القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ الاسراء

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 پاک ذات ہے، جو لے گیا اپنے بندے کو راتی (راتوں) رات ادب والی مسجد (مسجد ِحرام) سے پرلی مسجد(مسجد ِ اقصٰی) تک،

جس میں ہم نے خوبیاں رکھی ہیں کہ دکھائیں اسکو کچھ اپنی قدرت کے نمونے،

(بیشک) وہی ہے سنتا دیکھتا۔

.1

 اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب،

اور وہ سوجھ (راہِ ہدایت) دی بنی اسرائیل کوکہ نہ حوالہ کرو میرے سوا کسی پر کام۔

.2

 تم جو اولاد ہو اُن کی جن کو لاد لیا ہم نے نوح کے ساتھ،

 (بیشک) وہ تھا بندہ حق ماننے والا۔

.3

 اور صاف کہہ سنایا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں کہ تم خرابی کرو گے ملک میں دو بار ،

اور چڑھ جاؤ (سرکشی کرو) گے بُری طرح چڑھنا(بڑی سرکشی) ۔

.4

پھر جب آیا پہلا وعدہ، اُٹھائے ہم نے تم پر ایک بندے اپنے سخت لڑائی والے،

پھر پھیل پڑے(گھُس گئے) شہر کے بیچ۔

اور وہ وعدہ (پورا) ہونا ہی تھا۔

.5

 پھر ہم نے پھیری تمہاری باری اُن پر اور زور دیا تم کو مال سے اور بیٹوں سے،اور اس سے زیادہ کر دی تمہاری بھیڑ(تعداد) ۔

.6

 اگر بھلائی کی تم نے تو بھلا کیا اپنا، اور اگر بُرائی کی تو آپ کو۔

پھر جب پہنچا وعدہ پچھلی (دوسری) بار کا کہ وہ لوگ اداس کریں(بگاڑیں) تمہارے منہ

اور پیٹھیں (گھسیں) مسجد (بیت المقدس) میں جیسے پیٹھے (گھسے) پہلی بار

اور خراب (برباد) کریں جس جگہ غالب ہوں پوری خرابی (بربادی) ۔

.7

 آیا ہے رب تمہارا اس پر کہ تم کو رحم کرے۔

اگر پھر وہی کرو گے تو ہم پھر وہی کریں گے،اور کیا ہے ہم نے دوزخ منکروں کا بندی (قید) خانہ۔

.8

یہ قرآن بتاتا ہے وہ راہ جو سب سے سیدھی ہے،

اور خوشی سناتا ہے ان کو جو یقین لائے اور کیں نیکیاں کہ اُنکو ہے ثواب بڑا۔

.9

 اور یہ کہ جو نہیں مانتے پچھلا (آخرت کا) دن، اُن کے لئے رکھی ہم نے دکھ کی مار(دردناک عذاب) ۔

.10

 اور مانگتا ہے آدمی بُرائی، جیسے مانگتا ہے بھلائی۔ اور ہے انسان تاؤلا(جلدباز) ۔

.11

 اور ہم نے بنائے رات اور دن دو نمونے،

پھر مٹا دیا رات کا نمونہ اور بنا دیا دن کا نمونہ دیکھنے کو،کہ تلاش کرو فضل اپنے رب کا، اور معلوم کرو گنتی برسوں کی اور حساب۔

اور سب چیز سُنائی ہم نے کھول کر(تفصیل سے) ۔

.12

 اور جو آدمی ہے، لگا (لٹکا) دی ہے ہم نے اس کی بُری قسمت اس کی گردن سے۔

اور نکال دکھائیں گے اس کو قیامت کے دن لکھا کہ پائے گا اس کو کھلا۔

.13

پڑھ لے لکھا اپنا۔ تُو ہی بس ہے آج کے دن اپنا حساب لینے والا۔

.14

جو کوئی راہ پر آیا تو آیا اپنے ہی واسطے۔اور جو کوئی بہکا رہا ،بہکا رہا اپنے ہی بُرے کو۔

اور کسی پر نہیں پڑتا بوجھ دوسرے کا۔

اور ہم بلا (عذاب) نہیں ڈالتے جب تک نہ بھیجیں کوئی رسول۔

.15

 اور جب ہم نے چاہا کہ کھپا (ہلاک کر) دیں کوئی بستی، حکم بھیجا اسکے عیش کرنے والوں کو، پھر انہوں نے بے حکمی کی اس میں،

