القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ المؤمن

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 حا میم۔

.1

  اُتارا (نازل کیا ہوا) کتاب کا اﷲ سے ہے، جو زبردست ہے خبردار۔

.2

   گناہ بخشنے والا، اور توبہ قبول کرتا ،

سخت مار دیتا(دینے والا) ، مقدور کا صاحب۔

کسی کی بندگی نہیں سوا اس کے۔اسی کی طرف پھر جانا (سب کو پلٹنا) ہے۔

.3

 وہی جھگڑتے ہیں اﷲ کی باتوں میں جو منکر ہیں،

سو تُو نہ بہک اس پر کہ چلتے پھرتے ہیں شہروں میں۔

.4

جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح کی اور کتنے فرقے ان سے پیچھے۔

اور ارادہ کیا ہر اُمّت نے اپنے رسول پر کہ اسکو پکڑ (گرفتار کر) لیں،

اور لانے لگے جھوٹ ،جھگڑے کہ اس سے ڈگائیں (نیچا کریں) سچا دین، پھر میں نے ان کو پکڑا،

تو کیسی ہوئی میری سزا دینی؟

.5

اور ویسے ہی ٹھیک (سچ) ہو چکی بات تیرے رب کی منکروں پر، کہ یہ ہیں دوزخ والے۔

.6

جو لوگ اٹھا رہے ہیں عرش اور جو اسکے (ارد) گرد ہیں، پاکی بولتے (تسبیح کرتے) ہیں اپنے رب کی خوبیاں،

اور اس پر یقین رکھتے ہیں، اور گناہ بخشواتے ایمان والوں کے۔

اے رب ہمارے ہر چیز سمائی ہے تیری مہر (رحمت) میں اور خبر (علم) میں،

سو معاف کر ان کو جو توبہ کریں، اور چلیں تیری راہ، اور بچا ان کو آگ کی مار سے۔

.7

اے رب ہمارے! اور داخل کر ان کو بسنے کے(رہنے والے)  باغوں میں، جن کا وعدہ دیا تو نے ان کو،

اور جو کوئی نیک ہو ان کے باپوں میں اور عورتوں میں اور اولاد میں سے (ان کو بھی) ۔

بیشک تو ہی ہے زبردست حکمت والا ۔

.8

 اور بچا ان کو برائیوں سے۔

اور جس کو تو بچائے برائیوں سے اس دن ،اس پر مہر (رحمت) کی تو نے۔

اور یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد پانی(کامیابی) ۔

.9

جو لوگ منکر ہیں، ان کو پکار کر کہیں گے،

اﷲ بیزار ہوتا تھا زیادہ اس سے، کہ تم بیزار ہوئے ہو اپنے جی (آپ) سے،

جس وقت تم کو بلاتے تھے یقین (ایمان) لانے کو، پھر تم منکر ہوتے تھے۔

.10

بولے، اے رب ہمارے! تو موت دے چکا، ہم کو دو بار اور زندگی دے چکا دو بار،

اب ہم قائل ہوئے اپنے گناہوں کے، پھر اب بھی (کیا) ہے (اس عذاب سے) نکلنے کو کوئی راہ؟

.11

 یہ تم پر اس واسطے کہ جب کسی نے پکارا اﷲ کو اکیلا، تو تم منکر ہوئے،

اور جب اسکے ساتھ شریک پکارے تو تم یقین لانے لگے۔

اب حکم (فیصلہ) وہی جو کرے اﷲ، سب سے اوپر بڑا۔

.12

وہی ہے، تم کو دکھاتا ہے اپنی نشانیاں اور اتارتا تمہارے واسطے آسمان سے روزی۔

اور سوچ وہی کرے(نصیحت وہی پکڑے)  جو رجوع رہتا ہو۔

.13

 سو پکارو اﷲ کو، نری کر کر (خالص) اسکے واسطے بندگی، اور پڑے بُرا مانیں منکر۔

.14

 صاحب اُونچے درجوں کا، مالک تخت کا۔

اُتارتا ہے بھید کی بات اپنے حکم سے جس پر چاہے اپنے بندوں میں کہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن (سے) ۔

