القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ العنکبوت

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 الف لام میم۔

.1

 کیا یہ سمجھتے ہیں لوگ کہ چھوٹ جائیں گے اتنا کہہ کرکہ ہم یقین لائے،اور ان کو جانچ (آزما) نہ لیں گے۔

.2

 اور ہم نے جانچا (آزمایا) ہے اُن کو جو اُن سے پہلے تھے،

سو البتہ معلوم کرے گا اﷲ جو لوگ سچے ہیں، اور البتہ معلوم کرے گا جھوٹے۔

.3

 کیا یہ سمجھے ہیں جو لوگ کرتے ہیں بُرائیاں کہ ہم سے چپر (بازی لے) جائیں۔

بُری بات چکاتے (طے کرتے) ہیں۔

.4

جو کوئی توقع رکھتا ہے اﷲ کی ملاقات کی، سو اﷲ کا وعدہ آتا ہے۔

اور وہ ہے سنتا جانتا۔

.5

 اور جو کوئی محنت اٹھائے، سو اٹھاتا ہے اپنے ہی واسطے۔

اﷲ کو پرواہ نہیں جہان والوں کی۔

.6

 اور جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام، ہم اتار دیں گے اُن سے بُرائیاں ان کی،

اور بدلہ دیں گے بہتر سے بہتر کاموں کا۔

.7

 اور ہم نے تقید (پابند) کر دیا انسان کو اپنے ماں باپ سے بھلے رہنا۔

اور اگر وہ تجھ سے زور کریں کہ تو شریک پکڑ میرا جسکی تجھ کو خبر نہیں، تو ان کا کہا نہ مان۔

مجھی تک پھر(لوٹ) آنا ہے تم کو، سو میں جتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے ۔

.8

 اور جو لوگ یقین لائے اور بھلے کام کئے، ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں (صالحین) میں۔

.9

 اور ایک لوگ ہیں کہ کہتے ہیں یقین لائے ہم اﷲ پر،

پھر جب اس کو ایذا پہنچے اﷲ کے واسطے، ٹھہرا دے لوگوں کا ستانا برابر اﷲ کی مار کے۔

اور اگر آ پہنچے مدد تیرے رب کی طرف سے، کہنے لگیں، ہم تو تمہارے ساتھ تھے۔

کیا یوں نہیں کہ اﷲ خوب خبردار ہے جو کچھ جیوں (دلوں) میں ہے جہان والوں کے۔

.10

اور البتہ معلوم کرے گا اﷲ جو یقین لائے ہیں، اور البتہ معلوم کرے گا جو لوگ دغاباز ہیں۔

.11

اور کہنے لگے منکر ایمان والوں کو، تم چلو ہماری راہ اور ہم اٹھا لیں گے تمہارے گناہ۔

اور وہ کچھ نہ اٹھائیں گے اُن کے گناہ۔وہ جھوٹے ہیں۔

.12

 اور البتہ اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کتنے بوجھ ساتھ اپنے بوجھ کے۔

اور البتہ ان سے پوچھ ہو گی قیامت کے دن، جو باتیں جھوٹ بناتے تھے۔

.13

 اور ہم نے بھیجا نوح کو اسکی قوم پاس،پھر رہا ان میں ہزار برس پچاس برس کم۔

پھر پکڑا ان کو طوفان نے، اور وہ گنہگار تھے۔

.14

 پھر بچا دیا ہم نے اس کو اور جہاز والوں کو،اور رکھا ہم نے جہاز نشانی جہان والوں کو۔

