القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ فاطر

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

سب خوبی اﷲ کو ہے جس نے بنا نکالے آسمان و زمین،

جس نے ٹھہرائے (مقرر کئے) فرشتے پیغام لانے والے، جن کے پَر ہیں دو دو اور تین تین اور چار چار۔

(وہ) بڑھاتا (اضافہ کرتا) ہے پیدائش میں جو چاہے۔

بیشک اﷲ ہر چیز کر سکتا ہے۔

.1

 جو کھول دے اﷲ لوگوں پر کچھ مہر(رحمت) ، تو کوئی نہیں اس کو روکنے والا۔

اور جو روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اس کے سوا،

اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا۔

.2

 لوگو! یاد کرو احسان اﷲ کا اپنے اُوپر ،

کوئی ہے بنانے والا اﷲ کے سوا؟ روزی دیتا تم کو آسمان اور زمین سے۔

کوئی حاکم نہیں مگر وہ۔

پھر کہاں سے اُلٹے (تم بہکائے) جاتے ہو؟

.3

 اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو جھٹلائے گئے کتنے رسول تجھ سے پہلے۔

اور اﷲ تک پہنچتے ہیں سب کام۔

.4

 لوگو! بیشک وعدہ اﷲ کا ٹھیک (حق) ہے،

سو نہ بہکائے تم کو دنیا کا جینا۔

اور نہ دغا دے تم کو اﷲ کے نام سے وہ دغا باز۔

.5

 تحقیق (حقیقت میں) شیطان تمہارا دشمن ہے، سو تم سمجھ رکھو اس کو دشمن۔

وہ تو بلاتا ہے اپنے گروہ کو اسی واسطے کہ ہوں دوزخ والوں میں۔

.6

 جو منکر ہوئے ان کو سخت مار ہے ،

اور جو یقین لائے اور کئے بھلے کام، ان کو ہے معافی اور نیگ (اجر) بڑا۔

.7

بھلا ایک شخص، کہ بھلی سمجھائی (خوشنما دکھائی) اس کو اس کے کام کی برائی، پھر دیکھا اس نے اس کو بھلا(اچھا) ۔

کیونکہ اﷲ بھٹکاتا ہے جس کو چاہے، اور سمجھاتا ہے جس کو چاہے۔

سو تیرا جی نہ جاتا رہے(گھلے تیری جان) اُن پر پچتا پچتا (حسرت وغم کر) کر۔

اﷲ کو سب معلوم ہے جو کرتے ہیں۔

.8

 اور اﷲ ہے جس نے چلائیں ہیں باویں (ہوائیں)، پھر اُبھارتیاں ہیں بدلی(بادل) ،

پھر ہانک لے گئے ہم اس کو ایک مر گئے دیس(مُردہ زمین) کو،

پھر چلائی (زندہ کی) ہم نے اس سے زمین اسکے مر گئے پیچھے (مرنے کے بعد) ۔

اسی طرح ہے جی اٹھنا۔

.9

جس کو چاہیئے عزت، تو اﷲ کی ہے عزت ساری۔

اسکی طرف چڑھتا ہے کلام ستھرا اور کام نیک، اس کو اٹھا لیتا ہے۔

اور جو لوگ داؤ میں ہیں برائیوں کے اُن کو سخت مار ہے۔

اور ان کو داؤ ہے ٹوٹے (خسارہ) کا۔

.10

 اور اﷲ نے تم کو بنایا (پیدا کیا) مٹی سے، پھر بوند پانی سے، پھر بنایا تم کو جوڑے جوڑے۔

اور نہ پیٹ رہتا ہے کسی مادہ کو اور نہ وہ جنتی ہے بن خبر اس کے۔

اور نہ عمر پاتا ہے کوئی بڑی عمر والا اور نہ گھٹتی ہے کسی کی عمر مگر لکھا ہے کتاب میں۔

یہ اﷲ پر آسان ہے۔

.11

 اور برابر نہیں دو دریا ،

یہ (ایک) میٹھا ہے پیاس بجھاتاہے، پینے میں رچتا، اور یہ (دوسرا) کھارا کڑوا۔

اور دونوں میں سے کھاتے ہو گوشت تازہ، اور نکالتے ہو گہنا (سامانِ زینت) جس کو پہنتے ہو۔

اور تُو دیکھے جہاز، اس میں چلتے ہیں پھاڑتے(چیرتے) ، تا (کہ) تلاش کرو اس کے فضل سے، اور شاید تم حق مانو۔

.12

 رات پیٹھاتا (داخل کرتا) ہے دن میں اور دن پیٹھاتا (داخل کرتا) ہے رات میں،

اور کام لگایا سورج اور چاند، ہر ایک چلتا ہے ایک ٹھہرائے وعدہ پر(وقتِ مقرر تک) ۔

یہ اﷲ ہے تمہارا رب، اسی کی بادشاہی ہے،

اور جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا مالک نہیں ایک چھلکے کے۔

