تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الحاقہ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الْحَاقَّةُ (۱)

ثابت ہونے والی ‏

مَا الْحَاقَّةُ (۲)

ثابت ہونے والی کیا ہے؟

وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحَاقَّةُ (۳)

تجھے کیا معلوم کہ وہ ثابت شدہ کیا ہے؟

الْحَاقَّةُ قیامت کا ایک نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ وعدے وعید کی عملی تعبیر اور حقیقت کا دن وہی ہے، اسی لئے اس دن کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے فرمایا تم اس الْحَاقَّةُ کی صحیح کیفیت سے بےخبر ہو،

كَذَّبَتْ ثَمُودُ وَعَادٌ بِالْقَارِعَةِ (۴)

اس کھڑکا دینے والی کو ثمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا

عاد اور ثمود کا عذاب

پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن لوگوں نے اسے جھٹلایا اور خمیازہ اٹھایا تھا تو فرمایا

فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ (۵)

(جس کے نتیجے میں) ثمود تو بیحد خوفناک (اور اونچی) آواز سے ہلاک کر دیئے گئے

ثمودیوں کو دیکھو ایک طرف سے فرشتے کے دہاڑنے اور کلیجوں کو پاش پاش کر دینے والی آواز آتی ہے تو دوسری جانب سے زمین میں غضبناک بھونچال آتا ہے اور سب تہہ و بالا ہو جاتے ہیں،

پس بقول حضرت قتادہ طَاغِيَةِ کے معنی چنگھاڑ کے ہیں،

 اور مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد گناہ ہیں یعنی وہ اپنے گناہوں کے باعث برباد کر دیئے گئے،

 ربیع بن انس اور ابن زید کا قول ہے کہ اس سے مراد ان کی سرکشی ہے ۔

ابن زید نے اس کی شہادت میں یہ آیت پڑھی:

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا

فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا (۹۱:۱۱،۱۴)

ثمود نے اپنی سرکشی کی باعث جھٹلایا۔ جب ان میں ایک بد بخت کھڑا ہوا تو خدا کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اس کے پینے کی باری کی حفاظت کرو مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا ‏

یعنی ثمودیوں نے اپنی سرکشی کے باعث جھٹلایا، یعنی اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں

وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ (۶)

اور عاد بیحد تیز و تند ہوا سے غارت کر دیئے گئے ‏

اور قوم عاد کے ٹھنڈی ہواؤں کے تیز جھونکوں سے دل چھید دیئے اور وہ نیست و نابود کر دیئے گئے،

سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ (۷)

جسے ان پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔‏

یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی ہیں اور فرشتوں کے ہاتھوں سے نکلتی تھیں برابر پے در پے لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہیں، ان دنوں میں ان کے لئے سوائے نحوست و بربادی کے اور کوئی بھلائی نہ تھی

 حضرت ربیع فرماتے ہیں جمعہ کے دن سے یہ شروع ہوئی تھیں بعض کہتے ہیں بدھ کے دن،

 ان ہواؤں کو عرب أَعْجَازُ اس لئے بھی کہتے ہیں کہ قرآن نے فرمایا ہے قوم عاد کی حالت أَعْجَازُ یعنی کھجوروں کے کھوکھلے تنوں جیسی ہو گئی، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عموماً یہ ہوائیں جاڑوں کے آخر میں چلا کرتی ہیں اور عجز کہتے ہیں آخر کو،

 اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بڑھیا ایک غار میں گھس گئی تھی جو ان ہواؤں سے آٹھویں روز وہیں تباہ ہو گئی اور بڑھیا کو عربی میں عجوز کہتے ہیں، واللہ اعلم،

 خَاوِيَةٍ کے معنی ہیں خراب، گلا، سڑا، کھوکھلا،

مطلب یہ ہے کہ ہواؤں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا ان کے سر پھٹ گئے سروں کا چورا چورا ہو گیا اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درختوں کا پتوں والا سرا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا ہو،

بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی یعنی مشرقی ہوا کے ساتھ اور عادی ہلاک کئے گئے دبور سے یعنی مغربی ہوا سے،

 ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 عادیوں کو ہلاک کرنے کے لئے ہواؤں کے خزانے میں سے صرف انگوٹھی کے برابر جگہ کشادہ کی گئی تھی جس سے ہوائیں نکلیں اور پہلے وہ گاؤں اور دیہات والوں پر آئی ان تمام مردوں عورتوں کو چھوٹے بڑوں کو ان کے مالوں اور جانوروں سمیت لے کر آسمان و زمین کے درمیان معلق کر دیا،شہریوں کو بوجہ بہت بلندی اور کافی اونچائی کے یہ معلوم ہونے لگا کہ یہ سیاہ رنگ بادل چڑھا ہوا ہے خوش ہونے لگے کہ گرمی کے باعث جو ہماری بری حالت ہو رہی ہے اب پانی برس جائے گا اتنے میں ہواؤں کو حکم ہوا اور اس نے ان تمام کو ان شہریوں پر پھینک دیا یہ اور وہ سب ہلاک ہوگئے،