.15

 اور ابراہیم کو جب کہا اپنی قوم کو، بندگی کرو اﷲ کی اور اس کا ڈر رکھو۔

یہ بہتر ہے تم کو، اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔

.16

 تم تو پُوجتے ہو اﷲ کے سوا یہی بُتوں کے تھان اور بناتے ہو جھوٹی باتیں ۔

بیشک جن کو تم پوجتے ہو اﷲ کے سوا، مالک نہیں تمہاری روزی کے،

سو تم ڈھونڈو اﷲ کے ہاں روزی اور اسکی بندگی کرو، اور اسکا حق مانو۔

اسی کی طرف پھر (لوٹ) جاؤ گے۔

.17

 اور اگر تم جھٹلاؤ گے، تو جھٹلا چکے ہیں بہت فرقے تم سے پہلے۔

اور رسول کا ذمہ یہی ہے پہنچا دینا کھول کر۔

.18

 کیا دیکھتے نہیں کیونکر شروع کرتا ہے اﷲ پیدائش کو؟ پھر اس کو دہرائے گا،

یہ اﷲ پر آسان ہے۔

.19

 تُو کہہ، ملک میں پھرو، پھر دیکھو، کیونکر شروع کی ہے پیدائش؟

پھر اﷲ اٹھائے گا پچھلا اُٹھان(عطا کریگا زندگی آخرت کی) ۔

بیشک اﷲ ہر چیز کر سکتا ہے۔

.20

 مار (سزا) دے گا جس کو چاہے، اور رحم کرے جس پر چاہے۔

اور اسی کی طرف پھر (لوٹائے) جاؤ گے۔

.21

 تم (اﷲ کو) چپر جانے (عاجز کرنے) والے نہیں زمین میں اور نہ آسمان میں۔

اور کوئی نہیں تمہارا اﷲ سے ورے (سوا) حمایتی، اور نہ مددگار۔

.22

 اور جو لوگ منکر ہوئے اﷲ کی باتوں سے، اور اسکے ملنے سے وہ نا امید ہوئے میری مہر (رحمت) سے،

اور ا ن کو دُکھ کی مار ہے۔

.23

پھر کچھ جواب نہ تھا اسکی قوم کا مگر یہی کہ بولے اس کو مار ڈالو یا جلا دو،

پھر اس کو بچا دیا اﷲ نے آگ سے۔

اس میں بڑے پتے (نشانیاں) ہیں ان لوگوں کو جو یقین لاتے ہیں۔

.24

 اور بولا، جو ٹھہرائے ہیں تم نے اﷲ کے سِوا بُتوں کے تھان، سو دوستی کر کر آپس میں دنیا کی زندگی میں۔

پھر دن قیامت کے منکر ہو جاؤ گے ایک سے ایک اور پھٹکارو گے ایک کو ایک۔

اور ٹھکانا تمہارا آگ ہے، کوئی نہیں تمہارے مددگار۔

.25

پھر مانا اس کو لوط نے۔

 اور وہ بولا میں وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف۔بیشک وہی ہے زبردست حکمت والا۔

.26

 اور دیا ہم نے اس کو اسحٰق اور یعقوب اور رکھی اس کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب،

اور دیا ہم نے اس کو اس کا نیگ (اجر) دنیا میں۔اور وہ آخرت میں نیکوں (صالحین) سے ہے۔

.27

 اور بھیجا لوط کو جب کہا اپنی قوم کو،تم آتے ہو بے حیائی کے کام پر تم سے پہلے نہیں کیا وہ کسی نے جہان میں۔

.28

 تم کیا دوڑتے ہو مردوں پر، اور راہ مارتے ہو اور کرتے ہو اپنی مجلس میں بُرا کام۔

پھر کچھ جواب نہ تھا اس کی قوم کا مگر یہی کہ بولے،لے آ ہم پر آفت اﷲ کی اگر ہے تُو سچا۔

.29

 بولا، اے رب! میری مدد کر ان شریر لوگوں پر۔

.30

 اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ابراہیم پاس خوشخبری لے کر، بولے، ہم کو کھپا (ہلاک کر) دینی ہے یہ بستی۔

بیشک اس کے لوگ ہو رہے ہیں گنہگار۔

.31

 بولا اس میں لوط ہے۔

وہ بولے ہم کو خوب معلوم ہے جو کوئی اس میں ہے۔

ہم بچا لیں گے اس کو اور اسکے گھر والوں کو، مگر اسکی عورت۔ رہی رہ جانے والوں میں۔

.32

 اور جب کہ پہنچے ہمارے بھیجے لوط پاس، نا خوش ہوا ان کو دیکھ کر، اور خفا ہوا دل سے،

اور وہ بولے نہ ڈر نہ غم کھا۔

ہم بچا دیں گے تجھ کو اور تیرے گھر کو، مگر عورت تیری رہ گئی رہنے والوں میں۔

.33

 ہم کو اُتارنی ہے اس بستی والوں پر ایک آفت آسمان سے،اس پر کہ یہ بے حکم ہو رہے تھے۔

