی کو چیرتی اپنے سینوں کے بل تیرتی چلی جاتی ہیں ۔ سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کشی میں سوار ہوئے انہیں کو کشتی بنانا اللہ عالم نے سکھایا پھر لوگ برابر بناتے چلے آئے اور ان پر دریا کے لمبے لمبے سفر طے ہونے لگے اس پار کی چیزیں اس پار اور اس پار کی اس پار آنے جانے لگیں ۔

 اسی کا بیان اس میں ہے کہ تم اللہ کا فضل یعنی اپنی روزی تجارت کے ذریعہ ڈھونڈو اور اس کی نعمت و احسان کا شکر مانو اور قدر دانی کرو ۔

مسند بزار میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

 اللہ تعالیٰ نے مغربی دریا سے کہا کہ میں اپنے بندوں کو تجھ میں سوار کرنے والا ہوں تو ان کے ساتھ کیا کرے گا ؟

 اس نے کہا ڈبو دونگا

 فرمایا تیری تیزی تیرے کناروں پر ہے اور انہیں میں اپنے ہاتھ پر انہیں اٹھاؤں گا اور جس طرح ماں اپنے بچے کی خبر گیری کرتی ہے میں ان کی کرتا رہوں گا پس اسے اللہ تعالیٰ نے زیور بھی دئیے اور شکار بھی ۔

 اس حدیث کا راوی صرف عبد الرحمٰن بن عبداللہ ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

 عبداللہ بن ابی عمرو سے بھی یہ روایت مرفوعاً مروی ہے ۔

وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ وَأَنْهَارًا وَسُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (۱۵)

اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں تاکہ تمہیں لے کر ہلے نہ اور نہریں اور راہیں بنادیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو ۔

اس کے بعد زمین کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس کے ٹھہرانے اور ہلنے جلنے سے بچانے کے لئے اس پر مضبوط اور وزنی پہاڑ جما دیئے کہ اس کے ہلنے کی وجہ سے اس پر رہنے والوں کی زندگی دشوار نہ ہو جائے ۔

 جیسے فرمان ہے:

وَالْجِبَالَ أَرْسَـهَا (۷۹:۳۲)

 اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑھ دیا۔‏

حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے :

 جب اللہ تعالیٰ نے زمین بنائی تو وہ ہل رہی تھی یہاں تک کہ فرشتوں نے کہا اس پر تو کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔ صبح دیکھتے ہیں کہ پہاڑ اس پر گاڑ دئیے گئے ہیں اور اس کا ہلنا موقوف ہو گیا پس فرشتوں کو یہ بھی نہ معلوم ہو سکا کہ پہاڑ کس چیز سے پیدا کئے گئے ۔

قیس بن عبادہ سے بھی یہی مروی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 زمین نے کہا تو مجھ پر بنی آدم کو بساتا ہے جو میری پیٹھ پر گناہ کریں گے اور خباثت پھیلائیں گے وہ کانپنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اس پر جما دیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو اور بعض کو دیکھتے ہی نہیں ہو ۔

یہ بھی اس کا کرم ہے کہ اس نے نہریں چشمے اور دریا چاروں طرف بہا دئیے ۔ کوئی تیز ہے کوئی سست، کوئی لمبا ہے کوئی مختصر ، کبھی کم پانی ہے کبھی زیادہ ، کبھی بالکل سوکھا پڑا ہے۔ پہاڑوں پر ، جنگلوں میں ، ریت میں ، پتھروں میں برابر یہ چشمے بہتے رہتے ہیں اور ریل پیل کر دیتے ہیں یہ سب اس کا فضل و کرم ، لطف و رحم ہے۔

 نہ اس کے سوا کوئی پروردگار نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت، وہی رب ہے، وہی معبود ہے۔ اسی نے راستے بنا دیئے ہیں خشکی میں ، تری میں ، پہاڑ میں ، بستی میں ، اجاڑ میں ہر جگہ اس کے فضل و کرم سے راستے موجود ہیں کہ ادھر سے ادھر لوگ جا آ سکیں کوئی تنگ راستہ ہے کوئی وسیع کوئی آسان کوئی سخت ۔

وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ (۱۶)

اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں۔‏

اور بھی علامتیں اس نے مقرر کر دیں جیسے پہاڑ ہیں ٹیلے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جن سے تری خشکی کے رہرو و مسافر راہ معلوم کر لیتے ہیں ۔ اور بھٹکے ہوئے سیدھے رستے لگ جاتے ہیں ۔

 ستارے بھی رہنمائی کے لئے ہیں رات کے اندھیرے میں انہی سے راستہ اور سمت معلوم ہوتی ہے

مالک سے مروی ہے کہ نجوم سے مراد پہاڑ ہیں ۔

أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ ۗ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (۱۷)

تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کر سکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے ۔

پھر اپنی عظمت و کبریائی کا بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ لائق عبادت اس کے سوا اور کوئی نہیں ۔ اللہ کے سوا جن جن کی لوگ عبادت کرتے ہیں وہ محض بےبس ہیں ، کسی چیز کے پیدا کرنے کی انہیں طاقت نہیں اور اللہ تعالیٰ سب کا خالق ہے، ظاہر ہے کہ خالق اور غیر خالق یکساں نہیں ، پھر دونوں کی عبادت کرنا کس قدر ستم ہے؟

 اتنا بھی بےہوش ہو جانا شایان انسانیت نہیں ۔

وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ (۱۸)

اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے‏

 پھر اپنی نعمتوں کی فراوانی اور کثرت بیان فرماتا ہے کہ تمہاری گنتی میں بھی نہیں آ سکتیں ، اتنی نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں یہ بھی تمہاری طاقت سے باہر ہے کہ میری نعمتوں کی گنتی کر سکو ، اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں سے درگزر فرماتا رہتا ہے

 اگر اپنی تمام تر نعمتوں کا شکر بھی تم سب سے  طلب کرے تو تمہارے بس کا نہیں ۔ اگر ان نعمتوں کے بدلے تم سے چاہے تو تمہاری طاقت سے خارج ہے سنو اگر وہ تم سب کو عذاب کرے تو بھی وہ ظالم نہیں ہونے کا لیکن وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، تمہاری تقصیروں سے تجاوز کر لیتا ہے۔ توبہ ، رجوع، اطاعت اور طلب رضا مندی کے ساتھ جو گناہ ہو جائیں ان سے چشم پوشی کر لیتا ہے ۔ بڑا ہی رحیم ہے ، توبہ کے بعد عذاب نہیں کرتا ۔

وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ (۱۹)

اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ظاہر کرو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے ۔

چھپا کھلا سب کچھ اللہ جانتا ہے، دونوں اس پر یکساں ہر عامل کو اس کے عمل کا بدلہ قیامت کے دن دے گا نیکوں کو جزا بدوں کو سزا۔

وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ (۲۰)

اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ وہ خود پیدا کیئے ہوئے ہیں ۔

جن معبودان باطل سے لوگ اپنی حاجتیں طلب کر تے ہیں وہ کسی چیز کے خالق نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں ۔ جیسے کہ خلیل الرحمن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا :

قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ (۳۷:۹۵،۹۶)

 فرمایا تم انہیں پوجتے ہو جنہیں (خود) تم تراشتے ہو‏ حالانکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے

أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ (۲۱)

مردے ہیں زندہ نہیں انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے ۔

بلکہ تمہارے معبود جو اللہ کے سوا جمادات ، بےروح چیزیں ، سنتے سیکھتے اور شعور نہیں رکھتے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ قیامت کب ہو گی؟ تو ان سے نفع کی امید اور ثواب کی توقع کیسے رکھتے ہو ؟

یہ امید تو اس اللہ سے ہونی چاہئے جو ہر چیز کا عالم اور تمام کائنات کا خالق ہے۔

إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ۚ فَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ (۲۲)

تم سب کا معبود صرف اللہ تعالیٰ اکیلا اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منکر ہیں اور وہ خود تکبر سے بھرے ہوئے ہیں ۔

اللہ ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، وہ واحد ہے، احد ہے، فرد ہے، صمد ہے۔ کافروں کے دل بھلی بات سے انکار کرتے ہیں وہ اس حق کلمے کو سن کر سخت حیرت زدہ ہو جاتے ہیں ۔ اللہ واحد کا ذکر سن کر ان کے دل مرجھا جاتے ہیں ۔ ہاں اوروں کا ذکر ہو تو کھل جاتے ہیں یہ اللہ کی عبادت سے مغرور ہیں ۔

أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ ۔(۳۸:۵)

اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود کر دیا یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے '

نہ ان کے دل میں ایمان نہ عبادت کے عادی ۔ ایسے لوگ ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ۔

دوسرے مقام پر فرمایا :

وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِنْ دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ  ۔(۳۹:۴۵)

جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو منکرین آخرت کے دل تنگ ہو جاتے ہیں اور جب اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کا ذکر آ جاتا ہے تو خوش ہوتے ہیں۔

لَا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (۲۳)

بیشک و شبہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو، جسے وہ لوگ چھپاتے ہیں اور جسے ظاہر کرتے ہیں، بخوبی جانتا ہے۔ وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ہر عمل پر جزا اور سزا دے گاوہ مغرور لوگوں سے بےزار ہے۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۙ قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (۲۴)

ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں ۔

ان منکرین قرآن سے جب سوال کیا جائے کہ کلام اللہ میں کیا نازل ہوا تو اصل جواب سے ہٹ کر بک دیتے ہیں کہ سوائے گزرے ہوئے افسانوں کے کیا رکھا ہے؟ وہی لکھ لئے ہیں اور صبح شام دوہرا رہے ہیں

وَقَالُواْ أَسَـطِيرُ الاٌّوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِىَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً (۲۵:۵)

اور یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھا رکھے ہیں بس وہی صبح و شام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں۔‏

پس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا باندھتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی اس کے خلاف اور کچھ کہنے لگتے ہیں ۔ دراصل کسی بات پر جم ہی نہیں سکتے اور یہ بہت بری دلیل ہے

انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُواْ لَكَ الاٌّمْثَالَ فَضَلُّواْ فَلاَ يَسْتَطِيعْونَ سَبِيلاً (۱۷:۴۸)

دیکھیں تو سہی، آپ کے لئے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وہ بہک رہے ہیں۔ اب تو راہ پانا ان کے بس میں نہیں رہا

ان کے تمام اقوال کے باطل ہونے کی ۔ ہر ایک جو حق سے ہٹ جائے وہ یونہی مارا مارا بہکا بہکا پھرتا ہے کبھی حضور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کہتے ، کبھی شاعر ، کبھی کاہن ، کبھی مجنون ۔

پھر ان کے بڈھے گرو ولید بن مغیرہ مخزومی نے انہیں بڑے غور و خوض کے بعد کہا کہ سب مل کر اس کلام کو موثر جادو کہا کرو ۔ ان کے اس قول کا نتیجہ بد ہو گا اور ہم نے انہیں اس راہ پر اس لئے لگا دیا ہے کہ یہ اپنے پورے گناہوں کے ساتھ ان کے بھی کچھ گناہ اپنے اوپر لادیں جو ان کے مقلد ہیں اور ان کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں ۔

إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ  ـ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ  ـ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ  ـ ثُمَّ نَظَرَ  ـ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ  ـ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ  ـ فَقَالَ إِنْ هَـذَآ إِلاَّ سِحْرٌ يُؤْثَرُ (۷۴:۱۸،۲۴)

اس نے غور کرکے تجویز کی اسے ہلاکت ہو کیسی (تجویز) سوچی؟‏ وہ پھر غارت ہو کس طرح اندازہ کیا ۔‏ اس نے پھر دیکھا ‏ پھر تیوری چڑھائی اور منہ بنایا ‏ پھر پیچھے ہٹ گیا اور غرور کیا اور کہنے لگا یہ تو صرف جادو ہے جو نقل کیا جاتا ہے

لِيَحْمِلُوا أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۙ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَزِرُونَ (۲۵)

اسکا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی انکے بوجھ کے حصے دار ہوں گے جنہیں بےعلمی سے گمراہ کرتے رہے

دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں ۔

حدیث شریف میں ہے ہدایت کی دعوت دینے والے کو اپنے اجر کے ساتھ اپنے متبع لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے لیکن ان کے اجر کم نہیں ہوتے اور برائی کی طرف بلانے والوں کو ان کی ماننے والوں کے گناہ بھی ملتے ہیں لیکن ماننے والوں کے گناہ کم ہو کر نہیں ۔

قرآن کریم کی اور آیات میں ہے:

وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ وَلَيُسْـَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ عَمَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ (۲۹:۱۳)

یہ اپنے گناہوں کے بوجھ کے ساتھ ہی ساتھ اور بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان کے افترا کا سوال ان سے قیامت کے دن ہونا ضروری ہے ۔

لِيَحْمِلُواْ أَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَوْمَ الْقِيَـمَةِ وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ  (۱۶:۲۵)

اسکا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی انکے بوجھ کے حصے دار ہوں گے جنہیں بےعلمی سے گمراہ کرتے رہے

وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ (۲۹:۱۳)

البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی

پس ماننے والوں کے بوجھ گو ان کی گردنوں پر ہیں لیکن وہ بھی ہلکے نہیں ہوں گے۔

قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّهُ بُنْيَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ

ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کیا تھا، (آخر) اللہ نے (ان کے منصوبوں) کی عمارتوں کو جڑوں سے اکھیڑ دیا اور ان (کے سروں) پر (ان کی) چھتیں اوپر سے گر پڑیں

بعض تو کہتے ہیں اس مکار سے مراد نمرود ہے جس نے بالاخانہ تیار کیا تھا ۔ سب سے پہلے سب سے بڑی سرکشی اسی نے زمین میں کی ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کرنے کو ایک مچھر بھیجا جو اس کے نتھنے میں گھس گیا اور چار سو سال تک اس کا بھیجا چاٹتا رہا ، اس مدت میں اسے اس وقت قدرے سکون معلوم ہوتا تھا جب اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جائیں ، خوب فساد پھیلایا تھا ۔

بعض کہتے ہیں اس کے سر پر ہتھوڑے پڑتے رہتے تھے ۔ اس نے چار سو سال تک سلطنت بھی کی تھی اور خوب فساد پھیلایا تھا ۔

بعض کہتے ہیں اس سے مراد بخت نصر ہے یہ بھی بڑا مکار تھا لیکن اللہ کو کوئی کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ گو اس کا مکر پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے سرکا دینے والا ہو ۔

 بعض کہتے ہیں یہ تو کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے ساتھ جو غیروں کی عبادت کی ان کے عمل کی بربادی کی مثال ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا تھا:

وَمَكَرُواْ مَكْراً كُبَّاراً (۷۱:۲۲)

ان کافروں نے بڑا ہی مکر کیا،

 ہر حیلے سے لوگوں کو گمراہ کیا ، ہر وسیلے سے انہیں شرک پر آمادہ کیا ۔ چنانچہ ان کے چیلے قیامت کے دن ان سے کہیں گے:

بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً (۳۴:۳۳)

 بلکہ دن رات مکرو فریب سے ہمیں اللہ کے ساتھ کفر کرنے اور اس کے شریک مقرر کرنے کا ہمارا حکم دینا ہماری بے ایمانی کا باعث ہوا

ان کی عما رت کی جڑ اور بنیاد سے عذاب الہٰی آیا یعنی بالکل ہی کھو دیا اصل سے کاٹ دیا

 جیسے فرمان ہے:

كُلَّمَآ أَوْقَدُواْ نَاراً لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ (۵:۶۴)

جب لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے ۔

وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ (۲۶)