تب ثابت (چسپاں) ہوئی اُن پر بات(فیصلہ) ، تب اُکھاڑ (برباد کر) مارا ان کو اُٹھا کر۔

.16

اور کتنی کھپائیں (ہلاک کیں) ہم نے سنگتیں (قومیں) نُوح سے پیچھے(بعد) ،

اور بس (کافی) ہے تیرا رب اپنے بندوں کے گناہ جانتا دیکھتا۔

.17

 جو کوئی چاہتا ہو پہلا گھر(دنیا کا فائدہ) ، شتاب (جلدی) دے چکیں ہم اس کو اسی میں جتنا چاہیں، جس کو چاہیں،

پھر ٹھہرایا ہے ہم نے اس کے واسطے دوزخ، پیٹھے (پہنچے) گا اس میں بُرا سُن کر، دھکیلا جا کر۔

.18

اور جس نے چاہا پچھلا (آخرت کا) گھر، اور دوڑ کی اسکے واسطے، جو کوئی اس کی دوڑ ہے اور وہ یقین پر ہے،

سو ایسوں کی دوڑ نیگ لگی (مقبول) ہے۔

.19

ہر ایک کو ہم پہنچائے جاتے ہیں، اِن کو اور اُن کو (بھی) ، تیرے رب کی بخشش (عطا) میں سے۔

اور تیرے رب کی بخشش (عطا) کسی نے نہیں گھیری(پر نہیں بند) ۔

.20

دیکھ! کیوں کر بڑھایا ہم نے ایک کو ایک سے،

اور پچھلے (آخرت کے) گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی بڑائی۔

.21

 نہ ٹھہرا اﷲ کے ساتھ دوسرا حاکم، پھر بیٹھ رہے گا تو اولاہنا پا (ملامت زدہ ہو) کر ، بے کس ہو کر۔

.22

 اور چکا (فیصلہ کر) دیا تیرے رب نے کہ نہ پُوجو اس کے سوا، اور ماں باپ سے بھلائی۔

کبھی پہنچ جائے تیرے سامنے بڑھاپے کو ایک یا دونوں، تو نہ کہہ ان کو، ہوں اور نہ جھڑک ان کو،

اور کہہ ان کو بات ادب کی۔

.23

 اور جھکا ان کے آگے کندھے عاجزی کر کر پیار سے، اور کہہ،

اے رب! اُن پر رحم کر، جیسا پالا اُنہوں نے مجھ کو چھوٹا(بچپن میں) ۔

.24

 تمہارا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے جی میں ہے۔

جو تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخشتا ہے۔

.25

 اور دے ناتے والے(رشتے دار) کو اسکا حق، اور محتاج کو اور مسافر کو،

اور مت اُڑا (خرچ) بکھیر کر(بے جا) ۔

.26

بیشک اُڑانے (بے جا خرچ کرنے) والے، بھائی ہیں شیطانوں کے۔ اور شیطان ہے اپنے رب کا نا شکر۔

.27

 اور اگر کبھی تغافل کرے تُو ان کی طرف سے، تلاش میں مہربانی کی، اپنے رب کی طرف سے، جس کی توقع رکھتا ہے،

تو کہہ ان کو بات نرمی کی۔

.28

 اور نہ رکھ اپنا ہاتھ بندھا اپنی گردن کے ساتھ،

اور نہ کھول دے اس کو نِرا کھولنا، پھر تو بیٹھ رہے الزام کھایا (ملامت زدہ) ہارا۔

.29

تیرا رب کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور کستا ہے (تنگ کرتا ہے جسکو چاہے) ۔

وہی ہے اپنے بندوں کو جانتا دیکھتا۔

.30

 اور نہ مار ڈالو اپنی اولاد کو ڈر سے مفلسی کے۔ہم روزی دیتے ہیں ان کو اور تم کو،

بیشک ان کا مارنا بڑی چُوک ہے۔

.31

 اور پاس نہ جاؤ بدکاری (زنا) کے، وہ ہے بے حیائی۔ اور بُری راہ ہے۔

.32

 اور نہ مارو (قتل کرو) جان جو منع کی اﷲ نے، مگر حق پر۔

اور جو مارا گیا ظلم سے۔ تو ہم نے دیا اسکے وارث کو زور (اختیار) ،

سو اب ہاتھ نہ چھوڑ دے (حد سے نہ بڑھے) خون پر۔(اس لئے کہ) اس کو مدد ہونی (اسکی مدد کی گئی) ہے۔

