القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ یوسف

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 الف لام را، یہ آیتیں واضح کتاب کی۔

.1

 ہم نے اسکو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا، شاید تم بوجھو (سمجھو)۔

.2

ہم بیان کرتے ہیں تیرے پاس، بہتر بیان (بہترین قصہ)، اس واسطے کہ بھیجا ہم نے تیری طرف یہ قرآن۔

اور تُو تھا اس سے پہلے البتہ بے خبروں میں۔

.3

 جس وقت کہا یوسف نے اپنے باپ کو، اے باپ!

میں نے دیکھے گیارہ تارے اور سورج اور چاند، دیکھے میری تیئں (مجھے) سجدہ کرتے۔

.4

کہا، اے بیٹے! مت بیان کر خواب اپنا اپنے بھائیوں پاس، پھر وہ بنا دیں گے تیرے واسطے کچھ فریب۔

البتہ شیطان ہے انسان کا صریح (کھلا) دشمن۔

.5

اور اسی طرح نوازے گا تجھ کو تیرا رب اور سکھا دے گا کل بٹھانی (تہہ تک پہنچنا) باتوں کی،

اور پورا کرےگا اپنا انعام تجھ پر، اور یعقوب کے گھر پر،

جیسا پورا کیا ہے تیرے دو باپ دادوں پر پہلے سے، ابراہیم اور اسحٰق پر۔

البتہ تیرا رب خبردار ہے حکمتوں والا۔

.6

البتہ ہیں یوسف کے مذکور میں اور بھائیوں کے، نشانیاں پُوچھنے والوں کو۔

.7

جب کہنے لگے، البتہ یوسف اور اسکا بھائی زیادہ پیارا ہے ہمارے باپ کو ہم سے، اور ہم قوت کے(زورآور) لوگ ہیں۔

البتہ ہمارا باپ خطا میں ہے صریح۔

.8

 مار ڈالو یوسف کو یا پھینک دو کسی ملک (جگہ) میں کہ اکیلی رہے تم پر توجہ تمہارے باپ کی،

اور ہو رہیو اس کے پیچھے نیک لوگ۔

.9

بولا ایک بولنے والا ان میں، مت مار ڈالو یوسف کو، اور پھینک دو اس کو گمنام کنوئیں میں ،کہ اٹھا لے جائے اسکو کوئی مسافر،

اگر تم(ضرور تم) کو (کچھ) کرنا ہے۔

.10

بولے، اے باپ! کیا ہے کہ تُو اعتبار نہیں کرتا ہمارا یوسف پر اور ہم تو اسکے خیرخواہ ہیں۔

.11

 بھیج اسکو ہمارے ساتھ کل کہ کچھ چرے(کھائے پیئے) اور کھیلے، اور ہم تو اسکے نگہبان ہیں۔

.12

 بولا، مجھ کو غم پکڑتا ہے اس سے کہ لے جاؤ اس کو،اور ڈرتا ہوں کہ کھا جائے اس کو بھیڑیا، اور تم اس سے بے خبر رہو۔

.13

بولے، اگر کھا گیا اس کو بھیڑیا، اور ہم یہ جماعت ہیں قوّت ور، تو ہم نے سب کچھ گنوایا۔

.14

پھر جب لے کر چلے اسکو اور متفق ہوئے کہ ڈالیں اسکو گمنام کنوئیں میں۔

اور ہم نے اشارت (وحی) کی اس کو، کہ تُو جتاوے گا ان کو اُن کا کام، اور وہ نہ جانیں گے۔

.15

 اور آئے اپنے باپ پاس، اندھیرا پڑے، روتے۔

.16

کہنے لگے، اے باپ! ہم لگے دوڑنے آگے نکلنے کو، اور چھوڑا یوسف کو اپنے اسباب پاس، پھر اسکو کھا گیا بھیڑیا۔

