القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ الاعراف

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 الم لام میم صاد۔

.1

 یہ کتاب اُتری (نازل ہوئی) ہے تجھ کو، سو اس سے تیرا جی نہ رُکے (گھبرائے)

 کہ خبردار کر دے تو اس سے (منکرین کو) ،اور نصیحت ہو ایمان والوں کو۔

.2

چلو اسی پرجو اُترا (نازل ہوا) تم کو تمہارے رب سے، اور نہ چلو اسکے سوا اور رفیقوں کے پیچھے،

تم کم دھیان کرتے ہو۔

.3

 اور کئی بستیاں ہم نے کھپا (ہلاک کر) دیں کہ پہنچا ان پر ہمارا عذاب راتوں رات یا دوپہر کو سوتے۔

.4

پھر یہی تھی اُن کی پکار، جب پہنچا اُن پر ہمارا عذاب کہ کہنے لگے ہم تھے گنہگار۔

.5

 سو ہم کو پوچھنا ہے ان سے جن پاس رسول بھیجے تھے، اور ہم کو پوچھنا ہے رسولوں سے۔

.6

 پھر ہم احوال سُنا دیں گے ان کو اپنے علم سے، اور ہم کہیں غائب نہ تھے۔

.7

 اور تول اس دن ٹھیک (عین حق) ہے۔

پھر جس کی تولیں (پلڑے) بھاری پڑیں، سو وہی ہیں جن کا بھلا ہوا۔

.8

اور جس کی تولیں (پلڑے) ہلکی پڑیں، سو وہی ہیں جو ہارے اپنی جان(خسارے میں پڑے) ،

اس پر (وجہ سے) کہ ہماری آیتوں سے زبردستی کرتے تھے۔

.9

 اور ہم نے تم کو جگہ دی زمین میں، اور بنا دیں اس میں تم کو روزیاں (سامانِ زیست) ۔

(مگر) تم تھوڑا شکر کرتے ہو۔

.10

 اور ہم نے تم کو پیدا کیا، پھر صورت دی،

پھر کہا فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو، تو سجدہ کیا مگر ابلیس۔نہ تھا (وہ) سجدہ والوں میں۔

.11

کہا تجھ کو کیا مانع تھا کہ سجدہ نہ کیا، جب میں نے فرمایا؟

بولا، میں اس سے بہتر ہوں۔مجھ کو تُو نے بنایا آگ سے اور اس کو بنایا خاک سے۔

.12

 کہا تُو اُتر یہاں سے، تجھ کو یہ نہ ملے گا (کوئی حق نہیں) کہ تکبر کرے یہاں، سو نکل،تُو (ان میں سے ہے جو) ذلیل ہے۔

.13

 بولا، مجھ کو فرصت (مہلت) دے، جس دن تک لوگ جی اُٹھیں (دوبارہ اٹھائے جائیں گے) ۔

.14

 کہا تجھ کو فرصت (مہلت) ہے۔

.15

 بولا، تو جیسا تُو نے مجھے بد راہ (گمراہ) کیا ہے، میں بیٹھوں (گھات لگاؤں) گا انکی تاک میں تیری سیدھی راہ پر۔

.16

 پھر اُن پر آؤں (کو گھیروں گا) گا آگے سے اور پیچھے سے، اور داہنے سے اور بائیں سے،

اور نہ پائے گا تُو اکثر ان میں شکرگذار۔

.17

 کہا، نکل یہاں سے مردُود کھدیڑا(ٹھکرایا ہوا) ۔

جو کوئی ان میں تیری راہ چلا، میں بھر دوں گا دوزخ تم سب سے اکھٹے۔

.18

 اور اے آدم! بس تُو اور تیرا جوڑا (تیری بیوی) جنت میں،

پھر کھاؤ جہاں سے چاہو،اور پاس نہ جاؤ اس درخت کے۔ پھر (ورنہ) تم ہو گے گنہگار۔

.19

پھر بہکایا ان کو شیطان نے، تا (کہ) کھولے اُن پر جو ڈھکے تھے اُن سے اُن کے عیب (اُنکی شرم گاہیں) ،

اور وہ بولا، تم کو جو منع کیا ہے رب تمہارے نے اس درخت سے،یہ کہ کبھی ہو (نہ) جاؤ فرشتے، یا ہو (نہ) جاؤ ہمیشہ جینے والے۔

.20

 اور اُن کے پاس قسم کھائی کہ میں تمہارا دوست (خیرخواہ) ہوں۔

.21

پھر ڈھلایا (مائل کیا) اُن کو فریب سے۔

پھر جب چکھا دونوں نے درخت، کھل گئے ان پر عیب (ستر) اُنکے اور لگے جوڑنے (ڈھانکنے) اپنے اوپر پات(پتے) بہشت کے۔

اور پکارا اُن کو اُن کے رب نے، میں نے منع نہ کیا تھا تم کو اس درخت سے،اور کہا تھا تم کو کہ شیطان تمہارا دشمن صاف ہے۔

.22

 بولے، اے رب ہمارے! ہم نے خراب کیا اپنی جان کو، اور اگر تو نہ بخشے ہم کو اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ہو جائیں نا مراد۔

.23

 کہا تم اُترو، ایک دوسرے کے دشمن ہوئے۔

اور تم کو زمین پر ٹھہرنا ہے، اور برتنا ہے ایک وقت تک۔

.24

 کہا اسی میں تم جیو گے۔ اور اسی میں تم مرو گے، اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔

.25

 اے اولاد آدم کی! ہم نے اُتاری تم پر پوشاک کہ ڈھانکے تمہارے عیب، اور رونق(زینت) ،

اور کپڑے (لباس) پرہیزگاری کے، سو بہتر ہیں۔

یہ قدرتیں (نشانیوں میں سے) ہیں اﷲ کی، شاید وہ لوگ دھیان کریں۔

.26

 اے اولاد آدم کی! نہ بہکاوے تم کو شیطان، جیسا نکالا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے،

اُتروائے ان کے کپڑے کہ دکھا ئے اُن کو عیب (شرم گاہیں) اُن کے۔

وہ دیکھتا ہے تم کو اور اسکی قوم جہاں سے تم اُن کو نہ دیکھو۔

ہم نے رکھے ہیں شیطان رفیق اُنکے جو ایمان نہیں لاتے۔

.27

 اور جب کریں کچھ عیب کا کام، کہیں ہم نے دیکھا اسطرح کرتے اپنے باپ دادوں کو، اور اﷲ نے ہم کو یہ حکم کیا۔

تُو کہہ! اﷲ حکم نہیں کرتا عیب کے کام کو،

کیوں جھوٹ بولتے ہو اﷲ پر؟ جو معلوم نہیں رکھتے۔

.28

 تُو کہہ! میرے رب نے فرمائی ہے دینداری۔

اور سیدھے کرو اپنے منہ ہر نماز کے وقت اور پکارو اس کو نرے اسکے حکم بردار ہو کر۔

جیسا تم کو پہلے بنایا(پیدا کیا) ، دوسری بار بنو (پیدا کئے جاؤ) گے۔

.29

 ایک فرقے کو راہ دی اور ایک فرقے پر ٹھہری گمراہی۔

انہوں نے پکڑے شیطان رفیق اﷲ چھوڑ کر، اور سمجھتے ہیں کہ وہ راہ پر ہیں۔

.30

 اے اولاد آدم! لو اپنی رونق (آرائش) ہر نماز کے وقت، اور کھاؤ اور پیو، اور مت اڑاؤ(تجاوز کرو) ۔

اس (اﷲ) کو خوش نہیں آتے اُڑانے (حد سے بڑھنے) والے۔

.31

 تُو کہہ: کس نے منع کی ہے رونق اﷲ کی جو پیدا کی اُ سنے اپنے بندوں کے واسطے اور ستھری چیزیں کھانے کی؟

