تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الزخرف

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حم (۱)

حم

وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ (۲)

قسم ہے اس واضح کتاب کی۔‏

إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (۳)

ہم نے اسکو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو

جس کے الفاظ نورانی ہیں جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے یہ اس لئے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے

 جیسے اور جگہ ہے:

بِلِسَانٍ عَرَبِىٍّ مُّبِينٍ (۲۶:۱۹۵)

عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے ،

وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ (۴)

یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے۔‏

اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تاکہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں ۔

 فرمایا کہ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے

لَدَيْنَا سے مراد ہمارے پاس

 لَعَلِيٌّ سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے ۔

حَكِيمٌ سے مراد محکم  مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے

 اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے:

إِنَّهُ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ ۔ فِى كِتَـبٍ مَّكْنُونٍ ۔ لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ ۔ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ (۵۶:۷۷،۸۰)

بے شک یہ قرآن بڑی عزت والا ہے جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں

یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے

اور جگہ ہے:

كَلاَّ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ ۔ فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُ ۔ فَى صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ ۔ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ ۔ بِأَيْدِى سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ (۸۰:۱۱،۱۶)

قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں

جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں

ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بےوضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے ۔ اس لئے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے ۔

پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اسکی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں اُم الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے

أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ (۵)

کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹا لیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو .

اس آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گزراری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے

دوسرے معنی یہ ہیں کہ اس اُمت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا

اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے

وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِنْ نَبِيٍّ فِي الْأَوَّلِينَ (۶)

اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے۔‏

وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (۷)

جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔‏

فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا

پس ہم نے ان سے زیادہ زورآوروں کو تباہ کر ڈالا

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی اکرم آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں ۔ صبر و برداشت کیجئے ۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے ۔

 جیسے اور آیت میں ہے:

أَفَلَمْ يَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَيَنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُواْ أَكْـثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً  (۴۰:۸۲)

کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے

 اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں

وَمَضَى مَثَلُ الْأَوَّلِينَ (۸)

 اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے

پھر فرماتا ہے اگلوں کی مثالیں گزر چکیں یعنی عادتیں ، سزائیں ، عبرتیں ۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے:

فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ (۴۳:۵۶)

پس ہم نے انہیں گیا گزرا کر دیا اور پچھلوں کے لئے مثال بنا دی

 اور جیسے فرمان ہے:

سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِى قَدْ خَلَتْ فِى عِبَادِهِ (۴۰:۸۵)

وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً (۳۳:۶۲)

اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا ۔

وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ (۹)

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً انکا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) ہی نے پیدا کیا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں

الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا

وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا

جس نے زمین کو فرش اور ٹھہرئی ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو ، پھرو، رہو ، سہو، اٹھو، بیٹھو ، سوؤ، جاگو ۔

وَجَعَلَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (۱۰)

 اور اس میں تمہارے لئے راستے کر دیئے تاکہ تم راہ پا لیا کرو ۔‏

 حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو

وَالَّذِي نَزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَنْشَرْنَا بِهِ بَلْدَةً مَيْتًا ۚ كَذَلِكَ تُخْرَجُونَ (۱۱)

اسی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس مردہ شہر کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے

اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سر سبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہوگئے

 پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا اور فرمایا اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے

وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ (۱۲)

جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو۔‏

اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں ۔

 مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لئے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لئے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لئے مہیا کر دئیے

 ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں ۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو ۔

لِتَسْتَوُوا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ

اب تمہیں چاہیے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے

وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (۱۳)

 اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے ہمارے بس میں کر دیا حالانکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی۔‏

اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی ۔

وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (۱۴)

اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔‏

اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں

اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا:

وَتَزَوَّدُواْ فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى (۲:۱۹۷)

توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے

 اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا:

وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ (۷:۲۶)

لباس تقویٰ افضل و بہتر ہے ، ـ

سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں

حضرت علی بن ربیعہ فرماتے ہیں حضرت علیؓ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا بسم اللہ

جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا :

سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ

وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ

پھر تین مرتبہ الحمد للہ اور تین مرتبہ اللہ اکبر پھر فرمایا :

 

سبحانک لا الہ الا انت قد ظلمت نفسی فاغفرلی

پھر ہنس دئیے ۔

میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں ؟

 فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب دیا :

 جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے رب اغفرلی میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا ۔

 یہ حدیث ابو داؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے ۔ امام ترمذی اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں ۔

 اور حدیث میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عباس کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ نے تین مرتبہ اللہ اکبر کا تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ  کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور حضرت عبد اللہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے:

 جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔ (مسند احمد)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓفرماتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے:

اللھم انی اسئلک فی سفری ھذا البر والتقوی و من العمل ما ترضی اللھم ھون علینا السفر اطولنا البعد اللھم انت الصاحب فی السفر و الخلیفۃ فی الاھل اللھم اصبحنا فی سفرنا واخلفنا فی اھلنا
یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لئے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہباں ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما ۔

 اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے :

ائبون تائبون ان شاء اللہ عابدون لربنا حامدون
واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے انشاء اللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے

مسلم ابو داؤد نسائی وغیرہ

ابو لاس خزاعی فرماتے ہیں:

 صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لئے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں

 ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ ہمیں اس پر سوار کرائیں ۔

 آپ نے فرمایا:

 سنو ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لئے خادم بنا لو ، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے ۔ (مسند احمد )

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو ۔

وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا ۚ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِينٌ (۱۵)

اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو جز ٹھہرا دیا یقیناً انسان کھلا ناشکرا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورہ انعام کی آیت  میں ہے

وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالاٌّنْعَامِ نَصِيباً فَقَالُواْ هَـذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ

 فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللَّهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ (۶:۱۳۶)

اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ

یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا

 اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے ؟

 اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لئے پسند کئے

 جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے:

أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الاٍّنثَى ۔ تِلْكَ إِذاً قِسْمَةٌ ضِيزَى (۵۳:۲۱،۲۲)

کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لئے بیٹیاں ؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے ۔

 پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جز قرار دے لیا ہے

أَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنَاتٍ وَأَصْفَاكُمْ بِالْبَنِينَ (۱۶)

کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا۔‏

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (۱۷)

(حالانکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لئے بیان کی ہےتو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غمگین ہو جاتا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لئے ناپسند کر تے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لئے کیسے پسند کرتے ہیں ؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے ۔

لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لئے وہ ثابت کریں ۔

أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ (۱۸)

کیا (اللہ کی اولاد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کر سکیں؟‏

پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں

پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں ۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی

 جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں

وما الحلی الا زینۃ من نقیصۃ ، یتمم من حسن اذا الحسن قصرا

 واما اذا کان الجمال موفرا، کحسنک لم یحتج الی ان یزورا

زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لئے ہوتے ہیں ۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت ؟

اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے

 ان مضامین کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے

وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا ۚ

اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔

أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ ۚ

کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟

سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ (۱۹)

ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی ۔‏

پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے ؟

 تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بےخبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیے اور ہوشیار رہنا چاہیے

وَقَالُوا لَوْ شَاءَ الرَّحْمَنُ مَا عَبَدْنَاهُمْ ۗ

اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے

پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے

-         پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لئے اولاد ثابت کی

-         دوسری خطایہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں

-         تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی ۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے

-        چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے

مَا لَهُمْ بِذَلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ

 انہیں اس کی کچھ خبر نہیں

اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے ۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَـلَةُ فَسِيرُواْ فِى الاٌّرْضِ فَانظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ)۱۶:۳۶)

ہر اُمت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو ۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا براحشر ہوا؟

 اور آیت میں ہے:

وَاسْئلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ (۴۳:۴۵)

تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی ؟

إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ (۲۰)

یہ صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔‏

پھر فرماتا ہے یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے ۔

أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ (۲۱)

کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں۔‏

جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بےدلیل ہونا بیان فرمایا جارہا ہے کہ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے ؟

 جس سے وہ سند لاتے ہوں یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا:

أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَـناً فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُواْ بِهِ يُشْرِكُونَ (۳۰:۳۵)

کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے ؟

 یعنی ایسا نہیں ہے

بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُهْتَدُونَ (۲۲)

(نہیں نہیں) بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راہ یافتہ ہیں۔‏

پھر فرماتا ہے یہ تو نہیں بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے

 أُمَّة سے مراد یہاں دین ہے اور آیت إِنَّ هَـذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً (۲۳:۵۲) میں بھی أُمَّة سے مراد دین ہی ہے

ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بےدلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

وَكَذَلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِمْ مُقْتَدُونَ (۲۳)

اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے والا بھیجا وہاں کے آسودہ حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ

ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راہ پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں۔‏

 یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی ۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا ۔

 اور جگہ ہے:

كَذَلِكَ مَآ أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ مِّن رَّسُولٍ إِلاَّ قَالُواْ سَـحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ۔ أَتَوَاصَوْاْ بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَـغُونَ (۵۱:۵۲،۵۳)

ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی اُمتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا۔ پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں

قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكُمْ بِأَهْدَى مِمَّا وَجَدْتُمْ عَلَيْهِ آبَاءَكُمْ ۖ قَالُوا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ (۲۴)

(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہتر (مقصود تک پہنچانے والا) طریقہ لے کر آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے ۔‏

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ ۖ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (۲۵)

پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟‏

 پھر ارشاد ہے کہ گویہ معلوم کرلیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہہ و بالا کر دیا کرتے ہیں

 ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مؤمن نجات پاتے ہیں ۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ (۲۶)

اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔‏

إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ (۲۷)

بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا

قریشی کفار نیکی اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم کوئی تعلق نہیں ۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بےتعلق ہوں ۔

وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (۲۸)

اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اولاد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کرے گا تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں ۔‏

اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لئے باقی رکھ لیا ناممکن ہے کہ آپ کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے ۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

بَلْ مَتَّعْتُ هَؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ

بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب) دیا،

حَتَّى جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ (۲۹)

 یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے والا رسول آگیا ،

وَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِهِ كَافِرُونَ (۳۰)

اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں ۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے چلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں ۔

وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (۳۱)

اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا

 سرکشی اور ضد میں آکر کفر کر بیٹھے عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر کسی بڑے آدمی پر کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟

 اور بڑے آدمی سے ان کی مراد

 ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ ، حبیب بن عمرو مابن عبطدیالیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی ۔

 غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ۚ

کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟

اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الہٰی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں ؟

 اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہاراعلم ؟

 اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے ؟

 یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو ۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو

نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا ۗ

ہم نے ہی ان کی زندگانی دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کر لے؟

پھر فرماتا ہے کہ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہوگئے؟

 اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں ۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیںاس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے ایک ایک کے ماتحت رہے

وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (۳۲)

جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے

پھر ارشاد ہوا کہ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے

وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ (۳۳)

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہوجائیں گے

 تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنا دیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے۔‏

وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَابًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِئُونَ (۳۴)

اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وہ تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے۔‏

وَزُخْرُفًا ۚ

اور سونے کے بھی

زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضامندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیائے دوں اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے ۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی

میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں ۔ کھانے پینے رہنے سہنے برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں ۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے

 اور حدیث میں ہے:

 اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا

وَإِنْ كُلُّ ذَلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَالْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ (۳۵)

ا ور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لئے (ہی) ہے ۔‏

پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں صرف ان کے لئے نہیں جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا ۔

چنانچہ جب حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کے بالا خانہ میں گئے اور آپ نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصرو کسریٰ کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں ؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے:

 اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے ؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں ۔

 ایک اور روایت میں ہے :

 کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت ۔

 بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیؤ یہ دنیا میں ان کے لئے ہیں اور آخرت میں ہمارے لئے ہیں اور دنیا میں یہ ان کے لئے یوں ہیں کی رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے ۔

ترمذی کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے :

 حضور نے فرمایا اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا۔

وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ (۳۶)

اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے ۔‏

وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ (۳۷)

