القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ النور

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 ایک سُورت ہے ہم نے اُتاری، اور ذمہ پر لازم کی(احکام کو فرض کیا) ،

اور اُتاری اس میں باتیں صاف (واضح) شاید تم یاد رکھو۔

.1

 بدکاری کرنے والی عورت اور مرد سو مارو ایک ایک کو دونو ں میں سے، سو چوٹ قمچی (کوڑے)۔

اور نہ آئے تم کو ان پر ترس، اﷲ کے حکم چلانے میں۔ اگر تم یقین رکھتے ہو اﷲ پر اور پچھلے دن پر۔

اور دیکھیں ان کا مارنا کوئی لوگ مسلمان۔

.2

 بدکار مرد نہیں بیاہتا مگر عورت بدکار یا شریک والی (مشرکہ) ۔

اور بدکار عورت کو بیاہ نہیں لیتا مگر بدکار مرد یا شریک والا (مشرک) ۔

اور یہ حرام ہوا ہے ایمان والوں پر۔

.3

 اور جو لوگ عیب لگاتے ہیں قید والیوں کو(پاکدامن عورتوں پر) ۔ پھر نہ لائے چار مرد شاہد (گواہ)،

تو مارو اُ ن کو اسّی چوٹ قمچی (کوڑے) کی، اور نہ مانو ان کی کوئی گواہی کبھی۔

اور وہی لوگ ہیں بے حکم۔

.4

 مگر جنہوں نے توبہ کی اس پیچھے(کے بعد) اور سنوار پکڑی(اصلاح کر لی)۔ تو اﷲ بخشتا ہے مہربان۔

.5

 اور جو عیب لگائیں اپی جوروؤں (بیویوں) کو اور شاہد (گواہ) نہ ہوں اُن پاس سِوا اپنی جان،

تو ایسے کسی کی گواہی یہ کہ چار گواہی دیوے اﷲ کے نام کی، مقرر (کہ ضرور) یہ شخص سچا ہے۔

.6

 اور پانچویں یہ کہ اﷲ کی پھٹکار ہو اس شخص پر اگر وہ ہو جھوٹا۔

.7

 اور عورت سے ٹلتی ہے مار یوں کہ گواہی دے چار گواہی اﷲ کے نام کی،مقرر (کہ ضرور) وہ شخص جھوٹا ہے۔

.8

 اور پانچویں یہ کہ اﷲ کا غضب آئے اس عورت پر اگر وہ شخص سچا ہے۔

.9

 اور کبھی نہ ہوتا اﷲ کا فضل تمہارے اوپر اور اسکی مہر(رحمت) ،

اور یہ کہ اﷲ معاف کرنے والا ہے، حکمتیں جانتا، تو کیا کچھ ہوتا۔

.10

 جو لوگ لائے ہیں یہ طوفان تمہیں میں ایک جماعت ہیں۔

تم اس کو نہ سمجھو بُرا اپنے حق میں۔ بلکہ یہ بہتر ہے تمہارے حق میں۔

ہر آدمی کو ان میں سے پہنچنا ہے، جتنا کمایا گناہ،

اور جن نے اٹھایا ہے اسکا بڑا بوجھ، اس کو بڑی مار ہے۔

.11

 کیوں نہ، تم نے جب اس کو سنا تھا، خیال کیا ہوتا ایمان والے مردوں نے اور عورتوں نے اپنے لوگوں پر بھلا خیال۔

اور کہا ہوتا یہ صریح طوفان (واضح بہتان) ہے؟

.12

 کیوں نہ لائے وہ اس بات پر چار شاہد (گواہ) ؟

پھر جب نہ لائے شاہد (گواہ) ، تو وہ لوگ اﷲ کے ہاں وہی ہیں جھوٹے۔

.13

 اور کبھی نہ ہوتا اﷲ کا فضل تم پر اور اسکی مہر (رحمت) دنیا اور آخرت میں،

البتہ تم پر پڑتی اس چرچا کرنے پر کوئی آفت بڑی۔

.14

 جب لینے لگے تم اس کو اپنی زبانوں پر اور بولنے لگے اپنے منہ سے جس چیز کی تم کو خبر نہیں،

اور تم سمجھتے ہو اس کو ہلکی بات۔ اور یہ اﷲ کے ہاں بہت بڑی ہے۔

.15

 اور کیوں نہ ہو جب تم نے اس کو سنا تھا، کہا ہوتا ہم کو نہیں لائق کہ منہ پر لائیں یہ بات؟

