تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الکوثر

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ  (۱)

یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوثر (اور بہت کچھ) دیا ہے

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ , پر کچھ  غنودگی سی طاری ہوئی اور دفعتاً سر اٹھا کر مسکرائے پھر یا تو خود آپ ﷺ نے فرمایا یا لوگوں کے اس سوال پر کہ حضور کیسے مسکرائے؟ تو  آپ ﷺ نے فرمایا :

مجھ پر اس وقت ایک سورت اتری پھر آپ ﷺ نے  پڑھ کر اس  پوری سورت کی تلاوت کی اور فرمایا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟

 لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔

 فرمایا وہ ایک جنتے نہر ہے جس پر بہت بھلائی ہے جو میرے رب نے مجھے عطا فرمائی ہے جس پر میری امت قیامت والے دن آئے گی اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی گنتی کے برابر ہیں۔

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا :

 مجھے کوثر عنایت کی گئی ہے جو ایک جاری نہر ہے لیکن گڑھا نہیں ہے اس کے دونوں کنارے موتی کے خیمے ہیں اس کی مٹی خالص مشک ہے اس کے کنکر بھی سچے موتی ہیں۔

ایک اور حدیث میں ہے:

 اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہےاور شہد سے زیادہ میٹھا ہے جس کے کنارے دراز گردن والے پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔

حضرت صدیقؓ نے سن کر فرمایا وہ پرندے تو بہت ہی خوبصورت ہوں گے۔

آپ ﷺ نے فرمایا کھانے میں بھی وہ بہت ہی لذیذ ہیں۔ (ابن جریر)

صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے:

 کوثر سے مراد وہ بھلائی اور خیر ہے جو اللہ تعالیٰ       نے آپ ﷺ کو عطا فرمائی ہے۔

ابو بشرؒ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیرؒ سے یہ سن کر کہا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ یہ جنت کی ایک نہر ہے تو حضرت سعیدؓ نے فرمایا وہ بھی ان بھلائیوں اور خیر میں سے ہ جو آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوئی ہیں۔

اور بھی حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے  کہ اس سے مراد بہت سی خیر ہے تو یہ تفسیر شامل ہے حوض کوثر وغیرہ سب کو۔

كَوْثَر  ماخوذ ہے کثرت سے جس سے مراد خیر کثیر ہے اور اسی خیر کثیر میں حوض جنت بھی ہے جیسے کہ بہت سے مفسرین سے مروی ہے۔

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ دنیا  اور آخرت کی بہت بہت بھلائیاں مراد ہے۔

عکرمہؒ فرماتے ہیں نبوت قرآن ثواب آخرت کوثر ہے۔

اور یہ بھی یاد رہے کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کوثر کی تفسیر نہر کوثر سے بھی مروی ہے جیسے کہ ابن جریر میں سنداً مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

 کوثر جنت کی ایک نہر ہے جس کے دونوں کنارے سونا چاندی ہے جو یاقوت اور موتیوں پر بہہ رہی ہے جس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔

 

کوثر کیا ہے:

بہت سے صحابہؓ اور تابعینؒ سے ثابت ہے کہ کہ کوثر نہر کا نام ہے۔

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (۲)

پس تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔

ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے تمہیں خیر کثیر عنایت فرمائی اور ایسی پرشوکت نہر  دی تو تم بھی صرف میری ہی عبادت کرو خصوصاً نفل فرض نماز اور قربانی اسی وحدہ لا شریک لہ کے نام کی کرتے رہوجیسے فرمایا:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (۶:۱۶۲،۱۶۳)

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔‏اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں

اس سے مراد قربانی سے اونٹوں کا نحر کرنا وغیرہ ہے۔ مشرکین سجدے اور قربانیاں اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کے نام کی کرتے تھے۔ تو یہاں حکم ہوا کہ تم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے نام کی مخلصانہ عبادتیں کیا کرو۔