اور تُو باور (یقین) نہ کرےگا ہمارا کہنا، اگرچہ ہم سچے ہوں۔

.17

 اور لائے اسکے کُرتے پر لہو لگا جھوٹ۔

بولا! کوئی نہیں! بلکہ بنا دی تم کو تمہارے جیوں (نفس) نے ایک بات۔اب صبر ہی بن آئے(بہتر ہے) ۔

اور اﷲ ہی سے مدد مانگتا ہوں اس بات پر جو بتاتے ہو۔

.18

 اور آیا ایک قافلہ، پھر بھیجا اپنا پنہارا (سقّا) ، اس نے لٹکایا اپنا ڈول۔

بولا، کیا خوشی کی بات ہے! یہ ہے ایک لڑکا۔

 اور چھپا لیا اس کو پونجی سمجھ کر۔

اور اﷲ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

.19

 اور بیچ آئے اس کو ناقص (کم) مول کو، گنتی کی کئی پاؤلیاں(درہم) ۔اور ہو رہے تھے اس سے بیزار۔

.20

 اور کہا جس شخص نے خرید کیا اسکو مصر سے اپنی عورت کو، آبرو سے رکھ اسکو،شاید ہمارے کام آئے، یا ہم کر(بنا) لیں اسکو بیٹا۔

اور اس طرح جگہ دی ہم نے یوسف کو اس ملک میں۔اور اس واسطے کہ اس کو سکھا دیں کچھ کل بٹھانی (معاملہ فہمی) باتوں کی۔

اور اﷲ جیت (غالب) رہتا ہے اپنا کام، اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔

.21

 اور جب پہنچا قوت کو، دیا ہم نے اس کو حکمت اور علم۔

اور ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ہم نیکی والوں کو۔

.22

 اور پھُسلایا اسکو عورت نے، جسکے گھر میں تھا، اپنا جی (نفس) تھامنے سے، اور بند کئے دروازے اور بولی، شتابی (جلدی) کر۔

کہا، خدا کی پناہ! وہ عزیز مالک ہے میرا، اچھی طرح رکھا ہے مجھ کو۔

البتہ بھلا نہیں پاتے جو لوگ بے انصاف ہیں۔

.23

 اور البتہ عورت نے فکر کی اسکی اور اسنے (بھی) فکر کی (ہوتی) عورت کی۔ اگر نہ ہوتا یہ کہ دیکھی قدرت(برہان) اپنے رب کی۔

یوں ہی ہوا، اس واسطے کہ ہٹائیں اس سے برائی اور بے حیائی۔

البتہ وہ ہے ہمارے چُنے بندوں میں۔

.24

 اور دونوں دوڑے دروازے کو، اور عورت نے چیر ڈالا اسکا کُرتہ پیچھے سے،

اور دونوں مل گئے عورت کے خاوند سے دروازے پاس،

بولی، کچھ سزا نہیں ایسے شخص کی جو چاہے تیرے گھر میں بُرائی، مگر یہی کہ قید پڑے یا دکھ کی مار۔

.25

یوسف بولا، اسی نے خواہش کی مجھ سے، کہ نہ تھاموں اپنا جی،

اور گواہی دی ایک گواہ نے، عورت کے لوگوں میں سے۔

اگر ہے اس کا کُرتہ پھٹا آگے سے تو عورت سچی ہے اور وہ ہے جھوٹا۔

.26

 اور اگر ہے اسکا کرتہ پھٹا پیچھے سے، تو یہ جھوٹی اور وہ ہے سچا۔

.27

پھر جب دیکھا عزیز نے کُرتہ اسکا پھٹا پیچھے سے، کہا، بیشک یہ ایک فریب ہے عورتوں کا۔

البتہ تمہارا فریب بڑا ہے۔

.28

یوسف! جانے دے یہ مذکور، اور عورت!

