Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر  (حواشی: مولانا صلاح الدين يوسف)

سورۃ   الدہر

Previous           Index           Next

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا(1)

یقیناً گزرا ہے انسان ایک وقت زمانے میں  جب کہ یہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔‏

یعنی انسان اول حضرت آدم ہیں

 اور حِیْن (ایک وقت) سے مراد، روح پھونکے جانے سے پہلے کا زمانہ ہے، جو چالیس سال ہے

 اور اکثر مفسرین کے نزدیک الانسان کا لفظ بطور جنس کے استعمال ہوا ہے

 اور حِیْن، سے مراد حمل یعنی رحم مادر کی مدت ہے جس میں وہ قابل ذکر چیز نہیں ہوتا۔

 اس میں گویا انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک پیکر حسن و جمال کی صورت میں جب باہر آتا ہے تو رب کے سامنے اکڑتا اور اتراتا ہے، اسے اپنی حیثیت یاد رکھنی چاہیے کہ میں تو وہی ہوں جب میں عالم نیست میں تھا، تو مجھے کون جانتا تھا۔

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لئے  پیدا کیا

ملے جلے مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔

فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا(2)

اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا ‏

  یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا انکاری دونوں راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔

إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا(3)

ہم نے اسے راہ دکھائی اب خواہ وہ شکر گزار بنے خواہ ناشکرا۔

یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کردیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔

إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَلَاسِلَ وَأَغْلَالًا وَسَعِيرًا(4)

یقیناً ہم نے کافروں کے لئے زنجیریں اور طوق اور شعلوں والی آگ تیار کر رکھی ہے۔

یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔

إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا(5)

بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی امیزش کافور کی ہے۔

کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو

 کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہو جائے گی۔

عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ

جو ایک چشمہ ہے  جس سے اللہ کے بندے پئیں گے

یعنی کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں نہیں ہوگی، بلکہ چشمہ ہوگا، یعنی ختم ہونے والی نہیں ہوگی۔

يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا(6)

اس کی نہریں نکال لے جائیں گے  (جدھر چاہیں)۔‏

یعنی اس کو جدھر چاہیں گے، موڑ لیں گے، اپنے محلات و منازل میں، اپنی مجلسوں میں اور بیٹھکوں میں اور باہر میدانوں اور تفریح گاہوں میں۔

يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا(7)

جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے ۔‏

یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔

 برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا(8)

اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں مسکین یتیم اور قیدیوں کو۔‏

یا طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں،

 قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چنانچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر)

إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا(9)

ہم تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے کھلاتے ہیں نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری۔‏

إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا(10)

بیشک ہم اپنے پروردگار سے اس دن کا خوف کرتے ہیں  جو اداسی اور سختی والا ہوگا۔‏

یعنی وہ دن نہایت سخت ہوگا اور سختیوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے کافروں پر بڑا لمبا ہوگا (ابن کثیر)

فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ

پس انہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برائی سے بچا لیا

جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔

 وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا(11)

اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی۔

تازگی چہروں پر ہوگی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہو جاتا ہے۔

وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا(12)

اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے۔‏

صبر کا معنی ہے دین کے راستے میں جو تکلفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔

مُتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا(13)

یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ سردی کی سختی۔

مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم بہار، نہ سخت گرمی اور نہ کڑاکے کی سردی۔

وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا

ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہونگے

 گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہوگی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے

یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے قریب ہونگی۔

وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا(14)

اور ان کے میوے اور گچھے نیچے لٹکے ہوئے ہونگے۔‏

اور درختوں کے پھل، گوش برآواز فرماں بردار کی طرح انسان کا جب کھانے کو جی چاہے گا تو وہ جھک کر اتنے قریب ہو جائیں گے کہ بیٹھے، لیٹے بھی انہیں توڑ لے۔ ابن کثیر)

وَيُطَافُ عَلَيْهِمْ بِآنِيَةٍ مِنْ فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا(15)

اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا  جو شیشے کے ہونگے۔‏

یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔

قَوَارِيرَ مِنْ فِضَّةٍ

شیشے بھی چاندی کے

یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہونگے، نہایت نفیس اور نازک۔

قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا(16)

جن کو (ساقی نے) اندازے سے ناپ رکھا ہوگا

یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہوگی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہو جائیں، تشنگی محسوس نہ کریں اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔

وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا(17)

اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی ‏

زَ نْجَبِیْل سونٹھ، خشک ادرک کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چنانچہ ان کے قہوہ میں بھی زنجبیل شامل ہوتی ہے۔

 مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک وہ شراب ہوگی جو ٹھنڈی ہوگی جس میں کافور کی آمیزش ہوگی اور دوسری شراب گرم، جس میں زنجبیل کی ملاوٹ ہوگی۔

عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا(18)

جنت کی ایک نہر جس کا نام سلسلبیل ہے

یعنی اس شراب زنجبیل کی بھی ایک نہر ہوگی جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔

شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان کیا جا رہا ہے '

وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ

اور جن کے ارد گرد گھو متے پھرتے ہونگے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں

 ہمیشہ رہیں گے 'کا مطلب تو یہ ہے جنتیوں کی طرح ان خادموں کو بھی موت نہیں آئے گی۔

 دوسرا یہ کہ ان کا بچپن اور ان کی رعنائی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ وہ بوڑھے نہ ہونگے نہ ان کا حسن جمال تبدیل ہوگا۔

إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَنْثُورًا(19)

جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں ‏

حسن و صفائی اور تازگی و شادابی میں موتیوں کی طرح ہونگے، بکھرے ہونے کا مطلب، خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے اور نہایت تیزی سے مصروف خدمت ہوں گے۔

وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا(20)

تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔‏

عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا(21)

ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا

  اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا‏

جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔

إِنَّ هَذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُورًا(22)

(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی۔‏

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنْزِيلًا(23)

بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے ‏

یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے حسب ضرورت مختلف اوقات میں نازل کیا۔

 اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے، یہ تیرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، جیسا کہ مشرکین دعویٰ کرتے ہیں۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا(24)

پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم رہ  اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہنا نہ مان۔‏

یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کرو وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لئے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور اگر تجھے اللہ کے نازل کردہ احکام سے روکیں تو ان کا کہنا نہ مان، بلکہ تبلیغ ودعوت کا کام جاری رکھ اور اللہ پر بھروسہ رکھ، وہ لوگوں سے تیری حفاظت فرمائے گا، فاجر جو اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہو اور کفور جو دل سے کفر کرنے والا ہو یا کفر میں حد سے بڑھ جانے والا ہو۔

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا(25)

اور اپنے رب کے نام کا صبح شام ذکر کیا کر۔

صبح شام سے مراد تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر، یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا(26)

اور رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کر اور بہت رات تک اس کی تسبیح کیا کر۔

رات کو سجدہ کر سے مراد بعض نے مغرب وعشاء کی نمازیں مراد لی ہیں

 اور تسبیح کا مطلب جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں ان سے اس کی پاکیزگی بیان کر،

بعض کے نزدیک اس سے رات کی نفلی نمازیں یعنی تہجد ہے امر ندب واستحباب کے لیے ہے۔

إِنَّ هَؤُلَاءِ يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ

بیشک یہ لوگ جلدی ملنے والی (دنیا) کو چاہتے ہیں

یعنی کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔

وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا(27)

اور اپنے پیچھے ایک بڑے بھاری دن کو چھوڑے دیتے ہیں ۔‏

یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔

نَحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ ۖ

ہم نے انہیں پیدا کیا اور ہم نے ہی ان کے جوڑ اور بند ھن مضبوط کئے

یعنی ان کی پیدائش کو مضبوط بنایا، یا ان کے جوڑوں کو، رگوں کو اور پٹھوں کے ذریعے سے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا، بلفظ دیگر، ان کا مانجھا کڑا کیا۔

وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا(28)

اور ہم جب چاہیں ان کے عوض ان جیسے اوروں کو بدل لائیں۔‏

إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا(29)

یقیناً یہ تو ایک نصیحت ہے پس جو چاہے اپنے رب کی راہ لے لے  

یعنی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ ۚ

اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے   

یعنی تم میں سے کوئی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ہدایت کی راہ لگا لے، اپنے لئے کسی نفع کو جاری کر لے، ہاں اگر اللہ چاہے تو ایسا ممکن ہے، اس کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں کر سکتے۔ البتہ صحیح ارادہ نیت پر وہ اجر ضرور عطا فرماتا ہے

 ' اعمال کا دارو مدار، نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی وہ نیت کرے چوں کہ وہ علیم وحکیم ہے اس لیے اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے بنابریں ہدایت اور گمراہی کے فیصلے بھی یوں ہی نہیں ہو جاتے بلکہ جس کو ہدایت دی جاتی ہے وہ واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس کے حصے میں گمراہی آتی ہے وہ حقیقتا اسی کے لائق ہوتا ہے۔ '

إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا(30)

بیشک اللہ تعالیٰ علم والا با حکمت ہے۔‏

يُدْخِلُ مَنْ يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا(31)

جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کر لے، اور ظالموں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

والظالمین اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب محذوف ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef Mar 2016

AmazingCounters.com