القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ آل عمران

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 الف ۔لام۔ میم۔

.1

 اﷲ! اس کے سوا بندگی نہیں، جیتا ہے سب کا تھامنے والا۔

.2

 اتاری تجھ پر کتاب تحقیق، ثابت کرتی اگلی کتابوں کو اور اتاری تھی توریت اور انجیل۔

.3

 اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کو، اور اتارا انصاف۔

جو لوگ منکر ہیں اﷲ کی آیتوں سے اُن کو سخت عذاب ہے۔

اور اﷲ زبردست ہے بدلہ لینے والا۔

.4

 اﷲ اس پر چھپی نہیں کوئی چیز زمین میں اور آسمان میں۔

.5

 وہی تمہارا نقشہ بناتا ہے ماں کے پیٹ میں، جس طرح چاہے۔

کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا، زبردست ہے حکمت والا۔

.6

 وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب، اس میں بعضی آیتیں پکی (محکمات) ہیں،سو جڑ (بنیاد)ہیں کتاب کی،

 اور دوسری ہیں کئی طرف ملتی (متشابہات)،

سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ لگتے (پیچھے پڑے) ہیں ان کی ڈھب والیوں سے(متشابہ کے)،

تلاش کرتے ہیں گمراہی، اور تلاش کرتے ہیں انکی کُل بیٹھانی (حقیقت و ماہیّت)،

اور ان کی کُل (حقیقت و ماہیّت)کوئی نہیں جانتا سوا اﷲ کے،

اور جو مضبوط علم والے ہیں، سو کہتے ہیں، ہم اس پر یقین لائے، سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے۔

اور سمجھائے وہی، سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے۔

.7

 اے رب ہمارے دل نہ پھیر، جب ہم کو ہدایت دے چکا، اور دے ہم کو اپنے ہاں سے مہربانی،

تو ہی ہے سب دینے والا۔

.8

 اے رب! تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو ایک دن، جس میں شبہ نہیں۔

بیشک اﷲ خلاف نہیں کرتا وعدہ۔

.9

جو لوگ منکر ہیں، ہر گز کام نہ آئیں گے ان کو ان کے مال اور نہ اولاد، اﷲ کے آگے کچھ۔

وہی ہیں چھپٹیاں (ایندھن) دوزخ کی۔

.10

 جیسے دستور فرعون والوں کا، اور جو ان سے پہلے تھے،

جھٹلاتے ہماری آیتیں، پھر پکڑا ان کو اﷲ نے ان کے گناہوں پر،

اور اﷲ کی مار سخت ہے۔

.11

 کہہ دے منکروں کو کہ اب تم مغلوب ہو گے اور ہانکے جاؤ گے دوزخ کو۔

 اور کیا بُری تیاری ہے۔

.12

 ابھی ہو چکا ہے تم کو ایک نمونہ (نشانی)، دو فوجوں میں جو بھڑی (نبرو آزما) تھیں۔

ایک فوج ہے کہ لڑتی ہے اﷲ کی راہ میں، اور دوسری منکر ہے،

یہ ان کو دیکھتے ہیں اپنے دو برابر (دوگنا)، صریح (کھلی) آنکھوں سے،

اور اﷲ زور دیتا ہے اپنی مدد کا جس کو چاہے۔

اسی میں خبردار ہو جائیں جن کو (دور اندیشی کی)آنکھ ہے۔

.13

رجھایا ہے لوگوں کو مزوں کی محبت پر، عورتیں، اور بیٹے ،

اور ڈھیر جوڑے ہوئے سونے کے، اور روپے کے،

اور گھوڑے پلے ہوئے، اور مویشی اور کھیتی۔

یہ برتنا ہے دنیا کی زندگی میں،اور اﷲ جو ہے اس پاس ہے اچھا ٹھکانا۔

.14

 تو کہہ، میں بتاؤں تم کو اس سے بہتر؟

پرہیزگاروں کو اپنے رب کے ہاں باغ ہیں جنکے نیچے بہتی ندیاں، رہ پڑے انہی میں ،

اور عورتیں ہیں ستھری، اور رضامندی اﷲ کی۔

اور اﷲ کی نگاہ میں ہیں بندے۔

.15

 وہ جو کہتے ہیں، اے رب ہمارے! ہم یقین لائے ہیں، سو بخش ہم کو گناہ ہمارے اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔

.16

 وہ محنت اٹھانے والے اور سچے۔ اور بندگی میں لگے رہتے اور خرچ کرتے اور گناہ بخشواتے، پچھلی رات کو (آخری پہر)۔

.17

 اﷲ نے گواہی دی کہ کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا، اور فرشتوں نے اور علم والوں نے، وہی حاکم انصاف کا۔

کسی کو بندگی نہیں سوا اس کے، زبردست ہے، حکمت والا۔

.18

دین جو ہے اﷲ کے ہاں، سو یہی مسلمانی حکم برداری (اسلام) ۔

اور مخالف نہیں ہوئے کتاب والے، مگر جب اُن کو معلوم ہو چکا آپس کی ضد سے۔

اور جو کوئی منکر ہو اﷲ کے حکموں سے تو اﷲ شتاب (جلدی) لینے والا ہے حساب۔

.19

پھر جو تجھ سے جھگڑیں تو کہہ، میں نے تابع کیا اپنا منہ اﷲ کے حکم پر اور (انہوں نے بھی) جو کوئی میرے ساتھ ہے۔

اور کہہ دے کتاب والوں کو اور ان پڑھوں کو کہ تابع ہوتے (اسلام لاتے) ہو؟

پھر اگر تابع ہوئے (اسلام لائے) تو راہ پر آئے۔ اور اگر ہٹ رہے تو تیرا ذمہ یہی ہے پہنچا دینا۔

اﷲ کی نگاہ میں ہیں بندے(اعمال بندوں کے) ۔

.20

 جو لوگ منکر ہیں اﷲ کی آیتوں سے اور مار ڈالتے ہیں نبیوں کو نا حق،

اور مار ڈالتے ہیں جو کوئی کہے انصاف کو لوگوں میں سے، سو ان کو خوش خبری سنا دکھ والی مار (عذاب) کی۔

.21

 وہی ہیں جن کی محنت (اعمال) ضائع ہوئی دنیا میں اور آخرت میں،اور کوئی نہیں ان کا مددگار۔

.22

 تُو نے نہ دیکھے وہ لوگ جن کو ملا ہے کچھ ایک حصہ کتاب کا،

ان کو بلاتے ہیں اﷲ کی کتاب پرکہ ان میں حکم کرے، پھر ہٹ رہتے ہیں بعضے ان میں تغافل کر کر۔

.23

یہ اس واسطے کہ کہتے ہیں ہم کو ہر گز نہ لگے کی آگ (دوزخ کی) مگر کئی (چند) دن گنتی کے۔

اور بہکے ہیں اپنے دین میں اپنی بنائی باتوں پر۔

.24

پھر کیسا ہو گا جب ہم ان کو جمع کریں گے ایک دن، جس میں شبہ نہیں۔

اور پورا پائے گا ہر کوئی اپنا کیا، اور ان کا حق نہ رہے گا۔

.25

تو کہہ، یا اﷲ مالک سلطنت کے!

