تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ فاتحہ

Index          Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (۱)

شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے

صحابہؓ نے اللہ کی کتاب کو اسی سے شروع کیا۔

علماء کا اتفاق ہے کہ آیت بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورۃ نمل کی ایک آیت ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ وہ ہر سورت کے شروع میں خود مستقل آیت ہے؟

یا ہر سورت کی ایک مستقل آیت ہے جو اس کے شروع میں لکھی گئی ہے اور ہر سورت کی آیت کا جزو ہےیا صرف سورۃ فاتحہ ہی کی آیت ہے اور دوسری سورتوں کی نہیں؟

صرف ایک سورت کو دوسری سورت سے علیحدہ کرنے کے لئے لکھی گئی ہے اور خود آیت نہیں ہے؟

 علماء سلف اور متأخرین کا ان آراء میں اختلاف چلا آتا ہے ان کی تفصیل اپنی جگہ پر موجود ہے۔

سنن ابو داؤد میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کی جدائی نہیں جانتے تھے جب تک آپ پر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نازل نہیں ہوتی تھی۔

یہ حدیث مستدرک حاکم میں بھی ہے ایک مرسل حدیث میں یہ روایت حضرت سعید بن جبیر سے بھی مروی ہے۔ چنانچہ صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ام سلمہ سے روایت ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بِسْمِ اللَّهِ کو سورۃ فاتحہ کے شروع میں نماز میں پڑھا اور اسے ایک آیت شمار کیا

 لیکن اس کے ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ضعیف ہیں

 اسی مفہوم کی ایک روایت حضرت ابوہریرہؓ سے بھی مروی ہے۔

حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہم، حضرت عطا، حضرت طاؤس، حضرت سعید بن جبیر، حضرت مکحول اور حضرت زہری رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ بِسْمِ اللَّهِ ہر سورت کے آغاز میں ایک مستقل آیت ہے سوائے سورۃ برأت کے۔

 ان صحابہ اور تابعین کے علاوہ حضرت عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور اسحق بن راہویہ اور ابوعبیدہ قاسم بن سلام رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

 البتہ امام مالک امام ابو حنیفہ اور ان کے ساتھی کہتے ہیں۔ کہ بِسْمِ اللَّهِ نہ تو سورۃ فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی۔

 امام شافعی کا ایک قول یہ بھی ہے کہ بِسْمِ اللَّهِ سورۃ فاتحہ کی تو ایک آیت ہے لیکن کسی اور سورۃ کی نہیں۔

 ان کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر سورت کے اول کی آیت کا حصہ ہے لیکن یہ دونوں قول غریب ہیں۔

داؤد کہتے ہیں کہ ہر سورت کے اول میں بِسْمِ اللَّهِ ایک مستقل آیت ہے سورت میں داخل نہیں۔

امام احمد بن حنبل سے بھی یہی روایت ہے ابوبکر رازی نے ابو حسن کرخی کا بھی یہی مذہب بیان کیا ہے جو امام ابو حنیفہ کے بڑے پایہ کے ساتھی تھے۔

 یہ تو تھی بحث بِسْمِ اللَّهِ کے سورۃ فاتحہ کی آیت ہونے یا نہ ہونے کی۔

صحیح مذہب یہی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن پاک میں یہ آیت شریفہ ہے وہاں مستقل آیت ہے واللہ اعلم۔ مترجم

اب اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا اسے با آواز بلند پڑھنا چاہیے یا پست آواز سے؟

 جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ کی آیت نہیں کہتے وہ تو اسے بلند آواز سے پڑھنے کے بھی قائل نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اسے سورۃ فاتحہ سے الگ ایک آیت مانتے ہیں وہ بھی اس کے پست آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں۔

 رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ ہر سورت کے اول سے ہے۔ ان میں اختلاف ہے۔

امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ سورۃ فاتحہ اور ہر سورت سے پہلے اسے اونچی آواز سے پڑھنا چاہیے۔ صحابہؓ، تابعین اور مسلمانوں کے مقدم و مؤخر اماموں کی جماعتوں کا یہی مذہب ہے

صحابؓہ میں سے اسے اونچی آواز سے پڑھنے والے حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، ابن عباس، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم ہیں۔

بیہقی، اور ابن عبدالبر نے حضرت عمر ؓاور حضرت علیؓ سے بھی روایت کیا

اور امام خطیب بغدادی نے چاروں خلیفوں سے بھی روایت کیا لیکن سند غریب بیان کی ہے۔

 تابعین میں سے حضرت سعید بن جبیر، حضرت عکرمہ حضرت ابوقلابہ، حضرت زہری، حضرت علی بن حسن ان کے لڑکے محمد، سعید بن مسیب، عطا، طاؤس، مجاہد، سالم، محمد بن کعب قرظی، عبید، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، ابو وائل ابن سیرین کے مولیٰ زید بن اسلم، عمر بن عبدالعزیز، ارزق بن قیس، حبیب بن ابی ثابت، ابو شعثا، مکحول، عبداللہ بن معقل بن مقرن اور بروایت بیہقی، عبداللہ بن صفوان، محمد بن حنفیہ اور بروایت ابن عبدالبر عمرو بن دینار رحمہم اللہ سب کے سب ان نمازوں میں جن میں قرأت اونچی آواز سے پڑھی جاتی ہے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بھی بلند آواز سے پڑھتے تھے۔

 ایک دلیل تو اس کی یہ ہے کہ جب یہ آیت سورۃ فاتحہ میں سے ہے تو پھر پوری سورت کی طرح یہ بھی اونچی آواز سے ہی پڑھنی چاہیے۔

 علاوہ ازیں سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں مروی ہے :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھائی اور قرأت میں اونچی آواز سے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بھی پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں مشابہ ہوں۔

 اس حدیث کو دار قطنی خطیب اور بیہقی نے صحیح کہا ہے۔

 ابو داؤد اور ترمذی میں ابن عباسؓ سے روایت ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے شروع کیا کرتے تھے۔

 امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ایسی زیادہ صحیح نہیں۔

مستدرک حاکم میں انہی سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کو اونچی آواز سے پڑھتے تھے۔

امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز قرأت

صحیح بخاری میں ہے:

 حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کس طرح تھی۔

فرمایا کہ ہر کھڑے لفظ کو آپ لمبا کر کے پڑھتے تھے

پھر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر سنائی بِسْمِ اللَّهِ پر مد کیا الرَّحْمَنِ پر مد کیا الرَّحِيمِ پر مد کیا۔

مسند احمد، سنن ابو داؤد، صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہر آیت پر رکتے تھے اور آپ کی قرأت الگ الگ ہوتی تھی جیسے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پھر ٹھہر کر الْحَمْدُ للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ پھر ٹھہر کر الرَّحْمَـنِ الرَّحِيمِ پھر ٹھہر کر مَـلِكِ يَوْمِ الدِّينِ

دار قطنی اسے صحیح بتاتے ہیں۔

 امام شافعی، امام حاکم نے حضرت انس سے روایت کی ہے:

 حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ میں نماز پڑھائی اور بِسْمِ اللَّهِ نہ پڑھی تو جو مہاجر اصحاب وہاں موجود تھے انہوں نے ٹوکا۔ چنانچہ پھر جب نماز پڑھانے کو کھڑے ہوئے تو بِسْمِ اللَّهِ پڑھی۔

 غالباً اتنی ہی احادیث و آثار اس مذہب کی حجت کے لئے کافی ہیں۔ باقی رہے اس کے خلاف آثار، روایات، ان کی سندیں، ان کی تعلیل، ان کا ضعف اور ان کی تقاریر وغیرہ ان کا دوسرے مقام پر ذکر اور  تفصیل ہے۔

 دوسرا مذہب یہ ہے کہ نماز میں بِسْمِ اللَّهِ کو زور سے نہ پڑھنا چاہیے۔

خلفاء اربعہ اور عبداللہ بن معقل، تابعین اور بعد والوں کی جماعتوں سے یہی ثابت ہے۔

ابو حنیفہ، ثوری، احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے۔

 امام مالک کا مذہب ہے کہ سرے سے بِسْمِ اللَّهِ پڑھے ہی نہیں نہ تو آہستہ نہ بلند کیا۔ ان کی دلیل ایک تو صحیح مسلم والی حضرت عائشہؓ کی روایت ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو تکبیر سے اور قرأت کو الْحَمْدُ للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ سے ہی شروع کیا کرتے تھے۔

بخاری و مسلم  میں ہے حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں :

میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمر ؓاور حضرت عثمانؓ کے پیچھے نماز پڑھی یہ سب الْحَمْدُ للَّهِ رَبِّ الْعَـلَمِينَ سے شروع کرتے تھے۔

مسلم میں ہے کہ بِسْمِ اللَّهِ نہیں پڑھتے تھے نہ تو قرأت کے شروع میں نہ اس قرأت کے آخر میں۔

سنن میں حضرت معقل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہی مروی ہے۔

یہ ہے دلیل ان ائمہ کے بِسْمِ اللَّهِ آہستہ پڑھنے کی۔

یہ خیال رہے کہ یہ کوئی بڑا اختلاف نہیں ہر ایک فریق دوسرے کی نماز کی صحت کا قائل ہے۔ فالحمد للہ

بِسْمِ اللَّهِ کا مطلق نہ پڑھنا تو ٹھیک نہیں۔ بلند و پست پڑھنے کی احادیث میں اس طرح تطبیق ہو سکتی ہے کہ دونوں جائز ہیں۔ گو پست پڑھنے کی احادیث قدرے زوردار ہیں واللہ اعلم۔ مترجم

بِسْمِ اللَّهِ کی فضیلت کا بیان

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے:

 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کی نسبت سوال کیا

آپ ﷺنے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بڑے ناموں اور اس میں اس قدر نزدیکی ہے جیسے آنکھ کی سیاہی اور سفیدی میں۔

 ابن مردویہ میں بھی یہی روایت کی ہے۔

 ابن مردویہ یہ بھی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی والدہ نے معلم کے پاس بٹھایا تو اس نے کہا لکھئے بِسْمِ اللَّهِ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا بِسْمِ اللَّهِ کیا ہے؟

 استاد نے جواب دیا میں نہیں جانتا۔

 آپ نے فرمایا ب سے مراد اللہ تعالیٰ کا بہا یعنی بلندی ہے اور س سے مراد اس کی سنا یعنی نور اور روشنی ہے اور  م  سے مراد اس کی مملکت یعنی بادشاہی ہے اور  اللہ  کہتے ہیں معبودوں کے معبود اور اور  رحمٰن  کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والے کو  رحیم  کہتے ہیں۔ آخرت میں کرم و رحم کرنے والے کو۔

 ابن جریر میں بھی یہی روایت ہے لیکن سند کی روسے یہ بیحد غریب ہے، ممکن ہے کسی صحابی وغیرہ سے مروی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل کی روایتوں میں سے ہو۔ مرفوع حدیث نہ ہو واللہ اعلم۔

 ابن مردویہ میں منقول ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر ایک ایسی آیت اتری ہے جو کسی اور نبی پر سوائے حضرت سلیمان علیہ السلام کے نہیں اتری۔ وہ آیت بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ہے ۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 جب یہ آیت  بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اتری بادل مشرق کی طرف چھٹ گئے۔ ہوائیں ساکن ہو گئیں۔ سمندر ٹھہر گیا جانوروں نے کان لگا لئے۔ شیاطین پر آسمان سے شعلے گرے اور پروردگار عالم نے اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس چیز پر میرا یہ نام لیا جائے گا اس میں ضرور برکت ہو گی۔

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 جہنم کے انیس داروغوں سے جو بچنا چاہے وہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھے۔ اس کے بھی انیس حروف ہیں۔ ہر حرف ہر فرشتے سے بچاؤ بن جائے گا۔

 اسے ابن عطیہ نے بیان کیا ہے اس کی تائید ایک اور حدیث بھی ہے جس میں آپ ﷺنے فرمایا :

میں نے تیس سے اوپر فرشتوں کو دیکھا کہ وہ جلدی کر رہے تھے

یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب ایک شخص نے ربنا ولک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پڑھا تھا اس میں بھی تیس سے اوپر حروف ہیں اتنے ہی فرشتے اترے اسی طرح بِسْمِ اللَّهِ میں بھی انیس حروف ہیں اور وہاں فرشتوں کی تعداد بھی انیس ہے ۔

مسند احمد میں ہے:

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے جو صحابی سوار تھے ان کا بیان ہے کہ اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا شیطان کا ستیاناس ہو،

 آپ ﷺنے فرمایا یہ نہ کہو اس سے شیطان پھولتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ گویا اس نے اپنی قوت سے گرایا۔ ہاں بِسْمِ اللَّهِ کہنے سے وہ مکھی کی طرح ذلیل و پست ہو جاتا ہے۔

نسائی نے اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں بھی اسے نقل کیا ہے اور صحابی کا نام اسامہ بن عمیر بتایا ہے اس میں یہ لکھا ہے :

بِسْمِ اللَّهِ کہہ کہ بِسْمِ اللَّهِ کی برکت سے شیطان ذلیل ہو گا۔

اسی لئے ہر کام اور ہر بات کے شروع میں بِسْمِ اللَّهِ کہہ لینا مستحب ہے۔ خطبہ کے شروع میں بھی بِسْمِ اللَّهِ کہنی چاہئے۔

حدیث میں ہے:

