القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ فصیلت

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

 حٰم ۔

.1

  کچھ اتارا ہے بڑے مہربان رحم والے (کی طرف) سے ۔

.2

  کتاب ہے کہ جُدی جُدی کی (کھول کھول کر بیان کی) ہیں اس کی آیتیں ۔

قرآن عربی زبان کا، ایک سمجھ والے لوگوں کو۔

.3

 سناتا ہے خوشی اور ڈر۔

پھر دھیان نہ لائے وہ لوگ ، پھر وہ نہیں سنتے ۔

.4

 اور کہتے ہیں ہمارے دل غلاف میں ہیں اس بات سے، جس طرف تو ہم کو بلاتا ہے،

اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے (بہرے ہیں) ، اور ہمارے تمہارے بیچ میں اوٹ (پردہ حائل) ہے،

سو تو اپنا کام کر ہم اپنا کام کرتے ہیں۔

.5

تو کہہ، میں بھی آدمی ہوں جیسے تم، حکم آتا (وحی آتی) ہے مجھ کو کہ تم پر بندگی ایک حاکم (معبود) کی ہے،

سو سیدھے رہو اسکی طرف اور اس سے گناہ بخشواؤ ۔

اور خرابی ہے شریک والوں (مشرکوں) کو ۔

.6

جو نہیں دیتے زکوٰۃ، اور وہ آخرت سے منکر ہیں۔

.7

البتہ جو یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کو نیگ (اجر) ملنا ہے جو بس (کبھی ختم) نہ ہو۔

.8

تو کہہ، کیا تم منکر ہو اس (ذات) سے جس نے بنائی زمین دو دن میں،اور برابر  کرتے ہو اس کے ساتھ اوروں کو،

وہ ہے رب جہان کا۔

.9

 اور رکھے اس (زمین) میں بوجھ (پہاڑ) اوپر سے اور برکت رکھی اسکے اندر

اور ٹھہرائیں اس میں خوراکیں اس کی چار دن میں ۔ پوری پوچھنے والوں (حاجت مندوں) کو ۔

.10

پھر چڑھا آسمان کو اور دھواں ہو رہا تھا،

پھر کہا اس کو اور زمین کو، آؤ دونوں خوشی سے یا زور سے۔

وہ بولے ہم آئے خوشی سے ۔

.11

پھر ٹھہرائے سات آسمان دو دن میں، اور اتارا ہر آسمان میں حکم (قانون) اس کا۔

اور رونق دی ہم نے آسمان کو چراغوں سے اور نگہبانی (کی شیطانوں سے)۔

یہ سادھا (منصوبہ) ہے زبردست خبردار کا۔

.12

پھر اگر وہ ٹلا دیں (منہ موڑیں) تو تُو کہہ،

میں نے خبر سنا دی تم کو ایک کڑاکے (عذاب) کی، جیسے کڑاکا (عذاب) آیا عاد اور ثمود پر۔

.13

جب آئے انکے پاس رسُول آگے سے اور پیچھے سے(بھی) ، (اور ان کو سمجھایا) کہ نہ پوجو کسی کو سوااﷲ کے ۔

کہنے لگے، اگر ہمارا رب چاہتا تو اتارتا فرشتے، سو ہم تمہارے ہاتھ بھیجا نہیں مانتے۔

.14

سو وہ جو عاد تھے غرور کرنے لگے (تھے) ملک میں نا حق کا اور کہنے لگے، کون ہے ہم سے زیادہ زور میں؟

کیا دیکھتے نہیں کہ اﷲ جس نے ان کو بنایا وہ زیادہ ہے ان سے زور میں؟

اور تھے ہماری نشانیوں سے منکر۔

.15

پھر بھیجی ہم نے ان پر باؤ (ہوا) ٹھرّی (ٹھنڈی) زور کی(طوفانی) ، کئی دن مصیبت کے

(تا) کہ چکھائیں ان کو رسوائی کی مار، دنیا کے جیتے(دنیاوی زندگی میں) ۔

اور آخرت کی مار میں تو پوری رسوائی ہے ، اور(اس روز) ان کو کہیں مدد نہیں (ملے گی) ۔

