القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ المؤمنون

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 کام نکال (یقیناً فلاح پا) گئے ایمان والے،

.1

 جو اپنی نماز میں نِوے (خشوح اختیار کرتے) ہیں،

.2

 اور جو نِکمّی (بے ہودہ) بات پر دھیان نہیں کرتے۔

.3

 اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں۔

.4

 اور جو اپنی شہوت کی جگہ تھامتے ہیں۔

.5

مگر اپنی عورتوں پر، یا اپنے ہاتھ کے مال پر،

سو ان پر نہیں اُلاہنا (ملامت) ۔

.6

پھر جو کوئی ڈھونڈے اسکے سوا، وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔

.7

 اور جو اپنی امانتوں سے اور اپنے اقرار سے خبردار ہیں۔

.8

 اور جو اپنی نماز سے خبردار ہیں۔

.9

 وہی ہیں میراث لینے والے،

.10

جو میراث پائیں گے باغ ٹھنڈی چھاؤں کے، وہ اسی میں رہ پڑے(ہمیشہ کے لئے) ۔

.11

 اور ہم نے بنایا ہے (پیدا کیا) آدمی، چُن لی مٹی سے۔

.12

پھر رکھا اس کو بُوند کر کر (نُطفہ) ، ایک جمے ٹھہراؤ (محفوظ جگہ، رحمِ مادر) میں۔

.13

 پھر بنائی اس بُوند (نُطفہ) سے (خون کی) پھٹکی،

پھر بنائی اس (خون کی)پھٹکی سے بوٹی،

پھر اس بوٹی سے ہڈیاں،

پھر پہنایا ان ہڈیوں پر گوشت،

پھر اٹھا کھڑا کیا اُس کو ایک نئی صورت میں،

سو بڑی برکت اﷲ کی جو سب سے بہتر بنانے والا ۔

.14

 پھر تم اس کے پیچھے (بعد) مرو گے۔

.15

 پھر تم قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔

.16

 اور ہم نے بنائی ہیں تمہارے اوپر سات راہیں،

اور ہم نہیں ہیں خلق (تخلیق) سے بے خبر۔

.17

 اور اُتارا ہم نے آسمان سے پانی ماپ کر(مخصوص مقدار میں) ، پھر اسکو ٹھہرادیا زمین میں،

اور ہم اس کو لے جاویں تو سکتے ہیں(قادر ہیں واپس لے جانے پر) ۔

.18

 پھر اُگا دیئے تم کو اس سے باغ کھجور اور انگور کے،

تم کو ان سے میوے ہیں  اور انہی میں سے کھاتے ہو۔

.19

اور وہ درخت جو نکلتا ہے سینا پہاڑ سے،لے اُگتا ہے تیل، اور روٹی ڈبونا کھانے والوں کو۔

.20

 اور تم کو چوپایوں میں دھیان کرنا ہے۔

پلاتے ہیں تم کو ان کے پیٹ کی چیز سے،

اور تم کو ان میں بہت فائدے ہیں، اور بعضوں کو کھاتے ہو،

.21

 اور ان پر اور کشتی پر لدے (سوار ہو کر) پھرتے ہو۔

.22

 اور ہم نے بھیجا نوح کو اسکی قوم پاس، تو اس نے کہا :

اے قوم بندگی کرو اﷲ کی، تمہارا کوئی حاکم نہیں اسکے سِوا،

کیا تم کو ڈر نہیں؟

.23

 تب بولے سردار جو منکر تھے، اسکی قوم کے،

یہ کیا ہے، ایک آدمی ہے جیسے تم، چاہتا ہے کہ بڑائی کرے تم پر،

اور اگر اﷲ چاہتا تو اُتارتا فرشتے۔

ہم نے یہ نہیں سُنا اپنے اگلے باپ دادوں میں۔

.24

 اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے کہ اسکو سودا (جنون) ہے، سو راہ دیکھو اسکی ایک وقت تک۔

.25

بولا اے رب! تو مدد کر میری کہ انہوں نے مجھ کو جھٹلایا۔

.26

 پھر ہم نے حکم بھیجا اسکو کہ بنا کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے،