اﷲ تو پاک ہے، یہ بڑا بہتان ہے۔

.16

 اﷲ تم کو سمجھاتا ہے کہ پھر نہ کرو ایسا کام کبھی، اگر تم یقین رکھتے ہو۔

.17

 اور کھولتا ہے اﷲ تمہارے واسطے پتے (نشانیاں) ،

اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.18

جو لوگ چاہتے ہیں کہ چرچا ہو بدکاری کا ایمان والوں میں،اُن کو دکھ کی مار ہے دنیا اور آخرت میں۔

اور اﷲ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

.19

اور کبھی نہ ہوتا اﷲ کا فضل تم پر اور اس کی مہر (رحمت) ، اور یہ کہ اﷲ نرمی کرنے والا ہے مہربان، تو کیا کچھ ہوتا۔

.20

 اے ایمان والو! نہ چلو قدموں پر شیطان کے،

اور جو کوئی چلے گا قدموں پر شیطان کے، سو وہ یہی بتائے گا بے حیائی اور بُری بات۔

اور کبھی نہ ہوتا فضل اﷲ کا تم پر اور اسکی مہر (رحمت) ، نہ سنورتا تم میں ایک شخص کبھی۔

لیکن اﷲ سنوارتا ہے جس کو چاہے،

اور اﷲ سب سنتا ہے جانتا۔

.21

 اور قسم نہ کھائیں بڑائی والے (صاحب فضل) تم میں، اور کشائش والے(صاحب حیثیت)،

 اس سے کہ (نہ) دیں ناتے والوں(رشتے داروں) کو اور محتاجوں کو اور وطن چھوڑنے والوں کو اﷲ کی راہ میں،

اور چاہیئے معاف کریں اور درگذر کریں۔

کیا تم نہیں چاہتے کہ اﷲ تم کو معاف کرے؟

اور اﷲ بخشنے والا ہے مہربان۔

.22

 جو لوگ عیب لگاتے ہیں قید والی (پاک دامن) بے خبر ایمان والیوں کو،ان کو پھٹکار ہے دنیا میں اور آخرت میں،

 اور ان کو بڑی مار۔

.23

 جس دن بتائیں گی ان کی زبانیں اور ہاتھ اور پاؤں، جو کچھ کرتے تھے۔

.24

 اس دن پوری دے گا ان کو اﷲ انکی سزا جو چاہیئے،

اور جانیں گے کہ اﷲ وہی ہے سچا کھولنے (حق کو سچ کرنے) والا۔

.25

 گندیاں (خبیث عورتیں) ہیں گندوں (خبیث مردوں) کے واسطے اور گندے (خبیث مرد) واسطے گندیوں (خبیث عورتوں) کے۔

اور ستھریاں (پاکیزہ عورتیں) ہیں واسطے ستھروں (پاکیزہ مردوں)کے اور ستھرے (پاکیزہ مرد)واسطے ستھریوں (پاکیزہ عورتوں)کے۔

وہ لوگ بے لگاؤ (مُبرا) ہیں اُن باتوں سے، جو کہتے ہیں،

ان کو بخشنا (بخشش) ہے اور روزی ہے عزت کی۔

.26

 اے ایمان والو!

مت جایا کرو کسی گھروں میں اپنے گھروں کے سوا جب تک نہ بول چال کرو اور سلام دے لو اس گھر والوں پر۔

یہ بہتر ہے تمہارے حق میں، شاید تم یاد رکھو۔

.27

 پھر اگر (موجود)نہ پاؤ اس میں کوئی، تو اس میں نہ جاؤ، جب تک پروانگی (اجازت)نہ ہو تم کو۔

اور اگر تم کو کہے کہ پھر (لوٹ) جاؤ، تو پھر (لوٹ)جاؤ،

اسی میں خوب ستھرائی (پاکیزگی) ہے تمہاری،

اور اﷲ جو کرتے ہو جانتا ہے۔

.28

 نہیں گناہ تم پر اس میں کہ جاؤ ان گھروں میں جہاں کوئی نہیں بستا اُس میں کچھ چیز ہو تمہاری۔

اور اﷲ کو معلوم ہے جو کھولتے (ظاہر کرتے) ہو اور جو چھپاتے ہو۔

.29

 کہہ دے ایمان والوں کو، نیچی رکھیں ٹک اپنی آنکھیں، اور تھامتے رہیں اپنے ستر(شرم گاہیں) ۔

اس میں خوب ستھرائی (پاکیزگی) ہے ان کی۔

اﷲ کو خبر ہے جو کرتے ہیں۔

.30

 اور کہہ دے ایمان والیوں کو، نیچی رکھیں ٹک اپنی آنکھیں اور تھامتی رہیں اپنے ستر(شرم گاہیں)،