تو سلطنت دے جس کو چاہے، سلطنت چھین لے جس سے چاہے،

اور عزت دے جس کو چاہے اور ذلیل کرے جس کو چاہے،

تیرے ہاتھ سب خوبی (خیر) ، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

.26

 تو لے آئے (داخل کرے) رات کو دن میں اور تو لے آئے (داخل کرے) دن کو رات میں،

اور تو نکالے جیتا (جاندار) مردے سے اور تو نکالے مُردہ جیتے (جاندار) سے،

اور تو رزق دے جس کو چاہے بیشمار۔

.27

 نہ پکڑیں (بنائیں) مسلمان کافروں کو رفیق مسلمان چھوڑ کر۔

اور جو کوئی یہ کام کرے، وہ اﷲ کا کوئی نہیں، یہ کہ تم پکڑا چاہو ان سے بچاؤ۔

اور اﷲ تم کو ڈراتا ہے آپ (اپنی ذات) سے۔ اور اﷲ ہی تک پہنچنا (لوٹ کر جانا) ہے۔

.28

 تُو کہہ، اگر تم چھپاؤ گے اپنے جی کی بات یا ظاہر کرو گے، وہ اﷲ کو معلوم ہے،

اور اس کو معلوم ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں۔

اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔

.29

 جس دن پائے گا ہر شخص جو کی ہے نیکی روبرو۔اور جو کی ہے برائی۔

آرزو کرے گا کہ مجھ میں اور اس (کی بدی) میں فرق پڑھ جائے دُور کا۔

اور اﷲ ڈراتا ہے تم کو آپ (اپنی ذات) سے۔ اور اﷲ شفقت رکھتا ہے بندوں پر۔

.30

تو کہہ، اگر تم محبت رکھتے ہو اﷲ کی تو میری راہ چلو کہ اﷲ تم کو چاہے اور بخشے گناہ تمہارے۔

اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

.31

تو کہہ حکم مانو اﷲ کا اور رسول کا،

پھر اگر وہ ہٹ رہیں تو اﷲ نہیں چاہتا منکروں کو۔

.32

 اﷲ نے پسند کیا آدم کواور نوح کو اور ابراہیم کے گھر کو اور عمران کے گھر کو، سارے جہان سے۔

.33

 کہ اولاد تھے ایک دوسرے کی،

 اور اﷲ سنتا جانتا ہے۔

.34

جب بولی عورت عمران کی، کہ

اے رب!میں نے نذر کیا تیری جو کچھ میرے پیٹ میں ہے آزاد (ہو گا تیرے نام پر) سو تو مجھ سے قبول کر۔

تو ہے اصل سنتا جانتا۔

.35

پھر جب اس کو جنی(پیدا کیا) ، بولی، اے رب! میں نے یہ لڑکی جنی ۔

اور اﷲ کو بہتر معلوم ہے جو کچھ جنی۔ اور (کوئی) بیٹا نہ ہو جیسے وہ بیٹی۔

اور میں نے اس کا نام رکھا مریم، اور میں تیری پناہ میں دیتی ہوں اسکو اور اسکی اولاد کو شیطان مردود سے۔

.36

 پھر قبول کیا اسکو اسکے رب نے، اچھی طرح قبول کرنا اور بڑھایا اسکو اچھی طرح بڑھانا ، اور سپرد کیا زکریا کو۔

جس وقت آتا اُس پاس زکریا حجرے میں، پاتا اس پاس کچھ کھانا،

بولا، اے مریم! کہاں سے آیا تجھ کو یہ؟

کہنے لگی، یہ اﷲ کے پاس سے۔

اﷲ رزق دیتا ہے جس کو چاہے بے قیاس (حساب) ۔

.37

 وہاں دعا کی زکریا نے اپنے رب سے۔

کہا، اے رب میرے! عطا کر مجھ کو اپنے پاس سے اولاد پاکیزہ،بیشک تو سننے والا ہے دُعا۔

.38

پھر اس کو آواز دی فرشتوں نے، جب وہ کھڑا تھا نماز میں حجرے کے اندر، کہ اﷲ تجھ کو خوشخبری دیتا ہے یحییٰ کی،

جو گواہی دے گا اﷲ کے ایک حکم کی، پھر سردار ہو گا اور عورت پاس نہ جائے گا، اور نبی ہو گا نیکوں میں۔

.39

بولا، اے رب! کہاں سے ہو گا مجھ کو لڑکا؟ اور مجھ پر آیا بڑھاپا اور عورت میری بانجھ ہے۔

فرمایا اسی طرح اﷲ کرتا ہے جو چاہے۔

.40

بولا، اے رب! مجھ کو دے کوئی نشانی۔

کہا، نشانی تیری یہ کہ نہ بات کرے تو لوگوں سے تین دن، مگر اشارت سے۔

اور یاد کر اپنے رب کو بہت اور تسبیح کر شام اور صبح۔

.41

 جب فرشتے بولے، اے مریم! اﷲ نے تجھ کو پسند کیا اور ستھرا بنایا ،اور پسند (برگزیدہ) کیا تجھ کو سب جہان کی عورتوں سے۔

.42

 اے مریم! بندگی کر اپنے رب کی اور سجدہ کر، اور رکوع کر ساتھ رکوع کرنے والوں کے۔

.43

 یہ خبریں غیب کی ہیں ہم بھیجتے ہیں تجھ کو۔

اور تُو نہ تھا اُن کے پاس، جب ڈالنے لگے اپنے قلم (قرعہ اندازی کے لئے) کہ کون پالے مریم کو؟

اور تُو نہ تھا اُن کے پاس جب جھگڑتے تھے۔

.44

جب کہا فرشتوں نے، اے مریم! اﷲ تجھ کو بشارت دیتا ہے ایک اپنے حکم کی،جس کا نام مسیح عیسیٰ، مریم کا بیٹا،

مرتبے والا دنیا میں، اور آخرت میں، اور نزدیک والوں میں۔

.45

 اور باتیں کرے گا لوگوں سے جب ماں کی گود میں ہو گا، اور جب پوری عمر کا ہو گا اور نیک بختوں میں ہے۔

.46

 بولی، اے رب! کہاں سے ہو گا مجھ کو لڑکا؟ اور مجھ کو ہاتھ نہیں لگایا کسی آدمی نے۔

کہا، اسی طرح اﷲ پیدا کرتا ہے جو چاہے ،

جب حکم کرتا ہے ایک کام کو، تو یہی کہتا ہے اسکو کہ ہو وہ ہوجاتا ہے۔

.47

 اور سکھا دے گا اس کو کتاب اور کام کی باتیں، اور توریت اور انجیل۔

.48

 اور رسول ہو گا بنی اسرائیل کی طرف، کہ میں آیا ہوں تم پاس نشان لے کر تمہارے رب کا،

کہ میں بنا دیتا ہوں تم کو مٹی کی صورت جانور کی، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں، تو وہ ہو جائے اُڑتا جانور اﷲ کے حکم سے،

اور چنگا (تندرست) کرتا ہوں جو اندھا پیدا ہو، اور کوڑھی، اور جِلاتا (زندہ کرتا) ہوں مُردے، اﷲ کے حکم سے،

اور بتا دیتا ہوں تم کو جو کھا کر آؤ اور رکھ پاؤ اپنے گھر میں۔

اس میں نشانی پوری ہے تم کو، اگر تم یقین رکھتے ہو۔

.49

 اور سچ بتاتا ہوں تورات کو جو مجھ سے پہلے کی ہے، اور اس واسطے کہ حلال کر دوں تم کو بعضی چیز، جو حرام تھی تم پر،