پھر جب پہنچے ہمارا حکم اور اُبلے تنور تو تُو ڈال لے اس میں ہر چیز کا جوڑا دوہرا،

اور اپنے گھر کے لوگ مگر جس کی قسمت میں آگے پڑ چکی بات(پہلے فیصلہ ہو چکا) ۔

اور نہ کہہ مجھ سے ان ظالموں کے واسطے، ان کو ڈوبنا ہے۔

.27

 اور پھر جب چڑھ چکے تُو اور جو تیرے ساتھ ہے کشتی پر۔ تو کہہ،

شکر اﷲ کا جس نے چھڑایا ہم کو گنہگارلوگوں سے۔

.28

 اور کہہ اے رب! اتار مجھ کو برکت کا اتارنا، اور تو ہے بہتر اتارنے والا۔

.29

 اس میں نشانیاں ہیں اور ہم ہیں جانچنے والے۔

.30

 پھر اُٹھائی ہم نے اُن سے پیچھے، ایک سنگت اور (دوسرے دور کے لوگ) ۔

.31

 پھر بھیجا ہم نے ان میں ایک رسول اُن میں کا،

کہ بندگی کرو اﷲ کی، کوئی نہیں تمہارا حاکم اس کے سِوا،

پھر کیا تم کو ڈر نہیں۔

.32

 اور بولے سردار اسکی قوم کے، جو منکر تھے اور جھٹلاتے تھے آخرت کی ملاقات کو۔

اور آرام دیا تھا ان کو ہم نے دنیا کے جیتے۔

اور کچھ نہیں یہ ایک آدمی ہے جیسے تم،

کھاتا ہے جس قِسم سے تم کھاتے ہو، اور پیتا ہے جس قِسم سے تم پیتے ہو۔

.33

 اور کبھی تم چلے کہے پر ایک آدمی کے اپنے برابر کے تو تم بیشک خراب ہوئے۔

.34

 کیا تم کو وعدہ دیتا ہے کہ جب تم مر گئے اور ہو گئے مٹی اور ہڈیاں، کہ تم کو نکالنا ہے(قبروں سے) ۔

.35

کہاں ہو سکتا (نا ممکن) ہے، کہاں ہو سکتا (نا ممکن) ہے! جو تم کو وعدہ ملتا ہے؟

.36

 اور کچھ نہیں، یہی جینا ہے ہمارا دُنیا کا ، مرتے ہیں اور جیتے ہیں،

اور ہم کو پھر اُٹھنا نہیں۔

.37

 اور کچھ نہیں یہ ایک مرد ہے۔ باندھ لایا اﷲ پر جھوٹ، اور ہم اس کو نہیں ماننے والے۔

.38

 بولا اے رب! میری مدد کر، انہوں نے مجھ کو جھٹلایا۔

.39

فرمایا۔ اب تھوڑے دنوں میں صبح کو (قریب ہے کہ) رہ جائیں پچھتاتے (نادم)۔

.40

پھر پکڑا ان کو چنگھاڑ نے، تحقیق (وعدہ کے مطابق) پھر کر دیا ہم نے ان کو کُوڑا (خش و خاک) ۔

سو (رحمت سے)دُور ہو جائیں گے گنہگار لوگ۔

.41

 پھر اٹھائیں ہم نے ان سے پیچھے سنگتیں (دوسری قومیں)۔

.42

 اور نہ پہلے جائے کوئی قوم اپنے وعدہ سے، نہ پیچھے رہیں۔

.43

 پھر بھیجتے رہے ہم اپنے رسول لگاتار،

جہاں پہنچا کسی اُمت پاس انکا رسول، اس کو جھٹلا دیا۔

پھر چلاتے (بھیجتے) گئے (ہلاک کر کے)ہم ایک کے پیچھے دوسری ۔ اور کر ڈالا ان کو کہانیاں،

سو دور ہو جائیں جو لوگ نہیں مانتے۔

.44

پھر بھیجا ہم نے موسیٰ اور اس کا بھائی ہارون، اپنی نشانیاں دے کر اور کھلی سند۔

.45

فرعون اور اس کے سرداروں پاس،

پھر بڑائی (تکبر) کرنے لگے اور تھے وہ لوگ چڑھ رہے (سرکش) ۔

.46

سو وہ بولے کیا ہم مانیں گے ایک دو آدمیوں کو ہمارے برابر کے، اور ان کی قوم کرتی ہیں ہماری بندگی (غلامی) ؟