اور ان کے پاس عذاب وہاں سے آگیا جہاں کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا

فرمان ہے:

فَأَتَـهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُواْ وَقَذَفَ فِى قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُواْ يأُوْلِى الاٌّبْصَـرِ (۵۹:۲)

ان کے پاس اللہ ایسی جگہ سے آیا جہاں کا انہیں خیال بھی نہ تھا ، ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ یہ اپنے ہاتھوں اپنے مکانات تباہ کرنے لگے اور دوسری جانب سے مؤمنوں کے ہاتھوں مٹے ، عقل مندو ! عبرت حاصل کرو ۔ ی

یہاں فرمایا کہ اللہ کا عذاب ان کی عمارت کی بنیاد سے آ گیا اور ان پر اوپر سے چھت آ پڑی اور نا دانستہ جگہ سے ان پر عذاب اتر آیا ۔

ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُخْزِيهِمْ وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكَائِيَ الَّذِينَ كُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِيهِمْ ۚ

پھر قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم لڑتے جھگڑتے تھے،

قیامت کے دن کی رسوائی اور فضیحت ابھی باقی ہے، اس وقت چھپا ہوا سب کھل جائے گا ، اندر کا سب باہر آ جائے گا ۔ سارا معاملہ طشت ازبام ہو جائے گا ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر غدار کے لئے اس کے پاس ہی جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جو اس کے غدر کے مطابق ہو گا اور مشہور کر دیا جائے گا کہ فلاں کا یہ غدر ہے جو فلاں کا لڑکا تھا ۔

 اسی طرح ان لوگوں کو بھی میدان محشر میں سب کے سامنے رسوا کیا جائے گا ۔ ان سے ان کا پروردگار ڈانٹ ڈپٹ کر دریافت فرمائے گا کہ جن کی حمایت میں تم میرے بندوں سے الجھتے رہتے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟

هَلْ يَنصُرُونَكُمْ أَوْ يَنتَصِرُونَ(۲۶:۹۳)

کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ یا کوئی بدلہ لے سکتے ہیں

یہ چپ ہو جائیں گے ، کیا جواب دیں ؟ لا چار ہو جائیں گے ، کون سی جھوٹی دلیل پیش کریں ؟

فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلاَ نَاصِرٍ (۸۶:۱۰)

تو نہ ہوگا اس کے پاس کچھ زور نہ مددگار۔

قَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَى الْكَافِرِينَ (۲۷)

جنہیں علم دیا گیا تھا وہ پکار اٹھیں گے آج تو کافروں کو رسوائی اور برائی چمٹ گئی۔‏

 اس وقت علماء کرام جو دنیا اور آخرت میں اللہ کے اور مخلوق کے پاس عزت رکھتے ہیں جواب دیں گے کہ رسوائی اور عذاب آج کافروں کو گھیرے ہوئے ہیں اور ان کے معبودان باطل ان سے منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔

الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ ۖ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ ۚ

وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وہ جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے

مشرکین کی جان کنی کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب فرشتے ان کی جان لینے کے لئے آتے ہیں ، تو یہ اس وقت سننے عمل کرنے اور مان لینے کا اقرار کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی اپنے کرتوت چھپاتے ہوئے اپنی بےگناہی بیان کرتے ہیں ۔

وَاللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ(۶:۲۳)

اللہ کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے

قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کر اپنا مشرک نہ ہونا بیان کریں گے ۔ جس طرح دنیا میں اپنی بےگناہی پر لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے تھے ۔

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ  (۵۸:۱۸)

جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کر اپنے پاس جمع کرے گاتو اللہ کے سامنے بھی یہ اسی طرح (جھوٹی) قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں

بَلَى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۲۸)

کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔‏

انہیں جواب ملے گا کہ جھوٹے ہو ، بد اعمالیاں جی کھول کر کہ چکے ہو ، اللہ غافل نہیں جو باتوں میں آ جائے ہر ایک عمل اس پر روشن ہے ۔

فَادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۖ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ (۲۹)

پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا۔‏

 اب اپنے کرتوتوں کا خمیا زہ بھگتو اور جہنم کے دروازوں سے جا کر ہمیشہ اسی بری جگہ میں پڑے رہو ۔ مقام برا ، مکان برا ، ذلت اور رسوائی والا ، اللہ کی آیتوں سے تکبر کرنے کا اور اس کے رسولوں کی اتباع سے جی چرانے کا یہی بدلہ ہے ۔ مرتے ہی ان کی روحیں جہنم رسید ہو جائیں اور جسموں پر قبروں میں جہنم کی گرمی اور اس کی لپک آنے لگی ۔ قیامت کے دن روحیں جسموں سے مل کر نار جہنم میں گئیں اب نہ موت نہ تخفیف ۔

لاَ يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُواْ وَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا (۳۵:۳۶)

جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی۔‏

اور جیسے فرمان باری ہے:

النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوّاً وَعَشِيّاً وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُواْ ءَالَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ  (۴۰:۴۶)

یہ دوزخ کی آگ کے سامنے ہر صبح شام لائے جاتے ہیں ۔ قیامت کے قائم ہوتے ہی اے آل فرعون تم سخت تر عذاب میں چلے جاؤ ۔

وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا خَيْرًا ۗ

اور پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟تو جواب دیتے ہیں اچھے سے اچھا

بروں کے حالات بیان فرما کر نیکوں کے حالات جو ان کے بالکل برعکس ہیں ۔ بیان فرما رہا ہے برے لوگوں کا جواب تو یہ تھا کہ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب صرف گزرے لوگوں کے فسانے کی نقل ہے لیکن یہ نیک لوگ جواب دیتے ہیں کہ وہ سراسر برکت اور رحمت ہے جو بھی اسے مانے اور اس پر عمل کرے وہ برکت و رحمت سے مالا مال ہو جائے ۔

لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۚ

 جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے،

پھر خبر دیتا ہے کہ میں اپنے رسولوں سے وعدہ کر چکا ہوں کہ نیکوں کو دونوں جہان کی خوشی حاصل ہو گی ۔جیسے فرمان ہے :

مَنْ عَمِلَ صَـلِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (۱۶:۹۷)

جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو خواہ عورت ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ وہ مؤمن ہو تو ہم اسے بڑی پاک زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے بہترین اعمال کا بدلہ بھی ضرور دیں گے ، دونوں جہان میں وہ جزا پائے گا ۔

وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ (۳۰)

اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور کیا ہی خوب پرہیزگاروں کا گھر ہے۔‏

یاد رہے کہ دار آخرت، دار دنیا سے بہت ہی افضل و احسن ہے۔ وہاں کی جزا نہایت اعلیٰ اور دائمی ہے جیسے قارون کے مال کی تمنا کرنے والوں سے علماء کرام نے فرمایا تھا :

وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ (۲۸:۸۰)

ذی علم انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہ ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی

قرآن فرماتا ہے :

وَمَا عِندَ اللَّهِ خَيْرٌ لِّلأَبْرَارِ (۳:۱۹۸)

اللہ کے پاس کی چیزیں نیک کاروں کے لئے بہت اعلیٰ ہیں ۔

پھر فرماتا ہے:

وَالاٌّخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى (۸۷:۱۷)

دار آخرت متقیوں کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔

جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ لَهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ ۚ

ہمیشگی والے باغات جہاں وہ جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جو کچھ طلب کریں گے وہاں ان کے لئے موجود ہوگا۔

جنات عدن بدل ہے دارا لمتقین کا یعنی ان کے لئے آخرت میں جنت عدن ہے جہاں وہ رہیں گے جس کے درختوں اور محلوں کے نیچے سے برابر چشمے ہر وقت جاری ہیں ، جو چاہیں گے پائیں گے ۔ آنکھوں کی ہر ٹھنڈک موجود ہو گی اور وہ بھی ہمیشگی والی ۔

حدیث میں ہے:

 اہل جنت بیٹھے ہوں گے ، سر پر ابر اٹھے گا اور جو خواہش یہ کریں گے وہ ان کو عطا کرے گا یہاں تک کہ کوئی کہے گا اس کو ہم عمر کنواریاں ملیں تو یہ بھی ہو گا ۔

كَذَلِكَ يَجْزِي اللَّهُ الْمُتَّقِينَ (۳۱)

 پرہیزگاروں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح بدلے عطا فرماتا ہے۔‏

پرہیز گار تقویٰ شعار لوگوں کے بدلے اللہ ایسے ہی دیتا ہے

الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۳۲)

وہ جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوں کہتے ہیں کہ تمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے، جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے ۔

جو ایمان دار ہوں ، ڈرنے والے ہوں اور نیک عمل ہوں۔ ان کے انتقال کے وقت یہ شرک کی گندگی سے پاک ہوتے ہی فرشتے آتے ہیں ، سلام کرتے ہیں ، جنت کی خوشخبری سناتے ہیں ۔

جیسے فرمان عالی شان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةُ أَلاَّ تَخَافُواْ وَلاَ تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ  ـ  نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ  ـ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (۴۱:۳۰،۳۲)

(واقعی) جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعدہ دیئے گئے ہو تمہاری دنیاوی زندگی میں بھی ہم تمہارے رفیق تھے اور آخرت میں بھی رہیں گے جس چیز کو تمہارا جی چاہے اور جو کچھ تم مانگو سب تمہارے لئے (جنت میں موجود) ہے۔‏ غفور و رحیم (معبود) کی طرف سے یہ سب کچھ بطور مہمانی کے ہے۔‏

اس مضمون کی حدیثیں ہم آیت يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ (۱۴:۲۷)  کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں ۔

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلَائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ ۚ

کیا یہ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تیرے رب کا حکم آجائے؟

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں گے تاقیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا ۔

كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ

ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے تھے

ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الہٰی آ پڑے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے ، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر ، و بال میں گھر گئے ۔

وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (۳۳)

ان پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ۔‏

اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا ۔

فَأَصَابَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (۳۴)

پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انہیں مل گئے اور جس کی ہنسی اڑاتے تھے اس نے ان کو گھیر لیا

اسی لئے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے۔

وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ نَحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ

مشرک لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے۔

مشرکوں کی الٹی سوچ دیکھئے گناہ کریں، شرک پر اڑیں ، حلال کو حرام کریں ، جیسے جانوروں کو اپنے معبودوں کے نام سے منسوب کرنا اور تقدیر کو حجت بنائیں اور کہیں کہ اگر اللہ کو ہمارے اور ہمارے بڑوں کے یہ کام برے لگتے تو ہمیں اسی وقت سزا ملتی ۔

كَذَلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (۳۵)

یہی فعل ان سے پہلے لوگوں کا رہا۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھولا پیغام پہنچا دینا ہے

انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ ہمارا دستور نہیں ، ہمیں تمہارے یہ کام سخت نا پسند ہیں اور ان کی نا پسندیدگی کا اظہار ہم اپنے سچے پیغمبروں کی زبانی کر چکے ۔ سخت تاکیدی طور پر تمہیں ان سے روک چکے ، ہر بستی ، ہر جماعت ، ہر شہر میں اپنے پیغام بھیجے ، سب نے اپنا فرض ادا کیا ۔ بندگان رب میں اس کے احکام کی تبلیغ صاف کر دی ۔

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ

ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔

سب سے کہہ دیا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سوا دوسرے کو نہ پوجو ، سب سے پہلے جب شرک کا ظہور زمین پر ہوا اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو خلعت نبوت دے کر بھیجا اور سب سے آخر ختم المرسلین کا لقب دے کر رحمتہ اللعالمین کو اپنا نبی بنایا ، جن و انس کے لئے زمین کے اس کونے سے اس کونے تک تھی

 جیسے فرمان ہے :

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ  (۲۱:۲۵)

تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اسکی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو

ایک اور آیت میں ہے:

وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ (۴۳:۴۵)

اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھاکہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے

یہاں بھی فرمایا ہر اُمت کے رسولوں کی دعوت توحید کی تعلیم اور شرک سے بےزاری ہی رہی ۔ پس مشرکین کو اپنے شرک پر ، اللہ کی چاہت ، اس کی شریعت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ ابتدا ہی سے شرک کی بیخ کنی اور توحید کی مضبوطی کی ہے ۔ تمام رسولوں کی زبانی اس نے یہی پیغام بھیجا ۔ ہاں انہیں شرک کرتے ہوئے چھوڑ دینا یہ اور بات ہے جو قابل حجت نہیں ۔ اللہ نے جہنم اور جہنمی بھی تو بنائے ہیں ۔ شیطان کافر سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اپنے بندوں سے ان کے کفر پر راضی نہیں ۔ اس میں بھی اس کی حکمت تامہ اور حجت بالغہ ہے

فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ ۚ

 پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی

پھر فرماتا ہے کہ رسولوں کے آ گاہ کر دینے کے بعد دنیاوی سزائیں بھی کافروں اور مشرکوں پر آئیں ۔ بعض کو ہدایت بھی ہوئی، بعض اپنی گمراہی میں ہی بہکتے رہے ۔

فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (۳۶)

پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟‏

تم رسولوں کے مخالفین کا ، اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا انجام زمین میں چل پھر کر خود دیکھ لو گزشتہ واقعات کا جنہیں علم ہے ان سے دریافت کر لو کہ کس طرح عذاب الہٰی نے مشرکوں کو غارت کیا ۔

دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَـفِرِينَ أَمْثَـلُهَا (۴۷:۱۰)

اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کافروں کے لئے اس طرح کی سزائیں ہیں  

 اس وقت کے کافروں کے لئے ان کافروں میں مثالیں اور عبرت موجود ہے ۔ دیکھ لو اللہ کے انکار کا نتیجہ کتنا مہلک ہوا؟

وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نكِيرِ (۶۷:۱۸)

اور ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا تو دیکھو ان پر میرا عذاب کیسا ہوا؟‏

إِنْ تَحْرِصْ عَلَى هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ يُضِلُّ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ (۳۷)

گو آپ ان کی ہدایت کے خواہشمند رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کردے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے ۔

پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ گو آپ ان کی ہدایت کے کیسے ہی حریص ہوں لیکن بےفائدہ ہے ۔ رب ان کی گمراہیوں کی وجہ سے انہیں در رحمت سے دور ڈال چکا ہے ۔

 جیسے فرمان ہے :

وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئا (۵:۴۱)

اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا اگر اللہ کا ارادہ تمہیں بہکانے کا ہے تو میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے لئے محض بےسود ہے ۔ اس آیت میں بھی فرماتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ بہکاوے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ وہ دن بدن اپنی سرکشی اور بہکاوے میں بڑھتے رہتے ہیں ۔

 فرمان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ (۱۰:۹۶)

جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا ۔

 گو تمام نشانیاں ان کے پاس آ جائیں یہاں تک کہ عذاب الیم کا منہ دیکھ لیں ۔

پس اللہ یعنی اس کی شان ، کا امر ۔ اس لئے کہ جو وہ چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔

 پس فرماتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کئے ہوئے کو راہ نہیں دکھاتا ۔ نہ کوئی اور اس کی رہبری کر سکتا ہے نہ کوئی اس کی مدد کے لئے اٹھ سکتا ہے کہ عذاب الہٰی سے بچا سکے ۔ خلق و امر اللہ ہی کا ہے وہ رب العالمین ہے، اس کی ذات با برکت ہے، وہی سچا معبود ہے ۔

وَلاَ يَنفَعُكُمْ نُصْحِى إِنْ أَرَدْتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللَّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ (۱۱:۳۴)

تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں، بشرطیکہ اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو

وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ ۙ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ ۚ

وہ لوگ بڑی سخت سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ زندہ نہیں کرے گا