فَهَلْ تَرَى لَهُمْ مِنْ بَاقِيَةٍ (۸)

کیا ان میں سے کوئی بھی تجھے باقی نظر آرہا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے بتاؤ کہ ان میں سے یا ان کی نسل میں سے کسی ایک کا نشان بھی تم دیکھ رہے ہو؟

یعنی سب کے سب تباو و برباد کر دیئے گئے کوئی نام لینے والا پانی دینے والا بھی باقی نہ رہا۔

وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ (۹)

فرعون اور اس کے پہلے کے لوگ اور جن کی بستیاں اُلٹ دی گئیں انہوں نے بھی خطائیں کیں۔ ‏

پھر فرمایا فرعون اور اس سے اگلے خطا کار، اور رسول کے نافرمان کا یہی انجام ہوا،

قَبْلَهُ کی دوسری قرأت قِبْلَهُ بھی ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ فرعون اور اس کے پاس اور ساتھ کے لوگ یعنی فرعونی ، قبطی، کفار،

مُؤْتَفِكَاتُ سے مراد بھی پیغمبروں کی جھٹلانے والی اگلی اُمتیں ہیں،

خَاطِئَةِ سے مطلب معصیت اور خطائیں ہیں،

فَعَصَوْا رَسُولَ رَبِّهِمْ فَأَخَذَهُمْ أَخْذَةً رَابِيَةً (۱۰)

اور اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی بالآخر اللہ نے (بھی) زبردست گرفت میں لیا۔ ‏

پس فرمایا ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے زمانے کے رسول کی تکذیب کی،

جیسے اور جگہ ہے:

إِنْ كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ (۳۸:۱۴)

ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی اور ان پر عذاب نازل ہوئے

 اور یہ بھی یاد رہے کہ ایک پیغمبر کا انکار گویا تمام انبیاء کا انکار ہے جیسے قرآن نے فرمایا :

كَذَّبَتۡ قَوۡمُ نُوحٍ ٱلۡمُرۡسَلِينَ  (۲۶:۱۰۵)

قوم نوح نے رسولوں کو جھٹلایا

اور فرمایا

كَذَّبَتۡ عَادٌ ٱلۡمُرۡسَلِينَ (۲۶:۱۲۳)

قوم عاد نے رسولوں کو جھٹلایا

اور فرمایا

كَذَّبَتْ ثَمُودُ الْمُرْسَلِينَ (۲۶:۱۴۱)

قوم ثمودنے رسولوں کو جھٹلایا

یعنی قوم نوح نے عادیوں نے ثمودیوں نے رسولوں کو جھٹلایا، حالانکہ سب کے پاس یعنی ہر ہر امت کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا،

 یہی مطلب یہاں بھی ہے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامبر کی نافرمانی کی، پس اللہ نے انہیں سخت تر مہلک بڑی درد ناک المناک پکڑ میں پکڑ لیا۔

إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ (۱۱)

جب پانی میں طغیانی آگئی  تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا ‏

بعد ازاں اپنا احسان جتاتا ہے کہ دیکھو جب نوح علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے زمین پر طوفان آیا اور پانی حد سے گزر گیا چاروں طرف ریل پیل ہو گئی نجات کی کوئی جگہ نہ رہی اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا،

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :

 جب قوم نوح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور ان کی مخالفت اور ایزاء رسانی شروع کی اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے لگے اس وقت حضرت نوح علیہ السلام نے تنگ آ کر ان کی ہلاکت کی دعا کی جسے اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا اور مشہور طوفان نوح نازل فرمایا جس سے سوائے ان لوگوں کے جو حضرت نوح کی کشتی میں تھے روئے زمین پر کوئی نہ بچا پس سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل اور آپ کی اولاد میں سے ہیں،

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

پانی کا ایک ایک قطرہ با اجازت اللہ پانی کے داروغہ فرشتہ کے ناپ تول سے برستا ہے اسی طرح ہوا کا ہلکا سا جھونکا بھی بےناپے تولے نہیں چلتا لیکن ہاں عادیوں پر جو ہوائیں چلیں اور قوم نوح پر جو طوفان آیا وہ تو بیحد ، بیشمار اور بغیر ناپ تول کے تھا اللہ کی اجازت سے پانی اور ہوا نے وہ زور باندھا کہ نگہبان فرشتوں کی کچھ نہ چلی اسی لئے قرآن میں طَغَى الْمَاءُ اور بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ کے الفاظ ہیں