.13

 اگر تم ان کو پکارو سنیں نہیں تمہاری پکار۔اور اگر سنیں پہنچیں نہیں تمہارے کام پر۔

اور دن قیامت کے منکر ہوں گے تمہارے شریک ٹھہرانے سے۔

اور کوئی نہ بتائے گا تجھ کو، جیسا بتا دے خبر رکھنے والا۔

.14

 لوگو! تم ہو محتاج اﷲ کی طرف۔

اور اﷲ وہی ہے بے پرواہ سب خوبیوں سراہا۔

.15

 اگر چاہے تم کو لے جائے اور لے آئے ایک نئی خلقت۔

.16

 اور یہ(کرنا) اﷲ پر مشکل نہیں۔

.17

 اور نہ اُٹھائے گا کوئی اُٹھانے والا، بوجھ دوسرے کا،

اور اگر پکارے کوئی بوجھوں مرتا(لدا ہوا شخص) اپنا بوجھ بٹانے کو، کوئی نہ اُٹھائے اس میں سے کچھ، اگرچہ ہو ناتے والا۔

تُو تو ڈر سنا دیتا ہے اُ ن کو جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے، اور کھڑی رکھتے ہیں نماز۔

اور جو کوئی سنورے گا، تو یہی سنورے گا اپنے بھلے کو،

اور اﷲ کی طرف ہے پھر (لوٹ) جانا۔

.18

 اور برابر نہیں اندھا اور دیکھتا۔

.19

 اور نہ اندھیرا اور اُجالا۔

.20

 اور نہ سایہ اور نہ لون(دھوپ کی تپش) ۔

.21

 اور برابر نہیں جیتے (زندے اور) نہ مُردے۔

اور اﷲ سُناتا ہے جس کو چاہے۔اور تو نہیں سُنانے والا قبر میں پڑوں کو۔

.22

 تُو تو یہی ہے ڈر کی خبر سنانے والا۔

.23

 ہم نے بھیجا ہے تجھ کو سچا (حق) دین دے کر، اور خوشی اور ڈر سناتا۔

اور کوئی فرقہ (اُمت) نہیں، جس میں نہیں ہو چکا کوئی ڈرانے والا۔

.24

 اور اگر وہ تجھ کو جھٹلائیں، تو آگے جھٹلا چکے ہیں ان سے اگلے (پہلے) ۔

پہنچے اُن پاس رسول ان کے، لے کر کھلی باتیں اور ورق (صحیفے) اور چمکتی (روشن ہدایات والی) کتاب۔

.25

 پھر پکڑا میں نے منکروں کو، تو کیسا ہوا بگاڑ میرا؟

.26

 تُو نے نہ دیکھا کہ اﷲ نے اُتاراآسمان سے پانی۔پھر ہم نے نکالے اس سے میوے طرح طرح ان کے رنگ۔

اور پہاڑوں میں گھاٹیاں ہیں سفید اور سرخ، طرح طرح ان کے رنگ، اور بھجنگ کالے(گہرے سیاہ) ۔

.27

 اور آدمیوں میں اور چوپایوں میں کئی رنگ کے ہیں اسی طرح۔

اﷲ سے ڈرتے وہی ہیں اسکے بندوں میں جن کو سمجھ ہے ۔

تحقیق (بلاشبہ) اﷲ زبردست ہے بخشنے والا۔

.28

 جو لوگ پڑھتے ہیں کتاب اﷲ کی، اور سیدھی (قائم) کرتے ہیں نماز،اور خرچ کیا کچھ ہمارا دیا چھپے اور کھلے،

اُمیدوار ہیں ایک بیوپار کے، جو کبھی نہ ٹوٹے(خسارہ پائے) ۔

.29

 تا (کہ) پورے دے ان کو نیگ(اجر) اُن کے، اور بڑھتی (زیادہ) دے اپنے فضل سے۔

تحقیق (بلاشبہ) وہ ہے بخشنے والا قبول کرتا۔

.30

 اور جو ہم نے تجھ پر اُتاری کتاب، وہی ٹھیک (حق) ہے سچا (تصدیق) کرتی آپ سے اگلی (پہلی) کو۔

مقرر (بیشک) اﷲ اپنے بندوں سے خبر رکھتا ہے دیکھتا۔

.31

پھر ہم نے وارث کئے کتاب کے وہ، جو چُنے ہم نے اپنے بندوں میں سے۔

پھر کوئی ان میں برا کرتا ہے اپنی جان کا ۔اور کوئی ان میں ہے بیچ کی چال پر(میانہ رو) ،