(بیوی) تُو بخشوا اپنا گناہ۔ یقین ہے کہ تُو ہی گنہگار تھی۔

.29

 اور کہنے لگیں کئی عورتیں اس شہر میں، عزیز کی عورت خواہش کرتی ہے اپنے غلام سے اسکا جی،

فریفتہ ہو گئی اس کی محبت میں۔ہم تو دیکھتے ہیں وہ بہکی ہے صریح (کھلی) ۔

.30

 پھر جب سنا اُس نے ان کا فریب، بلاوا بھیجا ان کو اور تیار کی ان کے واسطے ایک مجلس،

اور دی ان کو ہر ایک کے ہاتھ میں چھُری، اور بولی، یوسف! نکل آ ان کے سامنے۔

پھر جب دیکھا اسکو، دہشت میں آ گئیں اسکے اور کاٹ ڈالے اپنے ہاتھ۔

 اور کہنے لگیں،حاشا ﷲ! نہیں یہ شخص آدمی۔ یہ تو کوئی فرشتہ ہے بزرگ۔

.31

بولی، سو یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تم نے مجھ کو اسکے واسطے۔

اور میں نے چاہا اُس سے اسکا جی، پھر اسنے تھام رکھا،

اور مقرر اگر نہ کرےگا جو میں اسکو کہتی ہوں، البتہ قید پڑے گا، اور ہو گا بے عزت۔

.32

یوسف بولا، اے رب! مجھ کو قید پسند ہے اس بات سے جس طرف مجھ کو بلاتی ہیں۔

اور اگر تُو نہ دفع کرے مجھ سے ان کا فریب، تو مائل ہو جاؤں اُن کی طرف اور ہو جاؤں بے عقل۔

.33

سو قبول کر لی اسکی دُعا اسکے رب نے، پھر دفع کیا اُس سے ان کا فریب۔

البتہ (بیشک) وہ ہے سننے والا خبردار۔

.34

 پھر یوں سوجھا لوگوں کو، وہ نشانیاں دیکھے پر(دیکھنے کے بعد بھی) ، کہ قید رکھیں اسکو ایک مدّت۔

.35

اور داخل ہوئے بندی (قید) خانہ میں اسکے ساتھ دو جوان۔

کہنے لگا اس میں سے ایک، میں دیکھتا ہوں کہ میں نچوڑتا ہوں شراب۔

اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ اُٹھا رہا ہوں اپنے سر پر روٹی، کہ جانور کھاتے ہیں اس میں سے۔

بتا ہم کو اس کی تعبیر۔ ہم دیکھتے ہیں تجھ کو نیکی والا۔

.36

بولا، نہ آنے پائے گا تم کو کھانا، جو ہر روز تم کو ملتا ہے، مگر بتا چکوں گا تم کو اسکی تعبیر، اسکے آنے سے پہلے۔

یہ علم ہے کہ مجھ کو سکھایا میرے رب نے۔

میں نے چھوڑا دین اس قوم کا کہ یقین نہیں رکھتے اﷲ پر، اور آخرت سے وہ منکر ہیں۔

.37

 اور پکڑا میں نے دین اپنے باپ دادوں کا، ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کا۔

ہمارا کام نہیں شریک کریں اﷲ کا کسی چیز کو۔

یہ فضل ہے اﷲ کا ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن بہت لوگ بھلا نہیں مانتے۔

.38

 اے رفیقو بندی (قید) خانے کے! بھلا کئی معبود جُدا جُدا بہتر یا اﷲ اکیلا زبردست۔

.39

 کچھ نہیں پوجتے ہو سوا اُسکے، مگر نام ہیں کے رکھ لئے ہیں تم نے، اور تمہارے باپ دادوں نے،نہیں اتاری اﷲ نے اُن کی سند۔

حکومت نہیں ہے کسی کی سوا اﷲ کے،

اس نے فرما دیا کہ نہ پوجو مگر اسی کو۔

یہی ہے راہ سیدھی، پر بہت لوگ ہیں جانتے۔

.40

 اے رفیقو بندی (قید) خانے کے، ایک جو ہے تم دونوں میں، سو پلائے گا اپنے خاوند (آقا) کو شراب،