اور آیا ہوں تم پاس نشانی لے کر تمہارے رب کی، سو ڈرو اﷲ سے اور میرا کہا مانو۔

.50

 بیشک اﷲ ہے رب میرا اور رب تمہارا ،سو اس کی بندگی کرو۔

یہ سیدھی راہ ہے۔

.51

پھر جب معلوم (محسوس) کیا عیسیٰ نے بنی اسرائیل کا کُفر، بولا، کون ہے کہ میری مدد کرے اﷲ کی راہ میں؟

کہا حواریوں نے، ہم ہیں مدد کرنے والے اﷲ کے،ہم یقین لائے اﷲ پر اور تو گواہ رہ کہ ہم نے حکم قبول کیا۔

.52

 اے رب! ہم نے یقین کیا جو تو نے اُتارا، اور ہم تابع ہوئے رسول کے، سو لکھ لے ہم کو ماننے والوں میں۔

.53

 اور فریب کیا (چال چلی) ان کافروں نے اور فریب کیا (چال چلی) اﷲ نے،

اور اﷲ کا داؤ (کی چال) سب سے بہتر ہے۔

.54

 جس وقت کہا اﷲ نے،

 اے عیسیٰ! میں تجھ کو بھر لوں (واپس لے لوں) گا، اور اٹھا لوں گا اپنی طرف،اور پاک کر دوں گا کافروں سے،

اور رکھوں گا تیرے تابعوں کو اوپر منکروں سے قیامت کے دن تک۔

پھر میری طرف ہے تم کو پھر (لوٹ) آنا، پھر فیصلہ کر دوں گا تم میں جس بات میں تم جھگڑتے تھے۔

.55

سو وہ جو کافر ہوئے، ان کو عذاب کروں گا سخت عذاب، دنیا میں اور آخرت میں،اور کوئی نہیں ان کا مددگار۔

.56

 اور وہ جو یقین لائے، اور عمل نیک کئے سو ان کو (اﷲ) پورا دے گا انکا حق۔

اور اﷲ کو خوش (پسند) نہیں آتے بے انصاف۔

.57

یہ پڑھ سناتے ہیں ہم تجھ کو آیتیں، اور مذکور تحقیق (تذکرہ حکمت والا) ۔

.58

 عیسیٰ کی مثال اﷲ کے نزدیک ایسی ہے جیسے مثال آدم کی،

بنایا اس کو مٹی سے، پھر کہا اس کو ہو جا ، وہ ہو گیا۔

.59

 حق بات ہے تیرے رب کی طرف سے، پھر تُو رہ مت شک (کرنے والوں) میں۔

.60

پھر جو جھگڑا کرے تجھ سے اس بات میں بعد اس کے کہ پہنچ چکا تجھ کو علم،

تو تُو کہہ آؤ! بلائیں ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے، اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں، اور اپنی جان اور تمہاری جان۔

پھر دُعا (مباہلہ، دعائے بد) کریں، اور لعنت ڈالیں اﷲ کی جھوٹوں پر۔

.61

یہ جو ہے سو یہی ہے بیان تحقیق (حق)،

 اور کسی کی بندگی نہیں سوا اﷲ کے،

اور اﷲ جو ہے وہی ہے زبردست حکمت والا۔

.62

پھر اگر قبول نہ کریں تو اﷲ کو معلوم ہیں فساد کرنے والے۔

.63

 تُو کہہ، اے کتاب والو! آؤ ایک سیدھی بات پر (جو یکساں ہے) ہمارے تمہارے درمیان کی،

کہ بندگی نہ کریں گے مگر اﷲ کو، اور شریک نہ ٹھہرائیں اس کی کوئی چیز،

 اور نہ پکڑیں آپس میں ایک ایک کو رب، سوا اﷲ کے۔

پھر اگر وہ قبول نہ رکھیں تو کہہ، شاہد رہو، کہ ہم تو (صرف اﷲ کے) حکم کے تابع ہیں۔

.64

 اے کتاب والو! کیوں جھگڑتے ہو ابراہیم پر؟

اور توریت اور انجیل تو اُتریں اس کے بعد،

 کیا تم کو عقل نہیں؟

.65

 تم لوگ جھگڑ چکے، جس بات میں تم کو خبر تھی، اب کیوں جھگڑتے ہو، جس بات میں تم کو خبر نہیں؟

اور اﷲ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے ۔

.66

 نہ تھا ابراہیم یہودی، اور نہ تھا نصرانی، لیکن تھا ایک طرف کا حکم بردار۔

اور نہ تھا شرک والا۔

.67

 لوگوں میں زیادہ مناسبت ابراہیم سے ان کو تھی، جو ساتھ اسکے تھے، اور اس نبی کو اور ایمان والوں کو۔

اور اﷲ والی (ساتھی) ہے مسلمانوں کا۔

.68

 آرزو ہے بعض کتاب والوں کو، کسی طرح تم کو راہ بھلائیں،

اور راہ بھلاتے ہیں مگر آپ کو، اور نہیں سمجھتے۔

.69

 اے کتاب والو! کیوں منکر ہوتے ہو اﷲ کے کلام سے؟

 اور تم قائل ہو۔

.70

 اے کتاب والو! کیوں ملاتے ہو صحیح میں غلط اور چھپاتے ہو سچی بات کو جان کر۔

.71

 اور کہا ایک لوگوں نے اہل کتاب میں ،

کہ مان لو جو کچھ اُترا مسلمانوں پر دن چڑھے (صبح کو)، اور منکر ہو جاؤ آخر دن (رات کو)،شاید وہ پھر جائیں (اپنے دین سے)۔

.72

 اور یقین کریو مگر اسی کا جو چلے تمہارے دین پر۔

تُو کہہ، ہدایت وہی جو ہدایت کرے اﷲ،

 اس واسطے کہ کسی کو ملا جیسا کچھ تم کو ملا تھا، یا مقابلہ کیا تم سے تمہارے رب کے آگے۔

تُو کہہ، بڑائی اﷲ کے ہاتھ میں ہے دیتا ہے جس کو چاہے۔

اور اﷲ گنجائش والا ہے خبردار۔

.73

خاص کرتا ہے اپنی مہربانی جس پر چاہے۔ اور اﷲ کا فضل بڑا ہے۔

.74

 اور بعض اہل کتاب میں وہ ہے کہ اگر تو اس پاس امانت رکھے ڈھیر مال، ادا کرے تجھ کو،

اور بعض ان میں وہ ہے، اگر تُو اُس پاس امانت رکھے ایک اشرفی، ادانہ کرے تجھ کو، مگر جب تک تُو رہے اسکے سر پر کھڑا۔

یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے، نہیں ہم پر جاہلوں کے حق کا گناہ۔

اور جھوٹ بولتے ہیں اﷲ پر جانتے (جان بوجھ کر)۔

.75

کیوں نہیں! جو کوئی پورا کرے اپنا اقرار اور پرہیزگار ہے، تو اﷲ چاہتا ہے پرہیزگاروں کو۔

.76

 جو لوگ خرید کرتے ہیں اﷲ کے اقرار پر، اور اپنی قسموں پر تھوڑا مول، اور ان کو کچھ حصہ نہیں آخرت میں،

