Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Najm

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم )

وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى  (۱)‏

قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے

ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے ۔

بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے ۔

حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے

مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے ۔

اس آیت جیسی ہی یہ آیات ہے ۔

فَلاَ أُقْسِمُ بِمَوَقِعِ النُّجُومِ ۔وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ۔إِنَّهُ لَقُرْءَانٌ كَرِيمٌ

فِى كِتَـبٍ مَّكْنُونٍ ۔لاَّ يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ أ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَـلَمِينَ (۵۶:۷۶،۸۰)

پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى   (۲)‏

کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے اور نہ ٹیڑھی راہ پر ہے

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں ۔ آپ گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں ۔ آپ کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپکا راستہ سیدھا آپ عظیم الشان شریعت کے شارع ، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم ۔

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى  (۳)‏

اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔‏

إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى  (۴)‏

وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔‏

آپ کا کوئی قول کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپکو حکم الہٰی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ کا کلام پاک ہوتا ہے ،

 مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ۔

 قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر اس پر ایک شخص نے کہا کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں ۔

 مسند کی اور حدیث میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے  ہیں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا اسے حفظ کرنے کے لئے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا لکھ لیا کرو اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا

یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے

بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا ۔

مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا ۔

اس پر بعض صحابہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں ۔

آپ نے فرمایا اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا ۔

عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى   (۵)‏

اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا۔‏

ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى  (۶)‏

جو زور آور ہے پھر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا۔‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معلم حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں ۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ  - ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى الْعَرْشِ مَكِينٍ  - مُّطَـعٍ ثَمَّ أَمِينٍ    (۸۱:۱۹،۲۱) ‏

یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے

یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت ذُو مِرَّةٍ کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے

حدیث میں بھی مِرَّةٍ کا لفظ آیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي

صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے ۔

پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ۔

وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى  (۷)‏

اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا۔‏

اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے

ابن ابی حاتم میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں

       آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے انکے جسم سے ڈھک گئے تھے ۔

       دوبارہ اس وقت جبکہ آپ کو لے کر حضرت جبرائیل اوپر چڑھے تھے ۔

یہ مطلب آیت وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى کا

 امام ابن جریر نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے

امام ابن جریر کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لئے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے آپ کی طرف جبرائیل اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اسکے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہی کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا ۔

 یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے

 پہلی وحی آیت  اقرا باسم کی چند آیتیں آپ پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے حضرت جبرائیل کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں ۔ آپ کا غم غلط ہو جاتا دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے ۔

لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامنگیر ہوتا اور وحی الہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح حضرت جبرائیل تسکین و تسلی کر دیا کرتے ۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لئے تھے اب آپ سے قریب آگئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ کو پہنچائی اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے ۔

پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی ۔

 مسند میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے ۔

 اور روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ بےہوش ہوگئے جبرائیل فوراً آئے اور آپ کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا ۔

 ابن عساکر میں ہے:

 ابو لہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آگیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور بار بار گستاخی سے پیش آتا تھا ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لئے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے ، یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی ،

 اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سرزمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا راہب نے ان سے کہا یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آگئے؟

 ابو لہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لئے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو لوگوں نے اسے منظور کر لیا یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے ، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ، اس وقت ابو لہب کہنے لگا اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا ۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى  (۸)‏

پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا۔‏

فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى  (۹)‏

پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔‏

پھر فرماتا ہے کہ حضرت جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی ی

ہاں لفظ أَوْ جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لئے جیسے اور جگہ ہے

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً  (۲:۷۴) ‏

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں آیت أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً   بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت یعنی پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں

 ایک اور فرمان ہے

يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً   (۴:۷۷) ‏

وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے آیت أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔

 اور جگہ ہے

وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ   (۳۷:۱۴۷) ‏

ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف

یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا اس سے زیادہ ہی زیادہ ۔

 پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردد کے لئے نہیں خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا ۔

یہ قریب آنے والے حضرت جبرائیل تھے جیسے ام المومنین عائشہ ، ابن مسعود ، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ۔

صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓسے مروی ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت ثُمَّ دَنَا میں ہے ۔

حضرت انسؓ  والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لئے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی ۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا ۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے پس یہ سدرۃ المنتہی ٰکے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا ۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے ،