.47

پھر جھٹلایا اُن دونوں کو، پھر ہوئے کھپنے (ہلاک ہونے) والوں میں۔

.48

 اور ہم نے دی موسیٰ کو کتاب شاید وہ راہ (ہدایت) پائیں۔

.49

 اور بنایا ہم نے مریم کا بیٹا۔ اور اس کی ماں ایک نشانی،

اور ان کو ٹھکانا دیا ایک ٹیلے پر جہاں ٹھہراؤ تھا اور پانی نتھرا۔

.50

 اے رسولو! کھاؤ ستھری چیزیں اور کام کرو بھلا،

جو کرتے ہو میں جانتا ہوں۔

.51

 اور یہ لوگ ہیں تمہارے دین کے، سب ایک دین پر،

اور میں ہوں تمہارا رب، سو مجھ سے ڈرتے رہو۔

.52

 پھر پھوٹ کر کر لیا اپنا کام آپس میں ٹکڑے ٹکڑے۔

ہر فرقہ جو ان کے پاس ہے اس پر ریجھ رہے ہیں۔

.53

 سو چھوڑ دے ان کو اپنی بیہوشی میں ڈوبے ایک وقت تک۔

.54

 کیا خیال رکھتے ہیں کہ یہ جو ہم اُن کو دیئے جاتے ہیں مال اور اولاد،

.55

 (گویا) دوڑ دوڑ ملاتے (ہم دیتے) ہیں ان کو بھلائیاں؟

کوئی (ہرگز) نہیں ان کو بوجھ (سمجھ) نہیں۔

.56

 البتہ جو لوگ اپنے رب کے خوف سے اندیشہ رکھتے (لرزتے رہتے) ہیں۔

.57

 اور جو لوگ اپنے رب کی باتیں یقین کرتے ہیں۔

.58

 اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔

.59

 اور جو لوگ دیتے ہیں (اﷲ کی راہ میں) ،

جو(کچھ) دیتے ہیں اور ان کے دلوں میں ڈر ہے کہ ان کو اپنے رب کی طرف پھر جانا(لوٹ کر جانا ہے) ۔

.60

 وہ دوڑ دوڑ لیتے ہیں بھلائیاں، اور وہ اُن پر پہنچے سب سے آگے۔

.61

 اور ہم کسی پر بوجھ نہیں ڈالتے مگر جو اس کی سمائی (طاقت) ہے۔

اور ہمارے پاس لکھا ہے جو بولتا ہے سچ۔

اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

.62

 کوئی نہیں، ان کے دل بیہوش ہیں اس طرف سے۔

اور ان کو اور کام لگے ہیں اس کے سِوا کہ وہ ان کو کر رہے ہیں۔

.63

 یہاں تک کہ جب پکڑیں گے ہم انکے آسودہ لوگوں کو آفت میں، تبھی وہ لگیں گے چلانے۔

.64

 مت چلاؤ! آج کے دن تم ہم سے چھڑائے نہ جاؤ گے۔

.65

 تم کو سنائی جاتیں میری آیتیں، تو تم ایڑیوں پر اُلٹے بھاگتے تھے۔

.66

 اس سے بڑائی (گھمنڈ) کر کر ایک کہانی والے کو چھوڑ کر چلے گئے۔

.67

 سو کیا دھیان نہیں کی یہ بات، یا آیا ہے ان پاس جو نہ آیا تھا اُن کے پہلے باپ دادوں پاس۔

.68

 یا پہنچانا نہیں انہوں نے اپنا پیغام لانے والا۔ سو اس کو اوپری سمجھتے ہیں؟

.69

یا کہتے ہیں اس کو سَودا (دیوانہ) ہے۔

کوئی نہیں وہ لایا ہے ان کے پاس سچی بات، اور بہتوں کو سچی بات بُری لگتی ہے۔

.70

 اور اگر سچا رب چلے ان کی خوشی پر تو خراب ہوں آسمان و زمین اور جو کوئی ان کے بیچ ہے۔