اور نہ دکھائیں اپنا سنگار مگر جو کھلی چیز ہے اس میں سے،

اور ڈال لیں اپنی اوڑھنی اپنے گریبان پر۔

اور نہ کھولیں اپنا سنگار، مگر اپنے خاوند کے آگے یا اپنے باپ کے یا خاوند کے باپ کے،

یا اپنے بیٹے کے یا خاوند کے بیٹے کے،یا اپنے بھائی کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے،

یا اپنی عورتوں کے، یا اپنے ہاتھ کے مال کے،

یا کمیروں (ملازم) کے جو مرد کچھ غرض نہیں رکھتے،

یا لڑکوں کے جنہوں نے نہیں پہنچانے عورتوں کے بھید۔

اور نہ دھمکائیں اپنے پاؤں سے کہ جانا پڑے (ظاہر ہو) جو چھپاتی ہیں اپنا سنگار۔

اور توبہ کرو اﷲ کے آگے سب مل کر، اے ایمان والو؟ شاید تم بھلائی پاؤ۔

.31

 اور بیاہ دو رانڈوں (مجردوں) کو اپنے اندر، اور جو نیک ہوں تمہارے غلام اور لونڈیاں۔

اگر وہ ہوں گے مفلس اﷲ ان کو غنی کرے گا اپنے فضل سے۔

اور اﷲ سمائی (گنجائش) والا ہے سب جانتا۔

.32

 اور آپ کو تھامتے  رہیں جن کو نہیں ملتا (قدرت نہیں رکھتے) بیاہ(کی) ، جب تک مقدور دے ان کو اﷲ اپنے فضل سے۔

اور جو لوگ چاہیں لکھا (معاہدہ آزادی) تمہارے ہاتھ کے مال میں، تو ان کو لکھا (معاہدہ آزادی)دے دو اگر سمجھو ان میں کچھ نیکی۔

اور دو ان کو اﷲ کے مال سے، جو تم کو دیا ہے۔

اور نہ زور کرو اپنی چھوکریوں پر بدکاری کے واسطے، اگر وہ چاہیں قید میں (پاک دامن) رہنا، کہ کمایا چاہو اسباب دنیا کی زندگانی کا۔

اور جو کوئی ان پر زور کرے تو اﷲ ان کی بے بسی پیچھے بخشنے والا مہربان ہے۔

.33

 اور ہم نے اُتاریں تمہاری طرف آیتیں کھلی،

اور ایک دستور ان کا (مثالیں اُنکی) جو ہو چکے ہیں تم سے آگے (پہلے) اور نصیحت ڈر والوں کو۔

.34

 اﷲ روشنی (نور) ہے آسمانوں کی اور زمین کی،

کہاوت اسکی روشنی (نور) کی جیسے ایک طاق اس میں ایک چراغ۔

چراغ دھرا (رکھا) ایک شیشہ میں۔

شیشہ جیسے ایک تارا ہے جھمکتا،

تیل جلتا ہے اس میں ایک درخت برکت کے سے، وہ زیتون ہے،نہ سورج نکلنے کی طرف نہ ڈوبنے کی طرف،

لگتا ہے اسکا تیل کہ سلگ اٹھے، ابھی نہ لگی ہو اسکو آگ۔

روشنی پر روشنی ،اﷲ راہ دیتا ہے اپنی روشنی (نور) کی جس کو چاہے۔

اور بتاتا ہے اﷲ کہاوتیں لوگوں کو۔اور اﷲ سب چیز جانتا ہے۔

.35

 (یہ) ان گھروں میں (ہیں) کہ(جنکے بارے میں) اﷲ نے حکم دیا ا ن کو بلند (تعظیم) کرنے کا اور وہاں اُس کا نام پڑھنے کا،

یاد (تسبیح) کرتے ہیں اس کی وہاں صبح اور شام۔

.36

وہ مرد کے نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں نہ بیچنے میں اﷲ کی یاد سے، اور نماز کھڑی رکھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے،

ڈر رکھتے ہیں اس دن کا، جس میں اُلٹے جائیں گے دل اور آنکھیں۔

.37

 کہ بدلہ دے ان کو اﷲ اُنکے بہتر سے بہتر کاموں کا اور بڑھتی دے ان کو اپنے فضل سے۔

اور اﷲ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بے شمار۔

.38

 اور جو لوگ منکر ہیں، اُن کے کام جیسے ریت جنگل میں(سراب) ، پیاساجانے اس کو پانی،

یہاں تک کہ جب پہنچا اس پر اُ ن کو کچھ نہ پایا، اور اﷲ کو پایا اپنے پاس، پھر اس کو پورا پہنچا دیا اس کا لکھا۔

