تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الحج

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (۱)

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔‏

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تقوے کا حکم فرماتا ہے اور آنے والے دہشت ناک امور سے ڈرا رہا ہے خصوصاً قیامت کے زلزلے سے ۔

 اس سے مراد یا تو وہ زلزلہ ہے جو قیامت کے قائم ہونے کے درمیان آئے گا۔

جیسے فرمان ہے:

إِذَا زُلْزِلَتِ الاٌّرْضُ زِلْزَالَهَا (۹۹:۱)

زمین خوب اچھی طرح جھنجھوڑ دی جائے گی ۔

 اور فرمایا :

وَحُمِلَتِ الاٌّرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَحِدَةً (۶۹:۱۴)

زمین اور پہاڑ اٹھا کر باہم ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے کردئے جائیں گے ۔

 اور فرمان ہے:

إِذَا رُجَّتِ الاٌّرْضُ رَجّاً ـوَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسّاً (۵۶:۴،۵)

جب کہ زمین بڑے زور سے ہلنے لگے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔

 صور کی حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ جب آسمان و زمین کو پیدا کرچکا تو صور کو پیدا کیا اسے حضرت اسرافیل کو دیا وہ اسے منہ میں لئے ہوئے آنکھیں اوپر کو اٹھائے ہوئے عرش کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ کب حکم الہٰی ہو اور وہ صور پھونک دیں ۔

 ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ صور کیا چیز ہے؟

آپﷺ نے فرمایا:

 ایک پھونکنے کی چیز ہے بہت بری جس میں تین مرتبہ پھونکا جائے گا

پہلا نفخہ گھبراہٹ کا ہوگا

دوسرا بیہوشی کا

 تیسرا اللہ کے سامنے کھڑا ہونے کا ۔

حضرت اسرافیل علیہ السلام کو حکم ہوگا وہ پھونکیں گے جس سے کل زمین وآسمان والے گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے ۔ بغیر رکے ، بغیر سانس لئے بہت دیرتک برابر اسے پھونکتے رہیں گے ۔

اسی پہلے صور کا ذکر آیت وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ (۳۸:۱۵) میں ہے اس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے زمین کپکپانے لگے گی۔

جیسے فرمان ہے:

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (۷۹:۶)

جب کہ زمین لرزنے لگے گی

 اور یکے بعد دیگرے زبردست جھٹکے لگیں گے دل دھڑکنے لگیں گے زمین کی وہ حالت ہوجائے گی جو کشتی کی طوفان میں اور گرداب میں ہوتی ہے یا جیسے کوئی قندیل عرش میں لٹک رہی ہو جسے ہوائیں چاروں طرف جھلارہی ہوں۔

يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا

جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے

وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (۲)

اور تو دیکھے گا کہ لوگ مد ہوش، دکھائی دیں گیں، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہونگے لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ۔

 آہ ! یہی وقت ہوگا کہ دودھ پلانے والیاں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور بچے بوڑھے ہوجائیں گے شیاطین بھاگنے لگیں گے زمین کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن وہاں سے فرشتوں کی مار کھا کر لوٹ آئیں گے لوگ ادھر ادھر حیران پریشان زمین ایک طرف سے دوسرے کو آوازیں دینے لگیں گے اسی لئے اس دن کا نام قرآن نے يَوْمَ التَّنَادِ (۴۰:۳۲) رکھا ۔

 اسی وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت زمین ایک طرف سے دوسری طرف تک پھٹ جائے گی اس وقت کی گھبراہٹ کا انداز نہیں ہوسکتا

 اب آسمان میں انقلابات ظاہر ہوں گے سورج چاند بےنور ہوجائیں گے ، ستارے جھڑنے لگیں گے اور کھال ادھڑنے لگے گی ۔

 زندہ لوگ یہ سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے ہاں مردہ لوگ اس سے بےخبر ہونگے آیت قرآن فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ (۳۹:۶۸) میں جن لوگوں کا استثناکیا گیا ہے کہ وہ بیہوش نہ ہوں گے اس سے مراد شہید لوگ ہیں ۔

 یہ گھبراہٹ زندوں پر ہوگی شہید اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں پاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس دن کے شر سے نجات دے گا اور انہیں پر امن رکھے گا ۔

یہ عذاب الہٰی صرف بدترین مخلوق کو ہوگا ۔ اسی کو اللہ تعالیٰ اس سورت کی شروع کی آیتوں میں بیان فرماتا ہے ۔

یہ حدیث طبرانی جریر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ہے اور بہت مطول ہے اس حصے کو نقل کرنے سے یہاں مقصود یہ ہے کہ اس آیت میں جس زلزلے کا ذکر ہے یہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ اور قیامت کی طرف اس کی اضافت بوجہ قرب اور نزدیکی کے ہے ۔ جیسے کہاجاتا ہے اشراط الساعۃ وغیرہ۔   واللہ اعلم  

یا اس سے مراد وہ زلزلہ ہے جو قیام قیامت کے بعد میدان محشر میں ہوگا جب کہ لوگ قبروں سے نکل کرمیدان میں جمع ہوں گے۔

 امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں اس کی دلیل میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں :

حدیث ۱

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ کے اصحاب تیز تیز چل رہے تھے کہ آپ نے باآواز بلند ان دونوں آیتوں کی تلاوت کی ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کان میں آواز پڑتے ہی وہ سب اپنی سواریاں لے کر آپ کے اردگرد جمع ہوگے کہ شاید آپ کچھ اور فرمائیں گے۔ آپ ﷺنے فرمایا جانتے ہو یہ کونسا دن ہوگا ؟

 یہ وہ دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو فرمائے گا کہ اے آدم جہنم کا حصہ نکال۔ وہ کہیں گے اے اللہ کتنوں میں سے کتنے ؟ فرمائے گا ہرہزار میں سے نو سو نناوے جہنم کے لئے اور ایک جنت کے لئے ۔

 یہ سنتے ہی صحابہ کے دل دہل گئے، چپ لگ گئی

 آپ ﷺنے یہ حالت دیکھ کر فرمایا کہ غم نہ کرو، خوش ہوجاؤ، عمل کرتے رہو۔ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تمہارے ساتھ مخلوق کی وہ تعداد ہے کہ جس کے ساتھ ہو اسے بڑھا دے یعنی یاجوج ماجوج اور نبی آدم میں سے جو ہلاک ہوگئے اور ابلیس کی اولاد۔

 اب صحابہ کی گھبراہٹ کم ہوئی تو آپﷺ نے فرمایا

عمل کرتے رہو اور خوشخبری سنو اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم تو اور لوگوں کے مقابلے پر ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلوکا یا جانور کے ہاتھ کا داغ ۔

 اسی روایت کی اور سند میں ہے کہ یہ آیت حالت سفر میں اتری۔ اس میں ہے:

 صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان سن کر رونے لگے آپ ﷺنے فرمایا :

قریب قریب رہو اور ٹھیک ٹھاک رہو ہر نبوت کے پہلے جاہلیت کا زمانہ رہا ہے وہی اس گنتی کو پوری کردے گا ورنہ منافقوں سے وہ گنتی پوری ہوگی ۔

 اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا :

 مجھے تو امید ہے کہ اہل جنت کی چوتھائی صرف تم ہی ہوگے

یہ سن کر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ اکبر کہا

 ارشاد ہوا کہ عجب نہیں کہ تم تہائی ہو

 اس پر انہوں نے پھر تکبیر کہی

 آپ ﷺنے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم ہی نصفا نصف ہوگے

 انہوں نے پھر تکبیر کہی۔

 راوی کہتے ہیں مجھے یاد نہیں کہ پھر آپ نے دوتہائیاں بھی فرمائیں یانہیں؟

اور روایت میں ہے:

 غزوہ تبوک سے واپسی میں مدینے کے قریب پہنچ کر آپ نے تلاوت آیت شروع کی ۔

 ایک اور روایت میں ہے :

 جنوں اور انسانوں سے جو ہلاک ہوئے

 اور روایت میں ہے کہ تم تو ایک ہزار اجزا میں سے ایک جز ہی ہو۔

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے:

 قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکارے گا وہ جواب دیں گے لبیک ربنا وسعدیک

پھر آواز آئے گی کہ اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں جہنم کا حصہ نکال

 پوچھیں گے اللہ کتنا ؟

 حکم ہوگا ہرہزار میں سے نو سو نناوے

 اس وقت حاملہ کے حمل گرجائیں گے، بچے بوڑھے ہوجائیں گے ، اور لوگ حواس باختہ ہوجائیں گے کسی نشے سے نہیں بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی کی وجہ سے ۔

یہ سن کر صحابہ کے چہرے متغیر ہوگئے تو آپ ﷺنے فرمایا:

 یاجوج ماجوج میں سے نو سو ننانوے اور تم میں سے ایک۔ تم تو ایسے ہو جیسے سفید رنگ بیل کے چند سیاہ بال جو اس کے پہلو میں ہوں ۔ یامثل چند سفید بالوں کے جو سیاہ رنگ بیل کے پہلو میں ہوں۔

 پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی گنتی میں تمہاری گنتی چوتھے حصے کی ہوگی ہم نے اس پر تکبیر کہی پھر فرمایا آدھی تعداد میں باقی سب اور آدھی تعداد صرف تمہاری۔

 اور روایت میں ہے کہ تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں ننگے بدن بےختنہ حاضر کئے جاؤ گے

 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مرد عورتیں ایک ساتھ ؟

 ایک دوسرے پر نظریں پڑیں گی ؟

 آپ ﷺنے فرمایا عائشہ وہ وقت نہایت سخت اور خطرناک ہوگا ( بخاری ومسلم )

مسند احمد میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

 میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دوست اپنے دوست کو قیامت کے دن یاد کرے گا؟

 آپﷺ نے فرمایا عائشہ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا۔

-        اعمال کے تول کے وقت جب تک کمی زیادتی نہ معلوم ہوجائے۔

-         اعمال ناموں کے اڑائے جانے کے وقت جب تک دائیں بائیں ہاتھ میں نہ آجائیں۔

-        اس وقت جب کہ جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی جو گھیرلے گی اور سخت غیظ وغضب میں ہوگی اور کہے گی میں تین قسم کے لوگوں پر مسلط کی گئی ہوں

-         ایک تو وہ لوگ جو اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے رہتے ہیں

-        دوسرے وہ جو حساب کے دن پر ایمان نہیں لاتے

-         اور تیسرے ہرسرکش ضدی متکبر پر پھر تو وہ انہیں سمیٹ لے گی اور چن چن کر اپنے پیٹ میں پہنچا دے گی

جہنم پر پل صراط ہوگی جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہوگی اس پر آنکس اور کانٹے ہوں گے جسے اللہ چاہے پکڑ لے گی اس پر سے گزرنے والے مثل بجلی کے ہوں گے مثل آنکھ جھپکنے کے مثل ہوا کے مثل تیزرفتار گھوڑوں اور اونٹوں کے فرشتے ہر طرف کھڑے دعائیں کرتے ہوں گے کہ اللہ سلامتی دے اللہ بچا دے

 پس بعض تو بالکل صحیح سالم گزر جائیں گے بعض کچھ چوٹ کھا کر بچ جائیں گے بعض اوندھے منہ جہنم میں گریں گے۔

قیامت کے آثار میں اور اس کی ہولناکیوں میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ جن کی جگہ اور ہے ۔

 یہاں فرمایا قیامت کا زلزلہ نہایت خطرناک ہے بہت سخت ہے نہایت مہلک ہے دل دہلانے والا اور کلیجہ اڑانے والا ہے زلزلہ رعب وگھبراہٹ کے وقت دل کے ہلنے کو کہتے ہیں جیسے آیت میں ہے کہ اس میدان جنگ میں مؤمنوں کو مبتلا کیا گیا اور سخت جھنجھوڑ دئے گئے۔ جب تم اسے دیکھوگے یہ ضمیرشان کی قسم سے ہے اسی لئے اس کے بعد اس کی تفسیر ہے کہ اس سختی کی وجہ سے دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ کے حمل ساقط ہوجائیں گے۔ لوگ بدحواس ہوجائیں گے ایسے معلوم ہوں گے جیسے کوئی نشے میں بدمست ہو رہا ہو۔ دراصل وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کے عذابوں کی سختی نے انہیں بےہوش کررکھاہوگا۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّبِعُ كُلَّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ (۳)

بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بےعلمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں ۔

جولوگ موت کے بعد کی زندگی کے منکر ہیں اور اللہ کو اس پر قادر نہیں مانتے اور فرمان الہٰی سے ہٹ کر نبیوں کی تابعداری کو چھوڑ کر سرکش انسانوں اور جنوں کی ماتحتی کرتے ہیں

كُتِبَ عَلَيْهِ أَنَّهُ مَنْ تَوَلَّاهُ فَأَنَّهُ يُضِلُّهُ وَيَهْدِيهِ إِلَى عَذَابِ السَّعِيرِ (۴)

جس پر (قضائے الہٰی) لکھ دی گئی ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کریگا وہ اسے گمراہ کر دیگا اور اسے آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔‏

 ان کی جناب باری تعالیٰ تردید فرما رہا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ جتنے بدعتی اور گمراہ لوگ ہیں وہ حق سے منہ پھیر لیتے ہیں، باطل کی اطاعت میں لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیتے ہیں اور گمراہ سرداروں کی مانتے ہیں وہ ازلی مردود ہے اپنی تقلید کرنے والوں کو وہ بہکاتا رہتا ہے اور آخرش انہیں عذابوں میں پھانس دیتا ہے جو جہنم کی جلانے والی آگ کے ہیں۔

 یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں اتری ہے اس خبیث نے کہا تھا کہ ذرا بتلاؤ تو اللہ تعالیٰ سونے کا ہے یا چاندی کا یا تانبے کا اس کے اس سوال سے آسمان لرز اٹھا اور اس کی کھوپڑی اڑ گئی۔

 ایک روایت میں ہے کہ ایک یہودی نے ایسا ہی سوال کیا تھا اسی وقت آسمانی کڑاکے نے اسے ہلاک کردیا ۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ فَإِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ تُرَابٍ

لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا

مخالفین اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل بیان کی جاتی ہے کہ اگر تمہیں دوسری بار کی زندگی سے انکار ہے تو ہم اس کی دلیل میں تمہاری پہلی دفعہ کی پیدائش تمہیں یاد دلاتے ہیں ۔ تم اپنی اصلیت پر غور کرکے دیکھو کہ ہم نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے یعنی تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کو جن کی نسل تم سب ہو۔

ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُمْ ۚ

پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بےنقشہ تھا یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں

پھر تم سب کوذلیل پانی کے قطروں سے پیدا کیا ہے جس نے پہلے خون بستہ کی شکل اختیار کی پھر گوشت کا ایک لوتھڑا بنا ۔ چالیس دن تک تو نطفہ اپنی شکل میں بڑھتا ہے پھر بحکم الہٰی اس میں خون کی سرخ پھٹکی پڑتی ہے، پھر چالیس دن کے بعد وہ ایک گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کرلیتا ہے جس میں کوئی صورت وشبیہ نہیں ہوتی پھر اللہ تعالیٰ اسے صورت عنایت فرماتا ہے سرہاتھ ، سینہ ، پیٹ ، رانیں ، پاؤں اور کل اعضابنتے ہیں۔ کبھی اس سے پہلے ہی حمل ساقط ہوجاتا ہے ، کبھی اس کے بعد بچہ گرپڑتا ہے ۔ یہ تو تمہارے مشاہدے کی بات ہے ۔

وَنُقِرُّ فِي الْأَرْحَامِ مَا نَشَاءُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى

اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں

اور کبھی ٹھہرجاتا ہے ۔ جب اس لوتھڑے پر چالیس دن گزرجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جواسے ٹھیک ٹھاک اور درست کرکے اس میں روح پھونک دیتا ہے اور جیسے اللہ چاہتا ہو خوبصورت بدصورت مرد عورت بنادیا جاتا ہے رزق ، اجل، نیکی ، بدی اسی وقت لکھ دی جاتی ہے ۔

بخاری ومسلم میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس رات تک جمع ہوتی ہے ۔ پھر چالیس دن تک خون بستہ کی صورت رہتی ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کے لوتھڑے کی، پھر فرشتے کو چار چیزیں لکھ دینے کا حکم دے کر بھیجا جاتا ہے۔ رزق ، عمل ، اجل،شقی یاسعید ہونا لکھ لیا جاتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے

عبداللہ فرماتے ہیں:

 نطفے کے رحم میں ٹھہرتے ہی فرشتہ پوچھتا ہے کہ اے اللہ یہ مخلوق ہوگا یا نہیں ؟

 اگر انکار ہوا تو وہ جمتا ہی نہیں ۔ خون کی شکل میں رحم اسے خارج کردیتا ہے

 اور اگر حکم ملا کہ اس کی پیدائش کی جائے گی تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی ؟

 نیک ہوگا یابد؟

 اجل کیا ہے؟

 اثر کیا ہے ؟

 کہاں مرے گا؟

 پھرنطفے سے پوچھا جاتا ہے تیرے رب کون ہے

وہ کہتا ہے اللہ

پوچھا جاتا ہے رازق کون ہے ؟

 کہتا ہے کہ اللہ۔

 پھرفرشتے سے کہا جاتا ہے تو جا اور اصل کتاب میں دیکھ لے وہیں اس کا حال مل جائے گا

پھر وہ پیدا کیا جاتا ہے لکھی ہوئی زندگی گزارتا ہے مقدر کا رزق پاتا ہے مقررہ جگہ چلتا پھرتا ہے پھر موت آتی ہے اور دفن کیا جاتا ہے جہاں دفن ہونا مقدر ہے۔

 پھر حضرت عامر رحمتہ اللہ علیہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی

 مُضْغَةٍ ہونے کے بعد چوتھی پیدائش کی طرف لوٹایا جاتا ہے اور ذی روح بنتا ہے ۔

حضرت حذیفہ بن اسید کی مرفوع روایت میں ہے:

 چالیس پینتالیس دن جب نطفے پر گزر جاتے ہیں تو فرشتہ دریافت کرتا ہے کہ یہ دوزخی ہے یا جنتی ؟

