تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الأعلیٰ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مسند احمد میں ہے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

 جب آیت فَسَبِّحۡ بِٱسۡمِ رَبِّكَ ٱلۡعَظِيمِ(۵۶:۹۶)  اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے تم اپنے رکوع میں کر لو جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى اتری تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں کر لو

ابو داؤد وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى پڑھتے تو کہتے سبحان ربی الاعلٰی

حضرت علیؓ سے بھی یہ مروی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہ مروی ہے اور آپ جب آیت لَآ أُقۡسِمُ بِيَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ  (۷۵:۱)  پڑھتے اور آخری آیت أَلَيۡسَ ذَٲلِكَ بِقَـٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يُحۡـِۧىَ ٱلۡمَوۡتَىٰ  پر پہنچتے تو فرماتے سبحانک و بلی اللہ تعالٰی

 یہاں ارشاد فرماتا ہے

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى (۱)

اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر

اپنے بلندیوں والے پرورش کرنے والے اللہ کے پاک نام کی پاکیزگی اور تسبیح بیان کرو

الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى (۲)

جس نے پیدا کیا اور صحیح سالم بنایا۔

وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى (۳)

اور جس نے (ٹھیک ٹھاک) اندازہ کیا اور پھر راہ دکھائی

جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا اور سب کو اچھی ہیئت بخشی انسان کو سعادت شقاوت کے چہرے دکھا دئیے اور جانور کو چرنے چگنے وغیرہ کے سامان مہیا کیے جیسے اور جگہ ہے :

رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعۡطَىٰ كُلَّ شَىۡءٍ خَلۡقَهُ ۥ ثُمَّ هَدَىٰ  (۲۰:۵۰)

ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی پیدائش عطا فرمائی پھر رہبری کی

صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے :

 زمین آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی تقدیر لکھی اس کا عرش پانی پر تھا

وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَى (۴)

اور جس نے تازہ گھاس پیدا کیا۔

فَجَعَلَهُ غُثَاءً أَحْوَى (۵)

اس نے اس کو (سکھا کر) سیاہ کوڑا کر دیا۔

جس نے ہر قسم کے نباتات اور کھیت نکالے پھر ان سرسبز چاروں کو خشک اور سیاہ رنگ کر دیا

بعض عارفان کلام عرب نے کہا ہے کہ یہاں بعض الفاظ جو ذکر میں مؤخر ہیں معنی کے لحاظ سے مقدم ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ جس نے گھاس چارہ سبز رنگ سیاہی مائل پیدا کیا پھر اسے خشک کر دیا گویہ معنی بھی بن سکتے ہیں لیکن کچھ زیادہ ٹھیک نظر نہیں آتے کیونکہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہیں

سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى (۶)

ہم تجھے پڑھائیں گے پھر تو نہ بولے گا

إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ

مگر جو کچھ اللہ چاہے،

پھر فرماتا ہے کہ تجھے ہم اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا پڑھائیں گے جسے تو بھولے نہیں ہاں اگر خود اللہ کوئی آیت بھلا دینا چاہے تو اور بات ہے امام ابن جریر تو اسی مطلب کو پسند کرتے ہیں

 اور مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جو قرآن ہم تجھے پڑھاتے ہیں اسے نہ بھول ہاں جسے ہم خود منسوخ کر دیں اس کی اور بات ہے

إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى (۷)

وہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے۔

اللہ پر بندوں کے چھپے کھلے اعمال احوال عقائد سب ظاہر ہیں

وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَى (۸)

ہم آپ کیلئے آسانی پیدا کر دیں گے

ہم تجھ پر بھلائی کے کام اچھی باتیں شرعی امر آسان کر دیں گے نہ اس میں کجی ہو گی نہ سختی نہ جرم ہو گا

فَذَكِّرْ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرَى (۹)

تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائدہ دے۔

تو نصیحت کر اگر نصیحت فائدے دے ۔

 اس سے معلوم ہوا کہ نالائقوں کو نہ سکھانا چاہیے جیسے کہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ وہ باتیں کرو گے جو ان کی عقل میں نہ آ سکیں تو نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہاری بھلی باتیں ان کے لیے بری بن جائیں گی اور باعث فتنہ ہو جائیں گی بلکہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات چیت کرو تاکہ لوگ اللہ اور رسول کو نہ جھٹلائیں ۔

سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشَى (۱۰)

ڈرنے والا تو نصیحت لے گا۔

پھر فرمایا کہ اس سے نصیحت وہ حاصل کرےگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہے جو اس کی ملاقات پر یقین رکھتا ہے

وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى (۱۱)

(ہاں) بد بخت اس سے گریز کرے گا۔

الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَى (۱۲)

جو بڑی آگ میں جائے گا۔‏

ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَى (۱۳)

جہاں پھر نہ مرے گا نہ جئے گا (بلکہ حالت نزع میں پڑا رہے گا۔

اور اس سے وہ عبرت و نصیحت حاصل نہیں کر سکتا جو بد بخت ہو جو جہنم میں جانے والا ہو جہاں نہ تو راحت کی زندگی ہے نہ بھلی موت ہے بلکہ وہ لازوال عذاب اور دائمی برائی ہے اس میں طرح طرح کے عذاب اور بدترین سزائیں ہیں

مسند احمد میں ہے:

 جو اصلی جہنمی ہیں انہیں نہ تو موت آئیگی نہ کار آمد زندگی ملے گی ہاں جن کے ساتھ اللہ کا ارادہ رحمت کا ہے