کوئی نہیں، ہم نے پہنچائی ہے ان کو ان کی نصیحت، سو وہ اپنی نصیحت کو دھیان نہیں کرتے۔

.71

 یا تُو ان سے مانگتا ہے کچھ حاصل (معاوضہ) ؟ سو حاصل (صلہ) تیرے رب کا بہتر ہے،

اور وہ ہے بہتر روزی دینے والا۔

.72

 اور تُو تو بلاتا ہے ان کو سیدھی راہ پر۔

.73

 اور جو لوگ نہیں مانتے پچھلا (آخرت کا) گھر، راہ سے ٹیڑھے ہوئے ہیں۔

.74

 اور اگر ہم ان کو رحم کریں، اور کھول دیں جو تکلیف ہے ان پر،مقرر (دوبارہ) لگے جائیں اپنی شرارت میں بہکے ۔

.75

 اور ہم نے پکڑا تھا ا ن کو آفت میں۔ پھر نہ دبے اپنے رب کے آگے، اور نہیں گڑگڑاتے۔

.76

 یہاں تک کہ جب کھولیں گے ہم اُن پر دروازہ ایک سخت آفت کا، تب اس میں اس کی آس ٹوٹے گی۔

.77

اور اس نے بنا دیئے تم کو کان اور آنکھیں اور دل۔

تم بہت تھوڑا حق مانتے (شکر گزار ہوتے) ہو۔

.78

 اور اسی نے تم کو بکھیر رکھا ہے زمین میں، اور اسی کی طرف جمع ہو کر جاؤ گے۔

.79

 اور وہی ہے جلاتا اور مارتا۔ اور اسی کا کام ہے بدلنا رات اور دن کا۔

سو کیا تم کو بوجھ (سمجھ) نہیں؟

.80

 کوئی نہیں، یہ وہی کہتے ہیں جیسے کہہ چکے ہیں پہلے۔

.81

 کہتے ہیں، کیا جب ہم مر گئے اور ہو گئے مٹی اور ہڈیاں، کیا ہم کو جِلا (زندہ) اٹھانا ہے؟