اور اﷲ جلد لینے والا ہے حساب۔

.39

یا جیسے اندھیرے گہرے دریا میں،چڑھی آتی ہے اس پر ایک لہر، اُس پر ایک لہر، اُسکے اوپر ایک بدلی۔

اندھیرے ہیں ایک پر ایک۔ جب نکالے اپنا ہاتھ لگتا نہیں کہ اس کو سوجھے(دکھائی دے) ۔

اور جس کو اﷲ نے نہ دی روشنی اس کو کہیں نہیں روشنی۔

.40

 تُو نے نہ دیکھا، کہ اﷲ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں آسمان و زمین میں، اور اُڑتے جانور پر کھولے؟

ہر ایک نے جان رکھی اپنی طرح کی بندگی اور یاد۔

اور اﷲ کو معلوم ہے جو کرتے ہیں۔

.41

 اور اﷲ کی حکومت ہے آسمان و زمین میں،

اور اﷲ ہی تک پھر جانا (پلٹنا) ہے۔

.42

 تُو نے نہ دیکھ کہ اﷲ ہانک لاتا (چلاتا) ہے بادل، پھر ان کو ملاتا ہے، پھر ان کو رکھتا ہے تہہ بہ تہہ،

پھر تُو دیکھے مینہ نکلتا ہے اسکے بیچ سے،اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے،

پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے۔

ابھی اس کی بجلی کی کوند لے جائے آنکھیں۔

.43

 اﷲ بدلتا ہے رات اور دن۔

 اس میں دھیان کی جگہ (سبق) ہے آنکھ والوں کو۔

.44

 اور اﷲ نے بنایا ہر پھرنے والا ایک پانی سے۔

پھر کوئی ہے کہ چلتا ہے اپنے پیٹ پر،

اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر، اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر۔

بناتا ہے اﷲ جو چاہتا ہے۔

بیشک اﷲ ہر چیز کر سکتا ہے۔

.45

ہم نے اتار دیں آیتیں کھول بتانے والی (واضح) ۔

اور اﷲ لائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر۔

.46

 اور لوگ کہتے ہیں ہم نے مانا اﷲ کو، اور رسول کو اور حکم میں آئے،

پھر پھرا جاتا ہے ایک فرقہ اُن میں اس پیچھے۔

اور وہ لوگ نہیں ماننے والے۔

.47

 اور جب ان کو بلایئے اﷲ اور رسول کی طرف کہ ان میں قضیہ چکا دے، تب ہی ایک فرقہ اُن میں منہ موڑتے ہیں۔

.48

 اور اگر ان کو کچھ پہنچتا ہو(مل رہا ہو کچھ حق) تو چلے آئیں اسکی طرف قبول کر کر۔

.49

 کیا انکے دل میں روگ ہے یا دھوکے میں پڑے ہیں یا ڈرتے ہیں کہ بے انصافی کریگا ان پر اﷲ اور رسول اسکا؟

کوئی نہیں، وہی لوگ بے انصاف ہیں۔

.50

 ایمان والوں کی بات یہ تھی، جب بلایئے ان کو اﷲ اور رسول کی طرف، فیصلہ کرنے کو ان میں کہ کہیں ہم نے سُنا اور مانا۔

اور وہ لوگ انہی کا بھلا ہے۔

.51

 اور جو کئی حکم پر چلے اﷲ کے اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اﷲ سے اور بچ کر چلے اس (کی نا فرمانی) سے،

سو وہی لوگ ہیں مراد کو پہنچے۔

.52

 اور قسمیں کھاتے ہیں اﷲ کی اپنی تاکید کی قسمیں کہ اگر تُو حکم کرے تو سب کچھ چھوڑ نکلیں،

تُو کہہ قسمیں نہ کھاؤ۔ حکم برداری چاہیئے جو دستور ہے۔

البتہ اﷲ کو خبر ہے جو کرتے ہو۔

.53

 تُو کہہ حکم مانو اﷲ کا اور حکم مانو رسول کا۔

پھر اگر تم منہ پھیرو گے، تو اس کا ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا اور تمہارا ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا۔

اور اگر اس کا کہا مانو تو راہ (ہدایت) پاؤ۔

اور پیغام والے کا ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر۔

.54

 وعدہ دیا اﷲ نے جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں اور کئے ہیں نیک کام،