 جس کام کو بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سے شروع نہ کیا جائے وہ بےبرکتا ہوتا ہے۔ پاخانہ میں جانے کے وقت بِسْمِ اللَّهِ پڑھ لے۔

حدیث میں یہ بھی ہے کہ وضو کے وقت بھی پڑھ لے۔

مسند احمد اور سنن میں ابو ہریرہ، سعید بن زید اور ابوسعید رضی اللہ عنہم سے مروی ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  جو شخص وضو میں اللہ کا نام نہ لے اس کا وضو نہیں ہوتا۔  

 یہ حدیث حسن ہے

 بعض علماء تو وضو کے وقت آغاز میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھنا واجب بتاتے ہیں۔ بعض مطلق وجوب کے قائل ہیں۔

جانور کو ذبح کرتے وقت بھی اس کا پڑھنا مستحب ہے۔

 امام شافعی اور ایک جماعت کا یہی خیال ہے۔

بعض نے یاد آنے کے وقت اور بعض نے مطلقاً اسے واجب کہا ہے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔

 امام رازی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی فضیلت میں بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔

 ایک میں ہے:

جب تو اپنی بیوی کے پاس جائے اور بِسْمِ اللَّهِ پڑھ لے اور اللہ کوئی اولاد بخشے تو اس کے اپنے اور اس کی اولاد کے سانسوں کی گنتی کے برابر تیرے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھی جائیں گی  

لیکن یہ روایت بالکل بے اصل ہے، میں نے تو یہ کہیں کسی معتبر کتاب میں نہیں پائی۔

 کھاتے وقت بھی بِسْمِ اللَّهِ پڑھنی مستحب ہے۔

صحیح مسلم میں ہے :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابو سلمہ سے فرمایا (جو آپ کی پرورش میں حضرت ام المؤمنین ام سلمہ کے اگلے خاوند سے تھے) کہ بِسْمِ اللَّهِ کہو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور اپنے سامنے سے نوالہ اٹھایا کرو۔   

بعض علماء اس وقت بھی بِسْمِ اللَّهِ کا کہنا واجب بتلاتے ہیں۔ بیوی سے ملنے کے وقت بھی بِسْمِ اللَّهِ پڑھنی چاہئے۔

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ملنے کا ارادہ کرے تو یہ پڑھے:

بِسْمِ اللهِ اللَهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا

اے اللہ ہمیں اور جو ہمیں تو دے اسے شیطان سے بچا 

فرماتے ہیں کہ اگر اس جماع سے حمل ٹھہر جائے تو اس بچےکو شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا

یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بِسْمِ اللَّهِ کی  ب  کا تعلق کس سے ہے

 نحویوں کے اس میں دو قول ہیں اور دونوں ہی تقریباً ہم خیال ہیں۔

 بعض اسم کہتے ہیں اور بعض فعل، ہر ایک کی دلیل قرآن سے ملتی ہے جو لوگ اسم کے ساتھ متعلق بتاتے ہیں وہ تو کہتے ہیں کہ بِسْمِ اللَّهِ ابتدائی یعنی اللہ کے نام سے میری ابتداء ہے۔

 قرآن میں ہے:

ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا (۱۱:۴۱)

 اس میں اسم یعنی مصدر ظاہر کر دیا گیا ہے اور جو لوگ فعل مقدر بتاتے ہیں چاہے وہ امر ہو یا خبر۔ جیسے کہ ابدا بسم اللہ اور ابتدات بسم اللہ ان کی دلیل آیت اقرا باسم دراصل دونوں ہی صحیح ہیں، اس لئے کہ فعل کے لئے بھی مصدر کا ہونا ضروری ہے تو اختیار ہے کہ فعل کو مقدر مانا جائے اور اس کے مصدر کو مطابق اس فعل کے جس کا نام پہلے لیا گیا ہے۔

کھڑا ہونا، بیٹھنا ہو، کھانا ہو، پینا ہو، قرآن کا پڑھنا ہو، وضو اور نماز وغیرہ ہو ان سب کے شروع میں برکت حاصل کرنے کے لئے امداد چاہنے کے لئے اور قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا نام لینا مشروع ہے واللہ اعلم۔

 ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں روایت ہے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 جب سب سے پہلے جبرائیل علیہ السلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر آئے تو فرمایا اے محمد کہئے:

 استعیذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم

 پھر کہا کہئے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

مقصود یہ تھا کہ اٹھنا، بیٹھنا، پڑھنا سب اللہ کے نام سے شروع ہو۔  

اسم یعنی نام ہی مسمیٰ یعنی نام والا ہے یا کچھ اور ا

س میں اہل علم کے تین قول ہیں ایک تو یہ کہ اسم ہی مسمی ٰہے۔

ابوعبیدہ کا اور سیبویہ کا بھی یہی قول ہے۔ باقلانی اور ابن نور کی رائے بھی یہی ہے۔

 ابن خطیب رازی اپنی تفسیر کے مقدمات میں لکھتے ہیں:

 حشویہ اور کرامیہ اور اشعریہ تو کہتے ہیں اسم نفس مسمیٰ ہے اور نفس تسمیہ کا غیر ہے اور معتزلہ کہتے ہیں کہ اسم مسمیٰ کا غیر ہے اور نفس تسمیہ ہے۔ہمارے نزدیک اسم مسمیٰ کا بھی غیر ہے اور تسمیہ کا بھی۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر اسم سے مراد لفظ ہے جو آوازوں کے ٹکڑوں اور حروف کا مجموعہ ہے تو بالبداہت ثابت ہے کہ یہ مسمیٰ کا غیر ہے اور اگر اسم سے مراد ذات مسمیٰ ہے تو یہ وضاحت کو ظاہر کرتا ہے جو محض بیکار ہے۔ ثابت ہوا کہ اس بیکار بحث میں پڑنا ہی فضول ہے۔

 اس کے بعد جو لوگ اسم اور مسمیٰ کے فرق پر اپنے دلائل لائے ہیں ان کا کہنا ہے محض اسم ہوتا ہے مسمیٰ ہوتا ہی نہیں جیسے معدوم کا لفظ۔ کبھی ایک مسمیٰ کے کئی اسم ہوتے ہیں جیسے مشترک۔

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اور چیز ہے اور مسمیٰ اور چیز ہے یعنی نام الگ ہے۔ اور نام والا الگ ہے۔

 اور دلیل سنئے کہتے ہیں اسم تو لفظ ہے دوسرا عرض ہے۔ مسمیٰ کبھی ممکن یا واجب ذات ہوتی ہے۔

 اور سنئے اگر اسم ہی کو مسمیٰ مانا جائے تو چاہئے کہ آگ کا نام لیتے ہی حرارت محسوس ہو اور برف کا نام لیتے ہی ٹھنڈک۔ جبکہ کوئی عقلمند اس کی تصدیق نہیں کرتا۔

 اور دلیل سنئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَللَّهِ الأَسْمَآءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (۷:۱۸۰)

اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو

 یعنی اللہ کے بہت سے بہترین نام ہیں، تم ان ناموں سے اسے پکارو۔

 حدیث شریف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں تو خیال کیجئے کہ نام کس قدر بکثرت ہیں حالانکہ مسمیٰ ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ ہے

 اسی طرح اسماء کو اللہ کی طرف اس آیت میں مضاف کرنا، اور جگہ فرمانا فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ (۵۶:۷۴)  یہ اضافت بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ اسم اور ہو اور مسمیٰ اور کیونکہ اضافت کا مقتضا مغائرت ہے۔

 اسی طرح یہ فَادْعُوهُ بِهَا یعنی اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں کے ساتھ پکارو۔

یہ بھی اس امر کی دلیل ہے کہ نام اور ہے نام والا اور ۔

 اب ان کے دلائل بھی سنئے جو اسم اور مسمیٰ کو ایک ہی بتاتے ہے۔ تو نام برکتوں والا فرمایا حالانکہ خود اللہ تعالیٰ برکتوں والا ہے۔

 اس کا آسان جواب یہ ہے کہ اس مقدس ذات کی وجہ سے اس کا نام بھی عظمتوں والا ہے۔

 ان کی دوسری دلیل یہ ہے کہ جب کوئی شخص کہے کہ زینت پر طلاق ہے تو طلاق اس کی بیوی جس کا نام زینت ہے ہو جاتی ہے۔

 اگر نام اور نام والے میں فرق ہوتا تو نام پر طلاق پڑتی، نام والے پر کیسے پڑتی؟

 اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ اس ذات پر طلاق ہے جس کا نام زینت ہے۔

تسمیہ کا اسم سے الگ ہونا اس دلیل کی بنا پر ہے کہ تسمیہ کہتے ہیں کسی کا نام مقرر کرنے کو اور ظاہر ہے یہ اور چیز ہے اور نام والا اور چیز ہے۔

رازی کا قول یہی ہے کہ یہ سب کچھ تو لفظ  باسم  کے متعلق تھا اب لفظ  اللہ  کے متعلق سنئے۔

 اللہ خاص نام ہے رب تبارک وتعالیٰ کا۔ کہا جاتا ہے کہ اسم اعظم یہی ہے اس لئے کہ تمام عمدہ صفتوں کے ساتھ ہی موصوف ہوتا ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ہے:

هُوَ اللَّهُ الَّذِى لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ هُوَ الرَّحْمَـنُ الرَّحِيمُ ـ هُوَ اللَّهُ الَّذِى لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَـمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَـنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ  ـ هُوَ اللَّهُ الْخَـلِقُ الْبَارِىءُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الاٌّسْمَآءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۵۹:۲۲،۲۴)

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں چھپے کھلے کا جاننے والا مہربان اور رحم کرنے والا۔‏ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف،امن دینے والا، نگہبان، غالب زورآور، اور بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جنہیں یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔‏ وہی ہے اللہ پیدا کرنے والا وجود بخشنے والا صورت بنانے والا، اسی کے لئے نہایت اچھے نام ہیں ۔ ہرچیز خواہ وہ آسمانوں میں ہو خواہ زمین میں ہو اس کی پاکی بیان کرتی ہے ۔ اور وہی غالب حکمت والا ہے ۔‏

ان آیتوں میں تمام نام صفاتی ہیں، اور لفظ اللہ ہی کی صفت ہیں یعنی اصلی نام اللہ ہے۔

 دوسری جگہ فرمایا :

وَللَّهِ الأَسْمَآءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا (۷:۱۸۰)

 اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو

اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام (صفاتی) نام خود تجویز فرمائے ہیں پس تم اس کو ان ہی ناموں سے پکارو۔

 اور فرماتا ہے:

قُلِ ادْعُواْ اللَّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الاٌّسْمَآءَ الْحُسْنَى (۱۷:۱۱۰)

کہہ دیجئے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں

 بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ ایک کم ایک سو جو انہیں یاد کر لے جنتی ہے۔

 ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں ان ناموں کی تفصیل بھی آئی ہے اور دونوں کی روایتوں میں الفاظ کی کچھ تبدیلی کچھ کمی زیادتی بھی ہے۔

رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے روایت کی ہے:

 اللہ تعالیٰ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ ایک ہزار تو قرآن شریف اور صحیح حدیث میں ہیں اور ایک ہزار توراۃ میں اور ایک ہزار انجیل میں اور ایک ہزار زبور میں اور ایک ہزار لوح محفوظ میں

 اللہ کے مترادف المعنی کوئی نام نہیں!

 اللہ ہی وہ نام ہے جو سوائے اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی اور کا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک عرب کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا اشتقاق کیا ہے اس کا باب کیا ہے بلکہ ایک بہت بڑی نحویوں کی جماعت کا خیال ہے کہ یہ اسم جامد ہے اور اس کا کوئی اشتقاق ہے ہی نہیں۔

قرطبی نے علماء کرام کی ایک بڑی جماعت کا یہی مذہب نقل کیا ہے جن میں حضرت امام شافعی امام خطابی امام الحرمین امام غزالی بھی شامل ہیں۔

خلیل اور سیبویہ سے روایت ہے کہ الف لام اس میں لازم ہے۔

 امام خطابی نے اس کی ایک دلیل یہ دی ہے کہ یا اللہ ا تو کہہ سکتے ہیں  مگر یاا لرحمٰن کہتے کسی کو نہیں سنا ۔ اگر لفظ اللہ میں اصل کلمہ کا نہ ہوتا تو اس پر ندا کا لفظ یا داخل نہ ہو سکتا کیونکہ قواعد عربی کے لحاظ سے حرف ہذا کا الف لام والے اسم میں داخل ہونا جائز نہیں۔

بعض لوگوں کا یہ قول بھی ہے کہ یہ مشتق ہے اور اس پر روبہ بن لجاج کا ایک شعر دلیل لاتے ہیں جس میں مصدر تَالَہ، کا بیان ہے جس کا ماضی مضارع اَلَہَ یأَلَہ، اَلھتہ اور تالھا ہے جیسے کہ ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ ویذرک الھتک پڑھتے تھے مراد اس سے عبادت ہے۔ یعنی اس کی عبادت کی جاتی ہے اور وہ کسی کی عبادت نہیں کرتا۔

مجاہد کہتے ہیں بعض نے اس پر اس آیت سے دلیل پکڑی ہے:

وَهُوَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ (۶:۳)

اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی

اور آیت میں ہے:

وَهُوَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ إِلَـٰهٌ وَفِي الْأَرْضِ إِلَـٰهٌ (۴۳:۸۴)

وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے

وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ وہی ہے جو آسمان میں معبود ہے اور زمین میں معبود ہے۔