.82

 وعدہ مل چکا ہم کو اور ہمارے باپ دادوں کو یہی پہلے سے،

اور کچھ نہیں یہ نقلیں (کہانیاں) ہیں پہلوں کی۔

.83

 تُو کہہ کس کی ہے زمین اور جو کچھ اس کے بیچ ہے، بتاؤ اگر تم جانتے ہو؟

.84

 اب کہیں گے اﷲ کو۔

تُو کہہ، پھر تم سوچ نہیں کرتے؟

.85

 تُو کہہ کون ہے مالک سات آسمانوں کا۔ اور مالک اس بڑے تخت کا؟

.86

بتائیں گے اﷲ کو۔

تُو کہہ پھر تم ڈر نہیں رکھتے؟

.87

 تُو کہہ، کس کے ہاتھ ہے حکومت ہر چیز کی؟

اور وہ بچا لیتا ہے اور اس سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

بتاؤ اگر تم جانتے ہو۔

.88

 اب بتائیں گے اﷲ کو۔

تُو کہہ، پھر کہاں سے تم پر جادو (دھوکا) پڑ جاتا ہے۔

.89

 کوئی نہیں، ہم نے ان کو پہنچایا سچ۔ اور وہ البتہ جھوٹے ہیں۔

.90

 اﷲ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے۔

یوں ہوتا تو لے جاتا ہر حکم والا اپنے بنائے کو اور چڑھ جاتا ایک پر ایک۔

اﷲ نرالا ہے(پاک ہے ان باتوں سے) اُن کے بتانے سے۔

.91

جاننے والا چھپے اور کھلے کا، وہ بہت اُوپر ہے اس سے جو یہ شریک بناتے ہیں۔

.92

 تُو کہہ، اے رب! کبھی تو دکھائے مجھ کو جو ان کو وعدہ (عذاب) ملنا ہے۔

.93

 تو اے رب مجھ کو نہ کریو اُن گنہگار لوگوں میں۔

.94

 اور ہم کو قدرت ہے کہ تجھ کو دکھائیں (وہ عذاب)جو ان کو وعدہ دیتے ہیں۔

.95

 بُری بات کے جواب میں وہ کہہ جو بہتر ہے۔

ہم خوب جانتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں۔

.96

 اور کہہ، اے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی چھیڑ سے۔

.97

 اور پناہ تیری چاہتا ہوں، اے رب! اس سے کہ میرے پاس آئیں۔

.98

یہاں تک کہ جب پہنچے اُن میں کسی کو موت، کہے گا اے رب مجھ کو پھر بھیجو،

.99

 شاید کچھ میں بھلا کام کروں، اس میں جو پیچھے چھوڑ آیا۔

کوئی (ہرگز) نہیں،

یہ (تو بس ایک) بات ہے کہ وہ کہتا ہے۔

اور ان کے پیچھے اٹکاؤ (برزخ) ہے جس دن تک اُٹھائے جائیں۔

.100

 پھر جس وقت پھونک مارے صور میں تو نہ ذاتیں (رشتے ناتے) ہیں ان میں اُس دن، نہ آپس میں پُوچھنا،

.101

سو جس کی بھاری ہوئیں تولیں(وزن) ، وہی لوگ کام لے نکلے(فلاح پائیں گے) ۔

.102

 اور جس کی ہلکی ہوئیں تولیں (وزن) ، سو وہی ہیں جو ہار بیٹھے اپنی جان،

(اور ہمیشہ) دوزخ میں رہا کریں گے۔

.103

مارتی (جھلساتی) ہے ان کے منہ پر آگ اور وہ اس میں بدشکل ہو رہے ہیں۔

.104

 (اُن سے کہا جائے گا) تم کو سناتے نہ تھے ہماری آیتیں؟

پھر تم ان کو جھٹلاتے تھے۔

.105

 بولے اے رب! زور کیا ہم پر ہماری کم بختی نے اور رہے ہم لوگ بہکے۔

.106

 اے رب! نکال لے ہم کو اس میں سے، اگر ہم پھر کریں تو ہم گنہگار۔

.107

 فرمایا، پڑے رہو پھٹکارے اس میں اور مجھ سے نہ بولو۔

.108

 ایک فرقہ تھا میرے بندوں میں، جو کہتے تھے،

اے رب ہمارے! ہم یقین لائے، سو معاف کر ہم کو اور مہر (رحم) کر ہم پر، اور تو سب مہر (رحم) والوں سے بہتر ہے۔

.109

پھر تم نے ان کو ٹھٹھوں (مذاق) میں پکڑا،یہاں تک کہ بھولے اُن کے پیچھے میری یاد،

 اور تم ان سے ہنستے رہے۔

.110

 میں نے آج دیا ا ن کو بدلہ ان کے سہنے (صبر) کا، کہ وہی ہیں مراد کو پہنچے۔

.111

فرمایا، تم کتنی دیر رہے زمین میں، برسوں کی گنتی سے؟

.112

بولے، ہم رہے ایک دن یا کچھ دن سے کم،تُوپوچھ لے گنتی والوں سے۔

.113

 فرمایا تم اس میں بہت نہیں تھوڑا ہی رہے اگر تم جانتے ہو۔

.114

 سو کیا خیال رکھتے ہو کہ ہم نے تم کو بنایا کھیلنے کو، اور تم ہمارے پاس پھر (لوٹ کر) نہ آؤ گے؟

.115

 سو بہت اُوپر ہے اﷲ وہ بادشاہ سچا،

کوئی حاکم نہیں اس کے سوا۔ مالک اُس خاصے تخت کا۔

.116

 اور جو کوئی پکارے اﷲ کے ساتھ دوسرا حاکم، جس کی سند نہیں اس کے پاس، سو اس کا حساب ہے اس کے رب کے نزدیک۔

بیشک بھلا (فلاح) نہ پائیں گے منکر۔

.117

 اور تُو کہہ، اے رب! معاف کر اور مہر (رحم) کر،اور تُو ہے بہتر سب مہر (رحم کرنے) والوں سے۔

********* 

.118

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com