جو جواب دیا جاتا ہے لکھ لیتا ہے

پھرپوچھتا ہے لڑکا ہے یالڑکی ؟

 جو جواب ملتا ہے لکھ لیتا ہے

 پھر عمل اور اثر اور رزق اور اجل لکھی جاتی ہے اور صحیفہ لپیٹ لیا جاتا ہے جس میں نہ کمی ممکن ہے نہ زیادتی

ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ ۖ

پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو،

پھر بچہ ہو کردنیا میں تولد ہوتا ہے نہ عقل ہے نہ سمجھ ۔ کمزور ہے اور تمام اعضا ضعیف ہیں

 پھر اللہ تعالیٰ بڑھاتا رہتا ہے ماں باپ کو مہربان کردیتا ہے ۔ دن رات انہیں اس کی فکر رہتی ہے تکلیفیں اٹھا کر پرورش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پروان چڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ عنفوان جوانی کا زمانہ آتا ہے خوبصورت تنومند ہوجاتا ہے

وَمِنْكُمْ مَنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا ۚ

 تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں اور بعض بےغرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بےخبر ہو جائے

بعض تو جوانی میں ہی چل بستے ہیں بعض بوڑھے پھونس ہوجاتے ہیں کہ پھرعقل وخرد کھوبیٹھتے ہیں اور بچوں کی طرح ضعیف ہوجاتے ہیں۔ حافظہ، فہم، فکر سب میں فتور پڑ جاتا ہے علم کے بعد بےعلم ہوجاتے ہیں۔

 جیسے فرمان ہے:

اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ  (۳۰:۵۴)

اللہ نے تمہیں کمزوری میں پیدا کیا پھر زور دیا پھر اس قوت وطاقت کے بعد ضعف اور بڑھاپا آیا جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے پورے علم والا اور کامل قدرت والاہے۔

مسندحافظ ابویعلی موصلی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں باپ کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے نہ ان پر ۔ بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے اس کے ساتھ کے فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے

 جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دے دیتا ہے

-        جنون

-        اور جذام سے

-         اور برص سے

جب اسے اللہ تعالیٰ کے دین پر بچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کردیتا ہے

 جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضامندی کے کاموں کی طرف اس کی طبعیت کا پورا میلان کردیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر دیتا ہے

 جب وہ ستر برس کا ہوجاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں

 اور جب وہ اسی برس کا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تولکھتا ہے لیکن برائیوں سے تجاوز فرما لیتا ہے

جب وہ نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے اس کے گھرانے والوں کے لئے اسے سفارشی اور شفیع بنا دیتا ہے وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے

 جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے جب کہ علم کے بعد بےعلم ہوجاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہوگئی تو وہ نہیں لکھی جاتی۔

یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ اپنی مسند میں لائے ہیں موقوفاً بھی اور مرفوعا ًبھی۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موقوفاًمروی ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے از فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد کی ہے ۔ حافظ ابوبکر بن بزار رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسے بہ روایت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفوع میں بیان کیا ہے

 اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اللہ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے آمین

وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (۵)

تو دیکھتا ہے کہ زمین بنجر اور خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے

مردوں کے زندہ کردینے کی ایک دلیل یہ بیان کرکے پھر دوسری دلیل بیان فرماتا ہے کہ چٹیل میدان بےروئیدگی کی خشک اور سخت زمین کو ہم آسمانی پانی سے لہلہاتی اور تروتازہ کردیتے ہیں طرح طرح کے پھل پھول میوے دانے وغیرہ کے درختوں سے سرسبز ہوجاتی ہے قسم قسم کے درخت اگ آتے ہیں اور جہاں کچھ نہ تھا وہاں سب کچھ ہوجاتا ہے مردہ زمین ایک دم زندگی کے کشادہ سانس لینے لگتی ہے جس جگہ ڈرلگتا تھا وہاں اب راحت روح اور نورعین اور سرور قلب موجود ہوجاتا ہے قسم قسم کے طرح طرح کے میٹھے کھٹے خوش ذائقہ مزیدار رنگ روپ والے پھل اور میوؤں سے لدے ہوئے خوبصورت چھوٹے بڑے جھوم جھوم کر بہار کا لطف دکھانے لگتے ہیں۔

 یہی وہ مردہ زمین ہے جو کل تک خاک اڑا رہی تھی آج دل کا سرور اور آنکھوں کا نور بن کر اپنی زندگی کی جوانی کامزا دی رہی ہے ۔ پھولوں کے چھوٹے چھوٹے پودے دماغ کو مخزن عطار بنا دیتے ہیں دور سے نسیم کے ہلکے ہلکے جھونکے کتنے خوشگوار معلوم ہوتے ہیں۔

ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّهُ يُحْيِي الْمَوْتَى وَأَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۶)

یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جِلاتا ہے اور ہر ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔‏

سچ ہے خالق، مدبر، اپنی چاہت کے مطابق کرنے والا، خود مختیار حاکم حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور اس کی نشانی مردہ زمین کا زندہ ہونا مخلوق کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ ہر انقلاب پر ہر قلب ماہیت پر قادر ہے جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے۔ جس کام کا ارادہ کرتا ہے۔ فرماتا ہے ہوجا۔ پھر ناممکن ہے کہ وہ کہتے ہی ہو نہ جائے۔

وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ (۷)

اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ قبروں والوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔‏

 یاد رکھو قیامت قطعاً بلاشک وشبہ آنے والی ہی ہے اور قبروں کے مردوں کو وہ قدرت والا اللہ زندہ کرکے اٹھانے والا ہے وہ عدم سے وجود میں لانے پر قادر تھا اور ہے اور رہے گا۔

 سورۃ یٰسین میں بھی بعض لوگوں کے اس اعتراض کا ذکر کرکے انہیں ان کی پہلی پیدائش یاد دلاکر قائل کیا گیا ہے ساتھ ہی سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کی قلب ماہیت کو بھی دلیل میں پیش فرمایا گیا ہے

وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ  ـ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ ـالَّذِى جَعَلَ لَكُم مِّنَ الشَّجَرِ الاٌّخْضَرِ نَاراً فَإِذَآ أَنتُم مِّنْه تُوقِدُونَ   (۳۶:۷۸،۸۰)

اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی )اصل( پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان کی گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے؟‏

آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے اول مرتبہ پیدا کیا ہے جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے والا ہے۔

وہی جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو ۔‏

اور آیتیں بھی اس بارے میں بہت سی ہیں۔

حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ابورزین عقیلی کی کنیت سے مشہور ہیں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا ہم لوگ سب کے سب قیامت کے دن اپنے رب تبارک وتعالیٰ کو دیکھیں گے؟

 اور اس کی مخلوق میں اس دیکھنے کی مثال کوئی ہے ؟

 آپ ﷺنے فرمایا کیا تم سب کے سب چاند کو یکساں طور پر نہیں دیکھتے ؟

ہم نے کہا ہاں

 فرمایا پھر اللہ تو بہت بڑی عظمت والا ہے

 آپ نے پھرپوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی بھی کوئی مثال دنیا میں ہے ؟

 جواب ملا کہ کیا ان جنگلوں سے تم نہیں گزرے جو غیرآباد ویران پڑے ہوں خاک اڑ رہی ہو خشک مردہ ہو رہیں پھر دیکھتے ہو کہ وہی ٹکڑا سبزے سے اور قسم قسم کے درختوں سے ہرا بھرا نوپید ہوجاتا ہے بارونق بن جاتا ہے اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور مخلوق میں یہی دیکھی ہوئی مثال اس کا کافی نمونہ اور ثبوت ہے (ابوداؤد وغیرہ)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 جو اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور قیامت قطعاً بےشبہ آنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے دوبارہ زندہ کرے گا وہ یقینا ًجنتی ہے ۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُنِيرٍ (۸)

بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن دلیل کے جھگڑتے ہیں۔‏

چونکہ اوپر کی آیتوں میں گمراہ جاہل ملقدوں کا حال بیان فرمایا تھا یہاں ان کے مرشدوں اور پیروں کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ وہ بےعقلی اور بےدلیلی سے صرف رائے قیاس اور خواہش نفسانی سے اللہ کے بارے میں کلام کرتے رہتے ہیں،

ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ۖ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ

جو اپنی پہلو موڑنے والا بن کر اس لئے کہ اللہ کی راہ سے بہکا دے، اسے دنیا میں رسوائی ہوگی

حق سے اعراض کرتے ہیں، تکبر سے گردن پھیرلیتے ہیں، حق کو قبول کرنے سے بےپراوہی کے ساتھ انکار کرجاتے ہیں جیسے فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کھلے معجزوں کو دیکھ کر بھی بےپراوہی کی اور نہ مانے ۔

وَفِى مُوسَى إِذْ أَرْسَلْنَـهُ إِلَى فِرْعَوْنَ بِسُلْطَـنٍ مُّبِينٍ فَتَوَلَّى بِرُكْنِهِ (۵۱:۳۸،۳۹)

موسیٰ (علیہ السلام کے قصے)میں (بھی تنبیہ ہے) کہ ہم نے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا۔‏ پس اسنے اپنے بل بوتے پر منہ موڑا اور کہنے لگا یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے

 اور آیت میں ہے:

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ إِلَى مَآ أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَـفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُوداً (۴:۶۱)

جب ان سے اللہ کی وحی کی تابعداری کو کہا جاتا ہے اور رسول اللہ کے فرمان کی طرف بلایا جاتا ہے تو تو دیکھے گا کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ منافق تجھ سے دور چلے جایا کرتے ہیں ۔

 سورۃ منافقون میں ارشاد ہوا :

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْاْ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ لَوَّوْاْ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ (۶۳:۵)

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اور اپنے لئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرواؤ تو وہ اپنے سرگھما کر گھمنڈ میں آکر بےنیازی سے انکار کرجاتے ہیں

 حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

وَلاَ تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (۳۱:۱۸)

لوگوں سے اپنے رخسار نہ پھلادیا کر یعنی اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر ان سے تکبر نہ کر۔

 اور آیت میں ہے:

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِ ءَايَـتُنَا وَلَّى مُسْتَكْبِراً (۳۱:۷)

ہماری آیتیں سن کریہ تکبر سے منہ پھیرلیتا ہے ۔

لِيُضِلَّ کا لام یہ لام عاقبت ہے یا لام تعلیل ہے اس لئے کہ بسا اوقات اس کا مقصود دوسروں کو گمراہ کرنا نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ اس سے مراد معاند اور انکار ہی ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ ہم نے اسے ایسا بداخلاق اس لئے بنا دیا ہے کہ یہ گمراہوں کا سردار بن جائے۔ اس کے لئے دنیا میں بھی ذلت وخواری ہے جو اس کے تکبر کا بدلہ ۔

وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ (۹)

اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔‏

یہ یہاں تکبر کرکے بڑا بننا چاہتا تھا ہم اسے اور چھوٹا کردیں گے یہاں بھی اپنی چاہت میں ناکام اور بےمراد رہے گا۔ اور آخرت کے دن بھی جہنم کی آگ کا لقمہ ہوگا۔

ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (۱۰)

یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے۔ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔‏

 اسے بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہاجائے کاکہ یہ تیرے اعمال کا نتیجہ ہے اللہ کی ذات ظلم سے پاک ہے

 جیسےسورہ دخان کی   آیات  (۴۷،۵۰)میں فرمان ہے:

خُذُوهُ فَاعْتِلُوهُ إِلَى سَوَآءِ الْجَحِيمِ ـ ثُمَّ صُبُّواْ فَوْقَ رَأْسِهِ مِنْ عَذَابِ الْحَمِيمِ ـ ذُقْ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ ـ إِنَّ هَـذَا مَا كُنتُمْ بِهِ تَمْتَرُونَ  

فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے پکڑ لو اور گھسیٹ کر جہنم میں لے جاؤ اور اس کے سر پر آگ جیسے پانی کی دھار بہاؤ۔ لے اب اپنی عزت اور تکبر کا بدلہ لیتا جا۔ یہی وہ ہے جس سے عمربھر شک شبہ میں رہا ۔

 حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے یہ روایت پہنچی ہے:

 ایک دن میں وہ ستر ستر مرتبہ آگ میں جل کر بھرتا ہوجائے گا۔ پھر زندہ کیا جائے گا پھر جلایا جائے گا (اعاذنا اللہ )۔

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ ۖ

بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔

حَرْفٍ کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔

صحیح بخاری شریف میں ابن عباسؓ سے مروی  ہے:

 اعراب ہجرت کرکے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگرنہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے۔

 ابن حاتم میں آپ سے مروی ہے :

 اعراب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جاکر اگر اپنے ہاں بارش ، پانی پاتے، جانوروں میں، گھر بار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے توجھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں۔اس پر یہ آیت اتری۔

فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ

 اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آگئی تو اسی وقت منہ پھیر لیتے ہیں انہوں نے دونوں جہان کا نقصان اٹھا لیا

بروایت عوفی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:

 ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہوجاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آگئی ، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہوگئی ، صدقے کا مال میسر نہ ہوا توشیطانی وسوسے میں آجاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔

عبدالرحمٰن کا بیان ہے کہ یہ حالت منافقوں کی ہے۔ دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آگیا فوراً پلہ جھاڑلیاکرتے ہیں ، مرتد کافر ہوجاتے ہیں ۔

ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ (۱۱)

واقعی یہ کھلا نقصان ہے۔‏

یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کرلیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی ؟

يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنْفَعُهُ ۚ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ (۱۲)

اللہ کے سوا وہ انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں نہ نفع۔ یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے۔‏

جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں ، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں ، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں ۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔

يَدْعُو لَمَنْ ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِنْ نَفْعِهِ ۚ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُ (۱۳)

اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، یقیناً برے والی ہیں اور برے ساتھی

 دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے؟

یہ بت تو ان کے نہایت بُرے والی اور نہایت بُرے ساتھی ثابت ہوں گے۔

یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے واللہ اعلم۔

إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ (۱۴)

ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ لہریں لیتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں لے جائے گا۔ اللہ جو ارادہ کرے اسے کرکے رہتا ہے۔‏

بُرے لوگوں کا بیان کرکے بھلے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جن کے دلوں میں یقین کا نور ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا ظہور ہے بھلائیوں کے خواہاں برائیوں سے گریزاں ہیں یہ بلند محلات میں عالی درجات میں ہونگے کیونکہ یہ راہ یافتہ ہیں ان کے علاوہ سب لوگ حواس باختہ ہیں۔ اب جو چاہے کرے جو چاہے رکھے دھرے۔

مَنْ كَانَ يَظُنُّ أَنْ لَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَلْيَمْدُدْ بِسَبَبٍ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ لْيَقْطَعْ فَلْيَنْظُرْ هَلْ يُذْهِبَنَّ كَيْدُهُ مَا يَغِيظُ (۱۵)

جس کا خیال یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وہ اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھندا ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چالاکیوں سے وہ بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا رہی ہے؟‏

یعنی جو یہ جان رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ دنیا میں کرے گا نہ آخرت میں وہ یقین مانے کہ اس کا یہ خیال محض خیال ہے۔ آپ کی مدد ہو کر ہی رہے گی چاہے ایسا شخص اپنے غصے میں ہار ہی جائے بلکہ اسے چاہے کہ اپنے مکان کی چھت میں رسی باندھ کر اپنے گلے میں پھندا ڈال کر اپنے آپ کو ہلاک کردے۔ ناممکن ہے کہ وہ چیز یعنی اللہ کی مدد اس کے نبی کے لئے نہ آئے گویہ جل جل کر مرجائیں مگر ان کی خیال آرائیاں غلط ثابت ہو کر رہیں گی۔

یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی سمجھ کے خلاف ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ کی امداد آسمان سے نازل ہوگی۔ہاں اگر اس کے بس میں ہو تو ایک رسی لٹکا کر آسمان پر چڑھ جائے اور اس اترتی ہوئی مدد آسمانی کو کاٹ دے۔

لیکن پہلا معنی زیادہ ظاہر ہے اور اس میں ان کی پوری بےبسی اور نامرادی کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے دین کو اپنی کتاب کو اپنے نبی کو ترقی دے گا ہی چونکہ یہ لوگ اسے دیکھ نہیں سکتے اس لئے انہیں چاہئے کہ یہ مرجائیں ، اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں ۔

جیسے فرمان ہے:

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ ءَامَنُواْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الاٌّشْهَـدُ (۴۰:۵۱)

ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندروں کی مدد کرتے ہی ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی

یہاں فرمایا کہ یہ پھانسی پر لٹک کر دیکھ لے کہ شان محمدی کو کس طرح کم کرسکتا ہے؟

 اپنے سینے کی آگ کو کسی طرح بجھا سکتا ہے

وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَاهُ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَأَنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يُرِيدُ (۱۶)

ہم نے اس طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے۔ جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے۔‏

اس قرآن کو ہم نے اتارا ہے جس کی آیتیں الفاظ اور معنی کے لحاظ سے بہت ہی واضع ہیں۔

 اللہ کی طرف سے اس کے بندوں پر یہ حجت ہے۔ ہدایت گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کی حکمت وہی جانتا ہے کوئی اس سے باز پرس نہیں کرسکتا وہ سب کا حاکم ہے، وہ رحمتوں والا، عدل والا،غلبے والا،حکمت والا، عظمت والا ، اور علم والا ہے۔ کوئی اس پر مختار نہیں جو چاہے کرے سب سے حساب لینے والا وہی ہے اور وہ بھی بہت جلد ۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئِينَ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا إِنَّ اللَّهَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ

ایمان دار اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی اور مشرکین ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا

صابئین کا بیان مع اختلاف سورۃ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے یہاں فرماتا ہے کہ ان مختلف مذہب والوں کا فیصلہ قیامت کے دن صاف ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جنت دے گا اور کفار کو جہنم واصل کرے گا ۔

إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (۱۷)