اور دوسرا جو ہے سو سولی چڑھے گا، پھر کھائیں جانور اس کے سر میں سے۔

فیصلہ ہوا (ہو چکا اس) کام (کا) ، جس کو تحقیق (جاننا) تم چاہتے تھے۔

.41

 اور کہہ دیا اسکو، جس کو اٹکلا کر (قیاس کیا تھا کہ) بچے گا ان دونوں میں میرا ذکر کریو اپنے خاوند (آقا) پاس۔

سو بھلا دیا اس کو شیطان نے ذکر کرنا اپنے خاوند (آقا) سے،پھر رہ گیا (پڑا) قید میں کئی برس۔

.42

 اور کہا بادشاہ نے، میں خواب دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی، ان کو کھاتی ہیں سات دُبلی،

اور سات بالیں ہری اور دوسری سُوکھی۔

اے دربار والو! تعبیر کہو مجھ سے میرے خواب کی، اگر ہو تم خواب کی تعبیر کرتے۔

.43

 بولے، یہ اُڑتے خواب ہیں۔ اور ہم کو تعبیر خوابوں کی معلوم نہیں۔

.44

 اور بولا وہ جو بچا تھا ان دونوں میں، اور یاد کیا مدّت کے بعد، میں بتاؤں تم کو اسکی تعبیر، سو تم مجھ کو بھیجو۔

.45

جا کر کہا، یوسف اے سچے! حکم دے ہم کو اس خواب میں،

سات گائیں موٹی، اُن کو کھائیں سات دُبلی، اورسات بالیں ہری، اور دوسری سُوکھی،

کہ میں لے جاؤں لوگوں پاس شاید ان کو (بھی) معلوم ہو(تعبیر اسکی اور آپ کا مقام و مرتبہ) ۔

.46

 کہا تم کھیتی کرو گے سات برس لگ کر۔

سو جو کاٹو اس کو چھوڑ دو اُسکی بال میں، مگر تھوڑا جو کھاتے ہو۔

.47

 پھر آئیں گے اس پیچھے سات برس سختی کے، کھائیں جو رکھا تم نے اُنکے واسطے،مگر تھوڑا جو روک رکھو گے۔

.48

پھر آئے گا اس پیچھے ایک برس، اس میں مینہ پائیں گے لوگ اور اس میں رس نچوڑیں گے۔

.49

 اور کہا بادشاہ نے، لے آؤ اس کو میرے پاس۔

پھر جب پہنچا اس پاس بھیجا آدمی، کہا،

پھر (واپس) جا اپنے خاوند (آقا) پاس،اور پوچھ اس سے کیا حقیقت ہے ان عورتوں کی جنہوں نے کاٹے ہاتھ اپنے۔

میرا رب تو ان کا فریب سب جانتا ہے۔

.50

 کہا بادشاہ نے عورتوں کو کیا حقیقت ہے تمہاری جب تم نے پھسلایا یوسف کو اسکے جی سے۔

بولیں، حاشا ﷲ! ہم کو معلوم نہیں اُس پر کچھ بُرائی۔

بولی عورت عزیز کی،اب کھل گئی سچی بات، میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، اور وہ سچا ہے۔

.51

 یوسف نے کہا، اتنا اس واسطے کہ وہ شخص معلوم کرے، کہ میں نے چوری نہیں کی، اس عزیز کی چھپ کر،