 سیبویہ خلیل سے نقل کرتے ہیں :

 اصل میں یہ الٰہ تھا جیسے فعال پھر ہمزہ کے بدلے الف و لام لایا گیا جیسے الناس کہ اس کی اصل  اناس  ہے۔

بعض نے کہا ہے کہ اس لفظ کی اصل الاہ ہے الف لام حرف تعظیم کے طور پر لایا گیا ہے۔ سیبویہ کا بھی پسندیدہ قول یہی ہے۔ عرب شاعروں کے شعروں میں بھی یہ لفظ ملتا ہے۔

 کسائی اور فرا کہتے ہیں کہ اس کی اصل الالہ تھی ہمزہ کو حذف کیا اور پہلے لام کو دوسرے میں ادغام کیا جیسے کہ آیت لَّـٰكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي (۱۸:۳۸) میں لکن انا کا لَّـٰكِنَّا ہوا ہے۔ چنانچہ حسن کی قرأت میں لکن انا ہی ہے اور اس کا اشتقاق ولہ سے ہے اور اس کے معنی تحیر ہیں ولہ عقل کے چلے جانے کو کہتے ہیں۔ چونکہ ذات باری تعالیٰ میں اور اس کی صفتوں کی تحقیق میں عقل حیران و پریشان ہو جاتی ہے اس لئے اس پاک ذات کو اللہ کہا جاتا ہے۔

 اس بناء پر اصل میں یہ لفظ ولاہ تھا۔ واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا گیا جیسے کہ وشاح اور وسادۃ میں اشاح اور اسادہ کہتے ہیں۔

 رازی کہتے ہیں کہ یہ لفظ الھت الی فلان سے مشتق ہے جو کہ معنی میں  سکنت  کے ہے۔ یعنی میں نے فلاں سے سکون اور راحت حاصل کی۔ چونکہ عقل کا سکون صرف ذات باری تعالیٰ کے ذکر سے ہے اور روح کی حقیقی خوشی اس کی معرفت میں ہے اس لئے کہ علی الاطلاق کامل وہی ہے، اس کے سوا اور کوئی نہیں اسی وجہ سے اللہ کہا جاتا ہے۔

 قرآن مجید میں ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (۱۳:۲۸)

ایمانداروں کے دل صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی اطمینان حاصل کرتے ہیں۔

 ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ لاہ یلوہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی چھپ جانے اور حجاب کرنے کے ہیں

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ الہ الفصیل سے ہے چونکہ بندے اسی کی طرف تضرع اور زاری سے جھکتے ہیں اسی کے دامن رحمت کا پلہ ہر حال میں تھامتے ہیں، اس لئے اسے اللہ کہا گیا

 ایک قول یہ بھی ہے کہ عرب الہ الرجل یالہ اس وقت کہتے ہیں جب کسی اچانک امر سے کوئی گھبرا اٹھے اور دوسرا اسے پناہ دے اور بچا لے چونکہ تمام مخلوق کو ہر مصیبت سے نجات دینے والا اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے، اس لئے اس کو اللہ کہتے ہیں۔

 جیسے کہ قرآن کریم میں ہے:

وَهُوَ يُجِيرُ  وَلَا يُجَارُ عَلَيۡهِ (۲۳:۸۸)

جو پناہ دیتا ہے اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا

حقیقی منعم وہی ہے فرماتا ہے تمہارے پاس جنتی نعمتیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں، وہی مطعم ہے

 فرمایا ہے وہ کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا۔

وہی موجد ہے فرماتا ہے ہرچیز کا وجود اللہ کی طرف سے ہے۔

 رازی کا مختار مذہب یہی ہے کہ لفظ اللہ مشتق نہیں ہے۔

خلیل، سیبویہ اکثر اصولیوں اور فقہا کا یہی قول ہے، اس کی بہت سی دلیلیں بھی ہیں اگر یہ مشتق ہوتا تو اس کے معنی میں بہت سے افراد کی شرکت ہوتی حالانکہ ایسا نہیں پھر اس لفظ کو موصوف بنایا جاتا ہے اور بہت سی اس کی صفتیں آتی ہیں جیسے رحمٰن، رحیم، مالک، قدوس وغیرہ تو معلوم ہوا کہ یہ مشتق نہیں۔

 قرآن میں ایک جگہ آیت ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ   ٱللَّهِ ٱلَّذِى لَهُ ۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِ‌ (۱۴:۱،۲) جو آتا ہے وہاں یہ عطف بیان ہے۔

 ایک دلیل ہے اس کے مشتق نہ ہونے کی یہ بھی ہے آیت هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا (۱۹:۶۵)  کیا اس کا ہم نام بھی کوئی جانتے ہو؟ لیکن یہ غور طلب ہے واللہ اعلم۔

 بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ عبرانی ہے لیکن رازی نے اس قول کو ضعیف کہا ہے اور فی الواقع ضعیف ہے بھی۔

رازی فرماتے ہیں کہ  مخلوق کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو معرفت الہٰی کے کنارے پر پہنچ گئے دوسرے وہ جو اس سے محروم ہیں جو حیرت کے اندھیروں میں اور جہالت کی پرخار وادیوں میں پڑے ہیں وہ تو عقل کو رو بیٹھے اور روحانی کمالات کو کھو بیٹھے ہیں لیکن جو ساحل معرفت پر پہنچ چکے ہیں جو نورانیت کے وسیع باغوں میں جا ٹھہرے جو کبریائی اور جلال کی وسعت کا اندازہ کر چکے ہیں وہ بھی یہاں تک پہنچ کر حیران و ششد رہ گئے ہیں۔ غرض ساری مخلوق اس کی پوری معرفت سے عاجز اور سرگشتہ و یران ہے۔  

 ان معانی کی بناء پر اس پاک ذات کا نام اللہ ہے۔ ساری مخلوق اس کی محتاج، اس کے سامنے جھکنے والی اور اس کی تلاش کرنے والی ہے۔ اس حقیقت کی وجہ سے اسے اللہ کہتے ہیں۔ جیسے کہ خلیل کا قول ہے عرب کے محاورے میں ہر اونچی اور بلند چیز کو  لاہ  کہتے ہیں۔ سورج جب طلوع ہوتا ہے تب بھی وہ کہتے ہیں لاھت الشمس چونکہ پروردگار عالم بھی سب سے بلند و بالا ہے اس کو بھی اللہ کہتے ہیں۔

 اور الہٰ کے معنی عبادت کرنے اور تالٰہ کے معنی حکم برداری اور قربانی کے ہیں اور رب عالم کی عبادت کی جاتی ہے اور اس کے نام پر قربانیاں کی جاتی ہیں اس لئے اسے اللہ کہتے ہیں۔

 ابن عباسؓ کی قرأت میں ہے ویذرک والھتک اس کی اصل الالہ ہے پس صرف کلمہ کی جگہ جو ہمزہ ہے وہ حذف کیا گیا۔ پھر نفس کلمہ کالام زائد لام سے جو تعریف کے لئے لایا گیا ہے ملا دیا گیا پھر ایک کو دوسرے میں مدغم کر دیا تو ایک لازم مشدد رہ گیا اور تعظیماً اللہ کہا گیا۔

یہ تو تفسیر لفظ  اللہ  کی تھی۔

الرَّحْمـنِ الرَّحِيم کے معنی

یہ دونوں نام رحمت سے مشتق ہیں۔ دونوں میں مبالغہ ہے الرَّحْمـنِ میں الرَّحِيم سے زیادہ مبالغہ ہے۔

 علامہ ابن جریر کے قول سے معلوم ہوتا ہے وہ بھی ان معنوں سے متفق ہیں گویا اس پر اتفاق ہے۔

 بعض سلف کی تفسیروں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے ان معنوں پر مبنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول بھی پہلے گزر چکا ہے کہ الرَّحْمـنِ سے مراد دنیا اور آخرت میں رحم کرنے والا اور الرَّحِيم سے مراد آخرت میں رحم کرنے والا ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ الرَّحْمـنِ مشتق نہیں ہے اگر یہ اس طرح ہوتا تو مرحوم کے ساتھ ملتا۔ حالانکہ قرآن میں بالمؤمنین رحیما آیا ہے۔ مبرد کہتے ہیں الرَّحْمـنِ عبرانی نام ہے عربی نہیں۔

 ابو اسحاق زجاج معانی القرآن میں کہتے ہیں کہ احمد بن یحییٰ کا قول ہے کہ رَحِيم عربی لفظ ہے اور رَحْمـٰن عبرانی ہے دونوں کو جمع کر دیا گیا ہے۔ لیکن ابواسحق فرماتے ہیں  اس قول کو دل نہیں مانتا۔  

 قرطبی فرماتے ہیں  اس لفظ کے مشتق ہونے کی یہ دلیل ہے کہ ترمذی کی صحیح حدیث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں رحمٰن ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اپنے نام میں سے ہی اس کا نام مشتق کیا۔ اس کے ملانے والے کو میں ملاؤں گا اور اس کے توڑنے والے کو کاٹ دوں گا۔  

 اس صریح حدیث کے ہوتے ہوئے مخالفت اور انکار کرنے کی گوئی گنجائش نہیں۔ رہا کفار عرب کا اس نام سے انکار کرنا یہ محض ان کی جہالت کا ایک کرشمہ تھا۔

 قرطبی کہتے ہیں کہ الرَّحْمـٰن اور رَحِيم کے ایک ہی معنی ہیں اور جیسے ندمان اور ندیم۔  

 ابوعبید کا بھی یہی خیال ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ فعلان فعیل کی طرح نہیں۔ فعلان میں مبالغہ ضروری ہوتا ہے جیسے غضبان اسی شخص کو کہہ سکتے ہیں۔ جو بہت ہی غصہ والا ہو اور فعیل صرف فاعل اور صرف مفعول کے لئے بھی آتا ہے۔ جو مبالغہ سے خالی ہوتا ہے۔

 ابوعلی فارسی کہتے ہیں کہ الرَّحْمـن عام اسم ہے جو ہر قسم کی رحمتوں کو شامل ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ رَحِيم باعتبار مؤمنوں کے ہے فرمایا ہے آیت وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (۲۵:۷۰) مؤمنون کے ساتھ رحیم ہے۔  

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں  یہ دونوں رحمت و رحم والے ہیں، ایک میں دوسرے سے زیادہ رحمت و رحم ہے۔   

حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت میں لفظ ارق ہے اس کے معنی خطابی وغیرہ ارفق کرتے ہیں جیسے کہ حدیث میں ہے:

اللہ تعالیٰ رفیق یعنی شفیق اور مہربانی والا ہے وہ ہر کام میں نرمی اور آسانی کو پسند کرتا ہے وہ دوسروں پر نرمی اور آسانی کرنے والے پر وہ نعمتیں مرحمت فرماتا ہے جو سختی کرنے والے پر عطا نہیں فرماتا۔  

 ابن المبارک فرماتے ہیں  الرَّحْمـٰن اسے کہتے ہیں کہ جب اس سے جو مانگاجائے عطا فرمائے اور رَحِيم وہ ہے کہ جب اس سے نہ مانگا جائے وہ غضبناک ہو۔  

 ترمذی کی حدیث میں ہے:

جو شخص اللہ تعالیٰ سے نہ مانگے اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔   

بعض شاعروں کا قول ہے۔

اللہ یغضب ان ترکت سوالہ      وبنی ادم حین یسال یغضب

یعنی اللہ تعالیٰ سے نہ مانگو تو وہ ناراض ہوتا ہے اور بنی آدم سے مانگو تو وہ بگڑتے ہیں۔

عزرمی فرماتے ہیں کہ رَحْمـٰن کے معنی تمام مخلوق پر رحم کرنے والا اور رَحِيم کے معنی مؤمنوں پر رحم کرنے والا ہے۔ دیکھئے قرآن کریم کی دو آیتوں آیت ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ (۷:۵۴)  اور الرَّحْمَـٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ (۲۰:۵) میں اسْتَوَى کے ساتھ رَحْمـٰن کا لفظ ذکر کیا تاکہ تمام مخلوق کو یہ لفظ اپنے عام رحم و کرم کے معنی سے شامل ہو سکے اور مؤمنوں کے ذکر کے ساتھ لفظ رَحِيم فرمایا آیت وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (۲۵:۷۰)  پس معلوم ہوا کہ رَحْمـٰن میں مبالغہ بہ نسبت رَحِيم کے بہت زیادہ ہے۔

لیکن حدیث کی ایک دعا میں یا رحمٰن الدنیا والاخرۃ ورحیمھما بھی آیا ہے۔

 رَحْمـٰنیہ نام بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کا نام نہیں۔

 جیسے کہ فرمان :

ادْعُواْ اللَّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الاٌّسْمَآءَ الْحُسْنَى (۱۷:۱۱۰)

اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں

 ایک اور آیت میں ہے:

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَـٰنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ (۴۳:۴۵)

ان سے پوچھ لو تجھ سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے تھے کیا انہوں نے رحمٰن کے سوا کسی کو معبود کہا تھا کہ ان کی عبادت کی جائے

جب مسیلمہ، کذاب نے بڑھ چڑھ کر دعوے شروع کئے اور اپنا نام رحمٰن العیامہ رکھا تو پروردگار نے اسے بے انتہا رسوا اور برباد کیا، وہ جھوٹ اور کذب کی علامت مشہور ہو گیا۔ آج اسے مسیلمہ کذاب کہا جاتا ہے اور ہر جھوٹے دعویدار کو اس کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ ہر دیہاتی اور شہری ہر کچے پکے گھر والا اسے بخوبی جانتا ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ رَحِيم میں رَحْمـٰن سے زیادہ مبالغہ ہے اس لئے کہ اس لفظ کے ساتھ اگلے لفظ کی تاکید کی گئی ہے اور تاکید بہ نسبت اس کے کہ جس کی تاکید جائے زیادہ قوی ہوتی ہے۔

 اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تاکید ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو صفت ہے اور صفت میں یہ قاعدہ نہیں۔

پس اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا اس نام میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں، سب سے پہلے اس کی صفت رحمٰن بیان کی گئی اور یہ نام رکھنا بھی دوسروں کو ممنوع ہے جیسے فرما دیا کہ اللہ کو یا رحمٰن کو پکارو جس نام سے چاہو پکارو اس کے لئے اسماء حسنیٰ بہت سارے ہیں۔

 مسیلمہ نے بدترین جرأت کی لیکن برباد ہوا اور اس کے گمراہ ساتھیوں کے سوا اس کی کسی کے دل میں نہ آئی۔

 

رَحِيم کے وصف کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو بھی موصوف کیا ہے۔ فرماتا ہے:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (۹:۱۲۸)

تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں

اس آیت میں اپنے نبی کو رَحِيم کہا، اسی طرح اپنے بعض ایسے ناموں سے دوسروں کو بھی اس نے وابستہ کیا ہے۔ جیسے:

إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (۷۶:۲)

بیشک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لئے  پیدا کیا اور اس کو سنتا دیکھتا بنایا

اس  میں انسان کو سمیع اور بصیر کہا ہے۔

حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض نام تو ایسے ہیں کہ دوسروں پر بھی ہم معنی ہونے کا اطلاق ہو سکتا ہے اور بعض ایسے ہیں کہ نہیں ہو سکتا جیسے اللہ اور رحمٰن، خالق اور رزاق وغیرہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا نام اللہ پھر اس کی صفت رحمٰن سے کی۔ اس لئے کہ رحیم کی نسبت یہ زیادہ خاص ہے اور زیادہ مشہور ہے۔ قاعدہ ہے کہ اول سب سے زیادہ بزرگ نام لیا جاتا ہے، اس لئے سب سے پہلے سب سے زیادہ خاص نام لیا گیا پھر اس سے کم۔ پھر اس سے کم۔

 اگر کہا جائے کہ جب رَحْمـٰن میں رَحِيم سے زیادہ مبالغہ موجود ہے پھر اسی پر اکتفا کیوں نہ کیا گیا؟ تو اس کے جواب میں حضرت عطا خراسانی کا یہ قول پیش کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ کافروں نے رَحْمـٰن کا نام بھی غیروں کا رکھ لیا تھا اس لئے رَحِيم کا لفظ بھی ساتھ لگایا گیا تاکہ کسی قسم کا وہم ہی نہ رہے۔

 رَحْمـٰن و رَحِيم صرف اللہ تعالیٰ ہی کا نام ہے۔

 ابن جریر نے تاہم اس قول کی تصدیق کی ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے کے عرب رَحْمـٰن سے واقف ہی نہ تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیت قُل ادْعُواْ اللَّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ (۱۷:۱۱۰)  نازل فرما کر ان کی تردید کی۔

حدیبیہ والے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا تھا کہ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھو تو کفار نے کہا تھا کہ ہم الرَّحْمَنِ اور الرَّحِيمِ کو نہیں جانتے۔

بخاری میں یہ روایت موجود ہے۔

بعض روایتوں میں ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم رحمٰن یمامہ کو جانتے ہیں کسی اور رحمٰن کو نہیں جانتے۔

 اسی طرح قرآن پاک میں ہے:

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَـٰنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَـٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا  (۲۵:۶۰)

ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو جواب دیتے ہیں رحمٰن ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیغ) نے ان کی نفرت میں مزید اضافہ کر دیا

 درحقیقت یہ بدکار لوگ صرف عناد، تکبر، سرکشی اور دشمنی کی بنا پر رحمٰن سے انکار کرتے تھے نہ کہ وہ اس نام سے نا آشنا تھے۔ اس لئے کہ جاہلیت کے زمانے کے پرانے اشعار میں بھی اللہ تعالیٰ کا نام رحمٰن موجود ہے جو انہی کے سلامہ اور دوسرے شعراء کے اشعار میں ملاحظہ ہو۔

تفسیر ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہ رحمٰن فعلان کے وزن پر رحمت سے ماخوذ ہے اور کلام عرب سے ہے۔

 وہ اللہ رفیق اور رقیق ہے جس پر رحم کرنا چاہے اور جس سے غصے ہو اس سے بہت دور اور اس پر بہت سخت گیر بھی ہے اسی طرح اس کے تمام نام ہیں۔

 حسن فرماتے ہیں رحمٰن کا نام دوسروں کے لئے منع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ کا نام ہے لوگ اس نام پر کوئی حق نہیں رکھتے۔

 ام سلمہ والی حدیث جس میں کہ ہر آیت پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرا کرتے تھے۔ پہلے گزر چکی ہے اور ایک جماعت اسی طرح بسم اللہ کو آیت قرار دے کر آیت الحمد کو الگ پڑھتی ہے اور بعض ملا کر پڑھتے ہیں۔ میم کو دو ساکن جمع ہو جانے کی وجہ سے زیر دیتے ہیں۔ جمہور کا بھی یہی قول ہے

 کوفی کہتے ہیں کہ بعض عرب میم کے زیر سے پڑھتے ہیں، ہمزہ کی حرکت زبر میم کو دیتے ہیں۔ جیسے آیت الم اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ (۳:۱،۲)

ابن عطیہ کہتے ہیں کہ زبر کی قرأت کسی سے بھی میرے خیال میں مروی نہیں۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (۲)

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے

ساتوں قاری الحمد کو دال پر پیش سے پڑھتے ہیں اور الْحَمْدُ لِلَّهِ کو مبتدا خبر مانتے ہیں۔

سفیان بن عینیہ اور روبہ بن عجاج کا قول ہے کہ دال پر زبر کے ساتھ ہے اور فعل یہاں مقدر ہے۔

 ابن ابی عبلہ الحمد کی دال کو اور اللہ کے پہلے لام دونوں کو پیش کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس لام کو پہلے کے تابع کرتے ہیں اگرچہ اس کی شہادت عربی زبان میں ملتی ہے مگر اس کی شہادت زبان عرب سے شاذ ہے۔

حسن اور زید بن علی ان دونوں حرفوں کو زیر سے پڑھتے ہیں اور لام کے تابع دال کو کرتے ہیں۔

 ابن جریر فرماتے ہیں  :

الْحَمْدُ لِلَّهِ کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اس کے سوا کوئی اس کے لائق نہیں، خواہ وہ مخلوق میں سے کوئی بھی ہو اس وجہ سے کہ تمام نعمتیں جنہیں ہم گن بھی نہیں سکتے، اس مالک کے سوا اور کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اسی کی طرف سے ہیں۔ اسی نے اپنی اطاعت کرنے کے تمام اساب ہمیں عطا فرمائے۔ اسی نے اپنے فرائض پورے کرنے کے لئے تمام جسمانی نعمتیں ہمیں بخشیں۔ پھر بیشمار دنیاوی نعمتیں اور زندگی کی تمام ضروریات ہمارے کسی حق بغیر ہمیں بن مانگے بخشیں۔ اس کی لازوال نعمتیں، اس کے تیار کردہ پاکیزہ مقام جنت کو ہم کس طرح حاصل کرسکتے ہیں؟ یہ بھی اس نے ہمیں سکھا دیا پس ہم تو کہتے ہیں کہ اول آخر اسی مالک کی پاک ذات ہر طرح کی تعریف اور حمد و شکر کے شائق ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ یہ ثناء کا کلمہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ثناء خود آپ کی ہے اور اسی ضمن میں یہ فرما دیا ہے کہ تم کہو الْحَمْدُ لِلَّهِ ۔   

بعض نے کہا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کہنا اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں سے اس کی ثناء کرنا ہے۔ اور الشکرللہ کہنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

 لیکن یہ قول ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ عربی زبان کو جاننے والے علماء کا اتفاق ہے کہ شکر کی جگہ حمد کا لفظ اور حمد کی جگہ شکر کا لفظ بولتے ہیں۔

جعفر صادق، ابن عطا صوفی بھی یہی فرماتے ہیں۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ہر شکر کرنے والے کا کلمہ الْحَمْدُ لِلَّهِ ہے۔

 قرطبی نے ابن جریر کے قول کو معتبر کرنے کے لئے یہ دلیل بھی بیان کی ہے کہ اگر کوئی الْحَمْدُ لِلَّهِ شُکرَاً کہے تو جائز ہے۔

 دراصل علامہ ابن جریر کے اس دعویٰ میں اختلاف ہے، پچھلے علماء میں مشہور ہے کہ حمد کہتے ہیں زبانی تعریف بیان کرنے کو خواہ جس کی حمد کی جاتی ہو اس کی لازم صفتوں پر ہو یا متعدی صفتوں پر اور شکر صرف متعدی صفتوں پر ہوتا ہے اور وہ دل زبان اور جملہ ارکان سے ہوتا ہے۔

عرب شاعروں کے اشعار بھی اس پر دلیل ہیں، ہاں اس میں اختلاف ہے کہ حمد کا لفظ عام ہے یا شکر کا اور صحیح بات یہ ہے کہ اس میں عموم اس حیثیت سے خصوص ہے کہ حمد کا لفظ جس پر واقع ہو وہ عام طور پر شکر کے معنوں میں آتا ہے۔ اس لئے کہ وہ لازم اور متعدی دونوں اوصاف پر آتا ہے شہ سواری اور کرم دونوں پر حمد تہ کہہ سکتے ہیں لیکن اس حیثیت سے وہ صرف زبان سے ادا ہو سکتا ہے یہ لفظ خاص اور شکر کا لفظ عام ہے کیونکہ وہ قول، فعل اور نیت تینوں پر بولا جاتا ہے اور صرف متعدی صفتوں پر بولے جانے کے اعتبار سے شکر کا لفظ خاص ہے۔

 شہ سواری کے حصول پر شکرتہ نہیں کہہ سکتے البتہ شکرتہ علی کرمہ واحسانہ الیٰ کہہ سکتے ہیں۔

یہ تھا خلاصہ متآخرین کے قول کا ماحصل واللہ اعلم۔

 ابونصر اسماعیل بن حماد جوہری کہتے ہیں  حمد مقابل ہے  ذم  کے۔ لہذا یوں کہتے ہیں کہ حمدت الرجل احمدہ حمداو و محمدۃ فھو حمید و محمود

 تحمید میں حمد سے زیادہ مبالغہ ہے۔ حمد شکر سے عام ہے۔ کسی محسن کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کی ثنا ءکرنے کو شکر کہتے ہیں۔ عربی زبان میں شکرتہ اور شکرت لہ دونوں طرح کہتے ہیں لیکن لام کے ساتھ کہنا زیادہ فصیح ہے۔

مدح کا لفظ حمد سے بھی زیادہ عام ہے اس لئے کہ زندہ مردہ بلکہ جمادات پر بھی مدح کا لفظ بول سکتے ہیں۔ کھانے اور مکان کی اور ایسی اور چیزوں کی بھی مدح کی جاتی ہے احسان سے پہلے، احسان کے بعد، لازم صفتوں پر، متعدی صفتوں پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تو اس کا عام ہونا ثابت ہوا واللہ اعلم۔

حمد کی تفسیر اقوال سلف سے

حضرت عمرؓنے ایک مرتبہ فرمایا کہ سبحان اللہ اور لا الہ الا اللہ اور بعض روایتوں میں ہے کہ اللہ اکبر کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ الحمد للہ کا کیا مطلب؟

 حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ اس کلمہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے پسند فرما لیا ہے

 اور بعض روایتوں میں ہے کہ اس کا کہنا اللہ کو بھلا لگتا ہے۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 یہ کلمہ شکر ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میرا شکر کیا۔

اس کلمہ میں شکر کے علاوہ اس کی نعمتوں، ہدایتوں اور احسان وغیرہ کا اقرار بھی ہے۔

 کعب احبار کا قول ہے کہ یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کی ثناء ہے۔

 ضحاک کہتے ہیں یہ اللہ کی چادر ہے۔

 ایک حدیث میں بھی ایسا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جب تم الحمد للہ رب العلمین کہہ لو گے تو تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کر لو گے اب اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا

 اسود بن سریع ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ میں نے ذات باری تعالیٰ کی حمد میں چند اشعار کہے ہیں اگر اجازت ہو تو سناؤں

فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی حمد بہت پسند ہے۔ (مسند احمد و نسائی)

ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے اور افضل دعا الحمد للہ ہے۔

 امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں۔

 ابن ماجہ کی ایک حدیث ہے:

 جس بندے کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت دی اور وہ اس پر الحمد للہ کہے تو دی ہوئی نعمت لے لی ہوئی سے افضل ہو گی۔

 فرماتے ہیں اگر میری اُمت میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا دے دے اور وہ الحمد للہ کہے تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل ہو گا۔

 قرطبی فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا دے دینا اتنی بڑی نعمت نہیں٠ جتنی الحمد للہ کہنے کی توفیق دینا ہے اس لئے کہ دنیا تو فانی ہے اور اس کلمہ کا ثواب باقی ہی باقی ہے۔