.33

 اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے، مگر جس طرح بہتر ہو، جب تک وہ پہنچے اپنی جوانی کو،

اور پورا کرو اقرار کو۔ بیشک اقرار کی پوچھ ہے۔

.34

 اور پورا بھرو ماپ جب ماپ دینے لگو اور تولو سیدھی ترازو سے۔

یہ بہتر ہے اور اچھا اس کا انجام۔

.35

 اور نہ پیچھے پڑ جس بات کی خبر نہیں تجھ کو۔

بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہے۔

.36

اور نہ چل زمین پر اِتراتا(اکڑ کر) ،

تُو پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو، اور نہ پہنچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کر۔

.37

یہ جتنی باتیں ہیں، ان میں سے بُری چیز (بُرا پہلو) ہے تیرے رب کی بیزاری۔

.38

 یہ ہے کچھ ایک جو وحی کیا تیرے رب نے تیری طرف، عقل کے کاموں (حکمت میں) سے۔

اور نہ ٹھہرا اﷲ کے سوا اور کی بندگی، پھر پڑے تو دوزخ میں، اولاہنا کھایا (ملامت زدہ) دکھیلا(ہر بھلائی سے محروم) ۔

.39

 کیا تم کو چُن کر دیئے تمہارے رب نے بیٹے اور آپ لئے فرشتے بیٹیاں۔

تم کہتے ہو بڑی (غلط) بات؟

.40

 اور پھیر پھیر (طرح طرح سے) سمجھایا ہم نے اس قرآن میں تا (کہ) وہ سوچیں(سمجھیں) ۔

اور ان کو زیادہ ہوتا ہے وہی بدکنا۔

.41

کہہ، اگر ہوتے اسکے ساتھ اور حاکم، جیسا یہ بتاتے ہیں، تو نکالتے تخت کے صاحب کی طرف راہ۔

.42

 وہ پاک ہے، اوپر (بلند وبر تر) ہے ان کی باتوں سے بہت دُور(بُلند ہے اسکی شان) ۔

.43

 اس کو ستھرائی بولتے (تسبیح کرتے) ہیں آسمان ساتوں اور زمین، اور جو کوئی ان میں ہے۔

اور کوئی چیز نہیں جو نہیں پڑھتی خوبیاں اس کی، لیکن تم نہیں سمجھتے اُن کا پڑھنا۔

بیشک وہ ہے تحمل والا بخشتا۔

.44

 اور جب تُو پڑھتا ہے قرآن، کر دیتے ہیں بیچ میں تیرے اور ان لوگوں کے جو نہیں مانتے پچھلا گھر، ایک پردہ ڈھانکا۔

.45

 اور رکھے ہیں اُن کے دِلوں پر اوٹ کہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ(بہرہ پن) ۔

اور جب مذکور کرتا ہے تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلا کر کر، بھاگتے ہیں اپنی پیٹھ پر بدک کر۔

.46

 ہم خوب جانتے ہیں جیسا وہ سنتے ہیں، جس وقت کان رکھتے ہیں تیری طرف، اور جب وہ مشورہ کرتے ہیں،

جب کہتے ہیں بے انصاف، جس کے کہے پر چلتے ہو نہیں وہ مگر ایک مرد جادو مارا (سحر زدہ) ۔

.47

 دیکھ! کیسی بٹھاتے ہیں تجھ پر کہاوتیں اور بہکتے ہیں، سو راہ نہیں پا سکتے۔

.48

اور کہتے ہیں، کیا جب ہم ہو گئے ہڈیاں اور چورا کیا ہم پھر اُٹھیں (پیدا ہوں) گے نئے بن کر(از سرِ نَو) ۔