اور نہ بات کریگا اُن سے اﷲ، اور نہ نگاہ کرے گا انکی طرف قیامت کے دن، اور نہ سنوارے (پاک کرے) گا ان کو،

اور ان کو دکھ کی مار (دردناک عذاب)ہے۔

.77

 اور ان میں ایک لوگ ہیں کہ زبان مروڑ کر پڑھتے ہیں کتاب کہ تم جانو وہ کتاب میں ہے، اور وہ نہیں کتاب میں۔

اور کہتے ہیں وہ اﷲ کا کہا ہے، اور وہ نہیں اﷲ کا کہا اور اﷲ پر جھوٹ بولتے ہیں جان کر۔

.78

 کسی بشر کا کام نہیں کہ اﷲ اس کو دے کتاب اور حکم اور پیغمبر کرے،

پھر وہ کہے لوگوں کو تم میرے بندے ہو اﷲ کو چھوڑ کر،

لیکن تم ربّی (اﷲ والے) ہو جاؤ، جیسے تھے تم کتاب سکھاتے، اور جیسے تھے تم پڑھتے۔

.79

 اور نہ یہ کہے تم کو، کہ ٹھہراؤ فرشتوں کو اور نبیوں کو رب۔

کیا تم کو کُفر سکھائے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو چکو۔

.80

 اور جب لیا اﷲ نے اقرار نبیوں کا، کہ جو کچھ میں نے تم کو دیا کتاب اور علم،

پھر آئے تم پاس کوئی رسول، کہ سچ بتائے تمہارے پاس والی کو، اُس پر ایمان لاؤ گے، اور اسکی مدد کرو گے۔

فرمایا، کہ تم نے اقرار کیا اور اس شرط پر لیا میرا ذمہ؟

بولے، ہم نے اقرار کیا۔

فرمایا، تو اب شاہد رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ شاہد ہوں۔

.81

 پھر جو کوئی پھر جائے اسکے بعد، تو وہی لوگ ہیں بے حکم (نافرمان)۔

.82

 اب کچھ اور دین ڈھونڈتے ہیں سوا دین اﷲ کے،

اور اسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا زور سے، اور اسی کی طرف پھر (لوٹائے) جائیں گے۔

.83

تُو کہہ، ہم ایمان لائے اﷲ پر اور جو کچھ اترا ہم پر،

اور جو کچھ اترا ابراہیم پر اور اسمٰعیل پر اور اسحٰق پر اور یعقوب پر، اور اس کی اولاد پر ،

اور جو ملا موسیٰ کو، اور عیسیٰ کو، اور جو ملا سب نبیوں کو اپنے رب کی طرف سے،

ہم جُدا نہیں کرتے ان میں کسی کو اور اس کے حکم پر ہیں۔

.84

 اور جو کوئی چاہے سوا حکم برداری (اسلام) کے اور دین، سو اس سے ہر گز قبول نہ ہو گا،

اور وہ آخرت میں خراب (خسارہ پانے والوں میں) ہے۔

.85

کیوں کر راہ دے گا اﷲ ایسے لوگوں کو کہ منکر ہو گئے مان کر ، اور بتا چکے کہ رسول سچا ہے، اور پہنچ چکے ان کو نشان۔

اور اﷲ راہ نہیں دیتا بے انصاف لوگوں کو۔

.86

 ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ اُن پر لعنت اﷲ کی، اور فرشتوں کی، اور لوگوں کی سب کی۔

.87

پڑے رہیں اس (لعنت) میں، نہ ہلکا ہو اُن پر عذاب، اور نہ اُن کو فرصت (مہلت) ملے۔

.88

 مگر جنہوں نے توبہ کی اس کے بعد اور سنوار پکڑی (اصلاح کر لی اپنی)، تو البتہ اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

.89

 جو لوگ منکر ہوئے مان کر، پھر بڑھتے رہے انکار میں، ہرگز قبول نہ ہو گی اُن کی توبہ،اور وہی ہیں راہ بھولے (گمراہ)۔

.90

 جو لوگ منکر ہوئے، اور مر گئے منکر ہی، تو ہر گز قبول نہ ہو گا ایسے کسی سے، زمین بھر کر سونا، اگرچہ بدلہ دے یہ کچھ۔

ان کو دُکھ کی مار (دردناک عذاب) ہے، اور کوئی نہیں ان کا مددگار۔

.91

 ہر گز نہ پہنچو گے نیکی کی حد کو، جب تک نہ خرچ کرو کچھ ایک، جس سے محبت رکھتے ہو۔

اور جو چیز خرچ کرو گے، سو اﷲ کو معلوم ہے۔

.92

 سب کھانے کی چیزیں حلال تھیں، بنی اسرائیل کو،مگر جو حرام کر لی تھی اسرائیل نے اپنی جان پر توریت نازل ہونے سے پہلے۔

تُو کہہ لاؤ توریت اور پڑھو اگر سچے ہو۔

.93

 پھر جو کوئی باندھے اﷲ پر جھوٹ اس کے بعد تو وہی ہیں بے انصاف (ظالم)۔

.94

 تو کہہ سچ فرمایا اﷲ نے،

 اب تابع ہو جاؤ دین ابراہیم کے، جو ایک طرف کا تھا۔ اور نہ تھا شرک کرنے والا۔

.95

تحقیق پہلا گھر (عبادت گاہ) جو ٹھہرا لوگوں کے واسطے، یہی ہے جو مکّہ میں ہے،

 برکت والا اور نیک راہ جہان کے لوگوں کو۔

.96

 اس میں نشانیاں ظاہر ہیں، کھڑے ہونے کی جگہ (مقام) ابراہیم کی۔

 اور جو اسکے اندر آیا اسکو امن ملا۔

اور اﷲ کا حق ہے لوگوں پرحج کرنا اس گھر کا، جو کوئی پائے اس تک راہ۔

اور جو کوئی منکر ہوا، تو اﷲ پرواہ نہیں رکھتا جہان کے لوگوں کی۔

.97

 تُو کہہ اے اہل کتاب! کیوں منکر ہوتے ہو اﷲ کے کلام سے؟

اور اﷲ کے روبرو ہے جو کرتے ہو۔

.98

 تو کہہ اے اہل کتاب! کیوں روکتے ہو اﷲ کی راہ سے ایمان لانے والے کو، ڈھونڈتے ہو اس میں عیب، اور تم خبر رکھتے ہو۔

اور اﷲ بے خبر نہیں تمہارے کام سے۔

.99

 اے ایمان والو! اگر تم مانو گے بعضے اہل کتاب کی بات تو پھر کر دیں گے تم کو ایمان لائے پیچھے منکر۔

.100

 اور تم کس طرح منکر ہو؟ اور تم پر پڑی جاتی ہیں آیتیں اﷲ کی، اور تم میں اس کا رسول ہے۔

اور جو کوئی مضبوط پکڑے اﷲ کو، وہ پہنچا سیدھی راہ پر۔

.101

 اے ایمان والو! ڈرتے رہو اﷲ سے جیسا چاہیئے اس سے ڈرنا۔

اور نہ مریو مگر مسلمان۔

.102

 اور مضبوط پکڑو رسی اﷲ کی سب مل کر اور پھوٹ نہ ڈالو۔

اور یاد کرو احسان اﷲ کا اپنے اوپر، جب تھے تم آپس میں دشمن۔

پھر اُلفت دی تمہارے دلوں میں، اب ہو گئے اس کے فضل سے بھائی۔

اور تم تھے کنارے پر ایک آگ کے گڑھے کے، پھر تم کو اس سے خلاص کیا (بچا لیا)۔

اسی طرح کھولتا ہے اﷲ تم پر نشانیاں اپنی، شاید تم راہ پاؤ۔

.103

 اور چاہیئے کہ رہیں تم میں، ایک جماعت بلاتے نیک کام پر اور حکم کرتے پسند بات کو اور منع کرتے نا پسند کو۔