تُو کہہ! وہ ہے(چیزیں ہیں) ایمان والوں کے واسطے دنیا کی زندگی میں، نری (صرف) انکی ہیں قیامت کے دن۔

یوں بتاتے ہیں ہم آیتیں، جن لوگوں کو بوجھ ہے۔

.32

 تُو کہہ! میرے رب نے منع کیا ہے، سو بے حیائی کے کام جو کھلے ہیں اُن میں اور جو چھپے،اور گناہ اور زیادتی نا حق،

 اور یہ کہ شریک کرو اﷲ کا جس کی بات اس نے سند نہیں اتاری،

اور یہ کہ جھوٹ بولو اﷲ پر، جو تم کو معلوم نہیں۔

.33

 اور ہر فرقے کا (اُمَّت کے لئے) ایک وعدہ (مہلت) ہے،

پھر جب پہنچا انکا وعدہ (مقررہ وقت) ، نہ دیر کریں گے ایک گھڑی اور نہ جلدی۔

.34

 اے اولاد آدم کی! کبھی پہنچیں تم پاس رسول تم میں کے، سنائیں تم کو میری آیتیں،

تو جس نے خطرہ (بچاؤ) کیا اور سنوار پکڑی(اپنی اصلاح کی) ، نہ ڈر ہے اُن پر نہ وہ غم کھائیں۔

.35

 اور جنہوں نے جھوٹ جانیں آیتیں ہماری اور تکبر کیا اُنکی طرف سے، وہ ہیں دوزخ کے لوگ، اس میں رہ پڑے۔

.36

پھر اس سے ظالم کون؟ جو جھوٹ باندھے اﷲ پر، یا جھٹلائے اسکے حکم کو۔

وہ لوگ پائیں گے جو انکا حصہ لکھا کتاب (نوشتۂ تقدیر) میں،

یہاں تک جب پہنچے ان پاس بھجے ہوئے ہمارے جان لینے کو، بولے، کیا ہوئے جنکو تم پکارتے تھے اﷲ کے سوا؟

بولے، ہم سے گُم ہوئے اور قائل ہوئے اپنی جان پر(گواہی دیں گے اپنے خلاف) ، کہ وہ تھے منکر۔

.37

فرمایا، داخل ہوساتھ اور اُمتوں کے جو تم سے پہلے ہو چکی ہیں، جن اور انسان، آگ میں۔

جہاں داخل ہوئی ایک اُمت، منت (لعنت) کرنے لگی دوسری کی۔

جب تک گر چکے اس میں سارے، کہا پچھلوں (بعد میں آنے والوں) نے پہلوں کو،

اے رب ہمارے! ہم کو انہوں نے گمراہ کیا، سو تُو دے ان کو دُونا عذاب آگ کا۔

فرمایا کہ دونوں کو دُونا (عذاب) ہے، پر تم نہیں جانتے۔

.38

 اور کہا پہلوں نے پچھلوں کو، سو کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر زیادتی (فضیلت) ،(لہذا) اب چکھو عذاب بدلہ اپنی کمائی کا۔

.39

بیشک جنہوں نے جھٹلائیں ہماری آیتیں اور انکے سامنے تکبر کیا،

نہ کھلیں گے انکو دروازے آسمان کے، اور نہ داخل ہوں گے جنت میں، جب تک پیٹھے (گزرے) اونٹ سوئی کے ناکے میں،

اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں گنہگاروں کو۔

.40

 ان کو دوزخ کے فرش ہیں اور اوپر (اسی کا) سائبان۔

اور ہم یوں بدلہ دیتے ہیں بے انصافوں کو۔

.41

اور جو یقین لائے اور کیں بھلائیاں،

 (ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ)ہم بوجھ نہیں رکھتے کسی پر، مگر اس کے مقدور کا(اس کی استطاعت کے مطابق)۔

وہ ہیں جنت کے لوگ۔ وہ اس میں رہ پڑے (رہیں گے ہمیشہ)۔

.42

 اور نکال لی ہم نے جو انکے دل میں تھی خفگی (ایک دوسرے کے خلاف) ،بہتی ہیں اُن کے (محلات کے) نیچے نہریں۔

اور کہتے ہیں، شکر اﷲ کو جس نے ہم کویہاں راہ دی۔ اور ہم نہ تھے راہ پانے والے اگر نہ راہ دیتا ہم کو اﷲ۔

بیشک لائے تھے رسول، ہمارے رب کی تحقیق (سچی) بات،

اور آواز ہوئی کہ یہ جنت ہے، (جسکے) وارث ہوئے تم اسکے، بدلہ اپنے کاموں کا(جو تم کرتے تھے دنیا میں) ۔

.43

 اور پکارا جنت والوں نے آگ (جہنم) والوں کو کہ ہم پا چکے جو ہم کو وعدہ دیا تھا ہمارے رب نے تحقیق (سچا) ،

سو تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے وعدہ دیا تھا تحقیق (سچا) ،

(وہ) بولے ، ہاں۔

پھر پکارا ایک پکارنے والا اُن کے بیچ میں، کہ لعنت ہے اﷲ کی بے انصافوں پر۔

.44

جو روکتے ہیں اﷲ کی راہ اور ڈھونڈتے ہیں اس میں کجی (ٹیڑھا پن) ۔ اور وہ آخرت سے منکر ہیں۔

.45

 اور دونوں کے بیچ میں (حائل) ہے ایک دیوار (اوٹ) ،

اور اسکے سرے (مقام) پر مرد (لوگ) ہیں کہ پہچانتے ہیں ہر ایک کو اسکے نشان سے،

اور پکارے جنت والوں کو، کہ سلامتی ہے تم پر۔

(یہ لوگ) داخل نہیں ہوئے جنت میں (ابھی تک) اور (لیکن) وہ امیدوار ہیں۔

.46

 جب پھری اُن کی نگاہ دوزخ والوں کی طرف،بولے اے رب ہمارے! نہ کر ہم کو گنہگار لوگوں کے ساتھ۔

.47

 اور پکارے دیوار (اوٹ) کے سرے (مقام) والے ایک مَردوں (لوگوں) کو کہ انکو پہچانتے ہیں نشان سے،

بولے، کیا کام آیا تم کو جمع کرنا، اور جو تم تکبر کرتے تھے؟

.48

 (کیا) اب یہ وہی (اہل جنت) ہیں؟ کہ تم قسمیں کھاتے تھے، (کہ) نہ پہنچائے گا ان کو اﷲ کچھ مہر (رحمت) ۔

(اور ان سے کہا جائیگا) چلے (داخل ہو) جاؤ جنت میں، (آج) نہ ڈر ہے تم پر، نہ غم کھاؤ۔

.49

 اور پکارے آگ والے، جنت والوں کو، بہاؤ ہم پر تھوڑا پانی، (یا دو ہم کو) جو روزی تم کو دی اﷲ نے۔

بولے اﷲ نے یہ دونوں بند (حرام) کئے ہیں منکروں سے۔

.50

جنہوں نے ٹھہرایا ہے اپنا دین تماشا اور کھیل اور بہکے دنیا کی زندگی پر۔

سو آج ہم(اﷲ تعالیٰ) اُنکو بھلا دیں گے، جیسے وہ بھولے اپنے اس دن کا ملنا،اور جیسے تھے (وہ) ہماری آیتوں سے جھگڑتے۔

