Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر  (حواشی: مولانا صلاح الدين يوسف)

سورۃ الہمزہ

Previous           Index           Next

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ(1)

بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے والا غیبت کرنے والا ہو۔

ھمزۃ اور لمزۃ، بعض کے نزدیک ہم معنی ہیں بعض اس میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ھمزۃ وہ شخص ہے جو رو در رو برائی کرے اور لمزۃوہ جو پیٹھ پیچھے غیمت کرے۔

 بعض اس کے برعکس معنی کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ھمز، آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے برائی کرنا ہے اور لمز زبان سے۔

الَّذِي جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُ (2)

جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے۔

اس سے مراد مال جمع کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا۔ ورنہ مطلق مال جمع کرکے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اس وقت ہے جب اس میں زکوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ نہ کا اہتمام نہ ہو۔

يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ(3)

وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا۔‏

اخلدہ کا زیادہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ"اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا" یعنی یہ مال، جسے وہ جمع کر کے رکھتا ہے، اس کی عمر میں اضافہ کر دے گا اور اسے مرنے نہیں دے گا

كَلَّا ۖ لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ  (4)

ہرگز (١) یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا

یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا اس کا وہم اور گمان ہے۔

ایسا بخیل شخص حطمہ میں پھینک دیا جائے گا یہ بھی جہنم کا ایک نام ہے، توڑ پھوڑ دینے والی ہے۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْحُطَمَةُ(5)

اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی۔

یہ استفہام اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے، یعنی وہ ایسی آگ ہوگی کہ تمہاری عقلیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور تمہارا فہم و شعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔

نَارُ اللَّهِ الْمُوقَدَةُ(6)

وہ اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی۔‏

الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ (7)

جو دلوں پر چڑھتے چلی جائے گی۔

یعنی اس کی حرارت دل تک پہنچ جائے گی۔ اگرچہ دنیا کی آگ کے اندر بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ دل تک پہنچ جائے لیکن وہ پہنچتی نہیں کیوں انسا ن کی موت اس سے پہلے ہی ہو جاتی ہے لیکن جہنم کی آگ دلوں تک پہنچے گی لیکن موت نہ آئے گی۔ باوجود آرزو کے۔

إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ  (8)

اور ان پر بڑے بڑے ستونوں میں۔‏

 لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں لمبے لمبے دروازے ہیں

فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ (9)

ہر طرف سے بند ہوئی ہوگی۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں بعَمَدٍ مروی ہے۔

 ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوگی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے ۔

ابو صالح فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قیدوبند ان کے لیے ہوں گی۔

*********

********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016