تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ مریم

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

كهيعص (۱)

کہیعص‏

یہ  جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورہ بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر چکے ہیں ۔

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (۲)

یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔‏

 اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی علیہ السلام پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے ۔ قرأت  میں زَكَرِيَّا ہے مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی ۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں ۔

آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے ۔

 رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے ۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے ۔

إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (۳)

جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی

اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے ۔

بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں ۔

قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا

کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے

دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے ۔

وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (۴)

لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کرکے محروم نہیں رہا

میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا ۔

وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا (۵)

مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔‏

مَوَالِيَ کو کسائی نے مَوَالِيً پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں ۔

 امیرا لمؤمنین حضرت عثمان بن عفانؓ سے خِفْتُ کو خِفَّتُ پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں ۔

 پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرماجو میرے بعد میری نبوت سنبھالے ۔

یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہو جانے کا خوف تھا۔ انبیاء علیہم السلام اس سے بہت پاک ہیں ۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا ۔

 دوسرے بظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں ۔

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے ۔

 ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے :

 اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ ۔

يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (۶)

جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب ؑ کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بندہ بنالے۔‏

اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو ۔

جیسے فرمان ہے :

وَوَرِثَ سُلَيْمَـنُ دَاوُودَ (۲۷:۱۶)

سلیمان داؤد علیہ السلام کے وارث ہوئے ۔

 یعنی نبوت کے وراث ہوئے ۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے ۔ تخصیص نہیں ہوتی ۔

چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے ، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا ۔

پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے :

ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے ۔

 مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے ۔

حضرت زکریا علیہ السلام اولاد یعقوب علیہ السلام میں تھے ۔

 ابو صالح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے ۔

حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے ۔

 سدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے میری اور آل یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وراث ہو ۔

 زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں

ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب علیہ السلام کی نبوت کا وہ وارث ہو ۔

عبد الرزاق میں حدیث ہے:

 اللہ تعالیٰ زکریا علیہ السلام پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے ۔

 ابن جریر میں ہے:

آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو

 کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے

 لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کامعارضہ نہیں کر سکتیں واللہ اعلم ۔

 اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے ۔

يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا (۷)

اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا ۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا مقبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ آپ ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے

جیسے اور آیت میں ہے:

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِى مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَآءِ ـ فَنَادَتْهُ الْمَلَـئِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّى فِى الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَـى مُصَدِّقاً بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ الصَّـلِحِينَ  (۳:۳۸،۳۹)

حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے بہتری اولاد عطا فرما تو دعاؤں کا سننے والا ہے ۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہو گا اور پاکباز ہوگا اور نبی ہو گا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہوگا ۔

یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا ۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہوگا یہی معنی سَمِيًّا کے آیت هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا (۱۹:۶۵) میں ہے ۔

 یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی ۔ حضرت زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی ۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بے اولاد تھیں ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہما السلام نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بیحد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بے اولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی ۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یہ تعجب کی وجہ تھی اور حضرت زکریا علیہ السلام کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی نہ تھی

 اس لئے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو ؟

ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام ہوئے تھے

 آپ کی بیوی صاحبہ نے بھی خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا اس بڑھتے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہوگی؟

ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں ۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے ۔

 یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں امر الہٰی سے تعجب ہے ؟ اے ابراہیم کے گھرانے والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے۔

قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (۸)

زکریاؑ کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، جب کہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں ۔

حضرت زکریا علیہ السلام اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستبعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے ۔

 دونوں جانب سے حالت ناامیدی کی ہے ۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی میں بوڑھا اور بیحد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا خشک ٹہنی جیسا ہوگیا ہوں گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہو گئی ہے پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہوگی؟

 غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب وخوشی دریافت کی ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو عِتِيًّا پڑھتے تھے یا عسیا  (احمد)

قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (۹)

ارشاد ہوا کہ وعدہ اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں  

فرشتے نے جواب دیا کہ یہ تو وعدہ ہو چکا اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہوگا اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں ۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنا دیا ۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے ۔

 جیسے فرمان ہے:

هَلْ أَتَى عَلَى الإِنسَـنِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئاً مَّذْكُوراً (۷۶:۱)

یقیناً انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا ۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً ۚ

کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے

حضرت زکریا علیہ السلام اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لئے ظاہر فرمائی تھی:

رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۖ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي  (۲:۲۶۰)

اے میرے پروردگار مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا جناب باری تعالیٰ نے فرمایا کیا تمہیں ایمان نہیں؟

 جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی

قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا (۱۰)

ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا۔

تو ارشاد ہوا کہ تو گونگا نہ ہو گابیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی ۔

 یہی ہوا بھی کہ تسبیح استغفار حمد وثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کرسکتے تھے ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ سَوِيًّا کے معنی پے درپے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی ۔

 پہلا قول بھی آپ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے

 چنانچہ سورۃ آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے:

قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّيَ آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلاَّ تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالإِبْكَارِ (۳:۴۱)

کہنے لگا پروردگار میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دے، فرمایا، نشانی یہ ہے تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا صرف اشارے سے سمجھائے گا تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح بیان کرتا رہ ۔‏

  یعنی علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کرسکتے ہو ۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو ۔ پس ان تین دن رات میں آپ کسی انسان سے کوئی بات نہیں کرسکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ گونگے ہوگئے ہوں ۔

فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (۱۱)

اب زکریا ؑ  اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح وشام اللہ تعالیٰ  کی تسبیح بیان کرو ۔‏

 اب آپ اپنے حجرے سے جہاں جاکر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ پر انعام کی تھی اور جس تسبیح وذکر کا آپ کو حکم ہوا تھا وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے اس لئے انہیں اشاروں سے سمجھایا

يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا (۱۲)

اے یحییٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی

بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا علیہ السلام کے ہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے ۔

 ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم ، قوت وعزم ، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے ۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے ۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کا وجود حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں

وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا وَزَكَاةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا (۱۳)

اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی وہ پرہیزگار شخص تھا۔‏

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ حَنَان کا مطلب کیا ہے لغت میں محبت شقفت رحمت وغیرہ کے معنی میں آتا ہے

 بظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت ومحبت اور پاکیزگی عطا فرمائی ۔

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حَنَان یا   مَنَان پکارتا رہے گا

وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ جَبَّارًا عَصِيًّا (۱۴)

اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا وہ سرکش اور گناہ گار نہ تھا

پس ہر میل کچیل سے ہر گناہ اور معصیت سے آپ بچے ہوئے تھے ۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے ساتھ ہی ماں باپ کے فرمانبردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوتے کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ میں نہ تھی ۔

 ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی ۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اورحشر والے دن ۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں ۔

 انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا انہیں کبھی نہ دیکھا ۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا ہے ۔

 پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی ۔

 ایک مرسل حدیث میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ۔

یہ حدیث مرفوعاً اور دوسندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں واللہ اعلم ۔

حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا ۔

وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا (۱۵)

اس پر سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے ۔

حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؛

حضرت عیسی ٰعلیہ السلام حضرت یحییٰ علیہ السلام سے فرمانے لگے آپ میرے لئے استغفار کیجئے آپ مجھ سے بہتر ہیں

 حضرت یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا آپ مجھ سے بہتر ہیں

حضرت عیسی ٰعلیہ السلام نے فرمایا میں نے آپ ہی اپنے اوپر سلام کیا اور آپ پر خود اللہ نے سلام کہا ۔ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی ۔

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ

اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔

اوپر حضرت زکریا علیہ السلام کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بے اولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے

 اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے ۔ حضرت مریم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں ۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے ۔

 پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورۃ آل عمران میں بھی اور سورۃ انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا ۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں ۔

 حضرت مریم علیہ السلام عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل میں سے تھیں ۔  بنو اسرا ئیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا ۔

سورہ آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کر دیا تھا ۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں ، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں ۔ آپ کی عبادت وریاضت زہد وتقویٰ زبان زد عوام ہوگیا ۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا علیہ السلام کی پرورش وتربیت میں تھیں ۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے ۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے ۔

 حضرت زکریا علیہ السلام پر حضرت مریم علیہا السلام کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصاً یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا قَالَ يمَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَـذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ إنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ(۳:۳۷)

دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے ۔

 اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔

إِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا (۱۶)

 جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی جانب آئیں‏

آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ رضی اللہ عنہا بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کر دیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا ۔

مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں ، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی ۔

 کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا ، جسے پانی لگانے کے لیے آپ گئی تھیں ۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم ۔

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا

اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا

جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہو گیا ۔

فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا (۱۷)

پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا ، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے ۔

یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں ۔ جیسے آیت قرآن نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ (۲۶:۱۹۳)  میں ہے ۔

 ابی بن کعب کہتے ہیں:

 روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا ۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کر گئی ۔

لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو ۔

قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (۱۸)

یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔‏

آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو ، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر ۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ۔

 اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے ۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے ۔

قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا (۱۹)

اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔‏

فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوافرشتہ ہوں ،

کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے

اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں ۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے

 لِأَهَبَ کی دوسری قرأت لِیٰهَبَ ہے ۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں ۔ ان کی یہی قرأت ہے ۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے ۔

قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا (۲۰)

کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہ لگا اور نہ میں بدکار ہوں۔‏

یہ سن کر مریم صدیقہ علیہ السلام کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا ۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا ۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی

بَغِيًّا سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے ۔

قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ۖ

اس نے کہا بات تو یہی ہے، لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے

فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے ۔ وہ جو چاہے ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔

وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَّا ۚ

 ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت

یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے ۔

-        آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا

-        حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا ۔

-        باقی تمام انسانوں کو مردوعورت سے پیدا کیا

-         سوائے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے ۔

 پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہو سکتی تھیں جو سب پوری کر دی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کر دی ۔

 فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار ۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا ، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا ۔

جیسے اور آیت میں ہے:

إِذْ قَالَتِ الْمَلَـئِكَةُ يمَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالاٌّخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ـ

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِى الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّـلِحِينَ (۳:۴۵،۴۶)

فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہو گا

اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی ۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا

 یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا ۔

مروی ہے:

 حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے ۔

وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيًّا (۲۱)

یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ۔

پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہو چکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا ۔

 بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ہو ۔

 اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو ۔

 اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو ۔

 جیسے فرمان ہے:

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا (۶۶:۱۲)

 اور مریم بنت عمران کی جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی

 اور آیت میں ہے:

وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِنْ رُوحِنَا (۲۱:۹۱)

اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی

پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کر چکا ہے ۔

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا (۲۲)

پس وہ حمل سے ہوگئیں اور اسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔‏

مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ان کے کرتے کے گربیان میں پھونک ماری ۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟

 لاکھ اپنی برأت پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟

 اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا علیہا السلام کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں ۔

 آپ نے فرمایا خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا ۔ وہ قدرت الہٰی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں ۔

اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے ۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا اسی وجہ سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اور آپ کے والد نے آپ کو سجدہ کیا تھا ۔ اور اللہ نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے کاحکم دیا تھا

لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ کے لیے مخصوص ہو گئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہو گیا کیونکہ یہ تعظیم الہٰی کے خلاف ہے ۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں ۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام خالہ زاد بھائی تھے ۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے ۔

حضرت یحییٰ ؑ کی والدہ اکثر حضرت مریم سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے ۔

 امام مالک رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کر دیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کر دیا ۔

 جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے ۔

 عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک ۔ اسی لئے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموماً زندہ نہیں رہتا

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حمل کے ساتھ ہی بچہ ہو گیا ۔

 یہ قول غریب ہے ۔

 ممکن ہے آپ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور دردزہ کا ذکر ان آیتوں میں ف کے ساتھ ہے اور ف تعقیب کے لئے آتی ہے ۔ لیکن تعقیب ہرچیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن میں ہوا ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ـ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ـ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ  (۲۳:۱۲،۱۴)

یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا۔ پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا، پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا پھر دوسری بناوٹ میں اسے پیدا کر دیا

یہاں بھی دو جگہ ف ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کافاصلہ ہوتا ہے ۔ قرآن کریم کی آیت میں ہے:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَتُصْبِحُ الْأَرْضُ مُخْضَرَّةً (۲۲:۶۳)

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے ۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے ۔

ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بعد سبزہ اگتا ہے ۔ حالانکہ ف یہاں بھی ہے پس تعقیب ہرچیز کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔

 سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ نے حمل کا زمانہ پورا گزارا مسجد میں ہی۔

مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا ۔ انہوں نے جب مریم علیہا السلام کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن حضرت مریم کے زہد وتقوی ، عبادت وریاضت ، خشیت الہٰی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی ، لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے حمل کا اظہار ہوتا گیا اب تو خاموش نہ رہ سکے ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کاہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا ، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے ؟

 آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایاوہ بغیر بیج کے تھا ۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی ، سب سے پہلے اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا وہ بےباپ کے تھے بلکہ بےماں کے بھی

 ان کی تو سمجھ میں آگیا اور حضرت مریم علیہا السلام اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے ۔

فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا (۲۳)

پھر درد زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی

 اب حضرت صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں ۔

 امام محمد بن اسحاق رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:

 جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے قوم نے پھبتیاں پھینکی ، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کر دیں اور حضرت یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں ۔

جب دردزہ اٹھا تو آپ کھجور کے ایک درخت کی جڑ میں آبیٹھیں کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔

یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا ۔

 اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت لحم تھا ۔

 معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی جگہ بھی بیت لحم تھا ۔ واللہ اعلم ۔

 مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو ۔

 اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے ۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا انکے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا ۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت واطمینان میں خلل پڑے گا ۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا ۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی اس قدر شرم وحیا دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہو جاتی کہ نہ کوئی یاد کرے ۔ نہ ڈھونڈے ، نہ ذکر کرے ،

 احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے ۔

 ہم نے ان روایتوں کو آیت تَوَفَّنِي مُسْلِمًا (۱۲:۱۰۱)  کی تفسیر بیان کردیا ہے ۔

فَنَادَاهَا مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (۲۴)

اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزردہ خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے‏

مِنْ تَحْتِهَا کی دوسری قرأت مِنْ تَحٰتِهَا بھی ہے

 یہ خطاب کرنے والے حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برأت وپاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا ۔

 اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ تشفی دی تھی ۔

یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہی کہی تھی ۔

 آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ پانی تم پی لو ۔

 ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔

لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے ۔

وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا (۲۵)

اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرا دے گا ۔

چنانچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ ۔

 کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا ۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الہٰی سے کھجوریں جھڑنے لگیں کھانا پینا سب کچھ موجود ہوگیا اور اجازت بھی دے دی ۔

تُسَاقِطْ کی دوسری قرأت تُسَاقَطْ اور تُسَقِطْ بھی ہے مطلب تمام قرأت وں کا ایک ہی ہے

فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا ۖ

اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ

فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ ۔

 حضرت عمرو بن میمون کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لئے کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ۔

 ایک حدیث میں ہے :

کھجور کے درخت کا اکرام کرو یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نرمادہ مل کر نہیں پھلتا ۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ نہ ملیں تو خشک ہی سہی کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لئے اس کے نیچے حضرت مریم علیہ السلام کو اتارا

یہ حدیث بالکل منکر ہے

فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنْسِيًّا (۲۶)

اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمٰن کے نام کا روزہ رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔‏

پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں

 یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے ۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس دو شخص آئے ۔ ایک نے تو سلام کیا ، دوسرے نے نہ کیا آپ نے پوچھا اس کی کیا وجہ ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا آپ نے فرمایا اسے توڑ دے سلام کلام شروع کر یہ تو صرف حضرت مریم علیہا السلام کے لئے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت وکرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لئے اسے عذربنا دیا تھا ۔

 حضرت عبد الرحمٰن بن زید کہتے ہیںؒ

 جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں تو آپ نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں خاوند والی میں نہیں ، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا ؟

 میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی ؟

کون سا عذر پیش کرسکوں گی ؟

 ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی

 کاش کہ میں نسیا منسیا ہوگئی ہوتی ۔

 اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں میں آپ ان سب سے نبٹ لوں گا آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے ۔

فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ۖ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (۲۷)

اب حضرت عیسیٰ ؑ کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بُری حرکت کی‏

حضرت مریم علیہ السلام نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کر لیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں ۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تونے تو بڑا ہی برا کام کیا ۔

نوف بکالی کہتے ہیں:

لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا ۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟

 اس نے کہا نہیں ۔

لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گر گئیں ۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا ۔

وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں ۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے ۔

يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا (۲۸)

اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی‏

ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں ۔

یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت وریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہاورن کی بہن کہا گیا ۔

 کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا ۔

 ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون وموسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے ۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی ہوئے ہیں ۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا ۔

 پس اگرمحمد بن کعب قرظی کا  یہ قول کہ آپ حضرت ہارون کی سگی بہن تھیں ٹھیک ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان علیہ السلام اور جضرت داؤد علیہ السلام سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہوآیت أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى.. (۲:۲۴۶،۲۵۹)  ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کاجالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے ۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں ، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں ۔ اس عبارت سے قرظی رحمۃ اللہ علیہ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے ۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہو سکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں ۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے ۔

مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

 مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یااخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسیٰ علیہ السلام سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے ۔

صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں ۔

 ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہارون نہیں اس پر اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا خاموش ہوگئیں ۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے ۔

 قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت مریم علیہ السلام کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا ًچلی آرہی تھی ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد ۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اِسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے ۔

فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ ۖ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا (۲۹)

مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟‏

الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کوکھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟

 قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس سے پوچھ لو ۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے ۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا؟

قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (۳۰)

بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ  کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے

اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں ۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہی ہے ۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کر دیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برأت بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے ۔

 کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔

کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا ۔

 عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے

 

وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (۳۱)

اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں‏

فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا ۔

 پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے ۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا ۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے ۔

 فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوٰۃ کا پابند رہوں ۔ یہی حکم ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ملا ۔

 ارشاد ہے:

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (۱۵:۹۹)

مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ ۔

 پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی فرمایا :

 اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔

 اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہو جاتی ہے ۔

وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (۳۲)

اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا ۔‏

رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے ۔

 عموما ًقرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت ہے:

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّـهُ وَبِالْوَلِدَيْنِ إِحْسَـناً (۱۷:۲۳)

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔

اور آیت میں ہے:

أَنِ اشْكُرْ لِى وَلِوَلِدَيْكَ إِلَىَّ الْمَصِيرُ (۳۱:۱۴)

کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر، (تم سب کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‏

اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں ۔

کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے ۔

 فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو ۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو ۔

 مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا ۔

آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی ۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا ۔

وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا (۳۳)

اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے۔‏

پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن ، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پرسلامتی ہے

 اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے ۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی ۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ

ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ (۳۴)

یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم ؑ کا، یہی ہے وہ حق بات جس میں لوگ شک شبہ میں مبتلا ہیں

اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلا ف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی ۔

 قَوْلَ کی دوسری قرأت قَوْلُ بھی ہے ۔

 ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے ۔

قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسےالْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ  (۳:۶۰)میں ۔

مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ ۖ سُبْحَانَهُ ۚ

اللہ تعالیٰ  کے لئے اولاد کا ہونا لائق نہیں، وہ بالکل پاک ذات ہے،

یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو ۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے

إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (۳۵)

وہ تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتا ہے ۔‏

وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی فرما دیتا ہے کہ ہو جا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہو جاتا ہے ۔ ادھر حکم ہوا ادھر چیز تیار موجود ۔

جیسے فرمان ہے:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ ءَادَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ ـ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُنْ مِّن الْمُمْتَرِينَ (۳:۵۹،۶۰)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم علیہ السلام کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہو جا اسی وقت وہ ہوگیا یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہئے ۔

وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (۳۶)

میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ  ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔‏

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو ۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے ۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے

یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا ۔

فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ ۖ

پھر یہ فرماتے آپس میں اختلاف کرنے لگے،

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف پارٹیوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے ۔ چنانچہ یہود نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں ، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی ۔ اور کہاکہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے ۔

 اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے ۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے ۔

 اہل اسلام کا عقیدہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الہٰی ہے۔

 کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا ہے اور اپنے میں سے انہوں نے چار ہزار آدمی چھانٹے ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا ۔

یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے ۔

یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگایہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا زمین پر رہا جسے چاہا جلایا جسے چاہا مارا پھر آسمان پر چلا گیا اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں

 لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا تو نے جھوٹ کہا اب دو نے تیسرے سے کہا اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے ؟

اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا ۔

دو جو رہ گئے انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے ۔

 پھر ان دو میں سے ایک نے کہا تم کہو اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں ایک تو اللہ جو معبود ہے ۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں ۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں ۔

 چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں اور رسول تھے اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے ان میں سے جس کے تابع جو تھے وہ اسی کے قول پر ہوگئے اور آپس میں خوب اچھلے ۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں ان پر یہ ملعون چھاگئے انہیں دبا لیا انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کردیا ۔

اکثر مؤرخین کا بیان ہے

قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے ۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے ، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے ، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا ۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی ۔

بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا ۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کر دیا ۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لئے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے ۔

 اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کر لیا ۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں رائج کر دیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا ۔

جب اس پر ان سب کو رضامند کر لیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود مسیحت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔

شام میں ، جزیرہ میں ، روم میں تقریبا بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی وہاں ایک قبہ بنوادیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہوگئی ۔ اور سب نے یقین کرلیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے ۔

یہ عیسائی مذہب کم اختلاف کی ہلکی سی مثال ۔

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ مَشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ (۳۷)

پس کافروں کے لئے ' ویل ' ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے ۔

ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں اس کی اولادیں اور شریک وحصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پالیں لیکن اس عظیم الشان دن کو ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہوجائیں گے ۔

 اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو گو جاری عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں ۔

بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے :

اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآن (وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمتہ ان اخذہ الیم شدید) تلاوت فرمائی ۔

وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (۱۱:۱۰۲)

تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے ۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور سخت ہے ۔

بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے:

 ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں ۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی ۔

خود قرآن فرماتا ہے :

وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَـلِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَىَّ الْمَصِيرُ (۲۲:۴۸)

بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے ۔

اور آیت میں ہے:

وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَـفِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّـلِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأَبْصَـرُ  (۱۴:۴۲)

ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل سمجھیں انہیں جو مہلت ہے وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی ۔

یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اسکا کلمہ ہیں جسے حضرت مریم علیہ السلام کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت اور دوزخ حق ہے اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا ۔

أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا ۖ

کیا خوب دیکھنے سننے والے ہونگے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے،

ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں ، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے ۔

جیسے فرمان الہٰی ہے:

وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُواْ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا (۳۲:۱۲)

کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا ۔

لَكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (۳۸)

لیکن آج تو یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں‏

پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت وافسوس کرنا نہ واویلا کرنا ۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت وافسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔

وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (۳۹)

تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی رہ جائیں گے۔‏

مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کر دیے جائیں گے ، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے ۔ اس حسرت وندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان ویقین بھی رکھتے ہیں ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعدموت کو ایک بھیڑیے کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے ۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا اور ندا کر دی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں ۔

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی آیت وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ تلاوت فرمائی ۔اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں (مسندامام احمد )

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا:

 ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کاہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہاجاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت وافسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے ۔

 اور روایت میں ہے:

 موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مر جائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں ۔

پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا ۔

پس يَوْمَ الْحَسْرَةِ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چنانچہ اور آیت میں ہے:

أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ يَا حَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ وَإِنْ كُنْتُ لَمِنَ السَّاخِرِينَ (۳۹:۵۶)

(ایسا نہ ہو کہ) کوئی شخص کہے ہائے افسوس، اس بات پر کہ میں نے اللہ تعالیٰ کے حق میں کوتاہی کی بلکہ میں تو مذاق اڑانے والوں میں رہا۔‏

إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ (۴۰)

خود زمین کے اور تمام زمین والوں کے وارث ہم ہی ہونگے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے۔‏

پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے

خلیفہ اسلام امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے عبد الحمید بن عبدالرحمٰن کو کوفے میں خط لکھا ، جس میں لکھا :

حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے ۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے ، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے ۔

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (۴۱)

اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کر، بیشک وہ بڑی سچائی والے پیغمبر تھے ۔

مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیجئے ۔

إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنْكَ شَيْئًا (۴۲)

جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! آپ انکی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں‏

اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا ۔ صاف کہاکہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر ۔

يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا (۴۳)

میرے مہربان باپ! آپ دیکھیے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا ۔

فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا ۔

يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّا (۴۴)

میرے ابا جان آپ شیطان کی پرستش سے باز آجائیں شیطان تو رحم و کرم والے اللہ تعالیٰ  کا بڑا ہی نافرمان ہے ۔

ابا جی یہ بت پرستی توشیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے ۔

جیسے سورہ یٰسین میں ہے:

أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يبَنِى ءَادَمَ أَن لاَّ تَعْبُدُواْ الشَّيطَـنَ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ  (۳۶:۶۰)

اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

 اور آیت میں ہے:

إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِ إِلاَّ إِنَـثاً وَإِن يَدْعُونَ إِلاَّ شَيْطَـناً مَّرِيداً  (۴:۱۱۷)

یہ تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو پکارتے ہیں اور دراصل یہ صرف سرکش شیطان کو پوجتے ہیں۔

آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے ، مخالف ہے ، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے ، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا ۔

يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِنَ الرَّحْمَنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا (۴۵)

ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الہٰی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں

 ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے ۔ دیکھو شیطان خود بےکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی ۔

جیسے فرمان باری ہے:

تَاللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَى أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَـِّنُ أَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (۱۶:۶۳)

یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی اُمتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے ۔

قَالَ أَرَاغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ

اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے ، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے

لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا (۴۶)

 سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ ۔

 اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا ، انہیں برا کہتا رہا ، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا ۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہو جائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا ۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔

قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا (۴۷)

کہا اچھا تم پر سلام ہو میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے۔‏

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے ۔

 مؤمنوں کا یہی شیویہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں جیسے کہ قرآن میں ہے:

وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (۲۵:۶۳)

جب بےعلم لوگ ان سے باتیں کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے

 اور آیت میں ہے:

وَإِذَا سَمِعُواْ اللَّغْوَ أَعْرَضُواْ عَنْهُ وَقَالُواْ لَنَآ أَعْمَـلُنَا وَلَكُمْ أَعْمَـلُكُمْ سَلَـمٌ عَلَيْكُمْ لاَ نَبْتَغِى الْجَـهِلِينَ (۲۸:۵۵)

لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم پر سلام ہو ۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے ۔

وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ

میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ  کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔

پھر فرمایا کہ میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان واخلاص کی ہدایت کی ۔

وَأَدْعُو رَبِّي عَسَى أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا (۴۸)

 صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا۔‏

 مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لئے بخشش طلب کرتے رہے ۔

شام کی ہجرت کے بعد بھی مسجد حرام بنانے کے بعد بھی آپ کے ہاں اولاد ہوجانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے :

رَبَّنَا اغْفِرْ لِى وَلِوَالِدَىَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ (۱۴:۴۱)

اے اللہ مجھے میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے ۔

آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرو ۔

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهٍِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن شَيْء (۶۰:۴)

 مسلمانو! تمہارے لئے حضرت ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں ۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کے لئے بغض و عداوت ظاہر ہوگئی ۔ لیکن ابراہیم کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے مجھے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار کچھ بھی نہیں۔

آپ ہی کی اقتدا میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لئے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے ۔ آخر آیت نازل ہوئی بیشک ابراہیم علیہ السلام قابل اتباع ہیں لیکن اس باب میں ان کا فعل اس قابل نہیں

 اور آیت میں فرمایا:

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ (۹:۱۱۳)

نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرنا چاہئے ۔

اور فرمایا :

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (۹:۱۱۴)

ابراہیم کا یہ استغفار صرف اس بنا پر تھا کہ آپ اپنے والد سے اس کا وعدہ کر چکے تھے لیکن جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بری ہوگئے ۔ ابراہیم تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے ۔

 پھر فرماتے ہیں کہ میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں ، میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں ، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا ۔واقعہ بھی یہی ہے

 اور یہاں پر لفظ عَسَى یقین کے معنوں میں ہے اس لئے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سید الانبیاء ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ۔

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا (۴۹)

جب ابراہیم ؑان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب ؑعطا فرمائے، اور دونوں کو نبی بنا دیا۔‏

خلیل اللہ علیہ السلام ماں باپ کو رشتے کنبے کو قوم وملک کو اللہ کے دین پر قربان کرچکے سب سے یک طرف ہوگئے اپنی برأت اور علیحدگی کا اعلان کر دیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کردی آپ کے ہاں حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق کے ہاں یعقوبؑ ہوئے۔

جیسے فرمان ہے:

وَيَعْقُوبَ نَافِلَةً (۲۱:۷۲)

اور یعقوب اس پر مزید

اور آیت میں ہے:

وَمِن وَرَآءِ إِسْحَـقَ يَعْقُوبَ (۱۱:۷۱)

اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔‏

پس حضرت اسحاق حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد تھے جیسے سورہ بقرہ کی آیت میں ہے:

أَمْ كُنتُمْ شُهَدَآءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِن بَعْدِى قَالُواْ نَعْبُدُ إِلَـهَكَ وَإِلَـهَ آبَآئِكَ إِبْرَهِيمَ وَإِسْمَـعِيلَ وَإِسْحَـقَ (۲:۱۳۳)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق علیہ السلام ۔

پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی بیٹا دیا بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔

یہ ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بعد آپ کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت کے وقت خلیل اللہ علیہ السلام زندہ نہ تھے یہ دونوں نبوتیں یعنی حضرت اسحاق علیہ السلام ویعقوب علیہ السلام کی نبوت آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لئے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے

 فرمایا، یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ ۔

 اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم ، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔

وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِنْ رَحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا (۵۰)

اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا ۔‏

ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں ۔ فصلوۃ اللہ وسلامہ علہیم اجمعین۔

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مُوسَى ۚ إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصًا وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا (۵۱)

اس قرآن میں موسیٰ ؑ  کا ذکر، جو چنا ہوا اور رسول اور نبی تھا‏

اپنے خلیل علیہ السلام کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم علیہ السلام کا بیان فرماتا ہے ۔

 مُخْلَصًا کی دوسری قرأت مُخْلِصًا بھی ہے ۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے ۔

مروی ہے:

 حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟

آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں ۔

 دوسری قرأت میں مُخْلَصًا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے فرمان باری ہے:

إِنْى اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ (۷:۱۴۴)

میں نے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے

آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین ۔

وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا (۵۲)

ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا۔‏

ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کر لیا ۔

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ فرماتے ہیں:

 اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے ۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے ۔

 سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے ۔

 کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے:

 اے موسیٰ جب کہ میں تیرے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی ۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی ۔

وَوَهَبْنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا (۵۳)

اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا‏

  ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ انکے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کر دیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی ۔

وَأَخِى هَـرُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّى لِسَاناً فَأَرْسِلْهِ مَعِىَ رِدْءاً يُصَدِّقُنِى إِنِّى أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ (۲۸:۳۴)

اور میرا بھائی ہارونؑ مجھ سے بہت زیادہ فصیح زبان والا ہے تو اسے میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ مجھے سچا مانے، مجھے تو خوف ہے کہ وہ سب مجھے جھٹلا دیں گے۔‏

اور آیت میں ہے:

قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يمُوسَى (۲۰:۳۶)

موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کر دیا ۔

 آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں:

فَأَرْسِلْ إِلَى هَـرُونَ (۲۶:۱۳)

پس تو ہارون کی طرف بھی (وحی) بھیج

کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی ۔

 حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بڑے تھے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما۔

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَبِيًّا (۵۴)

اس کتاب میں اسماعیل ؑ  کا واقعہ بھی بیان کر، وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔‏

حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے آپ سارے حجاز کے باپ ہیں جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے پوری ہی کرتے تھے ۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے ۔

 ایک شخص سے وعدہ کیا کہ فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آجانا ۔ حسب وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا ۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا

 اب اس شخص کو یاد آیا اس نے آکر دیکھا کہ آپ وہیں انتظار میں ہیں پوچھا کہ کیا آپ کل سے یہیں ہیں ؟

 آپ نے فرمایا جب وعدہ ہو چکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا ۔

 سفیان ثوری رحمۃاللہ تو کہتے ہیں یہیں انتظار میں ہی آپ کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔

 ابن شوزب کہتے ہیں وہیں مکان کر لیا تھا ۔

عبداللہ بن الحما کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے میں نے آپ سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ یہیں ٹھہریئے میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ وہیں تشریف فرما ہیں ۔

 آپﷺ نے فرمایا تم نے مجھ مشقت میں ڈال دیا میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا ۔ (خرائطی )

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ نے بوقت ذبح کیا تھا کہ اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ۔

چنانچہ فی الواقع آپ نے وعدے کی وفا کی اور صبرو برداشت سے کام لیا ۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے ۔ قرآن کریم فرماتا ہے:

يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لاَ تَفْعَلُونَ ـ كَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لاَ تَفْعَلُونَ (۶۱:۲،۳)

ایمان والو وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 منافق کی تین نشانیاں ہیں

-        باتوں میں جھوٹ ،

-         وعدہ خلافی

-         اور امانت میں خیانت۔

 ان آفتوں سے مؤمن الگ تھلگ ہوتے ہیں یہی وعدے کی سچائی حضرت اسماعیل علیہ السلام میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی تھی ۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ نے نہیں کیا ۔

 آپﷺ نے ایک مرتبہ ابو العاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا پورا کیا ۔

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کر دیا کہ جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدہ کیاہو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر جس کاقرض ہو میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوا کر فرمایا لو لپ بھر لو ۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو ۔

پھر حضرت اسماعیل کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا ۔ حالانکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے ۔

چنانچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے:

 اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے اللہ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو پسند فرمایا

وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا (۵۵)

وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول۔‏

 پھر آپ کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ آپ اللہ کی اطاعت پرصابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے ۔

 یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے:

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (۲۰:۱۳۲)

اپنی اہل وعیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ ۔

 اور آیت میں ہے:

يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ قُواْ أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَاراً وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَـئِكَةٌ غِلاَظٌ شِدَادٌ لاَّ يَعْصُونَ اللَّهَ مَآ أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (۶۶:۶)

اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنیے اہل وعیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی زور آور اور بڑے سخت ہیں ۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں ۔

 پس مسلمانوں کو حکم الہٰی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں گناہوں سے روکتے رہیں یونہی بےتعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے

 اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتی ہے ۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے (ابو داؤد ، ابن ماجہ)

آپ کا فرمان ہے:

 جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کرلیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لئے جاتے ہیں (ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا (۵۶)

اور اس کتاب میں ادریس ؑ  کا بھی ذکر کر، وہ بھی نیک کردار پیغمبر تھا۔‏

حضرت ادریس علیہ السلام کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے ۔

وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا (۵۷)

ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا

 آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا ۔

صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی ۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب وغریب اثر وارد کیا ہے:

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟

 آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں ۔

 اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں ۔

ٍ اس فرشتے نے آپ کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا جب چوتھے آسمان پر آپ پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا ، فرشتے نے آپ سے حضرت ادریس علیہ السلام کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا وہ کہاں ہیں ؟