اور کوئی ان میں ہے کہ آگے بڑھ گیا، لے کر خوبیاں اﷲ کے حکم سے۔

یہی ہے بڑی بزرگی۔

.32

 باغ ہیں بسنے کے، جن میں جائیں گے وہاں گہنا پہنائے گا ان کو کنگن سونے کے اور موتی۔

اور ان کی پوشاک وہاں ریشمی ہے۔

.33

 اور کہیں گے شکر اﷲ کا، جس نے دور کیا ہم سے غم۔

بیشک ہمارا رب بخشتا ہے قبول کرتا۔

.34

 جس نے اُتارا (ٹھہرایا) ہم کو رہنے کے (ابدی) گھر میں، اپنے فضل سے۔

نہ پہنچے اس میں ہم کو کوئی مشقت، اور نہ پہنچے ہم کو اس میں تھکنا۔

.35

 اور جو منکر ہیں، ان کو ہے آگ دوزخ کی۔

نہ اُن پر تقدیر پہنچتی ہے کہ مر جائیں اور نہ اُن میں ہلکی ہوتی ہے وہاں کی کچھ کلفت(تکلیف) ۔

یہی سزا دیتے ہیں ہم ہر نا شکر کو۔

.36

 اور وہ چلاتے ہیں اس میں،

اے رب! ہم کو نکال، ہم کچھ بھلا کام کریں، وہ نہیں جو کرتے تھے۔

کیا ہم نے عمر نہ دی تھی تم کو جتنے میں سوچ لے جس کو سوچنا ہو؟

 اور پہنچا تم کو ڈر سنانے والا ۔

اب چکھو کہ کوئی نہیں گنہگاروں کا مددگار۔

.37

 اﷲ بھید جاننے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا۔

اس کو خوب معلوم ہے، جو بات ہے دلوں میں۔

.38

 وہی ہے جس نے کیا تم کو قائم مقام (خلیفہ) زمین میں ،

پھر جو کوئی ناشکری کرے تو اس پر پڑے اس کی ناشکری۔

اور منکروں کو نہ بڑھے گا ان کے انکار سے، اُن کے رب کے آگے مگر بیزاری۔

اور منکروں کو نہ بڑھے گا ان کے انکار سے، مگر نقصان۔

.39

 تُو کہہ، بھلا دیکھو تو! اپنے شریک جن کو پکارتے ہو اﷲ کے سوا۔

دکھاؤ تو مجھ کو، کیا بنایا انہوں نے زمین میں؟

یا کچھ ان کا ساجھا ہے آسمانوں میں؟

یا ہم نے دی ہے ان کو کوئی کتاب، سو یہ سند رکھتے ہیں اس کی؟

کوئی نہیں پر جو بتاتے ہیں گنہگار ایک دوسرے کو، سب فریب ہے۔

.40

 تحقیق اﷲ تھام رہا ہے آسمانوں کو اور زمین کو، کہ ٹل (سرک) نہ جائیں۔

اور اگر ٹل (سرک) جائیں تو کوئی نہ تھام سکے ان کو اُس کے سوا۔

وہ ہے تحمل والا بخشتا۔

.41

 اور قسم کھاتے تھے اﷲ کی تاکید کی (سخت) قسمیں اپنی،

اگر آئے اُن پاس کوئی ڈر سنانے والا، البتہ بہتر راہ چلیں گے اور کسی ایک اُمت سے۔

پھر جب آیا ان پاس ڈر سنانے والا، اور زیادہ ہوا اُن کا بِدکنا،

.42

 غرور کرنا ملک میں، اور داؤ کرنا برے کام کا۔

اور برائی کا داؤ اُلٹے گا اسی داؤ والوں پر۔

پھر وہی راہ دیکھتے ہیں اگلوں کے دستور کی۔

سو تو نہ پائے گا اﷲ کا دستور (سنت) بدلتا۔

اور نہ پائے گا اﷲ کا دستور (سنت) ٹلتا۔

.43

 کیا پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھیں آخر کیسا ہوا ان کا جو ان سے پہلے تھے؟

 اور تھے ان سے سخت زور میں۔

اور اﷲ وہ نہیں جس کو تھکائے کوئی چیز آسمانوں میں نہ زمین میں۔

وہی ہے سب جانتا کرسکتا۔

.44

 اور (اگر کہیں) پکڑ کرے اﷲ لوگوں کو اُن کی کمائی (کرتوتوں) پر، نہ چھوڑے زمین کی پیٹھ پر ایک ہلنے چلنے والا،

پر(وہ) ان کو ڈھیل (مُہلت) دیتا ہے ایک ٹھہرے ہوئے وعدہ (وقتِ مقرر) تک۔

پھر جب آیا ان کا وعدہ(وقتِ مقرر) ، تو اﷲ کی نگاہ میں ہیں اس کے سب بندے ۔

*********

.45

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com