 جیسے کہ قرآن پاک میں ہے:

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا (۱۸:۴۶)

مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور (آئندہ کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں۔‏

  ابن ماجہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ایک شخص نے ایک مرتبہ کہا یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک وعظیم سلطانک تو فرشتے گھبرا گئے کہ ہم اس کا کتنا اجر لکھیں۔ آخر اللہ تعالیٰ سے انہوں نے عرض کی کہ تیرے ایک بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے اسے کس طرح لکھیں،

پروردگار نے باوجود جاننے کے ان سے پوچھا کہ اس نے کیا کہا ہے؟

 انہوں نے بیان کیا کہ اس نے یہ کلمہ کہا ہے، فرمایا تم یونہی اسے لکھ لو میں آپ اسے اپنی ملاقات کے وقت اس کا اجر دے دوں گا۔

 قرطبی ایک جماعت علماء سے نقل کرتے ہیں:

 لا الہ الا اللہ سے بھی الحمد للہ رب العلمین افضل ہے کیونکہ اس میں توحید اور حمد دونوں ہیں۔

اور علماء کا خیال ہے کہ لا الہ الا اللہ افضل ہے اس لئے کہ ایمان و کفر میں یہی فرق کرتا ہے، اس کے کہلوانے کے لئے کفار سے لڑائیاں کی جاتی ہیں۔ جیسے کہ صحیح بخاری مسلم حدیث میں ہے

 ایک اور مرفوع حدیث میں ہے:

 جو کچھ میں نے اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کرام نے کہا ہے ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔

حضرت جابر کی ایک مرفوع حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ افضل ذکر لا الہ الہ اللہ ہے اور افضل دعا الحمد للہ ہے۔

 ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے،

 الحمد میں الف لام استغراق کا ہے یعنی حمد کی تمام تر قسمیں سب کی سب صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ثابت ہیں۔ جیسے کہ حدیث میں ہے:

 باری تعالیٰ تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں اور تمام ملک ہے۔ تیرے ہی ہاتھ تمام بھلائیاں ہیں اور تمام کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں۔

رب کہتے ہیں مالک اور متصرف کو لغت میں اس کا اطلاق سردار اور اصلاح کے لئے تبدیلیاں کرنے والے پر بھی ہوتا ہے اور ان سب معانی کے اعتبار سے ذات باری تعالیٰ کے لئے یہ خوب جچتا ہے۔

 رب کا لفظ بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے پر نہیں کہا جا سکتا ہاں اضافت کے ساتھ ہو تو اور بات ہے جیسے رب الدار یعنی گھر والا وغیرہ۔ بعض کا تو قول ہے کہ اسم اعظم یہی ہے۔

عالمین سے مراد

عالمین جمع ہے عالم کی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق کو عالم کہتے ہیں۔

 لفظ عالم بھی جمع ہے اور اس کا واحد لفظ ہے ہی نہیں۔ آسمان کی مخلوق خشکی اور تری کی مخلوقات کو بھی عوالم یعنی کئی عالم کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک ایک زمانے، ایک ایک وقت کو بھی عالم کہا جاتا ہے۔

 ابن عباسؓ سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے:

 اس سے مراد کل مخلوق ہے خواہ آسمانوں کی ہو یا زمینوں کی یا ان کے درمیان کی، خواہ ہمیں اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ علی ہذا القیاس۔

 اس سے جنات اور انسان بھی مراد لئے گئے ہیں۔

سعید بن جیر مجاہد اور ابن جریح سے بھی یہ مروی ہے۔

حضرت علیؓ سے بھی غیر معتبر سند سے یہی منقول ہے

 اس قول کی دلیل قرآن کی یہ آیت بھی ہے:

لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا (۲۵:۱)

وہ تمام لوگوں کے لئے آگاہ کرنے والا بن جائے۔‏

وہ عالمین یعنی جن اور انس کے لئے ڈرانے والا ہو جائے۔

 فرا اور ابوعبید کا قول ہے کہ سمجھدار کو عالم کہا جاتا ہے۔ لہذا انسان، جنات، فرشتے، شیاطین کو عالم کہا جائے گا۔ جانوروں کو نہیں کہا جائے گا۔

زید بن اسلم، ابو محیص فرماتے ہیں کہ ہر روح والی چیز کو عالم کہا جاتا ہے۔

قتادہ کہتے ہیں۔ ہر قسم کو ایک عالم کہتے ہیں

 ابن مروان بن حکم عرف جعد جن کا لقب حمار تھا جو بنوامیہ میں سے اپنے زمانے کے خلیفہ تھے کہتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ نے سترہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں۔ آسمانوں والے ایک عالم ، زمینوں والے سب ایک عالم اور باقی کو اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کو ان کا علم نہیں۔

ابوالعالیہ فرماتے ہیں:

 انسان کل ایک عالم ہیں، سارے جنات کا ایک عالم ہے اور ان کے سوا اٹھارہ ہزار یا چودہ ہزار عالم اور ہیں۔ فرشتے زمین پر ہیں اور زمین کے چار کونے ہیں، ہر کونے میں ساڑھے تین ہزار عالم ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔

یہ قول بالکل غریب ہے اور ایسی باتیں جب تک کسی صحیح دلیل سے ثابت نہ ہوں ماننے کے قابل نہیں ہوتیں۔

 جمیری کہتے ہیں:

 ایک ہزار اُمتیں ہیں، چھ سو تری میں اور چار سو خشکی میں۔

سعید بن مسیب سے یہ بھی مروی ہے۔

 ایک ضعیف روایت میں ہے:

 حضرت عمر ؓفاروق کی خلافت کے زمانے میں ایک سال ٹڈیاں نہ نظر آئیں تلاش کرنے کے باوجود پتہ نہ چلا۔ آپ غمگین ہوگئے یمن، شام اور عراق کی طرف سوار دوڑائے کہ کہیں بھی ٹڈیاں نظر آتی ہیں یا نہیں تو یمن والے سوار تھوڑی سی ٹڈیاں لے کر آئے اور امیرالمؤمنین کے سامنے پیش کیں آپ نے انہیں دیکھ کر تکبیر کہی اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے :

اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار اُمتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور چار سو خشکی میں ان میں سے سب سے پہلے جو اُمت ہلاک ہو گی وہ ٹڈیاں ہوں گی بس ان کی ہلاکت کے بعد پے درپے اور سب اُمتیں ہلاک ہوجائیں گی جس طرح کہ تسبیح کا دھاگا ٹوٹ جائے اور ایک کے بعد ایک سب موتی جھڑ جاتے ہیں۔

 اس حدیث کے راوی محمد بن عیسیٰ ہلالی ضعیف ہیں۔

 سعید بن میب رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے۔

 وہب بن منبہ فرماتے ہیں:

 اٹھارہ ہزار عالم ہیں، دنیا کی ساری کی ساری مخلوق ان میں سے ایک عالم ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں چالیس ہزار عالم ہیں ساری دنیا ان میں سے ایک عالم ہے۔

زجاج کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا آخرت میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ سب عالم ہے۔

 قرطبی کہتے ہیں کہ یہ قول صحیح ہے اس لئے کہ یہ تمام عالمین پر مشتمل لفظ ہے۔

جیسے فرعون کے اس سوال کے جواب میں رب العالمین کون ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا :

رَبُّ السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ (۲۶:۲۴)

آسمانوں زمینوں اور دونوں کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کا رب۔

عالم کا لفظ علامت سے مشتق ہے اس لئے کہ عالم یعنی مخلوق اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے پر نشان اور اس کی وحدانیت پر علامت ہے جیسے کہ ابن معتز شاعر کا قول ہے۔

فیا عجبا کیف یعصی الا لہ       ام کیف یجحدہ الجاحد

وفی کل شی لہ ایتہ      تدل علی انہ واحد

تعجب ہے کس طرح اللہ کی نافرمانی کی جاتی ہے اور کس طرح اس سے انکار کیا جاتا ہے حالانکہ ہر چیز میں نشانی ہے جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے

الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (۳)

بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ۔‏

اس کی تفسیر پہلے پوری گزر چکی ہے اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔

قرطبی فرماتے ہیں رَبِّ الْعَـلَمِينَ کے وصف کے بعد الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کا وصف ترہیب یعنی ڈراوے کے بعد ترغیب یعنی امید ہے۔

 جیسے فرمایا :

نَبِّىءْ عِبَادِى أَنِّى أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ  ـ وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ الْعَذَابُ الاٌّلِيمُ (۱۵:۴۹،۵۰)

میرے بندوں کو خبر دو کہ میں ہی بخشنے والا مہربان ہوں اور میرے عذاب بھی دردناک عذاب ہیں۔

 اور فرمایا :

إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (۶:۱۶۵)

تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور مہربان اور بخشش بھی کرنے والا ہے۔

 رَب کے لفظ میں ڈراوا ہے اور الرَّحْمَن اور الرَّحِيمِکے لفظ میں امید ہے۔

صحیح مسلم شریف میں بروایت حضرت ابوہریرہؓ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اگر ایماندار اللہ کے غضب و غصہ سے اور اس کے سخت عذاب سے پورا وقف ہوتا تو اس کے دل سے جنت کی طمع ہٹ جاتی اور اگر کافر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی رحمتوں کو پوری طرح جان لیتا تو کبھی ناامید نہ ہوتا۔

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ(۴)

بدلے کے دن (یعنی قیامت کا) مالک ہے ‏

بعض قاریوں نے مَلِكِ پڑھا ہے اور باقی سب نے مَالِكِ اور دونوں قرأت یں صحیح اور متواتر ہیں اور سات قرأتوں میں سے ہیں

 اور مالک نے لام کے زیر اور اس کے سکون کے ساتھ۔ اور مَلِیکَ اور مَلِکِی بھی پڑھا گیا ہے

 پہلے کی دونوں قرأتیں معانی کی رو ترجیح ہیں اور دونوں صحیح ہیں اور اچھی بھی۔

زمخشری نے مَلِكِ کو ترجیح دی ہے اس لئے کہ حرمین والوں کی یہ قرأت ہے۔ اور قرآن میں بھی لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ (۴۰:۱۶) اور قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ (۶:۷۳) ہے۔

 امام ابو حنیفہ سے بھی حکایت بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے مَلِكِ پڑھا اس بنا پر کہ فعل اور فاعل اور مفعول آتا ہے لیکن یہ شاذ اور بیحد غریب ہے۔

ابوبکر بن داؤد نے اس بارے میں ایک غریب روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تینوں خلفاءؓ اور حضرت معاویہؓ اور ان کے لڑکے مَالِكِ پڑھتے تھے۔

ابن شہاب کہتے ہیں کہ سب سے پہلے مروان نے مَلِكِ پڑھا۔

میں کہتا ہوں مروان کو اپنی اس قرأت کی صحت کا علم تھا۔ راوی حدیث ابن شہاب کو علم نہ تھا واللہ اعلم۔

 ابن مردویہ نے کئی سندوں سے بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مَالِكِ پڑھتے تھے۔

 مَالِكِ کا لفظ ملک سے ماخوذ ہے جیسے کہ قرآن میں ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ (۱۹:۴۰)

زمین اور اس کے اوپر کی تمام مخلوق کے مالک ہم ہی ہیں اور ہماری ہی طرف سب لوٹا کر لائے جائیں گے۔

 اور فرمایا:

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ـ مَلِكِ النَّاسِ (۱۱۴:۱،۲)

کہہ کہ میں پناہ پکڑتا ہوں لوگوں کے رب اور لوگوں کے مالک کی۔

 اور ملک کا لفظ ملک سے ماخوذ ہے جیسے فرمایا :

لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰:۱۶)

آج ملک کس کا ہے صرف اللہ واحد غلبہ والے کا۔

 اور فرمایا :

قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ (۶:۷۳)

اسی کا فرمان ہے اور اسی کا سب ملک ہے۔

 اور فرمایا  :

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا (۲۵:۲۶)

اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہوگا‏

اس فرمان میں قیامت کے دن ساتھ ملکیت کی تخصیص کرنے سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لئے کہ پہلے اپنا وصف رب العالمین ہونا بیان کر چکا ہے دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں۔ قیامت کے دن کے ساتھ اس کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس دن تو کوئی ملکیت کا دعویدار بھی نہ ہو گا۔ بلکہ بغیر اس حقیقی مالک کی اجازت کے زبان تک نہ ہلا سکے گا۔

 جیسے فرمایا :

يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا (۷۸:۳۸)

جس دن روح القدس اور فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور کوئی کلام نہ کر سکے گا۔ یہاں تک کہ رحمٰن اسے اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے گا۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:

وَخَشَعَتِ الأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَـنِ فَلاَ تَسْمَعُ إِلاَّ هَمْساً (۲۰:۱۰۸)

سب آوازیں رحمٰن کے سامنے پست ہوں گی اور گنگناہٹ کے سوا کچھ نہ سنائی دے گا

 اور فرمایا:

يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّ وَسَعِيدٌ (۱۱:۱۰۵)

جب قیامت آئے گی اس دن بغیر اللہ تبارک و تعالیٰ کی اجازت کے کوئی شخص نہ بول سکے گا۔ بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض سعادت مند۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں

 اس دن اس کی بادشاہت میں اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہوگا جیسے کہ دنیا میں مجازاً تھے۔