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ نے خواب میں حضرت جبرائیل کو دیکھا پھر آپ اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لئے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا تین مرتبہ ایسا ہی ہوا ۔ تیسری بار آپ نے اوپر کی طرف دیکھا تو دیکھا کہ حضرت جبرائیلؑ اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں ،

 قریب تھا کہ حضور دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا میں جبرائیل ہوں میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا ، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر حضرت جبرائیل اسی طرح نظر آئے آپ پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آگئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے

 قَابَ آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں

اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا

 ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت حضرت جبرائیل پر دو ریشمی حلے تھے

فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى  (۱۰)‏

پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی وحی پہنچائی ۔‏

پھر فرمایا اس نے وحی کی اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی ۔ دونوں معنی صحیح ہیں

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا   (۹۳:۶) ‏اور وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ    (۹۴:۴) ‏تھی

اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ آپ اس میں نہ جائیں اور اُمتوں پر جنت حرام ہے جب تک کہ پہلے اس کی اُمت داخل نہ ہو جائے ،

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى  (۱۱)‏

دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا ۔

أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى  (۱۲)‏

کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں۔‏

ابن عباسؓ فرماتے ہیں آپ نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے

حضرت ابن مسعودؓ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ نے اپنے دل سے دیکھا

جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے اس لئے کہ صحابہ سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں ، امام بغوی فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا جیسے حضرت انسؓ ، حضرت حسنؓؒاور حضرت عکرمہؒ ان کے اس قول میں نظر ہے واللہ اعلم ۔

ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ ابن عباسؓ  کی ملاقات حضرت کعب سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا ابن عباسؓ نے فرمایا ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو حضرت کعب ؓنے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ کے درمیان تقسیم کر دیا حضرت موسیٰ سے دو مرتبہ باتیں کیں اور آنحضرت کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا ۔

 ایک مرتبہ حضرت مسروق حضرت عائشہ ؓکے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟

آپ نے فرمایا تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے،

میں نے کہا مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں

آپ نے فرمایا کہاں جا رہے ہو ؟

سنو اس سے مراد حضرت جبرائیل کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی

-        قیامت کب قائم ہو گی ؟

-        بارش کب اور کتنی برسے گی ؟

-        ماں کے پیٹ میں نر ہے یامادہ ؟

-        کون کل کیا کرے گا ؟

-        کون کہاں مرے گا ؟

 اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا بات یہ ہے کہ آپ نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین کو دیکھا تھا آپ نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے

نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت حضرت ابراہیم ؑکے لئے تھی اور کلام حضرت موسیٰؑ کے لئے اور دیدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے

صحیح مسلم میں حضرت ابوذرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟

تو آپ نے فرمایا وہ سراسر نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ؟

ایک روایت میں ہے میں نے نور دیکھا ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا :

میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى پڑھی ۔

 اور روایت میں ہے میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ نے آیت ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى پڑھی

حضرت عکرمہؑ سےآیت مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا ہاں آپ نے دیکھا اور پھر دیکھا سائل نے پھر حضرت حسن ؑسے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا ۔

ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے

 اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے چنانچہ مطول حدیث میں ہے:

 میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا

(راوی کہتا ہے میرے خیال میں ) خواب میں آیا

 اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں ؟

میں نے کہا نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی ، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی

پھر مجھ سے وہی سوال کیا

 میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں

مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا اچھا پھر تم بھی بتاؤ کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں ؟

میں نے کہا

-        نمازوں کے بعد میں مسجدوں میں رکے رہنا

-        جماعت کے لئے چل کر آنا ۔

-        جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا ۔

جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا ۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھو یہ کہو

اللھم انی اسئلک فعل الخیرات وترک المنکرات وحب المساکین واذا اردت بعبادک فتنتہ ان تقبضنی الیک غیر مفتون

یعنی یا اللہ میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا

 

 فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں کھانا کھلانا سلام پھیلانا لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا

اسی کی مثل روایت سورہ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے

وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى  (۱۳)‏

تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔‏

پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت جبرائیل کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے ۔

معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورہ سبحٰن کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں

یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ حضرت ابن عباس معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دورے بھی اس کے خلاف ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں حضرت عائشہ سے حضرت مسروق کا پوچھنا اور آپ کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے ۔

 ایک روایت میں ہے کہ حضرت صدیقہؓ اپنے اس جواب کے بعد آیت لَّا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ‌،   (۶:۱۰۳) ‏ کی تلاوت کی اور آیت وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ   (۴۲:۵۱) ‏کی بھی تلاوت فرمائی