.51

اورہم نے اُن کو پہنچا دی ہے کتاب، جو کھول کر بیان کی ہے خبرداری سے،

راہ بتاتی (ہدایت) اور مہربانی (رحمت) ایمان والے لوگوں کو۔

.52

 کیا راہ دیکھتے (منتظر) ہیں؟ مگر یہی کہ وہ ٹھیک پڑے (انجام سامنے آ جائے) ۔

جس دن وہ ٹھیک پڑے گی (سامنے آئیگا) ، کہنے لگیں گے جو اسکو بھول رہے تھے پہلے، سچ بات لائے تھے ہمارے رب کے رسول،

اب کوئی ہیں سفارش والے؟ تو ہماری سفارش کریں، یا ہم کو پھر جانا ہو(دنیا میں) تو ہم کام کریں سوا اسکے جو کر رہے تھے۔

تحقیق ہارے اپنی جان، اور بھول گیا جو جھوٹ بناتے تھے۔

.53

 (بلاشبہ) تمہارا رب اﷲ ہے، جس نے بنائے آسمان و زمین چھ دن میں پھر بیٹھا تخت پر۔

اوڑھاتا ہے رات پر دن، اس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا،

اور سورج اور چاند اور تارے، کام لگے اس کے حکم پر،

سن لو! اسی کا کام ہے بنانا(پیدا کرنا) اور حکم فرمانا۔ بڑی برکت اﷲ کی جو صاحب سارے جہان کا۔

.54

پکار اپنے رب کو گڑگڑاتے اور چپکے ۔

(یقیناً) اسکو خوش (بلاشبہ) نہیں آتے حد سے بڑھنے والے۔

.55

 اور مت خرابی مچاؤ زمین میں، اسکے سنوارے پیچھے اور پکارو اسکو ڈر اور توقع سے۔

بیشک مہر (رحمت) اﷲ کی نزدیک ہے نیکی والوں سے۔

.56

 اور وہی ہے کہ چلاتا ہے باویں (ہوائیں) خوشخبری لاتیں، آگے اسکی مہر (رحمت) سے۔

یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بدلیاں بھاری، ہانکا ہم نے اسکو ایک شہر(زمین) مُردے کی طرف،

پھر اس میں اتارا (برسایا) پانی، پھر اس سے نکالے سب طرح کے پھل۔

اسی طرح نکالیں گے مُردوں کو (قبروں سے) ، شاید تم دھیان (اس سے سبق حاصل) کرو۔

.57

 اور جو موضع (زمین) ستھرا ہے، اس کا سبزہ نکلتا ہے اسکے رب کے حکم سے۔

اور جو خراب ہے۔ اس میں سے نکلے سو ناقص(خراب پیداوار)۔

یوں پھیر پھیر (بار بار) بتاتے ہیں ہم آیتیں حق ماننے والے لوگوں کو۔

.58

 ہم نے بھیجا نوح کو اسکی قوم کی طرف تو بولا، اے قوم!

بندگی کرو اﷲ کی، کوئی نہیں تمہارا صاحب اسکے سوا۔ میں ڈرتا ہوں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے۔

.59

بولے سردار اسکی قوم کے، ہم دیکھتے ہیں تجھ کو صریح (بالکل) بہکا ہے۔

.60

 بولا، اے قوم! میں کچھ بہکا نہیں ہوں، مگر میں بھیجا ہوں جہان کے صاحب کا۔

.61

پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے، اور نصیحت کرتا ہوں اور جانتا ہوں اﷲ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے۔

.62

کیا تم کو تعجب ہوا کہ آئی تم کو نصیحت تمہارے رب کی طرف سے، ایک مرد کے ہاتھ تمہارے بیچ (جو تم) میں سے (ہے) ،

کہ تم کو ڈر سنائے اور تم بچو، اور شاید تم پر رحم ہو۔

.63

پھر اسکو جھٹلایا،پھر ہم نے بچا لیا اسکو اور جو (لوگ) اسکے ساتھ تھے کشتی میں،اور غرق کئے جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں۔

(بیشک) وہ لوگ تھے اندھے۔

.64

 اور عاد کی طرف بھیجا ان کا بھائی ہود۔

بولا، اے قوم!بندگی کرو اﷲ کی، کوئی نہیں تمہارا صاحب اسکے سوا،

کیا تم کو ڈر نہیں؟

.65

 بولے سردار جو منکر تھے اسکی قوم میں،ہم تو دیکھتے ہیں تجھ کو عقل نہیں، اور ہماری اٹکل (قیاص) میں تُو جھوٹا ہے۔

.66

بولا، اے قوم! میں کچھ بے عقل نہیں، لیکن میں بھیجا ہوں جہان کے صاحب کا۔

.67

 پہنچاتا ہوں تم کو پیغام اپنے رب کے اور میں تمہارا خیرخواہ ہوں معتبر (سچا) ۔

.68

 کیا تعجب ہوا کہ آئی تم کو نصیحت تمہارے رب کی ایک مرد کے ہاتھ تمہارے بیچ میں سے، کہ تم کو ڈر سنائے؟

اور یاد کرو کہ تم کو سردار کر دیا پیچھے قوم نوح کے، اور زیادہ دیا تم کو بدن میں پھیلاؤ،

سو یاد کرو احسان اﷲ کا، شاید تمہارا بھلا ہو۔

.69

 بولے، کیا تم اس واسطے آیا ہم پاس کہ بندگی کریں نِری (صرف) اﷲ کی اور چھوڑ دیں جنکو پوجتے تھے ہمارے باپ دادے،

تو لے آ جو وعدہ دیتا ہے(وہ عذاب) ہم کو، اگر تُو سچا ہے۔

.70

 کہا تم پر پڑ چکی ہے تمہارے رب کے ہاں سے، بلا (پھٹکار) اور غصہ (غضب) ۔

کیوں جھگڑتے ہو مجھ سے کئی ناموں پر کہ رکھ لئے ہیں تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے، نہیں اتاری اﷲ نے انکی کچھ سند۔

سو راہ دیکھو(انتظار کرو) ، میں بھی تمہارے ساتھ راہ دیکھتا(انتظار کرتا ہوں) ہوں۔

.71

پھر جب ہم نے بچا دیا اس کو اور جو اسکے ساتھ تھے اپنی مہر (رحمت) سے۔

اور پچھاڑی (جڑ) کاٹی اُن کی جو جھٹلاتے تھے ہماری آیتیں، اور نہ تھے ماننے والے۔

.72

 اور ثمود کی طرف بھیجا انکا بھائی صالح،

بولا، اے قوم!بندگی کرو اﷲ کی، کوئی نہیں تمہارا صاحب اس کے سوا۔

(بیشک) تم کو پہنچ چکی ہے (کھلی) دلیل تمہارے رب کی طرف سے۔

یہ اونٹنی اﷲ کی، اس سے ہے تم کو نشانی، سو اس کو چھوڑ دو، کھائے اﷲ کی زمین میں،

اور اس کو ہاتھ نہ لگاؤ بُری طرح(ارادے سے) ، پھر (ورنہ) تم کو پکڑے گی دُکھ کی مار۔

.73

 اور وہ یاد کرو، جب تم کو سردار کیا، عاد کے پیچھے، اور ٹھکانا دیا زمین میں،

بناتے ہو نرم زمین میں محل، اور تراشتے ہو پہاڑوں کے گھر۔

سو یاد کرو احسان اﷲ کے اور مت مچاتے پھرو زمین میں فساد۔

.74

کہنے لگے سردار جو بڑائی رکھتے تھے اس کی قوم میں سے، غریب لوگوں کو جو ان میں یقین رکھتے تھے،

یہ تم کو معلوم ہے کہ صالح بھیجا ہے اپنے رب کا۔

بولے، ہم کو جو اس کے ہاتھ بھیجا، یقین ہے۔

.75

 کہنے لگے بڑائی والے، جو تم نے یقین کیا سو ہم نہیں مانتے۔

.76

 پھر کاٹ (مار) ڈالی اُونٹنی، اور پھرے (سرکشی کی) اپنے رب کے حکم سے،

 اور بولے، اے صالح!لے آ ہم پر (وہ عذاب) جو وعدہ دیتا (جس سے ڈراتا) ہے اگر تُو بھیجا (واقعی رسول) ہے۔