اور یوں کہ اﷲ نہیں چلاتا فریب دغابازوں کا۔

.52

 اور میں پاک نہیں کہتا اپنے جی (نفس) کو۔

جی (نفس) تو سکھاتا ہے بُرائی، مگر جو رحم کیا میرے رب نے۔

بیشک میرا رب بخشنے والا ہے مہربان۔

.53

 اور کہا بادشاہ نے، لے آؤ اس کو میرے پاس، میں خاص کر رکھوں اس کو اپنے کام میں۔

پھر جب بات چیت کی اس سے کہا، سچ تو نے آج ہمارے پاس جگہ پائی معتبر ہو کر۔

.54

 یوسف نے کہا، مجھ کو مقرر کر ملک کے خزانوں پر۔ میں خوب نگہبان ہوں خبردار۔

.55

 اور یوں قدرت دی ہم نے یوسف کو اس زمین میں۔ جگہ پکڑے اس میں جہاں چاہے۔

پہنچاتے ہیں ہم اپنی مہر(رحمت) جس کو چاہیں۔

اور ضائع نہیں کرتے ہم نیگ (اجر) بھلائی والوں کا۔

.56

اور نیگ (اجر) آخرت کا بہتر ہے ان کو جو یقین لائے، اور رہے پرہیزگاری میں۔

.57

اور آئے بھائی یوسف کے، پھر داخل ہوئے اس پاس، تو اس نے پہچانا ان کو، اور وہ نہیں پہچانتے۔

.58

اور جب تیار کر دیا ان کو ان کا اسباب، کہا لے آؤ میرے پاس ایک بھائی، جو تمہارا ہے باپ کی طرف سے،

تم نہیں دیکھتے ہو کہ میں پُوری دیتا ہوں بھرتی اور خوب اُتارتا ہوں۔

.59

پھر اگر اس کو نہ لائے میرے پاس تو بھرتی نہیں تم کو میرے نزدیک، اور میرے پاس نہ آؤ۔

.60

 بولے ہم خواہش کریں گے اسکے باپ سے، اور البتہ ہم کو کرنا ہے۔

.61

اور کہہ دیا ،خدمتگاروں کو اپنے رکھ دو اُن کی پونجی اُن کے بوجھوں (سامان) میں،

شاید اس کو پہچانیں،جب پھر (لوٹ) کر جائیں اپنے گھر،

 شاید وہ پھر(لوٹ کر) آئیں۔

.62

 پھر جب پھر (لوٹ) گئے اپنے باپ پاس، بولے،اے باپ بند ہوئی ہم سے بھرتی(رسدغلہ کی) ،

سو بھیج ہمارے ساتھ بھائی ہمارا، کہ بھرتی (غلہ) لائیں،اور ہم اسکے نگہبان ہیں۔

.63

 کہا، میں اعتبار کروں تمہارا اس پر وہی، جیسااعتبار کیا تھا اسکے بھائی پر پہلے۔

سو اﷲ بہتر ہے نگہبان،اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان۔

.64

 اور جب کھولی اپنی چیز بست(سامان) ، پائی اپنی پُونجی پھری (لوٹی) آئی ان کی طرف۔

بولے، اے باپ! وہی جو ہم مانگتے ہیں۔ یہ پونجی ہماری پھیر (لوٹا) دی ہم کو،

اور رسد لائیں ہم اپنے گھر کو، اور خبرداری کریں اپنے بھائی کی، اور زیادہ لیں بھرتی (غلہ) ایک اونٹ کی۔

وہ بھرتی (غلہ) آسان ہے(مفت کا ہو گا) ۔

.65

 کہا ہر گز نہ بھیجوں گا اسکو ساتھ تمہارے،

جب تک (نہ) دو مجھ کو عہد خدا کاکہ البتہ پہنچا دو گے میرے پاس اسکو، مگر کہ گھیرے جاؤ تم سارے۔

پھر جب دیا اسکو عہد سب نے، بولا، ذمہ اﷲ کا ہے جو باتیں ہم کہتے ہیں۔

.66

اور کہا، اے بیٹو! نہ داخل ہو جیو (ہونا تم سب) ایک (ہی) دروازے سے،اور پیٹھو (بلکہ داخل ہونا) کئی دروازوں سے جُدا جُدا،

اور میں نہیں بچا سکتا تم کو اﷲ کی کسی چیز (مشیت) سے۔

حکم کسی کا نہیں سوا اﷲ کے۔اسی پر مجھ کو بھروسہ ہے، اور اسی پر بھروسہ (کرنا) چاہیئے بھروسا کرنے والوں کو۔