یعنی کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پالیتا ہے

 کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے

پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا پھر یہ آیت پڑھی ۔

إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ   (۳۱:۳۴) ‏

 اور فرمایا جو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر یہ آیت پڑھی

يَـأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ   (۵:۶۷) ‏

اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو تمہاری جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو ۔

ہاں آپ نے حضرت جبرائیلؑ  کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے

مسند احمد میں ہے کہ حضرت مسروق نے حضرت عائشہؓ کے سامنے سورہ نجم کی آیت نَزْلَةً أُخْرَى اور  وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ (۸۱:۲۳) ‏ پڑھیں اس کے جواب میں ام المومنین حضرت عائشہؓ نے فرمایا اس اُمت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا آپ نے فرمایا

اس سے مراد میرا حضرت جبرائیل کو دیکھنا ہے

 آپ نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا

یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔

 مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن شفیق نے حضرت ابوذر سے کہا کہ اگر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ سے ایک بات ضرور پوچھتا حضرت ابوذر نے کہا کیا پوچھتے؟

کہا یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے ؟

حضرت ابوذر نے فرمایا یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب سے کیا تھا آپ نے جواب دیا :

 میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ،

صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے ۔

حضرت امام احمد فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں

ابن ابی حاتم میں حضرت ابوذر ؓسے منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق اور حضرت ابوذر کے درمیان انقطاع ہے اور امام ابن جوزی فرماتے ہیں ممکن ہے حضرت ابوذر کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے ۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لئے کہ حضرت عائشہ کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا ۔

بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے واللہ اعلم،

حضرت انسؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہاں حضرت جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے ۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى  (۱۴)‏

سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ۔‏

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى  (۱۵)‏

اسی کے پاس جنتہ الماویٰ ہے  

إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى  (۱۶)‏

جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی  

سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے  بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا ،

حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں:

 معراج والی رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہی ٰتک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں

-        پانچوں وقت کی نمازیں

-        سورہ بقرہ کی خاتمہ کی آیتیں

-        اور آپ کی اُمت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش (مسلم)

 ابو ہریرہ ؓسے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے وہاں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ سے کہا گیا کہ جو مانگنا ہو مانگو ۔

 حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید یاقوت اور زبرجد کی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔

 ابن زید فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا ؟

آپ نے فرمایا:

 اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا ۔

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى  (۱۷)‏

نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی  

آپ کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں ۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے ۔

لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى  (۱۸)‏

یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں ۔

 آپ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں

جیسے اور جگہ ہے

لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا   (۱۷:۱) ‏

اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں

جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں ۔

ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا

ابن مسعودؓ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل کو آپ نے انکی اصلی صورت میں دیکھا ۔

پس جبکہ جبرائیل نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا ، پس سدرۃ المنتہی کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے

یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّى  (۱۹)‏

کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔‏

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں ۔

لات ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا غلاف چڑھائے جاتے تھے مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا ۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے ۔

ابن جریر فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ لات بنایا تھا گویا اس کا مؤنث بنایا تھا اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے

 ایک قرأت میں لفظ لات تاکہ تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے لات اس معنی میں اس لئے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔

 اسی طرح لفظ عزیٰ لفظ عزیر سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔

 ابو سفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا عزیٰ ہے اور تمہارا نہیں جس کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری کوئی نہیں

صحیح بخاری میں ہے جو شخص لات وعزیٰ کی قسم کھابیٹھے اسے چاہیے کہ فوراً لا الہ الا للہ کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آ جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیے ، مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیے

حضرت سعد بن وقاص ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ نے فرمایا

 لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر  پڑھ لو اور تین مرتبہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا

وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى  (۲۰)‏

اور منات تیسرے پچھلے کو  

 مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں مناۃ تھا ۔ قبیلہ خزاعہ ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لئے جاتے تھے اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لئے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا ۔

 ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے ۔

 سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا ۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا اس بت کے توڑنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھےاے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا ۔

یہ ببول کے تین درختوں پر تھا کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ نے فرمایا تم نے کچھ نہیں کیا لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ حضرت خالد کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکرو فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ یا عزیٰ کے نعرے لگائے حضرت خالد نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے آپ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ نے فرمایا عزیٰ یہی تھی ۔