.77

پھر پکڑا ان کو زلزلہ نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے۔

.78

پھر اُلٹا پھرا (منہ موڑا) اُن سے، اور بولا، اے قوم! میں پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کا اور بھلا چاہا تمہارا،

لیکن تم نہیں چاہتے، بھلا (خیرخواہی) چاہنے والوں کو۔

.79

اور لُوط کو بھیجا، جب کہا اپنی قوم کو، کیا کرتے ہو بے حیائی؟ تم سے پہلے نہیں کی یہ کسی نے جہان میں۔

.80

 تم تو دوڑتے ہو مَردوں پر، شہوت کے مارے، عورتیں چھوڑ کر۔

بلکہ تم لوگ حد پر نہیں رہتے۔

.81

 اور کچھ جواب نہ دیا اسکی قوم نے، مگر یہی کہا نکالو ان کو اپنے شہر سے،

یہ لوگ ہیں ستھرائی (پاکبازی)چاہتے۔

.82

پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت رہ گئی رہنے والوں میں۔

.83

 اور برسایا اُن پر (پتھروں کا)برساؤ،پھر دیکھ آخر کیسا ہوا حال گنہگاروں کا۔

.84

 اور مدین کو بھیجا ان کا بھائی شعیب۔

بولا، اے قوم! بندگی کرو اﷲ کی، کوئی نہیں تمہارا صاحب اس کے سوا۔

پہنچ چکی تم کو دلیل تمہارے رب کی طرف سے،

سو پوری کرو ماپ اور تول، اور مت گھٹا دو لوگوں کو ان کی چیزیں ،

اور مت خرابی ڈالو زمین میں اسکے سنوارے پیچھے۔

یہ بھلا ہے تمہارا، اگر تم کو یقین ہے۔

.85

 اور مت بیٹھو ہر راہ پر ڈر کے(ڈرانے کے لئے)، اور روکتے اﷲ کی راہ سے،اس کو جو کوئی یقین لائے اس (اﷲ)پر،

 اور ڈھونڈتے اس میں عیب۔

اور وہ یاد کرو، جب تھے تم تھوڑے، پھر تم کو بہت کیا،

اور دیکھو! آخر کیسا ہوا حال بگاڑنے والوں کا۔

.86

 اور اگر تم میں ایک فرقہ نے مانا ہے جو میرے ہاتھ بھیجا،اور ایک فرقے نے نہیں،

تو صبر کرو، جب تک اﷲ فیصلہ کرے ہمارے بیچ۔

اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا۔

.87

 بولے سردار، جو بڑائی رکھتے تھے اُسکی قوم کے،

ہم نکال دیں گے اے شعیب! تجھ کو اور جو یقین لائے ہیں تیرے ساتھ اپنے شہر سے، یا تم پھر آؤ ہمارے دین میں،

بولا، کیا ہم بیزار ہوں (تمہارے دین سے)تو بھی؟

.88

 ہم نے جھوٹ باندھا اﷲ پر، اگر پھر آئیں تمہارے دین میں، جب اﷲ ہم کو خلاص کر (نجات)چکا اس سے۔

 اور ہمارا کام نہیں کہ پھر آئیں اُس میں مگر کبھی اﷲ چاہے رب ہمارا۔

ہمارے رب کی سمائی میں ہے، سب چیز کی خبر۔

اﷲ پر ہم نے بھروسہ کیا ہے۔

اے رب فیصلہ کر ہمارے اور ہماری قوم کے بیچ انصاف کا، اور تُو ہے بہتر فیصلہ کرنے والا۔

.89

 اور بولے سردار جو منکر تھے اس قوم کے، اگر چلے تم شعیب کی راہ، بیشک تو تم خراب ہوئے۔

.90

پھر پکڑا ان کو زلزلے نے، پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے۔

.91

جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو، جیسے کبھی نہ رہے تھے وہاں۔

جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو وہی ہوئے خراب۔

.92

پھر اُلٹا پھرا (منہ موڑا) اُن سے اور بولا، اے قوم! پہنچا چکا تم کو پیغام اپنے رب کے اور بھلا چاہا تمہارا۔

اب کیا غم کھاؤں(اس عذاب کا) نہ مانتے (منکر) لوگوں پر۔

.93

 اور نہیں بھیجا ہم نے، کسی بستی میں کوئی نبی کہ نہ پکڑا وہاں کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں، شاید وہ گڑگڑائیں۔

.94

پھر بدل دی ہم نے بُرائی (بدحالی) کی جگہ بھلائی(خوشحالی) ،

جب تک (حتٰی کہ) بڑھ (خوب خوشحال ہو) گئے اور کہنے لگے، پہنچتی رہی ہمارے باپ دادوں کو بھی تکلیف اور خوشی،

پھر پکڑا ہم نے ان کو ناگہاں (اچانک) ، اور وہ خبر نہ رکھتے تھے۔

.95

 اور کبھی بستیوں والے یقین لاتے اور بچ (تقویٰ پر)چلتے تو ہم کھول دیتے اُن پر خوبیاں (برکتیں) آسمان اور زمین سے،

لیکن (وہ تو) جھٹلانے لگے، تو پکڑا ہم نے ان کو بدلہ ان کی کمائی کا۔

.96

اب کیا نڈر ہیں بستیوں والے کہ آ پہنچے اُن پر آفت ہماری راتوں رات جب سوتے ہوں۔

.97

یا نڈر ہیں بستیوں والے کہ آ پہنچے اُن پر آفت ہماری دن چڑھتے جب کھیلتے ہوں۔

.98

کیا یہ لوگ اﷲ کے داؤ کے داؤ کھ ڈر نہیں رکھتے؟

 سو نڈر نہیں اﷲ کے داؤ سے مگر جو لوگ خراب (تباہ) ہوں گے۔

.99

 اور کیا سوجھ نہیں آئی ان کو جو قائم (وارث) ہوتے مُلک پر، پیچھے (بعد) وہاں کے لوگ جا کر،

کہ (اگر) ہم چاہیں تو اُن کو (بھی) پکڑیں اُن کے گناہوں پر۔

اور ہم مُہر کرتے ہیں ان کے دل پر، سو وہ (کچھ بھی) نہیں سنتے۔

.100

یہ بستیاں ہیں کہ سناتے ہیں ہم تجھ کو کچھ احوال اُن کا۔

اور ان پاس پہنچ چکے اُن کے رسول نشانیاں لے کر، پھر ہر گز نہ ہوا کہ یقین لائیں جو پہلے بات جھٹلا چکے۔

یوں مُہر کرتا ہے اﷲ منکروں کے دل پر۔

.101

 اور نہ پایا انکے اکثروں میں ہم نے نباہ (عہد کا پاس) ۔ اور اکثر ان میں پائے بے حکم۔

.102

 پھر بھیجا ہم نے اُنکے پیچھے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اسکے سرداروں پاس، پھر زبردستی کی اُنکے سامنے۔

سو دیکھ! آخر کیسا ہوا حال بگاڑنے (فساد ڈالنے) والوں کا۔

.103

 اور کہا موسیٰ نے، اے فرعون! میں بھیجا ہوں جہان کے صاحب کا۔

.104

قائم ہوں اس پر کہ نہ کہوں اﷲ کی طرف سے مگر جو سچ ہے،

کہ لایا ہوں تم پاس نشانی تمہارے رب کی، سو رخصت (بھیج) دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