.16

اور وہ جو ثمود تھے سو ہم نے انکو راہ بنائی(پیش کی) ، پھر انکو خوش (اچھا) لگااندھے رہنا سو جھنے (راستہ دیکھنے) سے۔

پھر پکڑا ان کو کڑاکے نے ذلت کی مار کے، بدلہ (بسبب) اس کا جو کماتے (انکے کرتوت) تھے ۔

.17

 اور بچا دیئے ہم نے جو یقین لائے تھے، اور بچ چلتے تھے(برے کاموں سے) ۔

.18

اور جس دن جمع ہوں (ہانکے جائیں) گے دشمن اﷲ کے دوزخ پرپھر انکی مثلیں بٹیں (درجہ بندی کی جائے) گی

.19

یہاں تک کہ جب (وہ سب) پہنچے اس پر، (تو) بتا ( گواہی) دیں گے ان کو

ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے(جسم کی کھالیں) ، جو کچھ (اعمال) وہ کرتے تھے۔

.20

 اور وہ کہیں گے اپنے چمڑوں (اعضا) کو، تم نے کیوں بتایا (گواہی دی ہمارے خلاف) ہم کو۔

وہ بولے ہم کو بلوایا (گویائی دی) اﷲ نے جس نے بلوایا (گویائی دی) ہے ہر چیز کو،

اور اسی نے بنایا (پیدا کیا) تم کو پہلی بار، اور اسی کی طرف پھر (لوٹ کر) جاتے ہو۔

.21

اور تم پردہ نہ کرتے تھے اس سے کہ تم کو بتا دیں گے تمہارے کان، نہ تمہاری آنکھیں،نہ تمہارے چمڑے (کھالیں) ،

پر تم کو یہ خیال تھا کہ اﷲ نہیں جانتا بہت چیزیں جو (تم)کرتے ہو۔

.22

اوریہ وہی تمہارا خیال ہے جو رکھتے تھے اپنے رب کے حق (بارے) میں،اسی نے تم کو کھپایا (ہلاک کیا)،

پھر آج رہ گئے ٹوٹے (خسارہ) میں۔

.23

پھر اگر وہ صبر کریں (یا نہ کریں) تو آگ ان کا گھر (ٹھکانا) ہے،

اور اگر وہ منایا (توبہ کرنا)چاہیں، تو ان کو کوئی نہیں مناتا(توبہ نہ مانی جائے گی)۔

.24

اور لگا (مسلط کر) دی ہم نے ان پر تعیناتی(ایسے شیطان ساتھی) ،

پھر انہوں نے بھلا(اچھا)  دکھایاان کو جو ان کے آگے اور جو ان کے پیچھے (کے اعمال)،

اور ٹھیک پڑی ان پر بات، مل کر سب فرقوں (اُمتوں) میں جوہو چکے ہیں ان سے آگے (پہلے) جنوں کے اور آدمیوں کے،

اور وہ تھے ٹوٹے (خسارہ میں رہنے) والے۔

.25

 اور کہنے لگے منکر نہ کان دھرو اس قرآن کے سننے کواور بک بک کرو (خلل ڈالو) اسکے پڑھنے میں، شاید تم غالب ہو۔

.26

 سو ہم کو ضرور چکھانی منکروں کو سخت مار(عذاب) ، اور ان کو بدلہ دینا بُرے سے بُرے کاموں کا، جو کرتے تھے۔

.27

 یہ سزا ہے اﷲ کے دشمنوں کی آگ (جہنم)۔

ان کو اسی میں ہے گھر سدا کا ۔بدلہ اس کا جو ہماری باتوں سے انکار کرتے تھے ۔

.28

اور کہیں گے جو لوگ منکر ہیں، اے رب ہمارے! ہم کو دکھا وہ دونوں جنہوں نے ہم کو بہکایا، جو جن ہے اور جو آدمی،

