القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ لقمان

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 الف لام میم۔

.1

یہ باتیں ہیں پکی (پُر حِکمت) کتاب کی۔

.2

 سوجھ (ہدایت) ہے اور مہر (رحمت) نیکی والوں کو۔

.3

 جو کھڑی رکھتے ہیں نماز، اور دیتے ہیں زکوٰۃ، اور وہ ہیں جو آخرت کو وہ یقین کرتے ہیں۔

.4

یہ ہیں سوجھ (ہدایت) پر اپنے رب کی طرف سے،اور وہ ہیں جن کا بھلا (فلاح) ہے۔

.5

اور ایک لوگ ہیں کہ خریدار ہیں کھیل کی (غافل کرنے والی) باتوں کے،

تا (کہ) بچلا(گمراہ کر) دیں اﷲ کی راہ سے بن سمجھے، اورٹھہرائیں اس کو ہنسی،

وہ جو ہیں ان کو ذلّت کی مار ہے۔

.6

 اور جب سنایئے اس کو ہماری باتیں پیٹھ دے جائے (منہ موڑ لے) غرور سے،

گویا ان کو سنا ہی نہیں،

گویا اس کے دو کان بہرے ہیں۔

سو خوشخبری دے اس کو دکھ والی مار کی۔

.7

 جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کو ہیں نعمت کے باغ (جنت) ۔

.8

 رہا کریں اُن میں۔

وعدہ ہو چکا اﷲ کا سچا(حق) ،

اور وہ زبرست ہے حکمتوں والا۔

.9

 بنائے آسمان بن ٹیکے (بغیر ستونوں کے) ، اُسے دیکھتے ہو،

اور ڈالے زمین پر بوجھ (پہاڑ) ، کہ تم کو لے کر جھُک (ڈُھلک) نہ پڑے،

اور بکھیرے اس میں سب طرح کے جانور۔

اور اُتارا ہم نے آسمان سے پانی، پھر اُگائے زمین میں ہر قِسم کے جوڑے خاصے (عمدہ) ۔

.10

 یہ کچھ بنایا ہے اﷲ کا،

اب دکھاؤ مجھ کو کیا بنایا ہے اوروں نے جو اس کے سوا ہیں؟

کوئی نہیں پر بے انصاف صریح بہکتے ہیں۔

.11

 اور ہم نے دی ہے لقمان کو عقلمندی، کہ حق مان (شُکر بجا لا) اﷲ کا۔

اور جو کوئی حق مانے (شُکر بجا لائے) اﷲ کا تو مانے (شُکر بجا لائے) گا اپنے بھلے کو۔

اور جو کوئی منکر ہو گا تو اﷲ بے پرواہ ہے سب خوبیوں سراہا۔

.12

 اور جب کہا لقمان ے اپنے بیٹے کو ، جب اس کو سمجھانے لگا،

اے بیٹے شریک نہ ٹھہرائیو اﷲ کا۔

بیشک شریک بنانا بڑی بے انصافی ہے۔

.13

 اور ہم نے تقید (تاکید) کیا انسان کو اُس کے ماں باپ کے واسطے،

پیٹ میں رکھا اس کو اس کی ماں نے تھک تھک کر،اور دودھ چھڑانا ہے اس کا دو برس میں،

کہ حق مان میرا، اور اپنے ماں باپ کا،آخر مجھی تک(لوٹ کر) آنا ہے۔

.14

 اور اگر وہ دونوں تجھ سے اڑیں (دباؤ ڈالیں) اس پر کہ شریک مان میرا جو تجھ کو معلوم نہیں، تو اُن کا کہا نہ مان،

اور ساتھ دے ان کا دُنیا میں دستور (معروف طریقے)سے۔

اور راہ چل اس کی، جو رجوع ہوا میری طرف۔

پھر میری طرف ہے تم کو پھر (لوٹ کر) آنا، پھر میں جتاؤں گا تم کو، جو کچھ تم کرتے تھے۔

.15

 اے بیٹے!

اگر کوئی چیز ہو برابر رائی کے دانے کے، پھر رہی ہو کسی پتھر میں یا آسمانوں میں یا زمین میں، لا حاضر کرے اسکو اﷲ۔

بیشک اﷲ چھپے جانتا ہے ،خبردار۔

.16

 اے بیٹے کھڑی رکھ (قائم کر) نماز،

اور سکھلا بھلی بات، اور منع کر برائی سے،

اور سہار (صبر کر) جو تجھ پر پڑے۔

بیشک یہ ہیں ہمت کے کام۔

.17

 اور اپنے گال نہ پھیلا لوگوں کی طرف، اور مت چل زمین پر اِتراتا،

بیشک اﷲ کو نہیں بھاتا (پسند آتا) کوئی اِتراتا بُرائیاں کرتا۔

.18

 اور چل سچ (اعتدال) کی چال، اور نیچی کر (رکھ) اپنی آواز،

بیشک بُری سے بُری آواز گدھوں کی آواز ہے۔

.19

 کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے کام لگائے تمہارے جو کچھ ہیں آسمان اور زمین میں،