.105

بولا، اگر تُو آیا ہے کچھ نشان لے کر تو وہ لا اگر تو سچا ہے۔

.106

 جب ڈالا اپنا عصا تو اسی وقت وہ ہوا اژدھا صریح (جیتا جاگتا) ۔

.107

 اور نکالا اپنا ہاتھ تو اسی وقت وہ سفید نظر آیا دیکھتوں (دیکھنے والوں) کو۔

.108

بولے سردار فرعون کی قوم کے، یہ بیشک کوئی پڑھا (ماہر) جادوگر ہے۔

.109

نکالا چاہتا ہے تم کو تمہارے ملک سے، اب کیا مشورہ دیتے ہو؟

.110

 بولے، ڈھیل دے اسکو اور اسکے بھائی کو، اور بھیج پرگنوں (علاقوں) میں نقیب (خبر کرنے والے) ۔

.111

 کہ لادیں تم پاس جو ہو پڑھا (ماہر) جادوگر۔

.112

 اور آئے جادوگر فرعون پاس، بولے، (ضرور) ہماری کچھ مزدوری (صلہ) ہے؟ اگر ہم غالب ہوئے۔

.113

بولا، ہاں اور تم پاس رہا کرو (میرے مقرب ہو) گے۔

.114

 بولے، اے موسیٰ یا تُو ڈال (پھینک) یا ہم ڈالتے (پھینک) ہیں۔

.115

 کہا(موسیٰ نے تم ہی) ڈالو!

پھر جب ڈالا (پھینکا) ، باندھ (مسحور کر) دیں لوگوں کی آنکھیں اور انکو ڈرا (مرعوب کر) دیا اور کر لائے (ڈالا) بڑا جادو۔

.116

اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کو، کہ جاڈال (پھینکو) اپنا عصا۔

تبھی وہ لگا نگلنے جو سانگ (سوانگ، بہروپ) وہ بناتے تھے۔

.117

 تب داؤ پڑا حق کا، اور غلط (باطل) ہوا جو (سوانگ) وہ کرتے تھے۔

.118

تب ہارے اس جگہ اور پھرے (لوٹ گئے) ذلیل ہو کر۔

.119

 اور ڈالے گئے (غیبی قوت سے) ساحر سجدہ میں۔

.120

 بولے، ہم نے مانا جہان کے صاحب کو۔

.121

 جو صاحب موسیٰ اور ہارون کا۔

.122

 بولا فرعون، تم نے مان لیا اس کو، ابھی میں نے حکم نہیں دیا تم کو،

(یقیناً) یہ مکر ہے کہ باندھ لائے ہو شہر میں، کہ نکالو یہاں سے اسکے لوگ۔

سو اب تم جانو گے (اسکا نتیجہ) ۔

.123

میں کاٹوں گا تمہارے ہاتھ اور دوسرے پاؤں پھر سولی چڑھاؤں گا تم سب کو۔

.124

 بولے (کچھ پرواہ نہیں، بحرحال) ہم کو اپنے رب کی طرف (لوٹ کر) جانا ہے۔

.125

 اور تُو ہم سے یہی بیر (عداوت) کرتا ہے کہ مانیں ہم نے اپنے رب کی نشانیاں، جب ہم تک پہنچیں،

اے رب! دہانے کھول دے ہم پر صبر کے اور ہم کو مار (اس حالت میں کہ ہوں ہم) مسلمان۔

.126

 اور بولے سردار قوم فرعون کے،کیوں چھوڑتا ہے موسیٰ کو اور اسکی قوم کو

کہ دھوم اٹھائیں (فساد مچائیں) ملک میں اور موقوف کرے(چھوڑ دے) تجھ کو اور تیرے بُتوں کو۔

بولا، اب ہم ماریں گے اُن کے بیٹے اور جیتی رکھیں گے اُن کی عورتیں۔ اور اُن پر ہم زور کریں گے۔

.127

 موسیٰ نے کہا اپنی قوم کو، مدد مانگو اﷲ سے اور ثابت رہو۔

زمین ہے اﷲ کی، اسکا وارث کرے جسکو چاہے اپنے بندوں میں۔

اور آخر بھلا ہے ڈر والوں کا۔

.128

بولے، ہم پر تکلیف رہی تیرے آنے سے پہلے اور جب تُو ہم میں آ چکا۔

کہا، نزدیک ہے کہ رب تمہارا کھپا (ہلاک کر) دے تمہارے دشمن کو اور نائب کرے تم کو ملک میں،

پھر دیکھے تم کیسا کام (عمل) کرتے ہو۔

.129

 اور (پھر) ہم نے پکڑا فرعون والوں کو قحطوں میں اور میوؤں کے نقصان میں،شاید وہ دھیان (نصیحت حاصل) کریں۔

.130

 پھر جب پہنچی ان کو بھلائی (خوشحالی) کہنے لگے، یہ ہے ہمارے واسطے ،

اور اگر پہنچے بُرائی شومی (نحوست) بتاتے موسیٰ کی، اور اسکے ساتھ والوں کی،

سُن لو: شومی (نحوست) اُن کی اﷲ ہی پاس ہے،پر (لیکن) اکثر لوگ نہیں جانتے۔

.131

 اور کہنے لگے، جو تُو لائیگا ہم پاس نشانی کہ ہم کو اس سے جادو کرے، سو ہم تجھ کو نہ مانیں (ایمان لائیں) گے۔

.132

پھر بھیجا ان پر غرقاب اور ٹڈی اور چچڑی اور مینڈک اور لہو، کتنی نشانیاں جُدی جُدی ۔

پھر تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گنہگار۔

.133

 اور جس بار پڑا اُن پر عذاب، بولے، اے موسیٰ پکار ہمارے واسطے اپنے رب کو جیسا سکھا رکھا ہے تجھ کو۔

اور تُو نے اُٹھایا ہم سے عذاب، تو بیشک تجھ کو مانیں گے اور رخصت کریں گے تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو۔

.134

 پھر جب ہم نے اُٹھا لیا اُن سے عذاب، ایک وعدے تک کہ اُن کو پہنچنا تھا، تبھی (عہد سے) منکر ہو جاتے۔

.135

 پھر ہم نے بدلا لیا اُن سے،پھر ڈبو دیا گہرے پانی میں، اس پر کہ جھٹلائیں ہماری آیتیں، اور کر رہے اُن سے تغافل (بے پرواہی) ۔

.136

اور وارث کئے ہم نے جو لوگ کمزور ہو رہے تھے، اس زمین کے مشرق کے اور مغرب کے، جس میں برکت رکھی ہے ہم نے۔

اور پورا ہوا نیکی (خیر) کا وعدہ تیرے رب کابنی اسرائیل پر، اس پر کہ وہ ٹھہرے (صبر کرتے) رہے۔

اور خراب (برباد) کیا ہم نے جو بنایا تھا فرعون اور اسکی قوم نے، اور انگور چڑھاتے چھتریوں پر۔

.137

 اور پار اُتارا ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے، تو وہ پہنچے ایک لوگوں پر، کہ پوجنے میں لگ رہے تھے اپنے بتوں پر۔

بولے، اے موسیٰ بنا دے ہم کو بھی ایک بُت، جیسے اُن کے بُت ہیں۔

کہا، تم لوگ جہل (نادانی) کرتے ہو۔

.138

یہ لوگ جو ہیں، تباہ ہونا ہے (ان کو) جس کام میں لگے ہیں۔ اور غلط ہے جو کر رہے ہیں ۔

.139

 کہا کیا اﷲ کے سوا لا دوں تم تم کو کوئی معبود؟ اور اس نے تم کو بزرگی دی سب جہان پر۔

.140

 اور وہ وقت یاد کرو، جب بچا لیا ہم نے تم کو فرعون والوں سے، دیتے تھے تھے تم کو بُری مار۔