اللہ تعالیٰ ہر ہرچیز پر گواہ ہے ۔

 سب کے اقوال وافعال ظاہر وباطن اللہ پر عیاں ہیں

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ

کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے

مستحق عبادت صرف وحدہ لاشریک اللہ ہے اس کی عظمت کے سامنے ہرچیز سر جھکائے ہوئے ہے خواہ بخوشی خواہ بےخوشی ۔

 ہرچیز کا سجدہ اپنی وضع میں ہے ۔ چنانچہ قرآن نے سائے کا دائیں بائیں اللہ کے سامنے سر بسجود ہونا بھی سورہ النحل میں بیان فرمایا ہے ۔

أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ (۱۶:۴۸)

کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھاکہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں

وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ ۖ

 اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی

آسمانوں کے فرشتے ،زمین کے حیوان ، انسان ، جنات، پرند،چرند، سب اس کے سامنے سربسجود ہیں اور اس کی تسبیح اور حمد کررہے۔ سورج چاند ستارے بھی اس کے سامنے سجدے میں گرے ہوئے ہیں۔

 ان تینوں چیزوں کو الگ اس لئے بیان کیا گیا کہ بعض لوگ ان کی پرستش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اسے لئے فرمایا :

لاَ تَسْجُدُواْ لِلشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَهُنَّ (۴۱:۳۷)

سورج چاند کو سجدے نہ کرو اسے سجدے کرو جو ان کا خالق ہے

بخاری ومسلم میں ہے:

 رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے ؟

 آپ نے جواب دیا کہ اللہ کو علم ہے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ۔

 آپ ﷺنے فرمایا یہ عرش تلے جاکر اللہ کو سجدہ کرتا ہے پھر اس سے اجازت طلب کرتا ہے وقت آرہا ہے کہ اس سے ایک دن کہہ دیا جائے گا کہ جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا۔

 سنن ابی داؤد، نسائی ، ابن ماجہ ، اور مسند احمد میں گرہن کی حدیث میں ہے:

 سورج چاند اللہ کی مخلوق ہے وہ کسی کی موت پیدائش سے گرہن میں نہیں آتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی میں سے جس کس پر تجلی ڈالتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتا ہے ۔

 ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 سورج چاند اور کل ستارے غروب ہو کر سجدے میں جاتے ہیں اور اللہ سے اجازت مانگ کر داہنی طرف سے لوٹ کر پھر اپنے مطلع میں پہنچتے ہیں۔ پہاڑوں اور درختوں کا سجدے میں ان کے سائے کا دائیں بائیں پڑنا ہے۔

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا خواب بیان کیا:

 میں نے دیکھا ہے کہ گویا میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں۔ میں جب سجدے میں گیا تو وہ درخت بھی سجدے میں گیا اور میں نے سنا کہ وہ اپنے سجدے میں یہ پڑھ رہا تھا ۔

اللہم اکتب لی بہا عندک اجرا وضع عنی بہا وزرا واجعلہا لی عندک ذخرا و تقبلہا منی کماتقبلتہامن عبدک

اے اللہ اس سجدے کی وجہ سے میرے لئے اپنے پاس اجروثواب لکھ اور میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اسے ذخیرہ آخرت کر اور اسے قبول فرما جسے کہ تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام کا سجدہ قبول فرمایا تھا ۔(داؤد)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ کا بیان ہے:

پھر میں نے دیکھا کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کی آیت پڑھی ۔ سجدہ کیا اور یہی دعا آپ نے اپنے اس سجدے میں پڑھی جسے میں سن رہا تھا  (ترمذی وغیرہ )

تمام حیوانات بھی اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اپنے جانور کی پیٹھ کو اپنا منبر نہ بنا لیا کرو بہت سی سواریاں اپنے سوار سے زیادہ اچھی ہوتی ہیں اور زیادہ ذکر اللہ کرنے والی ہوتی ہیں

وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ ۗ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ ۚ

ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں،

اور اکثر انسان بھی اپنی خوشی سے عبادت الہٰی بجا لاتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں ہاں وہ بھی ہیں جو اس سے محروم ہیں تکبر کرتے ہیں۔ سرکشی کرتے ہیں اللہ جسے ذلیل کرے اسے عزیز کون کرسکتا ہے ؟

 

إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ  (۱۸) ۩

اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ سجدہ‏

رب فاعل خودمختار ہے ۔

ابن ابی حاتم میں ہے :

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے کہا یہاں ایک شخص ہے جو اللہ کے ارادوں اور اس کی مشیت کو نہیں مانتا۔

آپ نے اسے فرمایا اے شخص بتا تیری پیدائش اللہ تعالیٰ نے تیری چاہت کے مطابق کی یا اپنی ؟

 اس نے کہا اپنی چاہت کے مطابق۔

فرمایا یہ بھی بتا کہ جب تو چاہتا ہے مریض ہو جاتا ہے یا جب اللہ چاہتا ہے ؟

 اس نے کہا جب وہ چاہتا ہے۔

پوچھا پھر تجھے شفا تیری چاہت سے ہوتی ہے یا اللہ کے ارادے سے ؟

 جواب دیا اللہ کے ارادے سے۔

 فرمایا اچھا یہ بھی بتاکہ اب وہ جہاں چاہے گا تجھے لے جائے گا یا جہاں تو چاہے گا ؟

 کہاجہاں وہ چاہے ۔

 فرمایا پھر کیا بات باقی رہ گئی ؟ سن اگر تو اس کے خلاف جواب دیتا تو واللہ میں تیرا سراڑادیتا ۔

مسلم شریف میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہٹ کر رونے لگتا ہے کہ افسوس ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا اس نے سجدہ کرلیا جنتی ہوگیا میں نے انکار کردیا جہنمی بن گیا ۔

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یارسول صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ حج کو اور تمام سورتوں پر یہ فضیلت ملی کہ اس میں دو آیتیں سجدے کی ہیں؟

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں اور جو ان دونوں پر سجدہ نہ کرے اسے چاہے کہ اسے پڑھے ہی نہیں۔ (ترمذی)

امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ حدیث قوی نہیں لیکن امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول قابل غور ہے کیونکہ اس کے راوی ابن لہیہ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی سماعت کی اس میں تصریح کردی ہے اور ان پر بڑی جرح وتدلیس کی ہے جو اس سے اٹھ جاتی ہے ۔

 ابوداؤد میں فرمان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ سورۃ حج کو قرآن کی اور سورتوں پر یہ فضیلت دی گئی ہے اس میں دوسجدے ہیں۔

 امام ابوداؤد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سند سے تو یہ حدیث مستند نہیں لیکن اور سند سے یہ مسند بھی بیان کی گئی ہے مگر صحیح نہیں۔

مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیبہ میں اس سورت کی تلاوت کی اور دوبار سجدہ کیا اور فرمایا اسے ان سجدوں سے فضیلت دی گئی ۔ (ابوبکر بن عدی )

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے ، تین مفصل میں دو سورۃ حج میں ۔ (ابن ماجہ وغیرہ)

یہ سب روایتیں اس بات کو پوری طرح مضبوط کردیتی ہیں۔

هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ۖ

یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے والے ہیں،

حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ یہ آیت حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے مقابلے میں بدر کے دن جو دو کافر آئے تھے اور عتبہ اور اس کے دوساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔ ( بخاری ومسلم )

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں قیامت کے دن میں سب سے پہلے اللہ کے سامنے اپنی حجت ثابت کرنے کے لئے گھٹنوں کے بل گرجاؤں گا حضرت قیس فرماتے ہیں انہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے بدر کے دن یہ لوگ ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے علی اور حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبیدہ اور شیبہ اور عتبہ اور ولید ۔

اور قول ہے کہ مراد مسلمان اور اہل کتاب ہیں۔ اہل کتاب کہتے تھے ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے اس لئے ہم اللہ سے بہ نسبت تمہارے زیادہ قریب ہیں۔ مسلمان کہتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب کا فیصلہ کرتی ہے اور ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اس لئے تم سے ہم اولی ہیں پس اللہ نے اسلام کو غالب کیا اور یہ آیت اتری ۔

قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے سچا ماننے والے اور جھٹلانے والے ہیں۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت میں مؤمن وکافر کی مثال ہے جو قیامت میں مختلف تھے ۔

 عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد جنت دوزخ کا قول ہے دوزخ کی مانگ تھی کہ مجھے سزا کی چیز بنا  اور جنت کی آرزو تھی کہ مجھے رحمت بنا ۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ان تمام اقوال میں شامل ہے اور بدر کا واقعہ بھی اس کے ضمن میں آسکتا ہے مؤمن اللہ کے دین کا غلبہ چاہتے تھے اور کفار نور ایمان کے بجھانے حق کو پست کرنے اور باطل کے ابھارنے کی فکر میں تھے۔

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ بھی اس کو مختار بتلاتے ہیں اور یہ ہے بھی بہت اچھا

فَالَّذِينَ كَفَرُوا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِيَابٌ مِنْ نَارٍ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوسِهِمُ الْحَمِيمُ (۱۹)

پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے ناپ کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا۔‏

چنانچہ اس کے بعد ہی ہے کہ کفار کے لئے آگ کے ٹکڑے الگ الگ مقرر کردئے جائیں گے۔ یہ تانبے کی صورت ہوں گے جو بہت ہی حرارت پہنچاتا ہے پھر اوپر سے گرم ابلتے ہوئے پانی کا تریڑا ڈالا جائے گا۔

يُصْهَرُ بِهِ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودُ (۲۰)

جس سے ان کے پیٹ کی سب چیزیں اور کھالیں گلا دی جائیں گی۔‏

جس سے ان کے آنتیں اور چربی گھل جائے گی اور کھال بھی جھلس کر جھڑجائے گی۔

ترمذی میں ہے:

 اس گرم آگ جیسے پانی سے ان کی آنتیں وغیرہ پیٹ سے نکل کر پیروں پر گرپڑیں گی ۔ پھر جیسے تھے ویسے ہوجائیں گے پھر یہی ہوگا ۔

عبداللہ بن سری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 فرشتہ اس ڈولچے کو اس کے کڑوں سے تھام کرلائے گا اس کے منہ میں ڈالنا چاہے گا یہ گھبرا کر منہ پھیر لے گا۔ تو فرشتہ اس کے ماتھے پر لوہے کا ہتھوڑا مارے گا جس سے اس کا سر پھٹ جائے گا وہیں سے اس گرم آگ پانی کو ڈالے گا جو سیدھا پیٹ میں پہنچے گا۔

وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ (۲۱)

اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں۔‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ان ہتھوڑوں میں جن سے دوزخیوں کی ٹھکائی ہوگی اگر ایک زمین پر لاکر رکھ دیا جائے تو تمام انسان اور جنات مل کر بھی اسے اٹھا نہیں سکتے ۔ (مسند)

آپﷺ فرماتے ہیں:

 اگر وہ کسی بڑے پہاڑ پر مار دیا جائے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے جہنمی اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے پھر جیسے تھے ویسے ہی کردئے جائیں گے اگر عساق کا جو جہنمیوں کی غذا ہے ایک ڈول دنیا میں بہا دیا جائے تو تمام اہل دنیا بدبو کے مارے ہلاک ہوجائیں ۔ (مسند احمد)

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 اس کے لگتے ہی ایک ایک عضو بدن جھڑ جائے گا اور ہائے وائے کا غل مچ جائے گا

كُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ (۲۲)

یہ جب بھی وہاں کے غم سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے اور (کہا جائے گا) جلنے کا عذاب چکھو ۔

 جب کبھی وہاں سے نکل جانا چاہیں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے ۔

حضرت سلمان فرماتے ہیں جہنم کی آگ سخت سیاہ بہت اندھیرے والی ہے اس کے شعلے بھی روشن نہیں نہ اس کے انگارے روشنی والے ہیں پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔

حضرت زید رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے جہنمی اس میں سانس بھی نہ لے سکیں گے۔

 حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں واللہ انہیں چھوٹنے کی تو آس ہی نہیں رہے گی پیروں میں بوجھل بیڑیاں ہیں ہاتھوں میں مضبوط ہتھکڑیاں ہیں آگ کے شعلے انہیں اس قدر اونچا کر دیتے ہیں کہ گویا باہر نکل جائیں گے لیکن پھر فرشتوں کے ہاتھوں سے گرز کھا کر تہہ میں اتر جاتے ہیں۔

 ان سے کہا جائے گا کہ اب جلنے کا مزہ چکھو۔

جیسے فرمان ہے:

وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ (۳۲:۲۰)

ان سے کہا جائے گا اس آگ کا عذاب برداشت کرو جسے آج تک جھٹلاتے رہے۔

 زبانی بھی اور اپنے اعمال سے بھی ۔

اوپر دوزخیوں کا، ان کی سزاؤں کا، ان کے طوق وزنجیر کا، ان کے جلنے جھلسنے کا، ان کے آگ کے لباس کا ذکر کرکے اب جنت کا، وہاں کی نعمتوں کا اور وہاں کے رہنے والوں کا حال بیان فرما رہا ہے ۔

 اللہ ہمیں اپنی سزاؤں سے بچائے اور جزاؤں سے نوازے آمین!

إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ

ایمان والوں اور نیک کام والوں کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں تلے سے نہریں لہریں بہہ رہی ہیں،

فرماتا ہے ایمان اور نیک عمل کے بدلے جنت مل گئی جہاں کے محلات اور باغات کے چاروں طرف پانی کی نہریں لہریں مار رہی ہونگی جہاں چاہیں گے وہیں خود بخود ان کا رخ ہوجایا کرے گا

يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ

جہاں وہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی۔

 سونے کے زیوروں سے سجے ہوئے ہوں گے موتیوں میں تل رہے ہوں گے ۔

متفق علیہ حدیث میں ہے:

مؤمن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے ۔

 کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک فرشتہ ہے کہ جس کا نام بھی مجھے معلوم ہے وہ اپنی پیدائش سے مؤمنوں کے لئے زیور بنا رہا ہے اور قیامت تک اسی کام میں رہے گا اگر ان میں سے ایک کنگن بھی دنیا میں ظاہر ہوجائے تو سورج کی روشنی اسی طرح جاتی رہے جس طرح اس کے نکلنے سے چاند کی روشنی جاتی رہتی ہے۔

 

وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ (۲۳)

وہاں ان کا لباس خالص ریشم کا ہوگا ۔

دوزخیوں کے کپڑوں کا ذکر اوپر ہو چکا ہے جنتیوں کے کپڑوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ نرم چمکیلے ریشمی کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے

جیسے سورۃ دہر میں ہے:

عَـلِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّواْ أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَـهُمْ رَبُّهُمْ شَرَاباً طَهُوراً ـ إِنَّ هَـذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُوراً (۷۶:۲۱،۲۲)

ان کے لباس سبزریشمی ہوں گے چاندی کے کنگن ہوں گے اور شراب طہور کے جام پر جام پی رہے ہونگے۔ یہ ہے تمہاری جزا اور یہ تمہارے بار اور سعی کا نتیجہ ۔

 صحیح حدیث میں ہے:

 لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَة

ریشم تم نہ پہنو جو اسے دنیا میں پہن لے گا وہ آخرت کے دن اس سے محروم رہے گا ۔

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 جو اس دن ریشمی لباس سے محروم رہا وہ جنت میں نہ جائے گا کیونکہ جنت والوں کا یہی لباس ہے

وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ (۲۴)

ان کی پاکیزہ بات کی رہنمائی کر دی گئی اور قابل صد تعریف راہ کی ہدایت کر دی گئی ۔

 ان کو پاک بات سکھا دی گئی۔

 جیسے فرمان ہے:

وَأُدْخِلَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ جَنَّـتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا الأَنْهَـرُ خَـلِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـمٌ (۱۴:۲۳)

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ ان جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جنکے نیچے چشمے جاری ہیں جہاں انہیں ہمیشگی ہوگی اپنے رب کے حکم سے جہاں ان کا خیر مقدم سلام سے ہوگا

یعنی ایماندار بحکم الہٰی جنت میں جائیں گے جہاں ان کا تحفہ آپس میں سلام ہوگا ۔

 اور آیت میں ہے:

وَالمَلَـئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِّن كُلِّ بَابٍ ـ سَلَـمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (۱۳:۲۳،۲۴)

ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے۔‏ کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا (بدلہ) ہے اس دار آخرت کا۔‏

ہر دروازے سے فرشتے ان کے پاس آئیں گے اور سلام کرکے کہیں گے تمہارے صبر کا کیا ہی اچھا انجام ہوا ۔

اور جگہ فرمایا:

لاَ يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْواً وَلاَ تَأْثِيماً ـ إِلاَّ قِيلاً سَلَـماً سَلَـماً (۵۶:۲۵،۲۶)

وہاں کوئی لغو بات اور رنج دینے والی بات نہ سنیں گے بجزسلام اور سلامتی کے۔

 پس انہیں وہ مکان دے دیا گیا جہاں صرف دل لبھانے والی آوازیں اور سلام ہی سلام سنتے ہیں ۔جیسے فرمان ہے:

أُولَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةً وَسَلَامًا (۲۵:۷۵)

 یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و بالا خانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا۔‏

وہاں مبارک سلامت کی آوازیں ہی آئیں گی برخلاف دوزخیوں کے کہ ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ سنتے ہیں، جھڑکے جاتے ہیں سرزنش کی جارہی ہے کہ ایسے عذاب برداشت کرو وغیرہ ۔

 اور انہیں وہ جگہ دی گئی کہ یہ نہال نہال ہوگئے اور بیساختہ ان کی زبانوں سے اللہ کی حمد ادا ہونے لگی۔ کیونکہ بیشمار بےنظیر رحمتیں پالیں ۔

صحیح حدیث میں ہے:

 جیسے بےقصد و بےتکلف سانس آتا جاتا رہتا ہے اسی طرح بہشتیوں کو تسبیح وحمد کا الہام ہوگا ۔

 بعض مفسیریں کا قول ہے کہ وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ سے مراد قرآن کریم ہے اور لا الہ الا اللہ ہے حدیث کے ورد اور اذکار ہیں اور وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ سے مراد اسلامی راستہ ہے