لات قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا ۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت ابو سفیان صخر بن حرب کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی ،

مناۃ اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سفیان کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے ۔ بعض کا قول ہے کہ حضرت علی کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا ۔

 ذوالخعلہ نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ حضرت جریر بن عبداللہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا

فلس نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر حضرت علی مامور ہوئے تھے آپ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں ،

قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں ریام نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور رضا نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا ۔

 ذوالکعبات نامی صنم خانہ بکر تغلب اور یاد قبیلے کا سنداد میں تھا

أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَى  (۲۱)‏

کیا تمہارے لئے لڑکے اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہیں  

پھر فرماتا ہے کہ تمہارے لئے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں ؟ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَى  (۲۲)‏

یہ تو اب بڑی بے انصافی کی تقسیم ہے۔  

 اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہوگا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لئے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لئے لڑکے پسند کرو

إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ

دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے لئے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔

إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَى  (۲۳)‏

 یہ لوگ صرف اٹکل اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔‏

پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے ورنہ نہ وہ معبود ہیں نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں

 خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آجانے اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے ۔

أَمْ لِلْإِنْسَانِ مَا تَمَنَّى  (۲۴)‏

کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے؟  

پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا ؟

فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَى  (۲۵)‏

اللہ ہی کے ساتھ ہے یہ جہان اور وہ جہان  

 تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا ۔

وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى  (۲۶)‏

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی

مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لئے چاہے اجازت دے دے.

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لئے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا ۔

 جیسے فرمایا

مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ   (۲:۵۵) ‏

کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے

وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ    (۳۴:۲۳) ‏

اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی ۔

جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو ! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے ؟

ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے تمام رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے ۔

إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ لَيُسَمُّونَ الْمَلَائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثَى  (۲۷)‏

بیشک لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں‏

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں ۔ جیسے اور جگہ ہے

وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَنِ إِنَاثًا ۚأَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ ۚسَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ  (۴۳:۱۹) ‏

اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے ؟

 ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرستش کی جائے گی

یہاں بھی فرمایا

وَمَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ ۖ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا  (۲۸)‏

حالانکہ انہیں اس کا علم نہیں وہ صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا۔‏

یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے محض جھوٹ کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں ۔ حدیث شریف میں ہے:

گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے

فَأَعْرِضْ عَنْ مَنْ تَوَلَّى عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا  (۲۹)‏

آپ اس سے منہ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور جن کا ارادہ بجز زندگانی دنیا کے اور کچھ نہیں۔‏

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا

ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ ۚ إ

یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔

ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں ) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں ) کنگال نہ ہو ،

 ایک منقول دعا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں :

 

اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا

پروردگار تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر ۔

 

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى  (۳۰)‏

آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہے اس سے بھی جو راہ یافتہ ہے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے جسے چاہے ہدایت دے جسے چاہے ضلالت دے سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا ۔

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے

مالک آسمان و زمین بےپرواہ مطلق شہنشاہ حقیقی عادل خالق حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے

لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى  (۳۱)‏

تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے

 ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا دہی دے گا

الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ ۚ

اور ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بےحیائی سے بھی سوائے کسی چھوٹے گناہ کے

اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بہ تقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے

 جیسے اور آیت میں ہے

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبَآٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡكُمۡ مُّدۡخَلاً كَرِيۡمًا  (۴:۳۱) ‏

اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے ،

یہاں بھی فرمایا مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں ۔

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں اللَّمَمَ کی تفسیر میرے خیال میں حضرت ابوہریرہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا (بخاری و مسلم )

حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں :

آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب اللَّمَمَ میں داخل ہے ،

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ اللَّمَمَ بوسہ لینا چھڑنا دیکھنا مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا ،

 حضرت ابن عباسؓ سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا ،

حضرت مجاہد فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو اللَّمَمَ میں داخل ہے ،

ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے چوری کے قریب ہو جانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کرکے لوٹ آیا اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا یہ سب اللَّمَمَ ہیں جو ایک مؤمن کو معاف ہیں ،

حضرت حسن سے بھی یہی مروی ہے

حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں ۔

 ابن زبیر ؓفرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے ،

 حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی ۔

إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۚ

بیشک تیرا رب بہت کشادہ مغفرت والا ہے،

تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہ ہے

 جیسے فرمان ہے

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ۚ  إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ  إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ  (۳۹:۵۳) ‏

اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے

 اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے

هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنْشَأَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ۖ

وہ تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے

پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لئے اور ایک جہنم کے لئے

 اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی عمر عمل نیکی بدی لکھ لی بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں ۔ بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں ، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں ، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آگئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے ؟

فَلَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى  (۳۲)‏

پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو۔ وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے‏

خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اپنے آپ سراہنے نہ لگو جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہےاور آیت میں ہے

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يُزَكُّوۡنَ اَنۡفُسَهُمۡؕ بَلِ اللّٰهُ يُزَكِّىۡ مَنۡ يَّشَآءُ وَلَا يُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلاً  (۴:۴۹)

کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا ۔

محمد بن عمرو بن عطا فرماتے ہیں میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے حضرت زینت بنت ابو سلمہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ نے فرمایا تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے لوگوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟

 فرمایا زینب نام رکھو

مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ نے فرمایا:

 افسوس تو نے اس کی گردن ماری کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں گمان فلاں کی طرف سے ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ ۔

 ابو داؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے حضرت عثمان کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر حضرت مقداد بن اسود اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں ۔

أَفَرَأَيْتَ الَّذِي تَوَلَّى  (۳۳)‏

کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منہ موڑ لیا۔‏

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں سچ نہ کہیں نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں

وَأَعْطَى قَلِيلًا وَأَكْدَى  (۳۴)‏

اور بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا  

اعراض کریں راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے

عرب "أَكْدَى"اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آجائے اور وہ دستبردار ہو جائیں

أَعِنْدَهُ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرَى  (۳۵)‏

کیا اسے علم غیب ہے کہ وہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے  

فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا ؟

 یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل ، طمع ، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے ،

حدیث میں ہے

 اے بلال خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ

 خود قرآن میں ہے

وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ    (۳۴:۳۹) ‏

تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے ۔

أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِي صُحُفِ مُوسَى  (۳۶)‏

کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ ؑ کے

وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى  (۳۷)‏

اور وفادار ابراہیم ؑ کی آسمانی کتابوں میں تھا۔‏

وَفَّى کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا

 دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے ۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں

جیسے اور آیت میں ہے

وَاِذِ ابۡتَلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ قَالَ اِنِّىۡ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ   (۲:۱۲۴) ‏

ابراہیم کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر ملا لئے

یعنی ہر حکم کو بجا لائے ہر منع سے رکے رہے رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا

جیسے ارشاد ہوا ہے

ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ  (۱۶:۱۲۳) ‏

پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا

ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی

أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (۳۸)‏

کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔‏

پھر صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا ۔

 جیسے قرآن کریم میں ہے

وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى  (۳۵:۱۸) ‏

اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابتدار ہو

وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى  (۳۹)‏

اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی ۔‏

ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لئے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔

حضرت امام شافعیؒ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مُردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لئے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے نہ کسب یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی نہ انہیں اس پر آمادہ کیا نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے نہ کسی اشارے کنائیے سے ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لئے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے،

اسکا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اسکی کوشش اور اس کا عمل ہیں ، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا،

صحیح حدیث میں ہے :

 سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے

پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے ۔

 خود قرآن فرماتا ہے

إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ  (۳۶:۱۲) ‏

یعنی ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے ۔

 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے ، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں

وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَى  (۴۰)‏

اور یہ بیشک اس کی کوشش عنقریب دیکھی جائے گی۔  

پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا

جیسے فرمایا

قُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ   (۹:۱۰۵) ‏

 یعنی کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا

 یہاں بھی فرمایا

ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَى  (۴۱)‏

پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔‏

پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔

وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى  (۴۲)‏

اور یہ کہ آپ کے رب ہی کی طرف سے پہنچنا ہے۔‏

فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے ۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے

 حضرت معاذ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا اے بنی اود میں اللہ کا پیغمبر کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ

بغوی میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:

 اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں ،

 جیسے اور حدیث میں ہے:

 مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو ۔ اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا ،

 گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے اس میں ہے کہ شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟

پھر اسے کس نے پیدا کیا ؟

یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟

جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو اعوذ پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے ،