 يَوْمِ الدِّينِ سے مراد مخلوق کے حساب کا یعنی قیامت کا دن ہے جس دن تمام بھلے برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا ہاں اگر رب کسی برائی سے درگزر کر لے یا اس کا اختیاری امر ہے۔

 صحابہ تابعین اور سلف صالحین سے بھی یہی مروی ہے۔

 بعض سے یہ بھی منقول ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرنے پر قادر ہے۔

 ابن جریر نے اس قول کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن بظاہر ان دونوں اقوال میں کوئی تضاد نہیں، ہر ایک قول کا قائل دوسرے کے قول کی تصدیق کرتا ہے ہاں پہلا قول مطلب پر زیادہ دلالت کرتا ہے۔

جیسے کہ فرمان ہے:

الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ (۲۵:۲۶)

اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہوگا

اور دوسرا قول اس آیت کے مشابہ ہے جیسا کہ فرمایا :

وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ (۶:۷۳)

جس دن کہے گا  ہو جا  بس اسی وقت  ہو جائے گا

 حقیقی بادشاہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے فرمایا :

هُوَ اللَّهُ الَّذِى لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَـمُ (۵۹:۲۳)

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سب عیبوں سے صاف

صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

بدترین نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں۔  

 ایک اور حدیث میں ہے :

اللہ تعالیٰ زمین کو قبضہ میں لے لے گا اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ کہاں ہیں تکبر والے۔   

قرآن عظیم میں ہے:

لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَحِدِ الْقَهَّارِ (۴۰:۱۶)

کس کی ہے آج بادشاہی؟ فقط اللہ اکیلے غلبہ والے کی

اور کسی کو ملك کہہ دینا یہ صرف مجازاً ہے

جیسے کہ قرآن میں طالوت کو ملک کہا گیا :

إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا (۲:۲۴۷)

اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے

اور جیسے کہ اس  آیت میں مَّلِكٌ  کا لفظ آیا ہے:

وَكَانَ وَرَآءَهُم مَّلِكٌ (۱۸:۷۹)

کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا

اور بخاری مسلم میں ملوک کا لفظ آیا ہے

 اور قرآن کی آیت میں:

إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَآءَ وَجَعَلَكُمْ مُّلُوكاً (۵:۲۰)

اس نے تم سے پیغمبر بنائے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا

 دین کے معنی بدلے جزا اور حساب کے ہیں۔

 جیسے قرآن پاک میں ہے:

يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ (۲۴:۲۵)

اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دیگا

اور جگہ ہے:

أَءِنَّا لَمَدِينُونَ (۳۷:۵۳)

کیا ہم کو بدلہ دیا جائے گا؟

حدیث میں ہے:

دانا وہ ہے جو اپنے نفس سے خود حساب لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال کرے۔  

 جیسے کہ حضرت عمر فاروق اعظم کا قول ہے :

تم خود اپنی جانوں سے حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور اپنے اعمال کو خود وزن کر لو اس سے پہلے کہ وہ ترازو میں رکھے جائیں اور اس بڑی پیشی کے لئے تیار ہو جاؤ جب تم اس اللہ کے سامنے پیش کئے جاؤ گے جس سے تمہارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں جیسے خود رب عالم نے فرما دیا:

يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ (۶۹:۱۶)

جس دن تم پیش کئے جاؤ گے کوئی چھپی ڈھکی بات چھپے گی نہیں۔

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (۵)

ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں ۔‏

ساتوں قاریوں اور جمہور نے اسے  إِيَّاكَ پڑھا ہے۔

عمرو بن فائد نے إِيَاكَ پڑھا ہے۔ لیکن یہ قرأت شاذ اور مردود ہے۔ اس لئے کہ  إِيَا کے معنی سورج کی روشنی کے ہیں

 اور بعض نے ھیاک پڑھا ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں بھی ھیاک ہے۔

نَسْتَعِينُ کی یہی قرأت تمام کی ہے۔ سوائے یحییٰ بن وہاب اور اعمش کے۔ یہ دونوں پہلے نون کو زیر سے پڑھتے ہیں۔قبیلہ بنو اسد، ربیعہ بنت تمیم کی لغت اسی طرح پر ہے۔

لغت میں عبادت کہتے ہیں ذلت اور پستی کو۔

 طریق معبد اس راستے کو کہتے ہیں جو ذلیل ہو۔ اسی طرح بغیر معبد اس اونٹ کو کہتے ہیں جو بہت دبا اور جھکا ہوا ہو اور شریعت میں عبادت نام ہے محبت، خشوع، خضوع اور خوف کے مجموعے کا۔

لفظ إِيَّاكَ کو جو مفعول ہے پہلے لائے اور پھر اسی کو دہرایا تاکہ اس کی اہمیت ہو جائے اور عبادت اور طلب مدد اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہو جائے تو اس جملہ کے معنی یہ ہوئے کہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور نہ کریں گے اور تیرے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے اور نہ کریں گے۔ کامل اطاعت اور پورے دین کا حل صرف یہی دو حیزیں ہیں۔

 بعض سلف کا فرمان ہے کہ سارے قرآن کا راز سورۃ فاتحہ میں ہے اور پوری سورت کا راز اس إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں ہے۔

آیت کے پہلے حصہ میں شرک سے بیزاری کا اعلان ہے اور دوسرے جملہ میں اپنی طاقتوں اور قوتوں کے کمال کا انکار ہے اور اللہ عزوجل کی طرف اپنے تمام کاموں کی سپردگی ہے۔

 اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں قرآن پاک میں موجود ہیں۔ جیسے فرمایا :

فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَـفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (۱۱:۱۲۳)

پس تجھے اس کی عبادت کرنی چاہیے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بےخبر نہیں۔‏

فرمایا :

قُلْ هُوَ الرَّحْمَـنُ ءَامَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا (۶۷:۲۹)

آپ کہہ دیجئے کہ وہی رحمٰن ہے۔ ہم تو اس پر ایمان لاچکے اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے

وہی رحمان ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور اسی پر ہم نے توکل کیا

فرمایا :

رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلاً (۷۳:۹)

مشرق و مغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنا لے۔‏

یہی مضمون اس آیۃ کریمہ میں ہے

 اس سے پہلے کی آیات میں تو خطاب نہ تھا لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا گیا ہے جو نہایت لطافت اور مناسبت رکھتا ہے اس لئے کہ جب بندے نے اللہ تعالیٰ کی صفت و ثنا بیان کی تو قرب الہٰی میں حاضر ہو گیا اللہ جل جلالہ کے حضور میں پہنچ گیا، اب اس مالک کو خطاب کر کے اپنی ذلت اور مسکینی کا اظہار کرنے لگا اور کہنے لگا کہ  الٰہ  ہم تو تیرے ذلیل غلام ہیں اور اپنے تمام کاموں میں تیرے ہی محتاج ہیں۔

 اس آیت میں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اس سے پہلے کے تمام جملوں میں خبر تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین صفات پر اپنی ثناء آپ کی تھی اور بندوں کو اپنی  ثناء  انہی الفاظ کے ساتھ بیان کرنے کا ارشاد فرمایا تھا

اسی لئے اس شخص کی نماز صحیح نہیں جو اس سورت کو پڑھنا جانتا ہو اور پھر نہ پڑھے۔ جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اس شخص کی نماز نہیں جو نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔

صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان (نصف نصف) بانٹ لیا ہے اس کا آدھا حصہ میرا ہے اور آدھا حصہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔

جب بندہ الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔

 جب کہتا ہے الرَّحْمـنِ الرَّحِيم اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری ثناء کی۔

 جب وہ کہتا ہے مَـالِكِ يَوْمِ الدِّينِ اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔

جب وہ ۳۲۱۴۴۴۴۴۴۴ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ مانگے۔

پھر وہ اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيم صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّين پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرا بندہ جو مجھ سے مانگے اس کے لئے ہے۔

 حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے معنی یہ ہیں کہ اے ہمارے رب ہم خاص تیری ہی توحید مانتے ہیں اور تجھ سے ڈرتے ہیں اور تیری اسی ذات سے امید رکھتے ہیں تیرے سوا کسی اور کی نہ ہم عبادت کریں، نہ ڈریں، نہ امید رکھیں۔

 اور إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے یہ مراد ہے کہ ہم تیری تمام اطاعت اور اپنے تمام کاموں میں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

 قتادہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا حکم ہے کہ تم سب اسی کی خالص عبادت کرو اور اپنے تمام کاموں میں اسی سے مدد مانگو

إِيَّاكَ نَعْبُدُ کو پہلے لانا اس لئے ہے کہ اصل مقصود اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی ہے اور مدد کرنا یہ عبادت کا وسیلہ اور اہتمام اور اس پر پختگی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ زیادہ اہمیت والی چیز کو مقدم کیا جاتا ہے اور اس سے کمتر کو اس کے بعد لایا جاتا ہے۔ واللہ اعلم۔

 اگر یہ کہا جائے کہ یہاں جمع کے صیغہ کو لانے کی یعنی ہم کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر یہ جمع کے لئے ہے تو کہنے والا تو ایک ہے اور اگر تعظیم کے لئے ہے تو اس مقام پر نہایت نامناسب ہے کیونکہ یہاں تو مسکینی اور عاجزی ظاہر کرنا مقصود ہے

 اس کا جواب یہ ہے کہ گویا ایک بندہ تمام بندوں کی طرف سے خبر دے رہا ہے۔ بالخصوص جبکہ وہ جماعت میں کھڑا ہو یا امام بنا ہوا ہو۔ پس گویا وہ اپنی اور اور اپنے سب مؤمن بھائیوں کی طرف سے اقرار کر رہا ہے کہ وہ سب اس کے بندے ہیں اور اسی کی عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور یہ ان کی طرف سے بھلائی کے لئے آگے بڑھا ہوا ہے

 بعض نے کہا ہے کہ یہ تعظیم کے لئے ہے گویا کہ بندہ جب عبادت میں داخل ہوتا ہے تو اسی کو کہا جاتا ہے کہ تو شریف ہے اور تیری عزت ہمارے دربار میں بہت زیادہ ہے تو اب إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہا یعنی اپنے تئیں عزت سے یاد کر۔ ہاں اگر عبادت سے الگ ہو تو اس وقت ہم نہ کہے چاہے ہزاروں لاکھوں میں ہو کیونکہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے محتاج اور اس کے دربار کے فقیر ہیں۔

بعض کا قول ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں جو تواضع اور عاجزی ہے وہ ایاک عبدنا میں نہیں اس لئے کہ اس میں اپنے نفس کی بڑائی اور اپنی عبادت کی اہلیت پائی جاتی ہے حالانکہ کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی پوری عبادت اور جیسی چاہے ویسی ثنا و صفت بیان کرنے پر قدرت ہی نہیں رکھتا۔

 کسی شاعر کا قول ہے :

مجھے اس کا غلام کہہ کر ہی پکارو کیونکہ میرا سب سے اچھا نام یہی ہے

 اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد یعنی غلام ان ہی جگہوں پر لیا جہاں اپنی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کیا جیسے قرآن نازل کرنا، نماز میں کھڑے ہونا، معراج کرانا وغیرہ۔

فرمایا :

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَـبَ (۱۸:۱)

تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا

فرمایا :

وَأَنَّهُ لَّمَا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ (۷۲:۱۹)

اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے کھڑا ہوا

فرمایا :

سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى  (۱۷:۱)

پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا

ساتھ ہی قرآن پاک نے یہ تعلیم دی کہ اے نبی جس وقت تمہارا دل مخالفین کے جھٹلانے کی وجہ سے تنگ ہو تو تم میری عبادت میں مشغول ہو جاؤ۔

 فرمان ہے:

وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ـ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السَّـجِدِينَ ـ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (۱۵:۹۷،۹۹)

 ہمیں خوب علم ہے کہ ان باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔‏ آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہوجائیں۔‏ اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے ۔

رازی نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے نقل کیا ہے:

 عبودیت کا مقام رسالت کے مقام سے افضل ہے کیونکہ عبادت کا تعلق مخلوق سے خالق کی طرف ہوتا اور رسالت کا تعلق حق سے خلق کی طرف ہوتا ہے اور اس دلیل سے بھی کہ عبد کی کل اصلاح کے کاموں کا متولی خود اللہ تبارک و تعالیٰ ہوتا ہے اور رسول اپنی امت کی مصلحتوں کا والی ہوتا ہے

لیکن یہ قول غلط ہے اور اس کی یہ دونوں دلیلیں بھی بودی اور لاحاصل ہیں۔ افسوس رازی نے نہ تو اس کو ضعیف کہا نہ اسے رد کیا۔

بعض صوفیوں کا قول ہے کہ عبادت یا تو ثواب حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے یا عذاب دفع کرنے کے لئے۔ وہ کہتے ہیں یہ کوئی فائدے کی بات نہیں اس لئے کہ اس وقت مقصود خود اپنی مراد کا حاصل کرنا ٹھہرا۔ اس کی تکالیف کے لئے آمادگی کرنا

یہ بھی ضعیف ہے۔

اعلیٰ مرتبہ عبادت یہ ہے کہ انسان اس مقدس ذات کی جو تمام کامل صفتوں سے موصوف ہے محض اس کی ذات کے لئے عبادت کرے اور مقصود کچھ نہ ہو۔ اسی لئے نمازی کی نیت نماز پڑھنے کی ہوتی ہے اگر وہ ثواب پانے اور عذاب سے بچنے کے لئے ہو تو باطل ہے۔