یہ تفسیر بھی پہلی تفسیر کے خلاف نہیں۔ واللہ اعلم

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ ۚ

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں

اللہ تعالیٰ کافروں کے اس فعل کی تردید کرتا ہے جو وہ مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکتے تھے وہاں انہیں احکام حج ادا کرنے سے باز رکھتے تھے باوجود اس کے اولیاء اللہ کے ہونے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اولیاء وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہو اس سے معلوم ہوتا کہ یہ ذکر مدینے شریف کا ہے۔ جیسے سورۃ بقرہ کی آیت میں ہے

يَسْـَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّهِ  (۲:۲۱۷)

لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا سخت گناہ ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے

یہاں فرمایا کہ باوجود کفر کے پھر یہ بھی فعل ہے کہ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے مسلمانوں کو روکتے ہیں جو درحقیقت اس کے اہل ہیں۔

یہی ترتیب اس آیت کی ہے:

الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلاَ بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (۱۳:۲۸)

جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے

یعنی ان کی صفت یہ ہے کہ ان کے دل ذکر اللہ سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔

 مسجدالحرام جو اللہ نے سب کے لئے یکساں طور پر باحرمت بنائی ہے مقیم اور مسافر کے حقوق میں کوئی کمی زیادتی نہیں رکھی۔ اہل مکہ مسجدالحرام میں اترسکتے ہیں اور باہر والے بھی ۔ وہاں کی منزلوں میں وہاں کے باشندے اور بیرون ممالک کے لوگ سب ایک ہی حق رکھتے ہیں ۔

اس مسئلے میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ تو فرمانے لگے:

 مکے کی حویلیاں ملکیت میں لائی جاسکتی ہیں ۔ ورثے میں بٹ سکتی ہیں اور کرائے پر بھی دی جاسکتی ہیں ۔

 دلیل یہ دی کہ اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ کل آپ اپنے ہی مکان میں اتریں گے؟

 تو آپ ﷺنے جواب دیا کہ عقیل نے ہمارے لئے کون سی حویلی چھوڑی ہے ؟

پھر فرمایا کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا۔

 اور دلیل یہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت صفوان بن امیہ کامکان چار ہزار درہم میں خرید کر وہاں جیل خانہ بنایا تھا ۔

 طاؤس اور عمرو بن دینار بھی اس مسئلے میں امام صاحب کے ہم نوا ہیں ۔

 امام اسحاق بن راہویہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ورثے میں بٹ نہیں سکتے نہ کرائے پر دئیے جاسکتے ہیں ۔

 اسلاف میں سے ایک جماعت یہ کہتی ہے مجاہد اور عطاکا یہی مسلک ہے ۔ اس کی دلیل ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے :

حضرت علقمہ بن فضلہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدیقی اور فاروقی خلافت میں مکے کی حویلیاں آزاد اور بےملکیت استعمال کی جاتی رہیں اگر ضرورت ہوتی تو رہتے ورنہ اوروں کو بسنے کے لئے دے دیتے ۔

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں نہ تو مکہ شریف کے مکانوں کا بیچناجائز ہے نہ ان کا کرایہ لینا۔

حضرت عطا بھی حرم میں کرایہ لینے کو منع کرتے تھے۔

حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ شریف کے گھروں کے دروازے رکھنے سے روکتے تھے کیونکہ صحن میں حاجی لوگ ٹھہرا کرتے تھے۔

سب سے پہلے گھر کا دروازہ سہیل بن عمرو نے بنایا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی وقت انہیں حاضری کا حکم بھیجا انہوں نے آکر کہا مجھے معاف فرمایا جائے میں سوداگر شخص ہوں میں نے ضرورتاً یہ دروازے بنائے ہیں تاکہ میرے جانور میرے بس میں رہیں۔ آپ نے فرمایا پھرخیر ہم اسے تیرے لئے جائز رکھتے ہیں۔

 اور روایت میں حکم فاروقی ان الفاظ میں مروی ہے کہ اہل مکہ اپنے مکانوں کے دروازے نہ رکھو تاکہ باہر کے لوگ جہاں چاہیں ٹھہریں۔

 عطا فرماتے ہیں شہری اور غیروطنی ان میں برابر ہیں جہاں چاہیں اتریں۔

 عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مکے شریف کے لوگ گھروں کا کرایہ کھانے والا اپنے پیٹ میں آگ بھرنے والا ہے۔

 امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے ان دونوں کے درمیان کا مسلک پسند فرمایا یعنی ملکیت کو اور ورثے کو تو جائز بتایا ہاں کرایہ کو ناجائز کہا ہے اس سے دلیلوں میں جمع ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم

وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (۲۵)

جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں دین حق سے پھر جانے کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے ۔

بِإِلْحَادٍ میں بِإِلزائد ہے جیسے تنبت بالدہن میں ۔ اور اعشی کے شعرضمنت برزق عیالنا ارماحنا میں یعنی ہمارے گھرانے کی روزیاں ہمارے نیزوں پر موقوف ہیں ، اور شعروں کے اشعار میں با کا ایسے موقعوں پر زائد آنا مستعمل ہوا ہے لیکن اس سے بھی عمدہ بات یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہاں کا فعل بہم کے معنی کا متضمن ہے اس لئے با کے ساتھ متعدی ہوا ہے۔

 إِلْحَاد سے مراد کبیرہ شرمناک گناہ ہے ۔

 بِظُلْمٍ سے مراد قصداً ہے تاویل کی روسے نہ ہونا ہے۔ اور معنی شرک کے غیر اللہ کی عبادت کے بھی کئے گئے ہیں۔

یہ بھی مطلب ہے کہ حرم میں اللہ کے حرام کئے ہوئے کام کو حلال سمجھ لینا جیسے گناہ قتل بےجا ظلم وستم وغیرہ۔

 ایسے لوگ درد ناک عذابوں کے سزاوار ہیں ۔

 حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

جو بھی یہاں برا کام کرے یہ حرم شریف کی خصوصیت ہے کہ غیروطنی لوگ جب کسی بدکام کا ارادہ بھی کرلیں تو بھی انہیں سزا ہوتی ہے چاہے اسے عملاً نہ کریں۔

 ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 اگر کوئی شخص عدن میں ہو اور حرم میں الحاد وظلم کا ارادہ رکھتا ہو تو بھی اللہ اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائے گا۔

حضرت شعبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس نے تو اس کو مرفوع بیان کیا تھا لیکن میں اسے مرفوع نہیں کرتا۔ اس کی اور سند بھی ہے جو صحیح ہے اور موقوف ہونا بہ نسبت مرفوع ہونے کے زیادہ ٹھیک ہے عموماً قول ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی مروی ہے، واللہ اعلم۔

اور روایت میں ہے کسی پربرائی کے صرف سے برائی نہیں لکھی جاتی لیکن اگر دور دراز مثلا عدن میں بیٹھ کر بھی یہاں کے کسی شخص کے قتل کا ارادہ کرے تو اللہ اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔

حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہاں یا نہیں کہنے پر یہاں قسمیں کھانا بھی الحاد میں داخل ہے۔

 سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ اپنے خادم کو یہاں گالی دینا بھی الحاد میں ہے ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے امیر شخص کا یہاں آکر تجارت کرنا ۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مکے میں اناج کا بیچنا ۔

 ابن حبیب بن ابو ثابت فرماتے ہیں گراں فروشی کے لئے اناج کو یہاں روک رکھنا ۔

 ابن ابی حاتم میں بھی فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی منقول ہے۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 یہ آیت عبداللہ بن انیس کے بارے میں اتری ہے اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجر اور ایک انصار کے ساتھ بھیجا تھا ایک مرتبہ ہر ایک اپنے اپنے نسب نامے پر فخر کرنے لگا اس نے غصے میں آکر انصاری کو قتل کردیا اور مکے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا اور دین اسلام چھوڑ بیٹھا۔

تو مطلب یہ ہوگا کہ جو الحاد کے بعد مکہ کی پناہ لے۔

 ان آثار سے گویہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کام الحاد میں سے ہیں لیکن حقیقتاً یہ ان سب سے زیادہ اہم بات ہے بلکہ اس سے بڑی چیز پر اس میں تنبیہ ہے۔ اسی لئے جب ہاتھی والوں نے بیت اللہ شریف کی خرابی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیج دئیے جنہوں نے ان پر کنکریاں پھینک کر ان کا بھس اڑا دیا اور وہ دوسروں کے لئے باعث عبرت بنا دئے گئے۔

 چنانچہ حدیث میں ہے:

 ایک لشکر اس بیت اللہ کے غزوے کے ارادے سے آئے گا جب وہ بیدا میں پہنچیں گے تو سب کے سب مع اول آخر کے دھنسادئے جائیں گے .

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں آپ یہاں الحاد کرنے سے بچیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ یہاں ایک قریشی الحاد کرے گا اس کے گناہ اگر تمام جن وانس کے گناہوں سے تولے جائیں توبھی بڑھ جائیں دیکھو خیال رکھو تم وہی نہ بن جانا۔ ( مسند احمد )

اور روایت میں یہ بھی ہے کے نصیحت آپ نے انہیں حطیم میں بیٹھ کر کی تھی ۔

وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا

جبکہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا

یہاں مشرکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ گھر جس کی بنیاد اول دن سے اللہ کی توحید پر رکھی گئی ہے تم نے اس میں شرک جاری کردیا ۔ اس گھر کے بانی خلیل اللہ علیہ السلام ہیں سب سے پہلے آپ نے ہی اسے بنایا ۔

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟

 فرمایا مسجد حرام۔

 میں نے کہا پھر؟

 فرمایا بیت المقدس ۔

میں نے کہا ان دونوں کے درمیان کس قدر مدت کا فاصلہ ہے؟

فرمایا چالیس سال کا ۔

اللہ کا فرمان ہے:

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ ـ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ (۳:۹۶)

اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے جو تمام دنیا کے لئے برکت اور ہدایت والا ہے۔‏ جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں مقام ابراہیم ہے اس میں جو آجائے امن والا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس طرف کی راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے

وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (۲۶)

اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا

  اور آیت میں ہے:

وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (۲:۱۲۵)

ہم نے ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔‏

 بیت اللہ شریف کی بنا کا کل ذکر ہے ہم پہلے لکھ چکے ہیں اس لئے یہاں دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔

 یہاں فرمایا اسے صرف میرے نام پر بنا اور اسے پاک رکھ یعنی شرک وغیرہ سے اور اسے خاص کردے ان کے لئے جو موحد ہیں ۔

طواف وہ عبادت ہے جو ساری زمین پر بجز بیت اللہ کے میسر ہی نہیں ناجائز ہے۔

 پھر طواف کے ساتھ نماز کو ملایا قیام ، رکوع، سجدے ، کا ذکر فرمایا اس لئے کہ جس طرح طواف اس کے ساتھ مخصوص ہے نماز کا قبلہ بھی یہی ہے ہاں اس کی حالت میں کہ انسان کو معلوم نہ ہو یا جہاد میں ہو یا سفر میں ہو نفل نماز پڑھ رہا ہو تو بیشک قبلہ کی طرف منہ نہ ہونے کی حالت میں بھی نماز ہوجائے گی واللہ اعلم۔

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ

اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے

اور یہ حکم ملاکہ اس گھر کے حج کی طرف تمام انسانوں کو بلاؤ۔

 مذکور ہے کہ آپ نے اس وقت عرض کی کہ باری تعالیٰ میری آواز ان تک کیسے پہنچے گی؟

جواب ملاکہ آپ کے ذمہ صرف پکارنا ہے آواز پہنچانا میرے ذمہ ہے۔

 آپ ﷺنے مقام ابراہیم پر یا صفا پہاڑی پر ابوقیس پہاڑ پر کھڑے ہو کر ندا کی کہ لوگو! تمہارے رب نے اپنا ایک گھر بنایا ہے پس تم اس کا حج کرو ۔ پہاڑ جھک گئے اور آپ کی آواز ساری دنیا میں گونج گئی ۔ یہاں تک کہ باپ کی پیٹھ میں اور ماں کے پیٹ میں جو تھے انہیں بھی سنائی دی۔ ہرپتھر درخت اور ہر اس شخص نے جس کی قسمت میں حج کرنا لکھا تھا باآواز لبیک پکارا۔

 بہت سے سلف سے یہ منقول ہے، واللہ اعلم ۔

يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (۲۷)

لوگ تیرے پاس پیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے

 پھر فرمایا پیدل لوگ بھی آئیں گے اور سواریوں پر سوار بھی آئیں گے ۔

 اس سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ جسے طاقت ہو اس کے لئے پیدل حج کرنا سواری پر حج کرنے سے افضل ہے اس لئے کہ پہلے پیدل والوں کا ذکر ہے پھر سواروں کا ۔ تو ان کی طرف توجہ زیادہ ہوئی اور ان کی ہمت کی قدر دانی کی گئی۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 میری یہ تمنا رہ گئی کہ کاش کہ میں پیدل حج کرتا ۔ اس لئے کہ فرمان الہٰی میں پیدل والوں کا ذکر ہے۔

 لیکن اکثر بزرگوں کا قول ہے کہ سواری پر افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود کمال قدرت وقوت کے پاپیادہ حج نہیں کیا تو سواری پر حج کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری اقتدا ہے

 پھر فرمایا دور دراز سے حج کے لئے آئیں گے

خلیل اللہ علیہ السلام کی دعا بھی یہی تھی :

فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مَّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ (۱۴:۳۷)

لوگوں کے دلوں کو اے اللہ تو ان کی طرف متوجہ کردے ۔

 آج دیکھ لو وہ کونسا مسلمان ہے جس کا دل کعبے کی زیارت کا مشتاق نہ ہواور جس کے دل میں طواف کی تمنائیں تڑپ نہ رہی ہوں؟  

اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے

لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ

اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں

دنیا اور آخرت کے فوائد حاصل کرنے کے لئے آئیں ۔ اللہ کی رضا کے ساتھ ہی دنیاوی مفاد تجارت وغیرہ کا فائدہ اٹھائیں۔

جیسے فرمایا:

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ (۲:۱۹۸)

تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناہ نہیں

موسم حج میں تجارت کرنا ممنوع نہیں۔

مقررہ دنوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

 کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں کے عمل سے افضل نہیں۔

 لوگوں نے پوچھا جہاد بھی نہیں ؟

 فرمایا جہاد بھی نہیں، بجز اس مجاہد کے عمل کے جس نے اپنی جان ومال اللہ کی راہ میں قربان کردیا ہو (صحیح بخاری )

میں نے اس حدیث کو اس کی تمام سندوں کے ساتھ ایک مستقل کتاب میں جمع کردیا ہے۔

ایک روایت میں ہے:

 کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک ان دنوں سے بڑا اور پیارا نہیں پس تم ان دس دنوں میں لا الہ اللہ اور الحمد اللہ بکثرت پڑھا کرو۔

 انہی دنوں کی قسم آیت وَلَيَالٍ عَشْرٍ (۸۹:۲)  کی آیت میں ہے ۔

 بعض سلف کہتے ہیں آیت وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ (۷:۱۴۲) سے بھی مراد یہی دن ہیں۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دنوں بازار میں آتے اور تکبیر پکارتے ، بازار والے بھی آپ کے ساتھ تکبیر پڑھنے لگتے ۔

 ان ہی دس دنوں میں عرفہ کا دن ہے جس دن کے روزے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ گزشتہ اور آئندہ دوسال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں (صحیح مسلم شریف)

ان ہی دس دنوں میں قربانی کا دن یعنی بقرعید کا دن ہے جس کا نام اسلام میں حج اکبر کا دن ہے۔

 ایک روایت میں ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ سب دنوں سے افضل ہے۔

الغرض سارے سال میں ایسی فضیلت کے دن اور نہیں جیسے کہ حدیث شریف میں ہے۔

یہ دس دن رمضان شریف کے آخری دس دنوں سے بھی افضل ہیں ۔ کیونکہ نماز روزہ صدقہ وغیرہ جو رمضان کے اس آخری عشرے میں ہوتا ہے وہ سب ان دنوں میں بھی ہوتا ہے مزید برآں ان میں فرایضہ حج ادا ہوتا ہے ۔

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان شریف کے آخری دن افضل ہیں کیونکہ انہیں میں لیلۃ القدر ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

 تیسرا قول درمیانہ ہے کہ دن تو یہ افضل اور راتیں رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی افضل ہیں۔ اس قول کے مان لینے سے مختلف دلائل میں جمع ہوجاتی ہیں واللہ اعلم ۔

أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ کی تفسیر میں ایک دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قربانی کا دن اور اس کے بعد کے تین دن ہیں۔

 حضرت ابن عمر اور ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ سے یہی مروی ہے اور ایک روایت سے امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کامذہب بھی یہی ہے۔

تیسرا قول یہ ہے کہ بقرہ عید اور اس کے بعد کے دو دن۔

اور ایام معدودات سے بقرہ عید اور اس کے بعد کے تین دن۔

 اس کی اسناد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک صحیح ہے ۔

سدی رحمتہ اللہ علیہ بھی یہی کہتے ہیں امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے اور اس کی اور اس سے پہلے کے قول کی تائید فرمان باری آیت عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ  سے ہوتی ہے کیونکہ اس سے مراد جانوروں کی قربانی کے وقت اللہ کا نام لینا ہے۔

 چوتھا قول یہ ہے کہ یہ عرفے کا دن بقرہ عید کا دن اور اس کے بعد کا ایک دن ہے

 امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مذہب یہی ہے۔

حضرت اسلم سے مروی ہے کہ مراد یوم نحر اور ایام تشریق ہیں

 بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ  سے مراد اونٹ گائے اور بکری ہیں۔ جیسے سورۃ الانعام کی آیت ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ (۶:۱۴۳) میں مفصل موجود ہے ۔

لیکن یہ قول غریب ہے۔

فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ (۲۸)

پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔‏

اکثر بزرگوں کا مذہب ہے کہ یہ رخصت ہے یا استحباب ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قربانی کی تو حکم دیا کہ ہر اونٹ کے گوشت کا ایک ٹکڑا نکال کر پکالیا جائے پھر آپ نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا ۔

 امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں اسے پسند کرتا ہوں کہ قربانی کا گوشت قربانی کرنے والا کھا لے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے۔

 ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنی قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس کہ برخلاف مسلمانوں کو اس کے گوشت کے کھانے کی اجازت دی گئی اب جو چاہے کھائے جو چاہے نہ کھائے ۔

حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے اس کے برخلاف مسلمانوں کو اس گوشت کے کھانے کی اجازت دی گئی اب جو چاہے کھائے جو چاہے نہ کھائے

 حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت عطا رحمتہ اللہ علیہ سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہاں کا یہ حکم آیت وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا (۵:۲) کی طرح ہے یعنی جب تم احرام سے فارغ ہوجاؤ تو شکار کھیلو۔ اور سورۃ جمعہ میں فرمان ہے آیت فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ (۶۲:۱۰) جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ

مطلب یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں حکم ہے شکار کرنے کا اور زمین میں روزی تلاش کرنے کے لئے پھیل جانے کا لیکن یہ حکم وجوبی اور فرضی نہیں اسی طرح اپنی قربانی کے گوشت کو کھانے کا حکم بھی ضروری اور واجب نہیں۔

 امام ابن جریر بھی اس قول کو پسند فرماتے ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے دوحصے کردئیے جائیں ایک حصہ خود قربانی کرنے والے کا دوسرا حصہ فقیر فقراء کا ۔

بعض کہتے ہیں تین کرنے چاہیئں تہائی اپنا تہائی ہدیہ دینے کے لئے اور تہائی صدقہ کرنے کے لئے۔

پہلے قول والے اوپر کی آیت کی سند لاتے ہیں اور دوسرے قول والے آیت وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ (۲۲:۳۶) کو دلیل میں پیش کرتے ہیں اس کا پورا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ

عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آیت الْبَائِسَ الْفَقِيرَ سے مطلب وہ بےبس انسان ہے جو احتیاج ہونے پر بھی سوال سے بچتا ہو۔

مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو دست سوال دارز نہ کرتا ہو، کم بینائی والا ہو،

ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ (۲۹)

پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں

پھر وہ احرام کھول ڈالے سرمنڈوالیں کپڑے پہن لیں ، ناخن کٹوا ڈالیں ، وغیرہ احکام حج پورے کرلیں ۔

نذریں پوری کرلیں حج کی قربانی کی اور جواور  ہو۔

پس جو شخص حج کے لئے نکلا اس کے ذمے طواف بیت اللہ، طواف صفا مروہ ، عرفات کے میدان میں جانا، مزدلفے کی حاضری،شیطانوں کو کنکر مارنا وغیرہ سب کچھ لازم ہے ۔ ان تمام احکام کو پورے کریں اور صحیح طور پر بجا لائیں اور بیت اللہ شریف کا طواف کریں جو یوم النحر کو واجب ہے۔

 ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حج کا آخری کام طواف ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کیا جب آپ دس ذی الحجہ کو منیٰ کی طرف واپس آئے تو سب سے پہلے شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماریں۔ پھر قربانی کی، پھر سرمنڈوایا، پھر لوٹ کر بیت اللہ آکر طواف بیت اللہ کیا ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بخاری ومسلم میں مروی ہے کہ لوگوں کو حکم کیا گیا ہے کہ ان کا آخری کام طواف بیت اللہ ہو۔ ہاں البتہ حائضہ عورتوں کو رعایت کردی گئی ہے

 بَيْتِ الْعَتِيقِ کے لفظ سے استدلال کرکے فرمایا گیا ہے کہ طواف کرنے والے کو حطیم بھی اپنے طواف کے اندر لے لینا چاہے۔ اس لئے کہ وہ بھی اصل بیت اللہ شریف میں سے ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنا میں یہ داخل تھا گو قریش نے نیا بناتے وقت اسے باہر چھوڑ دیا لیکن اس کی وجہ بھی خرچ کی کمی تھی نہ کہ اور کچھ ۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے پیچھے سے طواف کیا اور فرما بھی دیا کہ حطیم بیت اللہ شریف میں داخل ہے۔ اور آپ نے دونوں شامی رکنوں کو ہاتھ نہیں لگایا نہ بوسہ دیا کیونکہ وہ بناء ابراہیمی کے مطابق پورے نہیں ۔

اس آیت کے اترنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے پیچھے سے طواف کیا ۔ پہلے اس طرح کی عمارت تھی کہ یہ اندر تھا اسی لئے اسے پرانا گھر کہا گیا یہی سب سے پہلا اللہ کا گھر ہے اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ طوفان نوح میں سلامت رہا ۔ اور یہ بھی وجہ ہے کہ کوئی سرکش اس پر غالب نہیں آسکا ۔ یہ ان سب کی دستبرد سے آزاد ہے جس نے بھی اس سے برا قصد کیا وہ تباہ ہوا۔ اللہ نے اسے سرکشوں کے تسلط سے آزاد کرلیا ہے۔

ترمذی میں اسی طرح کی ایک مرفوع حدیث بھی ہے جو حسن غریب ہے اور ایک اور سند سے مرسلاًبھی مروی ہے۔

یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔

ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ عِنْدَ رَبِّهِ ۗ

یہ جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔

 اب اور سنو جو شخص حرمات الہٰی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لئے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الہٰی ہیں ۔

وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ ۖ

اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے بیان کئے گئے ہیں

تمہارے لئے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہو چکے ہیں ۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (۳۰)

پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہیے اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے ۔

تمہیں چاہیے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو،

 مِن  یہاں پر بیان جنس کے لئے ہے ۔

 اور جھوٹی بات سے بچو۔

 اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا

 جیسے آیت ہے:

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْىَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُواْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَـناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَى اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (۷:۳۳)

آپ فرمادیجیے کہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اس بات کو کہ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات نہ لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔

یعنی میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کردیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو ۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے ۔

حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ۚ

اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔

بخاری و مسلم میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں ؟

صحابہ نے کہا ارشاد ہو

 فرمایا:

-        اللہ کے ساتھ شریک کرنا

-         ماں باپ کی نافرمانی کرنا

پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا

 اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا۔

 اسے بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ اب نہ فرماتے ۔

مسند احمد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کردی گئی پھر آپ نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا ۔

 اور روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کی بعد آپ نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا ۔

  ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ فرمان بھی مروی ہے:

 اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لوباطل سے ہٹ کر حق کی طرف آجاؤ ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرانے والوں میں نہ بنو۔

وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ (۳۱)

 سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دیگی

 پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے کوئی آسمان سے گر پڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی ۔

 چنانچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے ۔

 یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورۃ ابراہیم میں گزر چکی ہے

 سورۃ انعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے ۔

ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (۳۲)

یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے ۔

قربانی کے مسائل

اللہ کے شعائر کی جن میں قربانی کے جانور بھی شامل ہیں حرمت وعزت بیان ہو رہی ہے کہ احکام الہٰی پر عمل کرنا اللہ کے فرمان کی توقیر کرنا ہے ۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یعنی قربانی کے جانوروں کو فربہ اور عمدہ کرنا۔

سہل کا بیان ہے کہ ہم قربانی کے جانوروں کو پال کر انہیں فربہ اور عمدہ کرتے تھے تمام مسلمانوں کا یہی دستور تھا  (بخاری شریف)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دو سیاہ رنگ کے جانوروں کے خون سے ایک عمدہ سفید رنگ جانور کا خون اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ ( مسند احمد ، ابن ماجہ )

پس اگرچہ اور رنگت کے جانور بھی جائز ہیں لیکن سفید رنگ جانور افضل ہیں ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے اپنی قربانی میں ذبح کئے۔

 ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا بڑا سینگ والا چت کبرا ذبح کیا جس کے منہ پر آنکھوں کے پاس اور پیروں پر سیاہ رنگ تھا۔ (سنن)

امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے صحیح کہتے ہیں۔

ابن ماجہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھے بہت موٹے تازے چکنے چت کبرے خصی ذبح کئے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :

 ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم قربانی کے لئے جانور خریدتے وقت اس کی آنکھوں کو اور کانوں کو اچھی طرح دیکھ بھال لیا کریں ۔ اور آگے سے کٹے ہوئے کان والے پیچھے سے کٹے ہوئے کان والے لمبائی میں چرے ہوئے کان والے یا سوراخ دار کان والے کی قربانی نہ کریں (احمد اہل سنن )

اسے امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ صحیح کہتے ہیں ۔

 اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے

 اس کی شرح میں حضرت سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب کہ آدھایا آدھے سے زیادہ کان یا سینگ نہ ہو ۔

بعض اہل لغت کہتے ہیں اگر اوپر سے کسی جانور کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عربی میں قصما کہتے اور جب نیچے کا حصہ ٹوٹا ہوا ہو تو اسے عضب کہتے  اور حدیث میں لفظ عضب ہے اور کان کا کچھ حصہ کٹ گیا ہو تو اسے بھی عربی میں عضب کہتے ہیں۔

 امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایسے جانور کی قربانی گو جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔

امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جائز ہی نہیں۔ (بظاہر یہی قول مطابق حدیث ہے ) امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر سینگ سے خون جاری ہے تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے واللہ اعلم۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :

چار قسم کے عیب دار جانور قربانی میں جائز نہیں

-         کانا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو

-         اور وہ بیمار جانور جس کی بیماری کھلی ہوئی ہو

-        اور وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو

-        اور وہ دبلا پتلا مریل جانور جو گودے کے بغیر کا ہوگیا ہو ۔ (احمد اہل سنن )

اسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں یہ عیوب وہ ہیں جن سے جانور گھٹ جاتا ہے ۔ اس کا گوشت ناقص ہوجاتا ہے اور بکریاں چرتی چگتی رہتی ہیں اور یہ بوجہ اپنی کمزوری کے چارہ پورہ نہیں پاتا

 اسی لئے اس حدیث کے مطابق امام شافعی وغیرہ کے نزدیک اس کی قربانی ناجائز ہے ہاں بیمار جانور کے بارے میں جس کی بیماری خطرناک درجے کی نہ ہو بہت کم ہو امام صاحب کے دونوں قول ہیں۔

 ابوداؤد میں ہے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا بالکل سینگ کٹے جانور سینگ ٹوٹے جانور اور کانے جانور سے اور بالکل کمزور جانور سے جو ہمیشہ ہی ریوڑ کے پیچھے رہ جاتا ہو بوجہ کمزوری کے یا بوجہ زیادہ عمر کے اور لنگڑے جانور سے

پس ان کل عیوب والے جانوروں کی قربانی ناجائز ہے ۔ ہاں اگرقربانی کے لئے صحیح سالم بےعیب جانور مقرر کردینے کے بعد اتفاقاً اس میں کوئی ایسی بات آجائے مثلاً لولا لنگڑا وغیرہ ہوجائے توحضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے خلاف ہیں۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد میں حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے قربانی کے لئے جانور خریدا اس پر ایک بھیڑیے نے حملہ کیا اور اس کی ران کا بوٹا توڑ لیا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا تم اسی جانور کی قربانی کرسکتے ہو ۔

پس خریدتے وقت جانور کا فربہ ہونا تیار ہونا بےعیب ہونا چاہئے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ آنکھ کان دیکھ لیا کرو۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نہایت عمدہ اونٹ قربانی کے لئے نامزد کیا لوگوں نے اس کی قیمت تین سو اشرفی لگائیں تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے بیچ دوں اور اس کی قیمت سے اور جانور بہت سے خرید لوں اور انہیں راہ للہ قربان کروں آپ نے منع فرمادیا اور حکم دیا کہ اسی کو فی سبیل اللہ ذبح کرو۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں قربانی کے اونٹ شعائر اللہ میں سے ہیں ۔

 محمد بن ابی موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں عرفات میں ٹھہرنا اور مزدلفہ اور رمی جمار اور سرمنڈوانا اور قربانی کے اونٹ یہ سب شعائر اللہ ہیں ۔

 ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ان سب سے بڑھ کر بیت اللہ شریف ہے۔

 لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (۳۳)

ان میں تمہارے لئے ایک مقررہ وقت تک فائدہ ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے ۔

پھر فرماتا ہے ان جانوروں کے بالوں میں ، اون میں تمہارے لئے فوائد ہیں ان پر تم سوار ہوتے ہو ان کی کھالیں تمہارے لئے کار آمد ہیں۔ یہ سب ایک مقررہ وقت تک۔ یعنی جب تک اسے راہ للہ نامزد نہیں کیا ۔ ان کا دودھ پیؤ ان سے نسلیں حاصل کرو جب قربانی کے لئے مقرر کردیا پھر وہ اللہ کی چیز ہوگیا ۔ بزرگ کہتے ہیں اگر ضرورت ہو تو اب بھی سواری کی اجازت ہے۔

 بخاری ومسلم میں ہے:

 ایک شخص کو اپنی قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ

 اس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے قربانی کی نیت کا کرچکا ہوں

 آپ نے دوسری یا تیسری بار فرمایا افسوس بیٹھ کیوں نہیں جاتا ۔

صحیح مسلم شریف میں ہے:

 جب ضرورت اور حاجت ہو تو سوار ہوجایا کرو۔

 ایک شخص کی قربانی کی اونٹنی نے بچہ دیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے حکم دیا کہ اس کو دودھ پیٹ بھر کر پی لینے دے پھر اگر بچ رہے تو خیر تو اپنے کام میں لا اور قربانی والے دن اسے اور اس بچے کو دونوں کو بنام اللہ ذبح کردے ۔

پھر فرماتا ہے ان کی قربان گاہ بیت اللہ شریف ہے ۔

جیسے فرمان ہے:

هَدْياً بَـلِغَ الْكَعْبَةِ (۵:۹۵)

جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے

اور آیت میں ہے:

وَالْهَدْىَ مَعْكُوفاً أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ (۴۸:۲۵)

اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاہ میں پہنچنے سے روکا

بَيْتِ الْعَتِيقِ کے معنی اس سے پہلے ابھی ابھی بیان ہوچکے ہیں فالحمد للہ

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں بیت اللہ کا طواف کرنے والا احرام سے حلال ہوجاتا ہے ۔ دلیل میں یہی آیت تلاوت فرمائی۔

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۗ

اور ہر اُمت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں

فرمان ہے کہ کل اُمتوں میں ہر مذہب میں ہر گروہ کو ہم نے قربانی کا حکم دیا تھا۔ ان کے لئے ایک دن عید کا مقرر تھا ۔ وہ بھی اللہ کے نام ذبیحہ کرتے تھے۔ سب کے سب مکے شریف میں اپنی قربانیاں بھیجتے تھے ۔ تاکہ قربانی کے چوپائے جانوروں کے ذبح کرنے کے وقت اللہ کا نام ذکر کریں۔

 حضور علیہ السلام کے پاس دو مینڈھے چت کبرے بڑے بڑے سینگوں والے لائے گئے آپ نے انہیں لٹا کر ان کی گردن پر پاؤں رکھ کر بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا ۔

 مسند احمد میں ہے:

 صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟

 آپ ﷺنے جواب دیا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ۔

پوچھا ہمیں اس میں کیا ملتا ہے ؟

 فرمایا ہربال کے بدلے ایک نیکی۔

 دریافت کیا اور  اون  کا کیا حکم ہے ؟

 فرمایا ان کے روئیں کے بدلے ایک نیکی ۔

 اسے امام ابن جریر رحمتہ اللہ بھی لائے ہیں۔

فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا ۗ وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (۳۴)

سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے!‏

تم سب کا اللہ ایک ہے گو شریعت کے بعض احکام ادل بدل ہوتے رہے لیکن توحید میں، اللہ کی یگانگت میں ، کسی رسول کو کسی نیک اُمت کو اختلاف نہیں ہوا ۔ سب اللہ کی توحید ، اسی کی عبادت کی طرف تمام جہان کو بلاتے رہے۔ سب پر اول وحی یہی نازل ہوتی رہی ۔

پس تم سب اس کی طرف جھک جاؤ ، اس کے ہوکر رہو، اس کے احکام کی پابندی کرو، اس کی اطاعت میں استحکام کرو۔ جو لوگ مطمئن ہیں ، جو متواضع ہیں ، جو تقوے والے ہیں ، جو ظلم سے بیزار ہیں، مظلومی کی حالت میں بدلہ لینے کے خوگر نہیں، مرضی مولا، رضائے رب پر راضی ہیں انہیں خوشخبریاں سنادیں ، وہ مبارکباد کے قابل ہیں۔

الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَالصَّابِرِينَ عَلَى مَا أَصَابَهُمْ وَالْمُقِيمِي الصَّلَاةِ

انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں، انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں

جو ذکر الہٰی سنتے ہیں دل نرم ، اور خوف الہٰی سے پر کرکے رب کی طرف جھک جاتے ہیں ، کٹھن کاموں پر صبر کرتے ہیں، مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں۔

 امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں واللہ اگر تم نے صبر وبرداشت کی عادت نہ ڈالی تو تم برباد کردیئے جاؤگے

وَالْمُقِيمِي کی قرأت اضافت کے ساتھ تو جمہور کی ہے۔ لیکن ابن سمیفع نے وَالْمُقِيمِين پڑھا ہے اور الصَّلَاة کا زبر پڑھا ہے ۔

 امام حسن نے پڑھا تو ہے نون کے حذف اور اضافت کے ساتھ لیکن الصَّلَاة کا زبر پڑھا ہے اور فرماتے ہیں کہ نون کا حذف یہاں پر بوجہ تخفیف کے ہے کیونکہ اگر بوجہ اضافت مانا جائے تو اس کا زبر لازم ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ بوجہ قرب کے ہو ۔

وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (۳۵)

 اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں۔‏

 مطلب یہ ہے کہ فریضہ الہٰی کے پابند ہیں اور اللہ کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا دیتے رہتے ہیں ، اپنے گھرانے کے لوگوں کو ، فقیروں محتاجوں کو اور تمام مخلوق کو جو بھی ضرورت مند ہوں سب کے ساتھ سلوک واحسان سے پیش آتے ہیں۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں منافقوں کی طرح نہیں کہ ایک کام کریں تو ایک کو چھوڑیں ۔

سورۃ براۃ میں بھی یہی صفتیں بیان فرمائی ہیں اور وہیں پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم کر آئے ہیں

وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهَا لَكُمْ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ

قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے جانور پیدا کئے اور انہیں اپنے نام پر قربان کرنے اور اپنے گھر بطور قربانی کے پہنچانے کا حکم فرمایا اور انہیں شعائر اللہ قرار دیا اور حکم فرمایا:

لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللَّهِ وَلاَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْهَدْىَ وَلاَ الْقَلَـئِدَ وَلا ءَامِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ (۵:۲)

اللہ تعالیٰ کے شعائر کی بےحرمتی نہ کرو نہ ادب والے مہینوں کی نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جا رہے ہوں

یعنی نہ تو اللہ کے ان عظمت والے نشانات کی بے ادبی کرو نہ حرمت والے مہینوں کی گستاخی کرولہذا ہر اونٹ گائے جو قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے ۔ وہ بُدْنَ میں داخل ہے ۔ گو بعض لوگوں نے صرف اونٹ کو ہی بُدْنَ کہا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ اونٹ تو ہے ہی گائے بھی اس میں شامل ہے

 حدیث میں ہے کہ جس طرح اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان ہوسکتا ہے اسی طرح گائے بھی ۔

جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں روایت ہے:

 ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اونٹ میں سات شریک ہوجائیں اور گائے میں بھی سات آدمی شرکت کرلیں۔

 امام اسحاق بن راہویہ تو فرماتے ہیں ان دونوں جانوروں میں دس دس آدمی شریک ہوسکتے ہیں مسند احمد اور سنن نسائی میں ایسی حدیث بھی آئی ہے۔ واللہ اعلم

پھر فرمایا ان جانورں میں تمہارا اخروی نفع ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بقرہ عید والے دن انسان کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ پسندیدہ نہیں۔ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں ، کھروں اور بالوں سمیت انسان کی نیکیوں میں پیش کیا جائے گا ۔ یاد رکھو قربانی کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے پس ٹھنڈے دل سے قربانیاں کرو ( ابن ماجہ ترمذی ) حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ تو قرض اٹھا کر بھی قربانی کیا کرتے تھے اور لوگوں کے دریافت کرنے پر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اس میں تمہارا بھلا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی خرچ کا فضل اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہ نسبت اس خرچ کے جو بقرہ عید والے دن کی قربانی پر کیا جائے ہرگز افضل نہیں۔ (دارقطنی )

پس اللہ فرماتا تمہارے لئے ان جانوروں میں ثواب ہے نفع ہے ضرورت کے وقت دودھ پی سکتے ہو سوار ہو سکتے ہو

فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا صَوَافَّ ۖ

 پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو،

 پھر ان کی قربانی کے وقت اپنا نام پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 میں نے عید الضحیٰ کی نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی نماز سے فراغت پاتے ہی سامنے مینڈھا لایا گیا جیسے آپ نے بسم اللہ واللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا پھر کہا اے اللہ یہ میری طرف سے ہے اور میری اُمت میں سے جو قربانی نہ کرسکے اسکی طرف سے ہے (احمد داؤد ترمذی )

فرماتے ہیں عید والے دن آپ کے پاس دو مینڈھے لائے گئے انہیں قبلہ رخ کرکے آپ یہ دعا پڑھتے :

 

وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّموَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِه

یہ دعا پڑھ کر بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر ذبح کر ڈالا۔

حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 قربانی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھے موٹے موٹے تازے تیار عمدہ بڑے سینگوں والے چتکبرے خریدتے، جب نماز پڑھ کر خطبے سے فراغت پاتے ایک جانور آپ کے پاس لایا جاتا آپ وہیں عیدگاہ میں ہی خود اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کرتے اور فرماتے اللہ تعالیٰ یہ میری ساری اُمت کی طرف سے ہے جو بھی توحید وسنت کا گواہ ہے

پھر دوسرا جانور حاضر کیا جاتا جسے ذبح کر کے فرماتے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد کی طرف سے ہے پھر دونوں کا گوشت مسکینوں کو بھی دیتے اور آپ اور آپ کے گھر والے بھی کھاتے ۔ (احمد ابن ماجہ )

صَوَافَّ کے معنی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اونٹ کو تین پیروں پر کھڑا کر کے اس کا بایاں ہاتھ باندھ کر بسم اللہ واللہ اکبر لاالہ الا اللہ اللہم منک ولک پڑھ کر اسے نحر کرنے کے کئے ہیں ۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو قربان کرنے کے لئے بٹھایا ہے تو آپ نے فرمایا اسے کھڑا کردے اور اس کا پیر باندھ کر اسے نحر کر یہی سنت ہے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں پر کھڑا کر کے ہی نحر کرتے تھے ۔ (ابوداؤد )

حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلیمان بن عبد الملک سے فرمایا تھا کہ بائیں طرف سے نحر کیا کرو۔

حجتہ الوداع کا بیان کرتے ہوئے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر کئے آپ کے ہاتھ میں حربہ تھا جس سے آپ زخمی کررہے تھے ۔

 ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت میں صَوَافن ہے یعنی کھڑے کرکے پاؤں باندھ کر

صَوَافَّ کے معنی خالص کے بھی کئے گئے ہیں یعنی جس طرح جاہلیت کے زمانے میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے تم نہ کرو، صرف اللہ واحد کے نام پر ہی قربانیاں کرو۔

فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ۚ

پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں اسے (خود بھی) کھاؤ اور مسکین سوال سے رکنے والوںاور کرنے والوں کو بھی کھلاؤ،

پھر جب یہ زمین پر گرپڑیں یعنی نحر ہوجائیں ٹھنڈے پڑجائیں تو خود کھاؤ اوروں کو بھی کھلاؤ

نیزہ مارتے ہی ٹکڑے کاٹنے شروع نہ کرو جب تک روح نہ نکل جائے اور ٹھنڈا نہ پڑ جائے۔چنانچہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے کہ روحوں کے نکالنے میں جلدی نہ کرو

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے ساتھ سلوک کرنا لکھ دیا ہے دشمنوں کو میدان جنگ میں قتل کرتے وقت بھی نیک سلوک رکھو اور جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی اچھی طرح سے نرمی کے ساتھ ذبح کرو چھری تیز کرلیا کرو اور جانور کو تکلیف نہ دیاکرو۔

فرمان ہے:

جانور میں جب تک جان ہے اور اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے ۔ (احمدابوداؤد ترمذی )

پھر فرمایا اسے خود کھاؤ

بعض سلف تو فرماتے ہیں یہ کھانا مباح ہے ۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہے مستحب ہے اور لوگ کہتے ہیں واجب ہے ۔

 اور مسکینوں کو بھی دو خواہ وہ گھروں میں بیٹھنے والے ہوں خواہ وہ دربدر سوال کرنے والے ۔

یہ بھی مطلب ہے کہ قَانِع تو وہ ہے جو صبر سے گھر میں بیٹھا رہے اور مُعْتَر وہ ہے جو سوال تو نہ کرے لیکن اپنی عاجزی مسکینی کا اظہار کرے۔

یہ بھی مروی ہے کہ قَانِع وہ ہے جو مسکین ہو آنے جانے والا ۔

 اور مُعْتَر سے مراد دوست اور ناتواں لوگ اور وہ پڑوسی جو گو مالدار ہوں لیکن تمہارے ہاں جو آئے جائے اسے وہ دیکھتے ہوں ۔وہ بھی ہیں جو طمع رکھتے ہوں اور وہ بھی جو امیر فقیر موجود ہوں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ قَانِع سے مراد اہل مکہ ہیں۔

 امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ قَانِع سے مراد تو سائل ہے کیونکہ وہ اپنا ہاتھ سوال کے لئے دراز کرتا ہے۔ اور مُعْتَر سے مراد وہ جو ہیر پھیر کرے کہ کچھ مل جائے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں۔

-        تہائی اپنے کھانے کو ،

-        تہائی دوستوں کے دینے کو،

-        تہائی صدقہ کرنے کو ۔

 حدیث میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو جمع کرکے رکھنے سے منع فرمادیا تھا کہ تین دن سے زیادہ تک نہ روکا جائے اب میں اجازت دیتا ہوں کہ کھاؤ جمع کرو جس طرح چاہو۔

 اور روایت میں ہے کہ کھاؤ جمع کرو اور صدقہ کرو ۔

 اور روایت میں ہے کھاؤ اور کھلاؤ اور راہ للہ دو۔

بعض لوگ کہتے ہیں قربانی کرنے والا آدھا گوشت آپ کھائے اور باقی صدقہ کردے کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے خود کھاؤ اور محتاج فقیر کو کھلاؤ۔

 اور حدیث میں بھی ہے کہ کھاؤ ، جمع ، ذخیرہ کرو اور راہ للہ دو ۔

 اب جو شخص اپنی قربانی کا سارا گوشت خود ہی کھاجائے تو ایک قول یہ بھی ہے کہ اس پر کچھ حرج نہیں ۔

بعض کہتے ہیں اس پر ویسی ہی قربانی یا اس کی قیمت کی ادائیگی ہے

 بعض کہتے ہیں آدھی قیمت دے ، بعض آدھا گوشت ۔

بعض کہتے ہیں اس کے اجزا میں سے چھوٹے سے چھوٹے جز کی قیمت اس کے ذمے ہے باقی معاف ہے۔

کھال کے بارے میں مسند احمد میں حدیث ہے کہ کھاؤ اور فی اللہ دو اور اس کے چمڑوں سے فائدہ اٹھاؤ لیکن انہیں بیچو نہیں۔

بعض علماء نے بیچنے کی رخصت دی ہے۔ بعض کہتے ہیں غریبوں میں تقسیم کردئیے جائیں۔

مسئلہ :

براء بن عازب کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 سب سے پہلے ہمیں اس دن نماز عید ادا کرنی چاہئے پھر لوٹ کر قربانیاں کرنی چاہئیں جو ایسا کرے اس نے سنت کی ادائیگی کی ۔ اور جس نے نماز سے پہلے ہی قربانی کر لی اس نے گویا اپنے والوں کے لئے گوشت جمع کرلیا اسے قربانی سے کوئی لگاؤ نہیں (بخاری مسلم )

اسی لئے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قربانی کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب سورج نکل آئے اور اتنا وقت گزر جائے کہ نماز ہولے اور دو خطبے ہو لیں۔

 امام احمد رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے بعد کا اتنا وقت بھی کہ امام ذبح کرلے۔ کیونکہ صحیح مسلم میں ہے امام جب تک قربانی نہ کرے تم قربانی نہ کرو۔

امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک تو گاؤں والوں پر عید کی نماز ہی نہیں اس لئے کہتے ہیں کہ وہ طلوع فجر کے بعد ہی قربانی کرسکتے ہیں ہاں شہری لوگ جب تک امام نماز سے فارغ نہ ہولے قربانی نہ کریں واللہ اعلم ۔

پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف عید والے دن ہی قربانی کرنا مشروع ہے اور قول ہے کہ شہر والوں کے لئے تو یہی ہے کیونکہ یہاں قربانیاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ لیکن گاؤں والوں کے لئے عید کا دن اور اس کے بعد کے ایام تشریق ۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ دسویں اور گیارھویں تاریخ سب کے لئے قربانی کی ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کے بعد کے دو دن ۔

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عید کا دن اور اس کے بعد کے تین دن جو ایام تشریق کے ہیں۔

 امام شافعی کا مذہب یہی ہے کیونکہ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ایام تشریق سب قربانی کے ہیں ( احمد ، ابن حبان )

کہا گیا ہے کہ قربانی کے دن ذی الحجہ کے خاتمہ تک ہیں لیکن یہ قول غریب ہے ۔

كَذَلِكَ سَخَّرْنَاهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (۳۶)

 اس طرح ہم نے چوپاؤں کو تمہارے ماتحت کر دیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو۔‏

 پھر فرماتا ہے کہ اسی وجہ سے ہم نے ان جانوروں کو تمہارا فرماں بردار اور زیر اثر کردیا ہے کہ تم چاہو سواری لو، جب چاہو دودھ نکال لو، جب چاہو ذبح کرکے گوشت کھالو۔

جیسے سورۃ یسٰین میں ہے:

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ ـ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ ـ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ (۳۶:۷۱،۷۳)

کیا وہ نہیں دیکھتے ہم نے اپنے ہاتھوں بنائی ہوئی چیزوں میں سے انکے لئے چوپائے بھی پیدا کئے جنکے کہ یہ مالک ہوگئے ہیں اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کے تابع فرمان کردیا جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔‏ انہیں ان میں سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور پینے کی چیزیں۔ کیا پھر (بھی) یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟‏

یہی فرمان یہاں ہے کہ اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرو اور ناشکری، ناقدری نہ کرو۔

لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ۚ

اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ قربانیوں کے وقت اللہ کا نام بڑائی سے لیا جائے۔ اسی لئے قربانیاں مقرر ہوئی ہیں کہ خالق رازق اسے مانا جائے نہ کہ قربانیوں کے گوشت وخون سے اللہ کو کوئی نفع ہوتا ہو۔ اللہ تعالیٰ ساری مخلوق سے غنی اور کل بندوں سے بےنیاز ہے ۔

جاہلیت کی بیوقوفیوں میں ایک یہ بھی تھی کہ قربانی کے جانور کا گوشت اپنے بتوں کے سامنے رکھ دیتے تھے اور ان پر خون کا چھینٹا دیتے تھے ۔

یہ بھی دستور تھا کہ بیت اللہ شریف پر قربانی کے خون چھڑکتے ، مسلمان ہو کر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا کرنے کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت اتری کہ اللہ تو تقوی کو دیکھتا ہے اسی کو قبول فرماتا ہے اور اسی پر بدلہ عنایت فرماتا ہے ۔

چنانچہ صحیح حدیث میں ہے:

إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَلْوَانِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُم

 اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا نہ اس کی نظریں تمہارے مال پر ہیں بلکہ اس کی نگاہیں تمہارے دلوں پر اور تمہارے اعمال پر ہیں ۔

اور حدیث میں ہے:

 خیرات وصدقہ سائل کے ہاتھ میں پڑے اس سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے ۔ قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر ٹپکے اس سے پہلے اللہ کے ہاں پہنچ جاتا ہے۔

 اس کا مطلب یہی ہے کہ خون کا قطرہ الگ ہوتے ہی قربانی مقبول ہو جاتی ہے واللہ اعلم ۔

عامر شعبی سے قربانی کی کھالوں کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا اللہ کو گوشت وخون نہیں پہنچتا اگر چاہو بیچ دو، اگر چاہو خود رکھ لو، اگر چاہو راہ للہ دے دو ۔

كَذَلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ ۗ

 اسی طرح اللہ نے جانوروں کو تمہارا مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو،

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے قبضے میں دیا ہے ۔ کہ تم اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی راہ پا کر اس کی مرضی کے کام کرو اور نامرضی کے کاموں سے رک جاؤ ۔ اور اس کی عظمت وکبریائی بیان کرو۔

وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ (۳۷)

 اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔‏

 جو لوگ نیکو کار ، حدود اللہ کے پابند ہیں ، شریعت کے عامل ہیں ، رسولوں کی صداقت تسلیم کرتے ہیں وہ مستحق مبارکباد اور لائق خوشخبری ہیں

 مسئلہ

امام ابو حنیفہ مالک ثوری کا قول ہے کہ جس کے پاس نصاب زکوٰۃ جتنا مال ہو اس پر قربانی واجب ہے ۔

 امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ شرط بھی ہے کہ وہ اپنے گھر میں مقیم ہو۔

چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے :

 جسے وسعت ہو اور قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے ۔

 اس روایت میں غرابت ہے اور امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اسے منکر بتاتے ہیں ۔

 ابن عمرؓ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی علیہ وسلم برابر دس سال قربانی کرتے رہے۔ (ترمذی )

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت احمد رحمتہ اللہ علیہ کامذہب ہے کہ قربانی واجب وفرض نہیں بلکہ مستحب ہے ۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور کوئی فرضیت نہیں ۔

 یہ بھی روایت پہلے بیان ہوچکی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام اُمت کی طرف سے قربانی کی پس وجوب ساقط ہوگیا ۔

 حضرت ابو شریحہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پڑوس میں رہتا تھا ۔ یہ دونوں بزرگ قربانی نہیں کرتے تھے اس ڈر سے کہ لوگ ان کی اقتدا کریں گے۔

 بعض لوگ کہتے ہیں قربانی سنت کفایہ ہے، جب کہ محلے میں سے یا گلی میں سے یا گھر میں سے کسی ایک نے کر لی باقی سب نے ایسا نہ کیا ۔ اس لئے کہ مقصود صرف شعار کا ظاہر کرنا ہے ۔

ترمذی میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں فرمایا ہر گھر والوں پر ہرسال قربانی ہے اور عتیرہ ہے جانتے ہو عتیرہ کیا ہے؟ وہی جسے تم رجبیہ کہتے ہو۔

 اس کی سند میں کلام کیا گیا ہے ۔

حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے پورے گھر کی طرف سے ایک بکری راہ للہ ذبح کردیا کرتے تھے اور خود بھی کھاتے ، اوروں کو بھی کھلاتے ۔ پھر لوگوں نے اس میں وہ کرلیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ (ترمذی ، ابن ماجہ )

حضرت عبداللہ بن ہشام اپنی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی کیا کرتے تھے ۔ (بخاری )

اب قربانی کے جانور کی عمر کا بیان ملاحظہ ہو ۔

صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 نہ ذبح کرو مگر مسنہ بجز اس صورت کے کہ وہ تم پر بھاری پڑ جائے تو پھر بھیڑ کا بچہ بھی چھ ماہ کا ذبح کرسکتے ہو ۔