سنن کی ایک حدیث میں ہے مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے

وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى  (۴۳)‏

اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں

وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا  (۴۴)‏

اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے۔‏

 وہی موت و حیات کا خالق ہے جیسے فرمایا

الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ   (۶۷:۲) ‏

اس نے موت و حیات کو پیدا کیا

وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى  (۴۵)‏

اور اسی نے جوڑا یعنی نر مادہ پیدا کیا۔‏

مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَى  (۴۶)‏

نطفہ سے جب وہ ٹپکایا جاتا ہے۔‏

اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ، جیسے اور جگہ فرمان ہے

أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى - أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِنْ مَنِيٍّ يُمْنَى -  ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى

فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى - أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى     (۷۵:۳۶،۸۰) ‏

کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بیکار چھوڑ دیا جائے گا ؟ کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا جو (رحم میں ) ٹپکایا جاتا ہے ؟ پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا ؟ پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں  کہ مردوں کو زندہ کر دے ۔

وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَى  (۴۷)‏

اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوبارہ پیدا کرنا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے

وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَى وَأَقْنَى  (۴۸)‏

اور یہ کہ وہی مالدار بناتا ہے اور سرمایا دیتا ہے  

اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے

 اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے اس نے دیا اور خوش ہوا اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا جسے چاہا غنی کیا جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے ۔

وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَى  (۴۹)‏

اور یہ کہ وہی شعریٰ(ستارے) کا رب ہے ۔‏

 الشِّعْرَى اس روشن ستارے کا نام ہے جسے مرزم الجوزاء بھی کہتے ہیں

 بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے ، عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا جیسے فرمایا

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ - إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ - الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ    (۸۹:۶،۸) ‏

یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟

یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا

وَأَنَّهُ أَهْلَكَ عَادًا الْأُولَى  (۵۰)‏

اور یہ کہ اسی نے عاد اول کو ہلاک کیا ہے ۔‏

یہ قوم بڑی قوی اور زورآور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی

وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ - سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا   (۶۹:۶،۷)

اور عاد بیحد تیز و تند ہوا سے غارت کر دیئے گئے ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا

وَثَمُودَ فَمَا أَبْقَى  (۵۱)‏

اور ثمود کو بھی (جن میں سے) ایک کو بھی باقی نہ رکھا۔‏

اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا

وَقَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَى  (۵۲)‏

اور اس سے پہلے قوم نوح کو، یقیناً وہ بڑے ظالم اور سرکش تھے۔‏

 اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا

وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَى  (۵۳)‏

اور مؤتفکہ (شہر یا الٹی ہوئی بستیوں کو) اسی نے الٹ دیا۔‏

فَغَشَّاهَا مَا غَشَّى  (۵۴)‏

پھر اس پر چھا دیا جو چھایا  

 انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے ) جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے ۔ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكَ تَتَمَارَى  (۵۵)‏

پس اے انسان تو اپنے رب کی کس کس نعمت کے بارے میں جھگڑے گا؟  

پھر فرمایا پھر تو اے انسان اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟

بعض کہتے ہیں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں ۔

 هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى  (۵۶)‏

یہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے۔‏

یہ خوف اور ڈر سے آگاہ کرنے والے ہیں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی رسالت بھی ایسی ہی ہے جیسے آپ سے پہلے رسولوں کی رسالت تھی جیسے اور آیت میں ہے

قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِنَ الرُّسُلِ (۴۶:۹)

 یعنی میں کوئی نیا رسول تو ہوں نہیں رسالت مجھ سے شروع نہیں ہوئی بلکہ دنیا میں مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں

أَزِفَتِ الْآزِفَةُ  (۵۷)‏

آنے والی گھڑی قریب آگئی ہے۔‏

قریب آنے والی کا وقت آئے گا یعنی قیامت قریب آ گئی ۔

لَيْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ كَاشِفَةٌ  (۵۸)‏

اللہ کے سوا اس کا (وقت معین پر کھول) دکھانے والا اور کوئی نہیں۔‏

نہ تو اسے کوئی دفع کر سکے نہ اس کے آنے کے صحیح وقت معین کا کسی کو علم ہے ۔

 نَذِيرٌ عربی میں اسے کہتے ہیں مثلاً ایک جماعت ہے جس میں سے ایک شخص نے کوئی ڈراؤنی چیز دیکھی اور اپنی قوم کو اس سے آگاہ کرتا ہے یعنی ڈر اور خوف سنانے والا جیسے اور آیت میں ہے

إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ   (۳۴:۴۶) ‏

میں تمہیں سخت عذاب سے مطلع کرنے والا ہوں

حدیث میں ہے تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں ۔

 یعنی جس طرح کوئی شخص کسی برائی کو دیکھ لے کہ وہ قوم کے قریب پہنچ چکی ہے اور پھر جس حالت میں ہو اسی میں دوڑا بھاگا آجائے اور قوم کو دفعۃً متنبہ کر دے کہ دیکھو وہ بلا آرہی ہے فوراً تدارک کر لو اسی طرح قیامت کے ہولناک عذاب بھی لوگوں کی غفلت کی حالت میں ان سے بالکل قریب ہو گئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان عذابوں سے ہوشیار کر رہے ہیں جیسے اس کے بعد کی سورت میں ہے

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ    (۵۴:۱) ‏

قیامت قریب آچکی

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 لوگو گناہوں کو چھوٹا اور حقیر جاننے سے بچو سنو چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک قافلہ کسی جگہ اترا سب ادھر ادھر چلے گئے اور لکڑیاں سمیٹ کر تھوڑی تھوڑی لے آئے تو چاہے ہر ایک کے پاس لکڑیاں کم کم ہیں لیکن جب وہ سب جمع کر لی جائیں تو ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے دیگیں پک جائیں اسی طرح چھوٹے چھوٹے گناہ جمع ہو کر ڈھیر لگ جاتا ہے اور اچانک اس گنہگار کو پکڑ لیتا ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے

 اور حدیث میں ہے:

 میری اور قیامت کی مثال ایسی ہے پھر آپ نے اپنی شہادت کی اور درمیان کی انگلی اٹھا کر ان کا فاصلہ دکھایا

میری اور قیامت کی مثال دو ساعتوں کی سی ہے

 میری اور آخرت کے دن کی مثال ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ایک قوم نے کسی شخص کو اطلاع لانے کے لئے بھیجا اس نے دشمن کے لشکر کو بالکل نزدیک کی کمین گاہ میں چھاپہ مارنے کے لئے تیار دیکھا یہاں تک کہ اسے ڈر لگا کہ میرے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں یہ نہ پہنچ جائیں تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور وہیں کپڑا ہلا ہلا کر انہیں اشارے سے بتا دیا کہ خبردار ہو جاؤ دشمن سر پر موجود ہے پس میں ایسا ہی ڈرانے والا ہوں ۔

 اس حدیث کی شہادت میں اور بھی بہت سی حسن اور صحیح حدیثیں موجود ہیں ۔

أَفَمِنْ هَذَا الْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ  (۵۹)‏

پس کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو؟  

پھر مشرکین کے اس فعل پر انکار فرمایا کہ وہ قرآن سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق سنتے ہیں مگر اعراض کرتے ہیں اور بےپرواہی برتتے ہیں بلکہ اس کی رحمت سے تعجب کے ساتھ انکار کر بیٹھتے ہیں اور اس سے مذاق اور ہنسی کرنے لگتے ہیں

وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ  (۶۰)‏

اور ہنس رہے ہو؟  روتے نہیں؟‏

وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ  (۶۱)‏

بلکہ تم کھیل رہے ہو‏

چاہیے یہ تھا کہ مثل ایمان داروں کے اسے سن کر روتے عبرت حاصل کرتے جیسے مومنوں کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اس کلام اللہ شریف کو سن کر روتے دھوتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور خشوع وخضوع میں بڑھ جاتے ہیں ۔

 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں سمد  گانے کو کہتے ہیں یہ یمنی لغت ہے

 آپ سے سَامِدُونَ کے معنی اعراض کرنے والے اور تکبر کرنے والے بھی مروی ہیں

 حضرت علی اور حسن فرماتے ہیں غفلت کرنے والے ۔

فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا  (۶۲)‏ ۩

اب اللہ کے سامنے سجدے کرو اور (اسی کی) عبادت کرو ۔

پھر اپنے بندوں کا حکم دیتا ہے کہ توحید و اخلاص کے پابند رہو خضوع ، خلوص اور توحید کے ماننے والے بن جاؤ ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں نے مشرکوں نے اور جن و انس نے سورۃ النجم کے سجدے کے موقعہ پر سجدہ کیا

مسند احمد میں ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم پڑھی پس آپ نے سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی جو آپ کے پاس تھے راوی حدیث مطلب بن ابی وداعہ کہتے ہیں میں نے اپنا سر اٹھایا اور سجدہ نہ کیا یہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اسلام کے بعد جس کسی کی زبانی اس سورہ مبارکہ کی تلاوت سنتے سجدہ کرتے

یہ حدیث نسائی شریف میں بھی ہے ۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com