.34

 اور چھوڑ رکھا ہم نے اس کا نشان نظر آتا بوجھتے (عقلمند) لوگوں کو۔

.35

 اور بھیجا مدین پاس ان کا بھائی شعیب، پھر بولا

 اے قوم!بندگی کرو اﷲ کی، اور توقع رکھو پچھلے دن (آخرت) کی، اور مت پھرو زمین میں خرابی مچاتے۔

.36

پھر اس کو جھٹلایا، تو پکڑا ان کو بھونچال نے،پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھر میں اوندھے پڑے۔

.37

 اور (ہلاک کیا) عاد اور ثمود کو، اور تم پر کھل چکا ہے ان کے گھروں سے۔

اور رجھایا اُن کو شیطان نے اُن کے کاموں پر، روک دیا ان کو راہ سے،اور تھے ہوشیار۔

.38

 اور (ہلاک کیا) قارون اور فرعون اور ہامان کو۔

اور ان پاس پہنچا موسیٰ کھلے نشان لے کر، پھر بڑائی کرنے لگے ملک میں،اور نہ تھے  چپر (سبقت لے) جانے والے۔

.39

پھر سب کو پکڑا ہم نے اپنے اپنے گناہ پر،

پھر کوئی تھا اس پر بھیجا پتھراؤ باؤ (ہوا) سے۔

اور کوئی تھا اس کو پکڑا چنگاڑ نے۔

اور کوئی تھا کہ اس کو دھنسایا ہم نے زمین میں۔

اور کوئی تھا کہ اس کو ڈبو دیا۔

اور اﷲ ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرے، پر تھے وہ اپنا آپ بُرا کرتے۔

.40

 کہاوت ان کی جنہوں نے پکڑے اﷲ کو چھوڑ کر اور حمایتی کہاوت مکڑی کی۔

بنا لیا اس نے ایک گھر۔

اور سب گھروں میں بودا سو مکڑی کا گھر۔اگر ان کو سمجھ ہوتی۔

.41

اﷲ جانتا ہے جس کو پکارتے ہیں اس کے سوا کوئی چیز ہو۔

اور وہ زبردست ہے حکمتوں والا۔

.42

 اور یہ کہاوتیں بٹھاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے۔اور ان کو بوجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ ہے۔

.43

اﷲ نے بنائے آسمان و زمین جیسے چاہئیں۔

اس میں پتہ (نشانی) ہے یقین لانے والوں کو۔

.44

 تُو پڑھ جو اُتری تیری طرف کتاب، اور کھڑی (قائم) رکھ نماز۔

بیشک نماز روکتی ہے بے حیائی سے، اور بُری بات سے۔

اور اﷲ کی یاد ہے سب سے بڑی۔اور اﷲ کو خبر ہے جو کرتے ہو۔

.45

 اور جھگڑا نہ کرو کتاب والوں سے، مگر اس طرح پر جو بہتر ہو، مگر جو ان میں بے انصاف ہیں۔

اور یوں کہو کہ ہم مانتے ہیں جو اُترا ہم کو، اور اُترا تم کو،

اور بندگی ہماری تمہاری ایک کو ہے، اور ہم اسی کے حکم پر ہیں۔

.46

 اور ویسے ہی ہم نے اُتاری تجھ پر کتاب۔

سو جن کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کو مانتے ہیں۔

اور ان لوگوں (اہلِ مکہ) میں بھی بعضے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں۔

اور منکر وہی ہیں ہماری باتوں سے، جو بے حکم ہیں۔

.47

 اور تُو پڑھتا نہ تھا اس سے پہلے کوئی کتاب، اور نہ لکھتا تھا اپنے داہنے ہاتھ سے،

(اگر ایسا ہوتا) تو البتہ شبہ کھاتے یہ جھوٹے۔

.48

 بلکہ یہ قرآن آیتیں ہیں صاف، سینے میں اُن کے جن کو ملی ہے سمجھ۔

اور منکر نہیں ہماری باتوں سے مگر وہی جو بے انصاف ہیں۔

.49

 اور کہتے ہیں کیوں نہ اُتریں اس پر کچھ نشانیاں اسکے رب سے،

تُو کہہ، نشانیاں تو ہیں اختیار میں اﷲ کے۔ اور میں تو یہی سنا دینے والا ہوں کھول کر۔

