القرآن الحکیم (اردو ترجمہ)

حضرت شاہ عبدالقادر

سورۃ الجن

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

تو کہہ مجھ کو حکم آیا (وحی) کہ سن گئے تھے کتنے لوگ جِنوّں کے،

پھر کہا (انہوں نے) ہم نے سنا ہے (ایک) قرآن عجیب۔

.1

سوجھاتا (دکھاتا) نیک راہ، پھر ہم اس پر یقین لائے۔

اور ہر گز نہ شریک بنائیں گے اپنے رب کا کسی کو۔

.2

اور یہ کہ اونچی ہے شان ہمارے رب کی ، نہیں رکھی اس نے جورو (بیوی) نہ بیٹا۔

.3

اور یہ کہ ہمارا بے وقوف (نادان آدمی) کہتا ہے اﷲ پر بڑھا کر (خلاف) باتیں،

.4

اور یہ کہ ہم کو خیال تھا، کہ نہ بولیں گے انس (انسان) اور جِنّ اﷲ پر جھوٹ۔

.5

اور یہ کہ تھے کتنے مرد آدمیوں (انسانوں) کے پناہ پکڑتے کتنے مردوں کی جِنّوں میں(سے)،

پھر ان کو بڑھا اور سر چڑھنا (غرور)۔

.6

اور یہ کہ ان کو خیال تھا جیسا تم کو خیال تھا، کہ ہر گز نہ اٹھائے گا اﷲ کسی کو۔

.7

اور یہ کہ ہم نے ٹٹول ڈالا آسمان کو پھر پایا اس کو بھر رہے اس میں چوکیدار سخت اور انگارے۔

.8

اور یہ کہ ہم بیٹھے تھے آسمان کے ٹھکانوں میں سُننے کو۔

پھر جو کوئی اب سننے پائے اپنے واسطے ایک انگارہ (شہابِ ثاقب) گھات میں۔

.9

اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ کچھ برا ارادہ ٹھہرا ہے زمین کےرہنے والوں پر

یا چاہا ان کے حق میں اس کے رب نے راہ پر لانا

.10

اور یہ کہ کئی ہم میں نیک ہیں ، اور کوئی اس کے سوا۔

ہم تھے کئی راہ پر پھٹ (بٹ) رہے۔

.11

اور یہ کہ ہمارے خیال میں آیاہم چیر (بڑھ) نہ جائیں گے اﷲ سے زمین میں،اور نہ تھکا دیں گے اس کو بھاگ کر،

.12

اور یہ کہ جب ہم نے سنی راہ کی بات ، ہم نے اس کو مانا۔

پھر جو کوئی یقین لائے اپنے رب پر، سو نہ ڈرے گا نقصان سے اور نہ زبردستی سے۔

.13

اور یہ کہ کوئی ہم میں حکم بردار ہیں اور کوئی بے انصاف۔

سو جو حکم میں آئے، سو انہوں نے اٹکلی (ڈھونڈ لی) نیک راہ۔

.14

اور جو بے انصاف ہیں، وہ ہوئے دوزخ کا ایندھن۔

.15

اور یہ حکم آیا ، کہ اگر لوگ سیدھے رہتے راہ پر، تو ہم پلاتے ان کو پانی پھر کر(سیراب کر دیتے)۔

.16

 تا کہ ان کو جانچیں اس میں۔

اور جو کوئی منہ موڑے اپنے رب کی یاد سے ،وہ پیٹھا دیوے(مبتلا کر دے) اس کو چڑھتے (سخت) عذاب میں۔

.17

اور یہ کہ سجدے کے ہاتھ پاؤں حق اﷲ کا ہے، سو مت پکارو اﷲ کے ساتھ کسی کو۔

.18

اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اﷲ کا بندہ اس کو پکارتا، لوگ ہونے لگتے ہیں اس پر ٹھٹھ (ہجوم)۔

.19

تو کہہ، میں تو یہی پکارتا ہوں اپنے رب کو، اور شریک نہیں کرتا اس کا کسی کو۔

.20

تو کہہ میرے ہاتھ نہیں تمہارا برا اور نہ راہ پر لانا۔

.21

تو کہہ، مجھ کو نہ بچائے گا اﷲ کے ہاتھ سے کوئی،اور نہ پاؤں گا اس کے سوا کہیں سرک (چھپا) رہنے کو جگہ۔

.22

 مگر پہنچانا ہے اﷲ کی طرف سے، اور اس کے پیغام دینے۔

اور جو کوئی حکم نہ مانے اﷲ کا اور اس کے رسول کا، سو اس کے لئے آگ ہے دوزخ کی،رہا کریں اس میں ہمیشہ۔

.23

یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو ان سے وعدہ ہوا،تب جان لیں گے کس کی مدد کمزور ہے، اور (کون) گنتی میں تھوڑے۔

.24

تو کہہ، میں نہیں جانتا، کہ نزدیک ہے جس چیزکا تم سے وعدہ ہے،یا کر دے اس کو میرا رب ایک مُدت کی حد۔

.25

جاننے والے بھید کا، سو نہیں خبر دیتا اپنے بھید کی کسی کو۔

.26

 مگر جو پسند کر لیا کوئی رسول، تو وہ چلاتا ہے اس کے آگے اور پیچھے چوکیدار،

.27

تا (کہ) جانے کہ انہوں نے پہنچائے پیغام اپنے رب کے،

اور قابو میں رکھا ہے جو ان کے پاس ہے، اور گِن لی ہے ہر چیز کی گنتی۔

*********

.28

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Visits wef 2016

AmazingCounters.com