اور وہی پہنچے مراد کو۔

.104

 اور مت ہو ان کی طرح جو پھوٹ گئے اور اختلاف کرنے لگے بعد اسکے کہ پہنچ چکے ان کو حکم صاف۔

اور ان کو بڑا عذاب ہے۔

.105

جس دن سفید ہوں گے بعضے منہ اور سیاہ ہوں گے بعضے منہ،

سو وہ جو سیاہ ہوئے منہ اُن کے آیا تم کافر ہو گئے ایمان میں آ کر،اب چکھو عذاب بدلہ اس کُفر کرنے کا۔

.106

 اور وہ جو سفید ہوئے منہ ان کے سو رحمت میں ہیں اﷲ کی، وہ اس میں رہ پڑے۔

.107

یہ حکم ہیں اﷲ کے، ہم سناتے ہیں تجھ کو تحقیق۔

 اور اﷲ ظلم نہیں چاہتا جہان والوں پر۔

.108

 اور اﷲ کا مال ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں۔

اور اﷲ تک رجوع ہے ہر کام کی۔

.109

تم ہو بہتر سب اُمتوں سے جو پیدا ہوئے ہیں لوگوں میں،

حکم کرتے ہو پسند بات پر، اور منع کرتے ہو نا پسند سے، اور ایمان لاتے ہو اﷲ پر۔

اور اگر ایمان میں آتے اہل کتاب تو اُن کو بہتر تھا۔

کوئی نہیں ان میں ایمان پر، اور اکثر وہ بے حکم ہیں۔

.110

وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے، مگر ستانا۔

 اور اگر تم سے لڑیں گے تو تم سے پیٹھ دیں گے۔ پھر ان کو مدد نہ ہو گی۔

.111

 ماری گئی ہے ان پر ذلّت، جہاں دیکھئے، سوائے دست آویز (پناہ میں) اﷲ کے اور دست آویز (پناہ میں) لوگوں کے ،

اور کما لائے غصہ اﷲ کا اور ماری ہے ان پر محتاجی۔

یہ اس واسطے کہ وہ رہے ہیں منکر اﷲ کی آیتوں سے اور مارتے ہیں نبیوں کو نا حق۔

یہ اس سے کہ وہ بے حکم ہیں اور حد سے بڑھتے ہیں۔

.112

 وہ سب برابر نہیں،

 اہل کتاب میں ایک فرقہ ہے سیدھی راہ پر،پڑھتے ہیں آیتیں اﷲ کی راتوں کے وقت، اور وہ سجدہ کرتے ہیں۔

.113

 یقین لاتے ہیں اﷲ پر اور پچھلے دن (آخرت ) پر،

اور حکم کرتے ہیں پسند (نیک) بات کو اور منع کرتے ہیں ناپسند (برے کام) سے اور دوڑتے ہیں نیک کاموں پر۔

اور وہ لوگ نیک بختوں میں ہیں۔

.114

 اور جو کریں گے نیک کام، سو نا قبول نہ ہو گا۔

 اور اﷲ کو خبر ہے پرہیزگاروں کی۔

.115

 اور وہ لوگ جو منکر ہیں ان کو کام نہ آئیں گے اُن کے مال اور نہ اولاد اﷲ کے آگے کچھ۔

اور وہ دوزخ کے لوگ ہیں،

وہ اس میں رہ پڑے۔

.116

 جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس دنیا کی زندگی میں اسکی مثال جیسے ایک باؤ (ہوا) ،

اس میں پالا (سردی) ، وہ مار گئی کھیتی ایک لوگوں کی جنہوں نے اپنے حق میں بُرا کیا تھا، پھر اس کو نابود کر گئی،

اور اﷲ نے ان پر ظلم نہیں کیا، پر اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

.117

 اے ایمان والو! نہ ٹھہراؤ بھیدی اپنے غیر کو، وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں۔

ان کی خوشی ہے تم جس قدر تکلیف پاؤ، نکلی پڑتی ہے دشمنی اُن کی زبان سے۔

اور جو چھپا ہے ان کے جی (سینے) میں سو اس سے زیادہ ،

ہم نے جتا (بتا)دیئے تم کو پتے (نشانیاں)، اگر تم کو عقل ہے۔

.118

 سنتے ہو؟ تم لوگ اُن کے دوست ہو اور وہ تمہارے دوست نہیں، اور تم سب کتابوں کو مانتے ہو۔

اور جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔

 اور جب اکیلے ہوتے ہیں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں تم پر انگلیاں دشمنی سے۔

تُو کہہ، مرو تم اپنی دشمنی میں۔

اﷲ کو معلوم ہے جیوں (سینوں) کی بات۔

.119

 اگر تم کو ملے کچھ بھلائی بُری لگے ان کو اور اگر تم پر پہنچے برائی خوش ہوں اس سے۔

اور اگر تم ٹھہرے رہو اور بچتے رہو کچھ نہ بگڑے گا تمہارا ان کے فریب سے،

جو کچھ وہ کرتے ہیں سب اﷲ کے بس میں ہے۔

.120

 اور جب فجر (صبح سویرے) کو نکلا تُو اپنے گھر سے بٹھانے لگا مسلمانوں کو لڑائی کے ٹھکانوں پر۔

اور اﷲ سنتا جانتا ہے۔

.121

جب قصد کیا دو فرقوں نے تم میں کہ نا مردی (بزدلی) کریں، اور (حالانکہ) اﷲ مددگارتھا ان کا۔

اور اﷲ ہی پر چاہیے بھروسا کریں مسلمان۔

.122

اور تمہاری مدد کر چکا ہے اﷲ بدر کی جنگ میں، اور تم بے مقدور(کمزور) تھے۔

سو ڈرتے رہو اﷲ سے شاید تم احسان مانو۔

.123

 جب تُو کہنے لگا مسلمانوں کو، کیا تم کو کفایت نہیں کہ تمہاری مدد بھیجے رب تمہارا، تین ہزار فرشتے آسمان سے اترے (ہوئے)۔

.124

 البتہ اگر تم ٹھہرے (ثابت قدم) رہو اور پرہیزگاری کرو، اور وہ آئیں (دشمن) تم پاس اُسی دم (اچانک) ،

تو مدد بھیجے تمہارا رب، پانچ ہزار فرشتے، پلے ہوئے گھوڑوں پر۔

.125

اور یہ تو اﷲ نے تمہارے دل کی خوشی کی اور تا تسکین ہو تمہارے دلوں کو۔

اور مدد ہے نری اﷲ کے پاس سے جو زبردست ہے حکمت والا۔

.126

 (یہ مدد اس لئے تھی) تا کاٹ ڈالے بعضے کافروں کو، یا ان کو ذلیل کرے کہ پھریں نا مراد۔

.127

تیرا اختیار کچھ نہیں،

(سارا اختیار اﷲ پاس ہے)