.67

 اور جب داخل ہوئے جہاں سے کہا تھا ان کے باپ نے۔

کچھ نہ بچا سکتا تھا ان کو اﷲ کی کِسی چیز (مشیت) سے۔ مگر ایک خواہش تھی یعقوب کے جی میں، سو کر چکا۔

اور وہ تو خبردار تھا ہمارے سکھائے سے، لیکن بہت لوگ خبر نہیں رکھتے۔

.68

 اور جب داخل ہوئے یوسف کے پاس، اپنے پاس رکھا اپنے بھائی کو،

کہا میں ہوں تیرا بھائی، سو تُو غمگین نہ رہ ان کاموں سے جو کرتے رہے ہیں۔

.69

 پھر جب تیار کر دیا ان کو اسباب ان کا رکھ دیا پینے کا باسن(برتن) بوجھ (سامان) میں اپنے بھائی کے،

پھر پکارا پکارنے والا، اے قافلے والو! تم مقرر (تو یقیناً) چور ہو۔

.70

 کہنے لگے منہ کر کر اُن کی طرف، تم کیا نہیں پاتے؟

.71

بولے ہم نہیں پاتے بادشاہ کا ماپ اور جو کوئی وہ لائے، اس کو ایک بوجھ اونٹ کا، اور میں ہوں اس کا ضامن۔

.72

 کہنے لگے قسم اﷲ کی! تم کو معلوم ہے ہم شرارت کرنے کو نہیں آئے ملک میں اور نہ ہم کبھی چور تھے۔

.73

بولے، پھر کیا سزا ہے اس کی اگر تم جھوٹے ہو۔

.74

 کہنے لگے اس کی سزا یہ کہ جس کے بوجھ میں پائے، وہی جائے اسکے بدلے میں۔

ہم یہی سزا دیتے ہیں گنہگاروں کو۔

.75

 پھر شروع کیا یوسف نے انکی خرجیاں (تھیلیاں) دیکھنی، پہلے اپنے بھائی کی خرجی (تھیلی) سے،

پیچھے وہ باسن (برتن) نکالا خرجی (تھیلی) سے اپنے بھائی کی۔

یوں داؤ بتا دیا ہم نے یوسف کو۔

ہر گز نہ لے سکتا اپنے بھائی کو انصاف میں اس بادشاہ کے، مگر جو چاہے اﷲ۔

ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کو چاہیں۔

اور ہر خبر والے سے اُوپر ہے ایک خبردار۔

.76

 کہنے لگے، اگر اس نے چُرایا، تو چوری کی ہے ایک اسکے بھائی نے بھی پہلے۔

تب آہستہ کہا یوسف نے اپنے جی میں اور ان کو نہ جتایا۔

بولا کہ تم اور بدتر ہو درجے میں۔اور اﷲ خوب جانتا ہے جو تم بتاتے ہو۔

.77

 کہنے لگے، اے عزیز! اسکا ایک باپ ہے بوڑھا، بڑی عمر کا، سو رکھ لے ایک ہم میں سے اسکی جگہ۔

ہم دیکھتے ہیں تُو ہے احسان کرنے والا۔

.78

 بولا، اﷲ پناہ دے! کہ ہم کسی کو پکڑیں مگر جس پاس پائی اپنی چیز تو تو ہم بے انصاف ہوئے۔

.79

 پھر جب نا اُمید ہوئے اس سے، اکیلے بیٹھے مصلحت کو۔

بولا، ان میں بڑا، تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے لیا ہے تم سے عہد اﷲ کا،

اور پہلے جو قصور کر چکے ہو یوسف کے حال میں۔

سو میں نہ سرکوں گا اس ملک سے جب تک کہ حکم دے مجھ کو باپ میرا، یا قضیہ چکا (فیصلہ کر ) دے اﷲ میری طرف۔