.49

 تُو کہہ، تم ہو جاؤ پتھر یا لوہا۔

.50

یا کوئی خلقت جو مشکل لگے تمہارے جی میں،

پھر اب کہیں گے، کون اُلٹے (زندہ کرے) گا ہم کو؟

(کہو) جس نے بنایا (پیدا کیا) تم کو پہلی بار۔

پھر اب مٹکائیں گے تیری طرف اپنے سر اور کہیں گے کب ہے وہ؟

تُو کہہ، شاید نزدیک ہی ہو گا۔

.51

 جس دن تم کو پکارے گا، پھر چلے آؤ گے سراہتے (حمد و ثنا کرتے) اس کو،

اور اٹکلو (گمان کرو) گے کہ دیر نہیں لگی تم کو مگر تھوڑی(دنیا میں تھوڑا سا وقت ہی رہے) ۔

.52

 اور کہہ دے میرے بندوں کو ، بات وہی کہیں جو بہتر ہو۔

شیطان جھڑپواتا (نزاع کرواتا) ہے آپس میں۔

شیطان ہے انسان کا بیشک دشمن صریح(کھلا) ۔

.53

 تمہارا رب بہتر جانتا ہے تم کو۔

اگر چاہے تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تم کو مار (سزا) دے۔

اور تجھ کو نہیں بھیجا ہم نے اُن پر ذمہ لینے والا۔

.54

 اور تیرا رب بہتر جانتا ہے جو کوئی ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔

اور ہم نے زیادہ کیا (فضیلت دی) ہے بعضے نبیوں کو بعضوں سے، اور دی ہم نے داؤد کو زبور۔

.55

 کہہ، پکارو جن کو سمجھتے ہو سِوا اس کے،سو نہیں اختیار رکھتے کہ تکلیف کھول دیں تم سے، نہ بدل دیں۔

.56

 وہ لوگ جن کو پکارتے ہیں، ڈھونڈتے ہیں اپنے رب تک وسیلہ،کہ کون بندہ بہت نزدیک ہے

اور امید رکھتے ہیں اس کی مہر کی، اور ڈرتے ہیں اس کی مار سے۔

بیشک تیرے رب کی مار ڈرنے کی چیز ہے۔

.57

 اور کوئی بستی نہیں جس کو ہم نہ کھپائیں (ہلاک کریں) گے قیامت سے پہلے یاآفت ڈالیں اس پر سخت آفت۔

یہ ہے کتاب میں لکھا گیا۔

.58

 اور ہم نے اس سے موقوف کیں (روکیں) نشانیاں بھیجنی، کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔

اور ہم نے دی ثمود کو اونٹنی سوجھانے(آنکھیں کھولنے) کو، پھر اس کا حق نا مانا۔

اور نشانیاں جو ہم بھیجتے ہیں سو ڈرانے کو۔

.59

 اور جب کہہ دیا ہم نے تجھ سے کہ تیرے رب نے گھیر لیا لوگوں کو۔

اور وہ دکھاوا (منظر) جو تجھ کو دکھایا ہم نے، سو جانچنے کے لوگوں کو،اور وہ درخت جس پر پھٹکار (لعنت بھیجی گئی) ہے قرآن میں۔

اور ہم ان کو ڈراتے ہیں، تو ان کو زیادہ ہوتی ہے بڑی شرارت (سرکشی) ۔

.60

 اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو سجدہ کر آدم کو، تو سجدہ میں گر پڑے، مگر ابلیس(نے سجدہ نہ کیا) ۔

بولا کیا میں سجدہ کروں ایک شخص کو جو تو تے بنایا مٹی کا؟

.61

 کہنے لگا، بھلا دیکھ تو! یہ جس کو تُو نے مجھ سے چڑھایا(پر فضیلت دی) ،

اگر تو مجھ کو ڈھیل دے قیامت کے دن تک، تو اسکی اولاد کو ڈھانٹی دے لوں(ورغلاؤں اپنی طرف) ،

 مگر تھوڑے سے(بچ رہیں گے) ۔

.62

 فرمایا جا، پھر جو کوئی تیرے ساتھ ہوا ان میں سے، سو دوزخ ہے تم سب کی سزا، پورا بدلا۔

.63

 اور گھبرا (بہکا) لے ان میں جس کو گھبرا (بہکا) سکے اپنی آواز (دعوت) سے،اور پکار (چڑھا) لا ان پر اپنے سوار اور پیادے،