مار ڈالتے تمہارے بیٹے، اور جیتی رکھتے تمہاری عورتیں،

اور اس میں احسان (آزمائش) ہے تمہارے رب کا بڑا۔

.141

اور وہ (ملاقات کا وقت)ٹھہرایا ہم نے موسیٰ سے تیس رات کا، اور پُورا کیا ا سکو دس سے،

تب پُوری ہوئی مدت تیرے رب کی، چالیس رات۔

اور کہا موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو، میرا خلیفہ رہ میری قوم میں،اور سنوار (اصلاح کرنا) ، اور نہ چل  بگاڑنے والوں کی راہ۔

.142

 اور جب پہنچا موسیٰ ہمارے وقت پر اور کلام کیا اس سے اسکے رب نے ،

بولا، اے رب! تُو مجھ کو دکھا کہ میں تجھ کو دیکھوں۔

کہا، تو مجھ کو ہر گز نہ دیکھے گا،

لیکن دیکھتا رہ پہاڑ کی طرف، جو وہ ٹھہرا اپنی جگہ، تو آگے(ضرور) تو دیکھے گامجھ کو۔

پھر جب نمود ہوا (تجلی ظاہر ہوئی) رب اسکا پہاڑ کی طرف ، کیا اسکو ڈھا کر برابر (ریزہ ریزہ) اور گر پڑا موسیٰ بے ہوش ۔

پھر جب چونکا(ہوش میں آیا) ، بولا،تیری ذات پاک ہے،

 میں نے توبہ کی تیرے پاس، اور میں (ہوں) سب سے پہلے یقین لایا۔

.143

فرمایا، اے موسیٰ! میں نے تجھ کو امتیاز دیا، لوگوں سے، اپنے پیغام بھیجنے کا، ااور اپنے کلام کرنے کا۔

سو (تھام) لے جو میں نے تجھ کو دیا، اور شاکر رہ۔

.144

اور لکھ دی ہم نے اس کو تختوں پر، ہر چیز میں سے سمجھوتی (نصیحت) ، اور بیان ہر چیز کا۔

سو پکڑ ان کو زور سے، اور کہہ اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اسکی بہتر (اچھی) باتیں۔

اب (عنقریب) میں تم کو دکھاؤں گا گھربے حکم لوگوں کا۔

.145

میں پھیر دوں گا اپنی آیتوں (کی طرف) سے اُن کو، جو ڈھونڈتے (بڑے بنتے ہیں) ہیں ملک میں ناحق۔

اور دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں اُن کو۔

اور اگر دیکھیں راہ سنوار (ہدایت کی) کی، (پھر بھی) وہ نہ ٹھہرائیں (بنائیں اسے اپنی) راہ۔

اور اگر دیکھیں راہ اُلٹی(گمراہی کی)، اس کو ٹھہرائیں (بنائیں اپنی) راہ۔

یہ اس واسطے کہ انہوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں، اور ہو رہے اُنسے بیخبر (غافل) ۔

.146

 اور جنہوں نے جھوٹ جانیں ہماری آیتیں، اور آخرت کی ملاقات، ضائع ہوئیں اُنکی محنتیں ،

وہی بدلا پائیں گے جو کچھ عمل کرتے تھے۔

.147

 اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اسکے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا ایک دھڑ(پُتلا) ، (نکلتی تھی) اس میں گائے کی آواز۔

یہ نہ دیکھا اُنہوں نے کہ وہ اُن سے بات نہیں کرتا اور نہ دکھائے راہ۔

اس کو ٹھہرا لیا، (معبود) اور وہ تھے بے انصاف۔

.148

اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بہکے، کہنے لگے،

اگر نہ رحم کرے ہم کو رب ہمارا اور نہ بخشے، تو بیشک ہم خراب ہوں گے۔

.149

 اور جب پھر آیا موسیٰ اپنی قوم میں، غصے بھرا اور افسوس،

بولا، کیا بُری جگہ رکھی تم نے میری میرے بعد۔ کیوں جلدی کی اپنے رب کے حکم سے؟

اور ڈال دیں وہ تختیاں اور پکڑا سر اپنے بھائی کا، لگا کھینچنے اپنی طرف۔

وہ بولا، کہ اے میری ماں کے جنے! لوگوں نے مجھے بودا (کمزور) سمجھا اور نزدیک تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں،

سو مت ہنسا مجھ پر دشمنوں کواور نہ ملا مجھ کو گنہگار لوگوں میں۔

.150

 بولا، اے رب! معاف کر مجھ کو اور میرے بھائی کو، اور ہم کو داخل کر اپنی رحمت میں۔

اور تُو ہے سب سے زیادہ رحم کرنے والا۔

.151

 البتہ جنہوں نے بچھڑا بنا لیا، ان کو پہنچے گا غضب اُن کے رب کا، اور ذلت دنیا کی زندگی میں۔

اور یہی سزا دیتے ہیں ہم جھوٹ باندھنے والوں کو۔

.152

 اور جنہوں نے کئے بُرے کام، اور پھر بعد اسکے توبہ کی، اور یقین لائے،

(تو یقیناً) تیرا رب اسکے پیچھے (بعد) بخشتا ہے مہربان۔

.153

 اور جب چپ ہوا موسیٰ  سے غصہ، (تو انہوں نے) اُٹھائیں (وہ) تختیاں،

اور اُن کی نقل جو لکھی اس میں راہ کی سوجھ (ہدایت) ہے، اور مہر (رحمت) انکے واسطے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

.154

 اور چُنے (منتخب کئے) موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر مرد لانے(حاضر کرنے) کو ہمارے وعدے کے وقت۔

پھر جب اُنکو لرزے (زلزلہ) نے پکڑا، بولا اے رب! اگر تُو چاہتا پہلے ہی ہلاک کرتا (کر سکتا تھا) ان کو اور مجھ کو۔

کیا ہم کو ہلاک کریگا ایک کام پر، جو کیا ہمارے احمقوں نے؟

یہ سب تیرا آزمانا ہے۔بچلاوے (بھٹکائے) اس میں جس کو چاہے اور راہ دے جس کو چاہے۔

تُو ہی ہمارا تھامنے والا، سو بخش ہم کو اور مہر (رحم) کر ہم پر،اور تُو سب سے بہتر بخشنے والا۔

.155

 اور لکھ دے ہمارے واسطے اس دنیا میں نیکی اور آخرت میں ہم رجوع ہوئے تیری طرف۔

فرمایا، میرا عذاب جو ہے سو ڈالتا ہوں جس پر چاہوں۔ اور میری مہر (رحمت) شامل ہے ہر چیز کو،

سو وہ لکھ دوں گا اُن کو، جو ڈر رکھتے ہیں، اور دیتے ہیں زکوٰۃ،اور جو ہماری باتیں یقین کرتے ہیں۔

.156

وہ جو تابع ہوتے ہیں اس رسول کے، جو نبی ہے اُمّی،جس کو پاتے ہیں لکھا ہوا اپنے پاس، توریت اور انجیل میں،

بتاتا (حکم کرتا) ہے ان کو نیک کام، اور منع کرتا ہے بُرے کام سے،

اور حلال کرتا ہے اُن کے واسطے سب پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے اُن پر ناپاک،

اور اتارتا ہے اُن سے بوجھ ان کے، اور (کھولتا ہے) پھانسیاں (بندشیں) جو ان پر تھیں۔

سو جو اس پر یقین لائے، اور اسکی رفاقت کی اور مدد کی، اور تابع ہوئے اس نور کے جو اسکے ساتھ اترا ہے،وہی (لوگ) پہنچے مراد کو۔