.15

جس دن وہ لوگ نکل کھڑے ہوں گے۔ چھپی نہ رہے گی اﷲ پر اُن کی کوئی چیز۔

کِس کا راج ہے اُس دن؟

اﷲ کا ہے، جو اکیلا ہے دباؤ والا۔

.16

آج بدلہ پائے گا ہر جی(متنفس) ، جیسا کمایا۔

ظلم نہیں آج بیشک۔

(بلاشبہ) اﷲ شتاب (جلد) لینے والا ہے حساب۔

.17

اور خبر سنا دے انکو اس نزدیک آنے والے دن کی جس وقت دل پہنچیں گے گلوں کو دبا رہے ہوں گے۔

کوئی نہیں گنہگاروں کا دوست، اور نہ کوئی سفارشی جسکی بات مانی جائے۔

.18

وہ جانتا ہے چوری کی نگاہ، اور جو چھپا ہے سینوں میں۔

.19

 اور اﷲ چکاتا (فیصلہ کرتا) ہے انصاف۔اور جن کو پکارتے ہیں اسکے سوا، نہیں چکاتے (فیصلہ کرتے) ہیں کچھ۔

بیشک اﷲ جو ہے وہی ہے سنتا دیکھتا۔

.20

 کیا پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھتے آخر کیسا ہوا اُنکاجو تھے ان سے پہلے ،

وہ تھے ان سے سخت زور میں، اور جو نشانیاں چھوڑ گئے زمین میں،

پھر ان کو پکڑا اﷲ نے ان کے گناہوں پر، اور نہ ہوا ان کو اﷲ سے کوئی بچانے والا۔

.21

یہ اس پر، کہ ان پاس آتے تھے انکے رُسول کھلے نشان لے کر، پھر منکر ہوئے، پھر ان کو پکڑا اﷲ نے۔

بیشک وہ زور آور ہے، سخت مار دینے والا۔

.22

اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر، اور کھلی سند۔

.23

 فرعون اور ہامان اور قارون (کے) پاس،

پھر کہنے لگے، یہ جادوگر ہے جھوٹا۔

.24

 پھر جب پہنچا اُن پاس لے کر سچی (حق) بات، ہمارے پاس سے،

بولے، مارو (قتل کرو) بیٹے انکے جو یقین لائے ہیں اسکے ساتھ، اور جیتی رکھو انکی عورتیں۔

اور جو داؤ ہے منکروں کا سو غلطی میں (بیکار ہے) ۔

.25

اور بولا فرعون، مجھ کو چھوڑو کہ مار ڈالوں موسیٰ کو، اور پڑا پکارے اپنے رب کو۔

میں ڈرتا ہوں کہ بگاڑے تمہاری راہ، یا نکالے ملک میں خرابی۔

.26

اور کہا موسیٰ نے، میں پناہ لے چکا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی، ہر غرور والے سے جو یقین نہ کرے حساب کا دن۔

.27

اوربولا ایک مرد ایمان دار فرعون کے لوگوں میں، جو چھپاتا تھا اپنا ایمان،

کیا مارے ڈالتے ہو ایک مرد کو اس پر کہ کہتا ہے میرا رب اﷲ ہے، اور لایا ہے تم پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی۔

اور اگر وہ جھوٹا ہو گا تو اس پر پڑے گا اس کا جھوٹ۔

اور اگر وہ سچا ہو گا تو تم پر پڑے گا کوئی وعدہ، جو دیتا ہے،

بیشک اﷲ راہ نہیں دیتا اس کو جو ہو بے لحاظ جھوٹا۔

.28

اے قوم میری! تمہارا راج ہے آج، چڑھ رہے (غالب) ہو ملک میں،

پھر کون مدد کرے گا ہماری اﷲ کی آفت سے اگر آ گئی ہم پر؟

بولا فرعون، میں وہی سوجھاتا ہوں تم کوجو سوجھا مجھ کو، اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے۔

.29

اور کہا اس ایماندار نے، اے قوم میری! میں ڈرتا ہوں ، کہ آئے تم پر دن ان فرقوں کا سا(قوموں جیسا) ۔

.30

جیسے رسم پڑی قوم نوح کی، اور عاد اور ثمود کی، اور جو انکے پیچھے ہوئے۔

اور اﷲ بے انصافی نہیں چاہتا بندوں پر۔

.31

اور اے قوم میری! میں ڈرتا ہوں کہ تم پر آئے دن ہانک پکار (قیامت )کا۔

.32

 جس دن بھاگو گے پیٹھ دے کر، کوئی نہیں تم کو اﷲ سے بچانے والا۔

اور جس کو غلطی میں ڈالے اﷲ، تو کوئی نہیں اسکو سوجھانے (راستہ دکھانے) والا۔

.33

اور تم پاس آ چکا ہے یوسف اس سے پہلے کھلی باتیں لے کر،پھر تم رہے دھوکے ہی میں ان چیزوں سے، جو وہ لایا۔