 اس نے کہایہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے

 آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر اس کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چنانچہ اسی وقت ان کی روح قبض کر لی گئی ۔

 یہ ہیں اس آیت کے معنی ۔

 لیکن یہ یاد رہے کہ کعب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے واللہ اعلم ۔

یہی روایت اور سند سے ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے ؟

 اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں دیکھ کر فرمایا صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو حضرت ادریس علیہ السلام کی روح پرواز ہو چکی تھی ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ درزی تھے سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر سبحان اللہ کہتے ۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے

 مجاہد رحمۃ اللہ علیہ تو کہتے ہیں حضرت ادریس علیہ السلام آسمانوں پر چڑھالئے گئے ۔ آپ مرے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بےموت اٹھا لئے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے ۔

 حسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے بلند مکان سے مراد جنت ہے ۔

أُولَئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ

یہی وہ انبیاء ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے فضل و کرم کیا جو اولاد آدم میں سے ہیں

فرمان الہٰی ہے کہ یہ ہے جماعت انبیاء یعنی جن کا ذکر اس سورت میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں ۔

 پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے ۔ یہ ہیں اولاد آدم سے

وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِنْ ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ۚ

اور ان لوگوں کی نسل سے ہیں جنہیں ہم نے نوح ؑکے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا، اور اولاد ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔

یعنی حضرت ادریس صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور اولاد سے ان کی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے اس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں ۔

 اور ذریت ابراہیم علیہ السلام سے مراد حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب حضرت اسماعیل ہیں

 اور ذریت اسرائیل سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون ، حضرت زکریا ، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ہیں علیہم السلام ۔

 یہی قول ہے حضرت سدی رحمۃاللہ علیہ اور ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا ۔

 اسی لئے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھی تھے کیونکہ حضرت ادریس تو حضرت نوح علیہ السلام کے دادا تھے ۔

میں کہتا ہوں بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر حضرت ادریس علیہ السلام ہیں ۔

 ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ادریس بنی اسرائیلی نبی ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں حضرت ادریس کا بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو بنی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو ۔ تو بھائی صالح کہا نہ کہ صالح ولد جیسے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت آدم علیہما السلام نے کہا تھا ۔

 مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے کے ہیں ۔

 آپ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ لا الہ الا اللہ کے قائل اور معتقدین بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کر دیا ۔

ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لئے قرار دیا ہے اس کی دلیل سورہ انعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام ، حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت سیلمان علیہ السلام ، حضرت ایوب علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت ہارون علیہ السلام ، حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ،حضرت الیاس علیہ السلام ، حضرت اسماعیل علیہ السلام ، حضرت یونس علیہ السلام ، وغیرہ کا ذکر ہے

اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا:

أُوْلَـئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ (۶:۹۰)

یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتدا کر

 اور یہ بھی فرمایا ہے:

مِنْهُم مَّن قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّن لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (۴۰:۷۸)

نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کر دیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ کیا سورہ ص میں سجدہ ہے

 آپ نے فرمایا ہاں پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اقتدا کا حکم کیا گیا ہے اور حضرت داؤد علیہ السلام بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں ۔

إِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا  (۵۸) ۩

 ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے روتے گڑ گڑاتے گر پڑتے تھے ۔  سجدہ

فرمان ہے کہ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل وبراہین پر خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گر پڑتے تھے اسی لئے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتدا ہو جائے ۔

 امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں ؟ (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)

فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (۵۹)

پھر ان کے بعد ایسے اطاعت نہ کرنے والے پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا

نیک لوگوں کا خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر کیا جو حدود الہٰی کے محافظ ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں ۔

 اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واجبات کی وہ کیا پرواہ کریں گے  کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے ۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے ۔

 نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے ۔ اسی لئے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے ۔ یہی ایک قول حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے :

 بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے ۔

دوسری حدیث میں ہے:

 ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا ۔

 اس مسئلہ کو تقصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔

 یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے ۔

 حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے ، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے ، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے ، کہیں محافظت کا ۔

 آپ نے فرمایا ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے ۔

لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے ۔

 آپ نے فرمایا یہ تو کفر ہے ۔

حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا ، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے ۔

 خلیفۃ المسلمین امیرالمؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا :

 اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کر دینا ہے۔

 حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس اُمت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے ۔

عطابن ابو رباح رحمۃ اللہ علیہ یہی فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے ۔

حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 یہ اس اُمت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے ۔

 پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ۔

یاد رکھو قاری تین قسم کے ہوتے ہیں مؤمن منافق اور فاجر ۔

 راوی حدیث حضرت ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے ۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا ۔

 ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے:

 حضرت مائی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد وعورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔

 محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں ۔

حضرت کعب بن احبار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے ، نمازیں چھوڑنے والے ، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے ، عشا کی نمازوں کے وقت سو جانے والے ، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کرکے پیٹو بن کرکھانے والے ، جماعتوں کو چھوڑنے والے ۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں ۔

 ابو شہب عطا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت داؤد علیہ السلام پر وحی آئی:

 اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں ، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہوجاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کر دیتا ہوں ۔

 مسند احمد میں ہے:

 مجھے اپنی اُمت میں دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے

-         ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑ جائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے ،

-         دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مؤمنوں سے لڑیں جھگڑیں گے ۔

 غَيًّا کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں ۔

 ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غی جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی ۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے ۔

 ابن جریر میں ہے لقمان بن عامر فرماتے ہیں میں حضرت ابو امامہ صدی بن عجلان باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں ۔ آپ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

 اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھنکاجائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہہ میں نہیں پہنچ سکتا ۔ پھر وہ غی اور أَثَام میں پہنچے گا ۔ غی اور أَثَام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے ۔

 غی کا ذکر آیت فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا میں ہے اور أَثَام کا ذکر آیت يَلْقَ أَثَامًا (۲۵،۶۸) میں ہے

اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث کی رو سے بھی غریب ہے ۔

إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا (۶۰)

بجز ان کے جو توبہ کرلیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

پھر فرماتا ہے ہاں جو ان کاموں سے توبہ کرلے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گیا اس کی عاقبت سنوار دے گا اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا ، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے ۔

 اور حدیث میں ہے:

 توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ ۔

یہ لوگ جو نیکیاں کریں ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہوگا ۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہوگی ۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کر دیتا ہے ۔

سورہ فرقان آیت ۶۸،۶۹میں گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنا کیا او فرمایا :

وَكَانَ اللَّهُ غَفُوراً رَّحِيماً(۲۵:۷۰)

اللہ غفور ورحیم ہے ۔

جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدَ الرَّحْمَنُ عِبَادَهُ بِالْغَيْبِ ۚ

ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعدہ اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔

جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کر چکا ہےان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین وایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے ۔

إِنَّهُ كَانَ وَعْدُهُ مَأْتِيًّا (۶۱)

بیشک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہی ہے۔‏

جیسے او ر جگہ فرمایا:

كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولاً (۷۳:۱۸)

اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کر ہی رہے گا۔

 نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے ۔

 مَأْتِيًّا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا ۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا ۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے ۔

لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلَّا سَلَامًا ۖ

وہ لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں گے،

ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے ۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہوگی ۔ چاروں طرف سے اور خصوصاً فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی ۔

جیسے سورہ واقعہ میں ہے:

لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا ـ إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا (۵۶:۲۵،۲۶)

وہاں کوئی بیہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجر سلام اور سلامتی کے ۔

وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا (۶۲)

 ان کے لئے وہاں صبح شام ان کا رزق ہوگا ۔‏

صبح شام پاک طیب عمدہ خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف وتکلیف بےمشقت وزحمت چلی آئیں گی ۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے نہیں بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں ۔

چنانچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے ۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے ان کا بخور خوشبودار اگر ہوگا ، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے ، ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر نظر آئے ۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہوگی نہ بغض سب ایک دل ہوں گے ۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہوگا ۔ صبح شام تسبیح میں گزریں گے ۔

 مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں  صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں

پس صبح وشام باعتبار دنیا کے ہے وہاں رات نہیں بلکہ ہروقت نور کاسماں ہے پردے گرجانے اور دروازے بند ہوجانے سے اہل جنت وقت شام کو اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیے گے ۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا ۔ ی

ہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں ۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی اس لئے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے ۔

چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے اس لئے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے ۔

چنانچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ صبح شام کا ٹھیکہ ہے ، رزق تو بیشمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں ۔

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِيًّا (۶۳)

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔‏

یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے جن کی صفیتں قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (۲۳:۱،۹) کے میں بیان ہوئی ہیں

 اور فرمایا گیا ہے :

أُوْلَـئِكَ هُمُ الْوَرِثُونَ ـ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ (۲۳:۱۰،۱۱)

یہی وارث ہیں۔جو فردوس کے وارث ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا ، آمین

وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۖ

ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا آپ جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب پر یہ آیت اتری ہے ۔

 یہ بھی مروی ہے:

 ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کے آنے میں تاخیر ہوگئی جس سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہوئے پھر آپ یہ آیت لے کر نازل ہوئے ۔