اور وہ ہے سب سے بہتر چکانے (فیصلہ کرنے) والا۔

.80

پھر (لوٹ) جاؤ اپنے باپ پاس اور کہو، اے باپ، تیرے بیٹے نے چوری کی۔

اور ہم نے وہی کہا تھا جو ہم کو خبر تھی، اور ہم کو غیب کی خبر یاد نہ تھی۔

.81

 اور پوچھ لے اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلہ سے جس میں ہم آئے ہیں۔

اور ہم بیشک سچ کہتے ہیں۔

.82

 بولا کوئی نہیں! بنا لی ہے تمہارے جی نے ایک بات اب صبر ہے بن آئے (بہتر) ۔

شاید اﷲ لے آئے میرے پاس ان سب کو۔

(بیشک) وہی ہے ،خبردار حکمتوں والا۔

.83

 اور اُلٹا پھرا اُن کے پاس سے اور بولا، اے افسوس یوسف پر!

اور سفید ہو گئیں آنکھیں اسکی غم سے، سو وہ آپ کو گھونٹ (دل ہی دل میں غم کھا) رہا تھا۔

.84

 کہنے لگے، قسم اﷲ کی! تُو نہ چھوڑے گا یاد یوسف کی جب تک کہ گل جائے یا ہو جائے مُردہ۔

.85

بولا، میں تو کھولتا ہوں اپنا احوال اور غم اﷲ ہی پاس، اور جانتا ہوں اﷲ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے۔

.86

اے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف کی اور اسکے بھائی کی،اور مت نا اُمید ہو اﷲ کے فیض سے۔

بیشک نا اُمید نہیں اﷲ کے فیض سے مگر وہی لوگ جو منکر ہیں۔

.87

 پھر جب داخل ہوئے اسکے پاس، بولے، اے عزیز!پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر پر سختی، اور لائے ہیں ہم پُونجی ناقص،

سو پوری دے ہم کو بھرتی(غلے کی) اور خیرات کر (ہمارے بھائی کی) ہم پر۔

اﷲ بدلہ دیتا ہے خیرات کرنے والوں کو۔

.88

 کہا، کچھ خبر رکھتے ہو کیا کیا تم نے یوسف سے اور اس کے بھائی سے، جب تم کو سمجھ نہ تھی۔

.89

بولے، کیا سچ تُو ہی ہے یوسف؟

کہا، میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔

اﷲ نے احسان کیا ہم پر۔

البتہ جو کوئی پرہیزگار ہو اور ثابت رہے (صبر کرے) تو اﷲ نہیں کھوتا (ضائع کرتا) حق نیکی والوں کا۔

.90

بولے! قسم اﷲ کی! البتہ تجھ کو پسند رکھا اﷲ نے ہم سے، اور ہم تھے چوکنے والے (خطاکار)۔

.91

 کہا، کچھ الزام نہیں تم پر آج۔

 بخشے اﷲ تم کو،اور وہ ہے سب مہربانوں سے مہربان۔

.92

لے جاؤ یہ کُرتہ میرا اور ڈالو منہ پر میرے باپ کے کہ چلا آئے آنکھوں سے دیکھتا۔

اور لے آؤ میرے پاس گھر (گھرانہ)اپنا سارا۔

.93

 اور جب جُدا ہوا قافلہ، کہا ان کے باپ نے، میں پاتا ہوں بُو یوسف کی،اگر نہ کہو کہ بوڑھا بہک گیا۔

.94

 لوگ بولے، قسم اﷲ کی! تُو ہے اپنی اُسی غلطی میں قدیم کی۔

.95

پھر جب پہنچا خوشخبری والا، ڈالا وہ کُرتہ اسکے منہ پر تو اُلٹا پھرا آنکھوں سے دیکھتا۔

بولا، میں نے نہ کہا تھا تم کو؟ میں جانتا ہوں اﷲ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے۔

.96

 بولے، اے باپ! بخشوا ہمارے گناہوں کو، بیشک ہم تھے چوکنے والے(خطاکار)۔

.97

 کہا، رہو (ضرور) بخشواؤں گا تم کو اپنے رب سے۔(بیشک) وہی ہے بخشنے والا مہربان۔

.98

پھر جب داخل ہوئے یوسف پاس، جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو،اور کہا داخل ہو مصر میں، اﷲ نے چاہا تو خاطر جمع (امن) سے۔