یہاں تک کہ جب مر گیا، کہنے لگے، ہر گز نہ بھیجے گا اﷲ اسکے بعد کوئی رسول۔

اسی طرح بہکاتا ہے اﷲ اس کو، جو ہو زیادتی والا شک کرتا۔

.34

 وہ جو جھگڑتے ہیں اﷲ کی باتوں میں بغیر کچھ سند کے، جو پہنچی ہو ان کو۔

بڑی بیزاری ہے اﷲ کے ہاں، اور ایمانداروں کے ہاں۔

اسی طرح مُہر کرتا ہے اﷲ ہر دل پر غرور والے سرکش کے۔

.35

اور بولا فرعون، کہ اے ہامان! بنا میرے واسطے ایک محل، شاید میں پہنچوں رستوں میں۔

.36

(یعنی) رستوں میں آسمان کے،

پھر جھانک دیکھوں موسیٰ کے معبود کو،اور میری اٹکل (سمجھ) میں تو وہ جھوٹا ہے۔

اور اسی طرح بھلے دکھائے تھے فرعون کو اسکے بُرے کام، اور روکا گیا راہ سے،

اور جو داؤ تھا فرعون کا، سو کھپنے(ہلاک ہونے) کے واسطے۔

.37

 اور کہا اس ایماندار نے، اے قوم! میری راہ چلو، پہنچا دوں گا تم کو نیکی کی راہ پر۔

.38

اے قوم! یہ جو زندگی ہے دنیا کی، سو برت لینا (عارضی) ہے ۔اور وہ گھر جو پچھلا (آخرت کا) ہے،

وہی ہے ٹھہراؤ (ہمیشہ رہنے) کا گھر۔

.39

 جس نے کی ہے برائی تو وہی بدلہ پائے گا اسکے برابر۔

اور جس نے کی ہے بھلائی، مرد ہو یا عورت اور وہ یقین (ایمان) رکھتا ہو، سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں،

روزی پائیں گے وہاں بے شمار۔

.40

اے قوم! مجھ کو کیا ہوا (ماجرا) ہے؟

بلاتا ہوں تم کو بچاؤ کی طرف اور تم بلاتے ہو مجھ کو آگ کی طرف۔

.41

 تم بلاتے ہو مجھ کو ، کہ منکر ہوں اﷲ سے،اور شریک ٹھہراؤں اس کا جس کی مجھ کو خبر نہیں۔

اور میں بلاتا ہوں تم کو اس زبردست گناہ بخشنے والے کی طرف۔

.42

آپ ہی ہوا(حق یہ ہے) کہ جس (معبود) کی طرف مجھ کو بلاتے ہو، اس کا بلاوا کہیں نہیں دنیا میں اور نہ آخرت میں،

اور یہ کہ ہم کو پھر جانا (پلٹنا) ہے اﷲ کے پاس، اور یہ کہ زیادتی والے وہی ہیں دوزخ کے لوگ۔

.43

سو آگے یاد کرو گے جو میں کہتا ہوں تم کو۔

اور میں سونپتا ہوں اپنا کام اﷲ کو۔

بیشک اﷲ کی نگاہ میں ہیں سب بندے۔

.44

پھر بچا لیا موسیٰ کو اﷲ نے بُرے داؤں سے جو کرتے تھے،

اور اُلٹ پڑا فرعون والوں پر بُری طرح کا عذاب۔

.45

 آگ ہے، کہ دکھا دیتے ہیں ان کو صبح اور شام۔

اور جس دن اُٹھے گی قیامت (حکم ہو گا) داخل کرو فرعون والوں کو سخت سے سخت عذاب میں۔

.46

اور جب آپس میں جھگڑیں گے آگ میں پھر کہیں گے کمزور غرور کرنے والوں کو،

ہم تھے تمہارے پیچھے (تابع) ، پھر کچھ تم ہم پر سے اُٹھا لو گے حِصہ آگ کا؟

.47

کہیں گے جو غرور کرتے تھے ہم سبھی پڑے ہیں اس میں، اﷲ فیصلہ کر چکا بندوں میں۔

.48

اور کہیں گے جو لوگ پڑے ہیں آگ میں دوزخ کے داروغوں کو،

مانگو اپنے رب سے کہ ہم پر ہلکا کرے ایک دن تھوڑاعذاب۔

.49

 وہ بولے کیا نہ آتے تھے تم پاس تمہارے رسول کھلے نشان لے کر؟

کہیں گے کیوں نہیں!