(تا) کہ(روند) ڈالیں ہم ان کو اپنے پاؤں کے نیچے، کہ وہ رہیں سب سے نیچے(ذلیل و خوار) ۔

.29

تحقیق (یقیناً) جنہوں نے کہا (شہادت دی) رب ہمارا اﷲ ہے، پھر اسی پر ٹھہرا (ثابت قدم) رہے، ان پر اترتے ہیں فرشتے

(یہ کہتے ہوئے) کہ تم نہ ڈرو نہ غم کھاؤ، اور خوشی سنو اس بہشت کی جس کا تم کو وعدہ تھا۔

.30

ہم ہیں تمہارے رفیق دنیا (دنیاوی زندگی) میں اور آخرت میں،

اور تم کو وہاں ہے(ملے گا) جو چاہے جی تمہارا، اور تم کو وہاں ہے(ملے گا) جو منگواؤ(گے) ۔

.31

 مہمانی ہے اُس بخشنے والے مہربان سے ۔

.32

اور اس سے بہتر کس کی بات جس نے بلایا اﷲ کی طرف اور کیا نیک کام، اور کہا میں حکم بردار ہوں۔

.33

اور برابر نہیں نیکی نہ بدی۔

جواب میں (برائی کے) تو کہہ اس سے بہتر،

پھر جو تو دیکھے تو جس میں (اور)تجھ میں دشمنی تھی(ہو جائیں)جیسے دوست دار ہے ناتے والا(جگری)

.34

اور یہ بات ملتی ہے انہیں کو جو سہار (صبر) رکھتے ہیں۔اور یہ بات ملتی ہے اس کو جس کی بڑی قسمت (نصیب) ہے ۔

.35

اور کبھی چوک لگے تجھ کو شیطان کے چوکنے سے تو پناہ پکڑ اﷲ کی۔

بیشک وہی ہے سنتا جانتا۔

.36

اور اس کی قدرت کے نمونے ہیں رات اور دن، اور سورج اور چاند۔

(لہٰذا) سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو،

اور سجدہ کرو اﷲ کو جس نے وہ بنائے، اگر تم اسی کو پوجتے ہو۔

.37

پھر اگر غرور کریں(تو کوئی پرواہ نہیں)

تو جو لوگ تیرے رب کے پاس (مقرب) ہیں، پاکی بولتے (تسبیح کرتے) ہیں اسکی رات اور دن اور وہ نہیں تھکتے۔ (سجدہ)

.38

اور ایک اس کی نشانی یہ کہ تو دیکھتا ہے زمین کو دبی (سوکھی) پڑی،

پھر جب اتارا (برسایا) ہم نے اس پر پانی، تازی ہوئی (لہلہائی)اور ابھری(پھولی)۔

بیشک جس نے اس کو جلایا (زندہ کیا)، وہ جلاوے (زندہ کرے )گا مردے۔

وہ سب چیز کر سکتا ہے۔

.39

جو لوگ ٹیڑھے دھنستے (کجروی اختیار کرتے) ہیں ہماری باتوں (آیات) میں ہم سے پیچھے(چھپے) نہیں۔

بھلا ایک جو پڑتا ہے(ڈالا جائے) آگ میں بہتر یا ایک جو آئے گا بچ کر اس سے دن قیامت کے۔

کرتے جاؤ جو چاہو، بیشک جو کرتے ہو وہ (اﷲ) دیکھتا ہے ۔

.40

جو لوگ منکر ہوئے سمجھوتی (نصیحت) سے، جب ان پاس آئی۔

اور (حالانکہ)یہ کتاب ہے نادر۔

.41

اس میں جھوٹ کا دخل نہیں، آگے سے نہ پیچھے سے،

اتاری ہے حکمتوں والے سب خوبیوں سرا ہے کی۔

.42

تجھ سے وہی کہتے ہیں جو کہہ دیا ہے سب رسولوں سے تجھ سے پہلے۔

تیرے رب کے ہاں معافی بھی ہے، اور سزا بھی ہے دکھ والی ۔

.43

اور اگر ہم اس کو کرتے قرآن اوپری (عجمی)زبان کا، تو کہتے اس کی باتیں کیوں نہ کھولی گئیں۔