یا اُن کو توبہ دے یا ا  نکو عذاب کرے، کہ وہ نا حق پر (ظالم) ہیں۔

.128

 اور اﷲ کا مال ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے۔

بخشے جس کو چاہے اور عذاب کرے جس کو چاہے،

 اور اﷲ بخشنے والا مہربان ہے۔

.129

 اے ایمان والو! مت کھاؤ سود، دُونے پر دُونا،

اور ڈرو اﷲ سے، شاید تمہارا بھلا ہو۔

.130

 اور بچو اس آگ سے جو تیار ہوئی کافروں کے واسطے۔

.131

 اور حکم مانو اﷲ کا اور رسول کا شاید تم پر رحم ہو۔

.132

 اور دوڑو بخشش پر اپنے رب کی اور جنت پر جس کا پھیلاؤ ہے آسمان اور زمین، تیار ہوئی ہے واسطے پرہیزگاروں کے۔

.133

 جو خرچ کئے جاتے ہیں خوشی میں اور تکلیف میں، اور دبا لیتے ہیں غصہ، اور معاف کرتے ہیں لوگوں کو،

اور اﷲ چاہتا ہے نیکی والوں کو۔

.134

 اور وہ لوگ کہ جب کر بیٹھیں کچھ کھلا گناہ، یا بُرا کریں اپنے حق میں تو یاد کریں اﷲ کو، اور بخشش مانگیں اپنے گناہوں کی۔

اور کون ہے گناہ بخشتا سوا اﷲ کے؟

اور اَڑ نہ رہیں اپنے کئے پر جانتے (ہوئے)۔

.135

 اُن کی جزا ہے بخشش ان کے رب کی،اور باغ جن کے نیچے بہتی نہریں، رہ پڑے ان میں،

اور خوب مزدوری ہے (نیک) کام کرنے والوں کی۔

.136

ہو (گزر) چکے ہیں تم سے آگے دستور (دَور) ، سو پھرو زمین میں تو دیکھو کیسا ہوا آخر جھٹلانے والوں کا۔

.137

یہ بیان ہے لوگوں کے واسطے اور ہدایت اور نصیحت ڈر والوں کو۔

.138

اور سست (دل شکستہ) نہ ہو اور نہ غم کھاؤ، اور تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

.139

 اگر تم نے زخم پایا تو وہ لوگ بھی پا چکے ہیں زخم ایسا ہی۔

اور یہ دن بدلتے لاتے ہیں ہم لوگوں میں اور اس واسطے کہ معلوم کرے اﷲ جن کو ایمان ہے، اور کرے بعضے تم میں شہید۔

اور اﷲ چاہتا نہیں نا حق والوں کو۔

.140

 اور اس واسطے کہ نکھارے (چھانٹ لے) اﷲ ایمان والوں کو اور مٹا دے منکروں کو۔

.141

 کیا تم کو خیال ہے کہ داخل ہو جاؤ گے جنت میں (یونہی) ،

اور ابھی معلوم نہیں کئے اﷲ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں، اور معلوم کرے ثابت (قدم) رہنے والے۔

.142

 اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی، اُس کی ملاقات سے پہلے۔

سو اب دیکھا تم نے اس کو آنکھوں کے سامنے۔

.143

 اور محمد تو ایک رسول ہے، ہو چکے پہلے اس سے بہت رسول۔

پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا، تم پھر جاؤ گے اُلٹے پاؤں؟

اور جو کوئی پھر جائے گا الٹے پاؤں، وہ نہ بگاڑے گا اﷲ کا کچھ۔

اور اﷲ ثواب دے گا بھلا ماننے والوں (شکر گزاروں) کو۔

.144

 اور کوئی جی مر نہیں سکتا بغیر حکم اﷲ کے، لکھا ہوا وعدہ (وقت معین) ۔

اور جو کوئی چاہے گا بدلہ دنیا کا، اس میں سے دیں گے اس کو اور جو کوئی چاہے گا بدلہ آخرت کا، اس میں سے دیں گے اس کو،

اور ہم ثواب دیں گے احسان ماننے والوں کو۔

.145

 اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب۔

پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اﷲ کی راہ میں، اور نہ سست ہوئے ہیں، نہ دب گئے ہیں۔

اور اﷲ چاہتا ہے ثابت (قدم) رہنے والوں کو۔

.146

 اور کچھ نہیں بولے مگر یہی کہا،

کہ اے رب ہمارے! بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہمارے کام میں،

اور ثابت رکھ ہمارے قدم اور مدد دے ہم کو منکر قوم پر۔

.147

پھر دیا ا ن کو اﷲ نے ثواب دنیا کا بھی اور خوب ثواب آخرت کا۔

اور اﷲ جانتا (محبوب رکھتا) ہے نیکی (کرنے) والوں کو۔

.148

اے ایمان والو! اگر تم کہا مانو گے منکروں کا، تو تم کو پھیر دیں گے اُلٹے پاؤں، پھر جا پڑو گے نقصان میں۔

.149

بلکہ اﷲ تمہارا مددگار ہے اور اسکی مدد سب سے بہتر (ہے)۔

.150

 اب ڈالیں گے ہم کافروں کے دل میں ہیبت، اس واسطے کہ انہوں نے شریک ٹھہرایا اﷲ کا جسکی اُس نے سند نہیں اتاری۔

اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے،

 اور بُری بستی (بُرا ٹھکانا) بے انصافوں کی۔

.151

 اور اﷲ تو سچ کر چکا تم سے اپنا وعدہ جب تم لگے ان کو کاٹنے (قتل کرنے) اسکے حکم سے۔

جب تک کہ تم نے نا مردی (ڈھیل) کی، اور کام میں جھگڑا ڈالا، اور بے حکمی کی،

بعد اس کے تم کو دکھا چکا تمہاری خوشی کی (محبوب) چیز۔

کوئی تم میں چاہتا تھا دنیا، اور کوئی تم میں چاہتا تھا آخرت۔

پھر تم کو اُلٹ (پسپا کر) دیا اُن پر سے، اس واسطے کہ تم کو آزمائے۔

 اور وہ تم کو معاف کر چکا۔اور اﷲ فضل رکھتا ہے ایمان والوں پر۔

.152

 جب تم چڑھے (بھاگے) جاتے تھے اور پیچھے نہ دیکھتے تھے کسی کو، اور رسول پکارتا تھا تم کو پچھاڑی میں،

پھر تم کو تنگ کیا بدلہ تمہارے تنگ کرنے کا ، تو غم نہ کھایا کروجو ہاتھ سے (چھن) جائے اور جو سامنے آئے (مل جائے) ۔

اور اﷲ کو خبر ہے تمہارے کام کی۔

.153

پھر تم پر اتاری تنگی کے بعد اُونگھ، کہ گھیر رہی تھی تم میں بعضوں کو،

اور بعضوں کو فکر پڑا تھا اپنے جی(جان) کا، خیال کرتے تھے اﷲ پر، جھوٹے خیال جاہلوں کے (سے) ۔

کہتے تھے (کیا) کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ؟

تُو کہہ۔ سب کام ہے اﷲ کے ہاتھ۔

 اپنے جی میں چھپاتے ہیں جو تجھ سے ظاہر نہیں کرتے۔

کہتے ہیں اگر کچھ کام ہوتا ہمارے ہاتھ تو ہم مارے نہ جاتے اس جگہ۔

تُو کہہ اگر تم ہوتے اپنے گھروں میں البتہ باہر نکلتے جن پر لکھا تھا مارے جانا اپنے پڑاؤپر۔