بولے! پھر (تم خود ہی) پکارو۔

اور کچھ نہیں پکارنا کافروں کا، مگر بہکنا۔

.50

ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا کے جیتے، اور (اُس دن بھی)

جب (گواہی کے لئے)کھڑے ہوں گے گواہ۔

.51

جس دن کام نہ آئیں منکروں کو ان کے بہانے، اور ان کو پھٹکار ہے اور ان کو برا گھر۔

.52

اور ہم نے دی موسیٰ کو راہ کی سوجھ،اور وارث کیا بنی اسرائیل کو کتاب کا۔

.53

سوجھاتی اور سمجھاتی عقلمندوں کو۔

.54

 سو تو ٹھہرا رہ(صبر کر) ، بیشک وعدہ اﷲ کا ٹھیک (حق) ہے،

اور بخشواہ اپنا گناہ،اور پاکی بول اپنے رب کی خوبیاں شام کو اور صبح کو۔

.55

 اور جو لوگ جھگڑتے ہیں اﷲ کی باتوں میں، بغیر کچھ سند کے جو پہنچی ہو ان کو،

کچھ نہیں ان کے جی میں، غرور ہے، کہ کبھی نہ پہنچیں گے اس تک۔

سو تو پناہ مانگ اﷲ کی، بیشک وہ ہے سنتا دیکھتا۔

.56

البتہ پیدا کرنا آسمانوں کا اور زمین کا، بڑا ہے لوگوں کے بنانے سے،

لیکن بہت لوگ نہیں سمجھتے۔

.57

اور برابر نہیں اندھا اور دیکھتا اور نہ ایماندار جو بھلے کام کرتے ہیں، اور نہ بدکار۔

تم تھوڑا سوچ (غور و فکر) کرتے ہو۔

.58

تحقیق (بلاشبہ) وہ (قیامت کی) گھڑی آنی ہے، اس میں دھوکا نہیں، لیکن بہت لوگ نہیں مانتے۔

.59

 اور کہتا ہے تمہارا رب مجھ کو پکارو، کہ پہنچوں تمہاری پکار کو۔

بیشک جو لوگ بڑائی کرتے (منہ موڑتے) ہیں میری بندگی سے، اب پیٹھیں (داخل ہوں) گے دوزخ میں ذلیل ہو کر۔

.60

 اﷲ ہے جس نے بنا دی تم کو رات کہ اس میں چین پکڑو، اور دن دیا دکھاتا (روشن) ۔

اﷲ تو فضل رکھتا ہے لوگوں پر، لیکن بہت لوگ حق نہیں مانتے(شکر ادا نہیں کرتے) ۔

.61

وہ اﷲ ہے رب تمہارا، ہر چیز بنانے والا،کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا،

پھر کہاں سے پھرے (بہکائے) جاتے ہو؟

.62

اسی طرح پھیرے (بہکائے) جاتے ہیں، جو لوگ رہتے ہیں اﷲ کی باتوں سے منکر ہوتے۔

.63

اﷲ ہے! جس نے بنا دی تم کو زمین ٹھہراؤ(جائے قرار) ، اور آسمان عمارت (چھت) ،

اور تم کو صورت بنائی، پھر اچھی بنائیں صورتیں تمہاری، اور روزی دی تم کو ستھری چیزوں سے۔

وہ اﷲ ہے رب تمہارا۔

سو بڑی برکت ہے اﷲ کی، جو رب ہے سارے جہان کا۔

.64

وہ ہے زندہ رہنے والا، کسی کی بندگی نہیں اسکے سوا، سو اس کو پکارو نری کر کر اُس کی بندگی۔

سب خوبی اﷲ کو جو رب ہے سارے جہان کا۔

.65

تُو کہہ، مجھ کو منع ہوا کہ پُوجوں جن کو تم پکارتے ہو سوا اﷲ کے، جب پہنچ چکیں مجھ کو کھلی نشانیاں میرے رب سے،