اور وہ انہیں راہ سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں ۔‏

ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بےرغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے

آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں عشی فی العین کہتے ہیں ۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے

 جیسے فرمایا :

وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا (۴:۱۱۵)

جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مؤمنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے

 اور آیت میں ارشاد ہے:

فَلَمَّا زَاغُواْ أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ (۶۱:۵)

جب وہی ٹیڑھے ہوگئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ۔

 اور آیت میں فرمایا :

وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَيَّنُواْ لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ (۴۱:۲۵)

ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں

حَتَّى إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ (۳۸)

یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے

یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں

 قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برأت ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے ۔

یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہہ دیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو قمرین یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو ابوین یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے ۔

 ایک قرأت میں حَتْى إِذَا جَاءنَا بھی ہے یعنی شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے

حضرت سعید جریری فرماتے ہیں کہ کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آکر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے

وَلَنْ يَنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذْ ظَلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ (۳۹)

اور جب کہ تم ظالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا۔‏

پھر فرماتا ہے کہ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لئے نفع دینے والا نہیں

أَفَأَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ أَوْ تَهْدِي الْعُمْيَ وَمَنْ كَانَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (۴۰)

کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو ۔‏

اس کے بعد اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ازلی بہروں کے کان میں آپ ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپکی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ۔

 یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے ؟

تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو

فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُمْ مُنْتَقِمُونَ (۴۱)

پس اگر ہم تجھے یہاں سے لے جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں ۔‏

أَوْ نُرِيَنَّكَ الَّذِي وَعَدْنَاهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِمْ مُقْتَدِرُونَ (۴۲)

یا جو کچھ ان سے وعدہ کیا ہے وہ تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں ۔‏

پھر فرماتا ہے کہ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لئے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ۔

 غرض اس طرح اور اس طرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی ۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے

یہ تو ہے تفسیر حضرت سدیؒ کی لیکن حضرت قتادہ ؒفرماتے ہیں:

 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لئے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو آپ کی زندگی میں اُمت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ کی ناپسندیدہ تھے بجز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء کے سامنے ان کی اُمتوں پر عذاب آئے

 ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ کی اُمت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے ۔

 حضرت حسنؒ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے:

 ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آجائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آجائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں

فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (۴۳)

پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں بیشک آپ راہ راست پر ہیں۔‏

وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ (۴۴)

اور یقیناً (خود) آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے۔‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لئے رہ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے ذکر ہے یعنی شرف اور بزرگی ہے ۔

 بخاری شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 یہ امر (یعنی خلافت و امامت ) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں

 اس لئے بھی آپ کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا ۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے

 ذِكْر کے معنی نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں ۔

جیسے فرمان ہے:

 َقَدْ أَنزَلْنَآ إِلَيْكُمْ كِتَـباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (۲۱:۱۰)

بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لئے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟

اور آیت میں ہے:

وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الاٌّقْرَبِينَ (۲۶:۲۱۴)

اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ۔

غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ (۴۵)

اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھاکہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے

 پھر فرماتا ہے تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟

 تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنی اُمت کو دے رہے ہیں کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے :

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ  (۱۶:۳۶)

ہم نے ہر اُمت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو

 حضرت عبداللہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِ لَيْهِمْ قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَ پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے واللہ اعلم ۔

تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں

 عبدالرحمٰن فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء آپ کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۴۶)

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ ؑ) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں۔‏

فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِآيَاتِنَا إِذَا هُمْ مِنْهَا يَضْحَكُونَ (۴۷)

پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وہ بےساختہ ان پر ہنسنے لگے ۔‏

وَمَا نُرِيهِمْ مِنْ آيَةٍ إِلَّا هِيَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَاهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (۴۸)

اور ہم نے انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ باز آ جائیں۔

حضرت موسیٰ کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں آپ کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھا بن جانا وغیرہ ۔

لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا ۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو ۔ اور نبوت موسیٰ پر دلیل بھی ہو

وَقَالُوا يَا أَيُّهَ السَّاحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ (۴۹)

اور انہوں نے کہا اے جادو گر!