اور اﷲ کو آزمانا تھا جوکچھ تمہارے جی میں ہے، اور نکھارنا تھا جو کچھ تمہارے دل میں ہے ،

اور اﷲ کو معلوم ہے جی (دِل) کی بات۔

.154

 جو لوگ تم میں ہٹ گئے جس دن بھڑیں دوفوجیں، سو ان کو ڈگا (ڈگمگا) دیا شیطان نے کچھ ان کے گناہ کی شامت سے۔

اور ان کو بخش چکا اﷲ بیشک اﷲ بخشنے والا ہے تحمل رکھتا۔

.155

اے ایمان والو! تم نہ ہو ان کی طرح جو منکر ہوئے،

اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو جب سفر کو نکلیں ملک میں یا ہوں جہاد میں، کہ اگر رہتے ہم پاس نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔

اور اﷲ اس سے ڈالے افسوس (حسرت) ان کے دل میں۔

اور اﷲ ہے جِلاتا (زندہ رکھتا) اور مارتا۔

 اور اﷲ تمہارے کام دیکھتا ہے۔

.156

اور اگر تم مارے گئے اﷲ کی راہ میں یا مر گئے توبخشش اﷲ کی اور مہربانی بہتر ہے اس (چیز) سے جو جمع کرتے ہیں۔

.157

 اور اگر تم مر گئے یا مارے گئے، اﷲ ہی پاس اکھٹے ہو گے۔

.158

 سو کچھ اﷲ کی مہر (رحمت) ہے، جو تُو نرم دل ملا ان کو۔

اور اگر تُو ہوتا سخت گو(مزاج) اور سخت دل تو منتشر ہو جاتے تیرے گرد سے۔

سو تُو اُن کو معاف کر، اور ان کے واسطے بخشش مانگ اور ان سے مشورت لے کام میں۔

پھر جب ٹھہر (پختہ فیصلہ کر) چکا تو بھروسا کر اﷲ پر۔

 اﷲ چاہتا ہے توکل والوں کو۔

.159

 اگر اﷲ تم کو مدد کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہ ہو گا۔

اور جو وہ تم کو چھوڑ دے گا پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے گا اس کے بعد۔

اور اﷲ پر بھروسا (کرنا) چاہیئے مسلمانوں کو۔

.160

اور نبی کا کام نہیں کہ کچھ چھپا رکھے،

 اور جو کوئی چھپائے گا وہ لائے گا اپنا چھپایا دن قیامت کے۔

پھر پورا پائے گا ہر کوئی اپنا کمایا، اور اُن پر ظلم نہ ہو گا۔

.161

کیا ایک شخص جو تابع ہے اﷲ کی مرضی کا، برابر ہے اسکے جو کما لایا غصّہ اﷲ کا اور اسکا ٹھکانا دوزخ۔

 اور کیا بُری جگہ پہنچا۔

.162

 لوگ کئی درجے ہیں اﷲ کے ہاں۔

 اوراﷲ دیکھتا ہے جو کرتے ہیں۔

.163

 اﷲ نے احسان کیا ایمان والوں پر، جو بھیجا ان میں رسول انہی میں کا،

پڑھتا ہے اُن پر آیتیں اس کی اور سنوارتا ہے ان کو، اور سکھاتا ہے ان کو کتاب اور کام کی بات (حکمت)۔

اور وہ تو پہلے سے صریح (بالکل)گمراہ تھے۔

.164

 کیا جس وقت تم کو پہنچی ایک تکلیف، کہ تم پہنچا چکے ہو(دشمنوں کو) اس کے دو برابر (دُونا)، کہتے ہو یہ کہاں سے آئی؟

تُو کہہ، یہ آئی تم کو اپنی (ہی)طرف سے۔

 اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔

.165

اور جو کچھ تم کو سامنے آیا (نقصان پہنچا)جس دن بھڑیں دونوں فوجیں، سو اﷲ کے حکم سے،

 اور اس واسطے کہ معلوم کرے ایمان والوں کو۔

.166

 اور تا (کہ)معلوم کرے ا نکو جو منافق تھے۔

اور کہا اُن کو کہ آؤ لڑو اﷲ کی راہ میں یا دفع کرو دشمن،

بولے، (اگر) ہم کو معلوم ہو لڑائی تو تمہارا ساتھ کریں (چلتے)۔

وہ لوگ اس دن کُفر کی طرف نزدیک ہیں ایمان سے۔

کہتے ہیں اپنے منہ سے جو نہیں ان کے دل میں۔ اور اﷲ خوب جانتا ہے جو چھپاتے ہیں۔

.167

 وہ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو اور آپ بیٹھ رہے ہیں(گھروں میں)، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے،

تُو کہہ اب ہٹا (کر دکھا)دے جو اپنے اوپر سے موت، اگر تم سچے ہو۔

.168

 اور تُو نہ سمجھ،جو لوگ مارے گئے اﷲ کی راہ میں، مُردے۔

 بلکہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزی پاتے۔

.169

 خوشی کرتے ہیں اس پر جو دیا ان کو اﷲ نے اپنے فضل سے،

اور خوش وقت (مطمئن) ہوتے ہیں ان کی طرف سے جو ابھی نہیں پہنچے اُن میں پیچھے سے۔

اس واسطے کہ نہ ڈر ہے اُن پر، نہ اُن کو غم ہے۔

.170

 خوش وقت (مطمئن) ہوتے ہیں اﷲ کی نعمت اور فضل سے،اور اس سے کہ اﷲ ضائع نہیں کرتا مزدوری (اجر)ایمان والوں کی۔

.171

جن لوگوں نے حکم مانا اﷲ کا اور رسول کا، بعد اس کے کہ اُن میں پڑ چکا تھا کٹاؤ (زخم)۔

جو ان میں نیک ہیں اورپرہیزگار ان کو ثواب بڑا ہے۔

.172

جن کو کہا لوگوں نے کہ انہوں نے جمع کیا(بہت) اسباب تمہارے مقابلے کو، سو تم ان سے خطرہ (ڈرا)کرو، پھر ان کو زیادہ آیا ایمان۔

اور بولے بس ہے ہم کو اﷲ اور کیا خوب کار ساز ہے۔

.173

پھر چلے آئے، اﷲ کے احسان سے اور فضل سے کچھ نہ پہنچی بُرائی، اور چلے اﷲ کی رضا پر،

اور اﷲ کا فضل بڑا ہے۔

.174

یہ جو ہے سو شیطان ہے کہ ڈراتا ہے اپنے دوستوں سے، سو تم ان سے مت ڈرو،

اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

.175

اور تجھ کو غم نہ آئے ان لوگوں سے جو دوڑ کر لگتے ہیں کفر کرنے۔

 وہ نہ بگاڑیں گے اﷲ کا کچھ۔

اﷲ چاہتا ہے کہ ان کو فائدہ نہ دے آخرت میں۔ اور ان کو بڑی مار (عذاب عظیم)ہے۔

.176

جنہوں نے خرید کیا کُفر ایمان کے بدلے، وہ نہ بگاڑیں گے اﷲ کا کچھ، اور انکو دُکھ کی مار (دردناک عذاب)ہے۔