کیونکہ کافر قیامت کے قائل نہیں اس لئے دوسروں کو بھی اس عقیدے ہٹانے کے لئے وہ پوری کوشش کرتے ہیں ایمان فروشی کر کے اللہ کی تاکیدی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ نہ کرے گا۔

بَلَى وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (۳۸)

کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا یہ اس کا برحق لازمی وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اللہ کا یہ وعدہ بر حق ہے لیکن اکثر لوگ بوجہ اپنی جہالت اور لا علمی کے رسولوں کے خلاف کر تے ہیں ، اللہ کی باتوں کو نہیں مانتے اور کفر کے گڑھے میں گرتے ہیں ۔

لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ كَانُوا كَاذِبِينَ (۳۹)

اس لئے بھی کہ یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے تھے اسے اللہ تعالیٰ صاف بیان کردے اور اس لئے بھی کہ خود کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں

پھر قیامت کے آنے اور جسموں کے دوبارہ زندہ ہونے کی بعض حکمتیں ظاہر فرماتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ دنیوی اختلافات میں حق کیا تھا وہ ظاہر ہو جائے ، بروں کو سزا اور نیکوں کو جزا ملے ۔

لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى (۵۳:۳۱)

تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے

کافروں کا اپنے عقیدے ، اپنے قول ، اپنی قسم میں جھوٹا ہونا کھل جائے۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ انہیں دھکے دے کر جہنم میں جھونکا جائے گا اور کہا جائے گا :

هَـذِهِ النَّارُ الَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ  ـ أَفَسِحْرٌ هَـذَا أَمْ أَنتُمْ لاَ تُبْصِرُونَ ـ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُواْ أَوْ لاَ تَصْبِرُواْ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ  (۵۲:۱۴،۱۶)

 یہی وہ آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے ۔‏(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے نہیں جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لئے یکساں ہے۔ تمہیں فقط تمہارے کئے کا بدل دیا جائے گا۔‏

إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (۴۰)

ہم جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے ۔

پھر اپنی بے اندازہ قدرت کا بیان فرماتا ہے کہ جو وہ چاہے اس پر قادر ہے کوئی بات اسے عاجز نہیں کر سکتی ، کوئی چیز اس کے اختیار سے خارج نہیں ، وہ جو کرنا چاہے فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام ہو جاتا ہے ۔ قیامت بھی اس کے فرمان کا عمل ہے

 جیسے فرمایا:

وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ  (۵۴:۵۰)

ایک آنکھ جھپکنے میں اس کا کہا ہو جائے گا

مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ (۳۱:۲۸)

تم سب کی پیدائش اور مرنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک جی کا،

یعنی  اِدھر کہا ہو جا اُدھر ہو گیا ۔اس کو دوبارہ کہنے یا تاکید کرنے کی بھی ضرورت نہیں اس کے ارادہ سے مراد جدا نہیں ۔ کوئی نہیں جو اس کے خلاف کر سکے ، اس کے حکم کے خلاف زبان ہلا سکے۔ وہ واحد و قہار ہے، وہ عظمتوں اور عزتوں والا ہے، سلطنت اور جبروت والا ہے ۔ اس کے سوا نہ کوئی معبود نہ حاکم نہ رب نہ قادر ۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 ابن آ دم مجھے گالیاں دیتا ہے اسے ایسا نہیں چاہئے تھا ۔ وہ مجھے جھٹلا رہا ہے حالانکہ یہ بھی اسے لائق نہ تھا ۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ سخت قسمیں کھا کر کہتا ہے کہ اللہ مردوں کو پھر زندہ نہ کرے گا میں کہتا ہوں یقیناً زندہ ہوں گے ۔ یہ بر حق وعدہ ہے

لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں اور اس کا مجھے گالیاں دینا یہ ہے کہ کہتا ہے اللہ تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ میں احد ہوں ، میں اللہ ہوں ، میں صمد ہوں ، جس کا ہم جنس کوئی اور نہیں ۔

ابن ابی حاتم میں تو حدیث موقو فا ًمروی ہے۔ بخاری و مسلم میں دو سرے لفظوں کے ساتھ مرفو عا ًروایت بھی آئی ہے ۔

وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ

جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے

جو لوگ اللہ کی راہ میں ترک وطن کر کے ، دوست ، احباب ، رشتے دار ، کنبے تجارت کو اللہ کے نام پر ترک کر کے دین ربانی کی پاسبانی میں ہجرت کر جاتے ہیں ان کے اجر بیان ہو رہے ہیں کہ دونوں جہان میں یہ اللہ کے ہاں معزز و محترم ہیں ۔

 بہت ممکن ہے کہ سبب نزول اس کا مہاجرین حبش ہوں جو مکے میں مشرکین کی سخت ایذائیں سہنے کے بعد ہجرت کر کے حبش چلے گئے کہ آزادی سے دین حق پر عامل رہیں ۔

ان کے بہترین لوگ یہ تھے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ آپ کی بیوی صاحبہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے اور حضرت ابوسلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ۔ قریب قریب اسی آدمی تھے مرد بھی عورتیں بھی جو سب صدیق اور صدیقہ تھے اللہ ان سب سے خوش ہو اور انہیں بھی خوش رکھے ۔

وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (۴۱)

اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے، کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے۔‏

ان غریب الوطن مہاجرین کو دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم و بادشاہ کر دیا اور دنیا پر ان کو سلطنت عطا کی ۔ ابھی آخرت کا اجر و ثواب باقی ہے۔ پس ہجرت سے جان چرانے والے مہاجرین کے ثواب سے واقف ہوتے تو ہجرت میں سبقت کرتے ۔

 اللہ تعالیٰ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے خوش ہو کہ آپ جب کبھی کسی مہاجر کو اس کا حصہ غنیمت و غیرہ دیتے تو فرماتے لو اللہ تمہیں برکت دے یہ تو دنیا کا اللہ کا وعدہ ہے اور ابھی اجر آخرت جو بہت عظیم الشان ہے، باقی ہے۔

 پھر اسی آیت مبارک کی تلاوت کرتے ۔

پس اللہ تعالیٰ ایسے سچے لوگوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ انہیں وہ اچھی جگہ عنایت فرمائے گا ۔ جیسے مدینہ اور پاک روزی ، مال کا بھی بدلہ ملا اور وطن کا بھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے خوف سے جیسی چیز کو چھوڑے اللہ تعالیٰ اسی جیسی بلکہ اس سے کہیں بہتر ، پاک اور حلال چیز اسے عطا فرماتا ہے ۔

الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (۴۲)

وہ جنہوں نے دامن صبر نہ چھوڑا اور اپنے پالنے والے ہی پر بھروسہ کرتے رہے۔‏

 ان پاکباز لوگوں کا اور وصف بیان فرماتا ہے کہ جو تکلیفیں اللہ کی راہ میں انہیں پہنچتی ہیں یہ انہیں جھیل لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر جو انہیں توکل ہے، اس میں کبھی فرق نہیں آتا ، اسی لئے دونوں جہان کی بھلائیاں یہ لوگ اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ لیتے ہیں ۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (۴۳)

آپ سے پہلے بھی ہم مردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کرلو ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ کی شان اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ وہ کسی انسان کو اپنا رسول بنائے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے۔

 فرماتا ہے:

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَى رَجُلٍ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ النَّاسَ (۱۰:۲)

 کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب معلوم ہوا کہ ہم نے کسی انسان کی طرف اپنی وحی نازل فرمائی کہ وہ لوگوں کو آ گاہ کر دے ۔

 اور فرمایا ہم نے تجھ سے پہلے بھی جتنے رسول بھیجے سبھی انسان تھے جن پر ہماری وحی آتی تھی ۔ تم پہلی آسمانی کتاب والوں سے پوچھ لو کہ وہ انسان تھے یا فرشتے ؟

 اگر وہ بھی انسان ہوں تو پھر اپنے اس قول سے باز آؤ ہاں اگر ثابت ہو کہ سلسلہ نبوت فرشتوں میں ہی رہا تو بیشک اس نبی کا انکار کرتے ہوئے تم اچھے لگو گے ۔

 اور آیت میں من أَهْلِ الْقُرَى کا لفظ بھی فرمایا :

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى (۱۲:۱۰۹)

آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے

یعنی وہ رسول بھی زمین کے باشندے تھے، آ سمان کی مخلوق نہ تھے ۔

بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (۴۴)

دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔‏

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مراد اہل ذکر سے اہل کتاب ہیں ۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور اعمش رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے

عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ذکر سے مراد قرآن ہے جیسے آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ (۱۵:۹)  میں ہے

یہ قول بجائے خود ٹھیک ہے لیکن اس آیت میں ذکر سے مراد قرآن لینا درست نہیں کیونکہ قرآن کے تو وہ لوگ منکر تھے ۔ پھر قرآن والوں سے پوچھ کر ان کی تشفی کیسے ہو سکتی تھی ؟

 اسی طرح ابو جعفر باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم اہل ذکر ہیں یعنی یہ اُمت یہ قول بھی اپنی جگہ درست ہے فی الواقع یہ اُمت تمام اگلی اُمتوں سے زیادہ علم والی ہے اور اہل بیت کے علماء اور علماء سے بدر جہا بڑھ کر ہیں ۔ جب کہ وہ سنت مستقیمہ پر ثابت قدم ہوں ۔ جیسے علی ابن عباس ، حسن ، حسین ، محمد بن حنفیہ ، علی بن حیسن زین العابدین، علی بن اللہ بن عباس ابو جعفر باقر ، محمد بن علی بن حسین اور ان کے صاحبزادے جعفر اور ان جیسے اور بزرگ حضرات ۔ اللہ کی رحمت و رضا انہیں حاصل ہو ۔ جو کہ اللہ کی رسی کو مضبوط تھامے ہوئے اور صراط مستقیم پر قدم جمائے ہوئے اور ہر حقدار کے حق بجا لانے والے اور ہر ایک کو اس کی سچی جگہ اتارنے والے ، ہر ایک کی قدر و عزت کرنے والے تھے اور خود وہ اللہ کے تمام نیک بندوں کے دلوں میں اپنی مقبولیت رکھتے ہیں ۔ یہ بیشک صحیح تو ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد نہیں ۔

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ آپ بھی انسان ہیں اور آپ سے پہلے بھی انبیاء بنی آ دم میں سے ہوتے رہے۔

 جیسے فرمان ہے:

قُلْ سُبْحَـنَ رَبِّى هَلْ كُنتُ إَلاَّ بَشَرًا رَّسُولاً (۱۷:۹۳)

کہہ دے کہ میرا رب پاک ہے میں صرف ایک انسان ہوں جو اللہ کا رسول ہوں ۔

لوگ محض یہ بہانہ کر کے رسولوں کا انکار کر بیٹھے کہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنی رسالت دے ۔

 اور آیت میں ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلاَّ إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِى الاٌّسْوَاقِ (۲۵:۲۰)

تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سبھی کھانے پینے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے تھے ۔

 اور آیت میں ہے:

وَمَا جَعَلْنَـهُمْ جَسَداً لاَّ يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُواْ خَـلِدِينَ (۲۱:۸)

ہم نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہوں یا یہ کہ مرنے والے ہی نہ ہوں ۔

 اور جگہ ارشاد ہے:

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ (۴۶:۹)

کہہ دے کہ میں کوئی شروع کا اور پہلا اور نیا رسول تو نہیں ؟

 ایک اور آیت میں ہے:

قُلْ إِنَّمَآ أَنَاْ بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَى إِلَىَّ (۱۸:۱۰)

کہہ دے کہ میں تم جیسا انسان ہوں میری جانب وحی اتاری جاتی ہے

پس یہاں بھی ارشاد ہوا کہ پہلی کتابوں والوں سے پوچھ لو کہ نبی انسان ہو تے تھے یا غیر انسان ؟

پھر یہاں فرماتا ہے کہ رسول کو وہ دلیلیں  دے کر حجتیں عطا فرما کر بھیجتا ہے کتابیں ان پر نازل فرماتا ہے صحیفے انہیں عطا فرماتا ہے ۔

الزُّبُر سے مراد کتابیں ہیں جیسے قرآن میں اور جگہ ہے:

وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوهُ فِى الزُّبُرِ (۵۴:۵۲)

جو کچھ انہوں نے کیا کتابوں میں ہے۔

 اور آیت میں ہے:

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِى الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الاٌّرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّـلِحُونَ  (۲۱:۱۰۵)

ہم زبور میں پندو نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہونگے

پھر فرماتا ہے ہم نے تیری طرف ذکر نازل فرمایا یعنی قرآن اس لئے کہ چونکہ تو اس کے معنی مطلب سے اچھی طرح واقف ہے اسے لوگوں کو سمجھا بجھا دے۔

 حقیقتاً اے نبی آپ ہی اس پر سب سے زیادہ حریص ہیں آپ ہی اس کے سب سے بڑے عالم ہیں اور آپ ہی اس کے سب سے زیادہ عامل ہیں۔ اس لئے کہ آپ افضل الخلائق ہیں۔ اولاد آدم کے سردار ہیں۔ جو اجمال اس کتاب میں ہے اس کی تفصیل آپ کے ذمے ہے،لوگوں پر جو مشکل ہو آپ اسے سمجھا دیں تاکہ وہ سوجیں سمجھیں راہ پائیں اور پھر نجات اور دونوں جہاں کی بھلائی حاصل کریں۔

أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ (۴۵)

بدترین داؤ پیچ کرنے والے کیا اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب آجائے جہاں کا انہیں وہم وگمان بھی نہ ہو۔‏

اللہ تعالیٰ خالق کائنات اور مالک ارض و سماوات اپنے حلم کا باوجود علم کے باوجود اور اپنی مہربانی کا باوجود غصے کے بیان فرماتا ہے کہ وہ اگر چاہے اپنے گنہگار بد کردار بندوں کو زمین میں دھنسا سکتا ہے ۔ بےخبری میں ان پر عذاب لا سکتا ہے لیکن اپنی غایت مہربانی سے درگزر کئے ہوئے ہے

جیسے سورہ تبارک میں فرمایا:

أَءَمِنتُمْ مَّن فِى السَّمَآءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الاٌّرْضَ فَإِذَا هِىَ تَمُورُ ـ أَمْ أَمِنتُمْ مِّن فِى السَّمَآءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَـصِباً فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ (۶۷:۱۶،۱۷)

اللہ جو آسمان میں ہے کیا تم اس کے غضب سے نہیں ڈرتے ؟ کہ کہیں زمین کو دلدل بنا کر تمہیں اس میں دھنسا نہ دے کہ وہ تمہیں ہچکو لے ہی لگاتی رہا کرے کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ سے ڈر نہیں لگتا کہ کہیں وہ تم پر آسمان سے پتھر نہ برسا دے ۔ اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے کہ میرا ڈرانا کیسا تھا ۔

 اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے مکار ، بد کردار لوگوں کو ان کے چلتے پھرتے ، آتے ، کھاتے ، کماتے ہی پکڑ لے ۔ سفر حضر رات دن جس وقت چاہے ، پکڑ لے

جیسے فرمان ہے:

أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَـتاً وَهُمْ نَآئِمُونَ ـ أَوَ أَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَن يَأْتِيَهُمْ بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ (۷:۹۷،۹۸)

کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آپڑے جس وقت وہ سوتے ہوں۔‏ اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ پڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔‏

أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِينَ (۴۶)

یا انہیں چلتے پھرتے پکڑلے یہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے۔‏

اللہ کو کوئی شخص اور کوئی کام عاجز نہیں کر سکتا وہ ہارنے والا ، تھکنے والا اور ناکام ہو نے والا نہیں ۔

أَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (۴۷)

یا انہیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے پس یقیناً تمہارا پروردگار اعلیٰ شفقت اور انتہائی رحم والا ہے ۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ڈر خوف کے انہیں پکڑ لے تو دونوں عتاب ایک ساتھ ہو جائیں ڈر اور پھر پکڑ ۔ ایک کو اچانک موت آ جائے دوسرا ڈرے اور پھر مرے ۔ لیکن رب العلی ، رب کائنات بڑا ہی رؤ ف و رحیم ہے اس لئے جلدی نہیں پکڑتا ۔

 بخاری و مسلم میں ہے :

خلاف طبع باتیں سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ لوگ اس کی اولاد ٹھہر اتے ہیں اور وہ انہیں رزق و عافیت عنایت فرماتا ہے ۔

بخاری مسلم میں ہے:

 اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے لیکن جب پکڑ نازل فرماتا ہے پھر اچانک تباہ ہو جاتا ہے

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے  یہ آیت پڑھی ۔

وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ  (۱۱:۱۰۲)

تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جبکہ وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑتا ہے بیشک اسکی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے

اور آیت میں ہے:

وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَـلِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَىَّ الْمَصِيرُ (۲۲:۴۸)

بہت سی ظلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ (۴۸)

کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ذو الجلال والاکرام کی عظمت و جلالت کبریائی اور بےہمتائی کا خیال کیجئے کہ ساری مخلوق عرش سے فرش تک اس کے سامنے مطیع اور غلام ۔ جمادات و حیوانات ، انسان اور جنات، فرشتے اور کل کائنات ، اس کی فرماں بردار ، ہر چیز صبح شام اس کے سامنے ہر طرح سے اپنی عاجزی اور بےکسی کا ثبوت پیش کرنے والی ، جھک جھک کر اس کے سامنے سجدے کرنے والی ۔

 مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 سورج ڈھلتے ہی تمام چیزیں اللہ کے سامنے سجدے میں گر پڑتی ہیں ہر ایک رب العالمین کے سامنے ذلیل و پست ہے، عاجز و بےبس ہے ۔ پہاڑ وغیرہ کا سجدہ ان کا سایہ ہے، سمندر کی موجیں اس کی نماز ہے۔ انہیں گویا ذوی العقول سمجھ کر سجدے کی نسبت ان کی طرف کی ۔

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ (۴۹)

یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے۔‏

اور فرمایا زمین و آسمان کے کل جاندار اس کے سامنے سجدے میں ہیں ۔

وَللَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَـلُهُم بِالْغُدُوِّ وَالاٌّصَالِ (۱۳:۱۵)

خوشی نا خوشی ہر چیز رب العالمین کے سامنے سر بسجود ہے، ان کے سائے صبح و شام سجدہ کرتے ہیں ۔

 فرشتے بھی باوجود اپنی قدر و منزلت کے اللہ کے سامنے پست ہیں ، اس کی عبادت سے تنگ نہیں آ سکتے

يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ   (۵۰) ۩

اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں ۔

  اللہ تعالیٰ جل و علا سے کانپتے اور لرزتے رہتے ہیں اور جو حکم ہے اس کی بجا آوری میں مشغول ہیں نہ نافرمانی کرتے ہیں نہ سستی کرتے ہیں ۔

وَقَالَ اللَّهُ لَا تَتَّخِذُوا إِلَهَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ ۖ فَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ (۵۱)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے پس تم سب میرا ہی ڈر خوف رکھو۔‏

اللہ واحد کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، وہ لا شریک ہے ، وہ ہر چیز کا خالق ہے ، مالک ہے ، پالنہار ہے ۔ اسی کی خالص عبادت دائمی اور واجب ہے۔ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کے طر یقے نہ اختیار کرنے چاہئیں ۔

وَلَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَهُ الدِّينُ وَاصِبًا ۚ أَفَغَيْرَ اللَّهِ تَتَّقُونَ (۵۲)

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے، کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟‏

آسمان و زمین کی تمام مخلوق خوشی یا نا خوشی اس کی ماتحت ہے۔ سب کو لوٹایا جانا اسی کی طرف ہے ،

أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ (۳:۸۳)

کیا وہ اللہ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ تمام آسمانوں اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا ناخوشی سے سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔‏

خلوص کے ساتھ اسی کی عبادت کرو ۔ اسکے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے سے بچو ۔

فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ-أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ (۳۹:۲،۳)

پس اللہ کی عبادت کرو، اسی کے لئے بندگی کو خالص کرتے ہوئے، خبردار! اسی کے لئے خالص بندگی ہے

وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ

تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں،

آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک وہی تنہا ہے ۔ نفع نقصان اسی کے اختیار میں ہے ، جو کچھ نعمتیں بندوں کے ہاتھ میں ہیں سب اسی کی طرف سے ہیں ، رزق نعمتیں عافیت تصرف اسی کی طرف سے ہے ، اسی کے فضل و احسان بدن پر ہیں ۔

ثُمَّ إِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَإِلَيْهِ تَجْأَرُونَ (۵۳)

اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آجائے تو اسی کی طرف نالہ اور فریاد کرتے ہو ۔

اور اب بھی ان نعمتوں کے پالینے کے بعد بھی تم اس کے ویسے ہی محتاج ہو مصیبتیں اب بھی سر پر منڈلا رہی ہیں ۔ سختی کے وقت وہی یاد آتا ہے اور گڑ گڑا کر پوری عاجزی کے ساتھ کٹھن وقت میں اسی کی طرف جھکتے ہو ۔

ثُمَّ إِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ إِذَا فَرِيقٌ مِنْكُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ (۵۴)

اور جہاں اس نے وہ مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔‏

خود مشرکین مکہ کا بھی یہی حال تھا کہ جب سمندر میں گھر جاتے باد مخالف کے جھونکے کشتی کو پتے کی طرح ہچکو لے دینے لگتے تو اپنے ٹھاکروں، دیوتاؤں ، بتوں ، فقیروں ، ولیوں ، نبیوں سب کو بھول جاتے اور خالص اللہ سے لو لگا کر خلوص دل سے اس سے بچاؤ اور نجات طلب کرتے ۔ لیکن کنارے پر کشتی کے پار لگتے ہی اپنے پرانے اللہ سب یاد آ جاتے اور معبود حقیقی کے ساتھ پھر ان کی پوجا پاٹ ہونے لگتی ۔ اس سے بڑھ کر بھی ناشکری کفر اور نعمتوں کی فراموشی اور کیا ہو سکتی ہے؟

وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الإِنْسَـنُ كَفُورًا (۱۷:۶۷)

اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے پھر جب تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے ۔

لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ

کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں۔

یہاں بھی فرمایا کہ مطلب نکل جاتے ہی بہت سے لوگ آنکھیں پھیر لیتے ہیں ۔ لیکفروا کا لام لام عاقبت ہے اور لام تعلیل بھی کہا گیا ہے یعنی ہم نے یہ خصلت ان کی اس لئے کر دی ہے کہ وہ اللہ کی نعمت پر پر دے ڈالیں اور اس کا انکار کریں حالا نکہ دراصل نعمتوں کا دینے والا ، مصیبتوں کا دفع کرنے والا اس کے سوا کوئی نہیں ۔

فَتَمَتَّعُوا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (۵۵)

اچھا کچھ فائدہ اٹھالو آخرکار تمہیں معلوم ہو ہی جائیگا

پھر انہیں ڈراتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو اپنا کام چلا لو ، معمولی سا فائدہ یہاں کا اٹھا لو لیکن اس کا انجام ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا ۔

تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ (۱۴:۳۰)

چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھالو! بالآخر تمہارا ٹھکانا جہنم ہے۔

وَيَجْعَلُونَ لِمَا لَا يَعْلَمُونَ نَصِيبًا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ۗ

اور جسے جانتے بو جھتے بھی نہیں اس کا حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے مقرر کرتے ہیں،

مشرکوں کی بےعقلی اور بےڈھنگی بیان ہو رہی ہے کہ دینے والا اللہ ہے سب کچھ اسی کا دیا ہوا اور یہ اس میں سے اپنے جھوٹے معبودوں کے نام ہو جائے جن کا صحیح علم بھی انہیں نہیں پھر اس میں سختی ایسی کریں کہ اللہ کے نام کا تو چاہے ان کے معبودوں کے ہو جائے لیکن ان کے معبودوں کے نام کیا گیا اللہ کے نام نہ ہو سکے

جیسے فرمایا:

فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ (۶:۱۳۶)

 اور خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے کیا برا فیصلہ وہ کرتے ہیں

تَاللَّهِ لَتُسْأَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُونَ (۵۶)

واللہ تمہارے اس بہتان کا سوال تم سے ضرور کیا جائے گا ۔

ایسے لوگوں سے ضرور باز پرس ہو گی اور اس افترا کا بدلہ انہیں پورا پورا ملے گا ۔ جہنم کی آگ ہو گی اور یہ ہوں گے ۔

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُمْ مَا يَشْتَهُونَ (۵۷)

اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لئے وہ جو اپنی خواہش کے مطابق ہو

پھر ان کی دوسری بے انصافی اور حماقت بیان ہو رہی ہے کہ اللہ کے مقرب غلام فرشتے ان کے نزدیک اللہ کی بیٹیاں ہیں یہ خطا کر کے پھر ان کی عبادت کرتے ہیں جو خطا پر خطا ہے ۔

یہاں تین جرم ان سے سرزد ہوئے

-        اول تو اللہ کے لئے اولاد ٹھہرانا جو اس سے یکسر پاک ہے،

-        پھر اولاد میں سے بھی وہ قسم اسے دینا جسے خود اپنے لئے بھی پسند نہیں کرتے یعنی لڑکیاں ۔

-        کیا ہی الٹی بات ہے کہ اپنے لئے اولاد ہو ؟ پھر اولاد بھی وہ جو ان کے نزدیک نہایت ردی اور ذلیل چیز ہے ۔ کیا حماقت ہے کہ انہیں تو اللہ لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے ؟

أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى۔تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى   (۵۳:۲۱،۲۲)

کیا تمہارے لئے بیٹے اور اس کے لئے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بھونڈی تقسیم ہے '

اللہ اس سے بلکہ اولاد سے پاک ہے ۔

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (۵۸)

ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے‏

انہیں جب خبر ملے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو مارے ندامت و شرم کے منہ کالا پڑ جائے ، زبان بند ہو جائے، غم سے کمر جھک جائے۔ زہر کے گھو نٹ پی کر خاموش ہو جائے ۔

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـنِ مَثَلاً ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدّاً وَهُوَ كَظِيمٌ  (۴۳:۱۷)

(حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہےتو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غمگین ہو جاتا ہے۔‏

يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ۚ

اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔

لوگوں سے منہ چھپاتا پھرے ۔

أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ۗ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ (۵۹)

 سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟

اسی سوچ میں رہے کہ اب کیا کروں اگر لڑکی کو زندہ چھوڑتا ہوں تو بڑی رسوائی ہے نہ وہ وارث بنے نہ کوئی چیز سمجھی جائے لڑکے کو اس پر ترجیح دی جائے غرض زندہ رکھے تو نہایت ذلت سے ۔ ورنہ صاف بات ہے کہ جیتے جی گڑھا کھودا اور دبا دی ۔

لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ۖ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَى ۚ

آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے اللہ کے لئے تو بہت ہی بلند صفت ہے،

یہ حالت تو اپنی ہے پھر اللہ کے لئے یہی چیز ثابت کرتے ہیں ۔ کیسے برے فیصلے کرتے ہیں ؟ کتنی بےحیائی کی تقسیم کرتے ہیں اللہ کے لئے جو بیٹی ثابت کریں اسے اپنے لئے سخت تر باعث توہین و تذلیل سمجھیں ۔ اصل یہ ہے کہ بری مثال اور نقصان انہی کافروں کے لئے ہے اللہ کے لئے کمال ہے ۔

وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۶۰)

 وہ بڑا ہی غالب اور با حکمت ہے ۔‏

وہ عزیز و حکیم ہے اور ذوالجلال والاکرام ہے ۔

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ

اگر لوگوں کے گناہ پر اللہ تعالیٰ ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا

اللہ تعالیٰ کے حلم و کرم لطف و رحم کا بیان ہو رہا ہے کہ بندوں کے گناہ دیکھتا ہے اور پھر بھی انہیں مہلت دیتا ہے اگر فوراً ہی پکڑے تو آج زمین پر کوئی چلتا پھرتا نظر نہ آئے ۔ انسانوں کی خطاؤں میں جانور بھی ہلاک ہو جائیں ۔ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جائے ۔ بروں کے ساتھ بھلے بھی پکڑ میں آ جائیں ۔

وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ (۶۱)

لیکن وہ تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے جب انکا وہ وقت آجاتا ہے تو وہ ایک ساعت نہ پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں

لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے حلم و کرم لطف و رحم سے پردہ پوشی کر رہا ہے، در گزر فرما رہا ہے، معافی دے رہا ہے ۔ ایک خاص وقت تک کی مہلت دئیے ہوئے ہے، ورنہ کیڑے اور بھنگے بھی نہ بچتے ۔ بنی آدم کے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے عذاب الہٰی ایسے آتے کہ سب کو غارت کر جاتے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سنا کہ کوئی صاحب فرما رہے ہیں کہ ظالم اپنا ہی نقصان کرتا ہے تو آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پرند اپنے گھونسلوں میں بوجہ اس کے ظلم کے ہلاک ہو جاتے ہیں ۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا :

اللہ کسی نفس کو ڈھیل نہیں دیتا عمر کی زیادتی نیک اولاد سے ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عنایت فرماتا ہے پھر ان بچوں کی دعائیں ان کی قبر میں انہیں پہنچتی رہتی ہیں ، یہی ان کی عمر کی زیادتی ہے ۔

وَيَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا يَكْرَهُونَ وَتَصِفُ أَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ أَنَّ لَهُمُ الْحُسْنَى ۖ

اور وہ اپنے لئے جو ناپسند رکھتے ہیں اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں اور ان کی زبانیں جھوٹی باتیں بیان کرتی ہیں کہ ان کے لئے خوبی ہے

اپنے لئے یہ ظالم لڑکیاں ناپسند کریں ، شرکت نہ چاہیں اور اللہ کے لئے یہ سب روا رکھیں ۔ پھر یہ خیال کریں کہ یہ دنیا میں بھی اچھائیاں سمیٹنے والے ہیں اور اگر قیامت قائم ہوئی تو وہاں بھی بھلائی ان کے لئے ہے ۔

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الإِنْسَـنَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ ـ وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ (۱۱:۹،۱۰)

 اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وہ بہت ہی ناامید اور بڑا نا شکرا بن جاتا ہے اور اگر ہم اسے کوئی مزہ چکھائیں اس سختی کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو وہ کہنے لگتا ہے کہ بس برائیاں مجھ سے جاتی رہیں

وَلَئِنْ أَذَقْنَـهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِن بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ هَـذَا لِى وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّجِّعْتُ إِلَى رَبِّى إِنَّ لِى عِندَهُ لَلْحُسْنَى فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ (۴۱:۵۰)

اور جو مصیبت اسے پہنچ چکی ہے اس کے بعد اگر ہم اسے کسی رحمت کا مزہ چکھائیں تو وہ کہہ اٹھتا ہے کہ اس کا تو میں حقدار ہی تھا میں تو خیال نہیں کر سکتا کہ قیامت قائم ہوگی اور اگر میں اپنے رب کے پاس واپس گیا تو بھی یقیناً میرے لئے اس کے پاس بھی بہتری ہے، یقیناً ہم ان کفار کو ان کے اعمال سے خبردار کریں گے اور انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔‏

یہ کہا کرتے تھے کہ نفع کے مستحق اس دنیا میں تو ہم ہیں ہی اور صحیح بات تو یہ ہے کہ قیامت نے آنا نہیں ۔ بالفرض آئی بھی تو وہاں کی بہتری بھی ہمارے لئے ہی ہے ان کفار کو عنقریب سخت عذاب چکھنے پڑیں گے ، ہماری آیتوں سے کفر پھر آرزو یہ کہ مال و اولاد ہمیں وہاں بھی ملے گا۔

 سورہ کہف میں دو ساتھیوں کا ذکر کر تے ہوئے قرآن نے فرمایا ہے :

دَخَلَجَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَـذِهِ أَبَداً ـ وَمَآ أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَى رَبِّى لأَجِدَنَّ خَيْراً مِّنْهَا مُنْقَلَباً(۱۸:۳۵،۳۶)

اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ظلم کرنے والا۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہو جائے۔‏ اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیاتو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر پاؤں گا۔‏

یعنی وہ ظالم اپنے باغ میں جاتے ہوئے اپنے نیک ساتھی سے کہتا ہے میں تو اسے ہلاک ہو نے والا جانتا ہی نہیں نہ قیامت کا قائل ہوں اور اگر بالفرض میں دو بارہ زندہ کیا گیا تو وہاں اس سے بھی بہتر چیز دیا جاؤں گا ۔ کام برے کریں آ زو نیکی کی رکھیں ۔ کانٹے بوئیں اور پھل چاہیں ۔

 کہتے ہیں کعبتہ اللہ شریف کی عمارت کو نئے سرے سے بنانے کے لئے جب ڈھایا تو بنیادوں میں سے ایک پتھر نکلا ، جس پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا ، جس میں یہ بھی لکھا تھا :

تم برائیاں کرتے ہو اور نیکیوں کی امید رکھتے ہو یہ ایسا ہی ہے جیسے کانٹے بو کر انگور کی امید رکھنا ۔

 پس انکی امیدیں تھیں کہ دنیا میں بھی انہیں جاہ و حشمت اور لونڈی غلام ملیں گے اور آخرت میں بھی ۔

لَا جَرَمَ أَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَأَنَّهُمْ مُفْرَطُونَ (۶۲)

نہیں نہیں، دراصل ان کے لئے آگ ہے اور یہ دوزخیوں کے پیش رو ہیں

 اللہ فرماتا ہے دراصل ان کے لئے آتش دوزخ تیار ہے۔ وہاں یہ رحمت رب سے بھلا دئیے جائیں گے اور ضائع اور برباد ہو جائیں گے آج یہ ہمارے احکام بھلائے بیٹھے ہیں ، کل انہیں ہم اپنی نعمتوں سے بھلا دیں گے ، یہ جلدی ہی جہنم نشین ہونے والے ہیں ۔

تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ

واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی اُمتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ تسلی رکھیں ۔ آپ کو آپ کی قوم کا جھٹلانا کوئی انوکھی بات نہیں کون سا نبی آیا جو جھٹلایا نہ گیا ؟ باقی رہے جھٹلانے والے وہ شیطان کے مرید ہیں ۔ برائیاں انہیں شیطانی وسواس سے بھلائیاں دکھائی دیتی ہیں ۔

فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۶۳)

وہ شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔‏

ان کا ولی شیطان ہے وہ انہیں کوئی نفع پہنچانے والا نہیں ۔ ہمیشہ کے لئے مصیبت افزا عذابوں میں چھوڑ کر ان سے الگ ہو جائے گا ۔

وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ۙ

اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ ان کے لئے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں

قرآن حق و باطل میں سچ جھوٹ میں تمیز کرانے والی کتاب ہے ، ہر جھگڑا اور ہر اختلاف کا فیصلہ اس میں موجود ہے ۔

وَهُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۶۴)

اور یہ ایمان داروں کے لئے راہنمائی اور رحمت ہے۔‏

یہ دلوں کے لئے ہدایت ہے اور ایماندار جو اس پر عامل ہیں ، ان کے لئے رحمت ہے ۔

وَاللَّهُ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (۶۵)

اور اللہ آسمان سے پانی برسا کر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو سنیں۔‏

اس قرآن سے کس طرح مردہ دل جی اٹھتے ہیں ، اس کی مثال مردہ زمین اور بارش کی ہے جو لوگ بات کو سنیں ، سمجھیں وہ تو اس سے بہت کچھ عبرت حاصل کر سکتے ہیں ۔

وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ

تمہارے لئے تو چوپایوں میں بھی بڑی عبرت ہے

اونٹ گائے بکری وغیرہ بھی اپنے خالق کی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں ۔

نُسْقِيكُمْ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ (۶۶)

کہ ہم تمہیں اسکے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے سہتا پچتا ہے ۔

بُطُونِهِ میں ضمیر کو یا تو نعمت کے معنی پر لوٹایا ہے یا حیوان پر چوپائے بھی حیوان ہی ہیں ۔ ان حیوانوں کے پیٹ میں جو الا بلا بھری ہوئی ہوتی ہے ۔ اسی میں سے پروردگار عالم تمہیں نہایت خوش ذائقہ لطیف اور خوشگوار دودھ پلاتا ہے ۔

دوسری آیت میں بُطُونِهَا ہے دونوں باتیں جائز ہیں ۔ جیسے آیت  وَإِنِّي مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةٌ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُونَ فَلَمَّا جَاءَ سُلَيْمَانَ (۲۷:۳۵،۳۶)ہے پس جَاءَ میں مذکر لائے ۔

مراد اس سے مال ہے جانور کے باطن میں جو گوبر خون وغیرہ ہے، معدے میں غذا پہنچی وہاں سے خون رگوں کی طرف دوڑ گیا ، دودھ تھن کی طرف پہنچا ، پیشاب نے مثانے کا راستہ پکڑا ، گوبر اپنے مخرج کی طرف جمع ہوا نہ ایک دو سرے سے ملے نہ ایک دوسرے کو بدلے ۔ یہ خالص دودھ جو پینے والے کے حلق میں با آرام اتر جائے اس کی خاص نعمت ہے ۔

وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ

اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو اور عمدہ روزی بھی۔

اس نعمت کے بیان کے ساتھ ہی دوسری نعمت بیان فرمائی کہ کھجور اور انگور کے شیرے سے تم شراب بنا لیتے ہو ۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے ہے ۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں چیزوں کی شراب ایک ہی حکم میں ہے جیسے مالک رحمتہ اللہ علیہ شافعی رحمتہ اللہ علیہ احمد اور جمہور علماء کا مذہب ہے اور یہی حکم ہے اور شرابوں کا جو گیہوں جو ، جوار اور شہد سے بنائی جائیں جیسے کہ احادیث میں مفصل آ چکا ہے ۔ یہ جگہ اس کی تفصیل کی نہیں ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں شراب بناتے ہو جو حرام ہے اور اور طرح کھاتے پیتے ہو جو حلال ہے مثلاً خشک کھجوریں، کشمش وغیرہ اور نیند شربت بنا کر ، سرکہ بنا کر اور کئی اور طریقوں سے ۔

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۶۷)

 جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔‏

 پس جن لوگوں کو عقل کا حصہ دیا گیا ہے، وہ اللہ کی قدرت و عظمت کو ان چیزوں اور ان نعمتوں سے بھی پہچان سکتے ہیں ۔ دراصل جو ہر انسانیت عقل ہی ہے ۔ اسی کی نگہبانی کے لئے شریعت مطہرہ نے نشے والی شرابیں اس اُمت پر حرام کر دیں ۔ اسی نعمت کا بیان سورہ یٰسین کی آیت میں ہے :

وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّـتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَـبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ ـ لِيَأْكُلُواْ مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلاَ يَشْكُرُونَ ـ سُبْحَـنَ الَّذِى خَلَق الاٌّزْوَجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الاٌّرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لاَ يَعْلَمُونَ  (۳۶:۳۴،۳۶)

اور ہم نے اس میں کھجوروں کے اور انگور کے باغات پیدا کر دیئے اور جن میں ہم نے چشمے بھی جاری کر دیئے ہیں۔‏ تاکہ (لوگ) اس کے پھل کھائیں اور اس کو ان کے ہاتھوں نے نہیں بنایا پھر کیوں شکر گزاری نہیں کرتے۔‏ وہ پاک ذات ہے جس نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہوں، خواہ خود ان کے نفوس ہوں خواہ وہ (چیزیں) ہوں جنہیں یہ جانتے بھی نہیں

وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ (۶۸)

آپکے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا‏

وحی سے مراد یہاں پر الہام ، ہدایت اور ارشاد ہے ۔ شہد کی مکھیوں کو اللہ کی جانب سے یہ بات سمجھائی گئی کہ وہ پہاڑوں میں ، درختوں میں اور چھتوں میں شہد کے چھتے بنائے ۔ اس ضعیف مخلوق کے اس گھر کو دیکھئے کتنا مضبوط کیسا خوبصورت اور کیسی کاریگری کا ہوتا ہے ۔

ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ

اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی رہ،

پھر اسے ہدایت کی اور اس کے لئے مقدر کر دیا کہ یہ پھلوں ، پھولوں اور گھاس پات کے رس چوستی پھرے اور جہاں چاہے جائے ، آئے لیکن واپس لوٹتے وقت سیدھی اپنے چھتے کو پہنچ جائے ۔ چاہے بلند پہاڑ کی چوٹی ہو ، چاہے بیابان کے درخت ہوں ، چاہے آ بادی کے بلند مکانات اور ویرانے کے سنسان کھنڈر ہوں ، یہ نہ راستہ بھولے ، نہ بھٹکتی پھرے ، خواہ کتنی ہی دور نکل جائے ۔ لوٹ کر اپنے چھتے میں اپنے بچوں ، انڈوں اور شہد میں پہنچ جائے ۔ اپنے پروں سے موم بنائے ۔ اپنے منہ سے شہد جمع کرے اور دوسری جگہ سے بچے ۔ ذُلُلًا کی تفسیر اطاعت گزار اور مسخر سے بھی کی گئی ہے پس یہ حال ہو گا سالکہ کا جیسے قرآن میں اس آیت میں بھی یہی معنی مراد ہے ۔

وَذَلَّلْنَـهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ  (۳۶:۷۲)

اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کے تابع فرمان کردیا جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔‏

اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ لوگ شہد کے چھتے کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک لے جاتے ہیں ۔ لیکن پہلا قول بہت زیادہ ظاہر ہے یعنی یہ اس کے طریق کا حال ہے ۔ ابن اجریر دونوں قول صحیح بتلاتے ہیں ۔

ابو یعلی موصلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 مکھی کی عمر چالیس دن کی ہوتی ہے سوائے شہد کی مکھی کے ۔

يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ ۗ

 ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے

شہد کے رنگ مختلف ہوتے ہیں سفید زرد سرخ وغیرہ جیسے پھل پھول اور جیسی زمین ۔

 اس ظاہری خوبی اور رنگ کی چمک کے ساتھ اس میں شفا بھی ہے ، بہت سی بیماریوں کو اللہ تعالیٰ اس سے دور کر دیتا ہے

یہاں فِيهِ الشِفَاءٌ لِلنَّاسِ نہیں فرمایا ورنہ ہر بیماری کی دوا یہی ٹھہرتی بلکہ فرمایا فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ اس میں شفا ہے لوگوں کے لئے پس یہ سرد بیماریوں کی دوا ہے ۔ علاج ہمیشہ بیماریوں کے خلاف ہوتا ہے پس شہد گرم ہے سردی کی بیماری میں مفید ہے۔

 مجاہد اور ابن جریر سے منقول ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے یعنی قرآن میں شفا ہے ۔

یہ قول گو اپنے طور پر صحیح ہے اور واقعی قرآن شفا ہے لیکن اس آیت میں یہ مراد لینا سیاق کے مطابق نہیں ۔ اس میں تو شہد کا ذکر ہے، اسی لئے مجاہد کے اس قول کی اقتدا نہیں کی گئی ۔ ہاں قرآن کے شفا ہونے کا ذکر آیت وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ (۱۷:۸۲)  میں ہے اور آیت وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ (۱۰:۵۷) میں ہے اس آیت میں تو مراد شہد ہے

چنانچہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے:

 کسی نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ ،

وہ گیا ، شہد دیا ،

 پھر آیا اور کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے تو بیماری اور بڑھ گئی ۔

 آپ ﷺنے فرمایا جا اور شہد پلاؤ ۔

 اس نے جا کر پھر پلایا ، پھر حاضر ہو کر یہی عرض کیا کہ دست اور بڑھ گئے

 آپ ﷺ نے فرمایا اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ، جا پھر شہد دے ۔

 تیسری مرتبہ شہد سے بفضل الہٰی شفا حاصل ہو گئی ۔

 بعض اطباء نے کہا ہے ممکن ہے اس کے پیٹ میں فضلے کی زیادتی ہو ، شہد نے اپنی گرمی کی وجہ سے اس کی تحلیل کر دی ۔ فضلہ خارج ہونا شروع ہوا ۔ دست بڑھ گئے ۔ اعرابی نے اسے مرض کا بڑھ جانا سمجھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور شہد دینے کو فرمایا اس سے زور سے فضلہ خارج ہونا شروع ہوا پھر شہد دیا ، پیٹ صاف ہو گیا ، بلا نکل گئی اور کامل شفا بفضل الہی حاصل ہو گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات جو بہ اشارہ الہٰی پوری ہو گئی ۔

 بخاری اور مسلم کی ایک اور حدیث میں ہے:

 سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد سے بہت الفت تھی ۔

 آپ ﷺکا فرمان ہے کہ تین چیزوں میں شفا ہے ،

-         پچھنے لگانے میں ،

-        شہد کے پینے میں

-         اور داغ لگوانے میں

 لیکن میں اپنی امت کو داغ لگوانے سے روکتا ہوں ۔

بخاری شریف کی حدیث میں ہے:

 تمہاری دواؤں میں سے کسی میں اگر شفا ہے تو پچھنے لگانے میں ، شہد کے پینے میں اور آگ سے دغوا نے میں جو بیماری کے مناسب ہو لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا ۔

 مسلم کی حدیث میں ہے میں اسے پسند نہیں کرتا بلکہ نا پسند رکھتا ہوں ۔

 ابن ماجہ میں ہے تم ان دونوں شفاؤں کی قدر کرتے رہو شہد اور قرآن ۔

 ابن جریر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ جب تم میں سے کوئی شفا چاہے تو قرآن کریم کی کسی آیت کو کسی صحیفے پر لکھ لے اور اسے بارش کے پانی سے دھولے اور اپنی بیوی کے مال سے اس کی اپنی رضامندی سے پیسے لے کر شہد خرید لے اور اسے پی لے پس اس میں کئی وجہ سے شفا آ جائے گی اللہ تعالیٰ عز و جل کا فرمان ہے:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ (۱۷:۸۳)

ہم نے قرآن میں وہ نازل فرمایا ہے جو مؤمنین کے لیے شفا ہے اور رحمت ہے

 اور آیت میں ہے:

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا (۵۰:۹)

ہم آسمان سے با برکت پانی برساتے ہیں ۔

 اور فرمان ہے:

فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَّرِيئًا (۴:۴)

اگر عورتیں اپنے مال مہر میں سے اپنی خوشی سے تمہیں کچھ دے دیں تو بیشک تم اسے کھاؤ پیو سہتا پچتا ۔

 شہد کے بارے میں فرمان الہٰی ہے فیہ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ شہد میں لوگوں کے لئے شفاء ہے ۔