 وہ آگ میں گرتے ہی جل کر مر جائیں گے پھر سفارشی لوگ جائیں گے اور ان میں سے اکثر کو چھڑا لائیں گے پھر نہر حیاۃ میں ڈال دئیے جائیں گے جنتی نہروں کا پانی ان پر ڈالا جائیگا اور وہ اس طرح جی اٹھیں گے جس طرح دانہ نالی کے کنارے کوڑے پر اگ آتا ہے کہ پہلے سبز ہوتا ہے پھر زرد پھر ہرا

لوگ کہنے لگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اس طرح بیان فرماتے ہیں جیسے آپ جنگل سے واقف ہوں

یہ حدیث مختلف الفاظ سے بہت سی کتب میں مروی ہے قرآن کریم میں اور جگہ وارد ہے :

وَنَادَوۡاْ يَـٰمَـٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ‌ قَالَ إِنَّكُم مَّـٰكِثُونَ  (۴۳:۷۷)

جہنمی لوگ پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک داروغہ جہنم اللہ سے کہہ وہ ہمیں موت دے دے، جواب ملے گا تم تو اب اسی میں پڑے رہنے والے ہو

اور جگہ ہے :

لَا يُقۡضَىٰ عَلَيۡهِمۡ فَيَمُوتُواْ وَلَا يُخَفَّفُ عَنۡهُم مِّنۡ عَذَابِهَا (۳۵:۳۶)

یعنی نہ تو ان کی موت آئیگی نہ عذاب کم ہوں گے

 اس معنی کی آیتیں اور بھی ہیں۔

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (۱۴)

بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا

وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى (۱۵)

اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا۔‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کر لیا احکام اسلام کی تابعداری کی نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پالی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا:

 وہ شخص اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا۔  (بزار)

ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے

حضرت ابو العالیہ نے ایک مرتبہ الو خلدہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے جانا

جب میں گیا تو مجھ سے کہا کچھ کھا لیا ہے میں نے کہا ہاں ،

فرمایا نہا چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں

فرمایا زکوٰۃ فطر ادا کر چکے ہو؟ میں نے کہا ہاں،

 فرمایا بس یہی کہنا تھا کہ اس آیت میں یہی مراد ہے۔

 اہل مدینہ فطرہ سے اور پانی پلانے سے افضل اور کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ بھی لوگوں کو فطرہ ادا کرنے کا حکم کرتے پھر اسی آیت کی تلاوت کرتے،

 حضرت ابو الاحواص فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی نماز کا ارادہ کرے اور کوئی سائل آ جائے تو اسے خیرات دے دے پھر یہی آیت پڑھی۔

حضرت قتادہ فرماتے ہیں اس نے اپنے مال کو پاک کر لیا اور اپنے رب کو راضی کر لیا

بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (۱۶)

لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔‏

وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى (۱۷)

اور آخرت بہت بہتر اور بہت بقا والی ہے

پھر ارشاد ہے کہ تم دنیا کی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دے رہے ہو اور دراصل تمہاری مصلحت تمہارا نفع اخروی زندگی کو دنیوی زندگی پر ترجیح دینے میں ہے دنیا ذلیل ہے فانی ہے آخرت شریف ہے باقی ہے کوئی عاقل ایسا نہیں کر سکتا کہ فانی کو باقی کی جگہ اختیار کر لے اور اس فانی کے انتظام میں پڑ کر اس باقی کے اہتمام کو چھوڑ دے

 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

-       دنیا اس کا گھر ہے جس کا آخرت میں نہ ہو

-       دنیا اس کا مال ہے جس کا مال وہاں نہ ہو اسے جمع کرنے کے پیچھے وہ لگتے ہیں جو بیوقوف ہیں

 ابن جریر میں ہے کہ حضرت عرفجہ ثقفی اس سورت کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پڑھ رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے تو تلاوت چھوڑ کر اپنے ساتھیوں سے فرمانے لگے:

 سچ ہے ہم نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی لوگ خاموش رہے تو آپ نے پھر فرمایا کہ اس لیے کہ ہم دنیا کے گرویدہ ہو گئے کہ یہاں کی زینت کو یہاں کی عورتوں کو یہاں کے کھانے پینے کو ہم نے دیکھ لیا آخرت نظروں سے اوجھل ہے اس لیے ہم نے اس سامنے والی کی طرف توجہ کی اور اس نظر نہ آنے والی سے آنکھیں پھیر لیں

یا تو یہ فرمان حضرت عبداللہ کا بطور تواضع کے ہے یا جنس انسان کی بابت فرماتے ہیں واللہ اعلم۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 جس نے دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت سے محبت رکھی اس نے دنیا کو نقصان پہنچایا تم اے لوگو! باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو، مسند احمد

إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى (۱۸)

یہ باتیں پہلی کتابوں میں بھی ہیں۔‏

صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى (۱۹)

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں۔‏

 پھر فرماتا ہے کہ ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں بھی یہ تھا

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

یہ سب بیان ان صحیفوں میں بھی تھا  (بزار)

نسائی میں حضرت عباس سے یہ مروی ہے اور جب آیت وَإِبۡرَٲهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓ  (۵۳:۳۷)  نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک کا بوجھ دوسرے کو نہ اٹھانا ہے

سورہ نجم میں ہے آیت أَمۡ لَمۡ يُنَبَّأۡ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَىٰ آخری مضمون تک کی تمام آیتیں یعنی یہ سب احکام اگلی کتابوں میں بھی تھے اسی طرح یہاں بھی مراد سَبِّحِ اسْمَ کی یہ آیتیں ہیں بعض نے پوری سورت کہی ہے بعض نے قَدْ أَفْلَحَ سے خَيْرٌ وَأَبْقَى تک کہا ہے زیادہ قوی بھی یہی قول معلوم ہوتا ہے واللہ اعلم۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com