اور ساجھا کر ان سے(شریک بن جا اُنکا) مال اور اولاد میں، اور وعدے دے (دیتا رہ) ان کو۔

اور کچھ نہیں وعدہ دیتا ان کو شیطان، مگر دغابازی۔

.64

وہ جو میرے بندے ہیں، اُن پر نہیں تیری حکومت۔

اور تیرا رب ہے بس (کافی) کام بنانے والا ۔

.65

تمہارا رب وہ ہے، جو ہانکتا ہے تمہارے واسطے کشتی دریا میں، کہ تلاش کرو اس کا فضل۔

 وہ ہے تم پر مہربان۔

.66

اور جب تم پر تکلیف پڑے دریا میں، بھولتے ہو جن کو پکارتے تھے اسکے سِوا۔

پھر جب بچا لیا تم کو جنگل (خشکی) کی طرف، ٹلا (منہ موڑ) گئے۔

اور ہے انسان بڑا نا شکر۔

.67

 سو کیا نڈر ہوئے ہو؟ کیا دھنسائے تم کو جنگل کے کنارے یا بھیج دے تم پر آندھی،

پھر نہ پاؤ اپنا کوئی کام بنانے والا۔

.68

 یا نڈر ہوئے ہو کہ پھر لے جائے تم کو اس میں دوسری بار،

پھر بھیجے تم پر ایک جھونکا باؤ (ہوا) کا، پھر ڈبو دے تم کو بدلہ اس نا شکری کا،

پھر نہ پاؤ تمہاری طرف سے ہم پر اس کا دعوٰی کرنے والا۔

.69

 اور ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو، اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں،

اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری (پاکیزہ) چیزوں سے،

اور زیادہ کیا (فضیلت دی) ان کو اپنے بنائے ہوئے بہت شخصوں (مخلوقات) پر، بڑھتی (فضیلت) دے کر۔

.70

 جس دن ہم بلائیں گے ہر فرقے کو، ساتھ ان کے سردار کے۔

وہ جس کو ملا اس کا لکھا اس کے داہنے (ہاتھ) میں، سو پڑھتے ہیں اپنا لکھا،

اور ظلم نہ ہو گا ان پر ایک تاگے کا(ذرہ برابر) ۔

.71

 اور جو کوئی رہا اس جہان میں اندھا، سو پچھلے جہاں (آخرت) میں اندھا ہے،اور زیادہ دُور پڑا راہ سے(گمراہ ہوا اندھے سے بھی) ۔

.72

 اور وہ تو لگے تھے کہ تجھ کو بچلا (پھیر) دیں اس چیز سے، جو وحی بھیجی ہم نے تیری طرف، تا (کہ) باندھ (گھڑ) لائے تُو اس کے سِوا۔

اور تب پکڑتے (وہ بنا لیتے) تجھ کو دوست۔

.73

 اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھ کو ٹھہرا (ثابت قدم) رکھا، تو تُو لگ ہی جاتا جھکنے اُن کی طرف تھوڑا سا۔

.74

 تب مقرر (ضرور) چکھاتے ہم تجھ کو دُونا مزہ زندگی میں اور دُونا مرنے میں،

پھر نہ پاتا تُو اپنے واسطے ہم پر مدد کرنے والا۔

.75

 اور وہ تھے لگے گھبرانے تجھ کو (کہ تیرے قدم اکھاڑ دیں) اس زمین سے، کہ نکال دیں تجھ کو یہاں سے،

اور تب (اس صورت میں ) نہ ٹھہریں (رہیں) گے (خود بھی) تیرے پیچھے (بعد) مگر تھوڑا(تھوڑی دیر) ۔

.76

 دستور پڑا (یہی طریقہ) ہوا ہے ان رسولوں کا، جو تجھ سے پہلے بھیجے ہم نے،

اور نہ پائے گا تُو ہمارے دستور (طریقِ کار) میں تفاوت (تبدیلی) ۔

.77

 کھڑی رکھو نماز سورج کے ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک، اور قرآن پڑھنا فجر کا۔