 ابن ماجہ میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کو شہد چاٹ لے اسے کوئی بڑی بلا نہیں پہنچے گی ۔

 اس کا ایک راوی زبیر بن سعید متروک ہے ۔

 ابن ماجہ کی اور حدیث میں آپ کا فرمان ہے:

 تم سنا اور سنوت کا استعمال کیا کرو ان میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے ۔

 لوگوں نے پوچھا سام کیا ؟

 فرمایا موت ۔

سنوت کے معنی ثبت کے ہیں اور لوگوں نے کہا ہے سنوت شہد ہے جو گھی کی مشک میں رکھا ہوا ہو۔

 شاعر کے شعر میں یہ لفظ اس معنی میں آیا ہے

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (۶۹)

غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔

 پھر فرماتا ہے کہ مکھی جیسی بےطاقت چیز کا تمہارے لئے شہد اور موم بنانا اس کا اس طرح آ زادی سے پھرنا اپنے گھر کو نہ بھولنا وغیرہ

یہ سب چیزیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے میری عظمت ، خالقیت اور مالکیت کی بڑی نشانیاں ہیں ۔ اسی سے لوگ اپنے اللہ کے قادر حکیم علیم کریم رحیم ہونے پر دلیل حاصل کر سکتے ہیں ۔

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفَّاكُمْ ۚ

اللہ تعالیٰ ہی نے تم سب کو پیدا کیا وہی پھر تمہیں فوت کرے گا،

تمام بندوں پر قبضہ اللہ تعالیٰ کا ہے ، وہی انہیں عدم وجود میں لایا ہے ، وہی انھیں پھر فوت کرے گا

وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ (۷۰)

تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جانتے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں بیشک اللہ دانا اور توانا ہے۔‏

بعض لوگوں کو بہت بڑی عمر تک پہنچاتا ہے کہ وہ پھر سے بچوں جیسے ناتواں بن جاتے ہیں ۔

اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ (۳۰:۵۴)

اللہ تعالیٰ  وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی دی،

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پچھتر سال کی عمر میں عموما انسان ایسا ہی ہو جاتا ہے طاقت ختم ہو جاتی ہے حافظہ جاتا رہتا ہے ۔ علم کی کمی ہو جاتی ہے عالم ہونے کے بعد بےعلم ہو جاتا ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے:

اَللھُم اِنی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَات

اے اللہ میں بخیلی سے ، عاجزی سے ، بڑھاپے سے ، ذلیل عمر سے ، قبر کے عذاب سے ، دجال کے فتنے سے ، زندگی اور موت کے فتنے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ۔

زہیر بن ابو سلمہ نے بھی اپنے مشہور قصیدہ معلقہ میں اس عمر کو رنج و غم کا مخزن و منبع بتایا ہے۔

وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ

اللہ تعالیٰ ہی نے تم سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے،

مشرکین کی جہالت اور ان کے کفر کا بیان ہو رہا ہے کہ اپنے معبودوں کو اللہ کے غلام جاننے کے باوجود ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں ۔ چنانچہ حج کے موقع پر وہ کہا کرتے تھے

لبیک لا شریک لک الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک تملکہ وما ملک

اے اللہ میں تیرے پاس حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ جو خود تیرے غلام ہیں ان کا اور ان کی ماتحت چیزوں کا اصلی مالک تو ہی ہے۔

فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ

پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اپنے ما تحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وہ اور یہ اس میں برابر ہوجائیں

پس اللہ تعالیٰ انہیں الزام دیتا ہے کہ جب تم اپنے غلاموں کی اپنی برابری اور اپنے مال میں شرکت پسند نہیں کرتے تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک ٹھہرا رہے ہو ؟

 یہی مضمون آیت میں بیان ہوا ہے۔

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلاً مِّنْ أَنفُسِكُمْ هَلْ لَّكُمْ مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَـنُكُمْ مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَـكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ (۳۰:۲۸)

اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی ہے، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجے کے ہو؟ اور تم ان کا ایسا خطرہ رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا

 یعنی جب تم اپنے غلاموں کو اپنے مال میں اپنی بیویوں میں اپنا شریک بنانے سے نفرت کرتے ہو تو پھر میرے غلاموں کو میری الوہیت میں کیسے شریک سمجھ رہے ہو ؟ یہی اللہ کی نعمتوں سے انکار ہے کہ اللہ کے لئے وہ پسند کرنا ، جو اپنے لئے بھی پسند نہ ہو ۔

 یہ ہے مثال معبودان باطل کی ۔

أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ (۷۱)

تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں۔‏

جب تم خود اس سے الگ ہو پھر اللہ تو اس سے بہت زیادہ بےزار ہے ۔ رب کی نعمتوں کا کفر اور کیا ہو گا کہ کھیتیاں چوپائے ایک اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور تم انہیں اس کے سوا اوروں کے نام سے منسوب کرو ۔

 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو ایک رسالہ لکھا کہ اپنی روزی پر قناعت اختیار کرو اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک سے زیادہ امیر کر رکھا ہے یہ بھی اس کی طرف سے ایک آزمائش ہے کہ وہ دیکھے کہ امیر امراء کس طرح شکر الہی ادا کر تے ہیں اور جو حقوق دوسروں کے ان پر جناب باری نے مقرر کئے ہیں کہاں تک انہیں ادا کرتے ہیں ۔

وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَنِينَ وَحَفَدَةً

اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے

اپنے بندوں پر اپنا ایک اور احسان جتاتا ہے کہ انہی کی جنس سے انہی کی ہم شکل ، ہم وضع عورتیں ہم نے ان کے لئے پیدا کیں ۔ اگر جنس اور ہوتی تو دلی میل جول ، محبت و موعدت قائم نہ رہتی لیکن اپنی رحمت سے اس نے مرد عورت ہم جنس بنائے ۔ پھر اس جوڑے سے نسل بڑھائی ، اولاد پھیلائی ، لڑکے ہوئے ، لڑکوں کے لڑکے ہوئے ،

حَفَدَةً کے ایک معنی تو یہی پوتوں کے ہیں ، دوسرے معنی خادم اور مددگار کے ہیں پس لڑکے اور پوتے بھی ایک طرح خدمت گزار ہوتے ہیں اور عرب میں یہی دستور بھی تھا ۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں انسان کی بیوی کی سابقہ گھر کی اولاد اس کی نہیں ہوتی ۔

حَفَدَةً اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کے سامنے اس کے لئے کام کاج کرے ۔

 یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اس سے مراد دامادی رشتہ ہے اس کے معنی کے تحت میں یہ سب داخل ہیں ،

چنانچہ قنوت میں جملہ آتا ہے والیک نسعی ونحفد ہماری سعی کوشش اور خدمت تیرے لئے ہی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اولاد سے ،غلام سے ، سسرال والوں سے ، خدمت حاصل ہوتی ہے ان سب کے پاس سے نعمت الہی ہمیں ملتی ہے ۔

 ہاں جن کے نزدیک حَفَدَةً کا تعلق ازواجا سے ہے ان کے نزدیک تو مراد اولاد اور اولاد کی اولاد اور داماد اور بیوی کی اولاد ہیں ۔

 پس یہ سب بسا اوقات اسی شخص کی حفاظت میں ، اس کی گود میں اور اس کی خدمت میں ہوتے ہیں اور ممکن ہے کہ یہی مطلب سامنے رکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو کہ اولاد تیری غلام ہے ۔ جیسے کہ ابو داؤد میں ہے

 اور جنہوں نے حَفَدَةً سے مراد خادم لیا ہے ۔ ان کے نزدیک یہ معطوف ہے اللہ کے فرمان آیت وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا پر  یعنی  اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں اور اولاد کو خادم بنا دیا ہے

وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ۚ

 اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔

اور تمہیں کھانے پینے کی بہترین ذائقے دار چیزیں عنایت فرمائی ہیں

أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ (۷۲)

 کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان لائیں گے؟ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے۔‏

 پس باطل پر یقین رکھ کر  اللہ کی نعمتوں کی ناشکری نہ کرنی چاہئے ۔ رب کی نعمتوں پر پردہ ڈال دیا اور ان کی دوسروں کی طرف نسبت کر دی ۔

صحیح حدیث میں ہے :

 قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے احسان جتاتے ہوئے فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی نہیں دی تھی ؟ میں نے تجھے ذی عزت نہیں بنایا تھا ؟ میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تیرے تابع نہیں کیا تھا اور میں نے تجھے سرداری میں اور آرام میں نہیں چھوڑا تھا ؟

وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ (۷۳)

اور وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ قدرت رکھتے ہیں .

نعمتیں دینے والا ، پیدا کرنے والا ، روزی پہنچانے والا ، صرف اللہ تعالیٰ اکیلا وحدہ لا شریک لہ ہے ۔

 اور یہ مشرکین اس کے ساتھ اوروں کو پوجتے ہیں جو نہ آسمان سے بارش برسا سکیں ، نہ زمین سے کھیت اور درخت اگا سکیں ۔

 وہ اگر سب مل کر بھی چاہیں تو بھی نہ ایک بوند بارش برسانے پر قادر ، نہ ایک پتے کے پیدا کرنے ان میں سکت

فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (۷۴)

پس اللہ تعالیٰ کے لئے مثالیں مت بناؤ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‏

 پس تم اللہ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو ۔اس کے شریک و سہیم اور اس جیسا دوسروں کو نہ سمجھو ۔ اللہ عالم ہے اور وہ اپنے علم کی بنا پر اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے ۔ تم جاہل ہو ، اپنی جہالت سے دوسروں کو اللہ کے شریک ٹھہرا رہے ہو ۔

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا ۖ هَلْ يَسْتَوُونَ ۚ

اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہو سکتے ہیں؟

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں یہ کافر اور مؤمن کی مثال ہے ۔

پس ملکیت کے غلام سے مراد کافر اور اچھی روزی والے اور خرچ کرنے والے سے مراد مؤمن ہے ۔ مجاہد فرماتے ہیں اس مثال سے بت کی اور اللہ تعالیٰ کی جدائی سمجھانا مقصود ہے کہ یہ اور وہ برابر کے نہیں ۔ اس مثال کا فرق اس قدر واضح ہے جس کے بتانے کی ضرورت نہیں ،

الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۷۵)

اللہ تعالیٰ ہی کے لئے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔‏

 اسی لئے فرماتا کہ تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے ۔ اکثر مشرک بےعلمی پر تلے ہوئے ہیں ۔

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَى مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّهْهُ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ

اللہ تعالیٰ ایک اور مثال بیان فرماتا ہے دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیج دو کوئی بھلائی نہیں لاتا،

ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی اس فرق کے دکھانے کی ہو جو اللہ تعالیٰ میں اور مشرکین کے بتوں میں ہے ۔ یہ بت گونگے ہیں نہ کلام کر سکیں نہ کوئی بھلی بات کہہ سکیں ، نہ کسی چیز پر قدرت رکھیں ۔ قول و فعل دونوں سے خالی ۔پھر محض بوجھ ، اپنے مالک پر بار ، کہیں بھی جائے کوئی بھلائی نہ لائے ۔

هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَنْ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۷۶)

کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے اور ہے بھی سیدھی راہ پر، برابر ہو سکتے ہیں؟‏

 پس ایک تو یہ اور وہ جو عدل کا حکم کرتا رہے اور خود بھی راہ مستقیم پر ہو۔ یعنی قول و فعل دونوں کے اعتبار سے بہتر یہ دونوں کیسے برابر ہو جائیں گے ؟

ایک قول ہے کہ گونگا حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام تھا ۔

 اور ہو سکتا ہے کہ یہ مثال بھی کافر و مؤمن کی ہو جیسے اس سے پہلے کی آیت میں تھی ۔

 کہتے ہیں کہ قریش کے ایک شخص کے غلام کا ذکر پہلے ہے اور دوسرے شخص سے مراد حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں ۔

اور غلام گونگے سے مراد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ غلام ہے جس پر آپ خرچ کرتے تھے جو آپ کو تکلیف پہنچاتا رہتا تھا اور آپ نے اسے کام کاج سے آزاد کر رکھا تھا لیکن پھر بھی یہ اسلام سے چڑتا تھا ، منکر تھا اور آپ کو صدقہ کرنے اور نیکیاں کرنے سے روکتا تھا ، ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ۔

وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ

آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے

اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم اور کمال قدرت کو بیان فرما رہا ہے کہ زمین آسمان کا غیب وہی جانتا ہے ، کوئی نہیں جو غیب دان ہو اللہ جسے چاہے ، جس چیز پر چاہے ، اطلاع دے دے ۔ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے نہ کوئی اس کا خلاف کر سکے ۔ نہ کوئی اسے روک سکے

وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ (۵۴:۵۰)

 اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا۔‏

جس کام کا جب ارادہ کرے ، قادر ہے پورا ہو کر ہی رہتا ہے آنکھ بند کر کے کھولنے میں تو تمہیں کچھ دیر لگتی ہو گی لیکن حکم الہٰی کے پورا ہونے میں اتنی دیر بھی نہیں لگتی ۔

وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۷۷)

اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے ۔

قیامت کا آنا بھی اس پر ایسا ہی آسان ہے ، وہ بھی حکم ہوتے ہی آ جائے گی ۔

مَّا خَلْقُكُمْ وَلاَ بَعْثُكُمْ إِلاَّ كَنَفْسٍ وَحِدَةٍ (۳۱:۲۸)

ایک کا پیدا کرنا اور سب کا پیدا کرنا اس پر یکساں ہے ۔

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا

اللہ تعالیٰ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے،

اللہ کا احسان دیکھو کہ اس نے لوگوں کو ماؤں کے پیٹوں سے نکالا یہ محض نادان تھے

وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۷۸)

اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو ۔

پھر انہیں کان دئیے جس سے وہ سنیں ، آنکھیں دیں جس سے دیکھیں ، دل دئیے جس سے سوچیں اور سمجھیں ۔

 عقل کی جگہ دل ہے اور دماغ بھی کہا گیا ہے۔عقل سے ہی نفع نقصان معلوم ہوتا ہے

یہ قوی اور حواس انسان کو بتدریج تھوڑے تھوڑے ہو کر ملتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ اس کی بڑھوتری بھی ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ کمال کو پہنچ جائیں ۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انسان اپنی ان طاقتوں کو اللہ کی معرفت اور عبادت میں لگائے رہے ۔

صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے:

جو میرے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی کا اعلان کرتا ہے ۔ میرے فرائض کی بجا آوری سے جس قدر بندہ میری قربت حاصل کر سکتا ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں کر سکتا ۔ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے ۔

 جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں ہی اس کے کان بن جاتا ہوں ، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے پیر بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۔

 وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں ، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں ، اگر پناہ چاہے میں پناہ دیتا ہوں

 اور مجھے کسی کام کے کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا مؤمن کی روح کے قبض کرنے میں موت کو ناپسند کرتا ہے ۔ میں اسے ناراض کرنا نہیں چاہتا اور موت ایسی چیز ہی نہیں جس سے کسی ذی روح کو نجات مل سکے ۔

 اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب مؤمن اخلاص اور اطاعت میں کامل ہو جاتا ہے تو اس کے تمام افعال محض اللہ کے لئے ہو جاتے ہیں وہ سنتا ہے اللہ کے لئے ، دیکھتا ہے اللہ کے لئے ، یعنی شریعت کی باتیں سنتا ہے، شریعت نے جن چیزوں کا دیکھنا جائز کیا ہے، انہی کو دیکھتا ہے ، اسی طرح اس کا ہاتھ بڑھانا ، پاؤں چلانا بھی اللہ کی رضامندی کے کاموں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اللہ پر اس کا بھروسہ رہتا ہے اسی سے مدد چاہتا ہے ، تمام کام اس کے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے ہی ہوتے ہیں ۔