 اسی لئے اس اہم احسان کو اللہ تعالیٰ یاد دلا رہا ہے کہ ایسے پُر خطر موقعہ پر ہم نے تمہیں چلتی کشتی پر سوار کرا دیا تاکہ یہ کشتی تمہارے لئے نمونہ بن جائے چنانچہ آج بھی ویسی ہی کشتیوں پر سوار ہو کر سمندر کے لمبے چوڑے سفر طے کر رہے ہو،

جیسے اور جگہ ہے:

وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ (۴۳:۱۲،۱۳)

جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لئے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور جن پر تم سوار ہوتے ہو۔‏ تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو

اور جگہ فرمایا :

وَآيَةٌ لَهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ وَخَلَقْنَا لَهُمْ مِنْ مِثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ  (۳۶:۴۱،۴۲)

یعنی انکے لئے ایک نشان قدرت یہ بھی ہے کہ ہم نے انکی نسل کو بھری کشتی میں چڑھا لیااور بھی ہم نے اس جیسی انکی سواریاں پیدا کر دیں۔

حضرت قتادہؒ نے اوپر کی اس آیت کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے:

 وہی کشتی نوح باقی رہی یہاں تک کہ اس اُمت کے اگلوں نے بھی اسے دیکھا،

لیکن زیادہ ظاہر مطلب پہلا ہی ہے،

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ (۱۲)

تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنا دیں اور (تاکہ) یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔ ‏

پھر فرمایا یہ اس لئے بھی کہ یاد رکھنے اور سننے والا کان اسے یاد کرے اور محفوظ رکھ لے اور اس نعمت کو نہ بھولے،

 یعنی صحیح سمجھ اور سچی سماعت والے عقل سلیم اور فہم مستقیم رکھنے والے جو اللہ کی باتوں اور اس کی نعمتوں سے بےپرواہی اور لا ابالی نہیں برتتے ان کی پندو نصیحت کا ایک ذریعہ یہ بھی بن گیا،

 ابن ابی حاتم میں ہے حضرت مکحول فرماتے ہیں جب یہ الفاظ اترے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ وہ علی کرم اللہ وجہہ کو ایسا ہی بنا دے،

 چنانچہ حضرت علی فرمایا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز سن کر پھر میں نے فراموش نہیں کی ،

یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے لیکن مرسل ہے ۔

 ابن ابی حاتم کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا:

 مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں تجھے نزدیک کروں دور نہ کروں اور تجھے تعلیم دوں اور تو بھی یاد رکھے اور یہی تجھے بھی چاہئے

 اس پر یہ آیت اتری،

یہ روایت دوسری سند سے بھی ابن جریر میں مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں۔

فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ نَفْخَةٌ وَاحِدَةٌ (۱۳)

پس جبکہ صور میں ایک پھونک پھونکی جائے گی۔ ‏

قیامت کی ہولناکیوں کا بیان ہو رہا ہے

-       جس میں سب سے پہلے گھبراہٹ پیدا کرنے والی چیز صور کا پھونکا جانا ہو گا جس سے سب کے دل ہل جائیں گے

-        پھر نفخہ پھونکا جائے گا جس سے تمام زمین و آسمان کی مخلوق بیہوش ہو جائے گی مگر جسے اللہ چاہے

-       پھر صور پھونکا جائے گا جس کی آواز سے تمام مخلوق اپنے رب کے سامنے کھڑی ہو جائے گی

یہاں اسی پہلے نفخہ کا بیان ہے ۔

یہاں بطور تاکید کے یہ بھی فرمایا کہ یہ اٹھ کھڑے ہونے کا نفخہ ایک ہی ہے اس لئے کہ جب اللہ کا حکم ہو گیا پھر نہ تو اس کا خلاف ہو سکتا ہے نہ وہ ٹل سکتا ہے نہ دوبارہ فرمان کی ضرورت ہے اور نہ تاکید کی،

 امام ربیع فرماتے ہیں اس سے مراد آخری نفخہ ہے

لیکن ظاہر قول وہی ہے جو ہم نے کہا، اسی لئے یہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا کہ

وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً (۱۴)

اور زمین اور پہاڑ اٹھا لئے جائیں گے اور ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے۔ ‏

فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (۱۵)

اس دن ہو پڑنے والی (قیامت) ہو پڑے گی۔‏

زمین و آسمان اٹھا لئے جائیں گے اور کھال کی طرح پھیلا دیئے جائیں گے اور زمین بدل دی جائے گی اور قیامت واقع ہو جائے گی۔

وَانْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِيَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ (۱۶)

اور آسمان پھٹ جائے گا اس دن بالکل بودا ہو جائے گا ‏

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں آسمان ہر کھلنے کی جگہ سے پھٹ جائے گا،

جیسے سورہ نبا میں ہے:

وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا (۷۸:۱۹)

اور آسمان کھول دیا جائے گا پھر اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے

وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا ۚ

اس کے کناروں پر فرشتے ہونگے

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 آسمان میں سوراخ اور غاریں پڑ جائیں گی اور شق ہو جائے گی عرش اس کے سامنے ہو گا فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے جو کنارے اب تک ٹوٹے نہ ہوں گے اور دروازوں پر ہوں گے آسمان کی لمبائی میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور زمین والوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔

وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَانِيَةٌ (۱۷)

اور تیرے پروردگار کا عرش اس دن آٹھ (فرشتے) اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہونگے

پھر فرمایا قیامت والے دن آٹھ فرشتے اللہ تعالیٰ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے،

 پس یا تو مراد عرش عظیم کا اٹھانا ہے یا اس عرش کا اٹھانا مراد ہے جس پر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں کے لئے ہو گا واللہ اعلم بالصواب ۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ فرشتے پہاڑی بکروں کی صورت میں ہوں گے،

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کی آنکھ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ایک سو سال کا راستہ ہے،

 ابن ابی حاتم کی مرفوع حدیث میں ہے:

 مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں تمہیں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک کی نسبت خبر دوں کہ اس کی گردن اور کان کے نیچے کے لَو کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اڑنے والا پرندہ سات سو سال تک اڑتا چلا جائے،

 اسکی اسناد بہت عمدہ ہے اور اس کے سب راوی ثقہ ہیں،اسے امام ابو داؤد نے بھی اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا،

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس سے مراد فرشتوں کی آٹھ صفیں ہیں

 اور بھی بہت سے بزرگوں سے یہ مروی ہے،

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 اعلیٰ فرشتوں کے آٹھ حصے ہیں جن میں سے ہر ایک حصہ کی گنتی تمام انسانوں جنوں اور فرشتوں کے برابر ہے۔

يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ (۱۸)

اس دن تم سب سامنے پیش کئے جاؤ گے تمہارا کوئی بھید پوشیدہ نہ رہے گا۔

پھر فرمایا قیامت کے روز تم اس اللہ کے سامنے کئے جاؤ گے جو پوشیدہ کو اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے جس طرح کھلی سے کھلی چیز کا وہ عالم ہے اس طرح چھپی سے چھپی چیز کو بھی وہ جانتا ہے، اسی لئے فرمایا تمہارا کوئی بھید اس روز چھپ نہ سکے گا،

 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:

 لوگو اپنی جانوں کا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کا آپ اندازہ کر لو اس سے پہلے کہ ان اعمال کا وزن کیا جائے تاکہ کل قیامت والے دن تم پر آسانی ہو جس دن کو تمہارا پورا پورا حساب لیا جائے گا اور بڑی پیشی میں خود اللہ تعالیٰ جل شانہ کے سامنے تم پیش کر دیئے جاؤ گے،

 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ اللہ کے سامنے پیش کئے جائیں گے پہلی اور دوسری بار تو عذر معذرت اور جھگڑا بحث کرتے رہیں گے لیکن تیسری پیشی جو آخری ہو گی اس وقت نامہ اعمال اڑائے جائیں گے، کسی کے دائیں ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے بائیں ہاتھ میں،

یہ حدیث ابن ماجہ میں بھی ہے حضرت عبداللہ کے قول سے بھی یہی روایت ابن جریر میں مروی ہے

 اور حضرت قتادہ سے بھی اس جیسی روایت مرسل مروی ہے۔

فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ (۱۹)

سو جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا لو میرا نامہ اعمال پڑھو ‏

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ جو خوش نصیب لوگ قیامت کے دن اپنا نامہ اعمال اپنے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ سعادت مند حضرات بیحد خوش ہوں گے اور جوش مسرت میں بےساختہ ہر ایک سے کہتے پھریں گے کہ میرا نامہ اعمال تو پڑھو

 اور یہ اس لئے کہ جو گناہ بتقاضائے بشریت ان سے ہوگئے وہ بھی ان کی توبہ سے نامہ اعمال میں سے مٹا دیئے گئے ہیں اور نہ صرف مٹا دیئے گئے ہیں بلکہ ان کے بجائے نیکیاں لکھ دی گئی ہیں، پس یہ سراسر نیکیوں کا نامہ اعمال ایک ایک کو پورے سرور اور سچی خوشی سے دکھاتے پھرتے ہیں،

عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں هَا کے بعد لفظ ؤُمُزیادہ ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ هَاؤُمُ معنی میں هاكم کے ہے،

حضرت ابوعثمان فرماتے ہیں:

چپکے سے حجاب میں مؤمن کو اس کا نامہ اعمال دیا جاتا ہے جس میں اس کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں یہ اسے پڑھتا ہے اور ہر ایک گناہ پر اس کے ہوش اڑ اڑ جاتے ہیں چہرے کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے اتنے میں اب اس کی نگاہ اپنی نیکیوں پر پڑتی ہے جب انہیں پڑھنے لگتا ہے تب ذرا چین پڑتا ہے ہوش و حواس درست ہوتے ہیں اور چہرہ کھل جاتا ہے پھر نظریں جما کر پڑھتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس کی برائیاں بھی بھلائیوں سے بدل دی گئی ہیں ہر برائی کی جگہ بھلائی لکھی ہوئی ہے، اب تو اس کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور خوشی خوشی نکل کھڑا ہوتا ہے اور جو ملتا ہے اس سے کہتا ہے ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھنا،

حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہیں فرشتوں نے ان کی شہادت کے بعد غسل دیا تھا ان کے لڑکے حضرت عبداللہ فرماتے ہیں :

 اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو قیامت والے دن اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس کی برائیاں اس کے نامہ اعمال کی پشت پر لکھی ہوئی ہوں گی جو اس پر ظاہر کی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ بتا کیا تو نے یہ اعمال کئے ہیں؟

 وہ اقرار کرے گا کہ ہاں بیشک اللہ یہ برائیاں مجھ سے ہوئی ہیں

 اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ میں نے دنیا میں بھی تجھے رسوا نہیں کیا نہ فضیحت کیا اب یہاں بھی میں تجھ سے درگزر کرتا ہوں اور تیرے تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں،

 جب یہ اس سے فارغ ہو گا تب اپنا نامہ اعمال لے کر خوشی سے ایک ایک کو دکھاتا پھرے گا،

حضرت ابن عمر والی صحیح حدیث پہلے بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے کو اپنے پاس بلائے گا اور اس سے اس کے گناہوں کی بابت پوچھے گا کہ فلاں گناہ کیا ہے؟

 فلاں گناہ کیا؟

 یہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ سمجھ لے گا کہ اب ہلاک ہوا اس وقت جناب باری عز اسمہ فرمائے گا

اے میرے بندے دنیا میں میں نے تیری ان برائیوں پر پردہ ڈال رکھا تھا اب آج تجھے کیا رسوا کروں جا میں نے تھے بخشا

پھر اس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاتا ہے جس میں صرف نیکیاں ہی نیکیاں ہوتی ہیں

 لیکن کافروں اور منافقوں کے بارے میں تو گواہ پکار اٹھتے ہیں کہ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے بارے میں جھوٹ کہا لوگو سنو! ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے۔

إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ (۲۰)

مجھے تو کامل یقین تھا مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔ ‏

پھر فرماتا ہے کہ یہ داہنے ہاتھ کے نامہ اعمال والا کہتا ہے کہ مجھے تو دنیا میں ہی یقین کامل تھا کہ یہ حساب کا دن قطعاً آنے والا ہے،

جیسے اور جگہ فرمایا :

الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ  (۲:۴۶)

انہیں یقین تھا کہ یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ۔

فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ (۲۱)

پس وہ ایک دل پسند زندگی میں ہوگا۔‏

فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ (۲۲)

بلند و بالا جنت میں۔ ‏

فرمایا ان کی جزا یہ ہے کہ یہ پسندیدہ اور دل خوش کن زندگی پائیں گے اور بلند و بالا بہشت میں رہیں گے، جس کے محلات اونچے اونچے ہوں گے جن میں حوریں قبول صورت اور نیک سیرت ہونگی جو گھر نعمتوں کے بھرپور خزانے ہوں گے اور یہ تمام نعمتیں نہ ٹلنے والی نہ ختم ہونے والی بلکہ کمی سے بھی محفوظ ہوں گی،

 ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اونچے نیچے مرتبے والے جنتی آپس میں ایک دوسرے سے ملاقاتیں بھی کریں گےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ہاں بلند مرتبہ لوگ کم مرتبہ لوگوں کے پاس ملاقات کے لئے اتر آئیں گے اور خوب محبت و اخلاص سے سلام مصافحے اور آؤ بھگت ہو گی

 ہاں البتہ نیچے والے بہ سبب اپنے اعمال کی کمی کے اوپر نہ چڑھیں گے،

 ایک اور صحیح حدیث میں ہے:

 جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں ۔

قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ (۲۳)

جس کے میوے جھکے پڑے ہوں گے ‏

پھر فرماتا ہے اس کے پھل نیچے نیچے ہوں گے، حضرت براء بن عازب وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر جھکے ہوئے ہوں گے کہ جنتی اپنے چھپر کھٹ پر لیٹے ہی لیٹے ان میوؤں کو توڑ لیا کریں گے۔

 طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر جنتی کو اللہ کی طرف سے ایک لکھا ہوا پروانہ ملے گا جس میں لکھا ہوا ہو گا۔

بسم اللہ الرحمن الرحمیم ھذا کتاب من اللہ لفلان ابن فلان ادخلوہ جنتہ عالیتہ قطوفھا دانیتہ

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع

یہ پروانہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فلاں شخص کے لئے جو فلاں کا بیٹا ہے اسے بلند و بالا جھکی ہوئی شاخوں اور لدے پھندے ہوئے خوشوں والی خوشگوار جنت میں جانے دو

بعض روایتوں میں ہے یہ پروانہ پل صراط پر حوالے کر دیا جائے گا ۔

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ (۲۴)

(ان سے کہا جائے گا کہ)

مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کئے ‏

پھر فرمایا انہیں بطور احسان اور مزید لطف و کرم کے زبانی بھی کھانے پینے کی رخصت مرحمت ہو گی اور کہا جائے گا کہ یہ تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہے۔

 اعمال کا بدلہ کہنا صرف بطور لطف کے ہے ورنہ صحیح حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 عمل کرتے جاؤ سیدھے اور قریب قریب رہو اور جان رکھو کہ صرف اعمال جنت میں لے جانے کے لئے کافی نہیں۔

 لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال بھی نہیں؟

 فرمایا میرے بھی ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت شامل حال ہو۔

وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ (۲۵)

لیکن جسے اس (کے اعمال) کی کتاب اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وہ تو کہے گا کاش کہ مجھے میری کتاب دی ہی نہ جاتی ‏

یہاں گنہگاروں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جب میدان قیامت میں انہیں ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یہ نہایت ہی پریشان اور پشیمان ہوں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے کاش کہ ہمیں عمل نامہ ملتا ہی نہ

وَلَمْ أَدْرِ مَا حِسَابِيَهْ (۲۶)

اور میں جانتا ہی نہ کہ حساب کیا ہے ‏

اور کاش کہ ہم اپنے حساب کی اس کیفیت سے آگاہ ہی نہ ہوتے

يَا لَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَ (۲۷)

کاش! کہ موت (میرا) کام ہی تمام کر دیتی ‏

کاش کہ موت نے ہمارا کام ختم کر دیا ہوتا اور یہ دوسری زندگی سرے سے ہمیں ملتی ہی نہ، جس موت سے دنیا میں بہت ہی گھبراتے تھے آج اس کی آرزوئیں کریں گے،

مَا أَغْنَى عَنِّي مَالِيَهْ ۜ (۲۸)

میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا۔‏

هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ (۲۹)

میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا  رہا۔‏

یہ کہیں گے کہ ہمارے مال و جاہ نے بھی آج ہمارا ساتھ چھوڑ دیا اور ہماری ان چیزوں نے بھی عذاب ہم سے نہ ہٹائے، تنہا  ہماری ذات پر یہ وبال آ پڑے نہ کوئی مددگار ہمیں نظر آتا ہے نہ بچاؤ کی کوئی صورت د کھائی دیتی ہے

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ (۳۰)

(حکم ہوگا) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنا دو۔‏

ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ (۳۱)

پھر اسے دوزخ میں ڈال دو ‏

اللہ تعالیٰ فرشتوں کوحکم دے گا کہ اسے پکڑ لو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو اور اسے جہنم میں لے جاؤ اور اس میں پھینک دو،

حضرت منہال بن عمرو فرماتے ہیں:

 اللہ کے اس فرمان کو سنتے ہی کہ اسے پکڑو، ستر ہزار فرشتے اس کی طرف لپکیں گے جن میں سے اگر ایک فرشتہ بھی اس طرح اشارہ کرے تو ایک چھوڑ ستر ہزار لوگوں کو پکڑ کر جہنم میں پھینک دے،

 ابن ابی الدنیا میں ہے:

 چار لاکھ فرشتے اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی چیز باقی نہ رہے گی مگر اسے توڑ پھوڑ دیں گے

یہ کہے گا تمہیں مجھ سے تعلق؟

وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ تجھ پر غضبناک ہے اور اس وجہ سے ہرچیز تجھ پر غصے میں ہے،

ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ (۳۲)

پھر اسے ایسی زنجیروں جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے جکڑ دو۔ ‏

حضرت فضیل بن عیاض رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ عزوجل کے اس فرمان کے سرزد ہوتے ہی ستر ہزار فرشتے اس کی طرف غصے سے دوڑیں گے جن میں سے ہر ایک دوسرے پر سبقت کر کے چاہے گا کہ اسے میں طوق پہناؤں،

پھر اسے جہنم کی آگ میں غوطہ دینے کا حکم ہو گا، پھر ان زنجیروں میں جکڑا جائے گا جن کا ایک ایک حلقہ بقول حضرت کعب احبار کے دنیا بھر کے لوہے کے برابر ہو گا،

حضرت ابن عباس اور ابن جریج فرماتے ہیں یہ ناپ فرشتوں کے ہاتھ کا ہے،

 حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان ہے کہ یہ زنجیریں اس کے جسم میں پرو دی جائیں گی پاخانے کے راستے سے ڈال دی جائیں گی اور منہ سے نکالی جائیں گی اور اس طرح آگ میں بھونا جائے گا جیسے سیخ میں کباب اور تیل میں ٹڈی،

یہ بھی مروی ہے کہ پیچھے سے یہ زنجیریں ڈالی جائیں گی اور ناک کے دونوں نتھنوں سے نکالی جائیں گی۔ جس سے کہ وہ پیروں کے بل کھڑا ہی نہ ہو سکے گا

مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے :

 اگر کوئی بڑا سا پتھر آسمان سے پھینکا جائے تو زمین پر وہ ایک رات میں آ جائے لیکن اگر اس کو جہنمیوں کے باندھنے کی زنجیر کے سرے پر سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچے میں چالیس سال لگ جائیں،

یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن بتاتے ہیں ۔

إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ (۳۳)

بیشک یہ اللہ عظمت والے پر ایمان نہ رکھتا تھا ‏

وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (۳۴)

اور مسکین کے کھلانے پر رغبت نہ دلاتا تھا ‏

پھر فرمایا کہ یہ اللہ عظیم پر ایمان نہ رکھتا تھا نہ مسکین کو کھلا دینے کی کسی کو رغبت دیتا تھا، یعنی نہ تو اللہ کی عبادت و اطاعت کرتا تھا نہ اللہ کی مخلوق کے حق ادا کر کے اسے نفع پہنچاتا تھا،

 اللہ کا حق یہ ہے کہ ایک دوسرے سے احسان و سلوک کریں اور بھلے کاموں میں آپس میں امداد پہنچاتے رہیں،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حقوق کو عموماً ایک ساتھ بیان فرمایا ہے جیسے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو

 اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال کے وقت میں ان دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا کہ نماز کی حفاظت کرو اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ نیک سلوک کرو ۔

فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ (۳۵)

پس آج اس کا نہ کوئی دوست ہے۔‏

پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہاں پر آج کے دن اس کا کوئی خالص دوست ایسا نہیں نہ کوئی قریبی رشتہ دار یا سفارشی ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے بچا سکے،

وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ (۳۶)

اور نہ سوائے پیپ کے اس کی کوئی غذا ہے۔ ‏

لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ (۳۷)

جسے گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھائے گا۔ ‏

اور نہ اس کے لئے کوئی غذا ہے سوائے بدترین سڑی بسی بیکار چیز کے جس کا نام غِسْلِين ہے، یہ جہنم کا ایک درخت ہے اور ممکن ہے کہ اسی کا دوسرا نام زقوم ہو،

اور غِسْلِين کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جہنمیوں کے بدن سے جو خون اور پانی بہتا ہے وہ

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی پیپ وغیرہ ۔

فَلَا أُقْسِمُ بِمَا تُبْصِرُونَ (۳۸)

پس مجھے قسم ہے ان چیزوں کی جنہیں تم دیکھتے ہو۔‏

وَمَا لَا تُبْصِرُونَ (۳۹)

اور ان چیزوں کی جنہیں تم نہیں دیکھتے ‏

قرآن کریم کلام الٰہی ہے

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے اپنی ان نشانیوں کی قسم کھا رہا ہے جنہیں لوگ دیکھ رہے ہیں اور ان کی بھی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہیں، اس بات پر کہ قرآن کریم اس کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس نے اپنے بندے اور اپنے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری ہے ، جسے اس نے ادائے امانت اور تبلیغ رسالت کے لئے پسند فرما لیا ہے۔

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ (۴۰)