اور بھر (پوری کر) دیں تم کو اپنی نعمتیں کھلی اور چھپی،

اور ایک آدمی وہ ہیں، جو جھگڑتے ہیں اﷲ کی بات میں۔نہ سمجھ رکھیں، نہ سوجھ، نہ کتاب چمکتی (روشنی دکھانے والی) ۔

.20

 اور جب ان کو کہئے، چلو اس حکم پر، جو اتارا اﷲ نے کہیں،

نہیں! ہم تو چلیں گے اس پر جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادوں کو۔

بھلا اور جو شیطان بلاتا ہو اُن کو دوزخ کی مار کو، تو بھی؟

.21

 اور جو کوئی تابع کرے اپنا منہ اﷲ کی طرف، اور وہ ہو نیکی پر، سو اس نے پکڑا محکم کڑا (مضبوط سہارا) ۔

اور اﷲ کی طرف ہے آخر (فیصلہ) ہر کام کا۔

.22

 اور جو کوئی منکر ہوا تو تُو غم نہ کھا اس کے انکار سے۔

ہماری طرف پھر(لوٹ کر) آنا ہے اُن کو پھر ہم جتائیں گے ان کو، جو انہوں نے کیا ہے ۔

مقرر اﷲ جانتا ہے جو بات ہے جیوں (دلوں) میں۔

.23

 کام چلائیں گے ہم اُن کا تھوڑے دنوں، پھر پکڑ بلائیں گے ان کو گاڑھی مار (سخت عذاب) میں۔

.24

 اور جو تُو پُوچھے اُن سے، کس نے بنائے آسمان و زمین؟

تو کہیں اﷲ نے۔

تُو کہہ، سب خوبی اﷲ کو ہے،

پر وہ بہت لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔

.25

 اﷲ کا ہے جو کچھ ہے آسمان و زمین میں۔

بیشک اﷲ ہی ہے بے پرواہ سب خوبیوں سراہا ۔

.26

اور اگر جتنے درخت ہیں زمین میں، قلم ہوں، اور سمندر ہو اسکی سیاہی،

اسکے پیچھے (ساتھ ہوں مزید) سات سمندر، نہ نبڑیں (ختم ہوں) باتیں اﷲ کی۔

بیشک اﷲ زبردست ہے حکمتوں والا۔

.27

 تم سب کو بنانا (پیدا کرنا) اور مرے پر جلانا (پیدا کرنا) وہی جیسا ایک جی (شخص) کا۔

بیشک اﷲ سُنتا ہے دیکھتا۔

.28

 تُو نے نہیں دیکھا؟ کہ اﷲ پیٹھاتا (داخل کرتا) ہے رات کو دن میں، اور پیٹھاتا (داخل کرتا) ہے دن کو رات میں،

اور کام لگائے ہیں سورج اور چاند، ہر ایک چلتا ہے ایک ٹھہرے ہوئے وعدہ تک،

اور یہ کہ اﷲ خبر رکھتا ہے جو کرتے ہو۔

.29

یہ اس پر کہے کہ اﷲ وہی ٹھیک (حق) ہے، اور جو پکارتے ہیں اس کے سوا، سو وہی جھوٹ ہے۔

اور اﷲ وہی ہے سب سے اُوپر بڑا۔

.30

 تُو نے نہ دیکھا کہ جہاز چلتے ہیں سمندر میں، اﷲ کی نعمت لے کر، کہ دکھائے تم کو کچھ اپنی قدرتیں۔

البتہ اس میں پتے (نشانیاں) ہیں ہر ٹھہرنے (صبر کرنے) والے حق بوجھنے والے کو۔

.31

 اور جب سر پر آئے ان کے لہر، جیسے بدلیاں، پکاریں اﷲ کو نری کر کر اسی کو بندگی۔

پھر جب بچا دیا ان کو جنگل کی طرف، تو کوئی ہوتا ہے ان میں بیچ کی چال پر (میانہ رو) ۔

اور منکر وہی ہوتے ہیں ہماری قدرتوں سے، جو قول کے جھوٹے (غدار) ہیں، حق نہ بوجھنے والے (ناشکرے) ۔

.32

 لوگو! بچتے رہو اپنے رب (کی نا فرمانی) سے،

اور ڈرو اُس دن سے، کہ کام نہ آئے کوئی باپ اپنے بیٹے کے بدلے، اور نہ کوئی بیٹا ہو جو کام آئے اپنے باپ کی جگہ کچھ،

بیشک اﷲ کا وعدہ ٹھیک (حق) ہے،

سو تم کو نہ بہکائے دنیا کا جینا ۔ اور نہ دھوکہ دے تم کو اﷲ کے نام سے وہ دغاباز۔

.33

 اﷲ جو ہے اس پاس ہے قیامت کی خبر۔

اور (وہی) اتارتا ہے مینہ (بارش) ۔اور جانتا ہے جو ہے ماں کے پیٹ میں۔

اور کوئی جی (شخص) نہیں جانتا، کیا کرے گا کل۔

اور کوئی جی(شخص) نہیں جانتا، کس زمین میں مرے گا۔

تحقیق اﷲ ہی ہے سب جانتا ہے خبردار۔

*********

.34

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com