روایت ہے :

 بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے جب آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری ۔

پس گو یہ یہ آیت سورہ والضحی کی آیت جیسی ہے ۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میرا شوق تو بہت ہی بےچین کئے ہوئے تھا ۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی ۔

 لیکن یہ روایت غریب ہے

 ابن ابی حاتم میں ہے:

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رک جانے کی وجہ دریافت کی آپ نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں ، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں ، مونچھیں پست نہ کرائیں ، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں ؟

پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔

مسند امام احمد میں ہے:

 ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کر لو آج وہ فرشتہ آرہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا ۔

لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ ۚ

 ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں،

 ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں ۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں ۔

وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا (۶۴)

تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں۔‏

تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ کو اپنی یاد سے فرماموش نہیں کیا ۔ نہ اس کی یہ صفت ۔

جیسے فرمان ہے:

وَالضُّحَى ـ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَى ـ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى (۹۳:۱،۳)

قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش ۔

ابن ابی حاتم میں ہے آپ ﷺفرماتے ہیں:

 جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا وہ حلال ہے اور جو حرام کر دیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کر لو ، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں

 پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا ۔

رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ

آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔

آسمان وزمین اور ساری مخلوق کا خالق مالک مدبر متصرف وہی ہے ۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے ۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ

هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا (۶۵)

کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟

اس کے مثیل شبیہ ہم نام پلہ کوئی نہیں ۔ وہ بابرکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ ۔

وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ أَإِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا (۶۶)

انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤنگا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤنگا ۔

بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے ۔

 جیسے قرآن کا فرمان ہے:

وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَابًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ (۱۳:۵)

اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟

سورہ یٰسین میں فرمایا:

أَوَلَمْ يَرَ الإِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ  ـ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ ـ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ  (۳۶:۷۷،۷۹)

کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے ۔

 یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟

أَوَلَا يَذْكُرُ الْإِنْسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا (۶۷)

کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ۔‏

جواباً فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کر دیا ۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کامنکر ؟

جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کر دینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟

پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر ۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بنسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور ۔

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيَاطِينَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا (۶۸)

تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے

 مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے

 جیسے فرمان ہے:

وَتَرَى كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً (۴۵:۲۸)

ہر اُمت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہو گی ۔

ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا ۔

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيعَةٍ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمَنِ عِتِيًّا (۶۹)

ہم ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے

جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں وبرائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے ۔

 جیسے فرمان ہے:

حَتَّى إِذَا ادَّارَكُواْ فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لاٍّولَـهُمْ رَبَّنَا هَـؤُلاءِ أَضَلُّونَا فَـَاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ (۷:۳۸،۳۹)

یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دوگنا دے۔

ثُمَّ لَنَحْنُ أَعْلَمُ بِالَّذِينَ هُمْ أَوْلَى بِهَا صِلِيًّا (۷۰)

پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں ۔

 پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟

 جیسے دوسری آیت میں ہے:

قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـكِن لاَّ تَعْلَمُونَ (۷:۳۸)

ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو ۔

وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا (۷۱)

تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، طے شدہ امر ہے۔‏

ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا (۷۲)

پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے ۔

مسند امام احمد بن حنبل کی ایک قریب حدیث میں ہے:

 ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے اس بارے میں اختلاف ہوا کوئی کہتا تھا مؤمن اس میں داخل نہ ہوں گے ، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بسبب اپنے تقوے کے نجات پا جائیں گے ۔

 میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وارد تو سب ہوں گے۔

 اور روایت میں ہے:

 داخل تو سب ہوں کے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی لیکن مؤمنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہوجائے گا ۔

 خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے کہیں گے اللہ نے تو فرمایا تھا کہ ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے اور ہمارا ورود تو ہوا ہی نہیں تو ان سے فرمایا جائے گا کہ تم وہیں سے گزر کر تو آرہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگ کو ٹھنڈی کر دیا تھا۔

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بار اپنی بیوی صاحبہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے ۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی رونے لگیں تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کیوں روئیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو روتا دیکھ کر ۔ آپ نے فرمایا مجھے تو آیت وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ، یاد آگئی اور رونا آگیا ۔ مجھے کیا معلوم کہ میں نجات پاؤں گا نہیں ؟ اس وقت آپ بیمار تھے ۔

 حضرت ابو میسرہ رحمۃ اللہ علیہ جب رات کو اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتے تو رونے لگتے اور زبان سے بےساختہ نکل جاتا کہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتا ۔

 ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے دھونے کی وجہ کیا ہے ؟

تو فرمایا یہی آیت ہے ۔

یہ تو ثابت ہے کہ وہاں جانا ہوگا اور یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں ؟

 ایک بزرگ شخص نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ہمیں جہنم پر سے گزرنا ہے ؟

 انہوں نے جواب دیا ہاں یقیناً معلوم ہے ۔

 پھر پوچھا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں سے پار ہوجاؤ گے ؟

انہوں نے فرمایا اس کا کوئی علم نہیں

پھر فرمایا ہمارے لئے ہنسی خوشی کیسی؟

یہ سن کراس وقت سے لے کر موت کی گھڑی تک ان کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں آئی۔

 نافع بن ارزق حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے تو آپ نے دلیل میں آیت قرآن إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ (۲۱:۹۸) پیش کر کے فرمایا دیکھو یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے یا نہیں ؟

پھر آپ نے دوسری آیت تلاوت فرمائی يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ (۱۱:۹۸) اور فرمایا بتاؤ فرعون اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا یا نہیں ؟

 پس اب غور کروکہ ہم اس میں داخل تو ضرور ہوں گے اب نکلیں گے بھی یا نہیں ؟

 غالبا ًتجھے تو اللہ نہ نکالے گا اس لئے کہ تو اس کا منکر ہے یہ سن کر نافع کھسیانہ ہو کر ہنس دیا ۔

یہ نافع خارجی تھا اس کی کنیت ابو راشد تھی ۔

 دوسری روایت میں ہے:

 حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے سمجھاتے ہوئے آیت وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَىٰ جَهَنَّمَ وِرْدًا (۱۹:۸۶) بھی پڑھی تھی ۔

اور یہ بھی فرمایا تھا کہ پہلے بزرگ لوگوں کی ایک دعا یہ بھی تھی:

اللہم اخرجنی من النار سالمنا وادخلنی الجنۃ غانما

اے اللہ مجھے جہنم سے صحیح سالم نکال لے اور جنت میں ہنسی خوشی پہنچا دے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو داؤد طیالسی میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کے مخاطب کفار ہیں ۔

عکرمہ رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ظالم لوگ ہیں اسی طرح ہم اس آیت کو پڑھتے تھے ۔

یہ بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نیک بد سب وارد ہوں گے ۔ دیکھو فرعون اور اس کی قوم کے لئے اور گہنگاروں کے لئے بھی ورود کا لفظ دخول کے معنی میں خود قرآن کریم کی دو آیتوں میں وارد ہے ۔

 ترمذی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

وارد تو سب ہوں گے پھر گزر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا ۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

 پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے اب بعض تو بجلی کی طرح گزر جائیں گے ، بعض ہوا کی طرح ، بعض پرندوں کی طرح ، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح ، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح، بعض تیز چال والے پیدل انسان کی طرح یہاں تک کہ سب سے آخر جو مسلمان اس سے پار ہوگا یہ وہ ہوگا جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پرنورہوگا گرتا پڑتا نجات پائے گا ۔

 پل صراط پھسلنی چیز ہے جس پر ببول جیسے اور گو گھرو جیسے کانٹے ہیں دونوں طرف فرشتوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں جہنم کے ٹکٹ ہوں گے جن سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا ۔ پہلا گروہ تو بجلی کی طرح آن کی آن میں پار ہوجائے گا ، دوسرا گروہ ہوا کی طرح جائے گا ، تیسرا تیز رفتار گھوڑوں کی طرح ، چوتھا تیز رفتار جانور کی طرح ۔ فرشتے ہر طرف سے دعائیں کر رہے ہونگے کہ اسے اللہ سلامت رکھ الہٰی بچا لے

 بخاری ومسلم کی بہت سی مرفوع احادیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے ۔

حضرت کعب رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے:

 جہنم اپنی پیٹھ پر تمام لوگوں کو جما لے گی ۔ جب سب نیک وبد جمع ہوجائیں گے تو حکم باری ہوگا کہ اپنے والوں کو تو پکڑ لے اور جنتیوں کو چھوڑ دے ۔ اب جہنم سب برے لوگوں کا نوالہ کر جائے گی ۔ وہ برے لوگوں کو اس طرح جانتی پہچانتی ہے جس طرح تم اپنی اولاد کو بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ مؤمن صاف بچ جائیں گے ۔ سنو جہنم کے داروغوں کے قد ایک سو سال کی راہ کے ہیں ان میں سے ہر ایک کے پاس گرز ہیں ایک مارتے ہیں تو سات لاکھ آدمیوں کا چورا ہو جاتا ہے ۔

مسند میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مجھے اپنے رب کی ذات پاک سے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ کے جہاد میں جو ایمان دار شریک تھے ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا

یہ سن کر حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا یہ کیسے ؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے ،

 تو آپ نے اس کے بعد کی دوسری آیت پڑھ دی کہ متقی لوگ اس سے نجات پاجائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں رہ جائیں گے ۔

بخاری ومسلم میں ہے:

 جس کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں اسے آگ نہ چھوئے گی مگر صرف قسم پوری ہونے کے طور پر ۔

 اس سے مراد یہی آیت ہے ۔

 ابن جریر میں ہے:

 ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بخار چڑھا ہوا تھا جس کی عیادت کے لئے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ تشریف لے چلے آپ نے فرمایا:

 جناب باری عزوجل کا فرمان ہے کہ یہ بخار بھی ایک آگ ہے میں اپنے مؤمن بندوں کو اس میں اس لئے مبتلا کرتا ہوں کہ یہ جہنم کی آگ کا بدلہ ہوجائے ۔

یہ حدیث غریب ہے ۔

 حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی فرمایا کر پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ہے ۔

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جو شخص سورہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ   دس مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا ہے ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا پھر تو ہم بہت سے محل بنا لیں گے

 آپ ﷺنے جواب دیا اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں وہ بہتر سے بہتر اور بہت سے بہت دینے والا ہے ۔

 اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحوں میں لکھ لے گا ۔ فی الواقع ان کا ساتھ بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہے ۔

 اور جو شخص کسی تنخواہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی خوشی کے لئے مسلمان لشکروں کی ، ان کی پشت کی طرف سے حفاظت کرنے کے لئے پہرہ دے وہ اپنی آنکھ سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری کرنے کے لئے ، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے ۔

 اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بھی سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے

 اور روایت میں ہے سات ہزار گنا ۔

 ابو داؤد میں ہے:

 نماز روزہ اور ذکر اللہ ، اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا درجہ رکھتے ہیں ۔

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس آیت سے گزرنا ہے ۔

 عبدالرحمٰن کہتے ہیں مسلمان تو پل صراط سے گزر جائیں گے اور مشرک جہنم میں جائیں گے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اس دن بہت سے مرد عورت اس پرسے پھسل جائیں گے۔ پل صراط پر جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہوجائیں گے ، ہاں کافر گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے ۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی ۔ پھر نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے ۔ ملائیکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء بھی ۔ پھر بہت سے لوگ تو جہنم میں سے اس حالت میں سے نکلیں گے کہ آگ انہیں کھا چکی ہوگی مگر چہرے کی سجدہ کی جگہ بچی ہوئی ہو گی ۔ پھر اپنے اپنے باقی ایمان کے حساب سے دوزخ سے نکالے جائیں گے ۔ جن کے دلوں میں بقدر دینار کے ایمان ہوگا وہ اول نکلیں گے ، پھر اس سے کم والے ، یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان والے ، پھر اس سے کم والے ، پھر اس سے بھی کمی والے ، پھر وہ جس نے اپنی پوری عمر میں لا الہ الا اللہ کہہ دیا ہو گو کچھ بھی نیکی نہ کی ہو پھر تو جہنم میں وہی رہ جائیں گے جن پر ہمیشہ اور دوام لکھا جا چکاہے ۔

یہ تمام خلاصہ ہے ان احادیث کا جو صحت کے ساتھ آچکی ہیں ۔ پس پل صراط پر جانے کے بعد نیک لوگ پار ہوجائیں گے اور بد لوگ کٹ کٹ کر جہنم میں گر پڑیں گے ۔

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَيُّ الْفَرِيقَيْنِ خَيْرٌ مَقَامًا وَأَحْسَنُ نَدِيًّا (۷۳)

جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیادہ ہے اور کس کی مجلس شاندار ہے؟

اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل وبرہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان وشوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں ۔

کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پر تکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی اور بارونق ہیں ؟ پس ہم جو کہ مال ودولت ، شان وشوکت ، عزت وآبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں ؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے ، کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں ، کہیں اور ، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں ۔

 جیسے اور آیت میں ہے:

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَوْ كَانَ خَيْراً مَّا سَبَقُونَآ إِلَيْهِ (۴۶:۱۱)

کافروں نے کہااگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ ؟

 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے بھی یہی کہا تھا:

أَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الاٌّرْذَلُونَ (۲۶:۱۱۱)

تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدار بن نہیں سکتے ۔

 اور آیت میں ہے:

وَكَذلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُولواْ أَهَـؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّن بَيْنِنَآ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّـكِرِينَ (۶:۵۳)

اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں، کیا یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شکرگزاروں کو خوب جانتا ہے

مَقَام سے مراد مسکین اور نعمتیں ہیں

 نَدِيّ سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں ۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نَادِيّ اور نَدِيّ کہتے ہیں جیسے آیت وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ (۹:۲۹) میں ہے

وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنْ قَرْنٍ هُمْ أَحْسَنُ أَثَاثًا وَرِئْيًا (۷۴)

ہم تو ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو غارت کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نام و نمود میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں‏

پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کر دیا ۔ ان کی مجلسیں ، ان کے مکانات ان کی قوتیں ، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں ۔ شان وشوکت میں ، ٹیپ ٹاپ میں ، تکلفات میں ، امارت میں اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے ۔ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا ۔ غارت اور برباد کر دیا۔

 فرعونیوں کو دیکھ لو انکے باغات انکی نہریں انکی کھیتیاں انکے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کر دیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے ۔

یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں لباس میں مال میں متاع میں صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔

قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلَالَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمَنُ مَدًّا ۚ

کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا ہے اللہ رحمٰن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے،

ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطمینان کئے بیٹھے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے

حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ إِمَّا الْعَذَابَ وَإِمَّا السَّاعَةَ

یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ لیں جن کا وعدہ کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو،

جب تک کہ قیامت نہ آجائے یا ان کی موت نہ آجائے ۔

فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضْعَفُ جُنْدًا (۷۵)

اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے والا اور کس کا گروہ کمزور ہے ۔

 اس وقت انہیں پورا پتہ چل جائے گا کہ فی الواقع برا شخص کون تھا اور کس کے ساتھی کمزور تھے دنیا تو ڈھلتی چڑھتی چھاؤں ہے نہ خود اس کا اعتبار نہ اس کے سامان اسباب کا ۔ یہ تو اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی رہیں گے ۔

 گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے جیسے یہودیوں سے سورہ جمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے:

يأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُواْ إِن زَعمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِيَآءُ لِلَّهِ مِن دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُاْ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَـدِقِينَ (۶۲:۶)

 کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سوا تم موت کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔

اسی طرح سورہ آل عمران میں مباہلے کا ذکر ہے:

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَآءَنَا وَأَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ (۳:۶۱)

اس لیے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔

  پس نہ تو مشرکین مقابلے پر آئے نہ یہود کی ہمت پڑتی نہ نصرانی مرد میدان بنے ۔

وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى ۗ

اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ  ہدایت میں بڑھاتا ہے

جس طرح گمراہوں کی گمراہی بڑھتی رہتی ہے اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت بڑھتی رہتی ہے

 جیسے فرمان ہے:

وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُمْ مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـذِهِ إِيمَـناً (۹:۱۲۴)

کوئی سورت اترتی ہے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں زیادہ کر دیا ؟

وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَرَدًّا (۷۶)

اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں ۔

الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورہ کہف میں گزر چکی ہے ۔

یہاں فرماتا ہے کہ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لئے بہتر ہیں۔

 عبدالرزاق میں ہے:

 ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے آپ نے فرمایا :

دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ کہنے سے جھڑتے ہیں ۔

 اے ابو درداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے یہی باقیات صالحات ہیں یہی جنت کے خزانے ہیں

 اس کو سن کر حضرت ابو دارداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں ۔

 ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے ۔

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا (۷۷)

کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی۔‏

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری سے نہ نکل جائے

 میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کر سکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو ۔

 اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا ۔

 اس پر یہ آیت اتری ۔ (بخاری مسلم)

دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکے میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی ۔

اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے اس لئے مجھے جو جواب دیا میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اس پر یہ آیتیں آتری

اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا ان کے تقاضوں پر اس نے کہاکہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا چاندی ریشم پھل پھول وغیرہ ہوں گے ؟

ہم نے کہا ہاں ہیں تو

 کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا ۔

پس یہ آیتیں وَيَأْتِينَا فَرْدًا (۸۰)  اتریں ۔

 وَلَدًاکی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے ۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے واللہ اعلم ۔

أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (۷۸)

کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟‏

اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے ؟

 اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے ؟

یا اس نے اللہ سے کوئی قول وقرار ، عہد وپیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو ؟

چنانچہ آیت (الا من اتخذ عند الرحمن عہدا) میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہو جانا ہی مراد لیا گیا ہے ۔

كَلَّا ۚ سَنَكْتُبُ مَا يَقُولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّا (۷۹)

ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔‏

پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے ۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے اس کا کفر بھی ہم پر روشن ہے اور آخرت میں تو اس کے لئے عذاب ہی عذب ہے جو ہر وقت بڑھتا ہی رہے گا

وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا (۸۰)

یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہوگا ۔

 اسے مال و اولاد وہاں ملنا تو کجا اس کے برعکس دنیا کا مال ومتاع اور اولاد وکنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہو گا

 ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت میں وَنَرِثُهُ مَا عِندَہُ ہے ۔ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں ۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہو گا ۔

وَاتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ آلِهَةً لِيَكُونُوا لَهُمْ عِزًّا (۸۱)

انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے لئے باعث عزت ہوں۔‏

کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے ۔

كَلَّا ۚ سَيَكْفُرُونَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُونُونَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا (۸۲)

لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ وہ تو پوجا سے منکر ہوجائیں گے، الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔‏

غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہو جائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے ۔

 جیسے فرمایا :

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لاَّ يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَـمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَـفِلُونَ ـ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُواْ لَهُمْ أَعْدَآءً وَكَانُواْ بِعِبَادَتِهِمْ كَـفِرِينَ (۴۶:۵،۶)

ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں ۔

 كَلَّا کی دوسری قرأت كُلَّ بھی ہے

خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے ۔ یہ سب عابد ومعبود جہنمی ہوں گے ، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے ۔ وہ اس پر یہ اس پر لعنت وپھٹکار کرے گا ، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا ، ایک دوسرے کو برا کہے گا ، سخت تر جھگڑے پڑیں گے ، سارے تعلقات کٹ جائیں گے ، ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہوگی ۔ معبود عابدوں کے لئے اور عابد معبودوں کے لئے بلائے بےدرماں حسرت بےپایا ہوجائیں گے ۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا (۸۳)

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم کافروں کے پاس شیطانوں کو بھیجتے ہیں جو انہیں خوب اکساتے ہیں

کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے ، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں ، آرزو میں بڑھاتے ہیں ، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں

فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا (۸۴)

تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر، ہم تو خود ہی ان کے لئے مدت شمار کر رہے ہیں ۔

جیسے فرمان ہے:

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ (۴۳:۳۶)

ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہوجاتے ہیں ۔

 تو جلدی نہ کر ان کے لئے کوئی بدعا نہ کر ہم نے خود عمداً انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لئے جائیں گے ۔

وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَـفِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّـلِمُونَ (۱۴:۴۲)

اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بےخبر نہیں ہے

انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں ہی اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں

فَمَهِّلِ الْكَـفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْداً (۸۶؛:۱)

تو کافروں کو مہلت دے  انہیں تھوڑے دن چھوڑ دے۔

إِنَّمَا نُمْلِى لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمَاً (۳:۱۷۸)

یہ مہلت تو اس لئے ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں

آخر سخت عذابوں کی طرف بےبسی کے ساتھ جا پڑیں گے تم فائدہ حاصل کر لو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔

نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلاً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ (۳۱:۲۴)

ہم انہیں گو کچھ یونہی فائدہ دے دیں لیکن (بالآخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکالے جائیں گے

قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ (۱۴:۳۰)

آپ کہہ دیجئے کہ خیر مزے کر لو تمہاری باز گشت تو آخر جہنم ہی ہے ۔

ہم ان کے سال کے مہینے دن اور وقت شمار کررہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے۔

يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِينَ إِلَى الرَّحْمَنِ وَفْدًا (۸۵)

جس دن ہم پرہیزگاروں کو اللہ رحمٰن کی طرف بطور مہمان جمع کریں گے۔‏

جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے ، پیغمبروں کی تصدیق کی ، اللہ کی فرمانبرداری کی ، گناہوں سے بچے رہے ، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بعزت داخل کئے جائیں گے ۔

مؤمن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لئے کھڑا ہے پوچھے گا تم کون ہو ؟

 وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بعزت واکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں ۔

 پس مؤمن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا ۔ ان کی سواری کے لئے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے ۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے ۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے ۔

یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہترکوئی سواری کبھی نہیں آئی ۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے ۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے ۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی ۔

ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے

ابن ابی حاتم کی روایت ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے

 آپ ﷺنے فرمایا قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پردار اونٹنیاں اپنی سواری کے لئے موجود پائیں گے جن پر سونے کے پالان ہوں گے جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہو گا جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہو جائیں گے دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہو جائیں گے اور بال جم جائیں گے اسکے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے ۔

سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہوگا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے خاوند آگئے خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گر پڑنا چاہیں گے لیکن وہ فورا کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں آپ کا حکم بردار ہوں اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے ۔

 ان کی حوریں تاب نہ لا سکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سر تاج ہیں ہمارے محبوب ہیں میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی ۔

یہ اندر داخل ہوں گے دیکھیں گے کہ سو سو گزر بلند بالاخانے ہیں لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں ۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے ہر مکان میں ستر تخت ہیں ہر تخت پر ستر حوریں ہیں ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہو گی ۔

صاف شفاف پانی کی ، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا ، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا ، نہریں بہہ رہی ہوں گی ۔

پھلدار درخت میوؤں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے ۔ چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے ۔

 سبز وسفید پرنج اڑ رہے ہیں جس کے گوشت کھانے کو جی چاہا وہ خود بخود حاضر ہوگیا جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھالیا اور پھر وہ قدرت الہٰی سے زندہ چلا گیا ۔

 چاروں طرف سے فرشتے آرہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئے گئے ۔ وہ یہ ہے بدلہ ہے تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے ۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کر دیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑ جائے ۔

 یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے ۔ واللہ اعلم

وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِينَ إِلَى جَهَنَّمَ وِرْدًا (۸۶)

اور گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ۔

ان کے برخلاف اللہ سے خوف نہ کھانے والے ، گنہگار ، رسولوں کے دشمن ، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبراً قہرا ًجہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔

گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی ۔

لَا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا (۸۷)

کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ  کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے ۔‏

 اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والاہے ؟

 کوئی ان کی شفاعت کرنے والا ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا مؤمن تو ایک دوسروں کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں یہ خود کہیں گے:

فَمَا لَنَا مِن شَـفِعِينَ ـ وَلاَ صَدِيقٍ حَمِيمٍ (۲۶:۱۰۰،۱۰۱)

ہمارا کوئی سفارشی نہیں نہ سچا دوست ہے ۔

 ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے یہ استثنا منقطع ہے ۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کو گواہی اور اس پر استقاُمت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت ، دوسروں کی پوجا سے بےزاری اور لا تعلقی ، صرف اسی سے مدد کی امید ، تمام آرزؤں کے پورا ہونے کی اسی سے آس ۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کر لیا ہے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس سے میرا عہد ہے وہ کھڑا ہوجائے ۔ لوگوں نے کہا حضرت ہمیں بھی وہ بتا دیجئے آپ نے فرمایا یوں کہو:

اللہم فاظر السموات والارض عالم الغیب والشہادۃ فانی اعہد الیک فی ہذہ الحیوۃ الدنیا انک ان تکلنی الی عمل یقبنی من الشر ویباعدنی من الخیر وانیلا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عہدا تودیہ لی یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد

اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے

 خائفا مستجیرا مسغفرا راہبا راغبا لیک (ابن ابی حاتم )

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَنُ وَلَدًا (۸۸)

ان کا قول یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔‏

اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں ۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے ۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں ۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے ۔ ان کے قول کو بیان فرمایا ۔

لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا (۸۹)

یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز لائے ہو۔‏

پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے

 إِدًّا ، أَدًّا اور ادًّا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور إِدًّا ہے ۔

تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا (۹۰)

قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں‏

ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے ۔

اس لئے کہ زمین وآسمان اللہ تعالیٰ کی عزت وعظمت جانتی ہے ، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی ۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے ۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے ۔

قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے ۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی ۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے ۔

جیسے کہ حدیث میں ہے:

 اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو ۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی ۔

 صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟

 فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی ۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین وآسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے

اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہو جانا آیا ہے

 واللہ اعلم ۔

پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو؟

وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں ۔

پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔

 مروی ہے:

اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑ گئے ۔

 کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی ۔

أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا (۹۱)

کہ وہ رحمٰن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ۔

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

 لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں ۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں ، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے ، روزیاں پہنچا رہا ہے ، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے ۔

وَمَا يَنْبَغِي لِلرَّحْمَنِ أَنْ يَتَّخِذَ وَلَدًا (۹۲)

شان رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔‏

پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین وآسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو ۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں

إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمَنِ عَبْدًا (۹۳)

آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ۔

زمین وآسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے ۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے

لَقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا (۹۴)

ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پورے گن بھی رکھا ہے

سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں ۔ ہر مرد وعورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی ۔

وَكُلُّهُمْ آتِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرْدًا (۹۵)

یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں

  ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے ۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا (۹۶)

بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کر دے گا

فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کانور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے ۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

 جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پراتاری جاتی ہے

 اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں میں ندا کر دیتے ہیں کہ فلاں دشمن الہٰی تم سب اس سے بیزار رہنا چنانچہ آسمان والے اس سے بگڑتے بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے ۔ (بخاری مسلم)

مسند احمد میں ہے:

 جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہو جاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے سنو میں اس سے خوش ہوگیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر ناž