تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ آل عمران

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الم(۱)‏

الم

الم کی تفسیر سورۃ بقرہ کے شروع میں بیان ہو چکی ہے جسے دوبارہ یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں،

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ(۲)‏

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زندہ اور سب کا نگہبان ہے

آیت الکرسی کی تفسیر میں پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ اسم اعظم اس آیت اور آیت الکرسی میں ہے

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ کی تفسیر بھی آیت الکرسی کی تفسیر میں ہم لکھ آئے ہیں۔

نَزَّلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنْزَلَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ(۳)‏

جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے

 اسی نے اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا‏

فرمایا اللہ تعالیٰ نے تجھ پر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جس میں کوئی شک نہیں بلکہ یقیناً وہ اللہ کی طرف سے ہے، جسے اس نے اپنے علم کی وسعتوں کے ساتھ اتارا ہے، فرشتے اس پر گواہ ہیں اور اللہ کی شہادت کافی وافی ہے۔

یہ قرآن اپنے سے پہلے کی تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور وہ کتابیں بھی اس قرآن کی سچائی پر گواہ ہیں، اس لئے کہ ان میں جو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے اور اس کتاب کے اترنے کی خبر تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔

 اسی نے حضرت موسیٰ بن عمران پر توراۃ اور عیسیٰ بن مریم پر انجیل اتاری،

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِلنَّاسِ وَأَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ۗ

اس سے پہلے لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر اور قرآن بھی اسی نے اتارا

وہ دونوں کتابیں بھی اس زمانے کے لوگوں کیلئے ہدایت دینے والی تھیں۔

 اس نے فرقان اتارا جو حق و باطل، ہدایت و ضلالت، گمراہی اور راہِ راست میں فرق کرنے والا ہے، اس کی واضح روشن دلیلیں اور زبردست ثبوت ہر معترض کیلئے مثبت جواب ہیں،

حضرت قتادہ حضرت ربیع بن انس کا بیان ہےکہ الْفُرْقَانَ سے مراد یہاں قرآن ہے، گو یہ مصدر ہے لیکن چونکہ قرآن کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے اس لئے یہاں فُرْقَان فرمایا،

 ابوصالح سے مروی ہے کہ مراد اس سے توراۃ ہے مگر یہ ضعیف ہے اسلئے کہ توراۃ کا ذِکر اس سے پہلے گزر چکا ہے واللہ اعلم۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ(۴)‏

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے، بدلہ لینے والا۔‏

قیامت کے دن منکروں اور باطل پرستوں کو سخت عذاب ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ غالب ہے بڑی شان والا ہے اعلیٰ سلطنت والا ہے، انبیاء کرام اور محترم رسولوں کے مخالفوں سے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں سے جناب باری تعالیٰ زبردست انتقام لے گا۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ(۵)‏

یقیناً  اللہ تعالیٰ پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔‏

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں،

هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ

وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح کی چاہتا ہے بناتا ہے

وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے،

لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(۶)

 اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔‏

اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا، پیدا کیا، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو؟وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا، اٹل احکام والا ہے۔

اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے، جیسے اور جگہ ہے:

يَخْلُقُكُمْ فِى بُطُونِ أُمَّهَـتِكُـمْ خَلْقاً مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِى ظُلُمَـتٍ ثَلَـثٍ (۳۹:۶)

وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے تین تین اندھیروں میں،

هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ

وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں۔

یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہوسکتی،

اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیںاور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں،

 اُم الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو،

مُحْكَم اور مُتَشَابِه کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں،

حضرت ابن عباسؓ تو فرماتے ہیں :

 محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام حکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو،

 اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ (۶:۱۵۱) اور اس کے بعد کے احکامات والی اور وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا (۱۷:۲۳) اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں،

حضرت ابو فاختہؒ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں،

سعید بن جبیر کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں،

حضرت مقاتل کہتے ہیں اس لئے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں،

متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں،

حضرت ابن عباسؓ کا بھی یہی فرمان ہے

حضرت مقاتل فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔

حضرت مجاہد کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں، جیسے اور جگہ ہے:

اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ (۳۹:۲۳)

اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے

اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذِکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں ہے اس لئے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور حضرت محمد بن اسحاق بن یسار کا یہی فرمان ہے،

 فرماتے ہیں کہ یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کر سکتا ہے۔

متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیر دینا نہ چاہئے۔

فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ۗ

پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ا کی مراد کی جستجو کے لئے،

اللہ فرماتا ہے کہ جن کے دِلوں میں کجی ٹیڑھ پن گمراہی اور حق سے باطل کی طرف ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لئے کوئی دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔

 اسی لئے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ (۴۳:۵۹) یعنی حضرت عیسیٰ اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے،اور جگہ ہے:

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثِمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (۳:۵۹)

حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہوجا ، وہ ہو گیا،

چنانچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے حضرت عیسیٰ کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔

پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا :

 جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لئے گئے ہیں۔

یہ حدیث مختلف طریق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں (مسند احمد)

پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لئے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا

 اور ان میں سے ایک نے جسے ذواخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر صاف کہا کہ حضرت عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر تو تُو برباد ہوا  اور نقصان میں پڑا، جب وہ پلٹا تو حضرت عمر فاروقؓ نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں،

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو، اسکے ہم خیال ایک ایسی قوم پیدا ہوگی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا،

حضرت علیؓ کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہوگئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہوگئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے،

 ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی کہ میری اُمت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔

صحابہؓ نے پوچھا وہ کون لوگ ہوں گے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب (مستدرک حاکم)

ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 میری اُمت میں سے ایک قوم پیدا ہوگی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی،

وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ ۗ

حالانکہ ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا

پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے،

 لفظ اللَّهُ پر وقف ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے،

 حضرت عبداللہ بن عباسؓ تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے،

-          ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں،

-         ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں،

-          ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں

-         اور ایک وہ جسے بجزذاتِ الہٰی کے اور کوئی نہیں جانتا۔

یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے،

حضرت عائشہؓ کا بھی یہی قول ہے،

معجم کبیر میں حدیث ہے:

 مجھے اپنی اُمت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔

-          مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہوگا اور آپس کی لڑائی شروع ہوگی،

-          دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہو گا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔

-          تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کر دیں گے،

یہ حدیث بالکل غریب ہے

 اور حدیث میں ہے:

 قرآن اس لئے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ (ابن مردویہ)

وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۗ

اور پختہ اور مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لا چکے ہیں، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں

ابن عباسؓ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓاور حضرت مالک بن انس ؓسے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

 ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔

 ابی بن کعبؓ بھی یہی فرماتے ہیں،امام ابن جریر بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں،

یہ تو تھی وہ جماعت جو إِلَّا اللَّهُ پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور  فِي الْعِلْمِ پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے ایسی  بات کہنی  ٹھیک نہیں،

حضرت ابن عباسؓ فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں،

مجاہد فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں،

حضرت محمد بن جعفر بن زبیر فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے

 اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے

پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی سے  ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہو جاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہو جاتا ہے،

حدیث میں ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کیلئے دعا کی کہ اے اللہ انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم دے،

بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے،

 ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے:

وَ يأَبَتِ هَـذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَـى مِن قَبْلُ (۱۲:۱۰۰)

میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے،

 اور جگہ ہے:

هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ تَأْوِيلَهُ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُ (۷:۵۳)

ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے جس روز اس کا اخیر نتیجہ پہنچ آئے گا

پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے،

 اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو إِلَّا اللَّهُ پر وقف ضروری ہے اس لئے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مبتداء ہوگا اور يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ خبر ہوگی اور یہ جملہ بالکل الگ ہوگا

اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ایک شئے  کی تعبیر دوسری شئے  سے ہوتے ہیں ، جیسے قرآن میں ہے نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ (۱۲:۳۶) ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان،

 اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو فِي الْعِلْمِ پر وقف کرنا چاہئے، اس لئے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر آمَنَّا بِهِ حال ہوگا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو، جیسے اور جگہ ہے:

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ  .  يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا (۵۹:۸،۱۰)

دوسری جگہ ہے:

وَجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً (۸۹:۲۲)

 اور تیرا رب (خود) آ جائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے)

یعنی وجاء الملائکۃ صفوفا صفوفا

 اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے، پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہےاور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں،جیسے اور جگہ ہے:

أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْءَانَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلَـفاً كَثِيراً (۴:۸۲)

کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا،

وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ(۷)‏

 اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں،‏

اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں؟

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

-         جس کی قسم سچی ہو،

-         جس کی زبان راست گو ہو،

-         جس کا دِل سلامت ہو،

-          جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو

-          اور جس کی شرم گاہ زناکاری سے محفوظ ہو،

وہ مضبوط علم والے ہیں (ابن ابی حاتم)

اور حدیث میں ہے:

 آپ ﷺنے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی میں ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کے خلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کرکے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو (مسند احمد)

اور حدیث میں ہے:

 قرآن سات حرفوں (Dialects) پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو جل جلالہ(ابویعلی)

رَاسِخُ فِي الْعِلْمِ کون؟

نافع بن یزید کہتے ہیں رَاسِخُ فِي الْعِلْمِ وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ(۸)

اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما،

یقیناً  تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔‏

پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دِلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دِلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراطِ مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دِلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے:

يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِك

اے دِلوں کے پھیرنے والے میرے دِل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ

پھر یہ دعا پڑھتے:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ

اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً  تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔‏

اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے

اللھم مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک

حضرت اسماءؓ نے ایک دن پوچھا کیا دِل الٹ پلٹ ہو جاتا ہے؟

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں ہر انسان کا دِل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے،

ہماری دعا ہے ہمارا رب دِلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔

ایک روایت میں یہ بھی ہے:

 میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لئے مانگا کروں،

 آپ ﷺنے فرمایا یہ دعا مانگ:

 

اللھم رب محمد النبی اغفرلی ذنبی و اذھب غیظ قلبی و اجرنی من مضلات الفتن

اے اللہ اے محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دِل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے،

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے بھی آپ کی دعا يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ سن کر حضرت اسماء ؓکی طرح یہی سوال کیا اور آپ ﷺنے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی،

یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے،

 اور نسائی میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے:

لا الہ الا انت سبحانک استغفرک لذنبی واسئلک رحمۃ اللھم زدنی علما ولا تزغ بعد اذ ھدیتنی وھب لی من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب

اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دِل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمدشریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورۃ الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔

ابوعبد اللہ صبالجی فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیقؓ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (عبدالرزاق)

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒنے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں قُلْ هُوَ اللَّهُ  پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیرالمؤمنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔

رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ

اے ہمارے رب! تو یقیناً  لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں،

پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے

إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (۹)‏

 یقیناً  اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔‏

 اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ (۱۰)

کافروں کے مال اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنم کا ایندھن ہی ہیں۔‏

اللہ فرماتا ہے کہ کافر جہنم کی بھٹیاں اور اس میں جلنے والی لکڑیاں ہیں،اور فرمایا:

يَوْمَ لاَ يَنفَعُ الظَّـلِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ الْلَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ (۴۰:۵۲)

جس دن ظالموں کو ان کی (عذر) معذرت کچھ نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہی ہوگی اور ان کے لئے برا گھر ہوگا  

 ان کے مال ان کی اولادیں بھی انہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی، اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکیں گے،

جیسا اور جگہ فرمایا:

فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَلُهُمْ وَلاَ أَوْلَـدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـفِرُونَ (۹:۵۵)

پس آپ کو ان کے مال و اولاد تعجب میں نہ ڈال دیں اللہ کی چاہت یہی ہے کہ اس سے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی سزا دے اور ان کے کفر ہی کی حالت میں ان کی جانیں نکل جائیں۔

اسی طرح ارشاد ہے:

لاَ يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُواْ فِى الْبِلَـدِ ـ مَتَـعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (۳:۱۹۶،۱۹۷)

تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے ۔ یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے اس کے بعد ان کا ٹھکانہ توجہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے۔‏

 اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ اللہ کی کتابوں کو جھٹلانے والے اس کے رسولوں کے منکر اس کی کتاب کے مخالف اس کی وحی کے نافرمان اپنی اولاد اور اپنے مال سے کوئی بھلائی کی توقع نہ رکھیں، یہ جہنم کی لکڑیاں ہیں جن سے جہنم سلگائی اور بھڑکائی جائے گی، جیسے اور جگہ ہے:

إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ (۲۱:۹۸)

تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کا ایندھن بنو گے، تم سب دوزخ میں جانے والے ہو ۔

ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس B کی والدہ صاحبہ حضرت اُم فضلؓ کا بیان ہے:

 مکہ شریف میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور باآواز بلند فرمانے لگے:

لوگو! کیا میں نے اللہ کی باتیں تم تک پہنچا دیں؟

 لوگو! کیا میں نے تبلیغ کا حق ادا کردیا؟

 لوگو! کیا میں وحدانیت و رسالت کا مطلب تمہیں سمجھا چکا؟

حضرت عمر ؓفرمانے لگے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیشک آپ نے اللہ کا دین ہمیں پہنچایا

پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا

سنو اللہ کی قسم اسلام غالب ہوگا اور خوب پھیلے گا، یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ جا چھپے گا، مسلمان اسلام اپنے قول و عمل میں لئے سمندروں کو چیرتے پھاڑتے نکل جائیں گے اور اسلام کی اشاعت کریں گے،

یاد رکھو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ لوگ قرآن کو سیکھیں گے پڑھیں گے (پھر تکبر برائی اور اندھے پن کے طور پر) کہنے لگیں گے ہم قاری ہیں، عالم ہیں، کون ہے جو ہم سے بڑھ چڑھ کر ہو؟

 کیا ان لوگوں میں کچھ بھی بھلائی ہوگی؟

لوگوں نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون لوگ ہیں،

 آپﷺ نے فرمایا وہ تم ہی مسلمانوں میں سے ہوں گے لیکن خیال رہے کہ وہ جہنم کا ایندھن ہیں،

 ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے، اس میں یہ بھی ہے

حضرت عمر ؓنے جواب میں کہا ہاں ہاں اللہ کی قسم آپ نے بڑی حرص اور چاہت سے تبلیغ کی، آپ نے پوری جدوجہد اور دوڑ دھوپ کی، آپ نے ہماری زبردست خیرخواہی کی اور بہتری چاہی۔

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ

جیسا آل فرعون کا حال ہوا اور ان کا جو ان سے پہلے تھے

پھر فرماتا ہے جیسا حال فرعونیوں کا تھا اور جیسے کرتوت ان کے تھے،

لفظ دَأْبِ ہمزہ کے جزم سے بھی آتا ہے اور ہمزہ کے زبر سے بھی آتا ہے، جیسا نَہْرُ اور نَہَرُ ، اس کے معنی شان عدالت حال طریقے کے آتے ہیں، امرا القیس کے شعروں میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مطلب اس آیت شریف کا یہ ہے کہ کفار کا مال و اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئے گا جیسے فرعونیوں اور ان سے اگلے کفار کو کچھ کام نہ آیا،

كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ (۱۱)‏

 انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں انکے گناہوں پر پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ سخت عذاب دینے والا ہے۔‏

اللہ کی پکڑ سخت ہے اس کا عذاب دردناک ہے، کوئی کسی طاقت سے بھی اس سے بچ نہیں سکتا نہ اسے روک سکتا ہے، وہ اللہ جو چاہے کرتا ہے، ہرچیز اس کے سامنے حقیر ہے، نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ رب۔

قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (۱۲)

کافروں سے کہہ دیجئے! کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کافروں سے کہہ دیجئے کہ تم دنیا میں بھی ذلیل و مغلوب کئے جاؤ گے، ہارو گے، ماتحت بنو گے اور قیامت کے دن بھی ہانک کر جہنم میں جمع کئے جاؤ گے جو بدترین بچھونا ہے۔

قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا ۖ

یقیناً  تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں،

سیرت ابن اسحاق میں ہے:

جب بدر کی جنگ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مظفر و منصور واپس ہوئے تو بنوقینقاع کے بازار میں یہودیوں کو جمع کیا اور فرمایا! اس سے پہلے کہ قریش کی طرح تمہیں بھی ذلت و پستی دیکھنا پڑے اسلام قبول کرلو، تو اس سرکش جماعت نے جواب دیا کہ چند قریشیوں کو جو فنونِ جنگ سے ناآشنا تھے ، آپ نے انہیں ہرا لیا اور دماغ میں غرور سما گیا، اگر ہم سے لڑائی ہوئی تو ہم بتادیں گے کہ لڑنے والے ایسے ہوتے ہیں، آپ کو ابھی تک ہم سے پالا ہی نہیں پڑا۔

 اس پر یہ آیت اتری اور فرمایا گیا فتح بدر نے ظاہر کردیا ہے کہ اللہ اپنے سچے اچھے اور پسندیدہ دین کو اور اس دین والوں کو عزت و حرمت عطا فرمانے والا ہے، وہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اور آپ کی اطاعت گزار اُمت کا خود مددگار ہے۔ وہ اپنی باتوں کو ظاہر اور غالب کرنے والا ہے۔

 دو جماعتیں لڑائی میں گھتم گتھا ہو گئی تھیں، ایک صحابہ کرام کی اور دوسری مشرکین قریش کی،

فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ ۚ

ایک جماعت تو اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا وہ انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھتے تھے

یہ واقعہ جنگ بدر کا ہے، اس دن مشرکین پر اس قدر رعب غالب آیا اور اللہ نے اپنے بندوں کی اس طرح مدد کی گو مسلمان گنتی میں مشرکین سے کہیں کم تھے لیکن مشرکوں کو اپنے سے دُگنے نظر آتے تھے،

 مشرکوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی جاسوسی کیلئے عمیر بن سعد کو بھیجا تھا جس نے آکر اطلاع دی تھی کہ تین سو ہیں، کچھ کم یا زائد ہوں اور واقعہ بھی یہی تھا کہ صرف تین سو دس اور کچھ تھے لیکن لڑائی کے شروع ہوتے ہی اللہ عزوجل نے اپنے خاص اور چیدہ فرشتے ایک ہزار بھیجے۔ ایک معنی تو یہ ہیں،

 دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کافر ہم سے دوچند ہیں، پھر بھی اللہ عزوجل نے انہی کی مدد کی۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ بدری صحابہ تین سو تیرہ تھے اور مشرکین چھ سو سولہ تھے۔

 لیکن تواریخ کی کتابوں میں مشرکین کی تعداد نو سو سے ایک ہزار تک بیان کی گئی ہے، ہو سکتا ہے حضرت عبداللہؓ کا قرآن کے الفاظ سے یہ استدلال ہو کہ ابن الحجاج قبلیہ کا جو سیاہ فام غلام پکڑا ہوا آیا تھا اس سے جب حضور ﷺنے پوچھا کہ قریش کی تعداد کتنی ہے؟

 اس نے کہا بہت ہیں،

 آپ ﷺنے پھر پوچھا اچھا روز کتنے اونٹ کٹتے ہیں،

 اس نے کہا ایک دن نو دوسرے دن دس،

 آپ ﷺنے فرمایا بس تو ا کی گنتی نو سو اور ایک ہزار کے درمیان ہے۔ پس مشرکین مسلمانوں سے تین گنا تھے واللہ اعلم،

لیکن یہ یاد رہے کہ عرب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہزار تو ہیں لیکن مجھے ضرورت ایسے ہی دوگنا کی ہے اس سے مراد ان کی تین ہزار ہوتی ہے۔ اب کوئی مشکل باقی نہ رہی، لیکن ایک اور سوال ہے وہ یہ کہ قرآن کریم میں اور جگہ ہے:

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِيلاً وَيُقَلِّلُكُمْ فِى أَعْيُنِهِمْ لِّيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْراً كَانَ مَفْعُولاً (۸:۴۴)

جب اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھایا تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا

پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعداد سے بھی کم نظر آئے اور مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ بلکہ دُگنے نظر آئے۔تو دونوں آیتوں میں تطبیق کیا ہوگی؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول اور تھا اور اس کا وقت اور تھا،

حضرت ابن مسعوؓ فرماتے ہیں کہ بدر والے دن ہمیں مشرکین کچھ زیادہ نہیں لگے، ہم نے غور سے دیکھا پھر بھی یہی معلوم ہوا کہ ہم سے ان کی گنتی زیادہ نہیں،

دوسری روایت میں ہے:

 مشرکین کی تعداد اس قدر کم معلوم ہوئی کہ میں نے اپنے پاس کے ایک شخص سے کہا کہ یہ لوگ تو کوئی ستر ہوں گے، اس نے کہا نہیں نہیں سو ہوں گے، جب ان میں سے ایک شخص پکڑا گیا تو ہم نے اس سے مشرکین کی گنتی پوچھی، اس نے کہا ایک ہزار ہیں۔

اب جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے سامنے صفیں باندھ کر کھڑے ہوگئے تو مسلمانوں کو یہ معلوم ہونے لگا کہ مشرکین ہم سے دوگنے ہیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں اپنی کمزوری کا یقین ہو جائے اور یہ اللہ پر پورا بھروسہ کرلیں اور تمام تر توجہ اللہ کی جانب پھیر لیں اور اپنے رب عزوجل سے اعانت اور امداد کی دعائیں کرنے لگیں، ٹھیک اسی طرح مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد دوگنی معلوم ہونے لگی تاکہ ان کے دِلوں میں رعب اور خوف بیٹھ جائے اور گھبراہٹ اور پریشانی بڑھ جائے،

وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ ۗ

اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے

پھر جب دونوں بھڑ گئے اور لڑائی ہونے لگی تو ہر فریق دوسرے کو اپنی نسبت کم نظر آنے لگا تاکہ ایک دِل کھول کر حوصلہ نکالے اور اللہ تعالیٰ حق و باطل کا صاف فیصلہ کردے، ایمان و کفر و طغیان پر غالب آ جائے۔ مؤمنوں کو عزت اور کافروں کو ذلت مل جائے،جیسے اور جگہ ہے:

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ (۳:۱۲۳)

البتہ اللہ تعالیٰ نے بدر والے دن تمہاری مدد کی حالانکہ تم اس وقت کمزور تھے۔

 اسی لئے یہاں بھی فرمایا اللہ جسے چاہے اپنی مدد سے طاقتور بنا دے،

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِأُولِي الْأَبْصَارِ (۱۳)‏

 یقیناً  اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔‏

پھر فرماتا ہے اس میں عبرت و نصیحت ہے اس شخص کیلئے جو آنکھوں والا ہو جس کا دماغ صحیح و سالم ہو، وہ اللہ کے احکام کی بجا آوری میں لگ جائے گا اور سمجھ لے گا کہ اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو اس جہان میں بھی مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا بچاؤ کرے گا۔

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ۗ

مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزیّن کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لئے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا،

 ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کرکے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس اُمت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو،نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کردے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔

 دوسری حدیث میں ہے:

 مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے،

ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔

 ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔

 اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لئے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لئے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

 محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو، قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور اُمتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔

 ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر ان کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کیلئے ہے تو بیحد بری چیز ہے، اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے، نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کیلئے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔

قنطار کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے حضرت ضحاک کا قول ہے، اور اقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔

مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے، غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا (واللہ اعلم)

حضرت ابوہریرہ ؓسے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔

 اسی طرح ابن جریر میں حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابن عمرؓ سے بھی مروی ہے،

 اور ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابوالدرداءؓ سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں،

 ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں سو اوقیہ آئے ہیں لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ حضرت ابی بن کعب کا قول ہو جیسے اور صحابہ کا بھی یہی فرمان ہے۔

 ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے،

مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہزار اوقیہ،

امام حاکم اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔ بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا،

 طبرانی میں ہے ایک ہزار دینار،

حضرت حسن بصری سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، حضرت ابن عباسؓ سے بھی یہی مروی ہے،

 ضحاک فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں، بعض بارہ ہزار کا،

حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔

یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے،

 گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے،

-          ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر و ثواب کا سبب ہیں۔

-         دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے،

-          تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔

اسی مضمون کی حدیث آیت وَأَعِدُّواْ لَهُمْ (۸:۶۰)  کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ۔

الْمُسَوَّمَةِکے معنی چرنے والا اور پنج کلیان (یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان) وغیرہ کے ہیں،

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دِل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے،

 الأَنْعَامِ سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ الْحَرْثِ سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے،

 مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔

ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ (۱۴)‏

یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔‏

فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے،

مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب ؓنے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا؟

 اس پر اس کے بعد والی آیت اتری

قُلْ أَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرٍ مِنْ ذَلِكُمْ ۚ

آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز نہ بتاؤں؟

اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں،

لِلَّذِينَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا

تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے

سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دِل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی،

وَأَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (۱۵)‏

اور پاکیزہ بیویاں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔‏

 پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدگی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ،

ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضامندی انہیں حاصل ہو جائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لئے سورۃ برأت کی آیت میں فرمایا وَرِضْوَنٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُاللہ کی تھوڑی سی رضامندی کا حاصل ہو جانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔

الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (۱۶)‏

جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لا چکے اس لئے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‏

اللہ تعالیٰ اپنے متقی بندوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں اے پروردگار ہم تجھ پر اور تیری کتاب پر اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، ہمارے اس ایمان کے باعث جو تیری ذات اور تیری شریعت پر ہے تو ہمارے گناہوں کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے،

الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ (۱۷)‏

جو صبر کرنیوالے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنیوالے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں۔‏

یہ متقی لوگ اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہیں اور حرام چیزوں سے الگ رہتے ہیں، صبر کے سہارے کام لیتے ہیں اور اپنے ایمان کے دعوے میں بھی سچے ہیں، کل اچھے اعمال بجا لاتے ہیں خواہ وہ ان کے نفس کو کتنے بھاری پڑیں، اطاعت اور خشوع خضوع والے ہیں، اپنے مال اللہ کی راہ میں جہاں جہاں حکم ہے خرچ کرتے ہیں، صلہ رحمی میں رشتہ داری کا پاس رکھنے میں برائیوں کے روکنے آپس میں ہمدردی اور خیرخواہی کرنے میں حاجت مندوں ، مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ احسان کرنے میں سخاوت سے کام لیتے ہیں اور سحری کے وقت پچھلی رات کو اٹھ اٹھ کر استغفار کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت استغفار افضل ہے،

یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت میں حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے یہی فرمایا تھا کہ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ (۱۲:۹۸) رب میں ابھی تھوڑی دیر میں تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش طلب کروں گا، اس سے مراد بھی سحری کا وقت ہے، اپنی اولاد سے فرماتے ہیں کہ سحری کے وقت میں تمہارے لئے استغفار کروں گا،

بخاری و مسلم کی حدیث میں جو بہت سے صحابیوں سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے:

 اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آخری تہائی باقی رہتے ہوئے آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی سائل ہے؟ جسے میں دوں، کوئی دعا مانگنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اسے بخشوں،

حافظ ابوالحسن دارقطنی نے تو اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے اور اس میں حدیث کی تمام سندوں کو اور اس کے کل الفاظ کو وارد کیا ہے۔

بخاری و مسلم میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے :

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اول رات درمیانی اور آخری رات میں وتر پڑھے ہیں، سب سے آخری وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کا سحری تک تھا،

حضرت عبداللہ بن عمر ؓرات کو تہجد پڑھتے رہتے اور اپنے غلام حضرت نافع سے پوچھتے کیا سحر ہو گئی، جب وہ کہتے ہاں تو آپ صبح صادق کے نکلنے کی دعا استغفار میں مشغول رہتے،

حضرت حاطب فرماتے ہیں سحری کے وقت میں نے سنا کہ کوئی شخص مسجد کے کسی گوشہ میں کہہ رہا ہے اے اللہ تو نے مجھے حکم کیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے مجھے بخش دے، میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓتھے۔

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں:

 ہمیں حکم کیا جاتا تھا کہ ہم جب تہجد کی نماز پڑھیں تو سحری کے آخری وقت ستر مرتبہ استغفار کریں اللہ سے بخشش کی دعا کریں۔

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ

اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے،

اللہ تعالیٰ خود شہادت دیتا ہے بس اس کی شہادت کافی ہے وہ سب سے زیادہ سچا گواہ ہے، سب سے زیادہ سچی بات اسی کی ہے، وہ فرماتا ہے کہ تمام مخلوق اس کی غلام ہے اور اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اور اسی کی طرف محتاج ہے، وہ سب سے بےنیاز ہے، الوہیت میں اللہ ہونے میں وہ یکتا اور لاشریک ہے، اس کے سوا کوئی پوجے جانے کے لائق نہیں، جیسے فرمان ہے:

لَّـٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا (۴:۱۶۶)

جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بطور گواہ کافی ہے۔‏

پھر اپنی شہادت کے ساتھ فرشتوں کی شہادت پر علماء کی گواہی کو ملا رہا ہے۔ یہاں سے علماء کی بہت بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے بلکہ خصوصی قائما کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے وہ اللہ ہر وقت اور حال میں ایسا ہی ہے،

لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۱۸)‏

 اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‏

پھر تاکیداً دوبارہ ارشاد ہوتا ہے کہ معبود حقیقی صرف وہی ہے، وہ غالب ہے، عظمت اور کبریائی والی اس کی بارگاہ ہے، وہ اپنے اقوال افعال اور شریعت قدرت و تقدیر میں حکمتوں والا ہے۔

مسند احمد میں ہے:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں اس آیت کی تلاوت کی اور الْحَكِيمُ تک پڑھ کر فرمایا وانا علی ذالک من الشاھدین یا رب،

 ابن ابی حاتم میں ہے آپ نے یوں فرمایا وانا اشھدای رب

طبرانی میں ہے حضرت غالب قطان فرماتے ہیں :

میں کوفے میں تجارتی غرض سے گیا اور حضرت اعمش کے قریب ٹھہرا، رات کو حضرت اعمش تہجد کیلئے کھڑے ہوئے پڑھتے پڑھتے جب اس آیت تک پہنچے اور إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ (۳:۱۹) پڑھا تو فرمایا وانا اشھد بما شھد اللہ بہ واستودع اللہ ھذہ الشھادۃ وھی لی عند اللہ ودیعتہ یعنی میں بھی شہادت دیتا ہوں اس کی جس کی شہادت اللہ نے دی اور میں اس شہادت کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یہ میری امانت اللہ کے پاس ہے، پھر کئی دفعہ إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الإِسْلاَمُ پڑھا،

میں نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ شاید اس بارے میں کوئی حدیث سنی ہوگی، صبح ہی صبح میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ابومحمد کیا بات تھی جو آپ اس آیت کو بار بار پڑھتے رہے؟کہا کیا اس کی فضیلت تمہیں معلوم نہیں؟

 میں نے کہا حضرت میں تو مہینہ بھر سے آپ کی خدمت میں ہوں لیکن آپ نے حدیث بیان ہی نہیں کی، کہنے لگے اللہ کی قسم میں تو سال بھر تک بیان نہ کروں گا، اب میں اس حدیث کے سننے کی خاطر سال بھر تک ٹھہرا رہا اور ان کے دروازے پر پڑا رہا جب سال کامل گزر چکا تو میں نے کہا اے ابو محمد سال گزر چکا ہے، سُن مجھ سے ابووائل نے حدیث بیان کی، اس نے عبداللہ سے سنا، وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اس کے پڑھنے والے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اللہ عزوجل فرمائے گا میرے اس بندے نے میرا عہد لیا ہے اور میں عہد کو پورا کرنے میں سب سے افضل و اعلیٰ ہوں، میرے اس بندے کو جنت میں لے جاؤ۔

إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ

بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام ہے

 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے وہ صرف اسلام ہی کو قبول فرماتا ہے، اسلام ہر زمانے کے پیغمبر کی وحی کی تابعداری کا نام ہے، اور سب سے آخر اور سب رسولوں کو ختم کرنے والے ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ کی نبوت کے بعد نبوت کے سب راستے بند ہوگئے اب جو شخص آپ کی شریعت کے سوا کسی چیز پر عمل کرے اللہ کے نزدیک وہ صاحب ایمان نہیں

جیسے اور جگہ ہے:

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَـمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ (۳:۸۵)

جو شخص اسلام کے سوا اور دین کی تلاش کرے وہ اس سے قبول نہیں کیا جائے گا،

 اسی طرح اس آیت میں دین کا انحصار اسلام میں کر دیا ہے۔

حضرت ابن عباس کی قرأت میںشَهِدَ اللَّهُ اِنَّهُ ہے اوراِنَّ الْإِسْلَامُ  ہے، تو معنی یہ ہوں گے، خود اللہ کی گواہی ہے اور اس کے فرشتوں اور ذی علم انسانوں کے نزدیک مقبول ہونے والا دین صرف اسلام ہی ہے،

 جمہور کی قرأت میں ان زیر کے ساتھ ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں ہی ٹھیک ہیں، لیکن جمہور کا قول زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔

وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ

اور اہل کتاب اپنے پاس علم آجانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بناء پر ہی اختلاف کیا ہے

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ پہلی کتاب والوں نے اپنے پاک اللہ کے پیغمبروں کے آنے اور اللہ کی کتابیں نازل ہونے کے بعد بھی اختلاف کیا، جس کی وجہ سے صرف ان کا آپس کا بغض و عناد تھا کہ میں اس کیخلاف ہی چلوں چاہے وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو،

وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ  (۱۹)‏

اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔‏

پھر ارشاد ہے کہ جب اللہ کی آیتیں اتر چکی، اب جو ان کا انکار کرے انہیں نہ مانے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے اس کی تکذیب کا بہت جلد حساب لے گا اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے اسے سخت عذاب دے گا اور اسے اس کی اس شرارت کا لطف چکھائے گا۔

فَإِنْ حَاجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ

پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں تو آپ کہدیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے

فرمایا اگر یہ لوگ تجھ سے توحید باری تعالیٰ کے بارے میں جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں تو خالص اللہ ہی کی عبادت کروں گا جس کا نہ کوئی شریک ہے نہ اس جیسا کوئی ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی اور جو میرے اُمتی ہیں میرے دین پر ہیں۔

 ان سب کا قول بھی یہی ہے،

جیسے اور جگہ فرمایا:

قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِى أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِى (۱۲:۱۰۸)

آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے، میں اور پیروکار اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ

وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ ۚ

 اور اہل کتاب سے اور ان پڑھ لوگوں سے کہہ دیجئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟

پھر حکم دیتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہود و نصاریٰ جن کے ہاتھوں میں اللہ کی کتاب ہے اور مشرکین سے جو اَن پڑھ ہیں کہہ دو کہ تم سب کی ہدایت اسلام میں ہی ہے

فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا ۖ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ ۗ

 پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً  ہدایت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے

اور اگر یہ نہ مانیں تو کوئی بات نہیں، آپ اپنا فرض تبلیغ ادا کر چکے، اللہ خود ان سے سمجھ لے گا، ان سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے وہ جسے سیدھا راستہ دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے، اپنی حکمت کو وہی خوب جانتا ہے اس کی حجت تو پوری ہو کر ہی رہتی ہے،

وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (۲۰)‏

اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے۔‏

اس کی اپنے بندوں پر نظر ہے اسے خوب معلوم ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے اور کون ضلالت کا مستحق ہے؟

 اس سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔

دوسری آیتوں میں بھی صاف صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے ہیں، اور خود آپ کے دین کے احکام بھی اس پر دلالت کرتے ہیں اور کتاب و سنت میں بھی بہت سی آیتیں اور حدیثیں اسی مفہوم کی ہیں،

 قرآن پاک میں ایک جگہ ہے:

قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (۷:۱۵۸)

آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف سے اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں،

اور آیت میں ہے:

تَبَارَكَ الَّذِى نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَـلَمِينَ نَذِيراً (۲۵:۱)

 بہت بابرکت ہے وہ اللہ تعالیٰ جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا تاکہ وہ تمام لوگوں کے لئے آگاہ کرنے والا بن جائے۔‏

بخاری و مسلم میں کئی کئی واقعات سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب و عجم کے تمام بادشاہوں کو اور دوسرے اطراف کے لوگوں کو خطوط بھجوائے جن میں انہیں اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی خواہ وہ عرب ہوں عجم ہوں اہل کتاب ہوں مذہب والے ہوں اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے فرض کو تمام و کمال تک پہنچا دیا۔

مسند عبدالرزاق میں حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس اُمت میں سے جس کے کان میں میری نسبت کی آواز پہنچے اور وہ میری لائی ہوئی چیز پر ایمان نہ لائے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو مگر مجھ پر ایمان لائے بغیر مر جائے گا تو قطعاً جہنمی ہوگا،

مسلم شریف میں بھی یہ حدیث مروی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے:

 میں ہر ایک سرخ و سیاہ کی طرف اللہ کا نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں،

 ایک اور حدیث میں ہے :

ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا رہا اور میں تمام انسانوں کیلئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں،

مسند احمد میں حضرت انسؓ سے مروی ہے:

 ایک یہودی لڑکا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے وضو کا پانی رکھا کرتا تھا اور جوتیاں لا کر رکھ دیتا تھا، بیمار پڑاگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بیمار پرسی کیلئے تشریف لائے، اس وقت اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فلاں لا الہ الا اللہ کہہ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور باپ کو خاموش دیکھ کر خود بھی چپ رہا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا

 اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا باپ نے کہا ابوالقاسم کی مان لے (صلی اللہ علیہ وسلم) پس اس بچے نے کہا اشھد ان لا الہ الا اللہ وانک رسول اللہ

وہاں سے یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے میری وجہ سے اسے جہنم سے بچا لیا،

یہی حدیث صحیح بخاری میں حضرت امام بخاری بھی لائے ہیں، ان کے سوا اور بھی بہت سی صحیح حدیثیں بھی اور قرآن کریم کی آیتیں ہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ

 فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (۲۱)‏

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اور ناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔‏

یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کر دیا کرتے تھے،

 حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابوحاتم میں ہے :

حضرت ابوعبیدہ بن جراح ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا؟

آپ ﷺنے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے،پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا  اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے،

ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کر دیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں،

اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو،

أُولَئِكَ الَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ (۲۲)‏

ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔‏

 ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہو گا۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ (۲۳)‏

کیا آپ نے نہیں دیکھا جنہیں ایک حصہ کتاب کا دیا گیا ہے وہ اپنے آپس کے فیصلوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں، پھر بھی ایک جماعت ان کی منہ پھیر کر لوٹ جاتی ہے۔‏

یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں،

ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ ۖ

اس کی وجہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی،

اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کر دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز،

 دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن، اس کی پوری تفسیر سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے،

وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (۲۴)‏

 ان کی گھڑی گھڑائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔‏

اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے،

فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (۲۵)‏

پس کیا حال ہوگا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کریں گے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص کو اپنا اپنا کیا پورا پورا دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔‏

 پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہو گا کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا۔

قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ۖ

آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے تو جسے چاہے ذلت دے،

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لئے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔

 یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا،

 اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی اُمی مکی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام اِنس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاء کی خوبیاں آپ میں جمع کر دیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گزشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی اُمت کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیااور  آپ کے  دین اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کر دیا،

 اللہ تعالیٰ کا درود و سلام آپ ﷺپر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش باقی  رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین،