 زہری تو کہتے ہیں کہ جزعہ یعنی چھ ماہ کا کوئی جانور قربانی میں کام ہی نہیں آسکتا اور اس کے بالمقابل اوزاعی کا مذہب ہے کہ ہر جانور کا جزعہ کافی ہے۔ لیکن یہ دونوں قول افراط والے ہیں ۔

 جمہور کا مذہب یہ ہے:

-        اونٹ گائے بکری تو وہ جائز ہے جو ثنی ہو ۔

-         اور بھیڑ کا چھ ماہ کا بھی جائز ہے ۔

-        اونٹ تو ثنی ہوتا ہے جب پانچ سال پورے کرکے چھٹے میں لگ جائے۔ اور گائے جب دوسال پورے کرکے تیسرے میں لگ جائے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین گزار کر چوتھے میں لگ گیا ہو۔

-         اور بکری کا ثنی وہ ہے جو دوسال گزار چکا ہو

-        اور جذعہ کہتے ہیں اسے جو سال بھر کا ہوگیا ہو اور کہا گیا ہے جو دس ماہ کا ہو ۔

 ایک قول ہے جو آٹھ ماہ کا ہو ایک قول ہے جو چھ ماہ کا ہو اس سے کم مدت کا کوئی قول نہیں ۔

 اس سے کم عمر والے کو حمل کہتے ہیں ۔

جب تک کہ اسکی پیٹھ پر بال کھڑے ہوں اور بال لیٹ جائیں اور دونوں جانب جھک جائیں تو اسے جذع کہا جاتا ہے ،

 واللہ اعلم ۔

إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗ

سن رکھو! یقیناً سچے مؤمنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ ہٹا دیتا ہے

اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے خبر دے رہا ہے کہ جو اسکے بندے اس پر بھروسہ رکھیں اس کی طرف جھکتے رہیں انہیں وہ اپنی امان نصیب فرماتا ہے ، شریروں کی برائیاں دشمنوں کی بدیاں خود ہی ان سے دور کردیتا ہے، اپنی مدد ان پر نازل فرماتا ہے ، اپنی حفاظت میں انہیں رکھتا ہے۔

جیسے فرمان ہے:

أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (۳۹:۳۶)

کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟

 اور آیت میں ہے:

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَـلِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَىْءٍ قَدْراً (۶۵:۳)

اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ (۳۸)

کوئی خیانت کرنے والا ناشکرا اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔‏

 دغا باز ناشکرے اللہ کی محبت سے محروم ہیں اپنے عہدو پیمان پورے نہ کرنے والے اللہ کی نعمتوں کے منکر اللہ کے پیار سے دور ہیں ۔

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ

جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں

حکم جہاد

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب مدینے سے بھی نکالے جانے لگے اور کفار مکے سے چڑھ دوڑے تب جہاد کی اجازت کی یہ آیت اتری ۔

 بہت سے سلف سے منقول ہے کہ جہاد کی یہ پہلی آیت ہے جو قرآن میں اتری۔ اسی سے بعض بزرگوں نے استدلال کیا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف سے ہجرت کی ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان سے نکلا کہ افسوس ان کفار نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن سے نکالا یقیناً یہ تباہ ہوں گے ۔ پھر یہ آیت اتری تو صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جان لیا کہ جنگ ہو کر رہے گی ۔

اللہ اپنے مؤمن بندوں کی مدد پر قادر ہے۔ اگر چاہے تو بےلڑے بھڑے انہیں غالب کردے لیکن وہ آزمانا چاہتا ہے اسی لئے حکم دیا کہ ان کفار کی گردنیں مارو۔

فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَآ أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّواْ الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَآءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَآءُ اللَّهُ لاَنْتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَـكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَـلَهُمْ ـ  سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ  ۔ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ(۴۷:۴،۶)

تو جب کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو گردنوں پر وار مارو۔ اور جب ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو اب خوب مضبوط قیدو بند سے گرفتار کرو (پھر اختیار ہے) کہ خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر چھوڑ دو  یہی حکم ہے اور اگر اللہ چاہتا تو (خود)ہی ان سے بدلہ لے لیتا  لیکن اس کا منشا یہ ہے کہ تم میں سے  ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعے سے لے لے،جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا۔انہیں راہ دکھائے گا اور ان کے حالات کی اصلاح کر دے گا  اور انہیں اس جنت میں لے جائے گا جس سے انہیں شناسا کر دیا ہے

اور آیت میں ہے:

قَـتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ ـ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَن يَشَآءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ  (۹:۱۴،۱۵)

ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور رسوا کرے اور ان پر تمہیں غالب کرے گا اور مؤمنوں کے حوصلے نکالنے کا موقع دے گا کہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوجائیں ساتھ ہی جسے چاہے گا توفیق توبہ دے گا اللہ علم وحکمت والا ہے ۔

 اور آیت میں ہے:

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِن دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (۹:۱۶)

کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے حالانکہ اب تک تو وہ کھل کر سامنے نہیں آئے جو مجاہد ہیں ، اللہ ، رسول اور مسلمانوں کے سوا کسی سے دوستی اور یگانگت نہیں کرتے ۔ سمجھ لو کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

 اور آیت میں ہے:

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (۳:۱۴۲)

کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے کون ہیں

اور آیت میں فرمایا ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنْكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ (۴۷:۳۱)

یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ظاہر کر دیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ کرلیں

 اس بارے میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں ۔

وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ (۳۹)

 بیشک انکی مدد پر اللہ قادر ہے۔‏

پھر فرمایا اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ اور یہی ہوا بھی کہ اللہ نے اپنے لشکر کو دنیا پر غالب کردیا ۔

 جہاد کو شریعت نے جس وقت مشروع فرمایا وہ وقت بھی اس کے لئے بالکل مناسب اور نہایت ٹھیک تھا جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں رہے مسلمان بہت ہی کمزور تھے تعداد میں بھی دس کے مقالبے میں ایک بمشکل بیٹھتا ۔ چنانچہ جب لیلتہ العقبہ میں انصاریوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو انہوں نے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اس وقت منیٰ میں جتنے مشرکین جمع ہیں ان پر شبخون ماریں ۔ لیکن آپ نے فرمایا مجھے ابھی اس کا حکم نہیں دیا گیا ۔

 یہ یاد رہے کہ یہ بزرگ صرف اسی (۸۰) سے کچھ اوپر تھے ۔

الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ

یہ وہ ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے،

 جب مشرکوں کی بغاوت بڑھ گئی ، جب وہ سرکشی میں حد سے گزر گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ایذائیں دیتے دیتے اب آپ کے قتل کرنے کے درپے ہوگئے آپ کو جلاوطن کرنے کے منصوبے گانٹھنے لگے۔ اسی طرح صحابہ کرام پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ دیئے ۔

 بیک بینی ودوگوش وطن مال اسباب ، اپنوں غیروں کو چھوڑ کر جہاں جس کا موقعہ بنا گھبرا کرچل دیا کچھ تو حبشہ پہنچے کچھ مدینے گئے ۔ یہاں تک کہ خود آفتاب رسالت کاطلوع بھی مدینے شریف میں ہوا ۔

 اہل مدینہ محمدی جھنڈے تلے جوش خروش سے جمع لشکری صورت مرتب ہوگئی ۔ کچھ مسلمان ایک جھنڈے تلے دکھائی دینے لگے، قدم ٹکانے کی جگہ مل گئی ۔اب دشمنان دین سے جہاد کے احکام نازل ہوئے تو پس سب سے پہلے یہی آیت اتری ۔

 اس میں بیان فرمایا گیا کہ یہ مسلمان مظلوم ہیں، ان کے گھربار ان سے چھین لئے گئے ہیں ، بےوجہ گھر سے بےگھر کردئیے گئے ہیں ، مکے سے نکال دئیے گئے ، مدینے میں بےسرو سامانی میں پہنچے۔

 ان کا جرم بجز اس کے سوا نہ تھا کہ صرف اللہ کے پرستار تھے رب کو ایک مانتے تھے اپنے پروردگار صرف اللہ کو جانتے تھے ۔

یہ استثنا منقطع ہے گو مشرکین کے نزدیک تو یہ امر اتنا بڑا جرم ہے جو ہرگز کسی صورت سے معافی کے قابل نہیں ۔ فرمان ہے :

يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّـكُمْ أَن تُؤْمِنُواْ بِاللَّهِ رَبِّكُمْ (۶۰:۱)

تمہیں اور ہمارے رسول کو صرف اس بنا پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو جو تمہارا حقیقی پروردگار ہے ۔

خندقوں والوں کے قصے میں فرمایا :

وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (۸۵:۸)

یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ) کا بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے ‏

دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب ، مہربان ، ذی احسان پر ایمان لائے تھے ۔ مسلمان صحابہ خندق کھودتے ہوئے اپنے رجز میں کہہ رہے تھے۔

لاہم لو لا انت ما اہتدینا ولا تصدقنا ولا صلینا

فانزلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا

ان الا ولی قد بغوا علینا اذا ارادوافتنتہ ابینا

خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی موافقت میں تھے اور قافیہ کا آخری حرف آپ بھی ان کے ساتھ ادا کرتے اور ابینا کہتے ہوئے خوب بلند آواز کرتے ۔

وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ

 اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وہ مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام باکثرت لیا جاتا ہے۔

پھر فرماتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ایک کا علاج دوسرے سے نہ کرتا اگر ہر سیر پر سوا سیر نہ ہوتا تو زمین میں شرفساد مچ جاتا، ہر قوی ہرکمزور کو نگل جاتا ۔

عیسائی عابدوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو صَوَامِع کہتے ہیں ۔

 ایک قول یہ بھی ہے کہ صابی مذہب کے لوگوں کے عبادت خانوں کا نام ہے

اور بعض کہتے ہیں مجوسیوں کے آتش کدوں کو صَوَامِعُ کہتے ہیں۔

مقامل کہتے ہیں یہ وہ گھر ہیں جو راستوں پر ہوتے ہیں ۔

 بِيَع ان سے بڑے مکانات ہوتے ہیں یہ بھی نصرانیوں کے عابدوں کے عبادت خانے ہوتے ہیں ۔

 بعض کہتے ہیں یہ یہودیوں کے کنیسا ہیں ۔

صَلَوَات کے بھی ایک معنی تو یہی کئے گئے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں مراد گرجا ہیں۔ بعض کا قول ہے صابی لوگوں کا عبادت خانہ ۔

 راستوں پر جو عبادت کے گھر اہل کتاب کے ہوں انہیں صَلَوَاتٌ کہاجاتا ہے اور مسلمانوں کے ہوں انہیں مَسَاجِد۔

 فِيهَا کی ضمیر کا مرجع مَسَاجِد ہے اس لئے کہ سب سے پہلے یہی لفظ ہے

 یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد یہ سب جگہیں ہیں یعنی تارک الدنیا لوگوں کے صَوَامِع ، نصرانیوں کے بِيَع ، یہودیوں کے صَلَوَات اور مسلمانوں کی مَسَاجِد جن میں اللہ کا نام خوب لیا جاتا ہے ۔

 بعض علماء کا بیان ہے کہ اس آیت میں اقل سے اکثر کی طرف کی ترقی کی صنعت رکھی گئی ہے پس سب سے زیادہ آباد سب سے بڑا عبادت گھر جہاں کے عابدوں کا قصد صحیح نیت نیک عمل صالح ہے وہ مسجدیں ہیں ۔

وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ ۗ

 جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔

پھر فرمایا اللہ اپنے دین کے مددگاروں کا خود مددگار ہے

جیسے فرمان ہے:

يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِن تَنصُرُواْ اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ـ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ فَتَعْساً لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَـلَهُمْ  (۴۷:۷،۸)

اگر اے مسلمانو! تم اللہ کے دین کی امداد کروگے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔ کفار پر افسوس ہے اور ان کے اعمال غارت ہیں۔

إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (۴۰)

بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے‏

پھر اپنے دو وصف بیان فرمائے قوی ہونا کہ ساری مخلوق کو پیدا کر دیا ، عزت والا ہونا کہ سب اس کے ماتحت ہر ایک اس کے سامنے ذلیل وپست سب اس کی مدد کے محتاج وہ سب سے بےنیاز جسے وہ مدد دے وہ غالب جس پر سے اس کی مدد ہٹ جائے وہ مغلوب ۔

 فرماتا ہے:

وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ ـ  إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ ـ وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَـلِبُونَ (۳۷:۱۷۱،۱۷۳)

اور البتہ ہمارا وعدہ پہلے ہی اپنے رسولوں کے لئے صادر ہو چکا ہے۔ کہ یقیناً وہ ہی مدد کئے جائیں گے۔‏ اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا ۔

 اور آیت میں ہے:

كَتَبَ اللَّهُ لاّغْلِبَنَّ أَنَاْ وَرُسُلِى إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌ (۵۸:۲۱)

خدا کہہ چکا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب ہیں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ قوت وعزت والا ہے ۔

الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۗ

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی ، ہم نے نماز وروزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔

پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے ۔

 ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مراد اس سے اصحاب رسول ہیں ۔

خلیفہ رسول حضرت عمربن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت کی تلاوت فرما کر فرمایا:

 اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔

بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الہٰی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے ۔

 تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔

عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ ءامَنُواْ مِنْكُمْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الاْرْضِ (۲۴:۵۵) میں ہے۔

وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (۴۱)

تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے ۔‏

تمام کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔

جیسے فرمایا:

وَالْعَـقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (۲۸:۸۳)

پرہیزگاروں کے لئے نہایت ہی عمدہ انجام ہے۔

ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے ۔

وَإِنْ يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَثَمُودُ (۴۲)

اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم عاد اور ثمود۔‏

وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ (۴۳)

اور قوم ابراہیم اور قوم لوط۔‏

وَأَصْحَابُ مَدْيَنَ ۖ وَكُذِّبَ مُوسَى

اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔موسیٰ ؑ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ منکروں کا انکار آپ کیساتھ کوئی نئی چیز نہیں۔ نوح علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک کے کل انبیاء کا انکار کفار برابر کرتے چلے آئے ہیں۔ دلائل سامنے تھے ، حق سامنے تھا لیکن منکروں نے مان کر نہ مانا ۔

فَأَمْلَيْتُ لِلْكَافِرِينَ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ (۴۴)

 پس میں نے کافروں کو یوں ہی سی مہلت دی پھر دھر دبایا پھر میرا عذاب کیسا ہوا ۔‏

میں نے کافروں کو مہلت دی کہ یہ سوچ سمجھ لیں اپنے انجام پر غور کرلیں ۔ لیکن جب وہ اپنی نمک حرامی سے باز نہ آئے تو آخرکار میرے عذابوں میں گرفتار ہوئے ، دیکھ لے کہ میری پکڑ کیسی بےپناہ ثابت ہوئی کس قدر دردناک انجام ہوا۔

 سلف سے منقول ہے کہ فرعون کے حکمرانی کے دعوے اور اللہ کی پکڑ کے درمیان چالیس سال کا عرصہ تھا ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ ہر ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو چھٹکارا نہیں ہوتا

پھر آپ نے آیت وَكَذلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِىَ ظَـلِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ  (۱۱:۱۰۲) تلاوت کی،

فَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَشِيدٍ (۴۵)

بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہہ و بالا کر دیا اس لئے کہ وہ ظالم تھے پس وہ اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں۔‏

پھر فرمایا کہ کئی ایک بستیوں والے ظالموں کو جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی تھی ہم نے غارت کردیا ۔ جن کے محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اوندھے گرے ہوئے ہیں، ان کی منزلیں ویران ہوگیئں ، ان کی آبادیاں ویران ہوگئیں ، ان کے کنویں خالی پڑے ہیں ، جو کل تک آباد تھے آج خالی ہیں ، ان کے چونہ گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے ، جو بلند وبالا اور پختہ تھے وہ آج ویران پڑے ہیں ، وہاں الو بول رہا ہے، ان کی مضبوطی انہیں نہ بچا سکی ، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی ۔ رب کے عذاب نے تہس نہس کردیا

 جیسے فرمان ہے:

أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِى بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ (۴:۷۸)

گو تم چونہ گچ پکے قلعوں میں محفوظ ہو لیکن موت وہاں بھی تمہیں چھوڑنے کی نہیں ۔

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ

کیا انہوں نے زمین میں سیرو سیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے،

کیا وہ خود زمین میں چلے پھرے نہیں یا کبھی غور وفکر بھی نہیں کیا کہ کچھ عبرت حاصل ہوتی ؟

امام ابن ابی الدنیا کتاب التفکر والا عبار میں روایت لائے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! لوہے کی نعلین پہن کر لوہے کی لکڑی لے کر زمین میں چل پھر کر آثار وعبرت کو دیکھ وہ ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ تیری لوہے کی جوتیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور لوہے کی لکڑی بھی ٹوٹ پھوٹ جائے ۔

اسی کتاب میں بعض دانشمندوں کا قول ہے کہ وعظ کے ساتھ اپنے دل کو زندہ کر۔ اور غور وفکر کے ساتھ اسے نورانی کر اور زہد اور دنیا سے بچنے کے ساتھ اسے مار دے اور یقین کے ساتھ اس کو قوی کرلے اور موت کے ذکر سے اسے ذلیل کردے اور فنا کے یقین سے اسے صبر دے ۔ دنیاکی مصیبتیں اس کے سامنے رکھ کر اس آنکھیں کھول دے زمانے کی تنگی اسے دکھا اسے دہشت ناک بنادے، دنوں کے الٹ پھیر اسے سمجھا کر بیدار کردے۔ گزشتہ واقعات سے اسے عبرتناک بنا۔ اگلوں کے قصے اسے سنا کر ہوشیار رکھ۔ ان کے شہروں میں اور ان کی سوانح میں اسے غور وفکر کرنے کا عادی بنا۔ اور دیکھ کہ گہنگاروں کے ساتھ اس کا معاملہ کیا ہوا کس طرح وہ لوٹ پوٹ کردیئے گئے۔