اور حکم ہوا کہ تابع رہوں جہان کے صاحب کا۔

.66

 وہی ہے جس نے بنایا تم کو خاک سے،

پھر پانی کی بوند سے، پھر لہو کی پھٹکی سے، پھر تم کو نکالتا ہے لڑکے (بچے) ،

پھر جب تک پہنچو اپنے زور (جوانی) کو، پھر جب تک ہو جاؤ بوڑھے۔

اور کوئی ہے تم میں کہ بھر لیا (واپس بلا لیا) پہلے اس سے،

اور جب تک پہنچو لکھے وعدے کو،اور شاید تم بوجھو۔

.67

وہ ہے جو جلاتا (زندہ کرتا) ہے اور مارتا ہے،

پھر جب حکم کرے کسی کام کو، تو یہی کہے ا سکو کہ ہو، وہ ہو جاتا ہے۔

.68

  تُو نے نہ دیکھے جو جھگڑتے ہیں اﷲ کی باتوں میں،

کہاں سے پھرے جاتے ہیں؟

.69

 جنہوں نے جھٹلائی یہ کتاب، اور جو بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ،

سو آخر جان لیں گے۔

.70

جب طوق پڑے ہیں ان کی گردنوں میں اور زنجیریں، گھسیٹے جاتے ہیں۔

.71

جلتے پانی میں، پھر آگ میں ان کو جھونکتے ہیں۔

.72

پھر ان کو کہا ہے کہ کہاں گئے جن کو شریک بتاتے تھے؟

.73

اﷲ کے سوا۔

بولے ہم سے چُوک (گم ہو) گئے، کوئی نہیں! ہم تو پکارتے نہ تھے پہلے کسی چیز کو۔

اسی طرح بچلاتا (بدحواس کرتا) ہے اﷲ منکروں کو۔

.74

یہ بدلہ اس کا جو تم ریجھتے پھرتے تھے زمین میں نا حق، اور اس کا جو تم اتراتے تھے۔

.75

پیٹھو (داخل ہو) دروازوں میں دوزخ کے، سدا رہنے کو اس میں۔

سو کیا بد ٹھکانا ہے غرور والوں کا۔

.76

سو تُو ٹھہرا رہ (صبر کر) ، بیشک وعدہ اﷲ کا ٹھیک ہے۔

پھر کبھی ہم دکھائیں تجھ کو کوئی وعدہ جو ان کو دیتے ہیں، یا بھولیں تجھ کو،

پھر ہماری طرف پھرے (لوٹے) آئیں گے۔

.77

اور ہم نے بھیجے ہیں بہت رسول تجھ سے پہلے، کوئی ان میں ہیں کہ سنایا تجھ کو ان کا احوال، کوئی ہیں کہ نہیں سنایا۔

کسی رسول کا مقدور نہ تھا، کہ لے آتا کوئی نشانی، مگر اﷲ کے حکم سے۔

پھر جب آیا حکم اﷲ کا، فیصلہ ہو گیا انصاف سے اور ٹوٹے (خسارے) میں آئے اس جگہ جھوٹے۔

.78

اﷲ ہے جس نے بنا دیئے تم کو چوپائے تا کہ سواری کرو کتنوں (بعضوں)پر اور کتنوں کو کھاتے ہو۔

.79

ان میں تم کو بہت فائدے ہیں، اور تا (کہ) پہنچو ان پر چڑھ کر کسی کام تک جو تمہارے جی میں ہو،

اور ان پر، اور کشتی پر لدے پھرتے ہو۔

.80

اور دکھاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں، پھر کون کون نشانیاں اپنے رب کی نہ مانو گے؟

.81

کیا پھرے نہیں ملک میں  کہ دیکھتے، آخر کیسا ہوا ان سے پہلوں کا؟

وہ تھے ان سے زیادہ اور زور میں سخت، اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے ہیں زمین پر،

پھر کام نہ آیا ان کو جو کماتے تھے۔

.82

پھر جب پہنچے ان پاس رسول ان کے کھلی نشانیاں لے کر، ریجھنے لگے اس پر جو ان کے پاس تھی خبر،

اور اُلٹ پڑی ان پر جس چیز پر ٹھٹھا (ہنسا کرتے) کرتے تھے۔

.83

 پھر جب دیکھی انہوں نے ہماری آفت، بولے یقین لائے اﷲ اکیلے پر، اور چھوڑیں جو چیزیں شریک بتاتے تھے۔

.84

پھر نہ ہوا کہ کام آئے، ان کو یقین لانا ان کا، جس وقت دیکھ چکے ہمارا عذاب۔

رسم (سنت) پڑی ہوئی اﷲ کی، جو چلی آئی ہے اس کے بندوں میں۔

اور خراب ہوئے اس جگہ منکر ۔

*********

.85

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com