.50

 کیا ان کو بس (کافی) نہیں کہ ہم نے تجھ پراُتاری کتاب کہ اُن پر پڑھی جاتی ہے؟

بیشک اس میں مہر (رحمت) ہے، اور سمجھانا (نصیحت) ان لوگوں کو جو مانتے (ایمان لاتے) ہیں۔

.51

 تُو کہہ، بس (کافی) ہے اﷲ میرے تمہارے بیچ گواہ۔

جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں۔

اور جو لوگ یقین لائے ہیں جھوٹ پر اور منکر ہوئے ہیں اﷲ سے، انہی کا بُرا ہونا ہے۔

.52

 اور شتاب (جلد) مانگتے ہیں تجھ سے آفت۔

اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ ٹھہر رہا، تو آ پہنچتی اُن پر آفت۔

اور آئے گی اُن پر(آفت) اچانک (کہ) ان کو خبر نہ ہو گی۔

.53

 شتاب (جلد) مانگتے ہیں تجھ سے عذاب۔اور دوزخ گھیر رہی ہے منکروں کو۔

.54

 جس دن گھیرے گا اُن کو عذاب اُوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے،

اور کہے گا چکھو جیسا کچھ کرتے تھے۔

.55

 اے بندو میرے جو یقین لائے ہو! میری زمین کشادہ ہے، سو مجھی کو بندگی کرو۔

.56

 جو جی ہے سو چکھے گا موت۔

پھر ہماری طرف پھر (لوٹ) آؤ گے۔

.57

 اور جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام، ان کو ہم جگہ دیں گے بہشت میں جھروکے(محل) ،

نیچے بہتی نہریں، سدا رہیں ان میں،

خوب نیگ (اجر) ملا کام والوں کو۔

.58

 جو ٹھہرے (صبر کرتے) رہے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا۔

.59

 اور کتنے جانور ہیں جو اُٹھا نہیں رکھتے اپنی روزی، اﷲ روزی دیتا ہے ان کو اور تم کو،

اور وہی ہے سنتا جانتا۔

.60

 اور جو تُو لوگوں سے پوچھے، کس نے بنائے آسمان و زمین، اور کام لگائے سورج اور چاند؟

تو کہیں اﷲ نے۔

پھر کہاں سے اُلٹ جاتے ہیں۔

.61

 اﷲ پھیلاتا ہے روزی جسکے واسطے چاہے اپنے بندوں میں، اور ماپ کر دیتا ہے جسکو چاہے۔

بیشک اﷲ ہر چیز سے خبردار ہے۔

.62

 اور جو تُو پوچھے اُن سے، کس نے اتارا آسمان سے پانی؟پھر جِلا دیا (زندگی بخشی) اُس سے زمین کو، اسکے مرے پیچھے،

تو کہیں اﷲ نے۔

تُو کہہ، سب خوبی اﷲ کو ہے۔

پر بہت لوگ نہیں بوجھتے۔

.63

 اور یہ دنیا کا جینا تو یہی ہے جی بہلانا اور کھیلنا۔

اور پچھلا (آخرت کا) گھر جو ہے سو یہی ہے جینا۔

اگر یہ سمجھ رکھتے۔

.64

 پھر جب سوار ہوئے کشتی میں پکارنے لگے اﷲ کو، نرے، اسی پر رکھ کر نیت۔

پھر جب بچا لایا ان کو زمین کی طرف، اسی وقت لگے شریک پکڑنے۔

.65

 مکرتے رہیں ہمارے دیئے سے اور برتتے رہیں۔

سب آگے جان لیں گے۔

.66

 کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رکھ دی ہے پناہ کی جگہ امن کی، اور لوگ اُچکے جاتے ہیں اُنکے پاس سے۔

کیا جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں، اور اﷲ کا احسان نہیں مانتے؟

.67

 اور اس سے بے انصاف کون جو باندھے اﷲ پر جھوٹ، یا جھٹلائے سچی بات کو، جب اس تک پہنچے؟

کیا دوزخ میں بسنے کی جگہ نہیں منکروں کی؟

.68

 اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے، ہم سجھائیں گے ان کو اپنی راہیں۔

اور بیشک اﷲ ساتھ ہے نیکی والوں کے۔

*********

.69

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com