بیشک قرآن پڑھنا فجر کا ہوتا ہے رُوبرو۔

.78

 اور کچھ رات جاگتا رہ اس میں یہ بڑھتی (فائدہ) ہے تجھ کو، شاید کھڑا کرے تجھ کو تیرا رب، تعریف کے مقام میں۔

.79

 اور کہہ، اے رب! پیٹھا (داخل کر) مجھ کو سچا پیٹھانا (داخل کرنا) اور نکال مجھ کو سچا نکالنا،

اور بنا دے مجھ کو اپنے پاس سے ایک حکومت کی مدد۔

.80

 اور کہہ، آیا سچ اور نکل بھاگا جھوٹ۔

بیشک جھوٹ ہے نکل بھاگنے والا۔

.81

 اور ہم اُتارتے ہیں قرآن میں سے جس سے روگ چنگے ہوں(شفا ہو) اور مہر (رحمت)ایمان والوں کو۔

اور گنہگاروں کو یہی بڑھتا ہے نقصان۔

.82

 اور جب ہم آرام بھیجیں انسان پر، ٹلا (پیٹھ موڑے)جائے اور ہٹا دے اپنا بازو(اکڑتا ہے)۔

اور جب لگے اس کو برائی، رہ جائے آس ٹوٹا (مایوس) ۔

.83

 تُو کہہ، ہر کوئی کام کرتا ہے اپنے ڈول (طریقے) پر۔

سو تیرا رب بہتر جانتا ہے، کون خوب سوجھا ہے راہ۔

.84

 اور تجھ سے پوچھتے ہیں رُوح کو(کے بارے میں) ،

تُو کہہ، رُوح ہے میرے رب کے حکم سے، اور تم کو خبر دی ہے تھوڑی سی۔

.85

 اور اگر ہم چاہیں لے جائیں جو چیز تم کو وحی بھیجی،پھر تُو نہ پائے اسکے لا دینے کو ہم پر کوئی ذمہ لینے والا۔

.86

 مگر مہربانی سے تیرے رب کی۔

اس کی بخشش تجھ پر بڑی ہے۔

.87

کہہ، اگر جمع ہوں آدمی اور جِنّ اس پر کہ لائیں ایسا قرآن،

نہ لائیں گے ایسا، اور پڑے مدد کریں ایک کی ایک۔

.88

 اور ہم نے پھیر پھیر (طرح طرح سے) سمجھائی لوگوں کو اس قرآن میں ہر کہاوت،

سو نہیں رہتے بہت لوگ بن نا شکری کئے۔

.89

 اور بولے، ہم نہ مانیں گے تیرا کہا، جب تک تُو نہ بہا نکالے ہمارے واسطے زمین سے ایک چشمہ۔

.90

 یا ہو جائے تیرے واسطے ایک باغ کھجور اور انگور کا، پھر بہا لے اس کے بیچ نہریں چلا کر۔

.91

 یا گرا دے آسمان ہم پر، جیسا کہا کرتا ہے ٹکڑے ٹکڑے،یا لے آ اﷲ کو اور فرشتوں کو ضامن۔

.92

 یا ہو جائے تجھ کو ایک گھر سنہری، یا چڑھ جائے تُو آسمان میں۔

اور ہم یقین نہ کریں گے تیرا چڑھنا، جب تک نہ اتار لائے ہم پر ایک لکھا، جو ہم پڑھ لیں۔

تُو کہہ، سُبحان اﷲ! میں کون ہوں مگر ایک آدمی ہوں بھیجا ہوا۔

.93

 اور لوگوں کو اٹکاؤ (منع) نہیں ہوا اس سے کہ یقین لائیں جب پہنچی ان کو راہ کی سوجھ(ہدایت) ،

مگر یہی کہ کہنے لگے، کیا اﷲ نے بھیجا آدمی پیغام لے کر؟

.94

 کہہ، اگر ہوتے زمین میں فرشتے، پھرتے بستے،تو ہم اتارتے اُن پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام لے کر۔