 دوسرا گروہ ان کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ عبادت کا اللہ تعالیٰ کے لئے ہونا کچھ اس کے خلاف نہیں کہ ثواب کی طلب اور عذاب کا بچاؤ مطلوب نہ ہو

 اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک اعرابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ تو آپ جیسا پڑھنا جانتا ہوں نہ حضرت معاذ جیسا میں تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے نجات چاہتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کے قریب قریب ہم بھی پڑھتے ہیں۔

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (۶)

ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا ۔‏

جمہور نے صِرَاطَ پڑھا ہے۔ بعض نے سِرَاطَ کہا ہے اور زے کی بھی ایک قرأت ہے۔ فرا ءکہتے ہیں بنی عذرہ اور بنی کلب کی قرأت یہی ہے

چونکہ پہلے ثناء و صفت بیان کی تو اب مناسب تھا کہ اپنی حاجت طلب کرے۔

 جیسے کہ پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ اس کا آدھا حصہ میرے لئے ہے اور آدھا میرے بندے کے لئے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو وہ طلب کرے۔

 خیال کیجئے کہ اس میں کس قدر لطافت اور عمدگی ہے کہ پہلے پروردگار عالم کی تعریف و توصیف کی، پھر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حاجت طلب کی۔ یہ وہ لطیف انداز ہے جو مقصود کو حاصل کرنے اور مراد کو پا لینے کے لئے تیر بہدف ہے، اس کامل طریقہ کو پسند فرما کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی ہدایت کی۔

 کبھی سوال اس طرح ہوتا ہے کہ سائل اپنی حالت اور حاجت کو ظاہر کر دیتا ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا :

رَبِّ إِنِّى لِمَآ أَنزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ(۲۸:۲۴)

اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں

حضرت یونس علیہ السلام نے بھی اپنی دعا میں کہا :

لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ أَنتَ سُبْحَـنَكَ إِنِّى كُنتُ مِنَ الظَّـلِمِينَ (۲۱:۸۷)

الہٰی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہوگیا

کبھی سوال اس طرح بھی ہوتا ہے کہ سائل صرف تعریف اور بزرگی بیان کر کے چپ ہو جاتا ہے جیسے کسی شاعر کا قول ہے :

مجھے اپنی حاجت کے بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تیری مہربانیوں بھری بخشش مجھے کافی ہے

میں جانتا ہوں کہ داد و دہش تیری پاک عادتوں میں داخل ہے لیکن تیری پاکیزگی بیان کر دینا، تیری حمد و ثنا کرنا ہی مجھے اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے کافی ہے۔

ہدایت کے معنی یہاں پر ارشاد اور توفیق کے ہیں۔ کبھی تو ہدایت بنفسہ متعدی ہوتی ہے جیسے یہاں ہے تو معنی الھمنا وفقنا ارزقنا اور اعطنا یعنی ہمیں عطا فرمائے ہوں گے

اور جگہ ہے:

وَهَدَيْنَـهُ النَّجْدَينِ (۹۰:۱۰)

ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے

 اور کبھی ہدایت  الیٰ  کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے فرمایا :

اجْتَبَـهُ وَهَدَاهُ إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ (۱۶:۱۲۱)

اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی

اور فرمایا :

فَاهْدُوهُمْ إِلَى صِرَطِ الْجَحِيمِ (۳۷:۲۳)

(ان سب کو) جمع کرکے انہیں دوزخ کی راہ دکھا دو

یہاں  ہدایت  ارشاد اور دلالت کے معنی میں ہے۔

 اسی طرح فرمان ہے:

وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ (۴۲:۵۲)

بیشک آپ راہ راست کی رہنمائی کر رہے ہیں

اور کبھی ہدایت لام کے ساتھ متعدی ہوتی ہے جیسے جنتیوں کا قول قرآن کریم میں ہے :

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدَانَا لِهَـذَا (۷:۴۳)

اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی

 یعنی توفیق دی اور ہدایت والا بنایا۔

 صراط مستقیم کے معنی سنئے۔

 امام ابو جعفرؒ ابن جریرؒ فرماتے ہیں مراد اس سے واضح اور صاف راستہ ہے جو کہیں سے ٹیڑھا نہ ہو۔

عرب کی لغت میں اور شاعروں کے شعر میں یہ معنی صاف طور پر پائے جاتے ہیں اور اس پر بیشمار شواہد موجود ہیں۔ صراط کا استعمال بطور استعارہ کے قول اور فعل پر بھی آتا ہے اور پھر اس کا وصف استقامت اور ٹیڑھا پن کے ساتھ بھی آتا ہے۔

 سلف اور متاخرین مفسرین سے اس کی بہت سی تفسیریں منقول ہیں اور ان سب کا خلاصہ ایک ہی ہے اور وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور تابعداری ہے۔

صراط مستقیم کیا ہے؟

ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ صراط مستقیم کتاب اللہ ہے۔

 ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بھی روایت کی ہے

 فضائل قرآن کے بارے میں پہلے حدیث گزر چکی ہے :

 اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی، حکمتوں والا ذکر اور سیدھی راہ یعنی صراط مستقیم یہی اللہ کی کتاب قرآن کریم ہے۔مسند احمد ترمذی

حضرت علیؓ کا قول بھی یہی ہے اور مرفوع حدیث کا بھی موقوف ہونا ہی زیادہ مشابہ ہے واللہ اعلم۔

حضرت عبداللہ سے بھی یہی روایت ہے

 ابن عباسؓ کا قول ہے :

جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آیت اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيم کہئے یعنی ہمیں ہدایت والے راستہ کا الہام کر اور اس دین قیم کی سمجھ دے جس میں کوئی کجی نہیں۔

 آپ سے یہ قول بھی مروی ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے۔

 ابن عباسؓ، ابن مسعودؓ اور بہت سے صحابہؓ سے بھی یہی تفسیر منقول ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں الصِّرَاطَ المُستَقِيم سے مراد اسلام ہے جو ہر اس چیز سے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے زیادہ وسعت والا ہے۔

ابن حنفیہ فرماتے ہیں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جس کے سوا اور دین مقبول نہیں۔

عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم کا قول ہے کہ صراط مستقیم اسلام ہے۔

 مسند احمد کی ایک حدیث میں بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان کی کہ صراط مستقیم کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں، ان میں کئی ایک کھلے ہوئے دروازے اور دروازوں پر پردے لٹک رہے ہیں، صراط مستقیم کے دروازے پر ایک پکارنے والا مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے لوگو! تم سب کے سب اسی سیدھی راہ پر چلے جاؤ، ٹیڑھی ترچھی ادھر ادھر کی راہوں کو نہ دیکھو نہ ان پر جاؤ۔

 اور اس راستے سے گزرنے والا کوئی شخص جب ان دروازوں میں سے کسی ایک کو کھولنا چاہتا ہے تو ایک پکارنے والا کہتا ہے خبردار اسے نہ کھولنا۔ اگر کھولا تو اس راہ لگ جاؤ گے اور صراط مستقیم سے ہٹ جاؤ گے۔

پس صراط مستقیم تو اسلام ہے اور دیواریں اللہ کی حدیں ہیں اور کھلے ہوئے دروازے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں اور دروازے پر پکارنے والا قرآن کریم ہے اور راستے کے اوپر سے پکار نے والا زندہ ضمیر ہے جو ہر ایماندار کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور واعظ کے ہوتا ہے۔

 یہ حدیث ابن ابی حاتم ابن جریر ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور اس کی اسناد حسن صحیح ہیں واللہ اعلم۔

مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد حق ہے۔ ان کا قول سب سے زیادہ مقبول ہے اور مذکورہ اقوال کا کوئی مخالف نہیں۔

ابوالعالیہ فرماتے ہیں اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے آپ کے دونوں خلیفہ ہیں۔

 ابوالعالیہ اس قول کی تصدیق اور تحسین کرتے ہیں دراصل یہ سب اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دونوں خلفاء صدیق و فاروق کا تابعدار حق کا تابع ہے اور حق کا تابع اسلام کا تابع ہے اور اسلام کا تابع قرآن کا مطیع ہے اور قرآن اللہ کی کتاب اس کی طرف کی مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے۔

لہذا صراط مستقیم کی تفسیر میں یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ فالحمد للہ۔

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں صراط مستقیم وہ ہے جس پر ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑا۔

امام ابوجعفر بن جریر رحمۃ اللہ علیہ کا فیصلہ ہے:

 میرے نزدیک اس آیت کی تفسیر میں سب سے اولیٰ یہ ہے کہ ہم کو توفیق دی جائے اس کی جو اللہ کی مرضی کی ہو اور جس پر چلنے کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں سے راضی ہوا ہو اور ان پر انعام کیا ہو، صراط مستقیم یہی ہے۔ اس لئے کہ جس شخص کو اس کی توفیق مل جائے جس کی توفیق اللہ کے نیک بندوں کو تھی جن پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہوا تھا جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ تھے انہوں نے اسلام کی اور رسولوں کی تصدیق کی، کتاب اللہ کو مضبوط تھام رکھا، اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے۔ اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے چاروں خلیفوں اور تمام نیک بندوں کی راہ کی توفیق مل جائے گی تو یہی صراط مستقیم ہے۔

 اگر یہ کہا جائے کہ مؤمن کو تو اللہ کی طرف سے ہدایت حاصل ہو چکی ہے پھر نماز اور غیر نماز میں ہدایت مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟

 تو اس کا جواب یہ ہے کہ مراد اس سے ہدایت پر ثابت قدمی اور رسوخ اور بینائی اور ہمیشہ کی طلب ہے اس لئے کہ بندہ ہر ساعت اور ہر حالت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا محتاج ہے وہ خود اپنی جان کے نفع نقصان کا مالک نہیں بلکہ دن رات اپنے اللہ کا محتاج ہے اسی لئے اسے سکھایا کہ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرتا رہے اور ثابت قدمی اور توفیق چاہتا رہے۔

 بھلا اور نیک بخث انسان وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے در کا بھکاری بنا لے وہ اللہ ہر پکارنے والے کی پکار کے قبول کرنے کا کفیل ہے۔ بالخصوص بےقرار محتاج اور اس کے سامنے اپنی حاجت دن رات پیش کرنے والے کی ہر پکار کو قبول کرنے کا وہ ضامن ہے۔

 اور جگہ قرآن کریم میں ہے:

يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ ءَامِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَـبِ الَّذِى نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَـبِ الَّذِى أَنَزلَ مِن قَبْلُ (۴:۱۶)

اے ایمان والو اللہ پر، اس کے رسولوں پر اس کی اس کتاب پر، جو اس نے اپنے رسول کی طرف نازل فرمائی اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل ہوئیں، سب پر ایمان لاؤ۔

 اس آیت میں ایمان والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا اور ہدایت والوں کو ایمان لانے کا حکم دینا ایسا ہی ہے جیسے یہاں ہدایت والوں کو ہدایت کی طلب کرنے کا حکم دینا۔

مراد دونوں جگہ ثابت قدمی اور اور استمرار ہے اور ایسے اعمال پر ہمیشگی کرنا جو اس مقصد کے حاصل کرنے میں مدد پہنچائیں۔ اس پر یہ اعتراض وارد ہو بھی نہیں سکتا کہ یہ حاصل شدہ چیز کا حاصل کرنا ہے۔ واللہ اعلم۔

اور دیکھئے اللہ رب العزت نے اپنے ایمان دار بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کہیں:

رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ (۳:۸)

اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما تو بہت بڑا دینے والا اور عطا کرنے والا ہے۔

عویہ بھی وارد ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز مغرب کی تیسری رکعت سورۃ فاتحہ کے بعد اس آیت کو پوشیدگی سے پڑھا کرتے تھے

پس آیت اهدِنَــــا الصِّرَاطَ المُستَقِيم کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھ اور اس سے ہمیں نہ ہٹا۔

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ

اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ۔

اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت صراط مستقیم کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے واللہ اعظم۔

 اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آچکا ہے فرمان ہے:

وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّـلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقاً  ـ ذلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيماً (۴:۶۹،۷۰)

اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں :

مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک آیت وَمَن يُطِعِ اللَّهَ کی طرح ہے۔

ربیع بن انس کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔

ابن عباس اور مجاہد فرماتے ہیں مؤمن ہیں۔

وکیع کہتے ہیں مسلمان۔

عبدالرحمٰن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔

 ابن عباسؓ کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے واللہ اعلم۔

زمحشری کہتے ہیں رے کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عمر بن خطاب کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔

 عَلَيْهِمْ میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور انعمت عامل ہے۔

معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔

غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ  (۷)

ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔

جمہور کی قرأت میں غَيْرِ رے کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے۔

مغضوب کون؟

ان کی راہ سے بچا، جن پر غضب و غصہ کیا گیا، جن کے ارادے فاسد ہو گئے، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ کر اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں

 اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جانے کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا۔

بعض نحوی کہتے ہیں کہ غیر کا لفظ یہاں پر استثناء کے لئے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے

 لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔ عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔

غَيْرِ الْمَغْضُوبِ سے مراد غیر صراط المغضوب ہے۔ مضاف الیہ کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لئے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آچکا ہے۔