ہمارے لئے اپنے رب سے اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعدہ کر رکھا ہے یقین مان کہ ہم راہ پر لگ جائیں گے

پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں ، مینڈک آئے اور کھیت، مال ، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے ۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے حضرت موسیٰ کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کر تے ان سے قول قرار کرتے آپ دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا ۔

سَاحِر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے ۔ اور آیات فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ (۷:۱۳۳،۱۲۵) میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے ۔

فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ (۵۰)

پھر جب ہم نے وہ عذاب ان سے ہٹا لیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول و اقرار توڑ دیا۔‏

یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا

وَنَادَى فِرْعَوْنُ فِي قَوْمِهِ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ (۵۱)

اور فرعوں نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا

اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں؟‏

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں ؟

کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں ؟

 کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے ؟

پھر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں ۔

 کلام پاک میں اور جگہ ہے:

فَحَشَرَ فَنَادَى ۔فَقَالَ أَنَاْ رَبُّكُمُ الاٌّعْلَى ۔فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الاٌّخِرَةِ وَالاٍّوْلَى (۷۹:۲۳،۲۵)

اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا

أَمْ أَنَا خَيْرٌ مِنْ هَذَا الَّذِي هُوَ مَهِينٌ وَلَا يَكَادُ يُبِينُ (۵۲)

بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا ۔‏

أَمْ معنی میں بل  کے ہے۔

 حاصل یہ ہے کہ فرعون ملعون اپنے آپ کو حضرت کلیم اللہ سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ۔

مَهِينٌ کے معنی حقیر ، ضعیف، بےمال، بےشان ۔

 پھر کہتا ہے موسیٰ تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا

 بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا ۔

یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے ۔ حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے ۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ کو دیکھتا تھا اس لئے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا ۔

گو حضرت موسیٰ کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں ۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعا کلیم میں اتنا ہی تھا کہ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں ۔ تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کونسی بات ہے ؟

 دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا ،

فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ (۵۳)

اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے

دیکھئے وہ کہتا ہے کہ کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (سونے کا سکہ)کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیے کہ ہاتھ سونے سے پُر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں ،

فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ (۵۴)

اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے۔‏

غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا ۔ یہ خود بھی فاسق فاجر تھے فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے

فَلَمَّا آسَفُونَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ أَجْمَعِينَ (۵۵)

پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا۔‏

پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کرلی  اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لئے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ (ابن ابی حاتم )

حضرت عبداللہ ؓکے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ایمان دار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرماتے ہیں انتقام غفلت کے ساتھ ہے ۔

فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِلْآخِرِينَ (۵۶)

پس ہم نے انہیں گیا گزرا کر دیا اور پچھلوں کے لئے مثال بنا دی

 پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ۔

 (واللہ سبحانہ وتعالیٰ الموفق للصواب والیہ المرجع والماب)

وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (۵۷)

اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے۔‏

وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ ۚ

اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟

يَصِدُّونَ کے معنی حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ اور ضحاک نے کئے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے یعنی اس سے انہیں تعجب معلوم ہوا ۔

 قتادہ فرماتے ہیں گھبرا کر بول پڑے ۔

 ابراہیم نخعی کا قول ہے منہ پھیرنے لگے اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے :

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت  إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَارِدُونَ (۲۱:۹۸)پڑھ کر سنائی یعنی تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے

تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے ۔

 اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور حضرت عزیر اور حضرت مسیح بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہیں نصرانی حضرت عیسیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے ۔

لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں ۔ فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے ۔ اور یہ بجا لاتے ہیں

 اس پر آیت إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنَى أُوْلَـئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ (۲۱:۱۰۱) نازل ہوئی یعنی حضرت عیسیٰ ، حضرت عزیر ، اور ان کے علاوہ جن احبار و رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بےقصور ہیں

 اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں وَقَالُواْ اتَّخَذَ الرَّحْمَـنُ وَلَداً سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ (۲۱:۲۶)سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی

 اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے حضرت عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا ۔

 ان سے کہو کہ حضرت عیسیٰ نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں ۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے

 حضرت ابن عباسؓ سے ابن جریر میں ہے کہ مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ پھر آپ ابن مریم کی نسبت کیا کہتے ہیں ؟

 آپ ﷺنے فرمایا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں

 اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں ۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بےتکی باتیں کرنے لگے ہیں ۔

 مسند احمد میں ہے :

 ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓنے فرمایا :

 قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی ۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے ؟ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے ۔

 اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا ۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابو یحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا ۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسی آیت ہے ؟

 آپ نے فرمایا ہاں سنو ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو ۔

 اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی حضرت عیسیٰ کی عبادت نہیں کرتے ؟

 اور کیا آپ حضرت عیسیٰ کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے ؟

 پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے ؟

 اس پر یہ آیتیں اتریں ۔

وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (۵۷)کہ جب عیسیٰ بن مریم کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے ۔

وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ  (۶۱)وہ قیامت کا علم ہیں یعنی عیسیٰ بن مریم کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا

 ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے ۔

 حضرت قتادہ فرماتے ہیں ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ ۔

 مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہترے ہیں یہ تو اپنے آپ کو پجوانا چاہتے ہیں ،

 ابن مسعود کی قرأت میں أَمْ هذا ہے ۔

مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ (۵۸)

 تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں جھگڑالو

اللہ فرماتا ہے یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے یعنی بےدلیل جھگڑا اور بےوجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے ۔ اس لئے اولاً تو آیت میں لفظ مَا ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے ۔

 ترمذی میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

 کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بےدلیل حجت بازی اس میں نہ آجائے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔

 ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے:

 ہر اُمت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے ۔

ابن جریر میں ہے:

 ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا :

اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا ۔

 پھر آپ نے آیت مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ کی تلاوت فرمائی

إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَائِيلَ (۵۹)

عیسٰی (علیہ السلام) بھی صرف بندہ ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لئے نشان قدرت بنایا ۔‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے

وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَائِكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُفُونَ (۶۰)

اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کر دیتے جو زمین میں جانشینی کرتے ۔‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ۔

یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے

مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے ۔

 مجاہد فرماتے ہیں یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے

وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ ۚ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (۶۱)

اور یقیناً عیسیٰؑ قیامت کی نشانی ہے پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو یہی سیدھی راہ ہے۔‏

یہ جو فرمایا ہے کہ وہ قیامت کی نشانی ہے اس کا مطلب جو ابن اسحاق نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں ۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ حضرت حسن بصری اور حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے حضرت عیسیٰ پر ۔ یعنی حضرت عیسیٰ قیامت کی ایک نشانی ہیں ۔ اس لئے کہ اوپر سے ہی آپ کا بیان چلا آرہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں حضرت عیسیٰ کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَـبِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (۴:۱۵۹)

ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ۔

 یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے ۔

اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے إِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ یعنی جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ۔

 حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم کا قیامت سے پہلے آنا۔

 اسی طرح روایت کی گئی ہے  حضرت ابوہریرہ سے اور حضرت عباسؓ سے اور یہی مروی ہے ابو لعالیہ ، ابومالک، عکرمہ ، حسن ، قتادہ ضحاک وغیرہ سے رحم اللہ تعالیٰ۔

وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطَانُ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (۶۲)

اور شیطان تمہیں روک نہ دے یقیناً وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔‏

اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے :

 قیامت کے دن سے پہلے حضرت عیسیٰ امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے ۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے

وَلَمَّا جَاءَ عِيسَى بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ

اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے لائے تو کہاکہ میں تمہارے پاس حکمت والا ہوں اور اس لئے آیا ہوں

 کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں

حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں ۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔

 ابن جریر یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے

پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ بَعْضَ کا لفظ یہاں پر کل کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں بعید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں ۔ لیکن وہاں بھی بَعْضَ سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس ۔

 امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے ۔

فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (۶۳)

پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔‏

پھر فرمایا جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گزراری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں

إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۚ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (۶۴)

میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راہ راست (یہی) ہے۔‏

اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ واحد لاشریک ہے ۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے

فَاخْتَلَفَ الْأَحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ ۖ

پھر (بنی اسرائیل) کی جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا

اب لوگ آپس میں متفرق ہوگئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں ۔ اور بعض نے کہا آپ ہی اللہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعووں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے ۔

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ (۶۵)

پس ظالموں کے لئے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے۔‏

اسی لئے ارشاد فرماتا ہے کہ ان ظالموں کے لئے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور دردناک سزائیں ہوں گی

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَنْ تَأْتِيَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (۶۶)

یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بےخبری کی حالت میں آجائے گی

الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (۶۷)

اس دن دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔‏

اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟

 یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی

یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی ۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا:

إِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَـناً مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضاً وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِّن نَّـصِرِينَ (۲۹:۲۵)

تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے

 ابن ابی حاتم میں مروی ہے:

 امیرالمؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:

 دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے

 اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا

 پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو ،

پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا

 دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا ۔

 پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا

حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں:

 ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیز گاروں کی دوستی ۔

ابن عساکر میں ہے:

 جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا

يَا عِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ وَلَا أَنْتُمْ تَحْزَنُونَ (۶۸)

میرے بندو! آج تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزدہ ہوگے ۔‏

پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو ۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل ۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل ۔

حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :

قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے

الَّذِينَ آمَنُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا مُسْلِمِينَ (۶۹)

اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور تھے بھی وہ (فرماں بردار) مسلمان۔‏

ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ تُحْبَرُونَ (۷۰)

تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ

وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے

 پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔

سورہ روم میں اس کی تفسیر گزر چکی ہے

يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَافٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ ۖ

ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا

وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ الْأَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْيُنُ ۖ وَأَنْتُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (۷۱)

ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔

چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے :

تَشْتَهِيهِ اور تَشْتَهِي دونوں قرأتیں ہیں ۔

 یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا ۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی ۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق)

ابن ابی حاتم میں ہےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

 جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی

پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔

 مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 سب سے ادنیٰٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گےہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی ۔

 اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی ۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں ۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی

 اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی ۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی ۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے ۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے

وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۷۲)

یہی وہ بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو۔‏

پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے ۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا ۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔

 ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا ۔

 اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا ۔

آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں ۔ پس کافر مؤمن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا ۔ اور مؤمن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا

یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو

لَكُمْ فِيهَا فَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِنْهَا تَأْكُلُونَ (۷۳)

یہاں تمہارے لئے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے۔‏

 کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میوؤں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بکثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی ۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو ۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے

 اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے ۔ آمین

إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَالِدُونَ (۷۴)

بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔‏

لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ (۷۵)

یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اسی میں مایوس پڑے رہیں گے

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لئے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے

وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا هُمُ الظَّالِمِينَ (۷۶)

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ظالم تھے۔‏

ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے

وَنَادَوْا يَا مَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ (۷۷)

اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے وہ کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے ۔

یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ،

صحیح بخاری میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:

 یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے:

لاَ يُقْضَى عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُواْ وَلاَ يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا  (۳۵:۳۶)

نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی

 اور فرمان باری ہے:

وَيَتَجَنَّبُهَا الاٌّشْقَى ۔الَّذِى يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى۔ ثُمَّ لاَ يَمُوتُ فِيهَا وَلاَ يَحْيَا  (۸۷:۱۱،۱۳)

وہ بد بخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ۔

 پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں ۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے ۔ یعنی نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے

لَقَدْ جِئْنَاكُمْ بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَارِهُونَ (۷۸)

ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے ہیں لیکن تم میں اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے تھے۔‏

پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی ۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔

 پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بےفائدہ ہے

أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ (۷۹)

کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں

پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا

حضرت مجاہد کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے:

وَمَكَرُواْ مَكْراً وَمَكَرْنَا مَكْراً وَهُمْ لاَ يَشْعُرُونَ (۲۷:۵۰)

انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ۔

مشرکین حق کو ٹالنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آگیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں

 اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ

أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ ۚ

کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سن سکتے (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں)

بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ (۸۰)

بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ۔

 کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے ؟

ان کا گمان بالکل غلط ہے

 ہم تو انکی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ۔

قُلْ إِنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ (۸۱)

آپ کہہ دیجئے! اگر بالفرض رحمٰن کی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا ۔

اے نبی آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے ؟

 نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو

یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں ۔

 جیسے فرمان باری ہے:

لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَداً لاَّصْطَفَى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحَـنَهُ (۳۹:۴)

اگر حضرت حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے

 اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے

بعض مفسریں نے عَابِدِين کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 عَابِدِين سے مراد یہاں اول الجاحدین ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ عبد یعبد کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے ۔ وہ عبد یعبد سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے:

 ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا حضرت عثمانؓ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن حضرت علیؓ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا (۴۶:۱۵) یعنی حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے ۔اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا  وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا (۳۱:۱۴) دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے حضرت عثمانؓ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو یہاں بھی لفظ عبد ہے یعنی انکار نہ کر سکے ۔

 ابن وہب کہتے ہیں عبد کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے ۔ شاعر کے شعر میں بھی عبد انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔

لیکن اس قول میں نر ہے اس لئے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ اگر رحمٰن کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں ۔ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی ۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ إِنْ شرط کے لئے نہیں ہے ۔ بلکہ نفی کے لئے ہے جیسے کہ ابن عباسؓ سے منقول بھی ہے ۔

 تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمٰن کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں

حضرت قتادہؓ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی نہ رحمٰن کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد ۔

 ابو صخر فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں

 مجاہد فرماتے ہیں میں اس کا پہلا عبادت گزرار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں ۔

 امام بخاری فرماتے ہیں میں پہلا انکاری ہوں

یہ دونوں لغت میں ہیں  عابد اورعبد اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن ۔

سدی فرماتے ہیں اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے

 ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ إِنْ کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں

سُبْحَانَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ (۸۲)

آسمان زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس (سے) بہت پاک ہے۔

اسی لئے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں

فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ (۸۳)

اب آپ انہیں اس بحث مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ انہیں اس دن سابقہ پڑ جائے جن کا یہ وعدہ دیئے جاتے ہیں

ارشاد ہوتا ہے کہ نبی انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی ۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کرلیں

وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَهٌ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْعَلِيمُ (۸۴)

وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے اور وہ بڑی حکمت والا اور پورے علم والا ہے۔‏

پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے ۔ وہ خبیر و علیم ہےجیسے اور آیت میں ہے:

وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمَـوَتِ وَفِى الاٌّرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ (۶:۳)

زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے

وَتَبَارَكَ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا

اور وہ بہت برکتوں والا ہے جسکے پاس آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے

وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے

وَعِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ (۸۵)

اور قیامت کا علم بھی اس کے پاس ہے اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے ۔

 قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہےاس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا

وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (۸۶)

جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ہاں (مستحق شفاعت وہ ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لئے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی

 اسکے بعد استثناء منقطع ہے

 یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی

وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّى يُؤْفَكُونَ (۸۷)

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً جواب دیں گے اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں۔‏

 ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے ؟

 تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بےقدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں ؟

جہالت و خباثت کند ذہنی اور بےوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی ۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا اسی لئے تعجب سے ارشاد ہوا کہ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو ؟

وَقِيلِهِ يَا رَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا يُؤْمِنُونَ (۸۸)

اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا کہ اے میرے رب! یقیناً یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔‏

پھر ارشاد ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے

جیسے اور آیت میں ہے:

وَقَالَ الرَّسُولُ يرَبِّ إِنَّ قَوْمِى اتَّخَذُواْ هَـذَا الْقُرْءاَنَ مَهْجُوراً (۲۵:۳۰)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری اُمت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ۔

 امام ابن جریر ؒبھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ ۚ

پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام!

ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بدزبانی کا بد کلامی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے ۔

فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (۸۹)

انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہو جائے گا۔‏

 انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا ۔ کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حضرت حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مؤمن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بیشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا فالحمدللہ۔ واللہ اعلم ۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com