 اس لئے بعض غیر صحیح احادیث میں اس کے بعد یہ بھی آیا ہے کہ پھر وہ میرے ہی لئے سنتا ہے اور میرے ہی لئے دیکھتا ہے اور میرے لئے پکڑتا ہے اور میرے لئے ہی چلتا پھرتا ہے ۔

 آیت میں بیان ہے کہ ماں کے پیٹ سے وہ نکالتا ہے ، کان ، آنکھ ، دل ، دماغ وہ دیتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو

قُلْ هُوَ الَّذِى أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالاٌّبْصَـرَ وَالاٌّفْئِدَةَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ ـ قُلْ هُوَ الَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى الاٌّرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (۶۷:۲۳،۲۴)

کہہ دیجئے کہ وہی اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو

کہہ دیجئے! کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا اور اس کی طرف تم اکٹھے کئے جاؤ گے۔

أَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرَاتٍ فِي جَوِّ السَّمَاءِ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ۗ

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں، جنہیں بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں،

پھر اللہ پاک رب العالمین اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ ان پرندوں کی طرف دیکھو جو آسمان و زمین کے درمیان کی فضا میں پرواز کرتے پھرتے ہیں ، انہیں پروردگار ہی اپنی قدرت کاملہ سے تھامے ہوئے ہے۔ یہ قوت پرواز اسی نے انہیں دے رکھی ہے اور ہواؤں کو ان کا مطیع بنا رکھا ہے ۔

سورہ ملک میں بھی یہی فرمان ہے:

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَــفَّـتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلاَّ الرَّحْمَـنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ بَصِيرٌ (۶۷:۱۹)

کیا وہ اپنے سروں پر اڑتے ہوئے پرندوں کو نہیں دیکھتے ؟ جو پر کھولے ہوئے ہیں اور پر سمیٹے ہوئے بھی ہیں انہیں بجز اللہ رحمان و رحیم کے کون تھامتا ہے ؟

وہ اللہ تمام مخلوق کو بخوبی دیکھ رہا ہے ،

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (۷۹)

بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔

یہاں بھی خاتمے پر فرمایا کہ اس میں ایمانداروں کے لئے بہت سے نشان ہیں ۔

وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ سَكَنًا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنْ جُلُودِ الْأَنْعَامِ بُيُوتًا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ

اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیئے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی،

قدیم اور بہت بڑے ان گنت احسانات وانعامات والا اللہ اپنی اور نعمتیں ظاہر فرما رہا ہے۔ اسی نے بنی آدم کے رہنے سہنے آرام اور راحت حاصل کرنے کے لئے انہیں مکانات دے رکھے ہیں ۔ اسی طرح چوپائے ، جانوروں کی کھالوں کے خیمے، ڈیرے ، تمبواس نے عطا فرما رکھے ہیں کہ سفر میں کام آئیں ، نہ لے جانا دو بھر نہ لگانا مشکل ، نہ اکھیڑنے میں کوئی تکلیف۔

 پھر بکریوں کے بال ، اونٹوں کے بال ، بھیڑوں اور دنبوں کی اون ، تجارت کے لئے مال کے طور پر اسے تمہارے لیے بنایا ہے ۔ وہ گھر کے برتنے کی چیز بھی ہے اس سے کپڑے بھی بنتے ہیں ، فرش بھی تیار ہوتے ہیں ، تجارت کے طور پر مال تجارت ہے۔ فائدے کی چیز ہے جس سے لوگ مقررہ وقت تک سود مند ہوتے ہیں ۔

 درختوں کے سائے اس نے تمہارے فائدے اور راحت کے لئے بنائے ہیں ۔ پہاڑوں پر غار قلعے وغیرہ اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ ان میں پناہ حاصل کرو۔ چھپنے اور رہنے سہنے کی جگہ بنا لو ۔

وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَا أَثَاثًا وَمَتَاعًا إِلَى حِينٍ (۸۰)

اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقررہ تک کے لئے فائدہ کی چیزیں بنائیں ۔

سوتی ، اونی اور بالوں کے کپڑے اس نے تمہیں دے رکھے ہیں کہ پہن کر سردی گرمی کے بچاؤ کے ساتھ ہی اپنا ستر چھپاؤ اور زیب و زینت حاصل کرو اور اس نے تمہیں زرہیں ، خود بکتر عطا فرمائے ہیں جو دشمنوں کے حملے اور لڑائی کے وقت تمہیں کام دیں ۔

 اسی طرح وہ تمہیں تمہاری ضرورت کی پوری پوری نعمتیں دئیے جاتا ہے کہ تم راحت وآ رام پاؤ اور اطمینان سے اپنے منعم حقیقی کی عبادت میں لگے رہو ۔

كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُونَ (۸۱)

وہ اس طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ۔‏

تُسْلِمُونَ کی دوسری قرأت تَسْلَمُونَ بھی ہے ۔ یعنی تم سلامت رہو ۔

 اور پہلی قرأت کے معنی تاکہ تم فرما نبردار بن جاؤ ۔

 اس سورہ کا نام سورۃ النعم بھی ہے ۔

 لام کے زبر والی قرأت سے یہ بھی مراد ہے کہ تم کو اس نے لڑائی میں کام آنے والی چیزیں دیں کہ تم سلامت رہو ، دشمن کے وار سے بچو ۔ بیشک جنگل اور بیابان بھی اللہ کی بڑی نعمت ہیں

لیکن یہاں پہاڑوں کی نعمت اس لئے بیان کی کہ جب سے کلام ہے وہ پہاڑوں کے رہنے والے تھے تو ان کی معلومات کے مطابق ان سے کلام ہو رہا ہے اسی طرح چونکہ وہ بھیڑ بکریوں اور اونٹوں والے تھے انہیں یہی نعمتیں یاد دلائیں حالانکہ ان سے بڑھ کر اللہ کی نعمتیں مخلوق کے ہاتھوں میں اور بھی بیشمار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سردی کے اتارنے کا احسان بیان فرمایا حالانکہ اس سے اور بڑے احسانات موجود ہیں ۔ لیکن یہ ان کے سامنے اور ان کی جانی پہچانی چیز تھی ۔

اسی طرح چونکہ یہ لڑنے بھڑنے والے جنگجو لوگ تھے ، لڑائی کے بچاؤ کی چیز بطور نعمت ان کے سامنے رکھی حالانکہ اس سے صدہا درجے بڑی اور نعمتیں بھی مخلوق کے ہاتھ میں موجود ہیں ۔ اسی طرح چونکہ ان کا ملک گرم تھا فرمایا کہ لباس سے تم گرمی کی تکلیف زائل کرتے ہو ورنہ کیا اس سے بہتر اس منعم حقیقی کی اور نعمتیں بندوں کے پاس نہیں ؟

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ الْمُبِينُ (۸۲)

پھر بھی اگر یہ منہ موڑے رہیں تو آپ پر صرف کھول کر تبلیغ کر دینا ہی ہے۔‏

اسی لئے ان نعمتوں اور رحمتوں کے اظہار کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اگر اب بھی یہ لوگ میری عبادت اور توحید کے اور میرے بےپایاں احسانوں کے قائل نہ ہوں تو تجھے ان کی ایسی کیا پڑی ہے ؟ چھوڑ دے اپنے کام میں لگ جا تجھ پر تو صرف تبلیغ ہی ہے وہ کئے جا ۔

يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ (۸۳)

یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں

 یہ خود جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا دینے والا ہے اور اس کی بیشمار نعمتیں ان کے ہاتھوں میں ہیں لیکن باوجود علم کے منکر ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کر تے ہیں بلکہ اس کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مددگار فلاں ہے رزق دینے والا فلاں ہے ، یہ اکثر لوگ کافر ہیں ، اللہ کے ناشکرے ہیں ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے:

 ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے اس آیت کی تلاوت اس  کے سامنے کی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں رہنے سہنے کی جگہ کے لئے گھر اور مکانات دیئے

  اس نے کہا سچ ہے

پھر آپ ﷺ نے پڑھا کہ اس نے تمہیں چوپایوں کی کھالوں کے خیمے دئیے

اس نے کہا یہ بھی سچ ہے ،

اسی طرح آپ ان آیتوں کو پڑھتے گئے اور وہ ہر ایک نعمت کا اقرار کرتا رہا آخر میں آپ نے پڑھا اس لئے کہ تم مسلمان اور مطیع ہو جاؤ اس وقت وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا ۔

 تو اللہ تعالیٰ نے آخری آیت اتاری کہ اقرار کے بعد انکار کر کے کافر ہو جاتے ہیں ۔

وَيَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا ثُمَّ لَا يُؤْذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ (۸۴)

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا۔‏

قیامت کے دن مشرکوں کی جو بری حالت بنے گی اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس دن ہر اُمت پر اس کا نبی گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام انہیں پہنچا دیا تھا کافروں کو کسی عذر کی بھی اجازت نہ ملے گی کیونکہ ان کا بطلان اور جھوٹ بالکل ظاہر ہے ۔

سورۃ والمرسلات میں بھی یہی فرمان ہے:

هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ ـ وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (۷۷:۳۵،۳۶)

اس دن نہ وہ بولیں گے ، نہ انہیں کسی عذر کی اجازت ملے گی ۔

وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ (۸۵)

اور جب یہ ظالم عذاب دیکھ لیں گے پھر نہ تو ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ ڈھیل دیئے جائیں گے ۔

مشرکین عذاب دیکھیں گے لیکن پھر کوئی کمی نہ ہو گی ایک ساعت بھی عذاب ہلکا نہ ہو گا نہ انہیں کوئی مہلت ملے گی اچانک پکڑ لئے جائیں گے۔ جہنم آ موجود ہو گی جو ستر ہزار لگاموں والی ہو گی ۔ جس کی ایک لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے ۔ اس میں سے ایک گردن نکلے گی جو اس طرح پھن پھیلائے گی کہ تمام اہل محشر خوف زدہ ہو کر بل گر پڑیں گے ۔ اس وقت جہنم اپنی زبان سے باآواز بلند اعلان کرے گی کہ میں اس ہر ایک سرکش ضدی کے لئے مقرر کی گئی ہوں ۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا ہو اور ایسے ایسے کام کئے ہوں چنانچہ وہ کئی قسم کے گنہگاروں کا ذکر کرے گی ۔

 جیسے کہ حدیث میں ہے

پھر وہ ان تمام لوگوں کو لپٹ جائے گی اور میدان محشر میں سے انہیں لپک لے گی جیسے کہ پرند دانہ چگتا ہے۔

 جیسے کہ فرمان باری ہے:

إِذَا رَأَتْهُمْ مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُواْ لَهَا تَغَيُّظاً وَزَفِيراً ـ وَإَذَآ أُلْقُواْ مِنْهَا مَكَاناً ضَيِّقاً مُّقَرَّنِينَ دَعَوْاْ هُنَالِكَ ثُبُوراً ـ لاَّ تَدْعُواْ الْيَوْمَ ثُبُوراً وَحِداً وَادْعُواْ ثُبُوراً كَثِيراً  (۲۵:۱۲،۱۴)

جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے اور جب یہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں مشکیں کس کر پھینک دیئے جائیں گے تو وہاں اپنے لئے موت ہی موت پکاریں گے۔‏(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو  

اور آیت میں ہے :

وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّواْ أَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوهَا وَلَمْ يَجِدُواْ عَنْهَا مَصْرِفًا (۱۸:۵۰)

گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اس میں جھونک دئے جائیں گے لیکن کوئی بچاؤ نہ پائیں گے ۔

اور آیت میں ہے :

لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ حِينَ لاَ يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ النَّارَ وَلاَ عَن ظُهُورِهِمْ وَلاَ هُمْ يُنصَرُونَ ـ بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلاَ يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلاَ هُمْ يُنظَرُونَ (۲۱:۳۹،۴۰)

کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی  (ہاں ہاں!) وعدے کی گھڑی ان کے پاس اچانک آجائے گی اور انہیں ہکا بکا کر دے گی پھر نہ تو یہ لوگ اسے ٹال سکیں گے اور نہ ذرا سی بھی مہلت دیئے جائیں گے۔‏

وَإِذَا رَأَى الَّذِينَ أَشْرَكُوا شُرَكَاءَهُمْ قَالُوا رَبَّنَا هَؤُلَاءِ شُرَكَاؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُو مِنْ دُونِكَ ۖ فَأَلْقَوْا إِلَيْهِمُ الْقَوْلَ إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ (۸۶)

جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وہ ہمارے شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے، پس وہ انہیں جواب دیں گے کہ تم بالکل ہی جھوٹے ہو

اس وقت ان کے معبودان باطل جن کی عمر بھر عبادتیں اور نذریں نیازیں کرتے رہے ان سے بالکل بےنیاز ہو جائیں گے اور ان کی احتیاج کے وقت انہیں مطلقاً کام نہ آئیں گے ۔ انہیں دیکھ کر یہ کہیں گے کہ اے اللہ یہ ہیں جنہیں ہم دنیا میں پوجتے رہے تو وہ کہیں گے جھوٹے ہو ہم نے کب تم سے کہا تھا کہ اللہ چھوڑ کر ہماری پرستش کرو ؟

 اسی کو جناب باری نے فرمایا :

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ ـ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ (۴۶:۵،۶)

اس سے زیادہ کوئی گمراہ نہیں جو اللہ کے سوا انہیں پکارتا ہے جو اسے قیامت تک جواب نہ دیں بلکہ وہ ان کے پکار نے سے بھی بےخبر ہوں اور حشر کے دن ان کے دشمن ہو جانے والے ہوں اور ان کی عبادت کا انکار کر جانے والے ہوں۔

 اور آیتوں میں ہے:

وَاتَّخَذُواْ مِن دُونِ اللَّهِ ءالِهَةً لِّيَكُونُواْ لَهُمْ عِزّاً ـ كَلاَّ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَـدَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدّاً (۱۹:۸۱،۸۲)

اپنا حمایتی اور باعث عزت جان کر جنہیں یہ پکارتے رہے وہ تو ان کی عبادتوں کے منکر ہو جائیں گے ۔ اور ان کے مخالف بن جائیں گے

خلیل اللہ علیہ والسلام نے بھی یہی فرمایا :

ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ (۲۹:۲۵)

قیامت کے دن ایک دوسروں کے منکر ہو جائیں گے ۔

 اور آیت میں ہے:

وَقِيلَ ادْعُواْ شُرَكَآءَكُمْ (۲۸:۶۴)

 انہیں قیامت کے دن حکم ہو گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو

 اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں کلام اللہ میں موجود ہیں ۔

وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ ۖ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (۸۷)

اس دن وہ سب (عاجز ہو کر) اللہ کے سامنے اطاعت کا اقرار پیش کریں گے اور جو بہتان بازی کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہو جائے گی۔‏

اس دن سب کے سب مسلمان تابع فرمان ہو جائیں گے

 جیسے فرمان ہے:

أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا (۱۹:۳۸)

جس دن یہ ہمارے پاس آئیں گے ، اس دن خوب ہی سننے والے ، دیکھنے والے ہو جائیں گے ۔

 اور آیت میں ہے:

وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا (۳۲:۱۲)

تو دیکھے گا کہ اس دن گنہگار لوگ اپنے سر جھکائے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھ سن لیا ، ۔

 اور آیت میں ہے:

وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَىِّ الْقَيُّومِ (۲۰:۱۱۱)