.157

 تُو کہہ، لوگو! میں رسول ہوں اﷲ کا، تم سب کی طرف،جسکی حکومت ہے آسمان اور زمین میں۔

کسی کی بندگی نہیں سوائے اسکے ،جِلاتا (زندگی دیتا) ہے اور مارتا (موت دیتا) ہے،

سو مانو اﷲ کو، اور اس کے بھیجے نبی اُمّی کو، جو (خود بھی) یقین کرتا ہے اﷲ پر، اور اس کے سب کلام پر ،

اوراسکے تابع ہو (پیروی کرو) ، شاید تم راہ (ہدایت) پاؤ۔

.158

 اور موسیٰ کی قوم میں (بھی) ایک فرقہ (ایسا ہے جو) راہ بتاتے ہیں حق کی، اور اسی پر انصاف کرتے ہیں۔

.159

 اور بانٹ کر اُن کو ہم نے کیا کئی فرقے، بارہ دادوں کے پوتے۔

اور حکم بھیجا ہم نے موسیٰ کو، جب پانی مانگا اُس سے اسکی قوم نے ، کہ مار اپنی لاٹھی سے اس پتھر کو،

تو پھُوٹ نکلے ا اس سے بارہ چشمے، پہچان لیا ہر ایک لوگوں نے اپنا گھاٹ۔

اور سایہ کیا اُن پر ابر کا، اور اتارا ان پر من ااور سلوٰی۔

کھاؤ ستھری چیزیں جو ہم نے روزی دی تم کو ،

اور (ناشکری کر کے) ہمارا کچھ نہ بگاڑا، لیکن اپنا بُرا کرتے رہے۔

.160

 اور جب حکم ہوا اُن کو کہ بسو(سکونت اختیار کرو) اس شہر میں، اور کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو،اور کہو گناہ اترے،

اور پیٹھو (داخل ہو) دروازے میں سجدہ کرتے، تو بخشیں ہم تمہاری تقصیریں (خطائیں) ،

آگے اور (بہت) دیں گے نیکی والوں کو۔

.161

 سو بدل لیا بے انصافوں نے اُن میں سے، اور لفظ سوا اسکے جو کہہ دیا تھا،

پھر بھیجا ہم نے ان پر عذاب آسمان سے، بدلہ انکی شرارت کا۔

.162

 اور پوچھ اِن سے احوال اس بستی کا کہ تھی کنارے دریا کے،جب حد سے بڑھنے لگے ہفتے کے حکم میں،

جب آنے لگیں ان پاس مچھلیاں ہفتے کے دن پانی کے اُوپر،جس دن ہفتہ نہ ہو نہ آئیں۔

یوں ہم آزمانے لگے اُ نکو، اس واسطے کہ بے حکم (نافرمان) تھے۔

.163

 اور جب بولا ایک فرقہ ان میں، کیوں نصیحت کرتے ہو ایک لوگوں، کہ اﷲ چاہتا ہے اُنکو ہلاک کرے یا اُنکو عذاب کرے سخت؟

بولے، الزام اتارنے کو تمہارے رب کے آگے اور شاید وہ ڈریں۔

.164

 پھر جب بھول گئے جو ان کو سمجھایا تھا، بچا لیا ہم نے جو منع کرتے تھے بُرے کام سے،

اور پکڑا گنہگاروں کو بُرے عذاب میں، بدلہ اُن کی بے حکمی کا۔

.165

پھر جب بڑھنے لگے جس کام سے منع ہوا تھا، ہم نے حکم کیا کہ ہو جاؤ بندر پھٹکارے۔

.166

 اور وہ وقت یاد کر کہ خبر دی تیرے رب نے، البتہ کھڑا رکھے گا یہود پر قیامت کے دن تک کوئی شخص کہ دیا کرے ان کو بُری مار۔

تیرا رب شتاب (جلد) سزا دیتا ہے، اور (یقیناً) وہ بخشتا بھی ہے مہربان۔

.167

 اور متفرق (تقسیم) کیا ہم نے ان کو ملک میں فرقے فرقے۔بعضے ان میں نیک اور بعضے اور طرح کے۔

اور آزمایا ان کو خوبیوں (آسائشوں) میں اور برائیوں (تکلیفوں) میں، شاید وہ پھر (پلٹ) آئیں۔

.168

پھر اُن کے پیچھے آئے (جانشین ہوئے) نا خلف (نا اہل) وارث کتاب کے،

لیتے اسباب ادنیٰ (حقیر) زندگی کا،اور کہتے ہیں کہ ہم کہ معاف ہو گا۔

اور اگر ایسا ہی اسباب پھر آئے تو (پھر) لے لیں۔

کیا اُن پر عہد نہیں لیا؟ کتاب کے حق میں کہ نہ بولیں (گے) اﷲ پر سوا سچ کے، اور پڑھا انہوں نے جو لکھا ہے اس میں۔

اور پچھلا (آخرت کا) گھر بہتر ہے ڈر والوں کو، کیا تم کو بوجھ (سمجھ) نہیں؟

.169

 اور جو لوگ پکڑ رہے ہیں کتاب اور قائم رکھتے ہیں نماز۔ ہم ضائع نہ کریں گے ثواب نیکی والوں کا۔

.170

 اور جس وقت اٹھایا ہم نے پہاڑ اُن کے اُوپر جیسے سائبان، اور ڈرے کہ وہ گرے گا اُن پر،

پکڑو جو ہم نے دیا ہے زور (مضبوطی) سے، اور یاد کرتے رہو جو اس میں ہے شاید تم کو ڈر ہو۔

.171

 اور جس وقت نکالی تیرے رب نے آدم کے بیٹوں سے اُن کی پیٹھ  میں سے اُنکی اولاد ،اور اقرار کروایا اُن سے اُنکی جان پر۔

(اور پوچھا تھا کہ) کیا میں نہیں ہوں رب تمہارا؟

بولے البتہ(ہاں) ! ہم قائل (گواہی دیتے) ہیں۔

(یہ اس لئے تھا کہ) کبھی کہو (تم) قیامت کے دن، ہم کو اسکی خبر نہ تھی۔

.172

یا کہو، کہ شریک تو کیا ہمارے باپ دادوں نے پہلے، اور ہم ہوئے اولاد اُنکے پیچھے،

تو ہم کو کیوں ہلاک کرتا ہے ایک کام پر، کہ کیا ہے خطا والوں (گمراہوں) نے۔

.173

 اور یوں ہم کھولتے ہیں باتیں، شاید وہ لوگ پھر (پلٹ) آئیں۔

.174

 اور سُنا ان کو احوال اس شخص کا کہ ہم نے اس کو دی ہیں اپنی آیتیں،

پھر ان کو چھوڑ نکلا، پھر پیچھے لگا اسکو شیطان، تو وہ ہوا گمراہوں میں۔

.175

 اور ہم چاہتے تو اسکو اُٹھا لیتے (بلندی عطا کرتے) اُن آیتوں سے، مگر وہ گرا پڑے (جھک پڑا) زمین پر، اور چلا اپنی چاؤ پر۔

تو اسکا حال جیسے کُتّا۔ اس پر تُو لادے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو ہانپے۔

یہ مثال ہے ان لوگوں کی، کہ جھٹلائیں ہماری آیتیں۔

سو تُو بیان کر احوال (انکے سامنے) ، شاید وہ دھیان کریں۔

.176

 بُری کہاوت اُن لوگوں کی کہ جھٹلائیں ہماری آیتیں، اور اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔

.177

جسکو اﷲ راہ (ہدایت) دے، وہی پائے راہ (ہدایت) ۔اور جسکو وہ بھٹکا دے، سو وہی ہیں زیاں (خسارے) میں۔