 اور جگہ ہے:

وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ  (۶:۱۲۱)

اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے

جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ  کھاؤ یہ تو فسق ہے

نہر سے مراد:

اور کہا گیا ہے کہ مراد وَانْحَرْ سے دائیں  ہاتھ کا بائیں ہاتھ پر نماز میں سینے پر رکھنا  ہے۔ حضرت شعبیؒ اس الفاظ کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔

حضرت ابو جعفر باقرؒ فرماتے ہیں کہ اس سےمراد  نماز کے شروع کے وقت میں رفع الیدین کرنا ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے  کہ اپنے سینے  سے  سے قبلہ کی طرف متوجہ ہو۔

  یہ تینوں قول ابن جریر میں منقول ہیں یہ سب اقوال غریب ہیں

صحیح پہلا  قول ہے کہ مراد وَانْحَرْ سے قربانیوں کا ذبح کرنا ہے

إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ (۳)

یقیناً تیرا دشمن ہی لا وارث اور بےنام و نشان ہے

ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! تجھ سے اور تیری طرف اتری ہوئی  وحی  سے دشمنی رکھنے والا ہی قلت و ذلت والا بے  برکتا اور دم بریدہ ہے۔

یہ آیت عاص بن وائل     کے بارے میں اتری  ہے۔ یہ پاجی جہاں حضورﷺ  کا ذکر سنتا تو کہتا اسے چھوڑ دو وہ دم کٹا ہے اس کے پیچھے اسکی نرینہ اولاد نہیں اس کے انتقال کرتے ہی اس کا نام دنیا سے اٹھ جائے گا۔ اسی پر یہ مبارک سورت  نازل ہوئی ہے۔

بزار میں ہے کہ جب کعب بن اشرف مکہ معظمہ میں آیا تو قریشیوں نے اس سے کہا کہ آپ تو ان کے سردار ہیں آپ اس بچے کی طرف نہیں دیکھتے؟ جو اپنی ساری قوم سے الگ تھلگ خیال کرتا ہے کہ افضل ہے۔ حالانکہ ہم حاجیوں کے اہل میں درد بست بیت اللہ ہمارے ہاتھوں میں ہے زمزم پر ہمارا قبضہ ہے۔ تو یہ خبیث کہنے لگا کہ بیشک تم اس سے بہتر ہو۔ اس پر یہ آیت اتری۔

أَبْتَر کے معنی ہیں تنہا

عرب کا یہ بھی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نرینہ اولاد مر جائے تو کہتے ہیں أَبْتَر ۔

حضور ﷺ کے صاحبزادوں کے انتقال پر بھی انہوں نے دشمنی کی وجہ سے یہی کہا جس پر یہ آیت اتری

تو مطلب یہ ہوا کہ أَبْتَر وہ ہے جس کے مرنے کے بعد اس کا ذکر مٹ جائے،

ان مشرکین نے حضور ﷺ کی نسبت  بھی یہی خیال کیا تھا کہ ان کے لڑکے تو انتقال کر گئے وہ نہ رہے جن کی وجہ سے آپ ﷺ کے انتقال کے بعد بھی ان کا نام رہتا۔

حاشا و کلا اللہ تعالیٰ آپ ﷺ  کا نام رہتی دنیا تک رکھے گا۔

  آپﷺ کی شریعت ابدالآباد تک باقی رہے گی آپکی اطاعت ہر کہہ ومہ پر فرض کر دی گئی ہے آپ ﷺ کا پیارا اور پاک نام ہر مسلمان کے دل و زبان پر ہے اور  قیامت تک فضائے آسمانی میں عروج و اقبال کے ساتھ گونجتا رہے گا بحر و بر میں ہر وقت اس کی منادی ہوتی رہے گی

اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی آل ا اولاد پر اور ازواج و اصحابؓ پر قیامت تک درود  و سلام بکثرت بھیجتا رہے آمین۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com