سب چہرے اس دن اللہ حی و قیوم کے سامنے جھکے ہوئے ہوں گے ،

 تابع اور مطیع ہوں گے ، زیر فرمان ہوں گے ۔ ان کے سارے بہتان و افترا جاتے رہیں گے ۔ ساری چالاکیاں ختم ہو جائیں گی کوئی ناصر و مددگار کھڑا نہ ہو گا ۔

الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ (۸۸)

جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے یہ بدلہ ہوگا ان کی فتنہ پردازیوں کا۔‏

جنہوں نے کفر کیا ، انہیں ان کے کفر کی سزا ملے گی اور دوسروں کو بھی حق سے دور بھگاتے رہتے تھے دراصل وہ خود ہی ہلاکت کے دلدل میں پھنس رہے تھے لیکن بےوقوف تھے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے عذاب کے بھی درجے ہوں گے، جس طرح مؤمنوں کے جزا کے درجے ہوں گے

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ (۶:۲۶)

اور یہ لوگ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور دور رہتے ہیں

وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ   (۶:۲۶)

اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے ۔

جیسے فرمان الہٰی ہے:

لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ (۷:۳۸)

ہر ایک کے لیے دوہرا اجر ہے لیکن تمہیں علم نہیں ۔

 ابو یعلی میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ عذاب جہنم کے ساتھ ہی زہر یلے سانپوں کا ڈسنا بڑھ جائے گا جو اتنے بڑے بڑے ہوں گے جتنے بڑے کھجور کے درخت ہو تے ہیں ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ عرش تلے سے پانچ نہریں آتی ہیں جن سے دوزخیوں کو دن رات عذاب ہو گا ۔

وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ۖ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيدًا عَلَى هَؤُلَاءِ ۚ

اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے

اللہ تعالیٰ اپنے محترم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرما رہے ہیں کہ اس دن کو یاد کر اور اس دن جو تیری شر افت وکر امت ہو نے والی ہے اس کا بھی ذکر کر ۔

یہ آیت بھی ویسی ہی ہے جیسی سورہ نساء کے شروع کی آیت:

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلاءِ شَهِيداً (۴:۴۱)

پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر اُمت میں سے ایک گواہ ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عبداللہ بن مسعود سے سورہ نساء پڑھوائی جب وہ اس آیت تک پہنچے تو آپ نے فرمایا بس کر کافی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ اس وقت آپﷺ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ (۸۹)

اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہرچیز کا شافی بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لئے۔‏

پھر فرماتا ہے اپنی اس اتاری ہوئی کتاب میں تیرے سامنے سب کچھ بیان فرما دیا ہے ہر علم اور ہر شے اس قرآن میں ہے۔ ہر حلال حرام ، ہر ایک نا فع علم ، ہر بھلائی گزشتہ کی خبریں ، آ ئندہ کے واقعات ، دین دنیا ، معاش معاد ، سب کے ضروری احکام واحوال اس میں موجود ہیں ۔ یہ دلوں کی ہدایت ہے، یہ رحمت ہے، یہ بشارت ہے۔

 امام اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ کتاب سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا کر ہرچیز کا بیان ہے۔

 اس آیت کو اوپر والی آیت سے غا لباً یہ تعلق ہے کہ جس نے تجھ پر اس کتاب کی تبلیغ فرض کی ہے اور اسے نازل فرمایا ہے وہ قیامت کے دن تجھ سے اس کی با بت سوال کرنے والا ہے

جیسے فرمان ہے:

فَلَنَسْـَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ (۷:۶)

پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے ۔

اُمتوں اور رسو لوں سے سب سے سوال ہو گا ۔

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ـ عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ (۱۵:۹۲،۹۳)

قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے۔‏ ہرچیز کی جو وہ کرتے تھے۔‏

واللہ ہم سب سے ان کے اعمال کی باز پرس کریں گے ۔

يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَآ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّـمُ الْغُيُوبِ (۵:۱۰۹)

جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وہ عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں تو ہی پوشیدہ باتوں کو پورا جاننے والا ہے۔‏

اور آیت میں ہے:

إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْءَانَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ (۲۸:۸۵)

جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے

یعنی جس نے تجھ پر تبلیغ قرآن فرض کی ہے ، وہ تجھے قیامت کے دن اپنے پاس لوٹا کر اپنے سو نپے ہوئے فریضے کی با بت تجھ سے پر سش کرنے والا ہے ۔

 یہ ایک قول بھی اس آیت کی تفسیر میں ہے اور ہے بھی معقول اور عمدہ ۔

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے

اللہ سبحا نہ وتعالیٰ اپنے بندوں کو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے اور سلوک و احسان کی رہنمائی کرتا ہے گو بدلہ لینا بھی جائز ہے

 جیسےاس  آیت میں فرمایا :

وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُواْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّـبِرينَ (۱۶:۱۲۶)

اگر بدلہ لے سکو تو برابر برابر کا بدلہ لو لیکن اگر صبر و برداشت کر لو تو کیا ہی کہنا یہ بڑی مردانگی کی بات ہے۔

 اور آیت میں فرمایا:

وَجَزَآءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ (۴۲:۴۰)

اور برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جو معاف کردے اور اصلاح کر لے اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے،

ایک اور آیت میں ہے:

وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ (۵:۴۵)

زخموں کا قصاص ہے لیکن جو درگزر کر جائے اس کے گناہوں کی معافی ہے۔

 پس عدل تو فرض ، احسان نفل اور کلمہ تو حید کی شہادت بھی عدل ہے ۔ ظاہر باطن کی پاکیزگی بھی عدل ہے اور احسان یہ ہے کہ پاکی صفائی ظاہر سے بھی زیادہ ہو ۔

 اور فحشاء اور منکر یہ ہے کہ باطن میں کھوٹ ہو اور ظاہر میں بناوٹ ہو ۔

 وہ صلہ رحمی کا بھی حکم دیتا ہے۔ جیسے صاف لفظوں میں ارشاد ہے:

وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا (۱۷:۲۶)

اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو اور اسراف اور بےجا خرچ سے بچو

وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (۹۰)

اور بےحیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے، وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔‏

 محرمات سے وہ تمہیں روکتا ہے ، برائیوں سے منع کرتا ہے ظاہری باطنی تمام برائیاں حرام ہیں ۔ لوگوں پر ظلم و زیادتی حرام ہے ۔

حدیث میں ہے:

 کوئی گناہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ دنیا میں بھی جلدی ہی اس کا بدلہ ملے اور آخرت میں بھی سخت پکڑ ہو ۔

 اللہ کے یہ احکام اور یہ نواہی تمہاری نصیحت کے لئے ہیں جو اچھی عادتیں ہیں ، ان کا حکم قرآن نے دیا ہے

 اور جو بری خصلتیں لوگوں میں ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ہے ، بد خلقی اور برائی سے اس نے ممانعت کر دی ہے۔

حدیث شریف میں ہے :

بہترین اخلاق اللہ کو پسند ہیں اور بد خلقی کو وہ مکروہ رکھتا ہے ۔

 اکثم بن صیفی کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اطلاع ہوئی تو اس نے خدمت نبوی میں حاضر ہونے کی ٹھان لی لیکن اس کی قوم اس کے سر ہو گئی اور اسے روک لیا اس نے کہا اچھا مجھے نہیں جانے دیتے تو قاصد لاؤ جنہیں میں وہاں بھیجوں ۔

 دو شخص اس خدمت کی انجام دہی کے لئے تیار ہوئے یہاں آ کر انہوں نے کہا کہ ہم اکثم بن صیفی کے قاصد ہیں وہ آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں اور کیا ہیں ؟

 آپ ﷺنے فرمایا پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ میں محمد بن عبداللہ ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور دوسرے سو ال کا جواب یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ۔ پھر آپ نے یہی آیت انہیں پڑھ کر سنائی

 انہوں نے کہا دوبارہ پڑھئے ۔

 آپ ﷺنے پھر پڑھی ، یہاں تک کہ انہوں نے یاد کر لی

 پھر واپس جا کر اکثم کو خبر دی اور کہا اپنے نسب پر اس نے کوئی فخر نہیں کیا۔ صرف اپنا اور اپنے والد کا نام بتا دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہیں وہ بڑے نسب والے ، مضر میں اعلی خاندان کے ہیں اور پھر یہ کلمات ہمیں تعلیم فرمائے جو آپ کی زبانی ہم نے سنے ۔

 یہ سن کر اکثم نے کہا وہ تو بڑی اچھی اور اعلیٰ باتیں سکھاتے ہیں اور بری اور سفلی باتوں سے روکتے ہیں ۔ میرے قبیلے کے لوگو تم اسلام کی طرف سبقت کرو تاکہ تم دوسروں پر سرداری کرو اور دوسروں کے ہاتھوں میں دمیں بن کر نہ رہ جاؤ ۔

 اس آیت کے شان نزول میں ایک حسن حدیث مسند امام احمد میں وارد ہوئی ہے۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگنائی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ عثمان بن مظعون آپ کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا بیٹھتے نہیں ہو ؟

 وہ بیٹھ گیا ، آپ اس کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دفعتاً اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھائیں کچھ دیر اوپر ہی کو دیکھتے رہے، پھر نگاہیں آہستہ آہستہ نیچی کیں اور اپنی دائیں جانب زمین کی طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف آپ نے رخ بھی کر لیا اور اس طرح سر ہلانے لگے گویا کسی سے کچھ سمجھ رہے ہیں اور کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہے تھوڑی دیر تک یہی حالت طاری رہی پھر آپ نے اپنی نگاہیں اونچی کرنی شروع کیں ، یہاں تک کہ آسمان تک آپ کی نگاہیں پہنچیں پھر آپ ٹھیک ٹھاک ہو گئے اور اسی پہلی بیٹھک پر عثمان کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھ گئے ۔

 وہ یہ سب دیکھ رہا تھا ، اس سے صبر نہ ہو سکا ، پوچھا کہ حضرت آپ کے پاس کئی بار بیٹھنے کا اتفاق ہوا لیکن آج جیسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا ، آپ نے پوچھا تم نے کیا دیکھا ؟

 اس نے کہا یہ کہ آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچی کر لی اور اپنے دائیں طرف دیکھنے لگے اور اسی طرف گھوم کر بیٹھ گئے ، مجھے چھوڑ دیا ، پھر اس طرح سر ہلانے لگے جیسے کوئی آپ سے کچھ کہہ رہا ہو ۔ اور آپ اسے اچھی طرح سن سمجھ رہے ہوں ۔

 آپ نﷺے فرمایا اچھا تم نے یہ سب کچھ دیکھا ؟

 اس نے کہا برابر دیکھتا ہی رہا ۔

 آپ ﷺنے فرمایا میرے پاس اللہ کا نازل کردہ فرشتہ وحی لے کر آیا تھا

اس نے کہا اللہ کا بھیجا ہوا ؟

 آپ نے فرمایا ہاں ، ہاں اللہ کا بھیجا ہو ا۔

 پوچھا پھر اس نے آپ سے کیا کہا ؟

آپ نے یہی آیت پڑھ سنائی ۔

 حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسی وقت میرے دل میں ایمان بیٹھ گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے میرے دل میں گھر کر لیا ۔

 ایک اور روایت میں حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا جو آپ نے اپنی نگاہیں اوپر کو اٹھائیں اور فرمایا جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اس آیت کو اس سورت کی اس جگہ رکھوں

یہ روایت بھی صحیح ہے واللہ !علم۔

وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ

اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول و قرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حالانکہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ عہد و پیمان کی حفاظت کریں قسموں کو پورا کریں ۔ توڑیں نہیں ۔ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید کی

 اور آیت میں فرمایا:

وَلاَ تَجْعَلُواْ اللَّهَ عُرْضَةً لاًّيْمَـنِكُمْ (۲:۲۲۴)

اپنی قسموں کا نشانہ اللہ کو نہ بناؤ ۔

 اس سے بھی قسموں کی حفاظت کرنے کی تاکید مقصود ہے

 اور آیت میں ہے:

ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَـنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَـنَكُمْ (۵:۸۹)

قسم توڑنے کا کفارہ ہے قسموں کی پوری حفاظت کرو۔

 پس ان آیتوں میں یہ حکم ہے ۔

 اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 واللہ میں جس چیز پر قسم کھا لوں اور پھر اس کے خلاف میں بہتری دیکھوں تو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور اس نیک کام کو کروں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔

 تو مندرجہ بالا آیتوں اور احادیث میں کچھ فرق نہ سمجھا جائے وہ قسمیں اور عہد و پیمان جو آپس کے معاہدے اور وعدے کے طور پر ہوں ان کا پورا کرنا تو بیشک بیحد ضروری ہے اور جو قسمیں رغبت دلانے یا روکنے کے لئے زبان سے نکل جائیں ، وہ بیشک کفارہ دے کر ٹوٹ سکتی ہیں ۔

پس اس آیت میں مراد جاہلیت کے زمانے جیسی قسمیں ہیں ۔

چنانچہ مسند احمد میں ہے سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اسلام میں دو جماعتوں کی آپس میں ایک کی قسم کوئی چیز نہیں ہاں جاہلیت میں ایسی امداد و اعانت کی جو قسمیں آ پس میں ہو چکی ہیں اسلام ان کو اور مضبوط کرتا ہے۔

 اس حدیث کے پہلے جملے کے یہ معنی ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں کہ ایک برادری والے دوسری برادری والوں سے عہد و پیمان کریں کہ ہم تم ایک ہیں راحت ریج میں شریک ہیں وغیرہ کیونکہ رشتہ اسلام تمام مسلمانوں کو ایک برادری کر دیتا ہے ۔ مشرق مغرب کے مسلمان ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہیں ۔

 بخاری مسلم کی ایک حدیث میں ہے:

 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں رسول کریم علیہ افضل التسلیم نے انصار و مہاجرین میں باہم قسمیں اٹھوائیں ۔

 اس سے یہ ممنوع بھائی بندی مراد نہیں یہ تو بھائی چارہ تھا جس کی بنا پر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے ۔

 آخر میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور ورثہ قریبی رشتے داروں سے مخصوص ہو گیا ۔

کہتے ہیں اس فرمان الہٰی سے مطلب ان مسلمانوں کو اسلام پر جمع رہنے کا حکم دینا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمانوں کی جماعت کی کمی اور مشرکوں کی جماعت کی کثرت دیکھ کر تم اسے توڑ دو ۔

 مسند احمد میں ہے:

 جب یزید بن معاویہ کی بیعت لوگ توڑنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے تمام گھرانے کے لوگوں کو جمع کیا اور اللہ کی تعریف کر کے اما بعد کہہ کر فرمایا ہم نے یزید کی بیعت اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت پر کی ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر غدار کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ غدار ہے فلاں بن فلاں کا ۔ اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے بعد سب سے بڑا اور سب سے برا غدار یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بیعت کسی کے ہاتھ پر کر کے پھر توڑ دینا یاد رکھو تم میں سے کوئی یہ برا کام نہ کرے اور اس بارے میں حد سے نہ بڑھے ورنہ مجھ میں اور اس میں جدائی ہے ۔

مسند احمد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

جو شخص کسی مسلمان بھائی سے کوئی شرط کرے اور اسے پورا کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ مثل اس شخص کے ہے جو اپنے پڑوسی کو امن دینے کے بعد بےپناہ چھوڑ دے

إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ (۹۱)

 تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔‏

پھر انہیں دھمکاتا ہے جو عہد وپیم ان کی حفاظت نہ کریں کہ ان کے اس فعل سے اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے ۔

وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَاثًا

اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا

مکہ میں ایک عورت تھی جس کی عقل میں فتور تھا سوت کاتنے کے بعد ، ٹھ