(یہ عجیب بات ہے)اوپری(عجمی) زبان اور عرب کا آدمی؟

تو کہہ، یہ ایمان والوں کو سوجھ (ہدایت)ہے اور روگ کا دفع(شفا)۔

اور جو یقین نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کو اندھاپا(نا بینائی) ۔

اور (ایسا محسوس کرتے ہیں کہ)ان کو پکار یہی ہے دور کی جگہ سے۔

.44

اور ہم نے دی تھی موسیٰ کو کتاب پھر اس میں پھوٹ پڑی(اختلاف کیا گیا)۔

اور اگر نہ ہوتی ایک بات، جو پہلے نکل چکی تیرے رب سے، تو ان میں فیصلہ ہو جاتا ۔

اور وہ دھوکے میں ہیں اس سے جو چین نہیں دیتا۔

.45

جس نے کی بھلائی سو اپنے واسطے

اور جس نے کی بُرائی وہ بھی اسی پر۔

تیرا رب ایسا نہیں کہ ظلم کرے بندوں پر۔

.46

اسی کی طرف حوالہ (علم)ہے خبر قیامت کی۔

اور کوئی میوے نہیں جو نکلتے ہیں اپنے غلاف سے اور گابھ(حمل) نہیں رہتا کسی مادہ کو، اور نہ وہ جنے جسکی اسکو خبر نہیں۔

اور جس دن ان کو پکارے گا، کہاں ہیں میرے شریک والے بولیں گے،

ہم نے تجھ کو کہہ سنایا، ہم میں کوئی نہیں اقرار کرتا ۔

.47

 اور چوک گیا ان سے جو پکارتے تھے پہلے، اور اٹکلے(سمجھ لیں گے) ان کو نہیں کہیں خلاصی۔

.48

نہیں تھکتا آدمی مانگنے سے بھلائی اور اگر لگ جائے اس کو برائی (مصیبت)تو آس توڑے نا اُمید ہو کر۔

.49

اور اگر ہم چکھائیں اس کو کچھ اپنی مہر (رحمت) ، پیچھے ایک تکلیف کے جو اسی کو لگی تھی،تو کہنے لگے گا یہ ہے میرے لائق

اور میں نہیں سمجھتا قیامت اٹھنی ہے(آئے گی)،

اور اگر میں پھر (پلٹایا گیا)گیا اپنے رب کی طرف، بیشک مجھ کو ہے اسکے پاس خوبی،

سو ہم جتادیں گے منکروں کو، جو انہوں نے کیا ہے اور چکھائیں گے انکو ایک گاڑھی مار(سخت عذاب)۔

.50

اور جب ہم نعمت بھیجیں انسان پر، ٹلا جائے (منہ موڑے)اور موڑے اپنی کروٹ (اکڑ جاتا ہے)۔

اور جب لگے اس کو برائی(تکلیف)، تو دعائیں کرے (لمبی)چوڑی۔

.51

تو کہہ، بھلا دیکھو تو! اگر یہ (قرآن)ہو اﷲ کے پاس سے، پھر تم نے اس کو نہ مانا،

اور اس سے بہکا کون جو دور چلتا جائے مخالف ہو کر۔

.52

ہم دکھائیں گے انکو اپنے نمو نے دنیا میں اور آپ اسکی جان میں، جب تک کھل جائے ان پرکہ یہ ٹھیک ہے۔

کیا تیرا رب تھوڑا (کافی نہیں)ہے ہر چیز پر گواہ، سنتا ہے؟

.53

 (آگاہ رہو)وہ دھوکے (شک)میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے ۔

سنتا ہے! وہ گھیر رہا (احاطہ کئے ہوئے)ہے ہر چیز کو۔

*********

.54

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com