البتہ پیچھے حاکم کریگا ان کو ملک میں، جیسا حاکم کیا تھا اُن سے اگلوں کو۔

اور جما دے گا ان کو دین اُن کا، جو پسند کر دیا ان کو اور دیگا ان کو ان کے ڈر کے بدلے امن۔

میری بندگی کریں گے۔ شریک نہ کریں گے میرا کوئی۔

اور جو کوئی ناشکری کریگا اس پیچھے، سو وہی لوگ ہیں بے حکم۔

.55

 اور کھڑی رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ، اور حکم میں چلو رسول کے، شاید تم پر رحم ہو۔

.56

نہ خیال کر کہ یہ جو منکر ہیں تھکا دیں گے بھاگ کر ملک میں۔

اور ان کو ٹھکانا آگ ہے، اور بُری جگہ ہے پھر جانے کی۔

.57

 اے ایمان والو! پروانگی (اجازت) مانگ کر آئیں تم میں سے جو تمہارے ہاتھ کا مال ہیں،

اور جو نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار۔

فجر کی نماز سے پہلے، اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے،

یہ تین وقت کھلنے کے ہیں تمہارے۔

کچھ گناہ نہیں تم پر نہ اُن پر اُن کے پیچھے،

پھرا ہی کرتے ہو ایک دوسرے پاس۔

یوں کھولتا ہے اﷲ تمہارے آگے باتیں، اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.58

 اور جب پہنچیں لڑکے تم میں عقل کی حد کو تو ویسی پروانگی (اجازت) لیں جیسے لیتے رہے ہیں اُن سے اگلے۔

یوں کھول سناتا ہے اﷲ تم کو اپنی باتیں۔اور اﷲ سب جانتا ہے حکمت والا۔

.59

 اور جو بیٹھ رہی ہیں تمہاری عورتوں میں، جن کو توقع نہیں بیاہ کی،

اُن پر گناہ نہیں کہ اُتار رکھیں اپنے کپڑے، یہ نہیں کہ دکھاتی پھریں اپنا سنگار۔

اور اس سے بھی بچیں تو بہتر ہے ان کو۔ اور اﷲ سب سنتا ہے جانتا۔

.60

 نہیں اندھے پر کچھ تکلیف، اور نہ لنگڑے پر تکلیف،اور نہ بیمار پر تکلیف،

 اور نہیں تکلیف تم لوگوں پر کہ کھا لو اپنے گھروں سے،

یا اپنے باپ کے گھروں سے، یا اپنی ماں کے گھر سے، یا اپنے بھائی کے گھر سے، یا اپنی بہن کے گھر سے،

یا اپنے چچا کے گھر سے، یا اپنی پھوپھی کے گھر سے، یا اپنے ماموں کے گھر سے، یا اپنی خالہ کے گھر سے،

یا جس کی کنجیوں کے مالک ہوئے ہو، یا اپنے دوست کے گھر سے،

نہیں گناہ تم پر کہ کھاؤ مل کر یا جُدا۔

پھر جب جانے لگو کبھی گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر نیک دُعا ہے اﷲ کے ہاں سے برکت کی ستھری۔

یوں کھولتا ہے اﷲ تمہارے آگے باتیں، شاید تم (سمجھ) بُوجھ رکھو۔

.61

 ایمان والے وہ ہیں جو یقین لائے ہیں اﷲ پر اور اسکے رسول پر،

اور جب ہوتے ہیں اسکے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں، تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے پروانگی (اجازت) نہ لیں۔

جو لوگ تجھ سے پروانگی (اجازت) لیتے ہیں، وہی ہیں جو مانتے ہیں اﷲ کو اور اس کے رسول کو۔

پھر جب پروانگی مانگیں تجھ سے اپنے کسی کام کو تو دے پروانگی جس کو ان میں تُو چاہے،اور معافی مانگ ان کے واسطے اﷲ سے،

اﷲ بخشنے والا ہے مہربان۔

.62

مت ٹھہراؤ بلانا رسول کا اپنے اندر برابر اس کے جو بلاتا ہے تم میں ایک کو ایک۔

اﷲ جانتا ہے ان لوگوں کو تم میں جو سٹک (کھسک) جاتے ہیں آنکھ بچا کر۔

سو ڈرتے رہیں جو لوگ خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا، کہ پڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو دُکھ کی مار۔

.63

 سنتے ہو اﷲ کا ہے جو کچھ ہے آسمان و زمین میں۔

اس کو معلوم ہے جس حال میں تم ہو۔ اور جس دن پھیرے جائیں گے اس کی طرف تو بتائے گا ان کو جو انہوں نے کیا۔

اور اﷲ سب چیز جانتا ہے۔

*********

.64

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com