طبرانی کی حدیث میں ہے:

 اللہ کا اسم اعظم اس آیت قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ۔۔۔میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔

بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۶)

تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بیشک تو ہرچیز پر قادر ہے۔‏

پس فرمایا کہو اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ

وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ هَـذَا الْقُرْءَانُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ (۴۳:۳۱)

اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا

اس کی تردید کرتے ہوئےاللہ تعالیٰ نے فرمایا:

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَةَ رَبِّكَ (۴۳:۳۲)

کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟

جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون؟

 کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے؟

جیسے اور جگہ ہے:

اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (۶:۱۲۴)

اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے

اور جگہ فرمایا:

انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (۱۷:۲۱)

دیکھ لے کہ ان میں ایک کو ایک پر ہم نے کس طرح فضیلت دے رکھی ہے

تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۖ

تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے

 پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کر دیتا ہے،

 زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کی گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔

وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۖ

تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے

تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے

کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مؤمن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مؤمن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں،

وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۲۷)

تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بیشمار روزی دیتا ہے۔‏

تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں،

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ

مؤمنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں

یہاں اللہ تعالیٰ ترک موالات کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے مسلمانوں کو کفار سے دوستی اور محض محبت کرنا مناسب نہیں بلکہ انہیں آپس میں ایمان داروں سے میل ملاپ اور محبت رکھنی چاہیے،

وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ

اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں (یا  )یہ کہ ان کے شر سے کس طرح بچاؤ مقصود ہو

پھر انہیں حکم سناتا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس سے اللہ بالکل بیزار ہو جائے گا،

جیسے اور جگہ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ ۙ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ۚ تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ (۶۰:۱)

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ تم دوستی سے ان کی طرف پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس حق کے ساتھ جو تمہارے پاس آچکا ہے کفر کرتے ہیں، پیغمبر کو اور خود تمہیں بھی محض اس وجہ سے جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر تم میری راہ میں جہاد کے لئے اور میری رضامندی کی طلب میں نکلتے ہو (تو ان سے دوستیاں نہ کرو) انکے پاس محبت کا پیغام پوشیدہ بھیجتے ہو اور مجھے خوب معلوم ہے جو تم نے چھپایا وہ بھی جو تم نے ظاہر کیا، تم میں سے جو بھی اس کام کو کرے گا وہ یقیناً راہ راست سے بہک جائے گا ۔‏

 دوسری جگہ پروردگار عالم نے مہاجر انصار اور دوسرے مؤمنوں کے بھائی چارے کا ذکر کر کے فرمایا :

يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ للَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً (۴:۱۴۴)

 اے ایمان والو! مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی صاف حجت قائم کر لو ۔‏

يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَـرَى أَوْلِيَآءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ   (۵:۵۱)

اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے،

وَالَّذينَ كَفَرُواْ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِى الاٌّرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ (۸:۷۳)

کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہوگا اور زبردست فساد ہو جائے گا

 البتہ ان لوگوں کو رخصت دے دی گئی جو کسی شہر میں کسی وقت ان کی بدی اور برائی سے ڈر کر دفع الوقتی کے لئے بظاہر کچھ میل ملاپ ظاہر کریں لیکن دل میں ان کی طرف رغبت اور ان سے حقیقی محبت نہ ہو، جیسے صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے  کہ ہم بعض قوموں سے کشادہ پیشانی سے ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں،

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہار کرے لیکن عمل میں ان کا ساتھ ایسے وقت میں بھی ہرگز نہ دے،

یہی بات اور مفسرین سے بھی مروی ہے اور اسی کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے:

مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ (۱۶:۱۰۶)

جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے ان مسلمانوں کے جن پر زبردستی کی جائے مگر ان کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو،

بخاری میں ہے حضرت حسن فرماتے ہیں یہ حکم قیامت تک کے لئے ہے۔

وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ (۲۸)

اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔‏

پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے۔ یعنی اپنے دبدبے اور اپنے عذاب سے اس شخص کو خبردار کئے دیتا ہے جو اس کے فرمان کی مخالفت کر کے اس کے دشمنوں سے دوستی رکھے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کرے۔

پھر فرمایا اللہ کی طرف لوٹنا ہے ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ وہیں ملے گا۔

 حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا  اے بنی اود! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں جان لو کہ اللہ کی طرف پھر کر سب کو جانا ہے پھر یا تو جنت ٹھکانا ہو گا یا جہنم۔

قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ

کہہ دیجئے! کہ تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواہ ظاہر کرو اللہ تعالیٰ بہر حال جانتا ہے،

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔

وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۹)

آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔‏

زمین کے گوشوں میں پہاڑوں کے سمندروں میں آسمانوں میں ہواؤں میں سوراخوں میں غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے،

پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیے، وہ عالم بھی ہے اور قادر بھی ہے ممکن ہے کسی کو ڈھیل دے دے لیکن جب پکڑے گا تب دبوچ لے گا پھر نہ مہلت ملے گی نہ رخصت،

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا ۗ

جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پالے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت سی دوری ہوتی۔

ایک دن آنے والا ہے جس دن تمام عمر کے برے بھلے سب کام سامنے رکھ دئیے جائیں گے، نیکیوں کو دیکھ کر خوشی ہو گی اور برائیوں پر نظریں ڈال کر دانت پیسے گا اور حسرت و افسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں ان سے کوسوں دور رہتا اور پرے ہی پرے رہتا

 قرآن نے اور جگہ فرمایا:

يُنَبَّأُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذِ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (۷۵:۱۳)

آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاہ کیا جائے گا

شیطان جو اس کے ساتھ دنیا میں رہتا تھا اور اسے برائیوں پر اکساتا تھا اس سے بھی اس دن بیزاری کرے گا اور کہے گا:

يلَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ (۴۳:۳۸)

کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے

وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (۳۰)

 اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔‏

پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے،

 پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اپنے نیک بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اس کے لطف و کرم سے کبھی ناامید نہ ہوں وہ نہایت ہی مہربان بہت رحم اور پیار رکھنے والا ہے،

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ بھی اس کی سراسر مہربانی و لطف و محبت ہے کہ اس نے اپنے سے نہیں بلکہ اپنے عذاب سے اپنے بندوں کو ڈرایا،

یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم بندوں کو بھی چاہے کہ صراط مستقیم سے قدم نہ ہٹائیں دین پاک کو نہ چھوڑیں رسول کریم کی فرمانبرداری سے منہ نہ موڑیں۔

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا

اس آیت نے فیصلہ کر دیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے،

 اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا۔

جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔

غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 دین صرف اللہ کے لئے محبت اور اسی کے لئے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی،

 لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے،

وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۳۱)

اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (۳۲)

کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا ۔

 پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہو جائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔

 اس سے واضح ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہو سکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی اُمی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا،

 اس کا بیان تفصیل کے ساتھ( آیت وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ (۳:۸۱) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ

إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ (۳۳)

بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم ؑ کو اور نوح ؑ کو، ابراہیم ؑ کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرمایا  

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان بزرگ ہستیوں کو تمام جہان پر فضیلت عنایت فرمائی،

حضرت آدمؑ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ۔ اپنی روح ان میں پھونکی ہرچیز کے نام انہیں بتلائے، جنت میں انہیں بسایا پھر اپنی حکمت کے اظہار کے لئے زمین پر اتارا،

 جب زمین پر بت پرستی قائم ہو گئی تو حضرت نوح علیہ السلام کو سب سے پہلا رسول بنا کر بھیجا پھر جب ان کی قوم نے سرکشی کی پیغمبر کی ہدایت پر عمل نہ کیا، حضرت نوح ؑنے دن رات پوشیدہ اور ظاہر اللہ کی طرف دعوت دی لیکن قوم نے ایک نہ سنی تو نوح علیہ السلام کے فرماں برداروں کے سوا باقی سب کو پانی کے عذاب یعنی مشہور طوفان نوح بھیج کر ڈبو دیا۔

خاندان خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کو اللہ تعالیٰ نے برگزیدگی عنایت فرمائی اسی خاندان میں سے سیدالبشر خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عمران کے خاندان کو بھی اس نے منتخب کر لیا،

عمران نام ہے حضرت مریم کے والد صاحب کا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں، ان کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق یہ ہے، عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیث بن ایازبن رخیعم بن سلیمان بن داؤد علیہما السلام،

ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (۳۴)

کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے۔‏

 پس عیسیٰ ؑ بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں اس کا مفصل بیان سورۃ انعام کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ

إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي ۖ

جب عمران کی بیوی نے کہا کے اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مانی، تو میری طرف سے قبول فرما،

حضرت عمران کی بیوی صاحبہ کا نام حنہ بنت فاقوذ تھا حضرت مریم علیہما السلام کی والدہ تھیں

حضرت محمد اسحاق فرماتے ہیں انہیں اولاد نہیں ہوتی تھی ایک دن ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کو چوغہ دے رہی ہے تو انہیں ولولہ اٹھا اور اللہ تعالیٰ سے اسی وقت دعا کی اور خلوص کے ساتھ اللہ کو پکارا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول فرما لی اور اسی رات انہیں حمل ٹھہر گیا

جب حمل کا یقین ہو گیا تو نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ مجھے جو اولاد دے گا اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے اللہ کے نام پر آزاد کر دوں گی،

إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (۳۵)

یقیناً  تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔‏

پھر اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تو میری اس مخلصانہ نذر کو قبول فرما تو میری دعا کو سن رہا ہے اور تو میری نیت کو بھی خوب جان رہا ہے،

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى ۖ

جب بچی کو جنا تو کہنے لگی اے پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں

اب یہ معلوم نہ تھا لڑکا ہو گا یا لڑکی جب پیدا ہوا تو دیکھا کہ وہ لڑکی ہے اور لڑکی تو اس قابل نہیں کہ وہ مسجد مقدس کی خدمت انجام دے سکے اس کے لئے تو لڑکا ہونا چاہئے تو عاجزی کے طور پر اپنی مجبوری جناب باری میں ظاہر کی کہ اے اللہ میں تو اسے تیرے نام پر وقف کر چکی تھی لیکن مجھے تو لڑکی ہوئی ہے ، واللہ اعلم

آیت وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعْتُ بھی پڑھا گیا یعنی یہ قول بھی حضرت حنہ کا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے ہاں لڑکی ہوئی

 اور تا کے جزم کے ساتھ بھی آیا ہے، یعنی اللہ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے،

اور فرماتی ہیں کہ مرد عورت برابر نہیں،

وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (۳۶)

میں نے اس کا نام مریم رکھا میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں

میں اس کا نام مریم رکھتی ہوں۔

 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جس دن بچہ ہوا اسی دن نام رکھنا بھی جائز ہے، کیونکہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہماری شریعت ہے اور یہاں یہ بیان کیا گیا اور تردید نہیں کی گئی بلکہ اسے ثابت اور مقرر رکھا گیا،

 اسی طرح حدیث شریف میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

آج رات میرے ہاں لڑکا ہوا اور میں نے اس کا نام اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کے نام پر ابراہیم رکھا   بخاری ومسلم،

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے بھائی کو جبکہ وہ تولد ہوئے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے گھٹی دی اور ان کا نام عبداللہ رکھا،

یہ حدیث بھی بخاری و مسلم میں موجود ہے

 ایک اور حدیث میں ہے:

 ایک شخص نے آکر کہا یا رسول اللہ ﷺ میرے ہاں رات کو بچہ ہوا ہے کیا نام رکھوں؟ فرمایا عبدالرحمٰن نام رکھو (بخاری)

ایک اور صحیح حدیث میں ہے:

 حضرت ابوسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں بچہ ہوا جسے لے کر آپ حاضر خدمت نبوی ہوئے تاکہ آپ اپنے دست مبارک سے اس بچے کو گھٹی دیں آپ اور طرف متوجہ ہوگئے بچہ کا خیال نہ رہا۔ حضرت ابواسید نے بچے کو واپس گھر بھیج دیا جب آپ فارغ ہوئے بچے کی طرف نظر ڈالی تو اسے نہ پایا گھبرا کر پوچھا اور معلوم کر کے کہا اس کا نام منذر رکھو (یعنی ڈرا دینے والا)

مسند احمد اور سنن میں ایک اور حدیث مروی ہے جسے امام ترمذی صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ہر بچہ اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن عقیقہ کرے یعنی جانور ذبح کرے اور نام رکھے، اور بچہ کا سر منڈوائے،

 ایک روایت میں ہے اور خون بہایا جائے اور یہ زیادہ ثبوت والی اور زیادہ حفظ والی روایت ہے واللہ اعلم،

لیکن زبیر بن بکار کی روایت جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا عقیقہ کیا اور نام ابراہیم رکھا یہ حدیث سنداً ثابت نہیں اور صحیح حدیث اس کے خلاف موجود ہے اور یہ تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ اس نام کی شہرت اس دن ہوئی واللہ اعلم۔

حضرت مریم علیہما السلام کی اس دعا کو قبول فرمایا،

چنانچہ مسند عبدالرزاق میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر بچے کو شیطان اس کی پیدائش کے وقت ٹہوکا دیتا ہے اسی سے وہ چیخ کر رونے لگتا ہے لیکن حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ اس سے بچے رہے،

اس حدیث کو بیان فرما کر حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی موجود ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے مروی ہے

 کسی میں ہے ایک یا دو دھچکے مارتا ہے،

 ایک حدیث میں صرف عیسیٰ کا ہی ذکر ہے کہ شیطان نے انہیں بھی دھچکا مارنا چاہا لیکن انہیں دیا ہوا ٹہوکا پردے میں لگ کر رہ گیا۔

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ

پس اسے اسکے پرورگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے والا زکریا علیہ السلام کو بنایا

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حضرت حنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کر دیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، حضرت زکریاؑ کو ان کا کفیل بنا دیا

ابن اسحاق تو فرماتے ہیں یہ اس لئے کہ حضرت مریم علیہما السلام یتیم ہو گئی تھیں،لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ حضرت زکریاؑ نے اپنے ذمہ لے لیا تھا،

 ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں واللہ اعلم،

حضرت ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے:

 حضرت زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں،

ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ حضرت مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔

صحیح حدیث میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے،

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۖ

جب کبھی زکریا علیہ السلام ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے

اب اللہ تعالیٰ حضرت مریم کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بےموسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔

 مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابوالشعشاء، ابراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ، ربیع بن انس، عطیہ عوفی، اور سدی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں،

حضرت مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں رزق سے مراد علم اور وہ صحیفے ہیں جن میں علمی باتیں ہوتی تھیںلیکن اول قول ہی زیادہ صحیح ہے،

 اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔

قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۖ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (۳۷)

وہ پوچھتے اے مریم یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی وہ جواب دیتیں یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے،بیشک اللہ تعالیٰ جسے چاہے بیشمار روزی دے۔

حضرت زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟

صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے،

مسند حافظ ابویعلیٰ میں حدیث ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گزر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے باپ صدقے ہوں کچھ بھی نہیں،

 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے ہی تھے کہ حضرت فاطمہؓ کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت حضرت فاطمہؓ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گزار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دوں گی،

پھر حضرت حسنؓ یا حسینؓ کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں ملے اور ساتھ ہو لئے، آپﷺ آئے تو کہنے لگیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ نے کچھ بھجوا دیا ہے جسے میں نے آپ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے،

 آپ ﷺنے فرمایا میری پیاری بچی لے آؤ، اب جو طشت کھولا تو دیکھتی ہے کہ روٹی سالن سے ابل رہا ہے دیکھ کر حیران ہوگئیں لیکن فوراً سمجھ گئیں کہ اللہ کی طرف سے اس میں برکت نازل ہو گئی ہے، اللہ کا شکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پر درود پڑھا اور آپ کے پاس لا کر پیش کر دیا

 آپ ﷺنے بھی اسے دیکھ کر اللہ کی تعریف کی اور دریافت فرمایا کہ بیٹی یہ کہاں سے آیا؟

جواب دیا کہ ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بےحساب روزی دے،

 آپ ﷺنے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے پیاری بچی تجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی عورتوں کی سردار جیسا کر دیا، انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے،

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور آپ نے حضرت علیؓ نے اور حضرت فاطمہؓ نے اور حضرت حسینؓ نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ ۖ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ (۳۸)

اسی جگہ زکریاؑ نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔‏

حضرت زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت مریمؑ  کو بےموسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بےموسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے،

 اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لئے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے نِدَاءً خَفِيًّا (۱۹:۳)

فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَى

پس فرشتوں نے اسے آواز دی جب کہ وہ حجرے میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھاکہ اللہ تعالیٰ تجھے یحییٰ کی یقینی خوشخبری دیتا ہے

یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔

 یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حیات ایمان کے ساتھ ہو گی،

مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ (۳۹)

جو اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کرنے والا سردار، ضابطہ نفس اور نبی ہے نیک لوگوں میں سے۔‏

وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے،

حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں  سب سے پہلے حضرت عیسیٰؑ کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰؑ ہیں

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں،

یہ تھی حضرت یحییٰ کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے،

 سَيِّدًا کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں،

حَصُورًا کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آسکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو،

اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے:

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا،

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حَصُورًا اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو،اور حضرت یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا،

 یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے،

 اور مرفوع روایت میں ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا،

 اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا،

اس کے بعد حضرت زکریاؑ کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی،

قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَأَتِي عَاقِرٌ ۖ

کہنے لگے اے میرے رب! میرے بال بچہ کیسے ہوگا؟ میں بالکل بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔

 جب بشارت آچکی تب حضرت زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ،

قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ (۴۰)

فرمایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے کرتا ہے۔‏

فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا،

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً ۖ

کہنے لگا پروردگار میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دے،

اب حضرت زکریاؑ اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا

قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ۗ

 فرمایا، نشانی یہ ہے تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا صرف اشارے سے سمجھائے گا

نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا،

جیسے اور جگہ ہے ثَلَـثَ لَيَالٍ سَوِيّاً (۱۹:۱۰) یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت

وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ (۴۱)

 تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح بیان کرتا رہ ۔‏

 پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو،

 اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا،

 انشاء اللہ تعالیٰ۔

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ (۴۲)

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ نے تجھے برگزیدہ کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مریم ؑ کو فرشتوں نے خبر پہنچائی کہ اللہ نے انہیں ان کی کثرت عبادت ان کی دنیا کی بےرغبتی کی شرافت اور شیطانی وسواس سے دوری کی وجہ سے اپنے قرب خاص عنایت فرمادیا ہے، اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں خاص فضیلت دے رکھی ہے،

 صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جنتی عورتیں اونٹ پر سوار ہونے والیاں ہیں ان میں سے بہتر عورتیں قریش کی ہیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر بہت ہی شفقت اور پیار کرنے والی اور اپنے خاوند کی چیزوں کی پوری حفاظت کرنے والی ہیں، حضرت مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی،

 بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے:

 عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سے بہتر عورت حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)

ترمذی کی صحیح حدیث میں ہے:

 ساری دنیا کی عورتوں میں سے تجھے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، آسیہ فرعون کی بیوی بس ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)

اور حدیث میں ہے:

 یہ چاروں عورتیں تمام عالم کی عورتوں سے افضل اور بہتر ہیں

 اور حدیث میں ہے :

مردوں میں سے کامل مرد بہت سے ہیں لیکن عورتوں میں کمال والی عورتیں صرف تین ہیں، مریم بنت عمران ، آسیہ فرعون کی بیوی اور خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید یعنی گوشت کے شوربے میں بھگوئی ہوئی روٹی کی تمام کھانوں پر

یہ حدیث ابو داؤد کے علاوہ اور سب کتابوں میں ہے، صحیح بخاری شریف کی اس حدیث میں حضرت خدیجہؓ کا ذکر نہیں،

 میں نے اس حدیث کی تمام سندیں اور ہر سند کے الفاظ اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں حضرت عیسیٰ کے ذکر میں جمع کر دئیے ہیں وللہ الحمد والمنۃ

يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ (۴۳)

اے مریم تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‏

پھر فرشتے فرماتے ہیں کہ اے مریم تو خشوع و خضوع رکوع و سجود میں رہا کر اللہ تبارک وتعالیٰ تجھے اپنی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان بنانے والا ہے اس لئے تجھے رب کی طرف پوری رغبت رکھنی چاہئے،

قنوت کے معنی اطاعت کے ہیں جو عاجزی اور دل کی حاضری کے ساتھ ہو،

جیسے ارشادہے:

بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ كُلٌّ لَّهُ قَـنِتُونَ (۲:۱۱۶)

اس کی ماتحتی اور ملکیت میں زمین و آسمان کی ہرچیز ہے سب کے سب اس کے محکوم اور تابع فرمان ہیں،

ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے:

 قرآن میں جہاں کہیں قنوت کا لفظ ہے اس سے مراد اطاعت گزاری ہے،

یہی حدیث ابن جریر میں بھی ہے لیکن سند میں نکارت ہے،

حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت مریم علیہما السلام نماز میں اتنا لمبا قیام کرتی تھیں کہ دونوں ٹخنوں پر ورم آجاتا تھا، قنوت سے مراد نماز میں لمبے لمبے رکوع کرنا ہے،

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہ اور رکوع سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا،

حضرت اوزاعی فرماتے ہیں کہ مریم صدیقہ اپنے عبادت خانے میں اس قدر بکثرت باخشوع اور لمبی نمازیں پڑھا کرتی تھیں کہ دونوں پیروں میں زرد پانی اتر آیا، رضی اللہ عنہما و ارضاہا۔

ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۚ

یہ غیب کی خبروں سے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں،

یہ اہم خبریں بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کا علم تمہیں صرف میری وحی سے ہوا ورنہ تمہیں کیا خبر؟

وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ (۴۴)

تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پا لے گا؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا ۔

 تم کچھ اس وقت ان کے پاس تھوڑے ہی موجود تھے جو ان واقعات کی خبر لوگوں کو پہنچاتے؟لیکن اپنی وحی سے ہم نے ان واقعات کو اس طرح آپ پر کھول دیا گویا آپ اس وقت خود موجود تھے جبکہ حضرت مریم کی پرورش کے بارے میں ہر ایک دوسرے پر سبقت کرتا تھا سب کی چاہت تھی کہ اس دولت سے مالا مال ہو جاؤں اور یہ اجر مجھے مل جائے،

 جب آپ کی والدہ صاحبہ آپ کو لے کر بیت المقدس کی مسجد سلیمانی میں تشریف لائیں اور وہاں کے خادموں سے جو حضرت موسیٰ کے بھائی اور حضرت ہارون کی نسل میں سے تھے کہا کہ میں انہیں اپنی نذر کے مطابق نام اللہ پر آزاد کر چکی ہوں تم اسے سنبھالو، یہ ظاہر ہے کہ لڑکی ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ حیض کی حالت میں عورتیں مسجد میں نہیں آسکتیں اب تم جانو تمہارا کام، میں تو اسے گھر واپس نہیں لے جا سکتی کیونکہ نام اللہ اسے نذر کر چکی ہوں،

حضرت عمران یہاں کے امام نماز تھے اور قربانیوں کے مہتمم تھے اور یہ ان کی صاحبزادی تھیں تو ہر ایک نے بڑی چاہت سے ان کے لئے ہاتھ پھیلا دئیے ادھر سے حضرت زکریا ؑنے اپنا ایک حق اور جتایا کہ میں رشتہ میں بھی ان کا خالو ہوتا ہوں تو یہ لڑکی مجھ ہی کو ملنی چاہیے اور لوگ راضی نہ ہوئے آخر قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ میں ان سب نے اپنی وہ قلمیں ڈالیں جن سے توراۃ لکھتے تھے، تو قرعہ حضرت زکریا ؑکے نام نکلا اور یہی اس سعادت سے مشرف ہوئے

دوسری مفصل روایتوں میں یہ بھی ہے کہ نہر اردن پر جا کر یہ قلمیں ڈالی گئیں کہ پانی کے بہاؤ کے ساتھ جو قلم نکل جائے وہ نہیں اور جس کا قلم ٹھہر جائے وہ حضرت مریم کا کفیل بنے، چنانچہ سب کی قلمیں تو پانی بہا کر لے گیا صرف حضرت زکریا کا قلم ٹھہر گیا بلکہ الٹا اوپر کو چڑھنے لگا تو ایک تو قرعے میں ان کا نام نکلا دوسرے قریب کے رشتہ داری تھے پھر یہ خود ان تمام کے سردار امام مالک نبی تھے صلوات اللہ وسلامہ علیہ پس انہی کو حضرت مریم سونپ دی گئیں۔

إِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ

جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے

یہ خوشخبری حضرت مریم کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ كُنْ کے کہنے سے ہوگا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ (۳:۳۹)  کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا،

 اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیہ السلام کا، ہر مؤمن اسے اسی نام سے پہچانے گا،

مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔

وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (۴۵)

جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔‏

اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لئے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جائیں گی صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیھم اجمعین

وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ الصَّالِحِينَ (۴۶)

وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔‏

وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچپنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے،

ایک حدیث میں ہے:

 بچپن میں کلام صرف حضرت عیسیٰ اور جریج کے ساتھی نے کیا

 اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے

قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ ۖ

کہنے لگیں الہٰی مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا،

حضرت مریم اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں ماشاء اللہ،

قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ

فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرتا ہے،

اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے،

 اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہئے کہ حضرت زکریا ؑکے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ يَفْعَلُ تھا یہاں لفظ يَخْلُقُ ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لئے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں حضرت عیسیٰ کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔

إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (۴۷)

 جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے ہو جا! تو وہ ہو جاتا ہے ۔

 پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے:

وَمَآ أَمْرُنَآ إِلاَّ وَحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ (۵۴:۵۰)

اور ہمارا حکم صرف ایک دفعہ (کا ایک کلمہ) ہی ہوتا ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا۔‏

وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ (۴۸)

اللہ تعالیٰ اسے لکھنا اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔‏

فرشتے حضرت مریم سے کہتے ہیں کہ تیرے اس لڑکے یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کو پروردگار عالم لکھنا سکھائے گا حکمت سکھائے گا

لفظ حِكْمَة کی تفسیر سورۃ بقرہ میں گزر چکی ہے،

 اور اسے توراۃ سکھائے گا جو حضرت موسیٰ بن عمران پر اتری تھی اور انجیل سکھائے گا جو حضرت عیسیٰ ہی پر اتری، چنانچہ آپ کو یہ دونوں کتابیں حفظ تھیں،

وَرَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ ۖ

اور وہ بنی اسرائیل کی طرف سے رسول ہوگا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں،

انہیں بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجے گا، اور اس بات کو کہنے کے لئے کہ میرا یہ معجزہ دیکھو کہ

أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ

میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے

مٹی لی اس کا پرندہ بنایا پھر پھونک مارتے ہی وہ سچ مچ کا جیتا جاگتا پرند بن کر سب کے سامنے اڑنے لگا، یہ اللہ کے حکم اور اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے سبب تھا، حضرت عیسیٰ کی اپنی قدرت سے نہیں یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کی نبوت کا نشان تھا،

وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللَّهِ ۖ

اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر لیتا ہوں اور مردے کو جلا دیتا ہوں

أَكْمَه اس اندھے کو کہتے ہیں جسے دن کے وقت دکھائی نہ دے اور رات کو دکھائی دے،

بعض نے کہا أَكْمَه اس نابینا کو کہتے ہیں جسے دن کو دکھائی دے اور رات کو دکھائی نہ دے،

بعض کہتے ہیں بھینگا اور ترچھا اور کانا مراد ہے،

بعض کا قول یہ بھی ہے کہ جو ماں کے پیٹ سے بالکل اندھا پیدا ہوا ہو، یہاں یہی ترجمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں معجزے کا کمال یہی ہے اور مخالفین کو عاجز کرنے کے لئے اس کی یہ صورت اور صورتوں سے اعلیٰ ہے،

أَبْرَصَ سفید دانے والے کوڑھی کو کہتے ہیں ایسی بیماری بھی اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ اچھے کر دیتے تھے اور مردوں کو بھی اللہ عزوجل کے حکم سے آپ زندہ کر دیا کرتے تھے،

 اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے والوں کی مناسبت سے خاص خاص معجزات حضرت باری تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں،

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بڑا چرچا تھا اور جادو گروں کی بڑی قدرو تعظیم تھی تو اللہ تعالیٰ نھے آپ کو وہ معجزہ دیا جس سے تمام جادوگروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہو گئی اور انہیں کامل یقین ہو گیا کہ یہ تو اللہ واحد و قہار کی طرف سے عطیہ ہے جادو ہرگز نہیں چنانچہ ان کی گردنیں جھک گئیں اور یک لخت وہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور بالآخر اللہ کے مقرب بندے بن گئے،

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ کامل اطباء اور ماہر حکیم علم طب کے پورے عالم اور لاجواب کامل الفن استاد موجود تھے پس آپ کو وہ معجزے دیئے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے بھلا مادر زاد اندھوں کو بالکل بینا کر دینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے اچھا کر دینا اتنا ہی نہیں بلکہ جمادات جو محض بےجان چیز ہے اس میں روح ڈال دینا اور قبروں میں سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ کسی کے بس کی بات نہیں؟ صرف اللہ سبحانہ کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپ سے ظاہر ہوئیں،

ٹھیک اسی طرح جب ہمارے نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت فصاحت بلاغت نکتہ رسی اور بلند خیالی بول چال میں نزاکت و لطافت کا زمانہ تھا اس فن میں بلند پایہ شاعروں نے وہ کمال حاصل کر لیا تھا کہ دنیا ان کے قدموں پر جھکتی تھی پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب اللہ ایسی عطا فرمائی گئی کہ ان سب کی کوندتی ہوئی بجلیاں ماند پڑ گئیں اور کلام اللہ کے نور نے انہیں نیچا دکھایا اور یقین کامل ہو گیا کہ یہ انسانی کلام نہیں،

 تمام دنیا سے کہہ دیا گیا اور جتا جتا کر بتا بتا کر سنا سنا کر منادی کر کے بار بار اعلان کیا گیا کہ ہے کوئی جو اس جیسا کلام کہہ سکے؟

 اکیلے اکیلے نہیں سب مل جاؤ اور انسان ہی نہیں جنات کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لو پھر سارے قرآن کے برابر بھی نہیں صرف دس سورتوں کے برابر سہی، اور اچھا یہ بھی نہ سہی ایک ہی سورت اس کی مانند تو بنا کر لاؤلیکن سب کمریں ٹوٹ گئیں ہمتیں پست ہوگئیں گلے خشک ہوگئے زبان گنگ ہو گئی اور آج تک ساری دنیا سے نہ بن پڑا اور نہ کبھی ہو سکے گا

بھلا کہاں اللہ جل شانہ کا کلام اور کہاں مخلوق؟ پس اس زمانہ کے اعتبار سے اس معجزے نے اپنا اثر کیا اور مخالفین کو ہتھیار ڈالتے ہی بن پڑی اور جوق درجوق اسلامی حلقے بڑھتے گئے۔

وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ۚ

اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں،

پھر حضرت مسیحؑ  کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع سے بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لئے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے،

إِنَّ فِي ذَلَِ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (۴۹)

اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو۔‏

یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟

وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ

اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے

میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں،

وَلِأُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ

 اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی گئیں

میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں،

 اس سے ثابت ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی،

جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا:

وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ (۴۳:۶۳)

میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا

وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (۵۰)

اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں اس لئے تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔‏

پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو،

إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (۵۱)

مانو میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔‏

جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔

فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ

مگر جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کا کفر محسوس کرلیا تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے؟

 اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے؟

لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے،

 بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے؟ قریش تو کلام الہٰی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کر دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے رضی اللہ عنھم وارضاھم

قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (۵۲)

حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تابعدار ہیں

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل

یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے،

بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے،

صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے :

جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کوئی ہے جو سینہ سپر ہو جائے؟

اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر ؓتیار ہوگئے

 آپ ﷺنے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیرؓ نے ہی قدم اٹھایا پس حضور علیہ السلام نے فرمایا :

ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے رضی اللہ عنہ۔

رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ (۵۳)

اے ہمارے پالنے والے معبود!ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی،پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے‏

پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے،

 اس سے مراد حضرت ابن عباسؓ کے نزدیک اُمت محمد ﷺمیں لکھ لینا ہے، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے،

وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (۵۴)

اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ بہتر جاننے والا ہے

پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰؑ کے جانی دشمن تھے انہیں مروا دینے اور سولی دینے کا قصد رکھتے تھے جنہوں نے اس زمانے کے بادشاہ کے کان حضرت عیسیٰؑ  طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے،

 بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ (دروغ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو،

چنانچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن (روشن دان) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی،

اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔

اسی کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔

إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ

جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں

قتادہ و بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا،

ابن عباسؓ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں،

وہب بن منبہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا،

 ابن اسحاق کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا،

وہب فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا،

مطر وراق فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا کر دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں،

اسی طرح ابن جریر فرماتے ہیں تَوَفِّي سے یہاں مراد ان کا رفع ہے

اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے:

وَهُوَ الَّذِى يَتَوَفَّـكُم بِالَّيْلِ (۶:۶۰)

اور وہ ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو (ایک گونہ) قبض کر دیتا ہے

اور جگہ ہے:

اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا (۳۹:۴۲)

اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آئی انہیں ان کی نیند کے وقت قبض کر لیتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے :

 الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا،

اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا،

 اور جگہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَى مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ـ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ـ بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ـ وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلاَّ لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (۴:۱۵۶،۱۵۹)

ان کے کفر کے باعث اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا یقین جانو کہ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا۔‏ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔ اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہونگے۔

مَوْتِهِ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب حضرت عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آرہا ہے۔ انشاء اللہ،

پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے،

ابن ابی حاتم میں حضرت حسن سے إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا،

حضرت حسن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔

وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۖ

اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے والا ہوں قیامت کیدن تک

پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک،

ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ (۵۵)

پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کرونگا۔‏

چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہوگئے

 ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں

بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے،

اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا،

 اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے

تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے، پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فیلسوف تھا جس کا نام اسطفلین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگاڑنے کے لئے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سؤر کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے،

غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین اسطفلین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی ان کے ہاتھ تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو،

 اب جبکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا

پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی اُمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، اس لئے کہ یہ نبی اُمی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے کی تھی، لہذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں اُمتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی اُمت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا،

علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لئے اس آیت کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس اُمت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملک کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آگئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تحت انہوں نے الٹ دئیے، کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہوگئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضامندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لئے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے

پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور انشاء اللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔

سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الہٰی لگ چکی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی اُمت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو

ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس اُمت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد ﷺ کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے

فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ (۵۶)

پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔‏

مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا

وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (۵۷)

لیکن ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ ان کا ثواب پورا پورا دے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔‏

لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی،

 اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔

ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ (۵۸)

یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہیں۔‏

پھر فرمایا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت حضرت عیسیٰ کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا:

ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ ـ مَا كَانَ للَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَـنَهُ إِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ (۱۹:۳۴،۳۵)

عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے،

 اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔

إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (۵۹)

اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ ؑ کی مثال ہوبہو آدم ؑ کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہوجا پس وہ ہوگیا۔‏

حضرت باری اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرما رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کا تو صرف باپ نہ تھا اور میں نے انہیں پیدا کر دیا تو کیا کون سی حیرانی بات ہے؟ میں نے حضرت آدم کو تو ان سے پہلے پیدا کیا تھا ان کا بھی باپ نہ تھا بلکہ ماں بھی نہ تھی، مٹی سے پتلا بنایا اور کہہ دیا آدم ہو جا اسی وقت ہو گیا، پھر میرے لئے صرف ماں سے پیدا کرنا کون سا مشکل ہو سکتا جبکہ بغیر ماں اور باپ کے بھی میں نے پیدا کر دیا،

پس اگر صرف باپ نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ کو تو سب سے پہلے اس مرتبہ سے ہٹا دینا چاہئے، کیونکہ ان کے دعوے کا جھوٹا ہونا اور خرابی اس سے بھی زیادہ یہاں ظاہر ہے یہاں ماں تو ہے وہاں تو نہ ماں تھی نہ باپ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے کہ آدم کو بغیر مرد و عورت کے پیدا کیا اور حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، اور عیسیٰ کو صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کر دیا اور باقی مخلوق کو مرد و عورت سے پیدا کیا

اسی لئے سورۃ مریم میں فرمایا:

وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ (۱۹:۲۱)

ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے

اور یہاں فرمایا ہے۔

الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (۶۰)

تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔‏

عیسیٰ کے بارے میں اللہ کا سچا فیصلہ یہی ہے اس کے سوا اور کچھ کسی کمی یا زیادتی کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ حق کے بعد گمراہی ہی ہوتی ہے پس تجھے اے نبی ہرگز ان شکی لوگوں میں نہ ہونا چاہئے،

فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ

اس لیے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آجانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ

اللہ رب العالمین اس کے بعد اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اگر اس قدر واضح اور کامل بیان کے بعد بھی کوئی شخص تجھ سے امر عیسیٰ کے بارے میں جھگڑے تو تو انہیں مباہلہ کی دعوت دے کہ

تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ (۶۱)

آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔

ہم فریقین مع اپنے بیٹوں اور بیویوں کے مباہلہ کے لئے نکلیں اور اللہ جل شانہ سے عاجزی کے ساتھ کہیں کہ اے اللہ ہم دونوں میں جو بھی جھوٹا ہو اس پر تو اپنی لعنت نازل فرما،

 اس مباہلہ کے نازل ہونے اور سورت کی ابتداء سے یہاں تک کی ان تمام آیتوں کے نازل ہونے کا سبب نجران کے نصاریٰ کا وفد تھا یہ لوگ یہاں آکر حضور ﷺ سے حضرت عیسیٰ کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ حکمرانی کے حصہ دار اور اللہ جل شانہ کے بیٹے ہیں پس ان کی تردید اور ان کے جواب میں یہ سب آیتیں نازل ہوئیں،

ابن اسحاق اپنی مشہور عام سیرت میں لکھتے ہیں ان کے علاوہ دوسرے مؤرخین نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے:

 نجران کے نصرانیوں نے بطور وفد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ساٹھ آدمی بھیجے تھے جن میں چودہ شخص ان کے سردار تھے جن کے نام یہ ہیں، عاقب جس کا نام عبدالمسیح تھا، سید جس کا نام ایہم تھا، ابو حارثہ بن علقمہ جو بکر بن وائل کا بھائی تھا، اور اوث بن حارث، زید، قیس، یزید اور اس کے دونوں لڑکے، اور خویلد اور عمرو، خالد، عبداللہ اور محسن

یہ سب چودہ سردار تھے لیکن پھر ان میں بڑے سردار تین شخص تھے عاقب جو امیر قوم تھا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اور صاحب مشورہ تھا اور اسی کی رائے پر یہ لوگ مطمئن ہو جاتے تھے

اور سید جو ان کا لاٹ پادری تھا اور مدرس اعلیٰ تھا یہ بنوبکر بن وائل کے عرب قبیلے میں سے تھا لیکن نصرانی بن گیا تھا اور رومیوں کے ہاں اس کی بڑی آؤ بھگت تھی اس کے لئے انہوں نے بڑے بڑے گرجے بنا دئیے تھے اور اس کے دین کی مضبوطی دیکھ کر اس کی بہت کچھ خاطر و مدارات اور خدمت و عزت کرتے رہتے تھے یہ شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و شان سے واقف تھا اور اگلی کتابوں میں آپ کی صفتیں پڑھ چکا تھا دل سے آپ کی نبوت کا قائل تھا لیکن نصرانیوں میں جو اس کی تکریم و تعظیم تھی اور وہاں جو جاہ و منصب اسے حاصل تھا اس کے چھن جانے کے خوف سے راہ حق کی طرف نہیں آتا تھا،

غرض یہ وفد مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسجد نبوی میں حاضر ہوا آپ اس وقت عصر کی نماز سے فارغ ہو کر بیٹھے ہی تھے یہ لوگ نفیس پوشاکیں پہنے ہوئے اور خوبصورت نرم چادریں اوڑھے ہوئے تھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے بنو حارث بن کعب کے خاندان کے لوگ ہوں

صحابہ کہتے ہیں ان کے بعد ان جیسا باشوکت وفد کوئی نہیں آیا،

 ان کی نماز کا وقت آگیا تو آپ کی اجازت سے انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے مسجد نبوی میں ہی اپنے طریق پر نماز ادا کر لی۔

بعد نماز کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی گفتگو ہوئی ادھر سے بولنے والے یہ تین شخص تھے حارثہ بن علقمہ عاقب یعنی عبدالمسیح اور سید یعنی ایہم یہ گو شاہی مذہب پر تھے لیکن کچھ امور میں اختلاف رکھتے تھے۔

حضرت مسیح کی نسبت ان کے تینوں خیال تھے یعنی وہ خود اللہ جل شانہ ہے اور اللہ کا لڑکا ہے اور تین میں کا تیسرا ہے اللہ ان کے اس ناپاک قول سے مبرا ہے اور بہت ہی بلند و بالا، تقریباً تمام نصاریٰ کا یہی عقیدہ ہے،

مسیح کے اللہ ہونے کی دلیل تو ان کے پاس یہ تھی کہ وہ مردوں کو زندہ کر دیتا تھا اور اندھوں اور کوڑھیوں اور بیماروں کو شفا دیتا تھا، غیب کی خبریں دیتا تھا اور مٹی کی چڑیا بنا کر پھونک مار کر اڑا دیا کرتا تھا اور جواب اس کا یہ ہے کہ یہ ساری باتیں اس سے اللہ کے حکم سے سرزد ہوتی تھیں اس لئے کہ اللہ کی نشانیاں اللہ کی باتوں کے سچ ہونے پر اور حضرت عیسیٰ کی نبوت پر مثبت دلیل ہو جائیں،

 اللہ کا لڑکا ماننے والوں کی حجت یہ تھی کہ ان کا بظاہر کوئی باپ نہ تھا اور گہوارے میں ہی بولنے لگے تھے، یہ باتیں بھی ایسی ہیں کہ ان سے پہلے دیکھنے میں ہی نہیں آئی تھیں

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی اللہ کی قدرت کی نشانیاں تھیں تاکہ لوگ اللہ کو اسباب کا محکوم اور عادت کا محتاج نہ سمجھیں وغیرہ۔ مترجم

اور تین میں تیسرا اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنے کلام میں فرمایا ہے ہم نے کیا ہمارا امر ہماری مخلوق ہم نے فیصلہ کیا وغیرہ پس اگر اللہ اکیلا ایک ہی ہوتا تو یوں نہ فرماتا بلکہ فرماتا میں نے کیا میرا امر میری مخلوق میں نے فیصلہ کیا وغیرہ پس ثابت ہوا کہ اللہ تین ہیں خود اللہ رب کعبہ اور عیسیٰ اور مریم

جس کا جواب یہ ہے کہ ہم کا لفظ صرف بڑائی کے لئے اور عظمت کے لئے ہے۔ مترجم

اللہ تعالیٰ ان ظالموں منکروں کعے قول سے پاک و بلند ہے، ان کے تمام عقائد کی تردید قرآن کریم میں نازل ہوئی،

جب یہ دونوں پادری حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کر چکے تو آپ ﷺنے فرمایا تم مسلمان ہو جاؤ

انہوں نے کہا ہم تو ماننے والے ہیں ہی،

 آپ ﷺنے فرمایا نہیں نہیں تمہیں چاہئے کہ اسلام قبول کر لو

وہ کہنے لگے ہم تو آپ سے پہلے کے مسلمان ہیں

فرمایا نہیں تمہارا یہ اسلام قبول نہیں اس لئے کہ تم اللہ کی اولاد مانتے ہو صلیب کی پوجا کرتے ہو خنزیر کھاتے ہو۔

 انہوں نے کہا اچھا پھر یہ تو فرمائے کہ حضرت عیسیٰ کا باپ کون تھا؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اس پر خاموش رہے اور سورۃ آل عمران کی شروع سے لے کر اوپر تک کی آیتیں ان کے جواب میں نازل ہوئیں،

 ابن اسحاق ان سب کی مختصر سی تفسیر بیان کر کے پھر لکھتے ہیں:

 آپ نے یہ سب تلاوت کر کے انہیں سمجھا دیں۔ اس مباہلہ کی آیت کو پڑھ کر آپ ﷺنے فرمایا اگر نہیں مانتے تو آؤ مباہلہ کو نکلو

 یہ سن کر وہ کہنے لگے اے ابوالقاسم ہمیں مہلت دیجئے کہ ہم آپس میں مشورہ کرلیں پھر تمہیں اس کا جواب دیں گے

 اب تنہائی میں بیٹھ کر انہوں نے عاقب سے مشورہ لیا جو بڑا دانا اور عقلمند سمجھا جاتا تھا اس نے اپنا حتمی فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ اے جماعت نصاریٰ تم نے یقین کے ساتھ اتنا تو معلوم کر لیا ہے کہ حضرت محمد (ﷺ) اللہ کے سچے رسول ہیں اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ حضرت عیسیٰ کی حقیت وہی ہے جو محمد (ﷺ) کی زبانی تم سن چکے ہو اور تمہیں بخوبی علم ہے کہ جو قوم نبی کے ساتھ ملاعنہ کرتی ہے نہ ان کے بڑے باقی رہتے ہیں نہ چھوٹے بڑے ہوتے ہیں بلکہ سب کے سب جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں یاد رکھو کہ اگر تم نے مباہلہ کے لئے قدم بڑھایا تو تمہارا ستیاناس ہو جائے گا، پس یا تو تم اسی دین کو قبول کر لو اور اگر کسی طرح نہیں ماننا چاہتے ہو اور اپنے دین پر اور حضرت عیسیٰ کے متعلق اپنے ہی خیالات پر قائم رہنا چاہتے ہو تو آپ سے صلح کر لو اور اپنے وطن کو لوٹ جاؤ،

چنانچہ یہ لوگ صلاح مشورہ کر کے پھر دربار نبوی میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے اے ابوالقاسم ((ﷺ) ہم آپ سے ملاعنہ کرنے کے لئے تیار نہیں آپ اپنے دین پر رہئے اور ہم اپنے خیالات پر ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ اپنے صحابیوں میں سے کسی ایسے شخص کو بھیج دیجئے جن سے آپ خوش ہوں کہ وہ ہمارے مالی جھگڑوں کا ہم میں فیصلہ کر دیں آپ لوگ ہماری نظروں میں بہت ہی پسندیدہ ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم دوپہر کو پھر آنا میں تمہارے ساتھ کسی مضبوط امانت دار کو کر دوں گا،

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے کسی دن بھی سردار بننے کی خواہش نہیں کی لیکن اس دن صرف اس خیال ہے سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تعریف کی ہے اس کا تصدیق کرنے والا اللہ کے نزدیک میں بن جاؤں، اسی لئے میں اس روز سویرے سویرے ظہر کی نماز کے لئے چل پڑا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے نماز ظہر پڑھائی پھر دائیں بائیں نظریں دوڑانے لگے میں بار بار اپنی جگہ اونچا ہوتا تھا تاکہ آپ کی نگاہیں مجھ پر پڑھیں، آپ برابر بغور دیکھتے ہی رہے یہاں تک کہ نگاہیں حضرت ابو عبید بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑیں انہیں طلب فرمایا اور کہا کہ ان کے ساتھ جاؤ اور ان کے اختلافات کا فیصلہ حق سے کر دو چنانچہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ تشریف لے گئے

 ابن مردویہ میں بھی یہ واقعہ اسی طرح منقول ہے لیکن وہاں سرداروں کی گنتی بارہ کی ہے اور اس واقعہ میں بھی قدرے طوالت ہے اور کچھ زائد باتیں بھی ہیں،

صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے

 نجرانی سردار عاقب اور سید ملاعنہ  کے ارادے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے لیکن ایک نے دوسرے سے کہا یہ نہ کر اللہ کی قسم اگر یہ نبی ہیں اور ہم نے ان سے ملاعنہ  کیا تو ہم اپنی اولادوں سمیت تباہ ہو جائیں گے چنانچہ پھر دونوں نے متفق ہو کر کہا حضرت آپ ہم سے جو طلب فرماتے ہیں ہم وہ سب ادا کر دیں گے (یعنی جزیہ دینا قبول کر لیا) آپ کسی امین شخص کو ہمارے ساتھ کر دیجئے اور امین کو ہی بھیجنا، آپ ﷺنے فرمایا بہتر میں تمہارے ساتھ کامل امین کو ہی کروں گا

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے کو تکنے لگے یہ دیکھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس کا انتخاب کرتے ہیں آپ ﷺنے فرمایا اے ابو عبیدہ بن جراح تم کھڑے ہو جاؤ جب یہ کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا یہ ہیں اس اُمت کے امین،

صحیح بخاری شریف کی اور حدیث میں ہے:

 ہر اُمت کا امین ہوتا ہے اور اس اُمت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

مسند احمد میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے:

 ابوجہل ملعون نے کہا کہ  اگر میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کعبہ میں نماز پڑھتے دیکھ لوں گا تو اس کی گردن کچل دوں گا فرماتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا :

اگر وہ ایسا کرتا تو سب کے سب دیکھتے کہ فرشتے اسے دبوچ لیتے،

 اور یہودیوں سے جب قرآن نے کہا تھا کہ آؤ جھوٹوں کے لئے موت مانگو اگر وہ مانگتے تو یقیناً سب کے سب مر جاتے اور اپنی جگہیں جہنم کی آگ میں دیکھ لیتے

اور جن نصرانیوں کو مباہلہ کی دعوت دی گئی تھی اگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں مباہلے کے لئے نکلتے تو لوٹ کر اپنے مالوں کو اور اپنے بال بچوں کو نہ پاتے،

صحیح بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں،

امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی وفد بحران کے قصے کو طویل تر بیان کیا ہے، ہم اسے یہاں نقل کرتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے فوائد ہیں گو اس میں غرابت بھی ہے اور اس مقام سے وہ نہایت مناسبت رکھتا ہے،

 سلمہ بن عبدیسوع اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوگئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ طس قرآن میں نازل ہونے سے پیشتر اہل نجران کو نامہ مبارک لکھا جس کی عبارت یہ تھی:

 اس خط کو میں شروع کرتا ہوں حضرت ابراہیمؑ حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کے اللہ تعالیٰ کے نام سے، یہ خط ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے جو اللہ رب العزت کے نبی اور رسول ہیں سردار نجران  اور اہل نجران کی طرف میں اللہ تعالیٰ کی تمہارے سامنے حمدو ثناء بیان کرتا ہوں جو حضرت ابراہیمؑ ، حضرت اسحاقؑ اور حضرت یعقوبؑ کا معبود ہے، پھر میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ بندوں کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کی طرف آؤ اور بندوں کے والی پنے کو چھوڑ کر اللہ کی ولایت کی طرف آجاؤ، اگر تم اسے نہ مانو تو جزیہ دو اور ماتحتی اختیار کرو اگر اس سے بھی انکار ہو تو تمہیں لڑائی کا اعلان ہے والسلام،

جب یہ خط اسقف کو پہنچا اور اس نے اسے پڑھایا تو بڑا سٹ پٹایا گھبرا گیا اور تھرانے لگا، جھٹ سے شرحیل بن وداعہ کو بلوایا جو ہمدان قبیلہ کا تھا سب سے بڑا مشیر سلطنت یہی تھا جب کبھی کوئی اہم کام آپڑتا تو سب سے پہلے یعنی ایہم اور سید اور عاقب سے بھی پیشر اس سے مشورہ ہوتا جب یہ آگیا تو اسقف نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خط اسے دیا جب اس نے پڑھ لیا تو اسقف نے پوچھا بتاؤ کیا خیال ہے؟

 شرحیل نے کہا بادشاہ کو خوب علم ہے کہ حضرت اسماعیل کو اولاد میں سے اللہ کے ایک نبی کے آنے کا وعدہ اللہ کی کتاب میں ہے کیا عجب کہ وہ نبی یہی ہو، امر نبوت میں میں کیا رائے دے سکتا ہوں ہاں اگر امور سلطنت کی کوئی بات ہوتی تو بیشک میں اپنے دماغ پر زور ڈال کر کوئی بات نکال لیتا،

 اسقف نے انہیں تو الگ بٹھا دیا اور عبداللہ بن شرحیل کو بلایا یہ بھی مشیر سلطنت تھا اور حمیر کے قبیلے میں سے تھا اسے خط دیا پڑھایا رائے پوچھی تو اس نے بھی ٹھیک وہی بات کہی جو پہلا مشیر کہہ چکا تھا اسے بھی بادشاہ نے دور بٹھا دیا

 پھر جبار بن فیض کو بلایا جو بنو حارث میں سے تھا اس نے بھی یہی کہا جو ان دونوں نے کہا تھا، بادشاہ نے جب دیکھا کہ ان تینوں کی رائے متفق ہے تو حکم دیا گیا کہ ناقوس بجائے جائیں آگ جلا دی جائے اور گرجوں میں جھنڈے بلند کر دئیے جائیں وہاں کا یہ دستور تھا کہ جب سلطنت کا کوئی اہم کام ہوتا تو رات کو جمع کرنا مقصود ہوتا تو یہی کرتے اور اگر دن کا وقت ہوتا تو گرجوں میں آگ جلا دی جاتی اور ناقوس زور زور سے بجائے جاتے، اس حکم کے ہوتے ہی چاروں طرف آگ جلا دی گئی اور ناقوس کی آواز نے ہر ایک کو ہوشیار کر دیا اور جھنڈے اونچے دیکھ دیکھ کر آس پاس کے وادی کے تمام لوگ جمع ہوگئے اس وادی کا طول اتنا تھا کہ تیز سوار صبح سے شام تک دوسرے کنارے پہنچتا تھا اس میں تہتر گاؤں آباد تھے اور ایک لاکھ بیس ہزار تلوار چلانے والے یہاں آباد تھے

جب یہ سب لوگ آگئے تو اسقف نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا اور پوچھا بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟

 تو تمام عقلمندوں نے کہا کہ شرحیل بن وداعہ ہمدانی عبداللہ بن شرحیل اصبحی اور جبار بن فیض حارثی کو بطور وفد کے بھیجا جائے، یہ وہاں سے پختہ خبر لائیں،

اب یہاں سے یہ وفد ان تینوں کی سرداری کے ماتحت روانہ ہوا مدینہ پہنچ کر انہوں نے سفری لباس اتار ڈالا اور نقش بنے ہوئے ریشمی لمبے لمبے حلے پہن لئے اور سونے کی انگوٹھیاں انگلیوں میں ڈال لیں اور اپنی چادروں کے پلے تھامے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا بہت دیر تک انتظار کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ بات کریں لیکن ان ریشمی حلوں اور سونے کی انگوٹھیوں کی وجہ سے آپ نے ان سے کلام بھی نہ کیا

اب یہ لوگ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلاش میں نکلے اور ان دونوں بزرگوں سے ان کی پہلی ملاقات تھی مہاجرین اور انصار کے ایک مجمع میں ان دونوں حضرات کو پا لیا ان سے واقعہ بیان کیا تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں خط لکھا ہم اس کا جواب دینے کے لئے خود حاضر ہوئے آپ کے پاس گئے سلام کیا لیکن جواب نہ دیا پھر بہت دیر تک انتظار میں بیٹھے رہے کہ آپ سے کچھ باتیں ہو جاتیں لیکن آپ نے ہم سے کوئی بات نہ کی آخر ہم لوگ تھک کر چلے آئے اب آپ حضرات فرمائے کہ کیا ہم یونہی واپس چلے جائیں،

ان دونوں نے حضرت علی ؓ سے کہا کہ آپ ہی انہیں جواب دیجئے

 حضرت علیؓ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ یہ لوگ اپنے حلے اور اپنی انگوٹھیاں اتار دیں اور وہی سفری معمولی لباس پہن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ جائیں چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اسی معمولی لباس میں گئے سلام کیا آپ نے جواب دیا پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ جب میرے پاس پہلی مرتبہ آئے تھے تو ان کے ساتھ ابلیس تھا،

 اب سوال جواب بات چیت شروع ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی پوچھتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے اسی طرح وہ بھی سوال کرتے اور جواب پاتے، آخر میں انہوں نے پوچھا آپ حضرت عیسیٰ ؑ کی بابت کیا فرماتے ہیں؟ تاکہ ہم اپنی قوم کے پاس جا کر وہ کہیں ہمیں اس کی خوشی ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کی زبانیں سنیں کہ آپ کا ان کی بابت کیا خیال ہے؟

تو آپﷺ نے فرمایا میرے پاس اس کا جواب آج تو نہیں تم ٹھہرو تو میرا رب مجھ سے اس کی بابت جو فرمائے گا وہ میں تمہیں سنا دوں گا،                          دوسرے دن وہ پھر آئے تو آپ نے اسی وقت کی اتری ہوئی اس آیت إِنَّ مَثَلَ عِيسَى کی لَّعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَـذِبِينَ (۳:۵۹،۶۰)  تک تلاوت کر سنائی

انہوں نے اس بات کا اقرار کرنے سے انکار کر دیا، دوسرے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاعنہ کے لئے حضرت حسنؓ کو اور حضرت حسین ؓکو اپنی چادر میں لئے ہوئے تشریف لائے پیچھے پیچھے حضرت فاطمہؓ آرہی تھیں اس وقت آپ کی کئی ایک بیویاں تھیں،

شرحیل یہ دیکھتے ہی اپنے دونوں ساتھیوں سے کہنے لگا تم جانتے ہو کہ نجران کی ساری وادی میری بات کو مانتی ہے اور میری رائے پر کاربند ہوتی ہے، سنو اللہ کی قسم یہ معاملہ بڑا بھاری ہے اگر یہ شخص (صلی اللہ علیہ وسلم) مبعوث کیا گیا ہے تو سب سے پہلے اس کی نگاہوں میں ہم ہی مطعون ہوں گے اور سب سے پہلے اس کی تردید کرنے والے ہم ہی ٹھہریں گے یہ بات اس کے اور اس کے ساتھیوں کے دلوں میں نہیں جائے گی اور ہم پر کوئی نہ کوئی مصیبت و آفت آئے گی عرب بھر میں سب سے زیادہ قریب ان سے میں ہی ہوں اور سنو اگر یہ شخص بنی مرسل ہے تو مباہلہ کرتے ہی روئے زمین پر ایک بال یا ایک ناخن بھی ہمارا نہ رہے گا،

اس کے دونوں ساتھیوں نے کہا پھر اے ابو ویہم آپ کی کیا رائے ہے؟

 اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ اسی کو ہم حاکم بنا دیں جو کچھ یہ حکم دے ہم اسے منظور کرلیں یہ کبھی بھی خلاف عدل حکم نہ دے گا،

 ان دونوں نے اس بات کو تسلیم کر لیا،

 اب شرجیل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں اس ملاعنہ سے بہتر چیز جناب کے سامنے پیش کرتا ہوں

آپ ﷺنے دریافت فرمایا وہ کیا؟

کہا آج کا دن آنے والی رات اور کل کی صبح تک آپ ہمارے بارے میں جو حکم کریں ہمیں منظور ہے،

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شاید اور لوگ تمہارے اس فیصلے کو نہ مانیں،

شرحیل نے کہا اس کی بابت میرے ان دونوں ساتھیوں سے دریافت فرما لیجئے

آپ ﷺنے ان دونوں سے پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ سارے وادی کے لوگ انہی کی رائے پر چلتے ہیں وہاں ایک بھی ایسا نہیں جو ان کے فیصلے کو ٹال سکے،

پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست قبول فرمائی۔ مباہلہ نہ کیا اور واپس لوٹ گئے

 دوسرے دن صبح ہی وہ حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے ایک تحریر انہیں لکھ دی کہ جس میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون تھا

تحریر اللہ کے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نجرانیوں کے لئے ہے ان پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم جاری تھا ہر پھل، ہر سیاہ و سفید اور ہر غلام پر لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب انہی کو دیتے ہیں یہ ہر سال صرف دو ہزار حلے دے دیا کریں ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں وغیرہ وغیرہ، پورا عہد نامہ انہیں عطا فرمایا،

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا یہ وفد ۹ہجری میں آیا تھا اس لئے کہ حضرت زہری فرماتے ہیں سب سے پہلے جزیہ انہی اہل نجران نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا، اور جزیہ کی آیت فتح مکہ کے بعد اتری ہے جو یہ ہے قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ (۹:۲۹) ، اس آیت میں اہل کتاب سے جزیہ لینے کا حکم ہوا ہے،

ابن مردویہ میں ہے:

عاقب اور طیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے انہیں ملاعنہ کے لئے کہا اور صبح کو حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ اور حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ  کو لئے ہوئے آپ تشریف لائے اور انہیں کہلا بھیجا انہوں نے قبول نہ کیا اور خراج دینا منظور کر لیا،

 آپ ﷺنے فرمایا اس کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر یہ دونوں "نہیں" کہتے تو ان پر یہی وادی آگ برساتی،

حضرت جابر فرماتے ہیں نَدْعُ أَبْنَاءَنَا والی آیت انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے

 وَأَنفُسَنَا سے مراد خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علیؓ

 أَبْنَآءَنَا سے مراد حسنؓ اور حسینؓ

 نِسَآءَنَا سے مراد حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مستدرک حاکم وغیرہ میں بھی اس معنی کی حدیث مروی ہے۔

إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ۚ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (۶۲)

یقیناً  صرف یہی سچا ایمان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ کے اور بیشک غالب اور حکمت والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔‏

پھر جناب باری کا ارشاد ہے یہ جو ہم نے عیسیٰؑ  کی شان فرمائی ہے حق اور سچ ہے اس میں بال برابر کمی بیشی نہیں، اللہ قابل عبادت ہے کوئی اور نہیں اور وہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے،

فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ (۶۳)

پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے والا ہے۔‏

 اب بھی اگر یہ منہ پھیر لیں اور دوسری باتوں میں پڑیں تو اللہ بھی ایسے باطل پسندوں کو اور مفسدوں کو بخوبی جانتا ہے انہیں بدترین سزا دیگا اس میں پوری قدرت ہے کوئی اس سے نہ بھاگ سکے نہ اس کا مقابلہ کر سکے، وہ پاک ہے اور تعریفوں والا ہے

 ہم اس کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ

آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ

یہودیوں نصرانیوں اور انہی جیسے لوگوں سے یہاں خطاب ہو رہا ہے،

كَلِمَة کا اطلاق مفید جملے پر ہوتا ہے، جیسے یہاں كَلِمَة کہہ کر پھر سَوَاءٍ کے ساتھ اس کی تعریف یوں کی گئی ہے۔

سَوَاءٍ کے معنی عدل و انصاف جیسے ہم کہیں ہم تم برابر ہیں،

أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا

 ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اسکے ساتھ کسی کو شریک بنائیں

پھر اس کی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ ہم ایک اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اس کے ساتھ کسی بت کو نہ پوجیں صلیب، تصویر، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نہ آگ کو نہ اور کسی چیز کو بلکہ تنہا اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کریں، یہی عبادت تمام انبیاء کرام کی تھی، جیسے فرمان ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلاَّ نُوحِى إِلَيْهِ أَنَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ أَنَاْ فَاعْبُدُونِ (۲۱:۲۵)

تجھ سے پہلے جس جس رسول کو ہم نے بھیجا سب کی طرف یہی وحی کی  کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں پس تم میری ہی عبادت کیا کرو

 اور جگہ ارشاد ہے:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللَّهَ وَاجْتَنِبُواْ الْطَّـغُوتَ (۱۶:۳۶)

اور ہم نے بھیجے ہیں ہر اُمت میں رسول، کہ بندگی کرو اﷲ کی، اور بچوہر  سرکش سے۔

ہر اُمت میں رسول بھیج کر ہم نے یہ اعلان کروایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا سب سے بچو۔

وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ

نہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں

 پھر فرماتا ہے کہ آپس میں بھی ہم اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو رب نہ  بنالیں،

ابن جریج فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ایک دوسرے کی اطاعت نہ کریں۔

عکرمہ فرماتے ہیں کسی کو سوائے اللہ تعالیٰ کے سجدہ نہ کریں،

                  فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (۶۴)

پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں

پھر اگر یہ لوگ اس حق اور عدل دعوت کو بھی قبول نہ کریں تو انہیں تم اپنے مسلمان ہونے کا گواہ بنا لو،

 ہم نے بخاری کی شرح میں اس واقعہ کا مفصل ذکر کر دیا ہے جس میں ہے کہ ابو سفیان جبکہ دربار قیصر میں بلوائے گئے اور شاہ قیصر روم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کا حال پوچھا تو انہیں کافر اور دشمن رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے باوجود آپ کی خاندانی شرافت کا اقرار کرنا پڑا اور اسی طرح ہر سوال کا صاف اور سچا جواب دینا پڑا یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا اور فتح مکہ سے پہلے کا ہےاسی باعث قیصر کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) بدعہدی کرتے ہیں؟

 ابوسفیان نے کہا نہیں کرتے لیکن اب ایک معاہدہ ہمارا ان سے ہوا ہے نہیں معلوم اس میں وہ کیا کریں؟

 یہاں صرف یہ مقصد ہے کہ ان تمام باتوں کے بعد حضور ﷺ نامہ مبارک پیش کیا جاتا ہے جس میں بسم اللہ کے بعد یہ لکھا ہوتا ہے:

یہ خط محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے جو اللہ ª