کہ بیشک یہ (قرآن) بزرگ رسول کا قول ہے ‏

رَسُولٍ كَرِيم سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس کی اضافت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس لئے کی گئی کہ اس کے مبلغ اور پہنچانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ اسی لئے لفظ رسول لائے کیونکہ رسول تو پیغام اپنے بھیجنے والے کا پہنچاتا ہے گو زبان اس کی ہوتی ہے لیکن کہا ہوا بھیجنے والے کا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سورہ تکویر میں اس کی نسبت اس رسول کی طرف کی گئی ہے جو فرشتوں میں سے ہیں فرمان ہے:

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ  (۸۱:۱۹،۲۱)

یقیناً ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا ہے جو قوت والا ہے عرش والے (اللہ) کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔‏جس کی (آسمانوں میں) اطاعت کی جاتی ہے، امین ہے۔‏

 اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں،

اسی لئے اس کے بعد فرمایا

وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (۸۱:۲۲،۲۵)

تمہارے ساتھی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجنون نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صاف کناروں پر دیکھا بھی ہے اور وہ پوشیدہ علم پر بخیل بھی نہیں،نہ یہ شیطان رجیم کا قول ہے،

 اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ ۚ

یہ کسی شاعر کا قول نہیں

قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ (۴۱)

(افسوس) تمہیں بہت کم یقین ہے۔ ‏

وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ (۴۲)

نہ کسی کاہن کا قول ہے (افسوس) بہت کم نصیحت لے رہے ہو۔ ‏

نہ تو یہ شاعر کا کلام ہے نہ کاہن کا قول ہے البتہ تمہارے ایمان میں اور نصیحت حاصل کرنے میں کمی ہے،

پس کبھی تو اپنے کلام کی نسبت رسول انسی کی طرف کی اور کبھی رسول ملکی کی طرف، اس لئے کہ یہ اس کے پہنچانے والے لانے والے اور اس پر امین ہیں، ہاں دراصل کلام کس کا ہے؟

اسے بھی ساتھ ہی ساتھ بیان فرما دیا کہ

تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۴۳)

یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔‏

یہ اتارا ہوا رب العالمین کا ہے،

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اسلام لانے سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں:

 میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرم میں پہنچ گئے ہیں، میں بھی گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ الحاقہ شروع کی جسے سن کر مجھے اس کی پیاری نشست الفاظ اور بندش مضامین اور فصاحت و بلاغت پر تعجب آنے لگا

آخر میں میرے دل میں خیال آیا کہ قریش ٹھیک کہتے ہیں یہ شخص شاعر ہے  ابھی میں اسی خیال میں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیتیں تلاوت کیں کہ  

وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَا تُؤْمِنُونَ

یہ قول رسول کریم کا ہے شاعر کا نہیں تم میں ایمان ہی کم ہے

 تو میں نے کہا اچھا شاعر نہ سہی کاہن تو ضرور ہے، ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں یہ آیت آئی کہ

وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ ۚ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ

یہ کاہن کا قول بھی نہیں تم نے نصیحت ہی کم لی ہے،

 اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے یہاں تک کہ پوری سورت ختم کی۔

فرماتے ہیں یہ پہلا موقعہ تھا کہ میرے دل میں اسلام پوری طرح گھر کر گیا اور روئیں روئیں میں اسلام کی سچائی گھس گئی،

پس یہ بھی منجملہ ان اسباب کے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام کا باعث ہوئے ایک خاص سبب ہے، ہم نے آپ کے اسلام لانے کی پوری کیفیت سیرت عمر میں لکھ دی ہے۔ وللہ الحمد والمنہ

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ (۴۴)

اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا ‏

لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ (۴۵)

تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے ‏

ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (۴۶)

پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے ‏

فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ (۴۷)

پھر تم سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا ‏

یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے،

 پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں۔

وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ (۴۸)

یقیناً یہ قرآن پرہیزگاروں کے لئے نصیحت ہے۔‏

پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے،

جیسے اور جگہ ہے:

قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ وَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى(۴۱:۴۴)

کہدو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی،

وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنْكُمْ مُكَذِّبِينَ (۴۹)

ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں۔‏

وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ (۵۰)

بیشک (یہ جھٹلانا) کافروں پر حسرت ہے ‏

پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی،

 یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا،

جیسے اور جگہ ہے:

كَذَلِكَ سَلَكْنَاهُ فِي قُلُوبِ الْمُجْرِمِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ  (۲۶:۲۰۰،۲۰۱)

اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔

 اور جگہ ہے:

وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ  (۳۴:۵۴)

ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے،

وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ (۵۱)

اور بیشک (و شبہ) یہ یقینی حق ہے ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے،

 پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (۵۲)

پس تو اپنے رب عظیم کی پاکی بیان کر ‏

اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com