پس یہاں بھی یہی فرمان ہے کہ اگلوں کے واقعات سامنے رکھ کر دلوں کو سمجھدار بناؤ ان کی ہلاکت کے سچے افسانے سن کر عبرت حاصل کرو۔

فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (۴۶)

بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔

 سن لو آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سب سے برا اندھا پن دل کا ہے گو آنکھیں صحیح سالم موجود ہوں۔ دل کے اندھے پن کی وجہ سے نہ تو عبرت حاصل ہوتی ہے نہ خیروشر کی تمیز ہوتی ہے ۔

 ابومحمد بن جیارہ اندلسی نے جن کا انتقال ۵۱۷ھ میں ہوا ہے اس مضمون کو اپنے چند اشعار میں خوب نبھایا ہے وہ فرماتے ہیں ۔

اے وہ شخص جو گناہوں میں لذت پا رہا ہے کیا اپنے بڑھاپے اور نفس کی برائی سے بھی تو بےخبر ہے؟

اگر نصیحت اثر نہیں کرتی تو کیا دیکھنے سننے سے بھی عبرت حاصل نہیں ہوتی ؟

سن لے آنکھیں اور کان اپنا کام نہ کریں تو اتنا برا نہیں جتنا ، برا یہ ہے کہ واقعات سے سبق نہ حاصل کیا جائے۔

یاد رکھ نہ تو دنیا باقی رہے گی نہ آسمان نہ سورج چاند ۔

گو جی نہ چاہے مگر دنیا سے تم کو ایک روز بادل ناخواستہ کوچ کرناہی پڑے گا ۔ کیا امیر ہو کیا غریب کیا شہری ہو یا دیہاتی ۔

وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ ۚ

اور عذاب کو آپ سے جلدی طلب کر رہے اللہ ہرگز اپنا وعدہ نہیں ٹالے گا۔

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کررہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کردیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جارہاہے ۔ چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے:

وَإِذْ قَالُواْ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَـذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (۸:۳۲)

اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کردے۔‏

اور آیت میں فرمایا:

وَقَالُواْ رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ  (۳۸:۱۶)

کہتے تھے کہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کردے۔

 اللہ فرماتا ہے یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آکر ہی رہیں گے۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔

 اسمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے ؟

 آپ نے فرمایا نہیں

 اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی

 اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے ؟ سن عرب میں وعد کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن الیعاد کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے ۔

فانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجز موعدی

میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں

 بلکہ قطعاً ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا ۔

 الغرض سزا کا وعدہ کرکے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کرکے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے ۔

وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (۴۷)

ہاں البتہ آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے ۔‏

پھر فرماتا ہے کہ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لئے عجلت کیا ہے ؟ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہوجائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑلے گا ۔ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے

وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ أَمْلَيْتُ لَهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ أَخَذْتُهَا وَإِلَيَّ الْمَصِيرُ (۴۸)

بہت سی ظلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

 بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہوگئے تو اچانک گرفت کر لی ، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے ، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے ۔

ترمذی وغیرہ میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقرا مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سوبرس پہلے ۔

 اور روایت میں ہے :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے؟

 فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ؟

 میں نے کہا ہاں تو یہی آیت سنائی۔ یعنی اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کاہے۔

 ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں ہے

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری اُمت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا۔

 حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا ؟

آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا۔

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا  (ابن جریر)

بلکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب الرد علی الجمیہ میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔

 مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت (یدبر الامر من السمآء الی الارض الخ) ، کے ہے

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ (۳۲:۵)

اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کیطرف کرتا ہے ، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ۔ ایک ہی دن میں جسکی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے

 امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہوجائے۔

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ (۴۹)

اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے والا ہی ہوں ۔

چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔

عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔

 مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔

فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (۵۰)

پس جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی۔‏

جن کے دلوں میں یقین وایمان ہے اور اسکی شہادت انکے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ انکے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔

 رِزْقٌ كَرِيمٌ سے مراد جنت ہے۔

وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (۵۱)

اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو پست کرنے کے درپے رہتے ہیں وہی دوزخی ہیں۔‏

 جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں ، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں ، اللہ ہمیں بچائے۔

 اور آیت میں ہے:

الَّذِينَ كَفَرُواْ وَصَدُّواْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ زِدْنَـهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يُفْسِدُونَ (۱۶:۸۸)

جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے یہ بدلہ ہوگا ان کی فتنہ پردازیوں کا

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِيٍّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ

ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا،

فَيَنْسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ ۗ

پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے

یہاں پر اکثر مفسرین نے غرانیق کا قصہ نقل کیا ہے اور یہ بھی کہ اس واقعہ کی وجہ سے اکثر مہاجرین حبش یہ سمجھ کر کہ مشرکین مکہ اب مسلمان ہوگئے واپس مکے آگئے ۔

لیکن یہ روایت ہرسند سے مرسل ہے۔ کسی صحیح سند سے مسند مروی نہیں ، واللہ اعلم ۔

 چنانچہ ابن ابی حاتم میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ شریف میں سورۃ النجم کی تلاوت فرمائی جب یہ آیتیں آپ پڑھ رہے تھے أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى  ـ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى  (۵۳:۱۹،۲۰) تو شیطان نے آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ ڈالے کہ تلک الغرانیق العلی وان شفاعتہم ترتجعی پس مشرکین خوش ہوگئے کہ آج تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معبودوں کی تعریف کی جو اس سے پہلے آپ نے کبھی نہیں کی۔ چنانچہ ادھر حضور نے سجدہ کیا ادھر وہ سب بھی سجدے میں گرپڑے اس پر یہ آیت اتری

 اسے ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی روایت کیا ہے یہ مرسل ہے ۔

 مسند بزار میں بھی اس کے ذکرکے بعد ہے کہ صرف اسی سند سے ہی یہ متصلا ًمروی ہے۔ صرف امیہ بن خالد ہی اسے وصل کرتے ہیں وہ مشہور ثقہ ہیں۔ یہ صرف طریق کلبی سے ہی مروی ہے ۔ ابن ابی حاتم نے اسے دو سندوں سے لیا ہے لیکن دونوں مرسل ہیں ، ابن جریر میں بھی مرسل ہے

 قتادہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آگئی اور شیطان نے آپ کی زبان پر ڈالا وان شفاعتہا لترتجی وانہا لمع الغرانیق العلی نکلوادیا ۔ مشرکین نے ان لفظوں کو پکڑ لیا اور شیطان نے یہ بات پھیلا دی۔ اس پر یہ آیت اتری اور اسے ذلیل ہونا پڑا ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے:

 سورۃ نجم نازل ہوئی اور مشرکین کہہ رہے تھے کہ اگریہ شخص ہمارے معبودوں کا اچھے لفظوں میں ذکر کرے تو ہم اسے اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑیں مگر اس کا تو یہ حال ہے کہ یہود ونصاری اور جو لوگ اس کے مخالف ہیں اس سب سے زیادہ گالیوں اور برائی سے ہمارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔

 اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کے اصحاب پر سخت مصائب توڑے جا رہے تھے ۔ آپ کو ان کی ہدایت کی لالچ تھی جب سورۃ نجم کی تلاوت آپ نے شروع کی اور أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى  (۵۳:۲۱) تک پڑھا تو شیطان نے بتوں کے ذکر کے وقت یہ کلمات ڈال دئیے وانہن لہن الغرانیق العلی وان شفاعتہن لہی التی ترتجی یہ شیطان کی مقفٰی عبارت تھی۔

 ہر مشرک کے دل میں یہ کلمے بیٹھ گئے اور ایک ایک کو یاد ہوگئے یہاں تک کہ یہ مشہور ہوگیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ کے خاتمے پر سجدہ کیا تو سارے مسلمان اور مشرکین بھی سجدے میں گرپڑے، ہاں ولید بن مغیرہ چونکہ بہت ہی بوڑھا تھا اس لئے اس نے ایک مٹھی مٹی کی بھر کر اونچی لے جا کر اس کو اپنے ماتھے سے لگا لیا۔

 اب ہر ایک کو تعجب معلوم ہونے لگا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں فریق سجدے میں شامل تھے۔ مسلمانوں کو تعجب تھا کہ یہ لوگ ایمان تو لائے نہیں ، یقین نہیں، پھر ہمارے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے پر سجدہ انہوں کیسے کیا ؟

 شیطان نے جو الفاظ مشرکوں کے کانوں میں پھونکے تھے وہ مسلمانوں نے سنے ہی نہ تھے ادھر ان کے دل خوش ہو رہے تھے کیونکہ شیطان نے اس طرح آواز میں آواز ملائی کہ مشرکین اس میں کوئی تمیز ہی نہ کرسکتے تھے ۔ وہ تو سب کو اسی یقین پر پکا کرچکا تھا کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی سورت کی ان دونوں آیتوں کو تلاوت فرمایا ہے ۔ پس دراصل مشرکین کا سجدہ اپنے کو تھا۔

 شیطان نے اس واقعہ کو اتنا پھیلا دیا کہ مہاجرین حبشہ کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی ۔ عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب سنا کہ اہل مکہ مسلمان ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ولید بن مغیرہ سجدہ نہ کرسکا تو اس نے مٹی کی ایک مٹھی اٹھا کر اس پر سرٹکالیا ۔ مسلمان اب پورے امن اور اطمینان سے ہیں تو انہوں نے وہاں سے واپسی کی ٹھانی اور خوشی خوشی مکے پہنچے ۔

 ان کے پہنچنے سے پہلے شیطان کے ان الفاظ کی قلعی کھل چکی تھی اللہ نے ان الفاظ کو ہٹا دیا تھا اور اپنا کلام محفوظ کردیا تھا یہاں مشرکین کی آتش عداوت اور بھڑک اٹھی تھی اور انہوں نے مسلمانوں پر نئے مصائب کے بادل برسانے شروع کردئے تھے

یہ روایت بھی مرسل ہے ۔ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی یہ روایت ہے امام محمد ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ بھی اسے اپنی سیرت میں لائے ہیں لیکن یہ سندیں مرسلات اور منقطعات ہیں واللہ اعلم ۔

 امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں یہ سب کچھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کے کلام سے اسی طرح کی روایتیں وارد کی ہیں ۔ پھر خود ہی ایک سوال وارد کیا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچاؤ کا ذمہ دار محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے تو ایسی بات کیسے واقع ہوگئی ۔ پھر بہت سے جواب دئے ہیں جن میں ایک لطیف جواب یہ بھی ہے کہ شیطان نے یہ الفاظ لوگوں کے کانوں میں ڈالے اور انہیں وہم ڈالا کہ یہ الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے ہیں حقیقت میں ایسا نہ تھا یہ صرف شیطانی حرکت تھی نہ کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز ۔ واللہ اعلم ۔

 اور بھی اسی قسم کے بہت سے جواب متکلمین نے دئے ہیں ۔

قاضی عیاض رحمتہ اللہ علیہ نے بھی شفا میں اسے چھیڑا ہے اور ان کے جواب کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ کا اپنا فرمان اس بات کا ثبوت ہے کہ شیطان کا تصرف نبی اکرم پر ناممکن ہے ۔ مگر جب کہ وہ آرزو کرتا ہے الخ ،

 اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی فرمائی گئی ہے کہ آپ اس پر پریشان خاطر نہ ہوں اگلے نبیوں رسولوں پر بھی ایسے اتفاقات آئے ۔

بخاری میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ اس کی آرزو میں جب نبی بات کرتا ہے تو شیطان اس کی بات میں بول شامل کردیتا ہے پس شیطان کے ڈالے ہوئے کو باطل کرکے پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم کرتا ہے

مجاہد کہتے ہیں تَمَنَّى کا معنی قال کے ہیں

 أُمْنِيَّتِهِ کے معنی قرآءتہ کے ہیں

 الا امانی کا مطلب یہ ہے کہ پڑھتے ہیں لکھتے نہیں ۔

بغوی رحمتہ اللہ علیہ اور اکثر مفسیرین کہتے ہیں تَمَنَّى کے معنی تلا کے ہیں یعنی جب کتاب اللہ پڑھتا ہے تو شیطان اس کی تلاوت میں کچھ ڈال دیتا ہے چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدح میں شاعر نے کہا ہے ۔

تمنی کتاب اللہ اول لیلتہ واخرہا لاقی حمام المقادر

یہاں بھی لفظ تَمَنَّى پڑھنے کے معنی میں ہے۔

ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں یہ قول بہت قریب کی تاویل والا ہے ۔

 نَسَخ کے حقیقی معنی لغتا ازلہ اور رفع کے معنی ہٹانے اور مٹادینے کے ہیں

یعنی اللہ سبحانہ وتعالیٰ شیطان کے القا کو باطل کردیتا ہے۔ جبرائیل علیہ السلام بحکم الہٰی شیطان کی زیادتی کو مٹا دیتے ہیں اور اللہ کی آیتیں مضبوط رہ جاتی ہیں ۔

وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (۵۲)

اللہ تعالیٰ دانا اور باحکمت ہے۔‏

اللہ تعالیٰ تمام کاموں کا جاننے والا ہے ۔ کوئی مخفی بات بھی کوئی راز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، وہ حکیم ہے اس کا کام حکمت سے خالی نہیں۔

لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ ۗ

یہ اس لئے کہ شیطانی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں

یہ اس لئے کہ جن کے دلوں میں شک ، شرک ، کفر اور نفاق ہے، ان کے لئے یہ فتنہ بن جائے ۔ چنانچہ مشرکین نے اسے اللہ کی طرف سے مان لیا حالانکہ وہ الفاظ شیطانی تھے ۔

 لہذا بیمار دل والوں سے مراد منافق ہیں اور سخت دل والوں سے مراد مشرک ہیں۔

یہ بھی قول ہے کہ مراد یہود ہیں۔

وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (۵۳)

بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں۔‏

ظالم حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ سیدھے راستے سے گم ہوگئے ہیں

وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ۗ

اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وہ یقین کرلیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں

اور جنہیں صحیح علم دیا گیا ہے جس سے وہ حق وباطل میں تمیز کرلیتے ہیں انہیں اس بات کے بالکل حق ہونے کا اور منجانب اللہ ہونے کا صحیح یقین ہوجائے اور وہ کامل الایمان بن جائیں اور سمجھ لیں کہ بیشک یہ اللہ کا کلام ہے جبھی تو اس قدر اس کی حفاظت دیانت اور نگہداشت ہے ۔ کہ کسی جانب سے کسی طریق سے اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی ۔ حکیم وحمید اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے

پس انکے دل تصدیق سے پر ہوجاتے ہیں ، جھک کر رغبت سے متوجہ ہوجاتے ہیں ،

وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۵۴)

یقیناً اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو راہ راست پر رہبری کرنے والا ہے۔‏

 اللہ تعالیٰ ایمان داروں کی رہبری دنیا میں حق اور ہدایت کی طرف کرتا ہے صراط مستقیم سجھا دیتا ہے اور آخرت میں عذابوں سے بچا کر بلند درجوں میں پہنچاتا ہے اور نعمتیں نصیب فرماتا ہے ۔

وَلَا يَزَالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً أَوْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيمٍ (۵۵)

کافر اس وحی الہٰی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتٰی کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آجائے جو منحوس ہے ۔‏

یعنی کافروں کو جوشک شبہ اللہ کی اس وحی یعنی قرآن میں ہے وہ ان کے دلوں سے نہیں جائے گا۔ شیطان یہ غلط گمان قیامت تک ان کے دلوں سے نہ نکلنے دے گا ۔ قیامت اور اس کے عذاب ان کے پاس ناگہاں آجائیں گے۔ اس وقت یہ محض بےشعور ہوں گے جو مہلت انہیں مل رہی ہے اس سے یہ مغرور ہوگئے ۔ جس قوم کے پاس اللہ کے عذاب آئے اسی حالت میں آئے کہ وہ ان سے نڈر بلکہ بےپروا ہوگئے تھے

 اللہ کے عذابوں سے غافل وہی ہوتے ہیں جو پورے فاسق اور اعلانیہ مجرم ہوں ۔ یا انہیں بےخبر دن عذاب پہنچے جو دن ان کے لئے منحوس ثابت ہوگا۔

 بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے اور بعض نے کہا ہے مراد اس سے قیامت کا دن ہے یہی قول صحیح ہے گو بدر کا دن بھی ان کے لئے عذاب اللہ کا دن تھا۔

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ۚ

اس دن صرف اللہ کی بادشاہی ہوگی وہی ان میں فیصلے فرمائے گا،

اس دن صرف اللہ کی بادشاہت ہوگی

جیسے اور آیت میں ہے:

مَـلِكِ يَوْمِ الدِّينِ (۱:۴)

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کا مالک ہے ۔

 اور آیت میں ہے:

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا  (۲۵:۲۶)

بادشاہی اس دن ثابت ہے واسطے رحمان کے اور یہ دن کافروں پر سخت بھاری ہوگا،

فیصلے خود اللہ کرے گا ۔

لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ  (۴۰:۱۶)

اللہ تعالیٰ پوچھے گا ' آج کس کی بادشاہی ہے؟ ' پھر خود ہی جواب دے گا ' ایک اللہ غالب کی '۔

فَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ (۵۶)

ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے۔‏

 جن کے دلوں میں اللہ پر ایمان رسول کی صداقت اور ایمان کے مطابق جن کے اعمال تھے جن کے دل اور عمل میں موافقت تھی۔ جن کی زبانیں دل کے مانند تھیں وہ جنت کی نعمتوں میں مالا مال ہوں گے جو نعمتیں نہ فنا ہوں نہ گھٹیں نہ بگڑیں نہ کم ہوں۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (۵۷)

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے ذلیل کرنے والے عذاب ہیں۔‏

جن کے دلوں میں حقانیت سے کفر تھا ، جو حق کو جھٹلاتے تھے ، نبیوں کے خلاف کرتے تھے ، اتباع حق سے تکبر کرتے تھے ان کے تکبر کے بدلے انہیں ذلیل کرنے والے عذاب ہوں گے۔

جیسے فرمان ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَ