Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ البقرہ

Previous           Index           Next

Surah Al Baqarah (Ayah 253-286)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ۘ

یہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے

یہاں یہ وضاحت ہو رہی ہے کہ رسولوں میں بھی مراتب ہیں، جیسا اور جگہ فرمایا:

وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيِّينَ عَلَى بَعْضٍ ۖ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا (۱۷:۵۵)

ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر بہتری اور برتری دی ہے اور داؤد کو زبور ہم نے عطا فرمائی ہے۔‏

مِنْهُمْ مَنْ كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ

ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں،

یہاں بھی اسی کا ذِکر کرکے فرماتا ہے ان میں سے بعض کو شرف ہمکلامی بھی نصیب ہوا جیسا حضرت موسیٰؑ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت آدمؑ۔

صحیح ابن حبان میں حدیث ہے جس میں معراج کے بیان کے ساتھ یہ بھی وارد ہوا ہے کہ کسی نبی کو آپ نے الگ الگ کسی آسمان میں پایا جو ان کے مرتبوں کے کم و بیش ہونے کی دلیل ہے،

 ہاں ایک حدیث میں ہے:

 ایک مسلمان اور یہودی کی کچھ بات چیت ہو گئی تو یہودی نے کہا قسم ہے اس اللہ کی جس نے موسیٰ کی تمام جہان والوں پر فضیلت دی تو مسلمان سے ضبط نہ ہو سکا، اس نے اٹھا کر ایک تھپڑ مارا اور کہا خبیث کیا ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ یہودی نے سرکارِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آکر اس کی شکایت کی،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو، قیامت کے دن سب بیہوش ہونگے سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا تو دیکھوں گا کہ حضرت موسیٰؑ اللہ تعالیٰ کے عرش کا پایہ تھامے ہوئے ہوں گے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا سرے سے بیہوش ہی نہیں ہوئے تھے؟ اور طور کی بیہوشی کے بدلے یہاں کی بیہوشی سے بچا لئے گئے، پس مجھے نبیوں پر فضیلت نہ دو،

ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبروں کے درمیان فضیلت نہ دو،

پس یہ حدیث بظاہر قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف معلوم ہوتی ہے لیکن دراصل کوئی تعارض نہیں، ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس سے پہلے ہو کہ آپ کو فضیلت کا علم نہ ہوا ہو، لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے،

 دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ آپ نے محض تواضع اور فروتنی کے طور پر فرمایا ہے نہ کہ حقیقت کے طور پر،

تیسرا جواب یہ کہ ایسے جھگڑے اور اختلاف کے وقت ایک کو ایک پر فضیلت دینا دوسرے کی شان گھٹانا ہے اس لئے آپ نے منع فرما دیا،

چوتھا جواب یہ ہے کہ تم فضیلت نہ دو یعنی صرف اپنی رائے، اپنے خیال اور اپنے ذہنی تعصب سے اپنے نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت نہ دو،

پانچواں جواب یہ ہے کہ فضیلت و تکریم کا فیصلہ تمہارے بس کا نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے وہ جسے فضیلت دے تم مان لو، تمہارا کام تسلیم کرنا اور ایمان لانا ہے۔

وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ

 اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی

پھر فرماتا ہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰؑ  کو واضح دلیلیں اور پھر ایسی حجتیں عطا فرمائی تھیں جن سے بنی اسرائیل پر صاف واضح ہو گیا کہ آپ کی رسالت بالکل سچی ہے اور ساتھ ہی آپ کی یہ حیثیت بھی واضح ہو گئی کہ مثل اور بندوں کے آپ بھی اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور بےکس غلام ہیں، اور روح القدس یعنی حضرت جبرائیل سے ہم نے ان کی تائید کی۔

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ وَمِنْهُمْ مَنْ كَفَرَ ۚ

اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آجانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مؤمن ہوئے اور بعض کافر،

پھر فرمایا کہ بعد والوں کے اختلاف بھی ہمارے قضا و قدر کا نمونہ کا نمونہ ہیں،

وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ (۲۵۳)

 اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‏

 ہماری شان یہ ہے کہ جو چاہیں کریں، ہمارے کسی ارادے سے مراد جدا نہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ

اے ایمان والو جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم کرتا ہے کہ وہ بھلائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ان کا ثواب جمع رہے،

مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ

 اس سے پہلے کہ کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی نہ شفاعت

اور پھر فرماتا ہے کہ اپنی زندگی میں ہی خیرات و صدقات کر لو، قیامت کے دن نہ تو خرید و فروخت ہوگی نہ زمین بھر کر سونا دینے سے جان چھوٹ سکتی ہے، نہ کسی کا نسب اور دوستی و محبت کچھ کام آ سکتی ہے، جیسے اور جگہ ہے:

فَإِذَا نُفِخَ فِى الصُّورِ فَلاَ أَنسَـبَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلاَ يَتَسَآءَلُونَ (۲۳:۱۰۱)

پس جب صور پھونک دیا جائیگا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ

جب صور پھونکا جائے گا اس دن نہ تو نسب رہے گا نہ کوئی کسی کا پرسان حال ہوگا، اور اس دن سفارشیوں کی سفارش بھی کچھ نفع نہ دےگی۔

وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ (۲۵۴)

اور کافر ہی ظالم ہیں۔‏

 پھر فرمایا کافر ہی ظالم ہیں یعنی پورے اور پکے ظالم ہیں وہ جو کفر کی حالت ہی میں اللہ سے ملیں،

عطا بن دینار کہتے ہیں شکر ہے اللہ نے کافروں کو ظالم فرمایا لیکن ظالموں کو کافر نہیں فرمایا۔

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ

اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند،

یہ آیت آیت الکرسی ہے، جو بڑی عظمت والی آیت ہے۔ حضرت ابی بن کعب سے رسول اللہ ﷺدریافت فرماتے ہیں کہ کتاب اللہ میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کون سی ہے؟ آپ جواب دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول ہی کو اس کا سب سے زیادہ علم ہے۔آپﷺ پھر یہی سوال کرتے ہیں، بار بار کے سوال پر جواب دیتے ہیں کہ آیت الکرسی،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

 ابوالمنذر اللہ تعالیٰ تجھے تیرا علم مبارک کرے، اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس کی زبان ہوگی اور ہونٹ ہوں گے اور یہ بادشاہ حقیقی کی تقدیس بیان کرے گی اور عرش کے پایہ سے لگی ہوئی ہوگی (مسند احمد)

صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے لیکن یہ پچھلا قسمیہ جملہ اس میں نہیں،

 حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں:

 میرے ہاں ایک کھجور کی بوری تھی ۔ میں نے دیکھا کہ اس میں سے کھجوریں روز بروز گھٹ رہی ہیں، ایک رات میں جاگتا رہا اس کی نگہبانی کرتا رہا، میں نے دیکھا ایک جانور مثل جوان لڑکے کے آیا، میں نے اسے سلام کیا اس نے میرے سلام کا جواب دیا، میں نے کہا تو انسان ہے یا جن؟اس نے کہا میں جن ہوں،

میں نے کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دے، اس نے ہاتھ بڑھا دیا، میں نے اپنے ہاتھ میں لیا تو کتے جیسا ہاتھ تھا اور اس پر کتے جیسے ہی بال تھے،

 میں نے کہا کیا جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہے؟

 اس نے کہا تمام جنات میں سب سے زیادہ قوت طاقت والا میں ہی ہوں،

میں نے کہا بھلا تو میری چیز چرانے پر کیسے دلیر ہو گیا؟

 اس نے کہا مجھے معلوم ہے کہ تو صدقہ کو پسند کرتا ہے، ہم نے کہا پھر ہم کیوں محروم رہیں؟

 میں نے کہا تمہارے شر سے بچانے والی کون سی چیز ہے؟

 اس نے کہا آیت الکرسی۔

 صبح کو جب میں سرکارِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا تو میں نے رات کا سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبیث نے یہ بات تو بالکل سچ کہی (ابو یعلی)

ایک بار مہاجرین کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گئے تو ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی آیت کون سی بڑی ہے،آپ ﷺنے یہی آیت الکرسی پڑھ کر سنائی (طبرانی)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ میں سے ایک سے پوچھا تم نے نکاح کر لیا؟ اس نے کہا حضرت میرے پاس مال نہیں، اس لئے نکاح نہیں کیا،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ یاد نہیں؟

 اس نے کہا وہ تو یاد ہے، فرمایا چوتھائی قرآن تو یہ ہو گیا،

 کیا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ یاد نہیں،

 کہا ہاں وہ بھی یاد ہے،فرمایا چوتھائی قرآن یہ ہوا،

پھر پوچھا کیا إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا بھی یاد ہے؟

 کہا ہاں، فرمایا چوتھائی قرآن یہ ہوا،

کیا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ بھی یاد ہے؟

کہا ہاں، فرمایا چوتھائی یہ،

 کہا آیت الکرسی یاد ہے؟

 کہا ہاں، فرمایا چوتھائی قرآن یہ ہوا (مسند احمد)

حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں:

 میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آ کر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے نماز پڑھ لی؟

 میں نے کہا نہیں، فرمایا اٹھو نماز ادا کر لو۔

میں نے نماز پڑھی پھر آ کر بیٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوذر شیطان انسانوں اور جنوں سے پناہ مانگ،

میں نے کہا حضور کیا انسانی شیطان بھی ہوتے ہیں؟

فرمایا ہاں،

میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی نسبت کیا ارشاد ہے؟

فرمایا وہ سراسر خیر ہے جو چاہے کم حصہ لے جو چاہے زیادہ،

میں نے کہا حضور روزہ؟

 فرمایا کفایت کرنے والا فرض ہے اور اللہ کے نزدیک زیادتی ہے،

 میں نے کہا صدقہ؟

فرمایا بہت زیادہ اور بڑھ چڑھ کر بدلہ دلوانے والا،

میں نے کہا سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟

 فرمایا کم مال والے کا ہمت کرنا یا پوشیدگی سے محتاج کی احتیاج پوری کرنا،

میں نے سوال کیا سب سے پہلے نبی کون ہیں؟

 فرمایا حضرت آدمؑ،

میں نے کہا وہ نبی تھے؟

فرمایا نبی اور اللہ سے ہمکلام ہونے والے،

میں نے پوچھا رسولوں کی تعداد کیا ہے؟

فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس بہت بڑی جماعت،

 ایک روایت میں تین سو پندرہ کا لفظ ہے،

 میں نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر سب سے زیادہ بزرگی والی آیت کون سی اتری؟

 فرمایا آیت الکرسی اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ   (مسند احمد)

حضرت ابوایوب انصاریؓ فرماتے ہیں:

میرے خزانہ میں سے جنات چرا کر لے جایا کرتے تھے، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تو اسے دیکھے تو کہنا بسم اللہ اجیبی رسول اللہ

 جب وہ آیا میں نے یہی کہا، پھر اسے چھوڑ دیا۔

میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر بھی آئے گا، میں نے اسے اسی طرح دو تین بار پکڑا اور اقرار لے لے کر چھوڑا دیا،

میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دفعہ یہی فرمایا کہ وہ پھر بھی آئے گا، آخر مرتبہ میں نے کہا اب میں تجھے نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا چھوڑ دے میں تجھے ایک ایسی چیز بتاؤں گا کہ کوئی جن اور شیطان تیرے پاس ہی نہ آسکے،

میں نے کہا اچھا بتاؤ،

کہا وہ آیت الکرسی ہے۔

میں نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذِکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا، گو وہ جھوٹا ہے (مسند احمد)

صحیح بخاری شریف میں کتاب فضائل القرآن اور کتاب الوکالہ اور صفۃ ابلیس کے بیان میں بھی یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے اس میں ہے:

زکوٰۃ رمضان کے مال پر میں پہرہ دے رہا تھا جو یہ شیطان آیا اور سمیٹ سمیٹ کر اپنی چادر میں جمع کرنے لگا، تیسری مرتبہ اس نے بتایا کہ اگر تو رات بستر پر جا کر اس آیت کو پڑھ لے گا تو اللہ کی طرف سے تجھ پر حافظ مقرر ہوگا اور صبح تک شیطان تیرے قریب بھی نہ آ سکے گا (بخاری)

دوسری روایت میں ہے کہ یہ کھجوریں تھیں اور مٹھی بھر وہ لے گیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ اگر اسے پکڑنا چاہے تو جب وہ دروازے کھولے کہنا سبحان من سخرک محمد شیطان نے عذر یہ بتایا تھا کہ ایک فقیر جن کے بال بچوں کیلئے میں یہ لے جا رہا تھا  (ابن مردویہ)

پس یہ واقعہ تین صحابہؓ کا ہوا، حضرت ابی بن کعبؓ کا، حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا اور حضرت ابوہریرہ ؓکا۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

ایک انسان کی ایک جن سے ملاقات ہوئی جن نے کہا مجھ سے کشتی کرے گا؟ اگر مجھے گرا دے گا تو میں تجھے ایک ایسی آیت سکھاؤں گا کہ جب تو اپنے گھر جائے اور اسے پڑھ لے تو شیطان اس میں نہ آسکے،

 کشتی ہوئی اور اس آدمی نے جن کو گرا دیا، اس شخص نے جن سے کہا تو تو نحیف اور ڈرپوک ہے اور تیرے ہاتھ مثل کتے کے ہیں، کیا جنات ایسے ہی ہوتے ہیں یا صرف تو ہی ایسا ہے؟

 کہا میں تو ان سب میں سے قوی ہوں،

پھر دوبارہ کشتی ہوئی اور دوسری مرتبہ بھی اس شخص نے گرا دیا تو جن نے کہا جو آیت میں نے سکھانے کیلئے کہا تھا وہ آیت الکرسی ہے، جو شخص اپنے گھر میں جاتے ہوئے اسے پڑھ لے تو شیطان اس گھر سے گدھے کی طرح چیختا ہوا بھاگ جاتا ہے۔

 جس شخص سے کشتی ہوئی تھی وہ شخص عمر ؓتھے (کتاب الغریب)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

سورۃ بقرہ میں ایک آیت ہے جو قرآن کریم کی تمام آیتوں کی سردار ہے جس گھر میں وہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ وہ آیت آیت الکرسی ہے (مستدرک حاکم)

ترمذی میں ہے:

 ہرچیز کی کوہان اور بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورۃ بقرہ ہے اور اس میں بھی آیت الکرسی تمام آیتوں کی سردار ہے۔

 حضرت عمر ؓکے اس سوال پر کہ سارے قرآن میں سب سے زیادہ بزرگ آیت کون سی ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا مجھے خوب معلوم ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ آیت آیت الکرسی ہے (ابن مردویہ)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ ایک تو آیت الکرسی(۲:۲۵۵)، دوسری آیت الم ـ اللّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ  (۳:۱،۲) (مسند احمد)

اور حدیث میں ہے:

 وہ اسمِ اعظم جس نام کی برکت سے جو دعا اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے وہ قبول فرماتا ہے۔ وہ تین سورتوں میں ہے،

-          سورۃ بقرہ،

-         سورۃ آل عمران

-         اور سورۃ طہ(ابن مردویہ)

ہشام بن عمار خطیب دمشق فرماتے ہیں :

-         سورۃ بقرہ کی آیت اللّهُ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ .ہے  (۲:۲۵۵)

-         اور آل عمران کی پہلی ہی دو  آیات  الم ـ اللّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ  (۳:۱،۲)

-         اور طٰہ ٰکی آیت وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَىِّ الْقَيُّومِ (۲۰:۱۱۱) ہے

 اور حدیث میں ہے:

 جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لے اسے جنت میں جانے سے کوئی چیز نہیں روکے گی سوائے موت کے (ابن مردویہ)

اس حدیث کو امام نسائی نے بھی اپنی کتاب عمل الیوم واللیلہ میں وارد کیا ہے اور ابن حبان نے بھی اسے اپنی صحیح میں وارد کیا ہے اس حدیث کی سند شرط بخاری پر ہے لیکن ابوالفرج بن جوزی اسے موضوع کہتے ہیں واللہ اعلم،

تفسیر ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث ہے لیکن اس کی اسناد بھی ضعیف ہے۔

ابن مردویہ کی ایک اور حدیث میں ہے:

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ بن عمران کی طرف وحی کی کہ ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، جو شخص یہ کرے گا میں اسے شکرگزار دِل اور ذِکر کرنے والی زبان دوں گا۔ اور اسے نبیوں کا ثواب اور صدیقوں کا عمل دوں گا۔ جس عمل کی پابندی صرف انبیاء او صدیقین سے ہی ہوتی ہے یا اس بندے سے جس کا دِل میں نے ایمان کیلئے آزما لیا ہو یا اسے اپنی راہ میں شہید کرنا طے کر لیا ہو،

 لیکن یہ حدیث بہت منکر ہے۔

 ترمذی کی حدیث میں ہے:

 جو شخص سورۃ المؤمن کو حم سے إِلَيْهِ الْمَصِيرُ تک اور آیت الکرسی کو صبح کے وقت پڑھ لے گا وہ شام تک اللہ کی حفاظت میں رہے گا اور شام کو پڑھنے والے کی صبح تک حفاظت ہو گی

لیکن یہ حدیث بھی غریب ہے۔

 اس آیت کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں لیکن ایک تو اس لئے کہ ان کی سندیں ضعیف ہیں اور دوسرے اس لئے بھی کہ ہمیں اختصار مدنظر ہے، ہم نے انہیں وارد نہیں کیا۔

اس مبارک آیت میں دس مستقل جملے ہیں ،

اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ

پہلے جملے میں اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا بیان ہے کہ کل مخلوق کا وہی ایک اللہ ہے۔

لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ

 دوسرے جملے میں ہے کہ وہ خود زندہ ہے جس پر کبھی موت نہیں آئے گی، دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔

قَيُّوم کی دوسری نشانی قرأت قیام بھی ہے

پس تمام موجودات اس کی محتاج ہے او وہ سب سے بےنیاز ہے، کوئی بھی بغیر اس کی اجازت کے کسی چیز کا سنبھالنے والا نہیں،جیسے اور جگہ ہے:

وَمِنْ ءَايَـتِهِ أَن تَقُومَ السَّمَآءُ وَالاٌّرْضُ بِأَمْرِهِ (۳۰:۲۵)

اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں،

پھر فرمایا نہ تو اس پر کوئی نقصان آئے نہ کبھی وہ اپنی مخلوق سے غافل اور بےخبر ہو، بلکہ ہر شخص کے اعمال پر وہ حاضر، ہر شخص کے احوال پر وہ ناظر، دِل کے ہر خطرے سے وہ واقف، مخلوق کا کوئی ذرہ بھی اس کی حفاظت اور علم سے کبھی باہر نہیں، یہی پوری قیومیت ہے۔ اونگھ، غفلت، نیند اور بےخبری سے اس کی ذات مکمل پاک ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ کھڑے ہو کر صحابہ کرام کو چار باتیں بتائیں، فرمایا :

-         اللہ تبارک و تعالیٰ سوتا نہیں، نہ نیند اس کی ذات کے لائق ہے،

-         وہ ترازو کا حافظ ہے جس کیلئے چاہے جھکا دے ، جس کیلئے چاہے نہ جھکائے،

-         دن کے اعمال رات سے پہلے اور رات کے اعمال دن سے پہلے اس کی طرف لے جائے جاتے ہیں،

-          اس کے سامنے نور یا آگ کے پردے ہیں اگر وہ ہٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جن تک اس کی نگاہ پہنچے،

عبدالرزاق میں حضرت عکرمہ سے روایت ہے:

 موسیٰ نے فرشتوں سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ سوتا بھی ہے؟

 تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی کہ حضرت موسیٰ کو تین راتوں تک بیدار رکھیں، انہوں نے یہی کیا، تین راتوں تک سونے نہ دیا، اس کے بعد دو بوتلیں ان کے ہاتھوں میں دے دیں گئیں اور کہہ دیا کہ انہیں تھامے رہو خبردار یہ گرنے اور ٹوٹنے نہ پائیں،

 آپ نے انہیں تھام لیا لیکن جاگا ہوا تھا، نیند کا غلبہ ہوا، اونگھ آنے لگی، آنکھ بند ہو جاتی لیکن پھر ہوشیار ہو جاتے مگر کب تک؟ آخر ایک مرتبہ ایسا جھکولا آیا کہ بوتلیں ٹوٹ گئیں،

 گویا انہیں بتایا گیا کہ جب ایک اونگھنے اور سونے والا دو بوتلوں کو نہیں سنبھال سکتا تو اللہ تعالیٰ اگر اونگھے یا سوئے تو زمین و آسمان کی حفاظت کس طرح ہو سکے؟

لیکن یہ بنی اسرائیل کی بات ہے اور کچھ دِل کو لگتی بھی نہیں اس لئے کہ یہ ناممکن ہے کہ موسیٰ جیسے جلیل القدر عارف باللہ اللہ جل شانہ کی اس صفت سے ناواقف ہوں اور انہیں اس میں تردد ہو کہ اللہ ذوالجلال والا کرام جاگتا ہی رہتا ہے یا سو بھی جاتا ہے

اور اس سے بھی بہت زیادہ غرابت والی وہ حدیث ہے جو ابن حریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو منبر پر بیان فرمایا۔

یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فرمان پیغمبر ہونا ثابت نہیں بلکہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے یہ سوال کیا تھا اور پھر آپ کو بوتلیں پکڑوائی گئیں اور وہ بوجہ نیند کے نہ سنبھال سکے،

لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ

اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی، آسمان و زمین کی تمام چیزیں اس کی غلامی میں اور اس کی ماتحتی میں اور اس کی سلطنت میں ہیں جیسے فرمایا :

إِن كُلُّ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَالاٌّرْضِ إِلاَّ آتِى الرَّحْمَـنِ عَبْداً ـ لَّقَدْ أَحْصَـهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدّاً ـ وَكُلُّهُمْ ءَاتِيهِ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَرْداً (۱۹:۹۳،۹۵)

آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ۔ ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پورے گن بھی رکھا ہے یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں

زمین و آسمان کی کل چیزیں رحمٰن کی غلامی میں حاضر ہونے والی ہیں، ان سب کو رب العالمین نے ایک ایک کرکے گن رکھا ہے۔ ساری مخلوق تنہا تنہا اس کے پاس حاضر ہوگی،

مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ

 کون جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے،

کوئی نہیں جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش یا شفاعت کرسکے،

جیسے ارشاد ہے:

وَكَمْ مِّن مَّلَكٍ فِى السَّمَـوَتِ لاَ تُغْنِى شَفَـعَتُهُمْ شَيْئاً إِلاَّ مِن بَعْدِ أَن يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَى (۵۳:۲۶)

 اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لئے چاہے اجازت دے دے۔  

اور جگہ ہے:

وَلاَ يَشْفَعُونَ إِلاَّ لِمَنِ ارْتَضَى (۲۱:۲۸)

وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو

پس یہاں بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کا جلال اور اس کی کبریائی بیان ہو رہی ہے، کہ بغیر اس کی اجازت اور رضامندی کے کسی کی جرأت نہیں کہ اس کے سامنے کسی کی سفارش میں زبان کھولے،

حدیث شفاعت میں بھی ہے:

میں اللہ کے عرش کے نیچے جاؤں گا اور سجدے میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ مجھے سجدے میں ہی چھوڑ دے گا جب تک چاہے، پھر کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ، کہو، سنا جائے گا، شفاعت کرو، منظور کی جائے گی،

آپ فرماتے ہیں پھر میرے لئے حد مقرر کر دی جائے گی اور میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا

يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ

 وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے جو ان کے پیچھے ہے

وہ اللہ تمام گزشتہ موجودہ اور آئندہ کا عالم ہے اس کا علم تمام مخلوق کا احاطہ کئے ہوئے ہے جیسے اور جگہ فرشتوں کا قول ہے:

وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيّاً  (۱۹:۶۴)

ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں۔‏

وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ

 اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر وہ جتنا چاہے،

جیسے اور جگہ فرمایا:

وَلاَ يُحِيطُونَ بِهِ عِلْماً (۲۰:۱۱۰)

مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا۔

وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ

اس کی کرسی کی وسعت نے زمین اور آسمان کو گھیر رکھا ہے

كُرْسِي سے مراد حضرت عبداللہ بن عباس سے علم منقول ہے،

دوسرے بزرگوں سے دونوں پاؤں رکھنے کی جگہ منقول ہے،

ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی مروی ہے،

حضرت ابوہریرہؓ سے بھی مرفوعاً یہی مروی ہے لیکن رفع ثابت نہیں،

ابومالکؓ فرماتے ہیں كُرْسِي عرش کے نیچے ہے،

 سدی کہتے ہیں آسمان و زمین كُرْسِي کے جوف میں اور كُرْسِي عرش کے سامنے،

ابن عباسؓ فرماتے ہیں :

ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان اگر پھیلا دئیے جائیں اور سب کو ملا کر بسیط کر دیا جائے تو بھی کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہوں گے جیسے ایک حلقہ کسی چٹیل میدان میں،

 ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی میں ایسے ہی ہوں گے جیسے ایک لوہے کا حلقہ کسی چٹیل میدان میں

 اور حدیث میں ہے کہ ساتوں آسمان کرسی میں ایسے ہی ہیں جیسے سات درہم ڈھال میں ،

ابوذرغفاریؓ نے ایک مرتبہ کرسی کے بارے میں سوال کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہی فرمایااور فرمایا کہ پھر عرش کی فضیلت کرسی پر بھی ایسی ہی ہے،

 ایک عورت نے آن کر حضور ﷺ سے درخواست کی کہ میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ مجھے جنت میں لے جائے،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی کرسی نے آسمان و زمین کو گھیر رکھا ہے مگر جس طرح نیا پالان چرچراتا ہے وہ کرسی عظمت پروردگار سے چرچرا رہی ہے،

گو یہ حدیث بہت سی سندوں سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے لیکن کسی سند میں کوئی راوی غیرمشہور ہے کسی میں ارسال ہے، کوئی موقوف ہے، کسی میں بہت کچھ غریب زیادتی ہے، کسی میں حذف ہےاور ان سب سے زیادہ غریب جسیر ؓوالی حدیث ہے جو ابوداؤد میں مروی ہے۔

اور وہ روایات بھی ہیں جن میں قیامت کے روز کرسی کا فیصلوں کیلئے رکھا جانا مروی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں یہ ذِکر نہیں واللہ اعلم،

مسلمانوں کے ہئیت دان متکلمین کہتے ہیں کہ کرسی آٹھواں آسمان ہے جسے فلک ثوابت کہتے ہیں اور جس پر نواں آسمان ہے اور جسے فلک اثیر کہتے ہیں اور اطلس بھی، لیکن دوسرے لوگوں نے اس کی تردید کی ہے،

حسن بصری فرماتے ہیں كُرْسِي ہی عرش ہے

لیکن صحیح بات یہ ہے کہ كُرْسِي اور ہے اور عرش اور ہے، جو اس سے بڑا ہے جیسا کہ آثار احادیث میں وارد ہوا ہے،

علامہ ابن جریر تو اس بارے میں حضرت عمر ؓوالی روایت پر اعتماد کئے ہوئے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کی صحت میں کلام ہے واللہ اعلم،

وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ

اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتا ہے،

پھر فرمایا کہ اللہ پر ان کی حفاظت بوجھل اور گراں نہیں بلکہ سہل اور آسان ہے۔ وہ ساری مخلوق کے اعمال پر خبردار تمام چیزوں پر نگہبان کوئی چیز اس سے پوشیدہ اور انجان نہیں بلکہ سہل اور آسان ہے،

 تمام مخلوق اس کے سامنے حقیر متواضح ذلیل پست محتاج اور فقیر، وہ غنی وہ حمید وہ جو کچھ چاہے کر گزرنے والا، کوئی اس پر حاکم نہیں بازپرس کرنے والا، ہرچیز پر وہ غالب، ہرچیز کا حافظ اور مالک، وہ علو، بلندی اور رفعت والا وہ عظمت بڑائی اور کبریائی والا،

 اسکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اسکے سوا کوئی خبرگیری کرنے والا نہ پالنے پوسنے والا وہ کبریائی والا اور فخر والا ہے، اسی لئے فرمایا بلندی اور عظمت والا وہی ہے۔

وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (۲۵۵)

وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‏

الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ (۱۳:۹)

(سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند وبالا۔‏

یہ آیتیں اور ان جیسی اور آیتیں اور صحیح حدیثیں جتنی کچھ ذات و صفات باری میں وارد ہوئی ہیں ان سب پر ایمان لانا بغیر کیفیت معلوم کئے اور بغیر تشبیہ دئیے جن الفاظ میں وہ وارد ہوئی ہیں ضروری ہے اور یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین رضوان اللہ علیھم اجمعین کا تھا۔

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ

دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت ضلالت سے روشن ہو چکی ہے

یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ کسی کو جبراً اسلام میں داخل نہ کر، اسلام کی حقانیت واضح اور روشن ہو چکی اس کے دلائل و براہین بیان ہو چکے ہیں پھر کسی اور جبر اور زبردستی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

 جسے اللہ رب العزت ہدایت دے گا، جس کا سینہ کھلا ہوا دِل روشن اور آنکھیں بینا ہوں گی وہ تو خود بخود اس کا والہ و شیدا ہو جائے گا، ہاں اندھے دِل والے بہرے کانوں والے پھوٹی آنکھوں والے اس سے دور رہیں گے پھر انہیں اگر جبراً اسلام میں داخل بھی کیا تو کیا فائدہ؟ کسی پر اسلام کے قبول کرانے کیلئے جبر اور زبردستی نہ کرو۔

اس آیت کا شان نزول

مدینہ کی مشرکہ عورتیں جب انہیں اولاد نہ ہوتی تھی تو نذر مانتی تھیں کہ اگر ہمارے ہاں اولاد ہوئی تو ہم اسے یہود بنا دیں گے، یہودیوں کے سپرد کر دیں گے، اسی طرح ان کے بہت سے بچے یہودیوں کے پاس تھے، جب یہ لوگ مسلمان ہوئے اوردین  اللہ کے انصار بنے، یہودیوں سے جنگ ہوئی اور ان کی اندرونی سازشوں اور فریب کاریوں سے نجات پانے کیلئے سرور رسل علیہ السلام نے یہ حکم جاری فرمایا کہ بنی نضیر کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا جائے، اس وقت انصاریوں نے اپنے بچے جو ان کے پاس تھے ان سے طلب کئے تاکہ انہیں اپنے اثر سے مسلمان بنالیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جبر اور زبردستی نہ کرو،

ایک روایت یہ بھی ہے

انصار کے قبیلے بنوسالم بن عوف کا ایک شخص حصینی نامی تھا جس کے دو لڑکے نصرانی تھے اور خود مسلمان تھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بار عرض کیا کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں ان لڑکوں کو جبراً مسلمان بنا لوں، ویسے تو وہ عیسائیت سے ہٹتے نہیں، اس پر یہ آیت اتری اور ممانعت کر دی،

 اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ نصرانیوں کا ایک قافلہ ملک شام سے تجارت کیلئے کشمش لے کر آیا تھا جن کے ہاتھوں پر دونوں لڑکے نصرانی ہوگئے تھے جب وہ قافلہ جانے لگا تو یہ بھی جانے پر تیار ہوگئے، ان کے باپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذِکر کیا اور کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں انہیں اسلام لانے کیلئے کچھ تکلیف دوں اور جبراً مسلمان بنالوں، ورنہ پھر آپ کو انہیں واپس لانے کیلئے اپنے آدمی بھیجنے پڑیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی،

حضرت عمر ؓکا غلام اسبق نصرانی تھا، آپ اس پر اسلام پیش کرتے وہ انکار کرتا، آپ کہہ دیتے کہ خیر تیری مرضی اسلام جبر سے روکتا ہے،

علماء کی ایک بڑی جماعت کا یہ خیال ہے کہ یہ آیت ان اہل کتاب کے حق میں ہے جو نسخ و تبدیل تورات و انجیل کے پہلے دین مسیحی اختیار کر چکے تھے جبکہ  وہ جزیہ پر رضامند ہو جائیں،

بعض اور کہتے ہیں آیت قتال نے اسے منسوخ کر دیا، تمام انسانوں کو اس پاک دین کی دعوت دینا ضروری ہے، اگر کوئی انکار کرے تو بیشک مسلمان اس سے جہاد کریں،جیسے اور جگہ ہے:

سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ (۴۸:۱۶)

عنقریب تم ایک سخت جنگجو قوم کی طرف بلائے جاؤ گےکہ تم ان سے لڑو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے

 اور جگہ ہے:

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (۹:۷۳)

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ

اور جگہ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (۹:۱۲۳)

اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کے لئے تمہارے اندر سختی ہونی چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے

صحیح حدیث میں ہے:

تیرے رب کو ان لوگوں پر تعجب آتا ہے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنت کی طرف گھسیٹے جاتے ہیں، یعنی وہ کفار جو میدان جنگ میں قیدی ہو کر طوق و سلاسل پہنا کر یہاں لائے جاتے ہیں پھر وہ اسلام قبول کر لیتے ہیں اور ان کا ظاہر باطن اچھا ہو جاتا ہے اور وہ جنت کے لائق بن جاتے ہیں

مسند احمد کی حدیث میں ہے :

ایک شخص سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا مسلمان ہو جاؤ، ا

س نے کہا حضرت میرا دِل نہیں مانتا

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گو دِل نہ چاہتا ہو،

 یہ حدیث ثلاثی ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک اس میں تین راوی ہیں لیکن اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ آپ نے اسے مجبور کیا، مطلب یہ ہے کہ تو کلمہ پڑھ لے، پھر ایک دن وہ بھی آئے گا اللہ تیرے دِل کو کھول دے اور تو دِل سے بھی اسلام کا دلدادہ ہو جائے گا، حسن نیت اور اخلاص عمل تجھے نصیب ہو،

فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (۲۵۶)

اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‏

جو شخص بت اور اوثان اور معبودان باطل اور شیطانی کلام کی قبولیت کو چھوڑ دے اللہ کی توحید کا اقراری اور عامل بن جائے وہ سیدھا اور صحیح راہ پر ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ فرماتے ہیں جبت سے مراد جادو ہے اور طاغوت سے مراد شیطان ہے،

دلیری اور ناموری دونوں اونٹ کے دونوں طرف کے برابر بوجھ ہیں جو لوگوں میں ہوتے ہیں۔ ایک دلیر آدمی تو انجان شخص کی حمایت میں بھی جان دینے پر تل جاتا ہے لیکن ایک بزدل اور ڈرپوک اپنی سگی ماں کی خاطر بھی قدم آگے نہیں بڑھاتا۔

انسان کا حقیقی کرم اس کا دین ہے، انسان کا سچا نسب حسن و خلق ہے گو وہ فارسی ہو یا نبطی،

حضرت عمر ؓکا طاغوت کو شیطان کے معنی میں لینا بہت ہی اچھا ہے اس لئے کہ یہ ہر اس برائی کو شامل ہے جو اہل جاہلیت میں تھی، بت کی پوجا کرنا، ان کی طرف حاجتیں لے جانا ان سے سختی کے وقت طلب امداد کرنا وغیرہ۔

پھر فرمایا اس شخص نے مضبوط کڑا تھام لیا،یعنی دین کے اعلیٰ اور قوی سبب کو لے لیا جو نہ ٹوٹے نہ پھوٹے، خوب مضبوط مستحکم قوی اور گڑا ہوا،

عُرْوَةِ الْوُثْقَى سے مراد ایمان اسلام توحید باری قرآن اور اللہ کی راہ کی محبت اور اسی کیلئے دشمنی کرنا ہے، یہ کڑا کبھی نہ ٹوٹے گا یعنی اس کے جنت میں پہنچتے تک، اور جگہ ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (۱۳:۱۱)

کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ  نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے:

 حضرت قیس بن عبادہ فرماتے ہیں میں مسجد نبوی میں تھا جو ایک شخص آیا جس کا چہرہ اللہ سے خائف تھا نماز کی دو ہلکی رکعتیں اس نے ادا کیں، لوگ انہیں دیکھ کر کہنے لگے یہ جنتی ہیں،

جب وہ باہر نکلے تو میں بھی ان کے پیچھے گیا، باتیں کرنے لگا جب وہ متوجہ ہوئے تو میں نے کہا جب آپ تشریف لائے تھے تب لوگوں نے آپ کی نسبت یوں کہا تھا،

کہا سبحان اللہ کسی کو وہ نہ کہنا چاہئے جس کا علم اسے نہ ہو، ہاں البتہ اتنی بات تو ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خواب دیکھا تھا کہ گویا میں ایک لہلہاتے ہوئے سرسبز گلشن میں ہوں اس کے ایک درمیان لوہے کا ستون ہے جو زمین سے آسمان تک چلا گیا ہے اس کی چوٹی پر ایک کڑا ہے مجھ سے کہا گیا اس پر چڑھ جاؤ، میں نے کہا میں تو نہیں چڑھ سکتا، چنانچہ ایک شخص نے مجھے تھاما اور میں باآسانی چڑھ گیا اور اس کڑے کو تھام لیا، اس نے کہا دیکھو مضبوط پکڑے رکھنا، بس اسی حالت میں میری آنکھ کھل گئی کہ وہ کڑا میرے ہاتھ میں تھا، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اپنا خواب بیان کیا تو آپ نے فرمایا گلشن باغ اسلام ہے اور ستون دین ہے اور کڑا عُرْوَةِ الْوُثْقَى ہے تو مرتے دم تک اسلام پر قائم رہے گا،

یہ شخص حضرت عبداللہ بن سلامؓ ہیں،

یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں مروی ہے۔

 مسند کی اسی حدیث میں ہے:

اس وقت آپ بوڑھے تھے اور لکڑی پر ٹیک لگائے ہوئے مسجد نبوی میں آئے تھے اور ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ جنت اللہ کی چیز ہے جسے چاہے اسں میں لے جائے،

خواب کے ذِکر میں فرمایا کہ ایک شخص آیا مجھے لے کر چلا گیا جب ہم ایک لمبے چوڑے صاف شفاف میدان میں پہنچے تو میں نے بائیں طرف جانا چاہا تو اس نے کہا تو ایسا نہیں۔ میں دائیں جانب چلنے لگا تو اچانک ایک پھسلتا پہاڑ نظر آیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور اوپر چڑھا لیا اور میں اس کی چوٹی تک پہنچ گیا، وہاں میں نے ایک اونچا ستون لوہے کا دیکھا جس کے سرے پر ایک سونے کا کڑا تھا مجھے اس نے اس ستون پر چڑھا دیا یہاں تک کہ میں نے اس کڑے کو تھام لیا

 اس نے پوچھا خوب مضبوط تھام لیا ہے، میں نے کہاں ہاں،

اس نے زور سے ستون پر اپنا پاؤں مارا، وہ نکل گیا اور کڑا میرے ہاتھ میں رہ گیا،

جب یہ خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سنایا تو آپ ﷺنے فرمایا

بہت نیک خواب ہے، میدان محشر ہے، بائیں طرف کا راستہ جہنم کا راستہ ہے تو ان لوگوں میں نہیں، دائیں جانب کا راستہ جنتیوں کی راہ ہے، پھسلتا پہاڑ شہداء کی منزل ہے، کڑا اسلام کا کڑا ہے مرتے دم تک اسے مضبوط تھام رکھو،

اس کے بعد حضرت عبداللہ ؓنے فرمایا امید تو مجھے یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں لے جائے گا۔

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ

ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ اس کی رضامندی کے طلبگار کو وہ سلامتی کی راہنمائی کرتا ہے اور شک و شبہ کے کفر و شک کے اندھیروں سے نکال کر نور حق کی صاف روشنی میں لا کھڑا کرتا ہے،

لفظ النُّورِ کو واحد لانا اور الظُّلُمَاتِ کو جمع لانا اس لئے ہے کہ حق اور ایمان اور سچا راستہ ایک ہی ہے اور کفر کی کئی قسمیں ہیں، کافروں کی بہت سی شاخیں ہیں جو سب کی سب باطل اور ناحق ہیں جیسے اور جگہ ہے :

وَأَنَّ هَـذَا صِرَطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّـكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (۶:۱۵۳)

اور یہ کہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔‏

اور جگہ ہے:

وَجَعَلَ الظُّلُمَـتِ وَالنُّورَ (۶:۱)

اور تاریکیوں اور نور کو بنایا

اور بھی اس قسم کی بہت سی آیتیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حق ایک ہی ہے، اور باطل میں تفرق و انتشار ہے،

حضرت ایوب بن خالد فرماتے ہیں:

 اہل ہوا یا اہل فتنہ کھڑے کئے جائیں گے جس کی چاہت صرف ایمان ہی کی ہو وہ تو روشن صاف اور نورانی ہوگا اور جس کی خواہش کفر کی ہو وہ سیاہ اور اندھیروں والا ہوگا، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ

اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں

کفار کے ولی شیاطین ہیں جو جہالت و ضلالت کو کفر و شرک کو مزین کرکے انہیں ایمان سے اور توحید سے روکتے ہیں اور یوں نور حق سے ہٹا کر ناحق کے اندھیروں میں جھونک دیتے ہیں،

أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (۲۵۷)

 یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔‏

 یہی کافر ہیں اور ہمیشہ یہ دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے،

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ

کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیمؑ سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا،

اس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان بن سام بن نوح تھا اس کا پایہ تخت بابل تھا اس کے نسب میں کچھ اختلاف بھی ہے،

حضرت مجاہد فرماتے ہیں دنیا کی مشرق مغرب کی سلطنت رکھنے والے چار ہوئے جن میں سے دو مؤمن اور دو کافر، حضرت سلیمان بن داؤد اور حضرت ذوالقرنین، اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر،

 فرمان ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم نے اسے نہیں دیکھا، جو حضرت ابراہیم سے وجود باری تعالیٰ میں مباحثہ کرنے لگا، یہ شخص خود اللہ ہونے کا مدعی تھا، جیسا اس کے بعد فرعون نے بھی اپنے والوں میں دعویٰ کیا تھا :

مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرِى (۲۸:۳۸)

میں اپنے سوا کسی کو تمہارا رب نہیں جانتا،

چونکہ ایک مدت مدید اور عرصہ بعید سے یہ بادشاہ چلا آتا تھا اس لئے دماغ میں رعونت اور انانیت آ گئی تھی، سرکشی اور تکبر، نخوت اور غرور طبیعت میں سما گیا تھا،بعض لوگ کہتے ہیں چار سو سال تک حکومت کرتا رہا تھا،

إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ

جب ابراہیم ؑ نے کہا میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے، وہ کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں

حضرت ابراہیمؑ سے جب اس نے وجود باری تعالیٰ پر دلیل مانگی تو آپ نے نیست سے ہست اور ہست سے نیست کرنے کی دلیل دی جو ایک بدیہی اور مثل آفتاب روشن دلیل تھی کہ موجودات کا پہلے کچھ نہ ہونا پھر ہونا پھر مٹ جانا کھلی دلیل ہے۔ موجد اور پیدا کرنے والے کے موجود ہونے کی اور وہی اللہ ہے،

 نمرود نے جواباً کہا کہ یہ تو میں بھی کرتا ہوں، یہ کہہ کر دو شخصوں کو اس نے بلوایا جو واجب القتل تھے، ایک کو قتل کر دیا اور دوسرے کو رہا کر دیا، دراصل یہ جواب اور دعویٰ کس قدر لچر اور بےمعنی ہے اس کے بیان کی بھی ضرورت نہیں،

 حضرت ابراہیمؑ نے تو صفات باری میں سے ایک صفت پیدا کرنا اور پھر نیست کر دینا بیان کی تھی اور اس نے نہ تو انہیں پیدا کیا اور نہ ان کی یا اپنی موت حیات پر اسے قدرت، لیکن جہلاء کو بھڑکانے کیلئے اور اپنی علمیت جتانے کیلئے باوجود اپنی غلطی اور مباحثہ کے اصول سے طریقہ فرار کو جانتے ہوئے صرف ایک بات بنالی،

قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ

 ابراہیم ؑ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے اور تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا،

ابراہیمؑ بھی اس کو سمجھ گئے اور آپ نے کند ذہن کے سامنے ایسی دلیل پیش کر دی کہ صورتاً بھی اس کی مشابہت نہ کرسکے، چنانچہ فرمایا کہ جب تو پیدائش اور موت تک کا اختیار رکھتا ہے تو مخلوق پر تصرف تیرا پورا ہونا چاہئے، میرے اللہ نے تو یہ تصرف کیا کہ سورج کو حکم دے دیا ہے کہ وہ مشرق کی طرف سے نکلا کرے چنانچہ وہ نکل رہا ہے، اب تو اسے حکم دے کہ وہ مغرب کی طرف سے نکلے اس کا کوئی ظاہری ٹوٹا پھوٹا جواب بھی نہ اس سے بن پڑا اور بےزبان ہو کر اپنی عاجزی کا معترف ہو گیا اور اللہ کی حجت اس پر پوری ہو گئی

وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (۲۵۸)

 اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‏

لیکن چونکہ ہدایت نصیب نہ تھی راہ یافتہ نہ ہو سکا، ایسے بدوضع لوگوں کو اللہ کوئی دلیل نہیں سمجھاتا اور وہ حق کے مقابلے میں بغلیں جھانکتے ہی نظر آتے ہیں، ان پر اللہ کا غضب و غصہ اور ناراضگی ہوتی ہے اور ان کیلئے اس جہاں میں بھی سخت عذات ہوتے ہیں،

بعض منطقیوں نے کہا ہے کہ حضرت خلیل اللہ نے یہاں ایک واضح دلیل کے بعد دوسری اس سے بھی زیادہ واضح دلیل پیش کر دی، لیکن درحقیت یوں نہیں بلکہ پہلی دلیل دوسری کا مقدمہ تھی اور ان دونوں میں سے نمرود کے دعویٰ کا بطلان بالکل واضح ہو گیا،

اصل دلیل پیدائش و موت ہی ہے چونکہ اس کا دعویٰ اس ناسمجھ مشت خاک نے بھی کیا تو لازم تھا کہ جو بنانے بگاڑنے پر نہ صرف قادر ہو بلکہ بناؤ بگاڑ کا بھی خالق ہو اس کی ملکیت پوری طرح اسی کے قبضہ میں ہونی چاہئے اور جس طرح موت و حیات کے احکام اس کے جاری ہو جاتے ہیں اسی طرح دوسرے احکام بھی جاری ہو جائیں، پھر کیا وجہ ہے کہ سورج جو کہ ایک مخلوق ہے اس کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری نہ کرے اور اس کے کہنے سے مشرق کی بجائے مغرب سے نہ نکلے؟

پس ابراہیم نے اس پر اس مباحثہ میں کھلا غلبہ پایا اور اسے بالکل لاجواب کر دیا فالحمدللہ۔

حضرت سدی فرماتے ہیں :

یہ مناظرہ حضرت ابراہیمؑ کے آگ سے نکل آنے کے بعد ہوا تھا اس سے پہلے آپ کی اس ظالم بادشاہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی،

زید بن اسلم کا قول ہے :

 قحط سالی تھی، لوگ نمرود کے پاس جاتے تھے اور غلہ لے آتے تھے، حضرت خلیل اللہ بھی گئے، وہاں یہ مناظرہ ہو گیا بدبخت نے آپ کو غلہ نہ دیا، آپ خالی ہاتھ واپس آئے، گھر کے قریب پہنچ کر آپ نے دونوں بوریوں میں ریت بھر لی کہ گھر والے سمجھیں کچھ لے آئے، گھر آتے ہی بوریاں رکھ کر سو گئے، آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ اٹھیں بوریوں کو کھولا تو دیکھا کہ عمدہ اناج سے دونوں پر ہیں، کھانا پکا کر تیار کیا، آپ کی بھی آنکھ کھلی دیکھا کہ کھانا تیار ہے، پوچھا اناج کہاں سے آیا، کہا دو بوریاں جو آپ بھر کر لائے ہیں، انہیں میں سے یہ اناج نکالا تھا، آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ جل شانہ کی طرف سے برکت اور اس کی رحمت ہے،

اس ناہنجار بادشاہ کے پاس اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا اس نے آکر اسے توحید کی دعوت دی لیکن اس نے قبول نہ کی، دوبارہ دعوت دی لیکن انکار کیا تیسری مرتبہ اللہ کی طرف بلایا لیکن پھر بھی یہ منکر ہی رہا۔ اس بار بار کے انکار کے بعد فرشتے نے اس سے کہا اچھا تو اپنا لشکر تیار کر میں بھی اپنا لشکر لے آتا ہوں، نمرود نے بڑا بھاری لشکر تیار کیا اور زبردست فوج کو لے کر سورج نکلنے کے میدان میں آ ڈٹا،

ادھر اللہ تعالیٰ نے مچھروں کا ایک دروازہ کھول دیا، بڑے بڑے مچھر اس کثرت سے آئے کہ لوگوں کو سورج بھی نظر نہ آتا تھا، اللہ کی یہ فوج نمرودیوں پر گری اور تھوڑی دیر میں ان کا خون تو کیا ان کا گوشت پوست سب کھا گئی اور سارے کے سارے یہیں ہلاک ہوگئے، ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا،

انہی مچھروں میں سے ایک نمرود کے نتھنے میں گھس گیا اور چارسو سال تک اس کا دماغ چاٹتا رہا ایسے عذاب میں وہ رہا کہ اس سے موت ہزاروں درجے بہتر تھی اپنا سر دیواروں اور پتھروں پر مارتا پھرتا تھا، ہتھوڑوں سے کچلواتا تھا، یونہی رینگ رینگ کر بدنصیب نے ہلاکت پائی۔ اعاذنا اللہ

أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا

یا اس شخص کی مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی

اوپر جو واقعہ حضرت ابراہیمؑ کے مباحثہ کا گزرا، اس پر اس کا عطف ہے، یہ گزرنے والے یا تو حضرت عزیرؑ تھے جیسا کہ مشہور ہے یا ارمیا بن خلقیا تھے اور یہ نام حضرت خضر کا ہے ، یا خرقیل بن بوار تھے، یا بنی اسرائیل کا ایک شخص تھا، یہ بستی بیت المقدس تھی اور یہی قول مشہور ہے،

بخت نصر نے جب اسے اجاڑا یہاں کے باشندوں کو تہ تیغ کیا، مکانات گرا دئیے اور اس آباد بستی کو بالکل ویران کر دیا، اس کے بعد یہ بزرگ یہاں سے گزرے، انہوں نے دیکھا کہ ساری بستی تہ و بالا ہو گئی ہے، نہ مکان ہے نہ مکین،

قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ

وہ کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ اسے کس طرح زندہ کرے گا

تو وہاں ٹھہر کر سوچنے لگے کہ بھلا ایسا بڑا پررونق شہر جو اس طرح اُجڑا ہے یہ پھر کیسے آباد ہوگا؟

فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ

تو اللہ تعالیٰ نے اسے مار دیا سو سال کے لیئے، پھر اسے اٹھایا، پوچھا کتنی مدت تم پر گزری؟

اللہ تعالیٰ نے خود ان پر موت نازل فرمائی، تو اسی حالت میں رہے اور وہاں ستر سال کے بعد بیت المقدس پھر آباد ہو گیا، بھاگے ہوئے بنی اسرائیل بھی پھر آپہنچے اور شہر کھچا کھچ بھر گیا، وہی اگلی سی رونق اور چہل پہل ہو گئی،

 اب سو سال کامل کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کیا اور سب سے پہلے روح آنکھوں میں آئی تاکہ اپنا جی اُٹھنا خود دیکھ سکیں، جب سارے بدن میں روح پھونک دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے پچھوایا کہ کتنی مدت تک تم مردہ رہے؟

قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ

کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ

جس کے جواب میں کہا کہ ابھی تک ایک دن بھی پورا نہ ہوا، وجہ یہ ہوئی کہ صبح کے وقت ان کی روح نکلی تھی اور سو سال کے بعد جب جئے ہیں تو شام کا وقت تھا، خیال کیا کہ یہ وہی دن ہے

قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ

فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا

تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایک سو سال کامل تک مردہ رہے، اب ہماری قدرت دیکھو کہ تمہارا توشہ بھتا جو تمہارے ساتھ تھا، باوجود سو سال گزر جانے کے بھی ویسا ہی ہے، نہ سڑا نہ خراب ہوا ہے۔ یہ توشہ انگور اور انجیر اور عصیر تھا نہ تو یہ شیرہ بگڑا تھا نہ انجیر کھٹے ہوئے تھے نہ انگور خراب ہوئے تھے بلکہ ٹھیک اپنی اصلی حالت پر تھے،

وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ ۖ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ

اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں،

اب فرمایا یہ تیرا گدھا جس کی بوسیدہ ہڈیاں تیرے سامنے پڑی ہیں، انہیں دیکھ تیرے دیکھتے ہوئے ہم اسے زندہ کرتے ہیں، ہم خود تیری ذات کو لوگوں کیلئے دلیل بنانے والے ہیں کہ انہیں قیامت کے دن اپنے دوبارہ جی اٹھنے پر یقین کامل ہو جائے، چنانچہ ان کے دیکھتے ہوئے ہڈیاں اٹھیں اور ایک ایک کے ساتھ جڑیں،

مستدرک حاکم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت نُنْشِزُهَا زے کے ساتھ ہے اور نُنْشِزُهَا رے کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یعنی زندہ کریں گے، مجاہد کی قرأت یہی ہے،

سدی کہتے ہیں یہ ہڈیاں انکے دائیں بائیں پھیل پڑی تھیں اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ان کی سفیدی چمک رہی تھی، ہوا سے یہ سب یکجان ہو گئیں، پھر ایک ایک ہڈی اپنی اپنی جگہ جڑ گئی اور ہڈیوں کا پورا ڈھانچہ قائم ہو گیا جس پر گوشت مطلق نہ تھا،

پھر اللہ تعالیٰ نے اسے گوشت، رگیں، پٹھے، اور کھال پہنا دی، پھر فرشتے کو بھیجا جس نے اس کے نتھنے میں پھونک ماری، بس اللہ کے حکم سے اسی وقت زندہ ہو گیا اور آواز نکالنے لگا، ان تمام باتوں کو دیکھ کر حضرت عزیرؑدیکھتے رہے اور مدت کی یہ ساری کاریگری ان کی آنکھوں کے سامنے ہی ہوئی،

فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۵۹)

 جب یہ سب ظاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے ۔

جب یہ سب کچھ دیکھ چکے تو کہنے لگے اس بات کا علم تو مجھے تھاہی کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے لیکن اب میں نے اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیا، تو میں اپنے زمانے کے تمام لوگوں سے زیادہ علم و یقین والا ہوں،

بعض لوگوں نے أَعْلَمُ کو اعلم بھی پڑھا ہے، یعنی اللہ مقتدر نے فرمایا کہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کو ہرچیز پر قدرت ہے۔

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۖ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۖ

اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے پروردگار مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا جناب باری تعالیٰ نے فرمایا کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی

حضرت ابراہیمؑ کے اس سوال کی بہت سی وجوہات تھیں،

ایک تو یہ کہ چونکہ یہی دلیل آپ نے نمرود مردود کے سامنے پیش کی تھی تو آپ نے چاہا کہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل ہو جائے، جانتا تو ہوں ہی لیکن دیکھ بھی لوں،

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کے موقع کی ایک حدیث ہے جس میں ہے :

 ہم شک کے حقدار بہ نسبت حضرت ابراہیم کے زیادہ ہیں جبکہ انہوں نے کہا رَبِّ أَرِنِي تو اس سے کوئی جاہل یہ نہ سمجھے کہ حضرت خلیل اللہ کو اللہ کی اس صفت میں شک تھا، اس حدیث کے بہت سے جواب ہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔

شاید یہ ہوگا کہ ہم خلیل اللہ سے کمزور ایمان والے ہونے کے باوجود خلاق عالم کی اس صفت میں شک نہیں کرتے تو خلیل اللہ کو شک کیوں ہوگا؟ مترجم

قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ

 فرمایا چار پرندوں کو لو پھر ان کے ٹکڑے کر ڈالو پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے

اب رب العالمین خالقِ کل فرماتا ہے کہ چار پرندے لے لو،

مفسرین کے اس بارے میں کئی قول ہیں کہ کون کون سے پرندے حضرت ابراہیمؑ نے لئے تھے؟لیکن ظاہر ہے کہ اس کا علم ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا او اس کا نہ جاننا ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، کوئی کہتا ہے وہ کلنگ اور مور اور مرغ اور کبوتر تھے، کوئی کہتا ہے وہ مرغابی اور سیمرغ کا بچہ اور مرغ اور مور تھے، کوئی کہتا ہے کبوتر، مرغ، مور اور کوا تھے،

 پھر انہیں کاٹ کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو، حضرت ابن عباسؓ یہی فرماتے ہیں

 اور روایت میں ہے اپنے پاس رکھ لیا، جب ہل گئے انہیں ذبح کر دیا، پھر ٹکڑے ٹکڑے الگ الگ کر دئیے،

پس آپ نے چار پرند لئے، ذبح کرکے ان کے ٹکڑے کئے پھر اکھیڑ دئیے اور سارے مختلف ٹکڑے آپس میں ملا دئیے، پھر چاروں پہاڑوں پر وہ ٹکڑے رکھ دئیے اور سب پرندوں کے سر اپنے ہاتھ میں رکھے،

پھر بحکم اللہ انہیں بلانے لگے جس جانور کو آواز دیتے اس کے بکھرے ہوئے پر ادھر ادھر سے اڑتے اور آپس میں جڑتے اسی طرح خون خون کے ساتھ ملتا اور باقی اجزاء بھی

جس جس پہاڑ پر ہوتے آپس میں مل جاتے اور پرندہ اڑتا ہوا آپ کے پاس آتا،

 آپ اسے دوسرے پرند کا سر دیتے تو وہ قبول نہ کرتا، خود اس کا سر دیتے تو وہ بھی جڑ جاتا، یہاں تک کہ ایک ایک کرکے یہ چاروں پرند زندہ ہو کر اُڑ گئے

اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اور مردوں کے زندہ ہونے کا یہ ایمان افروز نظارہ خلیل اللہ نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا،

وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (۲۶۰)

اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے حکمتوں والا ہے۔‏

 پھر فرماتا ہے کہ جان لے اللہ غالب ہے کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی، جس کام کو چاہے بےروک ہو جاتا ہے، ہرچیز اس کے قبضے میں ہے، وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے اسی طرح اپنے انتظام میں اور شریعت کے مقرر کرنے میں بھی،

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ ابراہیم ؑسے جناب باری کا یہ سوال کرنا کہ کیا تو ایمان نہیں لایا اور حضرت خلیل اللہ کا یہ جواب دینا کہ ہاں ایمان تو ہے لیکن دِلی اطمینان چاہتا ہوں، یہ آیت مجھے تو اور تمام آیتوں سے زیادہ امید دلانے والی معلوم ہوتی ہے،

مطلب یہ ہے کہ ایک ایماندار کے دِل میں اگر کوئی خطرہ وسوسہ شیطانی پیدا ہو تو اس پر پکڑ نہیں،

حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی ملاقات ہوتی ہے تو پوچھتے ہیں کہ قرآن میں سب سے زیادہ امید پیدا کرنے والی آیت کون سی ہے؟

 عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں لاَ تَقْنَطُواْ والی آیت جس میں ارشاد ہے:

يعِبَادِىَ الَّذِينَ أَسْرَفُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُواْ (۳۹:۵۳)

اے میرے گنہگار بندو میری رحمت سے ناامید نہ ہونا میں سب گناہوں کو بخش دیتا ہوں،

ابن عباسؓ نے فرمایا میرے نزدیک تو اس اُمت کیلئے سب سے زیادہ ڈھارس بندھانے والی آیت حضرت ابراہیم کا یہ قول، پھر رب دو عالم کا سوال اور آپ کا جواب ہے (عبدالرزاق و ابن ابی حاتم وغیرہ)

مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ۗ

جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسکی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سے سو دانے ہوں

اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنے مال کو خرچ کرے، اسے بڑی برکتیں اور بہت بڑے ثواب ملتے ہیں اور نیکیاں سات سو گنا کرکے دی جاتی ہیں،

تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کی فرمانبرداری میں جہاد کے گھوڑوں کو پالنے میں، ہتھیار خریدنے میں، حج کرنے کرانے میں خرچ کرتے ہیں۔

اللہ کے نام دئیے ہوئے کی مثال کس پاکیزگی سے بیان ہو رہی ہے جو آنکھوں میں کھپ جائے اور دِل میں گھر کر جائے، ایک دم یوں فرما دیتا ہے کہ ایک کے بدلے سات سو ملیں گے اس سے بہت زیادہ لطافت اس کلام اور اس کی مثال میں ہے

 اور پھر اس میں اشارہ ہے کہ اعمال صالحہ اللہ کے پاس بڑھتے رہتے ہیں جس طرح تمہارے بوئے ہوئے بیج کھیت میں بڑھتے رہتے ہیں مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ احمد مجتبیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو شخص اپنی بچی ہوئی چیز فی سبیل اللہ دیتا ہے اسے سات سو کا ثواب ملتا ہے

 اور جو شخص جان پر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے اسے دس گنا ملتا ہے اور بیمار کی عیادت کا ثواب بھی دس گنا ملتا ہے۔

 روزہ ڈھال ہے، جب تک کہ اسے خراب نہ کرے،

جس شخص پر کوئی جسمانی بلا مصیبت دکھ درد بیماری آئے وہ اس کے گناہوں کو جھاڑ دیتی ہے۔

یہ حدیث حضرت ابوعبیدہ نے اس وقت بیان فرمائی تھی جب کہ آپ سخت بیمار تھے اور لوگ عیادت کیلئے گئے تھے، آپ کی بیوی صاحبہ سرہانے بیٹھی تھیں، ان سے پوچھا کہ رات کیسی گزری؟

انہوں نے کہا نہایت سختی سے،

 آپ کا منہ اس وقت دیوار کی جانب تھا، یہ سنتے ہی لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا میری یہ رات سختی کی نہیں گزری، اس لئے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے،

 مسند احمد کی اور حدیث میں ہے:

 ایک شخص نے نکیل والی اونٹنی خیرات کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قیامت کے دن سات سو نکیل والی اونٹنیاں پائے گا،

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے :

اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی ایک نیکی کو دس نیکیوں کے برابر کر دیا ہے اور وہ بڑھتی رہتی ہیں، سات سو تک،مگر روزہ ، کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ خاص میرے لئے ہے اور میں آپ کو اس کا اجر و ثواب دوں گا،روزے دار کو دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت، دوسری قیامت کے دن روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے،

دوسری حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ روزے دار اپنے کھانے پینے کو صرف میری وجہ سے چھوڑتا ہے، آخر میں ہے روزہ ڈھال ہے ،

مسند کی اور حدیث میں ہے:

 نماز روزہ اللہ کا ذِکر اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا بڑھ جاتے ہیں،

وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (۲۶۱)

اور اللہ تعالیٰ اسے چاہے اور بڑھا دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔‏

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے :

جو شخص جہاد میں کچھ مالی مدد دے، گو خود نہ جائے تاہم اسے ایک کے بدلے سات سو کے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور خود بھی شریک ہوا تو ایک درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کے خرچ کا ثواب ملتا ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ

 یہ حدیث غریب ہے

اور حضرت ابوہریرہ ؓوالی حدیث مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا (۲:۲۴۵) کی تفسیر میں پہلے گزر چکی ہے جس میں ہے کہ ایک کے بدلے میں دو کروڑ کا ثواب ملتا ہے،

 ابن مردویہ میں ہے:

 جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی علیہ صلواۃ اللہ نے دعا کی کہ اے اللہ میری اُمت کو کچھ اور زیادتی عطا فرما تو مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا (۲:۲۴۵) والی آیت اتری اور آپ نے پھر بھی یہی دعا کی تو آیت إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (۳۹:۱۰) اتری،

 پس ثابت ہوا کہ جب قدر اخلاص عمل میں ہو اسی قدر ثواب میں زیادتی ہوتی ہے،اللہ تعالیٰ بڑے وسیع فضل و کرم والا ہے، وہ جانتا بھی ہے کہ کون کس قدر مستحق ہے اور کسے استحقاق نہیں فسبحان اللہ والحمداللہ

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ

جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذاء دیتے ہیں

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی مدح و تعریف کرتا ہے جو خیرات و صدقات کرتے ہیں اور پھر جسے دیتے ہیں اس پر احسان نہیں جتاتے اور نہ اپنی زبان سے یا اپنے کسی فعل سے اس شخص کو کوئی نقصان پہنچاتے ہیں،

لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۲۶۲)

ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہونگے۔‏

 ان سے ایسے جزائے خیر کا وعدہ فرماتا ہے کہ ان کا اجر و ثواب رب دو عالم کے ذمہ ہے۔

 ان پر قیامت کے دن کوئی ہول اور خوف و خطر نہ ہوگا اور نہ دنیا اور بال بچے چھوٹ جانے کا انہیں کوئی غم و رنج ہوگا، اس لئے کہ وہاں پہنچ کر اس سے بہتر چیزیں انہیں مل چکی ہیں۔

قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ

نرم بات کہنا اور معاف کر دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذاء رسانی ہو

پھر فرماتا ہے کہ کلمہ خیر زبان سے نکالنا، کسی مسلمان بھائی کیلئے دعا کرنا، درگزر کرنا، خطاوار کو معاف کر دینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کی تہہ میں ایذاء دہی ہو،

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 کوئی صدقہ نیک کام سے افضل نہیں۔ کیا تم نے فرمان باری قَوْلٌ مَعْرُوفٌ نہیں سنا؟

وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ (۲۶۳)

 اور اللہ تعالیٰ بےنیاز اور بردبار ہے۔‏

 اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ساری مخلوق اس کی محتاج ہے، وہ حلیم اور بردبار ہے، گناہوں کو دیکھتا ہے اور حلم و کرم کرتا ہے بلکہ معاف فرما دیتا ہے، تجاوز کر لیتا ہے اور بخش دیتا ہے

صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے :

 تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت نہ کرے گا نہ ان کی طرف نظرِ رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کیلئے دردناک عذاب ہیں،

-          ایک تو دے کر احسان جتانے والا،

-         دوسرا ٹخنوں سے نیچے پاجامہ اور تہبند لٹکانے والا،

-         تیسرا اپنے سودے کو جھوٹی قسم کھا کر بیچنے والا۔

ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے:

 ماں باپ کا نافرمان خیرات صدقہ کرکے احسان جتانے والا شرابی اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہ ہوگا،

 نسائی میں ہے :

تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دیکھے گا بھی نہیں، ماں باپ کا نافرمان، شراب کا عادی اور دے کر احسان جتانے والا،

 نسائی کی اور حدیث میں ہے یہ تینوں شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے،

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى

اے ایمان والو اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذاء پہنچا کر برباد نہ کرو

اسی لئے اس آیت میں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے صدقات و خیرات کو منت سماجت و احسان رکھ کر اور تکلیف پہنچا کر برباد نہ کرو، اس احسان کے جتانے اور تکلیف کے پہنچانے کا گناہ صدقہ اور خیرات کا ثواب باقی نہیں رکھا۔

كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ

جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر،

 پھر مثال دی کہ احسان اور تکلیف دہی کے صدقے کے غارت ہو جانے کی مثال اس صدقہ جیسی ہے جو ریاکاری کے طور پر لوگوں کو دکھاوے کیلئے دیا جائے۔ اپنی سخاوت اور فیاضی اور نیکی کی شہرت مدنظر ہو، لوگوں میں تعریف و ستائش کی چاہت ہو صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب نہ ہو نہ اس کے ثواب پر نظر ہو،

فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ

 اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زور دار مینہ برسے اور وہ اس کو بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے

اسی لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہ ہو تو اس ریاکارانہ صدقے کی اور اس احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے کے صدقہ کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی صاف چٹیل پتھر کی چٹان ہو جس پر مٹی بھی پڑی ہوئی ہو، پھر سخت شدت کی بارش ہو تو جس طرح اس پتھر کی تمام مٹی دُھل جاتی ہے اور کچھ بھی باقی نہیں رہتی،

لَا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا ۗ

ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی

اسی طرح ان دونوں قسم کے لوگوں کے خرچ کی کیفیت ہے کہ گو لوگ سمجھتے ہوں کہ اس کے صدقہ کی نیکی اس کے پاس ہے جس طرح بظاہر پتھر پر مٹی نظر آتی ہے لیکن جیسے کہ بارش سے وہ مٹی جاتی رہی اسی طرح اس کے احسان جتانے یا تکلیف پہچانے یا ریاکاری کرنے سے وہ ثواب بھی جاتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچے گا تو کچھ بھی جزا نہ پائے گا، اپنے اعمال میں سے کسی چیز پر قدرت نہ رکھے گا،

وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ (۲۶۴)

اور اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو (سیدھی) راہ نہیں دکھاتا۔‏

 اللہ تعالیٰ کافر گروہ کی راہِ راست کی طرف رہبری نہیں کرتا۔

وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ

ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو

یہ مثال مؤمنوں کے صدقات کی دی جن کی نیتیں اللہ کو خوش کرنے کی ہوتی ہیں اور جزائے خیر ملنے کا بھی پورا یقین ہوتا ہے،جیسے حدیث میں ہے:

 جس شخص نے رمضان کے روزے ایمانداری کے ساتھ ثواب ملنے کے یقین پر رکھے۔ ۔

رَبْوَہ کہتے ہیں اونچی زمین کو جہاں نہریں چلتی ہیں اس لفظ کو بِرُبْوَةٍ اور بِرَبْوَةِ بھی پڑھا گیا ہے۔

أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِنْ لَمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ

اور زوردار بارش اس پر برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لائے اور اگر اس پر بارش نہ بھی پڑے تو پھوار ہی کافی ہے

وَابِلٌ کے معنی سخت بارش کے ہیں،

وہ دگنا پھل لاتی ہے یعنی بہ نسبت دوسرے باغوں کی زمین کے، یہ باغ ایسا ہے اور ایسی جگہ واقع ہے کہ بالفرض بارش نہ بھی ہو تاہم صرف شبنم سے ہی پھلتا پھولتا ہے یہ ناممکن ہے کہ موسم خالی جائے، اسی طرح ایمانداروں کے اعمال کبھی بھی بے اجر نہیں رہتے۔ وہ ضرور بدلہ دلواتے ہیں، ہاں اس جزا میں فرق ہوتا ہے جو ہر ایماندار کے خلوص اور اخلاص اور نیک کام کی اہمیت کے اعتبار سے بڑھتا ہے۔

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (۲۶۵)

 اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

 اللہ تعالیٰ پر اپنے بندوں میں سے کسی بندے کا کوئی عمل مخفی اور پوشیدہ نہیں۔

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ

کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں،

صحیح بخاری شریف میں ہے:

امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک دن صحابہ سے پوچھا جانتے ہو کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی؟

 انہوں نے کہا اللہ زیادہ جاننے والا،

آپ نے ناراض ہو کر فرمایا تم جانتے ہو یا نہیں؟ اس کا صاف جواب دو،

حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا امیرالمؤمنین میرے دِل میں ایک بات ہے

آپ نے فرمایا بھتیجے کہو اور اپنے نفس کو اتنا حقیر نہ کرو، فرمایا ایک عمل کی مثال دی گئی ہے،

پوچھا کون سا عمل؟

 کہا ایک مالدار شخص جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے کام کرتا ہے پھر شیطان اسے بہکاتا ہے اور وہ گناہوں میں مشغول ہو جاتا ہے اور اپنے نیک اعمال کو کھو دیتا ہے،

پس یہ روایت اس آیت کی پوری تفسیر ہے اس میں بیان ہو رہا ہے کہ ایک شخص نے ابتداء اچھے عمل کئے پھر اس کے بعد اس کی حالت بدل گئی اور برائیوں میں پھنس گیا اور پہلے کی نیکیوں کا ذخیرہ برباد کردیا، اور آخری وقت جبکہ نیکیوں کی بہت زیادہ ضرورت تھی یہ خیال ہاتھ رہ گیا، جس طرح ایک شخص ہے جس نے باغ لگایا پھل اتارتا ہو،

وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ۗ

اس شخص کا بڑھاپا آگیا ہو اور اسکے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگولہ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وہ باغ جل جائے

لیکن جب بڑھاپے کے زمانہ کو پہنچا چھوٹے بچے بھی ہیں خود کسی کام کاج کے قابل بھی نہیں رہا، اب مدارِ زندگی صرف وہ ایک باغ ہے اتفاقاً آندھی چلی یعنی پھر برائیوں پر اتر آیا اور خاتمہ اچھا نہ ہوا تو جب ان نیکیوں کے بدلے کا وقت آیا تو خالی ہاتھ رہ گیا،

 کافر شخص بھی جب اللہ کے ہاں جاتا ہے تو وہاں تو کچھ کرنے کی طاقت نہیں جس طرح اس بوڑھے کو، اور جو کیا ہے وہ کفر کی آگ والی آندھی نے برباد کردیا، اب پیچھے سے بھی کوئی اسے فائدہ نہیں پہنچا سکتا جس طرح اس بوڑھے کی کم سن اولاد اسے کوئی کام نہیں دے سکتی، مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا یہ بھی تھی:

اللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَ عِنْدَ كِبَرِ سِنِّي وَانْقِضَاءِ عُمُرِي

اے اللہ اپنی روزی کو سب سے زیادہ مجھے اس وقت عنایت فرما جب میری عمر بڑی ہو جائے اور ختم ہونے کو آئے

 

كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ (۲۶۶)

اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور فکر کرو۔‏

اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے یہ مثالیں بیان فرما دیں، تم بھی غور و فکر تدبر و تفکر کرو، سوچو سمجھو اور عبرت و نصیحت حاصل کرو جیسے فرمایا:

وَتِلْكَ الاٌّمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَآ إِلاَّ الْعَـلِمُونَ (۲۹:۴۳)

ان مثالوں کو ہم نے لوگوں کیلئے بیان فرما دیا۔ انہیں علماء ہی خوب سمجھ سکتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ ۖ

اے ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو

اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہے کہ مال تجارت جو اللہ جل شانہ نے تمہیں دیا ہے سونا چاندی اور پھل اناج وغیرہ جو اس نے تمہیں زمین سے نکال کر دئیے ہیں، اس میں سے بہترین مرغوب طبع اور پسند خاطر عمدہ عمدہ چیزیں اللہ کی راہ میں دو۔

وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ

ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرو جسے تم خود لینے والے نہیں ہو ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو

ردی، واہیات، سڑی گلی، گری پڑی، بےکار، فضول اور خراب چیزیں راہِ اللہ نہ دو، اللہ خود طیب ہے وہ خبیث کو قبول نہیں کرتا، ہم اسکے نام پر یعنی گویا اسے وہ خراب چیز دینا چاہتے ہو جسے اگر تمہیں دی جاتی تو نہ قبول کرتے پھر اللہ کیسے لے لے گا؟ ہاں مال جاتا دیکھ کر اپنے حق کے بدلے کوئی گری پڑی چیز بھی مجبور ہو کر لے لو تو اور کوئی بات ہے لیکن اللہ ایسا مجبور بھی نہیں وہ کسی حالت میں ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتا،

 یہ بھی مطلب ہے کہ حلال چیز کو چھوڑ حرام چیز یا حرام مال سے خیرات نہ کرو،

مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہاری روزیاں تم میں تقسیم کی ہیں تمہارے اخلاق بھی تم میں بانٹ دئیے ہیں، دنیا تو اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی دیتا ہے دشمنوں کو بھی، ہاں دین صرف دوستوں کو ہی عطا فرماتا ہے اور جسے دین مل جائے وہ اللہ کا محبوب ہے۔اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دِل اس کی زبان مسلمان نہ ہو جائے،کوئی بندہ مؤمن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بےخوف نہ ہو جائیں،

لوگوں کے سوال پر آپﷺ نے فرمایا ایذاء سے مراد دھوکہ بازی اور ظلم و ستم ہے،

جو شخص حرام وجہ سے مال حاصل کرے اس میں اللہ برکت نہیں دیتا نہ اس کے صدقہ خیرات کو قبول فرماتا ہے اور جو چھوڑ کر جاتا ہے وہ سب اس کیلئے آگ میں جانے کا توشہ اور سبب بنتا ہے، اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے دفع کرتا ہے، خباثت خباثت سے نہیں مٹتی،

پس دو قول ہوئے۔ ایک تو رَدی چیزیں دوسرا حرام مال۔

اس آیت میں پہلا قول مراد لیناہی اچھا معلوم ہوتا ہے،

 حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں :

کھجوروں کے موسم میں انصار اپنی اپنی وسعت کے مطابق کھجوروں کے خوشے لا کر دوستوں کے درمیان ایک رسی کے ساتھ لٹکا دیتے، جسے اصحاب صفہ اور مسکین مہاجر بھوک کے وقت کھا لیتے، کسی نے جسے صدقہ کی رغبت کم تھی اس میں ردی کھجور کا ایک خوشہ لٹکا دیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر تمہیں ایسی ہی چیزیں ہدیہ میں دی جائیں تو ہرگز نہ لو گے۔ ہاں اگر شرم و لحاظ سے بادل ناخواستہ لے لو تو اور بات ہے، اس کے نازل ہونے کے بعد ہم میں کا ہر شخص بہتر ہے بہتر چیز لاتا تھا (ابن جریر)

ابن ابی حاتم میں ہے:

 ہلکی قسم کی کھجوریں اور واہی پھل لوگ خیرات میں نکالتے جس پر یہ آیت اتری اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے صدقہ دینا منع فرمایا،

 حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں مؤمن کی کمائی کبھی خبیث نہیں ہوتی، مراد یہ ہے کہ بیکار چیز صدقہ میں نہ دو،

مسند میں حدیث ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوہ کا گوشت لایا گیا، آپ نے نہ کھایا نہ کسی کو کھانے سے منع فرمایا تو حضرت عائشہؓ نے کہا کسی مسکین کو دے دیں؟

آپ ﷺنے فرمایا جو تمہیں پسند نہیں اور جسے تم کھانا پسند نہیں کرتیں اسے کسی اور کو کیا دو گی؟

حضرت براء فرماتے ہیں :

جب تمہارا حق کسی پر ہو اور وہ تمہیں وہ چیز دے جو بےقدر و قیمت ہو تو تم اسے نہ لو گے مگر اس وقت جب تمہیں اپنے حق کی بربادی دکھائی دیتی ہو تو تم چشم پوشی کرکے اسی کو لو گے،

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم نے کسی کو اچھا مال دیا اور ادائیگی کے وقت وہ ناقص مال لے کر آیا تو تم ہرگز نہ لوگے اور اگر لو گے بھی تو اس کی قیمت گھٹا کر، تو تم جس چیز کو اپنے حق میں لینا پسند نہیں کرتے اسے اللہ کے حق کے عوض کیوں دیتے ہو؟

 پس بہترین اور مرغوب مال اس کی راہ میں خرچ کرو اور یہی معنی ہیں اس آیت کے بھی۔

لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ (۴:۹۲)

جب تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے

وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (۲۶۷)

اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بےپرواہ اور خوبیوں والا ہے‏

پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اپنی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا اور عمدہ چیز دینے کا۔ کہیں اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ وہ محتاج ہے، نہیں نہیں وہ تو بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو، یہ حکم صرف اس لئے ہے کہ غرباء بھی دنیا کی نعمتوں سے محروم نہ رہیں گے، جیسے اور جگہ قربانی کے حکم کے بعد فرمایا:

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلاَ دِمَآؤُهَا وَلَـكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ (۲۲:۳۷)

اللہ تعالیٰ کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے

وہ کشادہ فضل والا ہے، اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں، صدقہ اپنے چہیتے حلال مال سے نکال کر اللہ کے فضل اس کی بخشش اس کے کرم اور اس کی سخاوت پر نظریں رکھو، وہ اس کا بدلہ اس سے بہت بڑھ چڑھ کر تمہیں عطا فرمائے گا وہ مفلس نہیں وہ ظالم نہیں، وہ حمید ہے تمام اقوال افعال تقدیر شریعت سب میں اس کی تعریفیں ہی کی جاتی ہیں، اس کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں، وہی تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ، اس کے سوا کوئی کسی کی پرورش نہیں کرتا۔

الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ۖ

شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بےحیائی کا حکم دیتا ہے

حدیث میں ہے:

ایک چوکا شیطان مارتا ہے اور ایک توفیق کی رہبری فرشتہ کرتا ہے۔ شیطان تو شرارت پر آمادہ کرتا ہے اور حق کے جھٹلانے پر اور فرشتہ نیکی پر اور حق کی تصدیق پر جس کے دِل میں یہ خیال آئے وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور جان لے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور جس کے دِل میں وہ وسوسہ پیدا ہو وہ آعوذ پڑھے،

پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ کی تلاوت فرمائی (ترمذی)

یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے موقوف بھی مروی ہے،

مطلب آیت شریفہ کا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے شیطان روکتا ہے اور دِل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اس طرح ہم فقیر ہو جائیں گے، اس نیک کام سے روک کر پھر بےحیائیوں اور بدکاریوں کی رغبت دلاتا ہے، گناہوں پر نافرمانیوں پر حرام کاریوں پر اور مخالفت پر اکساتا ہے

وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (۲۶۸)

اور اللہ تعالیٰ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ وسعت والا اور علم والا ہے۔‏

اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے برخلاف حکم دیتا ہے کہ خرچ فی سبیل اللہ سے ہاتھ نہ روکو

 اور شیطان کی دھمکی کے خلاف وہ فرماتا ہے کہ اس صدمہ کے باعث میں تمہاری خطاؤں کو بھی معاف کر دوں گا اور وہ جو تمہیں فقیری سے ڈراتا ہے میں اس کے مقابلہ میں تمہیں اپنے فضل کا یقین دلاتا ہوں، مجھ سے بڑھ کر رحم و کرم، فضل و لطف کس کا زیادہ وسیع ہوگا؟ اور انجام کار کا علم بھی مجھ سے زیادہ اچھا کسے حاصل ہو سکتا ہے؟

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ

وہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا

حِكْمَة سے مراد یہاں پر قرآن کریم اور حدیث شریف کی پوری مہارت ہے جس سے ناسخ منسوخ محکم متشابہ مقدم مؤخر حلال حرام کی اور مثالوں کی معرفت حاصل ہو جائے،

پڑھنے کو تو اسے ہر برا بھلا پڑھتا ہے لیکن اس کی تفسیر اور اس کی سمجھ وہ حکمت ہے جسے اللہ چاہے عنایت فرماتا ہے کہ وہ اصل مطلب کو پالے اور بات کی تہہ تک پہنچ جائے اور زبان سے اس کے صحیح مطلب ادا ہوں، سچا علم صحیح سمجھ اسے عطا ہو، اللہ کا ڈر اس کے دِل میں ہو، چنانچہ ایک مرفوع حدیث بھی ہے کہ حکمت کا راز اللہ کا ڈر ہے،

 ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو دنیا کے علم کے بڑے ماہر ہیں، ہر امر دنیوی کو عقلمندی سمجھ لیتے ہیں لیکن دین میں بالکل اندھے ہیں، اور ایسے لوگ بھی ہیں کہ دنیوی علم میں کمزور ہوں لیکن علوم شرعی میں بڑے ماہر ہیں۔

پس یہ ہے وہ حکمت جسے اللہ نے اسے دی اور اسے اس سے محروم رکھا،

سدی کہتے ہیں یہاں حکمت سے مراد نبوت ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ حکمت کا لفظ ان تمام چیزوں پر مشتمل ہے اور نبوت بھی اس کا اعلیٰ اور بہترین حصہ ہے اور اس سے بالکل خاص چیز ہے جو انبیاء کے سوا او کسی کو حاصل نہیں، ان کے تابع فرمان لوگوں کو اللہ کی طرف سے محرومی نہیں، سچی اور اچھی سمجھ کی دولت سے یہ بھی مالا مال ہوتے ہیں،

 بعض احادیث میں ہے جس نے قرآن کریم کو حفظ کر لیا اس کے دونوں بازوؤں کے درمیان نبوت چڑھ گئی، وہ صاحب وحی نہیں،

لیکن دوسرے طریق سے کہ وہ ضعیف ہے منقول ہے کہ یہ حضرت عبداللہ بن عمروؓ  کا اپنا قول ہے

 مسند کی حدیث میں ہے:

 قابلِ رشک صرف دو شخص ہیں

-          جسے اللہ نے مال دیا اور اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق بھی دی

-          اور جسے اللہ نے حکمت دی اور ساتھ ہی اس کے فیصلے کرنے اور اس کی تعلیم دینے کی توفیق بھی عطا فرمائی۔

وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ (۲۶۹)

اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔‏

 وعظ و نصیحت اسی کو نفع پہنچاتی ہے جو عقل سے کام لے، سمجھ رکھتا ہو، بات کو یاد رکھے اور مطلب پر نظریں رکھے۔

وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (۲۷۰)

تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‏

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا

 اور ان کے خلاف جو لوگ اس کی حکم برداری سے جی چراتے ہیں گناہ کا کام کرتے ہیں، اس کی خبروں کو جھٹلاتے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ ظالم ہیں قیامت کے دن قسم قسم کے سخت بدترین اور المناک عذاب انہیں ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو انہیں چھڑائے یا ان کی مدد میں اُٹھے۔

إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ ۚ

اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے

پھر فرمایا کہ ظاہر کرکے صدقہ دینا بھی اچھا ہے اور چھپا کر فقراء مساکین کو دینا بہت ہی بہتر ہے، اس لئے کہ یہ ریاکاری سے کوسوں دور ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ظاہر کرنے میں کوئی دینی مصلحت یا دینی فائدہ ہو مثلاً اس لئے کہ اور لوگ بھی دیں ۔

حدیث شریف میں ہے:

 صدقہ کا ظاہر کرنے والا مثل بلند آواز سے قرآن پڑھنے والے کے ہے اور اسے چھپانے والا آہستہ پڑھنے والے کی طرح ہے،

پس اس آیت سے صدقہ جو پوشیدہ دیا جائے اس کی افضلیت ثابت ہوتی ہے،

بخاری مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

سات شخصوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا،

-         عادل بادشاہ،

-         وہ نوجوان جو اپنی جوانی اللہ کی عبادت اور شریعت کی فرمانبرداری میں گزارے۔

-         وہ دو شخص جو اللہ تعالیٰ کیلئے آپس میں محبت رکھیں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں،

-         وہ شخص جس کا دِل مسجد میں لگا رہے نکلنے کے وقت سے جانے کے وقت تک

-         وہ شخص جو خلوت میں اللہ کا ذِکر کرکے رو دے،

-         وہ شخص جسے کوئی منصب و جمال والی عورت بدکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں

-         اور وہ شخص جو اپنا صدقہ اس قدر چھپا کر دے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر تک نہ ہو،

مسند احمد کی حدیث میں ہے :

جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کرکے انہیں گاڑ دیا جس سے زمین کا ہلنا موقوف ہو گیا، فرشتوں کو پہاڑوں کی ایسی سنگین پیدائش پر تعجب ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ باری تعالیٰ کیا تیری مخلوق میں پہاڑ سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے؟

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں لوہا،

پوچھا اس سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟

فرمایا ہاں آگ،

 پوچھا اس سے زیادہ سخت چیز کوئی اور بھی ہے؟

فرمایا ہاں پانی،

 پوچھا کیا اس سے بھی زیادہ سختی والی کوئی چیز ہے؟

فرمایا ہاں ہوا،

دریافت کیا اس سے بھی زیادہ سخت؟

 فرمایا ابن آدم جو صدقہ کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر تک نہ ہو،

 آیت الکرسی کی تفسیر میں وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے:

 افضل صدقہ وہ ہے جو پوشیدگی سے کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔ باوجود مال کی قلت کے، پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، پھر اسی آیت کی تلاوت کی (ابن ابی حاتم)

ایک اور حدیث میں ہے:

 پوشیدگی کا صدقہ اللہ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔

حضرت شعبی فرماتے ہیں یہ آیت حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے بارے میں اتری:

حضرت عمر ؓاپنا آدھا مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور حضرت صدیق اکبرؓ جو کچھ تھا لا کر رکھ دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ آئے ہو؟

فاروقؓ نے جواب دیا اتنا ہی،

صدیقؓ گو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اور چپکے سے سب کے سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کرچکے تھے، لیکن جب ان سے پوچھا گیا تو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کافی ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ یہ سن کر رو دئیے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کسی نیکی کے کام کی طرف ہم لپکے ہیں اس میں اے صدیق ؓآپ کو آگے ہی آگے پاتے ہیں۔

 آیت کے الفاظ عام ہیں صدقہ خواہ فرض ہو یا خواہ نفل زکوٰۃ ہو یا خیرات اس کی پوشیدگی اظہار سے افضل ہے،

لیکن حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نفلی صدقہ تو پوشیدہ دینا ستر گنی فضیلت ہے لیکن فرضی زکوٰۃ کو علانیہ ادا کرنا پچیس گنی فضیلت رکھتا ہے۔

وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۲۷۱)

اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔‏

پھر فرمایا صدقے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں اور برائیوں کو دور کر دے گا بالخصوص اس وقت جبکہ وہ چھپا کر دیا جائے، تمہیں بہت سی بھلائی ملے گی، درجات بڑھیں گے، گناہوں کا کفارہ ہوگا

يُكَفِّرُ کو يُكَفِّر بھی پڑھا گیا ہے

 اس میں صورت میں  یہ جواب شرط کے محل پر عطف ہوگا جو فَنِعِمَّا هِيَ ہے، جیسے  آیت فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن (۶۳:۱۰) میں وَأَكُن اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی نیکی بدی سخاوت بخیلی پوشیدگی اور اظہار نیک نیتی اور دنیا طلبی پوشیدہ نہیں وہ پورا پورا بدلہ دے گا۔

لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۗ

انہیں ہدایت پر کھڑا کرنا تیرے ذمے نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں  کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی،

 فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرما دیا ہر سائل کو دو، گو وہ کسی مذہب کا ہو (ابن ابی حاتم)

حضرت اسماء والی روایت آیت لَّا يَنۡهَٮٰكُمُ ٱللَّهُ (۶۰:۸)  کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ،

وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ ۚ

 اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راہ میں دو گے اس کا فائدہ خود پاؤ گے۔

یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لئے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے:

مَّنْ عَمِلَ صَـلِحاً فَلِنَفْسِهِ (۴۱:۴۶)

جو شخص نیک کام کرے گا وہ اپنے نفع کے لئے

اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں،

وَمَا تُنْفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۚ

تمہیں صرف اللہ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہیئے

حسن بصریؒ فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پیئے،

عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دِیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے،

وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ (۲۷۲)

تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائیگا‏

حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کرلی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لئے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی،اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا :

 ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا،

پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا،

اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہوگئے۔

 شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رُک جائے اور شاید مالدار کو عبرت اصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔

لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ

صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے

پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کرکے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضامندی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کر سکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں

ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے فرمایا:

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِى الاٌّرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُواْ مِنَ الصَّلوةِ (۴:۱۰۱)

جب تم سفر پر جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں،

اور  فرمایا:

أَن سَيَكُونُ مِنكُمْ مَّرْضَى وَءَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِى الاٌّرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ (۷۳:۲۰)

تم میں بعض بیمار بھی ہوں گےبعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی روزی بھی تلاش کریں گے

يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ

نادان لوگ ان کی بےسوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں،

ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔

تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ

آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے

ایک حدیث میں ہے :

مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہو جائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں، جیسے اور جگہ ہے:

سِيمَـهُمْ فِى وُجُوهِهِمْ (۴۸:۲۹)

ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں

 اور فرمایا:

وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِى لَحْنِ الْقَوْلِ (۴۷:۳۰)

ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے،

سنن کی ایک حدیث میں ہے:

 مؤمن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے،

سنو قرآن کا فرمان ہے:

إِنَّ فِى ذَٲلِكَ لَأَيَـٰتٍ۬ لِّلۡمُتَوَسِّمِينَ   (۱۵:۷۵)

بلاشبہ بصیرت والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں

 یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں،

 دیکھو قرآن کہتا ہے لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا

یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے،

 قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کر لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے:

 جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بےنیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے،

میں نے اپنے دِل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا

 اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ حضرت ابوسعیدؓ  کا ہے اس میں ہے کہ آپ نے مجھ سے فرمایا

 اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے،

ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ چالیس درہم کے تقریباً دس روپے ہوتے ہیں۔

ایک حدیث میں ہے:

 جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم ہوگا اس کا منہ نچا ہوا ہوگا،

لوگوں نے کہا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کتنا پاس ہو تو؟

 فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا،

یہ حدیث ضعیف ہے،

شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ حضرت ابوذرؓ ضرورت مند ہیں تو تین سو اشرفیاں  انہیں بھجوائیں،

آپ خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور ابوذر کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور غلام بھی ہیں۔

 ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی ہیں:

 چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔

وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (۲۷۳)

تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے۔‏

پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہوگے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۲۷۴)

جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غم۔‏

پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا،جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے:

 فتح مکہ والے سال جبکہ آپ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی عیادت کو گئے تو فرمایا:

 تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی،

 مسند میں ہے:

 مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں،

ابن عباسؓ سے بھی یہی مروی ہے،

 حضرت جبیرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓکے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری،

یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے،

 اطاعت الہٰی  میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بےغم ہیں۔

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ

سود خور نہ کھڑے ہونگے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے

چونکہ پہلے ان لوگوں کا ذِکر ہوا ہے جو نیک کا رصدقہ خیرات کرنے والے زکاتیں دینے والے حاجت مندوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنے والے غرض ہر حال میں اور ہر وقت دوسروں کے کام آنے والے تھے تو اب ان کا بیان ہو رہا ہے جو کسی کو دینا تو ایک طرف رہا دوسروں سے چھیننے ظلم کرنے اور ناحق اپنے پرایوں کا مال ہضم کرنے والے ہیں،

تو فرمایا کہ یہ سودخور لوگ اپنی قبروں سے ان کے بارے میں دیوانوں ، پاگلوں، خبطیوں اور بیہوشوں کی طرح اُٹھیں گے، پاگل ہوں گے، کھڑے بھی نہ ہو سکتے ہوں گے،

ایک قرأت میں مِنَ الْمَسِّ کے بعد يَوْمَ الْقِيَامَةِ کا لفظ بھی ہے،

 ان سے کہا جائے گا کہ لو اب ہتھیار تھام لو اور اپنے رب سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جاؤ،

معراج والی روایت میں ہے:

شب معراج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھڑوں کی مانند تھے،

پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟

 بتایا گیا سود اور بیاج لینے والے ہیں،

 اور روایت میں ہے کہ ان کے پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ڈستے رہتے تھے

 اور ایک مطول حدیث میں ہے:

 ہم جب ایک سرخ رنگ نہر پر پہنچے جس کا پانی مثل خون کے سرخ تھا تو میں نے دیکھا اسں میں کچھ لوگ بمشکل تمام کنارے پر آتے ہیں تو ایک فرشتہ بہت سے پتھر لئے بیٹھا ہے، وہ ان کا منہ پھاڑ کر ایک پتھر ان کے منہ میں اتار دیتا ہے، وہ پھر بھاگتے ہیں پھر یہی ہوتا ہے،

پوچھا تو معلوم ہوا یہ سود خوروں کا گروہ ہے،

ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ

یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے

ان پر یہ وبال اس باعث ہے کہ یہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی ہے

 ان کا یہ اعتراض شریعت اور احکام الہٰی  پر تھا وہ سود کو تجارت کی طرح حلال جانتے تھے، جبکہ بیع پر سود کا قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین تو تجارت کا شرعاً جائز ہونے کے قائل نہیں ورنہ یوں کہتے کہ سود مثل بیع ہے، ان کا کہنا یہ تھا کہ تجارت اور سود دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو حلال کہا جائے اور دوسری کو حرام؟

وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ

حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام،

پھر انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ حلت و حرمت اللہ کے حکم کی بنا پر ہے

 اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ بھی کافروں کا قول ہی ہو، تو بھی انتہائی اچھے انداز سے جواباً کہا گیا اس میں مصلحت الہٰیہ کہ ایک کو اللہ نے حرام ٹھہرایا اور دوسرے کو حلال پھر اعتراض کیسا؟

 علیم و حکیم اللہ کے حکموں پر اعتراض کرنے والے تم کون؟

کس کی ہستی ہے اس سے بازپرس کرنے کی؟

 تمام کاموں کی حقیقت کو ماننے والا تو وہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ میرے بندوں کا حقیقی نفع کس چیز میں اور فی الواقع نقصان کس چیز میں ہے، تو نفع والی چیزیں حلال کرتا ہے اور نقصان پہنچانے والی چیزیں حرام کرتا ہے، کوئی ماں اپنے دودھ پیتے بچے پر اتنی مہربان نہ ہوگی جتنا اللہ اپنے بندوں پر ہے، وہ روکتا ہے تو بھی مصلحت سے اور حکم دیتا ہے تو مصلحت سے،

فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ

جو شخص اللہ تعالیٰ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے

اپنے رب کی نصیحت سن کر جو باز آجائے اس کے پہلے کئے ہوئے تمام گناہ معاف ہیں، جیسا فرمایا :

عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ (۵:۹۵ )

اللہ تعالیٰ نے گزشتہ کو معاف کر دیا

اور جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا تھا:

 جاہلیت کے تمام سُود آج میرے ان قدموں تلے دفن کر دئیے گئے ہیں، چنانچہ سب سے پہلا سود جس سے میں دست بردار ہوتا ہوں وہ عباسؓ کا سود ہے،

پس جاہلیت میں جو سود لے چکے تھے ان کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا،

ایک روایت میں ہے:

 اُم بحنہ جو حضرت زید بن ارقمؓ کی اُم ولد تھیں، حضرت عائشہؓ کے پاس آئیں اور کہا  میں نے ایک غلام حضرت زیدؓ کے ہاتھوں آٹھ سو کا اس شرط پر بیچا کہ جب ان کے پاس رقم آئے تو وہ ادا کر دیں، اس کے بعد انہیں نقدی کی ضرورت پڑی تو وقت سے پہلے ہی وہ اسے فروخت کرنے کو تیار ہوگئے، میں نے چھ سو کا خرید لیا، حضرت صدیقہؓ نے فرمایا تو نے بھی اور اس نے بھی بالکل خلاف شرع کیا، بہت برا کیا، جاؤ زید سے کہہ دو اگر وہ توبہ نہ کرے گا تو اس کا جہاد بھی غارت جائے گا جو اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہے،

میں نے کہا اگر وہ دو سو جو مجھے اس سے لینے ہیں چھوڑ دوں اور صرف چھ سو وصول کرلوں تاکہ مجھے میری پوری رقم آٹھ سو کی مل جائے،

آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں، پھر آپ نے فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ  والی آیت پڑھ کر سنائی (ابن ابی حاتم)

یہ اثر بھی مشہور ہے اور ان لوگوں کی دلیل ہے جو عینۃ کے مسئلے کو حرام بتاتے ہیں اس کی تفصیل کتاب الاحکام میں ہے اور احادیث بھی ہیں، والحمداللہ

وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (۲۷۵)

اور جو پھر دوبارہ (حرام کی طرف) لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔‏

 پھر فرمایا کہ حرمت کا مسئلہ کانوں میں پڑنے کے بعد بھی سود لے تو وہ سزا کا مستحق ہے ہمیشہ کیلئے جہنمی ہے،

جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا :

جو مخابرہ کو اب بھی نہ چھوڑے وہ اللہ کے رسول سے لڑنے کیلئے تیار ہو جائے (ابو داؤد)

مخابرہ اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص دوسروں کی زمین میں کھیتی بوئے اور اس سے یہ طے ہو کہ زمین کے اس محدود ٹکڑے سے جتنا اناج نکلے وہ میرا باقی تیرا

 اور مزابنہ اسے کہتے ہیں کہ درخت میں جو کھجوریں ہیں وہ میری ہیں اور میں اس کے بدلے اپنے پاس سے تجھے اتنی اتنی کھجوریں تیار دیتا ہوں،

اور محاقلہ اسے کہتے ہیں کہ کھیت میں جو اناج خوشوں میں ہے اسے اپنے پاس سے کچھ اناج دے کر خریدنا،

 ان تمام صورتوں کو شریعت نے حرام قرار دیا تاکہ سود کی جڑیں کٹ جائیں، اس لئے کہ ان صورتوں میں صحیح طور پر کیفیت تبادلہ کا اندازہ نہیں ہوسکتا،

 پس بعض علماء نے اس کی کچھ علت نکالی، بعض نے کچھ، ایک جماعت نے اسی قیاس پر ایسے تمام کاروبار کو منع کیا، دوسری جماعت نے برعکس کیا، لیکن دوسری علت کی بنا پر، حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ذرا مشکل ہے۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں افسوس کہ تین مسئلے پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئے دادا کی میراث کا کلالہ اور سود کی صورتوں کا یعنی بعض کاروبار کی ایسی صورتیں جن پر سود کا شبہ ہوتا ہے، اور وہ ذرائع جو سود کی مماثلت تک لے جاتے ہوں جب یہ حرام ہیں تو وہ بھی حرام ہی ٹھہریں گے، جیسا کہ وہ چیز واجب ہو جاتی ہے جس کے بغیر کوئی واجب پورا نہ ہوتا ہو،

 بخاوی و مسلم کی حدیث میں ہے :

جس طرح حلال ظاہر ہے، اسی طرح حرام بھی ظاہر ہے لیکن کچھ کام درمیانی شبہ والے بھی ہیں، ان شبہات والے کاموں سے بچنے والے نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو ان مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی کی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چراتا ہو، تو ممکن ہے کوئی جانور اس چراگاہ میں بھی منہ مار لے،

سنن میں حدیث ہے:

 جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے لے لو جو شک شبہ سے پاک ہے،

دوسری حدیث میں ہے:

 گناہ وہ ہے جو دِل میں کھٹکے طبیعت میں تردد ہو اور اس کے بارے میں لوگوں کا واقف ہونا اسے برا لگتا ہو،

 ایک اور روایت میں ہے:

 اپنے دِل سے فتویٰ پوچھ لو لوگ چاہے کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں،

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں سود کی حرمت سب سے آخر میں نازل ہوئی (بخاری)

حضرت عمر ؓیہ فرما کر کہتے ہیں افسوس کہ اس کی پوری تفسیر بھی مجھ تک نہ پہنچ سکی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ لوگو سود کو بھی چھوڑو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا بھی شائبہ ہو (مسند احمد)

حضرت عمر ؓنے ایک خطبہ میں فرمایا:

 شاید میں تمہیں بعض ان چیزوں سے روک دوں جو تمہارے لئے نفع والی ہوں اور ممکن ہے میں تمہیں کچھ ایسے احکام بھی دوں جو تمہاری مصلحت کیخلاف ہوں، سنو! قرآن میں سب سے آخر سود کی حرمت کی آیت اتری، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور افسوس کہ اسے کھول کر ہمارے سامنے بیان نہ فرمایا پس تم ہر اس چیز کو چھوڑو جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو (ابن ماجہ)

ایک حدیث میں ہے

 سود کے تہتر گناہ ہیں جن میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے بدکاری کرے،

سب سے بڑا سود مسلمان کی ہتک عزت کرنا ہے (مستدرک حاکم)

آپ ﷺفرماتے ہیں:

 ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ سود کھائیں گے،

صحابہؓ نے پوچھا کیا سب کے سب؟

فرمایا جو نہ کھائے گا اسے بھی غبار تو پہنچے گا ہی، (مسند احمد)

پس غبار سے بچنے کیلئے ان اسباب کے پاس بھی نہ پھٹکنا چاہیئے جو ان حرام کاموں کی طرف پہنچانے والے ہوں،

حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:

 جب سورۃ بقرہ کی آخری آیت حرمت سود میں نازل ہوئی تو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آکر اس کی تلاوت کی اور سودی کاروبار اور سودی تجارت کو حرام قرار دیا،

بعض ائمہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح شراب اور اس طرح کی تمام خرید و فروخت وغیرہ وہ وسائل (ذرائع) ہیں جو اس تک پہنچانے والے ہیں سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کئے ہیں،

صحیح حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت اس لئے کی کہ جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے حیلہ سازی کرکے حلال بنانے کی کوشش کی چنانچہ یہ کوشش کرنا بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے،

 اسی طرح پہلے وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسرے کی تین طلاق والی عورت سے اس لئے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے اس پر اور اس خاوند پر اللہ کی پھٹکار اور اس کی لعنت ہے، آیت حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (۲:۲۳۰)  کی تفسیر میں دیکھ لیجئے،

حدیث شریف میں ہے :

سود کھانے والے پر کھلانے والے پر شہادت دینے والوں پر گواہ بننے والوں پر لکھنے والے پر سب اللہ کی لعنت ہے،

 ظاہر ہے کاتب و شاہد کو کیا ضرورت پڑی ہے جو وہ خواہ مخواہ اللہ کی لعنت اپنے اوپر لے، اسی طرح بظاہر عقد شرعی کی صورت کا اظہار اور نیت میں فساد رکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔

 حدیث میں ہے :

اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں بلکہ تمہارے دِلوں اور نیتوں کو دیکھتے ہیں۔

حضرت علامہ امام ابن تیمیہ نے ان حیلوں حوالوں کے رَد میں ایک مستقل کتاب "ابطال التحلیل" لکھی ہے جو اس موضوع میں بہترین کتاب ہے اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان سے خوش ہو۔

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ

اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب،

جیسے فرمایا:

قُل لاَّ يَسْتَوِى الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ (۵:۱۰۰)

ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتا گو تمہیں ناپاک کی زیادتی تعجب میں ڈالے۔

اور ارشاد فرمایا :

وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعاً فَيَجْعَلَهُ فِى جَهَنَّمَ (۸:۳۷)

اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملادے، پس ان سب کو اکٹھا ڈھیر کردے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے

اور جگہ ہے:

وَمَآ ءَاتَيْتُمْ مِّن رِّباً لِّيَرْبُوَاْ فِى أَمْوَالِ النَّاسِ فَلاَ يَرْبُواْ عِندَ اللَّهِ (۳۰:۳۹)

تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالیٰ  کے ہاں نہیں بڑھتا

اسی واسطے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ والی روایت میں ہے :

سود سے اگر مال میں اضافہ ہو بھی جائے لیکن انجام کار کمی ہوتی ہے (مسند احمد)

مسند کی ایک اور روایت میں ہے:

 امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق مسجد سے نکلے اور اناج پھیلا ہوا دیکھ کر پوچھا یہ غلہ کہاں سے آیا؟

لوگوں نے کہا بکنے کیلئے آیا ہے،

 آپ نے دعا کی کہ اللہ اس میں برکت دے،

لوگوں نے کہا یہ غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے پہلے ہی جمع کر لیا تھا،

 پوچھا کس نے جمع کیا تھا،

 لوگوں نے کہا ایک تو فروخ نے جو حضرت عثمانؓ کے مولیٰ ہیں اور دوسرے آپ کے آزاد کردہ غلام نے،

 آپ نے دونوں کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟

جواب دیا کہ ہم اپنے مالوں سے خریدتے ہیں اور جب چاہیں بیچیں، ہمیں اختیار ہے،

آپ نے فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں میں مہنگا بیچنے کے خیال سے غلہ روک رکھے اسے اللہ مفلس کردے گا،

یہ سن کر حضرت فروخ تو فرمانے لگے کہ میری توبہ ہے میں اللہ سے اور پھر آپ سے عہد کرتا ہوں کہ پھر یہ کام نہ کروں گا لیکن حضرت عمر ؓکے غلام نے پھر بھی یہی کہا کہ ہم اپنے مال سے خریدتے ہیں اور نفع اٹھا کر بیچتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے؟

 راوی حدیث حضرت ابویحییٰ فرماتے ہیں میں نے پھر دیکھا کہ اسے جذام ہو گیا اور جذامی (کوڑھ) بنا پھرتا تھا،

ابن ماجہ میں ہے:

 جو شخص مسلمانوں کا غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے روک رکھے اللہ تعالیٰ اسے مفلس کر دے گا یا جذامی۔

وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ

پھر فرماتا ہے وہ صدقہ کو بڑھاتا ہے۔

يُرْبِي کی دوسری قرأت يُرَبِّي بھی ہے،

 صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے :

جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور بھی خیرات کرے اسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی داہنے ہاتھ لیتا ہے پھر اسے پال کر بڑا کرتا ہے (جس طرح تم لوگ اپنے بچھڑوں کو پالتے ہو) اور اس کا ثواب پہاڑ کے برابر بنا دیتا ہے اور پاک چیز کے سوا وہ ناپاک چیز کو قبول نہیں فرماتا،

 ایک اور روایت میں ہے:

 ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ملتا ہے،

اور روایت میں ہے:

 ایک لقمہ مثل احد کے ہو کر ملتا ہے، پس تم صدقہ خیرات کیا کرو،

وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (۲۷۶)

 اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا۔‏

پھر فرمایا ناپسندیدہ کافروں، نافرمان زبان زور اور نافرمان فعل والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا،

مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات نہ کریں اور اللہ کی طرف سے صدقہ خیرات کے سبب مال میں اضافہ کے وعدہ کی پرواہ کئے بغیر دنیا کا مالو  دینار جمع کرتے پھریں اور بدترین اور خلاف شرع طریقوں سے کمائیاں کریں لوگوں کے مال باطل اور ناحق طریقوں سے کھا جائیں، یہ اللہ کے دشمن ہیں ان ناشکروں اور گنہگاروں سے اللہ کا پیار ممکن نہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ

بیشک جو لوگ ایمان کے ساتھ (سنت کے مطابق) نیک کام کرتے ہیں نمازوں کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

پھر ان بندوں کی تعریف ہو رہی ہے جو اپنے رب کے احکام کی بجا آوری کریں، مخلوق کے ساتھ سلوک و احسان قائم کریں، نمازیں قائم کریں، زکوٰۃ دیتے رہیں،

أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (۲۷۷)

 ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم‏

یہ قیامت کے دن تمام دکھ درد سے امن میں رہیں گے کوئی کھٹکا بھی ان کے دل پر نہ گزرے گا بلکہ رب العالمین اپنے انعام و اکرام سے انہیں سرفراز فرمائے گا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (۲۷۸)

اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔‏

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقویٰ کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہو جائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہو گیا،

یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد ادا نہ کریں گے آخر جھگڑا بڑھا حضرت عتاب بن اسید جو مکہ شریف کے نائب تھے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیج دی اور انہیں قابلِ وصول سود لینا حرام قرار دیا چنانچہ وہ تائب ہوئے اور اپنا سود بالکل چھوڑ دیا،

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ

اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ

اس آیت میں ہے ان لوگوں پر جو سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود بھی اس پر جمے رہیں ، زبردست وعید ہے

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں سودخور سے قیامت کے دن کہا جائے گا، لے اپنے ہتھیار لے لے اور اللہ سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جا،

آپ فرماتے ہیں امام وقت پر فرض ہے کہ سودخور لوگ جو اسے نہ چھوڑیں ان سے توبہ کرائے اور اگر نہ کریں تو ان کی گردن مار دے،

حسن اور ابن سیرین کا فرمان بھی یہی ہے،

حضرت قتادہ فرماتے ہیں:

 دیکھو اللہ نے انہیں ہلاکت کی دھمکی دی انہیں ذلیل کئے جانے کے قابل ٹھہرایا، خبردار سود سے اور سودی لین دین سے بچتے رہو حلال چیزوں اور حلال خریدو فروخت بہت کچھ ہے، فاقے گزرتے ہوں تاہم اللہ کی معصیت سے رکو،

وہ روایت بھی یاد ہو گی جو پہلے گزر چکی کہ حضرت عائشہؓ نے ایک ایسے معاملہ کی نسبت جس میں سود تھا، حضرت زید بن ارقم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا جہاد بھی برباد ہوگیا اس لئے کہ جہاد اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور سود خوری خود اللہ سے مقابلہ کرنا ہے

لیکن اس کی اسناد کمزور ہے،

وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (۲۷۹)

ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر توبہ کرلو تو اصل مال جو کسی پر قرض ہے بیشک لے لو۔ نہ تم تول میں زیادہ لے کر اس پر ظلم کرو نہ کم دے کر یا نہ دے کر وہ تم پر ظلم کرے،

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا :

جاہلیت کا تمام سود میں برباد کرتا ہوں۔ اصلی رقم لے لو، سود لے کر نہ کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تمہارا مال مار کر تم پر زیادتی کرے، حضرت عباس بن عبدالمطلب کا تمام سود میں ختم کرتا ہوں۔

وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (۲۸۰)

اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تمہیں علم ہو

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تنگی والا شخص اور اس کے پاس تمہارے قرض کی ادائیگی کے قابل مال نہ ہو تو اسے مہلت دو کہ کچھ اور مدت کے بعد ادا کردے یہ نہ کرو کہ سود در سود لگائے چلے جاؤ کہ مدت گزر گئی، اب اتنا اتنا سود لیں گے، بلکہ بہتر تو یہ بات ہے کہ ایسے غرباء کو اپنا قرض معاف کردو،

طبرانی کی حدیث میں ہے:

 جو شخص قیامت کے دن اللہ کے عرش کا سایہ چاہتا ہے وہ یا تو ایسے تنگی والے شخص کو مہلت دے یا معاف کردے،

مسند احمد کی حدیث میں ہے :

جو شخص مفلس آدمی پر اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دِنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے،

 اور روایت میں ہے:

 آپ ﷺنے فرمایا ہر دن اس سے دگنی رقم کے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا،

 یہ سن کر حضرت بریدہؓ نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو آپ نے ہر دن اس کے مثل ثواب ملنے کا فرمایا تھا آج دو مثل فرماتے ہیں،

فرمایا ہاں جب تک معیاد ختم نہیں ہوئی مثل کا ثواب اور معیاد گزرنے کے بعد دو مثل کا،

حضرت ابوقتادہ کا قرض ایک شخص کے ذمہ تھا وہ تقاضا کرنے کو آتے لیکن یہ چھپ رہتے اور نہ ملتے، ایک دن آئے گھر سے ایک بچہ نکلا، آپ نے اس سے پوچھا اس نے کہا ہاں گھر میں موجود ہیں کھانا کھا رہے ہیں، اب حضرت ابوقتادہؓ نے اونچی آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا مجھے معلوم ہوگیا کہ تم گھر میں موجود ہو، آؤ باہر آؤ، جواب دو۔

 وہ بیچارے باہر نہیں نکلے آپ نے کہا کیوں چھپ رہے ہو؟

 کہا حضرت بات یہ ہے کہ میں مفلس ہوں اس وقت میرے پاس رقم نہیں بوجہ شرمندگی کے آپ سے نہیں ملتا،

 آپ نے کہا قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی،

آپ روئے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص نادار قرضدار کو ڈھیل دے یا اپنا قرضہ معاف کردے وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہوگا (صحیح مسلم)

ابویعلیٰ نے ایک حدیث روایت کی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ بتا میرے لئے تو نے کیا نیکی ہے؟

 وہ کہے گا اے اللہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی ایسی نیکی مجھ سے نہیں ہوئی جو آج میں اس کی جزا طلب کر سکوں،

اللہ اس سے پھر پوچھے گا وہ پھر یہی جواب دے گا

 پھر پوچھے گا پھر یہی کہے گا، پروردگار ایک چھوٹی سی بات البتہ یاد پڑتی ہے کہ تو نے اپنے فضل سے کچھ مال بھی مجھے دے رکھا تھا میں تجارت پیشہ شخص تھا، لوگ ادھار سدھار لے جاتے تھے، میں اگر دیکھتا کہ یہ غریب شخص ہے اور وعدہ پر قرض نہ ادا کرسکا تو میں اسے اور کچھ مدت کی مہلت دے دیتا، عیال داروں پر سختی نہ کرتا، زیادہ تنگی والا اگر کسی کو پاتا تو معاف بھی کر دیتا،

اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں تجھ پر آسانی کیوں نہ کروں، میں تو سب سے زیادہ آسانی کرنے والا ہوں، جا میں نے تجھے بخشا جنت میں داخل ہو جا،

مستدرک حاکم میں ہے :

جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی مدد کرے یا قرض دار بےمال کی اعانت کرے یا غلام جس نے لکھ کر دیا ہو کہ اتنی رقم دے دوں تو آزاد ہوں، اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔

مسند احمد میں ہے :

جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں اور اس کی تکلیف و مصیبت دور ہو جائے اسے چاہئے کہ تنگی والوں پر کشادگی کرے،

عباد بن ولید فرماتے ہیں:

 میں اور میرے والد طلب علم میں نکلے اور ہم نے کہا کہ انصاریوں سے حدیثیں پڑھیں، سب سے پہلے ہماری ملاقات حضرت ابوالیسر سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کے غلام تھے جن کے ہاتھ میں ایک دفتر تھا اور غلام وآقا کا ایک ہی لباس تھا، میرے باپ نے کہا چچا آپ تو اس وقت غصہ میں نظر آتے ہیں،

 فرمایا ہاں سنو فلاں شخص پر میرا کچھ قرض تھا، مدت ختم ہو چکی تھی، میں قرض مانگنے گیا، سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مکان پر ہیں، گھر میں سے جواب ملا کہ نہیں، اتفاقاً ایک چھوٹا بچہ باہر آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارے والد کہاں ہیں؟ اس نے کہا آپ کی آواز سن کر چارپائی تلے جا چھپے ہیں، میں نے پھر آواز دی اور کہا تمہارا اندر ہونا مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپو نہیں باہر آؤ جواب دو،

وہ آئے میں نے کہا کیوں چھپ رہے ہو، کہا محض اس لئے کہ میرے پاس روپیہ تو اس وقت ہے نہیں، آپ سے ملوں گا تو کوئی جھوٹا عذر حیلہ بیان کرں گا یا غلط وعدہ کروں گا، اس لئے سامنے ہونے سے جھجکتا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ سے جھوٹ کیا کہوں؟

میں نے کہا سچ کہتے ہو، اللہ کی قسم تمہارے پاس روپیہ نہیں،

 اس نے کہا ہاں سچ کہتا ہوں اللہ کی قسم کچھ نہیں، تین مرتبہ میں نے قسم کھلائی اور انہوں نے کھائی، میں نے اپنے دفتر میں سے ان کا نام کاٹ دیا اور رقم جمع کر لی اور کہہ دیا کہ جاؤ میں نے تمہارے نام سے یہ رقم کاٹ دی ہے، اب اگر تمہیں مل جائے تو دے دینا ورنہ معاف۔

سنو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دِل نے اسے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سختی والے کو ڈھیل دے یا معاف کردے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا،

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد آتے ہوئے زمین کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:

 جو شخص کسی نادار پر آسانی کردے یا اسے معاف کردے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا،

 سنو جنت کے کام مشقت والے ہیں اور خواہش کیخلاف ہیں، اور جہنم کے کام آسانی والے اور خواہشِ نفس کے مطابق ہیں،

 نیک بخت وہ لوگ ہیں جو فتنوں سے بچ جائیں، وہ انسان جو غصے کا گھونٹ پی لے اس کو اللہ تعالیٰ ایمان سے نوازتا ہے،

طبرانی میں ہے :

جو شخص کسی مفلس شخص پر رحم کرکے اپنے قرض کی وصولی میں اس پر سختی نہ کرے اللہ بھی اس کے گناہوں پر اس کو نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ توبہ کرے۔

وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (۲۸۱)

اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‏

 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، انہیں دنیا کے زوال، مال کے فنا، آخرت کا آنا ، اللہ کی طرف لوٹنا، اللہ کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان تمام اعمال پر جزا و سزا کا ملنا یاد دلاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے،

یہ بھی مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت یہی ہے، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو راتوں تک زندہ رہے اور ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔

 ابن عباسؓ سے ایک روایت میں اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اکتیس دن کی بھی مروی ہے،

 ابن جریح فرماتے ہیں کہ سلف کا قول ہے کہ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نو رات زندہ رہے ہفتہ کے دن سے ابتدا ہوئی اور پیر والے دن انتقال ہوا۔

 الغرض قرآن کریم میں سب سے آخر یہی آیت نازل ہوئی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ

اے ایمان والو جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقررہ پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو

یہ آیت قرآن کریم کی تمام آیتوں سے بڑی ہے،

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قرآن کی سب سے بڑی آیت یہی آیت الدین ہے،

یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے انکار کرنے والے حضرت آدمؑ ہیں۔

 اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدمؑ کو پیدا کیا، ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور قیامت تک کی ان کی تمام اولاد نکالی، آپ نے اپنی اولاد کو دیکھا، ایک شخص کو خوب تروتازہ اور نورانی دیکھ کر پوچھا کہ الہٰی  ان کا کیا نام ہے؟ جناب باری نے فرمایا یہ تمہارے لڑکے داؤد ہیں،

پوچھا اللہ ان کی عمر کیا ہے؟

 فرمایا ساٹھ سال،

کہا اے اللہ اس کی عمر کچھ اور بڑھا،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں، ہاں اگر تم اپنی عمر میں سے انہیں کچھ دینا چاہو تو دے دو،

 کہا اے اللہ میری عمر میں سے چالیس سال اسے دئیے جائیں، چنانچہ دے دئیے گئے،

حضرت آدمؑ کی اصلی عمر ایک ہزار سال کی تھی، اس لین دین کو لکھا گیا اور فرشتوں کو اس پر گواہ کیا گیا حضرت آدمؑ  کی موت جب آئی، کہنے لگے اے اللہ میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ تم نے اپنے لڑکے حضرت داؤد کو دے دئیے ہیں، تو حضرت آدمؑ نے انکار کیا جس پر وہ لکھا ہوا دکھایا گیا اور فرشتوں کی گواہی گزری،

 دوسری روایت میں ہے کہ حضرت آدمؑ کی عمر پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار پوری کی اور حضرت داؤدؑ کی ایک سو سال کی (مسند احمد)

لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی علی بن زین بن جدعان کی حدیثیں منکر ہوتی ہیں، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے،

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایماندار بندوں کو ارشاد فرمایا ہے کہ وہ ادھار کے معاملات لکھ لیا کریں تاکہ رقم اور معیاد خوب یاد رہے، گواہ کو بھی غلطی نہ ہو، اس سے ایک وقت مقررہ کیلئے ادھار دینے کا جواز بھی ثابت ہوا،

حضرت ابن عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ معیاد مقرر کرکے قرض کے لین دین کی اجازت اس آیت سے بخوبی ثابت ہوتی ہے،

صحیح بخاری شریف میں ہے:

 مدینے والوں کا ادھار لین دین دیکھ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپ تول یا وزن مقرر کر لیا کرو، بھاؤ تاؤ چکا لیا کرو اور مدت کا بھی فیصلہ کر لیا کرو۔ قرآن حکیم کہتا ہے کہ لکھ لیا کرو

 اور حدیث شریف میں ہے:

 ہم ان پڑھ اُمت ہیں، نہ لکھنا جانیں نہ حساب،

 ان دونوں میں تطبیق اس طرح ہے کہ دینی مسائل اور شرعی امور کے لکھنے کی تو مطلق ضرورت ہی نہیں خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بیحد آسان اور بالکل سہل کر دیا گیا۔ قرآن کا حفظ اور احادیث کا حفظ قدرتاً لوگوں پر سہل ہے، لیکن دنیوی چھوٹی بڑی لین دین کی باتیں اور وہ معاملات جو ادھار وغیرہ  ہوں، ان کی بابت بیشک لکھ لینے کا حکم ہوا

اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ حکم بھی وجوباً نہیں پس نہ لکھنا دینی امور کا ہے اور لکھ لینا دنیوی کام کا ہے۔

 بعض لوگ اس کے وجوب کی طرف بھی گئے ہیں، ابن جریج فرماتے ہیں جو ادھار دے وہ لکھ لے اور جو بیچے وہ گواہ کر لے،

 ابوسلیمان مرعشی جنہوں نے حضرت کعب کی بہت صحبت اٹھائی تھی انہوں نے ایک دن اپنے پاس والوں سے کہا:

 اس مظلوم کو بھی جانتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی

 لوگوں نے کہا یہ کس طرح؟

فرمایا یہ وہ شخص ہے جو ایک مدت کیلئے ادھار دیتا ہے اور نہ گواہ رکھتا ہے نہ لکھت پڑھت کرتا ہے پھر مدت گزرنے پر تقاضا کرتا ہے اور دوسرا شخص انکار کر جاتا ہے، اب یہ اللہ سے دعا کرتا ہے لیکن پروردگار قبول نہیں کرتا اس لئے کہ اس نے کام اس کے فرمان کیخلاف کیا ہے اور اپنے رب کا نافرمان ہوا ہے،

حضرت ابوسعید شعبی ربیع بن انس حسن ابن جریج ابن زید وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے تو یہ واجب تھا پھر وجوب منسوخ ہوگیا اور فرمایا گیا کہ اگر ایک دوسرے پر اطمینان ہو تو جسے امانت دی گئی ہے اسے چاہئے کہ ادا کردے، اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے، گو یہ واقعہ اگلی اُمت کا ہے لیکن تاہم ان کی شریعت ہماری شریعت ہے۔ جب تک ہماری شریعت پر اسے انکار نہ ہو اس واقعہ میں جسے اب ہم بیان کرتے ہیں لکھت پڑھت کے نہ ہونے اور گواہ مقرر نہ کئے جانے پر شارع علیہ السلام نے انکار نہیں کیا،

دیکھئے مسند میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

بنی اسرائیل کے ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار ادھار مانگے،

 اس نے کہا گواہ لاؤ،

 جواب دیا کہ اللہ کی گواہی کافی ہے،

 کہا ضمانت لاؤ،

 جواب دیا اللہ کی ضمانت کافی ہے،

 کہا تو نے سچ کہا،

ادائیگی کی معیاد مقرر ہو گئی اور اس نے اسے ایک ہزار دینار گن دئیے،

اس نے تری کا سفر کیا اور اپنے کام سے فارغ ہوا، جب معیاد پوری ہونے کو آئی تو یہ سمندر کے قریب آیا کہ کوئی جہاز کشتی ملے تو اس میں بیٹھ جاؤں اور رقم ادا کر آؤں، لیکن کوئی جہاز نہ ملا، جب دیکھا کہ وقت پر نہیں پہنچ سکتا تو اس نے ایک لکڑی لی، اسے بیچ سے کھوکھلی کر لی اور اس میں ایک ہزار دینار رکھ دئیے اور ایک پرچہ بھی رکھ دیا، پھر منہ کو بند کر دیا اور اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تجھے خوب علم ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لئے اس نے مجھ سے ضمانت طلب کی، میں نے تجھے ضامن کیا اور وہ اس پر خوش ہو گیا، گواہ مانگا، میں نے گواہ بھی تجھی کو رکھا، وہ اس پر بھی خوش ہو گیا، اب جبکہ اپنا قرض ادا کر آؤں لیکن کوئی کشتی نہیں ملی، اب میں اس رقم کو تجھے سونپتا ہوں اور سمندر میں ڈال دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ رقم اسے پہنچا دے، پھر اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا اور خود چلا گیا

 لیکن پھر بھی کشتی کی تلاش میں رہا کہ مل جائے تو جاؤں،

یہاں تو یہ ہوا، وہاں جس شخص نے اسے قرض دیا تھا، جب اس نے دیکھا کہ وقت پورا ہوا اور آج اسے آ جانا چاہئے تھا، تو وہ بھی دریا کنارے آن کھڑا ہوا کہ وہ آئے گا اور میری رقم مجھے دے دے گا یا کسی کے ہاتھ بھجوائے گا، مگر جب شام ہونے کو آئی اور کوئی کشتی اس کی طرف سے نہیں آئی تو یہ واپس لوٹا، کنارے پر ایک لکڑی دیکھی تو یہ سمجھ کر کہ خالی ہاتھ تو جا ہی رہا ہوں، اس لکڑی کو بھی لے چلوں، پھاڑ کر سکھا لوں گا جلانے کے کام آئے گی، گھر پہنچ کر جب اسے چیرتا ہے تو کھنا کھن بجتی ہوئی اشرفیاں نکلتی ہیں، گنتا ہے تو پوری ایک ہزار ہیں، وہیں پرچہ پر نظر پڑتی ہے، اسے بھی اٹھا کر پڑھ لیتا ہے،

 پھر ایک دن وہی شخص آتا ہے اور ایک ہزار دینار پیش کرکے کہتا ہے یہ لیجئے آپ کی رقم، معاف کیجئے گا میں نے ہر چند کوشش کی کہ وعدہ خلافی نہ ہو لیکن کشتی کے نہ ملنے کی وجہ سے مجبور ہو گیا اور دیر لگ گئی، آج کشتی ملی، آپ کی رقم لے کر حاضر ہوا،

 اس نے پوچھا کیا میری رقم آپ نے بھجوائی بھی ہے؟

 اس نے کہا میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے کشتی نہ ملی تھی،

اس نے کہا آپ اپنی رقم لے کر خوش ہو کر چلے جاؤ، آپ نے جو رقم لکڑی میں ڈال کر اسے توکل علی اللہ ڈالی تھی، اسے اللہ نے مجھ تک پہنچا دیا اور میں نے اپنی رقم پوری وصول پالی۔

اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے، صحیح بخاری شریف میں سات جگہ یہ حدیث آئی ہے۔

وَلْيَكْتُبْ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ

اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے،

پھر فرمان ہے کہ لکھنے والا عدل و حق کے ساتھ لکھے، کتابت میں کسی فریق پر ظلم نہ کرے، ادھر ادھر کچھ کمی بیشی نہ کرے بلکہ لین دین والے دونوں متفق ہو کر جو لکھوائیں وہی لکھے،

وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ ۚ

کاتب کو چاہیے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے سکھایا ہے

لکھا پڑھا شخص معاملہ کو لکھنے سے انکار نہ کرے، جب اسے لکھنے کو کہا جائے لکھ دے، جس طرح اللہ کا یہ احسان اس پر ہے کہ اس نے اسے لکھنا سکھایا اسی طرح جو لکھنا نہ جانتے ہوں ان پر یہ احسان کرے اور ان کے معاملہ کو لکھ دیا کرے۔

 حدیث میں ہے :

یہ بھی صدقہ ہے کہ کسی کام کرنے والے کا ہاتھ بٹا دو، کسی گرے پڑے کا کام کر دو،

اور حدیث میں ہے :

جو علم کو جان کر پھر اُسے چھپائے، قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی،

 حضرت مجاہد اور حضرت عطا فرماتے ہیں کاتب پر لکھ دینا اس آیت کی رو سے واجب ہے۔

فَلْيَكْتُبْ وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ

پس اسے بھی لکھ دینا چاہیے جسکے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں،

جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اللہ سے ڈرے، نہ کمی بیشی کرے نہ خیانت کرے۔

فَإِنْ كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ

 جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوائے

اگر یہ شخص بےسمجھ ہے اسراف وغیرہ کی وجہ سے روک دیا گیا ہے یا کمزور ہے یعنی بچہ ہے یا حواس درست نہیں یا جہالت اور کندذہنی کی وجہ سے لکھوانا بھی نہیں جانتا تو جو اس کا والی اور بڑا ہو، وہ لکھوائے۔

وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ ۖ

اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔

پھر فرمایا کتابت کے ساتھ شہادت بھی ہونی چاہئے تاکہ معاملہ خوب مضبوط اور بالکل صاف ہو جائے۔

فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ۚ

 اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے

دو عورتوں کو ایک عورت کے قائم مقام کرنا عورت کے نقصان کے سبب ہے، جیسے صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اے عورتو صدقہ کرو اور بکثرت استغفار کرتی رہو، میں نے دیکھا ہے کہ جہنم میں تم بہت زیادہ تعداد میں جاؤ گی،

ایک عورت نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لعنت زیادہ بھیجا کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو، میں نے نہیں دیکھا کہ باوجود عقل دین کی کمی کے، مردوں کی عقل مارنے والی تم سے زیادہ کوئی ہو،

 اس نے پھر پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں دین کی عقل کی کمی کیسے ہے؟

 فرمایا عقل کی کمی تو اس سے ظاہر ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ایام حیض میں نہ نماز ہے نہ روزہ۔

 گواہوں کی نسبت فرمایا کہ یہ شرط ہے کہ وہ عدالت والے ہوں۔امام شافعی کا مذہب ہے کہ جہاں کہیں قرآن شریف میں گواہ کا ذِکر ہے وہاں عدالت کی شرط ضروری ہے، گو وہاں لفظوں میں نہ ہو اور جن لوگوں نے ان کی گواہی رَد کر دی ہے جن کا عادل ہونا معلوم نہ ہو ان کی دلیل بھی یہی آیت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گواہ عادل اور پسندیدہ ہونا چاہئے۔

 دو عورتیں مقرر ہونے کی حکمت بھی بیان کر دی گئی ہے کہ اگر ایک گواہی کو بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے

جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کی شہادت اس کے ساتھ مل کرمثل  شہادت مرد کے کر دے گی انہوں نے مکلف کیا ہے، صحیح بات پہلی ہی ہے واللہ اعلم۔

وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا ۚ وَلَا تَسْأَمُوا أَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا إِلَى أَجَلِهِ ۚ

اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو،

گواہوں کو چاہئے کہ جب وہ بلائے جائیں انکار نہ کریں یعنی جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس معاملہ پر گواہ رہو تو انہیں انکار نہ کرنا چاہئے جیسے کاتب کی بابت بھی یہی فرمایا گیا ہے،

یہاں سے یہ بھی فائدہ حاصل کیا گیا ہے کہ گواہ رہنا بھی فرض کفایہ ہے،یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمہور کا مذہب یہی ہے

 اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ جب گواہ گواہی دینے کیلئے طلب کیا جائے یعنی جب اس سے واقعہ پوچھا جائے تو وہ خاموش نہ رہے،

چنانچہ حضرت ابومجلز مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں کہ جب گواہ بننے کیلئے بلائے جاؤ تو تمہیں اختیار ہے خواہ گواہ بننا پسند کرو یا نہ کرو یا نہ جاؤ لیکن جب گواہ ہو چکو پھر گواہی دینے کیلئے جب بلایا جائے تو ضرور جانا پڑے گا،

صحیح مسلم اور سنن کی حدیث میں ہے:

 اچھے گواہ وہ ہیں جو بےپوچھے ہی گواہی دے دیا کریں،

بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں جو آیا ہے:

 بدترین گواہ وہ ہیں جن سے گواہی طلب نہ کی جائے اور وہ گواہی دینے بیٹھ جائیں

 اور وہ حدیث جس میں ہے کہ پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی قسمیں گواہیوں پر اور گواہیاں قسموں پر پیش پیش رہیں گی،

 اور روایت میں آیا ہے کہ ان سے گواہی نہ لی جائے گی تاہم وہ گواہی دیں گے تو یاد رہے (مذمت جھوٹی گواہی دینے والوں کی اور تعریف سچی گواہی دینے والوں کی ہے) اور یہی ان مختلف احادیث میں تطبیق ہے،

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں آیت دونوں حالتوں پر شامل ہے، یعنی گواہی دینے کیلئے بھی اور گواہ رہنے کیلئے بھی انکار نہ کرنا چاہئے۔

ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا ۖ

اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی ہے شک وشبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے

پھر فرمایا چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا لکھنے سے کسمساؤ نہیں بلکہ مدت وغیرہ بھی لکھ لیا کرو۔ ہمارا یہ حکم پورے عدل والا اور بغیر شک و شبہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔

إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُونَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ۗ

ہاں یہ اور بات ہے کہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں۔

پھر فرمایا جبکہ نقد خرید و فروخت ہو رہی ہو تو چونکہ باقی کچھ نہیں رہتا اس لئے اگر نہ لکھا جائے تو کسی جھگڑے کا احتمال نہیں،

وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ ۚ

خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو

لہذا کتابت کی شرط تو ہٹا دی گئی، اب رہی شہادت تو سعید بن مسیب تو فرماتے ہیں کہ ادھار ہو یا نہ ہو، ہر حال میں اپنے حق پر گواہ کر لیا کرو،

دیگر بزرگوں سے مروی ہے کہ  آیت فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ (۲:۲۸۳) فرما کر اس حکم کو بھی ہٹا دیا،

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ جمہور کے نزدیک یہ حکم واجب نہیں بلکہ استحباب کے طور پر اچھائی کیلئے ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید وفروخت کی جبکہ اور کوئی گواہ شاہد نہ تھا، چنانچہ مسند احمد میں ہے:

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا اور اعرابی آپ کے پیچھے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دولت خانہ کی طرف رقم لینے کیلئے چلا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ذرا جلد نکل آئے اور وہ آہستہ آہستہ آ رہا تھا، لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ گھوڑا بک گیا ہے، انہوں نے قیمت لگانی شروع کی یہاں تک کہ جتنے داموں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچا تھا اس سے زیادہ دام لگ گئے،

اعرابی کی نیت پلٹی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا حضرت یا تو گھوڑا اسی وقت نقد دے کر لے لو یا میں اور کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ سُن کر رکے اور فرمانے لگے تو تو اسے میرے ہاتھ بیچ چکا ہے پھر یہ کیا کہہ رہا ہے؟

 اس نے کہا اللہ کی قسم میں نے تو نہیں بیچا،

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلط کہتا ہے، میرے تیرے درمیان معاملہ طے ہو چکا ہے،

 اب لوگ ادھر اُدھر سے بیچ میں بولنے لگے، اس گنوار نے کہا اچھا تو گواہ لائیے کہ میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دیا، مسلمانوں نے ہر چند کہا کہ بدبخت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے پیغمبر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تو حق ہی نکلتا ہے،

 لیکن وہ یہی کہے چلا جائے کہ لاؤ گواہ پیش کرو، اتنے میں حضرت خزیمہ آگئے اور اعرابی کے اس قول کو سن کر فرمانے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے بیچ دیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ تو فروخت کر چکا ہے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیسے شہادت دے رہا ہے،

حضرت خزیمہ نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور سچائی کی بنیاد پر یہ شہادت دی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج سے حضرت خزیمہ کی گواہی دو گواہوں کے برابر ہے۔

پس اس حدیث سے خرید و فروخت پر گواہی دو گواہوں کی ضروری نہ رہی، لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ تجارت پر بھی دو گواہ ہوں، کیونکہ ابن مردویہ اور حاکم میں ہے :

تین شخص ہیں جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن قبول نہیں کی جاتی،

-         ایک تو وہ کہ جس کے گھر بداخلاق عورت ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے،

-         دوسرا وہ شخص جو کسی یتیم کا مال اس کی بلوغت کے پہلے اسے سونپ دے،

-         تیسرا وہ شخص جو کسی کو مال قرض دے اور گواہ نہ رکھے،

امام حاکم اسے شرط و بخاری و مسلم پر صحیح بتلاتے ہیں، بخاری مسلم اس لئے نہیں لائے کہ شعبہ کے شاگرد اس روایت کو حضرت ابوموسیٰ اشعری پر موقوف بتاتے ہیں۔

وَلَا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلَا شَهِيدٌ ۚ

اور (یاد رکھو کہ) نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو

پھر فرماتا ہے کہ کاتب کا چاہئے کہ جو لکھا گیا وہی لکھے اور گواہ کو چاہئے کہ واقعہ کیخلاف گواہی نہ دے اور نہ گواہی کو چھپائے،

حسن قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے

 ابن عباسؓ یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کو ضرر نہ پہنچایا جائے مثلاً انہیں بلانے کیلئے گئے، وہ کسی اپنے کام میں مشغول ہوں تو یہ کہنے لگے کہ تم پر یہ فرض ہے۔ اپنا حرج کرو اور چلو، یہ حق انہیں ہیں۔

 اور بہت سے بزرگوں سے بھی یہی مروی ہے۔

وَإِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقٌ بِكُمْ ۗ

اور تم یہ کرو تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے،

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں جس سے روکوں اس کا کرنا اور جو کام کرنے کو کہوں اس سے رک جانا یہ  بدکاری ہے جس کا وبال تم سے چھٹے گا نہیں۔

وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ ۗ

اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے

پھر فرمایا اللہ سے ڈرو اس کا لحاظ رکھو، اس کی فرمانبرداری کرو، اس کے روکے ہوئے کاموں سے رُک جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھا رہا ہے جیسے اور جگہ فرمایا:

يِـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إَن تَتَّقُواْ اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (۸:۲۹)

اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں دلیل دے دے گا،

 اور جگہ ہے:

يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ وَءَامِنُواْ بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُوراً تَمْشُونَ بِهِ (۵۷:۲۸)

 اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا  اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے

وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۲۸۲)

 اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو خوب جاننے والا ہے۔‏

فرمایا تمام کاموں کا انجام اور حقیقت سے ان کی مصلحتوں اور دوراندیشیوں سے اللہ آگاہ ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، اس کا علم تمام کائنات کو گھیرے ہوئے ہے اور ہرچیز کا اسے حقیقی علم ہے۔

وَإِنْ كُنْتُمْ عَلَى سَفَرٍ وَلَمْ تَجِدُوا كَاتِبًا فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ ۖ

اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو

یعنی بحالت سفر اگر ادھار کا لین دین ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے یا ملے مگر قلم و دوات یا کاغذ نہ ہو تو رہن رکھ لیا کرو اور جس چیز کو رہن رکھنا ہو اسے حقدار کے قبضے میں دے دو۔

 مَقْبُوضَةٌ کے لفظ سے استدلال کیا گیا ہے کہ رہن جب تک قبضہ میں نہ آ جائے لازم نہیں ہوتا، جیسا کہ امام شافعی اور جمہور کا مذہب ہے

 اور دوسری جماعت نے استدلال کیا ہے کہ رہن کا مرتہن کے ہاتھ میں مقبوض ہونا ضروری ہے۔

 امام احمد اور ایک دوسری جماعت میں یہی منقول ہے،

ایک اور جماعت کا قول ہے کہ رہن صرف سفر میں ہی مشروع ہے، جیسے حضرت مجاہد وغیرہ

 لیکن صحیح بخاری صحیح مسلم مسند و شافعی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت فوت ہوئے اس وقت آپ کی زرہ مدینے کے ایک یہودی ابوالشحم کے پاس تیس وسق جو کے بدلے گروی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کے کھانے کیلئے لئے تھے۔

ان مسائل کے بسط و تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ احکام کی بڑی بڑی کتابیں ہیں  وللہ الحمد والمنتہ و بہ المستعان

فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ وَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَبَّهُ ۗ

ہاں آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔

اس جملے سے حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ اس کے پہلے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے،

شعبی فرماتے ہیں جب نہ دینے کا خوف نہ  ہو تو نہ لکھنے اور گواہ نہ رکھنے میں  کوئی حرج نہیں۔ جسے امانت دی جائے اسے خوف اللہ رکھنا چاہئے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ادا کرنے کی ذمہ داری اس ہاتھ پر ہے جس نے کچھ لیا۔

وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (۲۸۳)

اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپالے وہ گناہگار دل والا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے،‏

 ارشاد ہے شہادت کو نہ چھپاؤ نہ اس میں خیانت کرو نہ اس کے اظہار کرنے سے رکو،

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں جھوٹی شہادت دینی یا شہادت کو چھپانا گناہِ کبیرہ ہے،

 یہاں بھی فرمایا اس کا چھپانے والا خطا کار دِل والا ہے جیسے اور جگہ ہے:

وَلاَ نَكْتُمُ شَهَـدَةَ اللَّهِ إِنَّآ إِذَاً لَّمِنَ الاٌّثِمِينَ (۵:۱۰۶)

ہم اللہ کی شہادت کو نہیں چھپاتے، اگر ہم ایسا کریں گے تو یقیناً ہم گنہگاروں میں سے ہیں،

 اور جگہ فرمایا :

يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءِ للَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَلِدَيْنِ وَالاٌّقْرَبِينَ إِن يَكُنْ غَنِيّاً أَوْ فَقَيراً فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْهَوَى أَن تَعْدِلُواْ وَإِن تَلْوُواْ أَوْ تُعْرِضُواْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً (۴:۱۳۵)

ایمان والو عدل و انصاف کے ساتھ اللہ کے حکم کی تعمیل یعنی گواہیوں پر ثابت قدم رہو، گو اس کی برائی خود تمہیں پہنچے یا تمہارے ماں باپ کو یا رشتے کنبے والوں کو اگر وہ مالدار ہو تو اور فقیر ہو تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے اولیٰ ہے، خواہشوں کے پیچھے پڑ کر عدل سے نہ ہٹو اور اگر تم زبان دباؤ گے یا پہلو تہی کرو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے اعمال سے خبردار ہے،

اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ گواہی کو نہ چھپاؤ اس کا چھپانے والا گنہگار دِل والا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔

لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ

آسمانوں اور زمین کی ہرچیز اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہے۔

یعنی آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ ۖ

تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تعالیٰ اس کا حساب تم سے لے گا

چھوٹی بڑی چھپی یا کھلی ہر بات کو وہ جانتا ہے۔ ہر پوشیدہ اور ظاہر عمل کا وہ حساب لینے والا ہے، جیسے اور جگہ فرمایا:

قُلْ إِن تُخْفُواْ مَا فِى صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِى السَّمَـوَتِ وَمَا فِى الاٌّرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ (۳:۲۹)

کہہ دیجئے! کہ تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواہ ظاہر کرو اللہ تعالیٰ بہر حال جانتا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔‏

 اور فرمایا :

يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى (۲۰:۷)

وہ ہر چھپی ہوئی اور علانیہ بات کو خوب جانتا ہے،

مزید اس معنی کی بہت سی آیتیں ہیں،

یہاں اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ اس پر حساب لے گا،

جب یہ آیت اتری تو صحابہ بہت پریشان ہوئے کہ چھوٹی بڑی تمام چیزوں کا حساب ہو گا، اپنے ایمان کی زیادتی اور یقین کی مضبوطی کی وجہ سے وہ کانپ اٹھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر گھٹنوں کے بل گر پڑے اور کہنے لگے حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز، روزہ، جہاد، صدقہ وغیرہ کا ہمیں حکم ہوا، وہ ہماری طاقت میں تھا ہم نے حتی المقدور کیا لیکن اب جو یہ آیت اتری ہے اسے برداشت کرنے کی طاقت ہم میں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 کیا تم یہود و نصاریٰ کی طرح یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم نے سنا اور نہیں مانا، تمہیں چاہئے کہ یوں کہو ہم نے سنا اور مانا، اے اللہ ہم تیری بخشش چاہتے ہیں۔ ہمارے رب ہمیں تو تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

 چنانچہ صحابہ کرام نے اسے تسلیم کرلیا اور زبانوں پر یہ کلمات جاری ہوگئے تو آیت آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ  (۲:۲۸۵) اتری اور اللہ تعالیٰ نے اس تکلیف کو دور کر دیا اور آیت  لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (۲:۲۸۶)  نازل ہوئی (مسند احمد)

صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث ہے اس میں ہے:

 اللہ تعالیٰ نے اس تکلیف کو ہٹا کر آیت لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (۲:۲۸۶)  اتاری

 اور جب مسلمانوں نے کہا رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا (۲:۲۸۶)اے اللہ ہماری بھول چوک اور ہماری خطا پر ہمیں نہ پکڑ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نعم، یعنی میں یہی کروں گا۔

انہوں نے کہا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (۲:۲۸۶)اللہ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے اگلوں پر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بھی قبول،

پھر کہا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ (۲:۲۸۶)اے اللہ ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال، اسے بھی قبول کیا گیا۔

پھر دعا مانگی اے اللہ ہمیں معاف فرمادے، ہمارے گناہ بخش اور کافروں پر ہماری مدد کر، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی قبول فرمایا،

 یہ حدیث اور بھی بہت سے انداز سے مروی ہے۔

 ایک روایت میں یہ بھی ہے:

 حضرت مجاہد کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عباسؓ کے پاس جا کر واقعہ بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے اس آیت وَإِنْ تُبْدُوا کی تلاوت فرمائی اور بہت روئے،

 آپ نے فرمایا اس آیت کے اترتے یہی حال صحابہؓ  کا ہوا تھا، وہ سخت غمگین ہو گئے اور کہا دِلوں کے مالک تو ہم نہیں۔ دِل کے خیالات پر بھی پکڑے گئے تو یہ تو بڑی مشکل ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا سمعنا واطعنا کہو، چنانچہ صحابؓہ نے کہا اور بعد والی آیتیں اتریں اور عمل پر تو پکڑ طے ہوئی لیکن دِل کے خطرات اور نفس کے وسوسے سے پکڑ منسوخ ہو گئی،

 دوسرے طریق سے یہ روایت ابن مرجانہ سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے:

 قرآن نے فیصلہ کردیا کہ تم اپنے نیک و بد اعمال پر پکڑے جاؤ گے خواہ زبانی ہوں خواہ دوسرے اعضاء کے گناہ ہوں، لیکن دِلی وسواس معاف ہیں

 اور بھی بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کا منسوخ ہونا مروی ہے۔

صحیح حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ نے میری اُمت کے دِلی خیالات سے درگزر فرما لیا، گرفت اسی پر ہوگی جو کہیں یا کریں،

 بخاری مسلم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو جب تک اس سے برائی سرزدنہ  ہو، اگر کر گزرے تو ایک برائی لکھو اور جب نیکی کا ارادہ کرے تو صرف ارادے سے ہی نیکی لکھ لو اور اگر نیکی کر بھی لے تو ایک کے بدلے دس نیکیاں لکھو (مسلم)

اور روایت میں ہے کہ ایک نیکی کے بدلے ساتھ سو تک لکھی جاتی ہیں،

 اور روایت میں ہے :

جب بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ اللہ تیرا یہ بندہ بدی کرنا چاہتا ہے،

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رُکے رہو جب تک کر نہ لے، اس کے نامہ اعمال میں نہ لکھو اگر لکھو گے تو ایک لکھنا اور اگر چھوڑ دے تو ایک نیکی لکھ لینا کیونکہ مجھ سے ڈر کر چھوڑتا ہے،

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جو پختہ اور پورا مسلمان بن جائے اس کی ایک ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک بڑھتا جاتا ہے اور برائی نہیں بڑھتی،

اور روایت میں ہے کہ سات سو سے بھی کبھی کبھی نیکی بڑھا دی جاتی ہے،

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ بڑا بردبار ہونے والا وہ ہے جو باوجود اس رحم و کرم کے بھی برباد ہو،

 ایک مرتبہ اصحاب نے آکر عرض کیا حضرت کبھی کبھی تو ہمارے دِل میں ایس وسوسے اٹھتے ہیں کہ زبان سے ان کا بیان کرنا بھی ہم پر گراں گزرتا ہے۔

آپ ﷺنے فرمایا ایسا ہونے لگا؟

انہوں نے عرض کیا ہاں

 آپ ﷺنے فرمایا یہ صریح ایمان ہے (مسلم)

حضرت ابن عباسؓ سے یہ بھی مروی ہے:

 یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ قیامت والے دن جب تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا تو فرمائے گا کہ میں تمہیں تمہارے دِلوں کے ایسے بھید بتاتا ہوں جس سے میرے فرشتے بھی آگاہ نہیں، مؤمنوں کو تو بتانے کے بعد پھر معاف فرما دیا جائے گا لیکن منافق اور شک و شبہ کرنے والے لوگوں کو ان کے کفر کی درپردہ اطلاع دے کر بھی ان کی پکڑ ہوگی۔

ارشاد ہے:

وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ (۲:۲۲۵)

ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو

یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے دِلوں کی کمائی پر ضرور پکڑے گا یعنی دِلی شک اور دِلی نفاق کی بنا پر،

حسن بصری بھی اسے منسوخ نہیں کہتے،

فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (۲۸۴)

پھر جسے چاہے بخشے جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالیٰ ہرچیز پر قادر ہے۔‏

امام ابن جریر بھی اسی روایت سے متفق ہیں اور فرماتے ہیں کہ حساب اور چیز ہے عذاب اور چیز ہے۔ حساب لئے جانے اور عذاب کیا جانا لازم نہیں، ممکن ہے حساب کے بعد معاف کر دیا جائے اور ممکن ہے سزا ہو،

چنانچہ ایک حدیث میں ہے:

 ہم طواف کر رہے تھے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے پوچھا کہ تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی سرگوشی کے متعلق کیا سنا ہے؟

آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایمان والے کو اپنے پاس بلائے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا پھر اس سے کہے گا بتا تو نے فلاں فلاں گناہ کیا؟

 فلاں فلاں دن  فلاں فلاں گناہ کیا؟

 وہ غریب اقرار کرتا جائے گا،

جب بہت سے گناہ ہونے کا اقرار کر لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا سُن دنیا میں بھی میں نے تیرے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی، اور اب آج کے دن بھی میں ان تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہوں، اب اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا،

 ہاں البتہ کفار و منافق کو تمام مجمع کے سامنے رسوا کیا