.99

 اور اُونچا بٹھایا۔ اپنے ماں باپ کو تخت پر، اور سب گرے اسکے آگے سجدے میں۔

اور کہا، اے باپ! یہ بیان ہے میرے اس پہلے خواب کا، اس کو میرے رب نے سچ کیا۔

اور مجھ سے اسنے خوبی کی، جب مجھ کو نکالا قید سے، اور تم کو لے آیا گاؤں سے،

بعد اسکے کہ جھگڑا اُٹھایا شیطان نے، مجھ میں اور میرے بھائیوں میں۔

میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہے۔

بیشک وہی ہے خبردار حکمتوں والا ۔

.100

 اے رب! تُو نے دی مجھ کو کچھ حکومت اور سکھایا مجھ کو کچھ پھیر (فرق) باتوں کا۔

اے پیدا کرنے والے آسمان اور زمین کے! تو ہی میرا کارساز دنیا میں اور آخرت میں۔

موت دے مجھ کو اسلام پر اور ملا مجھ کو نیک بختوں میں۔

.101

 یہ خبریں ہیں غیب کی، ہم بھیجتے ہیں تجھ کو۔اور تُو نہ تھا ان کے پاس، جب ٹھہرانے لگے اپنا کام، اور فریب کرنے لگے۔

.102

 اور نہیں اکثر لوگ یقین لانے والے، اگرچہ تُو للچائے۔

.103

اور تُو مانگتا نہیں ان سے اس پر کچھ نیگ (اجر) ۔

یہ تو اور کچھ نہیں مگر نصیحت سارے عالم کو۔

.104

 اور بہتیری نشانیاں ہیں آسمان اور زمین میں، جن پر ہو نکلتے ہیں،

اور ان پر دھیان نہیں کرتے۔

.105

 اور یقین نہیں لاتے بہت لوگ اﷲ پر مگر ساتھ شریک بھی کرتے ہیں۔

.106

 کیا نڈر ہوئے ہیں کہ آ ڈھانکے ان کو ایک آفت اﷲ کے عذاب کی،یا آ پہنچے قیامت اچانک اور ان کو خبر نہ ہو۔

.107

 کہہ، یہ میری راہ ہے بلاتا ہوں اﷲ کی طرف،

سمجھ بوجھ کر، میں اور جو میرے ساتھ ہیں۔

اور اﷲ پاک ہے! اور میں نہیں شریک بتانے والا۔

.108

 اور جتنے بھیجے ہم نے تجھ سے پہلے(رسول) یہی مرد تھے کہ حکم (وحی) بھیجتے تھے ہم ان کو بستیوں کے رہنے والے۔

سو کیا یہ لوگ نہیں پھرے ملک (زمین) میں کہ دیکھیں کیسا ہوا (انجام) آخر اُن کا جو ان سے پہلے تھے۔

اور پچھلا (آخرت کا) گھر تو بہتر ہے پرہیز والوں (متقیوں) کو۔اب کیا تم نہیں بوجھتے (سمجھتے) ۔

.109

یہاں تک جب نا امید ہونے لگے رسُول اور خیال کرنے لگے کہ اُن سے جھوٹ کہا تھا،پہنچی ان کو مدد ہماری،

 پھر بچا دیا جن کو ہم نے چاہا۔

اور پھیری (پلٹی) نہیں جاتی آفت ہماری گنہگار سے۔

.110

 البتہ انکے احوال سے، اپنا احوال قیاس کرنا ہے عقل والوں کو۔

کچھ بات بنائی ہوئی نہیں، لیکن موافق اس کلام کے جو اس سے پہلے ہے،اور کھولنا ہر چیز کا

 اور راہ سجھائی اور مہربانی ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں۔

*********

.111

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com