.178

 اور ہم نے پھیلا (پیدا کر) رکھے دوزخ کے واسطے بہت جِنّ اور آدمی،

جن کو دل ہیں اُن سے سمجھتے نہیں،

اور آنکھیں ہیں اُن سے دیکھتے نہیں،

اور کان ہیں اُن سے سنتے نہیں۔

وہ جیسے چوپائے، بلکہ اُن سے زیادہ بے راہ۔

وہی لوگ ہیں (جو) غافل (ہیں) ۔

.179

 اور اﷲ کے ہیں سب نام خاصے، سو اس کو پکارو وہ کہہ کر (اچھے ناموں سے) ،

اور چھوڑ دو ان کو جو کج راہ چلتے (منحرف ہو جاتے) ہیں اسکے ناموں (کے معاملہ) میں۔

وہ (ضرور) بدلہ پا (کر) رہیں گے اپنے کئے کا۔

.180

اور ہماری پیدائش (مخلوق) میں سے ایک لوگ ہیں، کہ راہ بتاتے ہیں سچی اور اس پر انصاف کرتے ہیں۔

.181

 اور جنہوں نے جھٹلائیں ہماری آیتیں، انکو سہج سہج (بتدریج) پکڑیں گے، جہاں سے وہ نہ جانیں گے۔

.182

اور ان کو فرصت دوں گا۔

بیشک میرا داؤ پکا ہے۔

.183

کیا دھیان نہیں کیا انہوں نے؟ اُنکے رفیق کو کچھ جنون نہیں۔

وہ تو ڈرانے والا ہے صاف (واضح طور پر) ۔

.184

 کیا نگاہ نہیں کی سلطنت میں آسمان اور زمین کے اور جو اﷲ نے بنائی ہے کوئی چیز،

اور یہ کہ شاید نزدیک پہنچا ہو اُن کا وعدہ (زندگی پوری ہونے) ،

سو اسکے (تنبیہہ کے) پیچھے (بعد) کس بات پر یقین لائیں گے؟

.185

جس کو اﷲ بھٹکا دے اسے کوئی نہیں راہ دینے والا۔

اور انکو چھوڑ رکھتا ہے اُنکی شرارت میں بہکتے۔

.186

 تجھ سے پوچھتے ہیں قیامت (کی بابت) کس وقت ہے اس کا ٹھہراؤ (ظہور پذیر ہونا) ؟

تُو کہہ، اس کی خبر تو ہے میرے رب ہی پاس۔ وہی کھول دکھائے (ظاہر کرے) گا اس کو اپنے وقت۔

بھاری بات ہے آسمان و زمین میں۔

تم پر آئے گی تو بے خبر آئیگی۔

تجھ سے پوچھنے لگتے ہیں گویا کہ تو اس کا تلاشی (کھوج لگا رہا) ہے۔

تُو کہہ، اسکی خبر ہے خاص اﷲ پاس، لیکن اکثر لوگ سمجھ نہیں رکھتے (ناواقف ہیں) ۔

.187

 تُو کہہ، میں مالک نہیں اپنی جان کے بھلے کا، نہ بُرے کا، مگر جو اﷲ چاہے۔

اور اگر میں جانا کرتا غیب کی بات، تو بہت خوبیاں (فائدے) لیتا۔ اور مجھ کو بُرائی (نقصان) کبھی نہ پہنچتی۔

میں تو یہی ہوں ڈر اور خوشی سنانے والا، مانتے لوگوں کو۔

.188

 وہی ہے جس نے تم کو بنایا ایک جان سے۔ اور اسی سے بنایا اسکا جوڑا کہ اس پاس آرام پکڑے (سکون حاصل کرے) ۔

پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانکا، حمل رہا ہلکا سا حمل، پھر چلتی گئی اس سے۔

پھر جب بوجھل ہوئی، دونوں نے پکارا اﷲ اپنے رب کو، اگر تو ہم کو بخشے چنگا بھلا تو ہم تیرا شکر کریں۔

.189

پھر جب دیا اُن کو چنگا بھلا ٹھہرانے لگے اسکے شریک اسکی بخشی چیز میں۔

سو اﷲ اوپر ہے اُن کے شریک بتانے سے۔

.190

 کن کو شریک بتاتے ہیں، جو پیدا نہ کریں ایک چیز، اور آپ پیدا ہوتے ہیں؟

.191

 اور نہ کر سکتے ہیں ان کو مدد اور نہ اپنی مدد کریں۔

.192

 اور اگر ا ن کو پکارو راہ پر، نہ چلیں تمہاری پکار پر۔

برابر ہے تم کو، کہ ان کو پکارو یا چپکے رہو۔

.193

 جن کو تم پکارتے ہو اﷲ کے سوا، بندے ہیں تم سے (جیسے) ،

بھلا پکارو ان کو، تو چاہیئے قبول کریں تمہارا پکارنا، اگر تم سچے ہو۔

.194

 کیا اُن کو پاؤں ہیں جن سے چلتے ہیں،

یا اُن کو ہاتھ ہیں جن سے پکڑتے ہیں،

یا اُن کو آنکھیں ہیں جن سے دیکھتے ہیں،

یا اُن کو کان ہیں جن سے سنتے ہیں؟

تُو کہہ، پکارو اپنے شریکوں کو، پھر بُرا کرو میرے حق میں، اور مجھ کو ڈھیل (ذرا مہلت) نہ دو۔

.195

میرا حمایتی اﷲ ہے جن نے اتاری کتاب۔ اور وہ حمایت کرتا ہے نیک بندوں کی۔

.196

 اور جن کو تم پکارتے ہو اسکے سوا، نہیں کر سکتے تمہاری مدد،اور نہ اپنی جان بچا سکیں۔

.197

 اور اگر ا ن کو پکارو راہ (ہدایت) کی طرف،کچھ نہ سنیں،

اور تُو دیکھے کہ تکتے ہیں تیری طرف، اور کچھ نہیں دیکھتے۔

.198

خوب کر معاف (درگزر) کرنا، اور کہہ نیک کام کو اور کنارہ کر جاہلوں سے۔

.199

 اور کبھی اُبھار دے (اکسائے) تجھ کو شیطان کی چھیڑ(کا وسوسہ) ، تو پناہ پکڑ اﷲ کی،

وہی ہے سنتا جانتا۔

.200

جو لوگ ڈر رکھتے (متقی) ہیں، جہاں پڑ گیا ان پر شیطان کا گزر، چونک گئے ،پھر تبھی ان کو سوجھ آگئی (اصل کیا ہے) ۔

.201

 اور جو شیطانوں کے بھائی ہیں، وہ ان کو کھینچتے جاتے ہیں غلطی میں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔

.202

 اور جب تُو لے کر نہ جائے اُن پاس کوئی آیت (نشانی) ، کہیں کچھ (نشانی) چھانٹ کیوں نہ لایا؟

تُو کہہ، میں چلتا ہوں اسی پر جو حکم آئے مجھ کو میرے رب سے۔

یہ (قرآن) سوجھ (بصیرت) کی باتیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے،

اور راہ (ہدایت) اور مہر (رحمت) ہے ان لوگوں کو جو یقین (ایمان) لاتے ہیں۔

.203

 اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس طرف کان رکھو، اور چپ رہو، شاید تم پر رحم ہو۔

.204

 اور یاد کرتا رہ اپنے رب کو، دل میں گڑگڑاتا اور ڈرتا،اور پکار سے کم آواز بولنے میں، صبح اور شام کے وقتوں

 اور مت رہ بےخبر (غافل) ۔

.205

جو لوگ پاس ہیں تیرے رب کے، بڑائی نہیں رکھتے اسکی بندگی سے،

اور یاد کرتے ہیں اسکی پاک ذات کو اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں ۔(سجدہ)

*********

.206

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com