.95

کہہ، اﷲ بس (کافی) ہے حق ثابت کرنے والا میرے تمہارے بیچ۔

وہ ہے اپنے بندوں سے خبردار دیکھنے والا۔

.96

 اور جس کو سوجھاوے(ہدایت دے) اﷲ، وہی ہے سوجھا(ہدایت یافتہ) ۔

اور جس کو بھٹکاوے(گمراہ کرے) ، پھر تو نہ پائے ان کے کوئی رفیق اس کے سِوا۔

اور اٹھائیں گے ہم ان کو دن قیامت کے، اوندھے منہ پر اندھے اور گونگے اور بہرے۔

ٹھکانا ان کا دوزخ ہے، جب لگے گی بجھنے(ماند پڑنے) اور دیں گے ان پر بھڑکا۔

.97

 یہ اُن کی سزا ہے! اس واسطے کہ منکر ہوئے ہماری آیتوں سے،

اور بولے، کیا جب ہو گئے ہڈیاں اور چُورا؟ کیا ہم کو اٹھانا ہے نئے بنا کر؟

.98

 کیا نہیں دیکھ چکے؟ جس اﷲ نے بنائے آسمان و زمین، سکتا (قادر) ہے ایسوں کو بنانا،

اور ٹھہرایا (مقرر کر رکھا) ہے ان کا ایک وعدہ (مدت) بے شبہ(جس میں شبہ نہیں) ۔

سو نہیں رہتے بے انصاف بن نا شکری کئے۔

.99

 کہہ اگر تمہارے ہاتھ میں ہوتے میرے رب کی مہر (رحمت) کے خزانے،

تو مقرر (ضرور) موندھ (روک) رکھتے اس ڈر سے کہ خرچ نہ ہو جائیں۔

اور ہے انسان دل کا تنگ۔

.100

 اور ہم نے دیں موسیٰ کو نَو (۹) نشانیاں صاف (معجزات) ،

پھر پوچھ بنی اسرائیل سے، جب وہ آیا ان کے پاس، تو کہا اس کو فرعون نے،میری اٹکل (سمجھ) میں موسیٰ تجھ پر جادو ہوا۔

.101

بولا تو جان چکا ہے کہ یہ چیزیں کسی نے نہیں اُتاریں، مگر آسمان و زمین کے صاحب نے سوجھانے کو۔

اور میری اٹکل (سمجھ) میں فرعون! تُو کھپا (ہلاک ہوا) چاہتا ہے۔

.102

 پھر چاہا ان کو چین نہ دے زمین میں،پھر ڈبو دیا ہم نے اس کو اور اسکے ساتھ والوں کو سارے۔

.103

 اور کہا ہم نے اسکے پیچھے بنی اسرائیل کو، بسو تم زمین میں،پھر جب آئے گا وعدہ آخرت کا لے آئیں گے ہم تم کو سمیٹ کر۔

.104

اور سچ کے ساتھ اتارا ہم نے یہ قرآن، اور سچ کے ساتھ اترا۔

اور تجھ کو بھیجا ہم نے، سو خوشی اور ڈر سناتا۔

.105

 اور پڑھنے کا وظیفہ کیا ہم نے اس کو بانٹ کر، کہ پڑھے تُو اسکو لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر،اور اس کو ہم نے اتارتے (بتدریج) اُتارا۔

.106

 کہہ، تم اس کو مانو یا نہ مانو۔

(لیکن) جس کو علم ملا ہے اس کے آگے (پہلے) سے، جب ان کے پاس اس کو پڑھئے، گرتے ہیں ٹھوڑیوں پر سجدے میں۔

.107

 اور کہتے ہیں، پاک ہے ہمارا رب بے شک، ہمارے رب کا وعدہ البتہ ہونا ہے۔

.108

 اور گرتے ہیں ٹھوڑیوں پر روتے ہوئے، اور زیادہ ہوتی ہے ان کو عاجزی۔(سجدہ)

.109

 کہہ اﷲ کو پکارو یا رحمٰن کو۔

جو کہہ کر پکارو گے، سو اسی کے ہیں سب نام خاصے(اچھے) ۔

اور تُو نہ پکار اپنی نماز میں، نہ چپکے پڑھ، اور ڈھونڈھ لے اسکے بیچ میں راہ۔

.110

 اور کہہ، سراہئے اﷲ کو جس نے نہیں رکھی اولاد،نہ کوئی اس کا ساجھی سلطنت میں، نہ کوئی اس کا مددگار ذلّت کے وقت پر،

اور اس کی بڑائی کر بڑا جان کر۔

*********

.111

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com