.177

 اور یہ نہ سمجھیں منکر کہ ہم جو فرصت دیتے ہیں انکو، کچھ بھلا ہے اُنکے حق میں۔

ہم تو فرصت دیتے ہیں ان کو تا بڑھے جائیں گناہ میں،

 اور ان کو ذلت کی مار ہے۔

.178

 اﷲ وہ نہیں کہ چھوڑ دے گا مسلمانوں کو جس طرح (حالت)پر تم ہو، جب تک جُدا نہ کرے ناپاک کو پاک سے۔

اور اﷲ یوں نہیں کہ تم کو خبر دے غیب کی، اور لیکن اﷲ چھانٹ لیتا ہے اپنے رسولوں میں جسکو چاہے۔

سو تم یقین لاؤ اﷲ پر اور اس کے رسولوں پر،

اور اگر تم یقین پر رہو اور پرہیزگاری پر تو تم کو بڑا ثواب ہے۔

.179

 اور نہ سمجھیں جو لوگ بخل کرتے ہیں ایک چیز پر کہ اﷲ نے انکو دی ہے اپنے فضل سے،کہ یہ (بخل)بہتر ہے اُنکے حق میں،

 بلکہ یہ بُرا ہے اُنکے واسطے،

 آگے طوق پڑے گا جس پر بخل کیا تھا، دن قیامت کے۔

اور اﷲ وارث ہے آسمان اور زمین کا، اور اﷲ جو کرتے ہو ، سو جانتا ہے۔

.180

 اور اﷲ نے سنی انکی بات جنہوں نے کہا کہ اﷲ فقیر ہے اور ہم مال دار۔

اب لکھ رکھیں گے ہم اُنکی بات،

 اور جو خون کئے ہیں نبیوں کے ناحق، اور کہیں گے چکھو جلن کی مار۔

.181

 یہ بدلہ اس کا ہے جو تم نے اپنے ہاتھوں بھیجا، اور اﷲ ظلم نہیں کرتا بندوں پر۔

.182

 وہ جو کہتے ہیں کہ اﷲ نے ہم کو کہہ رکھا ہے

کہ ہم یقین نہ کریں کسی رسول کوجب تک نہ لائے ہم پاس ایک نیاز جس کو کھا جائے آگ۔

تُو کہہ تم میں آ چکے کتنے رسول مجھ سے پہلے نشانیاں لے کر اور یہ بھی جو تم نے کہا،

پھر انکو کیوں مارا تم نے اگر تم سچے ہو۔

.183

 پھر اگر یہ تجھ کو جھٹلائیں تو آگے تجھ سے جھٹلائے گئے بہت رسول، جو لائے نشانیاں اور ورق اور کتاب چمکتی۔

.184

ہر جی کو چکھنی ہے موت،

 اور تم کو پورے بدلے ملیں گے، دن قیامت کے۔

پھر جس کو سرکا دیا آگ سے، اور داخل کیا جنت میں، اس کا کام بنا۔

اور دنیا کی زندگی تو یہی ہے دغا کی جنس۔

.185

البتہ تم آزمائے جاؤ گے مال سے اور جان سے،

اور البتہ سنو گے اگلی کتاب والوں سے اور مشرکوں سے، بدگوئی بہت،

اور اگر تم ٹھیرے رہو اور پرہیزگاری کرو تو یہ ہمت کے کام ہیں۔

.186

 اور جب اﷲ نے اقرار لیا کتاب والوں سے، کہ اس کو بیان کرو گے لوگوں پاس اور نہ چھپاؤ گے،

پھر پھینک دیا وہ اقرار اپنی پیٹھ کے پیچھے، اور خرید کیا اس کے بدلے مول تھوڑا۔

سو کیا بری خرید کرتے ہیں۔

.187

 تو نہ سمجھ کہ جو لوگ خوش ہوتے ہیں اپنے کئے پراور تعریف چاہتے ہیں بن کئے پر،

سو نہ جان کہ وہ خلاص ہیں عذاب سے۔ اور ان کو دُکھ کی مار ہے۔

.188

 اور اﷲ کو ہے سلطنت آسمان اور زمین کی، اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے۔

.189

 آسمان اور زمین کا بنانا، رات اور دن کا بدلتے آنا، اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو۔

.190

 وہ جو یاد کرتے ہیں اﷲ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے،اور دھیان کرتے ہیں آسمان اور زمین کی پیدائش میں۔

اے رب ہمارے! تُو نے یہ عبث نہیں بنایا۔ تُو پاک ہے عیب سے، سو ہم کو بچا دوزخ کے عذاب سے۔

.191

 اے رب ہمارے! جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا، سو اس کو رسوا کیا۔ اورگنہگاروں کا کوئی نہیں مددگار۔

.192

 اے رب ہمارے ہم نے سنا کہ پکارنے والا پکارتا ہے ایمان لانے کو، کہ ایمان لاؤ اپنے رب پر، سو ہم ایمان لائے،

اے رب ہمارے اب بخش گناہ ہمارے اور اتار ہماری برائیاں اور موت دے ہم کو نیک لوگوں کے ساتھ۔

.193

 اے رب ہمارے اور دے ہم کو جو وعدہ دیا تو نے اپنے رسولوں کے ہاتھ۔

 اور رسوا نہ کر ہم کو قیامت کے دن۔تحقیق تُو خلاف نہیں کرتا وعدہ۔

.194

پھر قبول کی اُن کی دُعا اُن کے رب نے،

کہ میں ضائع نہیں کرتا محنت کسی محنت کرنے والے کی، تم میں سے مرد یا عورت، تم آپس میں ایک ہو۔

پھر جو لوگ وطن سے چھوٹے اور نکالے گئے اپنے گھروں سے اور ستائے گئے میری راہ میں، اور لڑے اور مارے گئے ہیں،

اتاروں گا اُن سے برائیاں اُن کی اور داخل کروں گا باغوں میں جن کے نیچے بہتی ندیاں۔

بدلا اﷲ کے ہاں سے۔اور اﷲ ہی کے ہاں ہے اچھا بدلہ۔

.195

 تُو نہ بہک اس پر کہ آتے جاتے ہیں کافر شہروں میں۔

.196

یہ فائدہ ہے تھوڑا سا، پھر ان کا ٹھکانا دوزخ ہے،

 اور کیا بُری تیاری ہے۔

.197

 لیکن جو لوگ ڈرتے رہے اپنے رب سے، ان کو باغ ہیں جن کے نیچے بہتی ندیاں، رہ پڑے ان میں،

 مہمانی اﷲ کے ہاں سے۔

اور جو اﷲ کے ہاں ہے سو بہتر ہے نیک بختوں کو۔

.198

 اور کتاب والوں میں بعضے وہ بھی ہیں جو مانتے ہیں اﷲ کو، اور جو اترا تمہاری طرف اور جو اترا ان کی طرف،

 ڈرتے ہیں اﷲ کے آگے، نہیں خرید کرتے اﷲ کی آیتوں پر مول تھوڑا۔

وہ جو ہیں، اُن کو اُن کی مزدوری ہے اُن کے رب کے ہاں۔

بیشک اﷲ شتاب (جلد) لیتا ہے حساب۔

.199

 اے ایمان والو! ثابت رہو، اور مقابلے میں مضبوطی کرو اور لگے رہو۔

 اور ڈرتے رہو اﷲ سے، شاید تم مراد کو پہنچو۔

 *********

.200

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com