بعض کہتے ہیں آیت وَلَا الضَّالِّينَ  میںلَازائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَالضَّالِّينَ  اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَ غَيْرِ الضَّالِّينَ  پڑھنا صحیح سند سے مروی ہے اور اسی طرح حضرت ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ محمول ہے اس پر کہ ان بزرگوں سے یہ بطور تفسیر صادر ہوا۔ تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ لا نفی کی تاکید کے لئے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہم ہی نہ ہو کہ یہ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ  پر عطف ہے اور اس لئے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے۔ اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو۔ یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں عمل نہیں اسی لئے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی۔

 اس لئے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد کرنے کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لئے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں

 یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں۔ جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے:

مَن لَّعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ (۵:۶۰)

وہ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہو

اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں۔

فرمان الہٰی ہے:

قَدْ ضَلُّواْ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّواْ كَثِيراً وَضَلُّواْ عَن سَوَآءِ السَّبِيلِ  (۵:۷۷)

جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں

 اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں

مسند احمد میں ہے حضرت عدی بن حاتم فرماتے ہیں:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے میری پھوپھی اور چند لوگوں کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو میری پھوپھی نے کہا میری خبر گیری کرنے والا غائب ہے اور میں عمر رسیدہ بڑھیا ہوں جو کسی خدمت کے لائق نہیں آپ مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے رہائی دیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی احسان کرے گا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تیری خیر خبر لینے والا کون ہے

 اس نے کہا عدی بن حاتم

 آپ ﷺنے فرمایا وہی جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھاگتا پھرتا ہے؟

 پھر آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ جب لوٹ کر آپﷺ آئے تو آپ کے ساتھ ایک شخص تھے اور غالباً وہ حضرت علیؓ تھے آپ نے فرمایا لو ان سے سواری مانگ لو۔

 میری پھوپھی نے ان سے درخواست کی جو منظور ہوئی اور سواری مل گئی۔

وہ یہاں سے آزاد ہو کر میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نے تیرے باپ حاتم کی سخاوت کو بھی ماند کر دیا۔ آپ کے پاس جو آتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔

 یہ سن کر میں بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ چھوٹے بچے اور بڑھیا عورتیں بھی آپ کی خدمت میں آتی جاتی ہیں اور آپ ان سے بھی بےتکلفی کے ساتھ بولتے ہیں۔ اس بات نے مجھے یقین دلایا دیا کہ آپ قیصرو کسریٰ کی طرح بادشاہت اور وجاہت کے طلب کرنے والے نہیں۔

 آپ ﷺنے مجھے دیکھ کر فرمایا عدی لا الہ الا اللہ کہنے سے کیوں بھاگتے ہو؟

 کیا اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق ہے؟

اللہ اکبر کہنے سے کیوں منہ موڑتے ہو؟

 کیا اللہ عزوجل سے بھی بڑا کوئی ہے؟

مجھ پر ان کلمات نے آپ کی سادگی اور بےتکلفی کا ایسا اثر کیا کہ میں فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد یہود ہیں اور الضَّالِّينَ  سے مراد نصاریٰ ہیں۔

 ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت عدی کے سوال پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی۔

 اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔

بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا۔

بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ ابن عمرو ہے واللہ اعلم۔

 ابن مردویہ میں ابوذرؓ سے بھی یہی روایت ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس حضرت ابن مسعود اور بہت سے صحابیوں سے بھی یہ تفسیر منقول ہے۔

ربیع بن انس، عبدالرحمن بن زید بن اسلم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں بلکہ ابن ابی حاتم تو فرماتے ہیں مفسرین میں اس بارے میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔

 ان ائمہ کی اس تفسیر کی دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو پہلے گزری۔

 دوسری سورۃ بقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے:

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ (۲:۹۰)

بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا وہ انکا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل جس بندہ پر چاہا نازل فرمایا اس کے باعث یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے

اس آیت میں ہے کہ اس پر غضب پر غضب نازل ہوا۔

 اور سورۃ مائدہ کی اس آیت میں بھی ہے:

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَ‌ٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ (۵:۶۰)

کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ تاکہ اس سے بھی زیادہ اجر پانے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وہ جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہو اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی،

اور جگہ فرمان ہے :

لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ (۵:۷۸)

بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کی زبانی لعنت کی گئی

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیھما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے

 اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جبکہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الہٰی کا ایک حصہ نہ پا لو۔

 انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لئے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں؟

 پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے۔

 انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے

چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے۔ بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس لئے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا۔ انہی میں حضرت ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الہٰی نے ان کی رہبری کی اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

مسئلہ

ضاد اور ظے کی قرأت میں بہت باریک فرق ہے اور ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس لئے علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہے کہ یہ فرق معاف ہے، ضاد کا صحیح مخرج تو یہ ہے کہ زبان کا اول کنارہ اور اس کے پاس کی داڑھیں اور ظے کا مخرج زبان کا ایک طرف اور سامنے والے اوپر کے دو دانت کے کنارے۔

 دوسرے یہ کہ یہ دونوں حرف مجہورہ اور رخوہ اور مطبقہ ہیں پس اس شخص کو جسے ان دونوں میں تمیز کرنی مشکل معلوم ہو، اسے معاف ہے کہ ضاد کو ظے کی طرح پڑھ لے۔

 ایک حدیث میں ہے کہ میں ضاد کو سب سے زیادہ صحیح پڑھنے والا ہوں

لیکن یہ حدیث بالکل بے اصل اور لاپتہ ہے۔

سورہ فاتحہ کا خلاصہ

یہ مبارک سورت نہایت کار آمد مضامین کا مجموعہ ہے ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی بزرگی، اس کی ثنا و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے ساتھ ہی قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ اس مالک سے سوال کریں اس کی طرف تضرع و زاری کریں اپنی مسکینی اور بےکسی اور بےبسی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور اس کی توحید الوہیت کا اقرار کریں۔ تاکہ یہی ہدایت انہیں قیامت والے دن پل صراط سے بھی پار اتارے اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں کے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ دلائے۔

ساتھ ہی اس سورت میں نیک اعمال کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن نیکوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے ڈراوا پیدا ہو تاکہ قیامت کے دن بھی یہ باطل پرست یہودو نصاریٰ کی جماعت سے دور ہی رہیں۔

اس باریک نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ انعام کی اسناد تو اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی اور أَنْعَمْتَ کہا گیا لیکن غضب کی اسناد اللہ کی طرف نہیں کی گئی یہاں فاعل حذف کر دیا اور مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کہا گیا اس میں پروردگار عالم کی جناب میں ادب کیا گیا ہے۔ دراصل حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ جیسے اور جگہ ہے :

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْاْ قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم (۵۸:۱۴)

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہو چکا ہے

اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں حالانکہ اور جگہ ہے:

مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا (۱۸:۱۷)

اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں۔

 اور جگہ فرمایا :

مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَـنِهِمْ يَعْمَهُونَ (۷:۱۸۶)

جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی راہ پر نہیں لا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔‏

اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ وتعالیٰ ہی ہے

قدریہ فرقہ جو ادھر ادھر کی متشابہ آیتوں کو دلیل بنا کر کہتا ہے کہ بندے خود مختار ہیں وہ خود پسند کرتے ہیں ۔ یہ غلط ہے

صریح اور صاف صاف آیتیں ان کے رد میں موجود ہیں لیکن باطل پرست فرقوں کا یہی قاعدہ ہے کہ صراحت کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔

 صحیح حدیث میں ہے :

 جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے:

فَأَمَّا الَّذِينَ فى قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَـبَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآءَ تَأْوِيلِهِ (۳:۷)

 پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حالانکہ ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا

جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لئے پس الحمد للہ بدعتیوں کے لئے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لئے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے۔

آمین  کی فضیلت

سورۃ فاتحہ کو ختم کر کے آمین کہنا مستحب ہے۔ آمین مثل یٰسین کے ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ تو قبول فرما۔

 آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد، ابو داؤد اور ترمذی میں وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں :

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آیت غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ کہہ کر آمین کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے۔

 ابو داؤد میں ہے آواز بلند کرتے تھے۔

امام ترمذی اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔

حضرت علیؓ حضرت ابن مسعودؓ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے۔

 ابو داؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے۔

 ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔

دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے اور دارقطنی بتاتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

 وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے (ابو داؤد)

حسن بصریٰؒ اور جعفر صادقؒ سے آمین کہنا مروی ہے۔

 ہمارے اصحاب کہتے ہیں جو نماز میں نہ ہو اسے بھی آمین کہنا چاہئے۔ ہاں جو نماز میں ہو اس پر تاکید زیادہ ہے۔ نمازی خود اکیلا ہو، خواہ مقتدی ہو، خواہ امام ہو، ہر حالت میں آمین کہے۔

 صحیحین میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علہی وسلم نے فرمایا:

 جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

مسلم شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں۔

صحیح مسلم میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:

جب امام وَلاَ الضَّالِّينَ کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا۔

 ابن عباسؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آمین کے کیا معنی ہیں۔

 آپ ﷺنے فرمایا اے اللہ تو قبول کر۔

جوہری کہتے ہیں اس کے معنی  اسی طرح ہو  ہیں۔

 ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ہماری امیدوں کو نہ توڑ۔

 اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی  اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما  کے ہیں۔

 مجاہد، جعفر صادق ہلال بن سیاف فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

 ابن عباسؓ سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں۔

 امام مالکؒ کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ جب امام وَلاَ الضَّالِّينَ کہے تو تم آمین کہو۔

 اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی ابو موسیٰ اشعری کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جب امام وَلاَ الضَّالِّينَ کہے تو تم آمین کہو۔

 لیکن بخاری مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔

 اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وَلاَ الضَّالِّينَ پڑھ کر آمین کہتے تھے۔

جہری نمازوں میں مقتدی اونچی آواز سے آمین کہے یا نہ کہے، اس میں ہمارے ساتھیوں کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

 اگر امام آمین کہنی بھول گیا ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین کہیں۔

 اگر امام نے خود اونچی آواز سے آمین کہی ہو تو نیا قول یہ ہے کہ مقتدی باآواز بلند نہ کہیں۔ امام ابو حنیفہ کا یہی مذہب ہے۔

 اور ایک روایت میں امام مالک سے بھی مروی ہے اس لئے کہ نماز کے اور اذکار کی طرح یہ بھی ایک ذکر ہے تو نہ وہ صرف بلند آواز سے پڑھے جاتے ہیں نہ یہ بلند آواز سے پڑھا جائے۔

 لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ حضرت امام احمد بن حنبل کا بھی یہی مذہب ہے اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا بھی دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔

ہمارے یہاں پر ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لئے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے واللہ اعلم۔

صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہئے۔ خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو، خواہ منفرد، مترجم

مسند احمد میں صرف عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے :

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ذکر ہوا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ہماری تین چیزوں پر یہودیوں کو اتنا بڑا حسد ہے کہ کسی اور چیز پر نہیں۔

-          ایک تو جمعہ کو اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت کی اور یہ بہک گئے

-          دوسرے قبلہ،

-         تیسرے ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنا۔

 ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے:

 یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں۔

 اور حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

 تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو۔

 اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں۔

 ابن مردویہ میں بروایت حضرت ابوہریرہ ؓمروی ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا :

آمین اللہ تعالیٰ کی مہر ہے اپنے مؤمن بندوں پر۔

حضرت انسؓ والی حدیث میں ہے:

 نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔

 ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر حضرت ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔

تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا۔

 اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا :

رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ ۖ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ (۱۰:۸۸)

اور موسیٰؑ نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے اے ہمارے رب! (اسی واسطے دیئے ہیں کہ) وہ تیری راہ سے گمراہ کریں۔ اے ہمارے رب! انکے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور انکے دلوں کو سخت کردے سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے:

قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (۱۰:۸۹)

حق تعالیٰ نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی، سو تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں

دعا صرف حضرت موسیٰؑ کرتے تھے اور حضرت ہارونؑ صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔ اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص کسی دعا پر آمین کہے وہ گویا خود وہ دعا کر رہا ہے۔ اب اس استدلال کو سامنے رکھ کر وہ قیاس کرتے ہیں کہ مقتدی قرأت نہ کرے، اس لئے کہ اس کا سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہنا پڑھنے کے قائم مقام ہے اور اس حدیث کو بھی دلیل میں لاتے ہیں کہ جس کا امام ہو تو اس کے امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ (مسند احمد)

 حضرت بلالؓ کہا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آمین میں مجھ سے سبقت نہ کیا کیجئے۔ اس کھینچا تانی سے مقتدی پر جہری نمازوں میں الحمد کا نہ پڑھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں واللہ اعلم۔ (یہ یاد رہے کہ اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے)

حضرت ابوہریرہ ؓفرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب امام آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ  کہہ کر آمین کہتا ہے آسمان والوں کی آمین زمین والوں کی آمین سے مل جاتی ہے اللہ تعالیٰ بندے کے تمام پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ آمین نہ کہنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک قوم کے ساتھ مل کر غزوہ کرے، غالب آئے مال غنیمت جمع کرے، اب قرعہ ڈال کر حصہ لینے لگے تو اس شخص کے نام قرعہ نکلے ہی نہیں اور کوئی حصہ نہ ملے وہ کہے  یہ کیوں۔   تو جواب ملے تیرے آمین نہ کہنے کی وجہ سے!

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com