تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الطور

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَالطُّورِ (۱)‏

قسم ہے طور کی  

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہو گی کہ اسے ہٹا سکے ۔

طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا

وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ (۲)‏

اور لکھی ہوئی کتاب کی

كِتَابٍ مَسْطُور سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا

فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ (۳)‏

جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے۔

کھلے ہوئے اوراق میں

وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ (۴)‏

وہ آباد گھر کی .

الْبَيْتِ الْمَعْمُور کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ساتویں آسمان سے آگے بڑھنے کے بعد الْبَيْتِ الْمَعْمُور دکھلایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت اللہ کے لئے جاتے ہیں ، دوسرے دن اتنے ہی اور لیکن جو آج گئے ان کی باری پھر قیامت تک نہیں آتی ۔ جس طرح زمین پر کعبتہ اللہ کاطواف ہوتا ہے اسی طرح آسمانیوں کے طواف کی اور عبادت کی جگہ وہ ہے ۔

 اسی حدیث میں ہے کہ آپ نے اس وقت حضرت ابراہیم کو دیکھا کہ الْبَيْتِ الْمَعْمُور سے کمر لگائے بیٹھے ہیں

اس میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ چونکہ خلیل اللہ بانی بیت اللہ تھے جن کے ہاتھوں زمین میں کعبۃ اللہ بنا تھا تو انہیں وہاں بھی اس کے کعبے سے لگے ہوئے آپ نے دیکھا ۔ تو گویا اس عمل کی جزا اسی جیسی پروردگار نے اپنے خلیل کو دی ،

یہ الْبَيْتِ الْمَعْمُور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ہے اور ہے ساتویں آسمان پر ، یوں تو ہر آسمان میں ایک ایسا گھر ہے جہاں اس آسمان کے فرشتے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں پہلے آسمان جو اسی جگہ ہے اس کا نام بیت العزت ہے واللہ اعلم ۔

 ابن ابی حاتم میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

آسمان میں ایک گھر ہے جسے الْمَعْمُور کہتے ہیں جو کعبہ کی سمت میں ہے ، چوتھے آسمان میں ایک نہر ہے جس کا نام نہر حیوان ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام ہر روز اس میں غوطہ لگاتے ہیں اور نکل کر بدن جھاڑتے ہیں جس سے ستر ہزار قطرے جھڑتے ہیں ایک ایک قطرے سے اللہ تعالیٰ ایک ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جنہیں حکم ہوتا ہے کہ الْبَيْتِ الْمَعْمُور میں جائیں اور نماز ادا کریں ، پھر وہ وہاں سے نکل آتے ہیں اب انہیں دوبارہ جانے کی نوبت نہیں آتی ، ان کا ایک سردار ہوتا ہے جسے حکم دیا جاتا ہے کہ انہیں لے کر کسی جگہ کھڑا ہو جائے پھر وہ اللہ کی تسبیح کے بیان میں لگ جاتے ہیں ، قیامت تک ان کا یہی شغل رہتا ہے ،

یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی روح بن صباح اس میں منفرد ہیں ،

حضرت علیؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ الْبَيْتِ الْمَعْمُور کیا ہے ؟

آپ نے فرمایا وہ آسمان میں ہے اسے صراح کہا جاتا ہے کعبہ کے ٹھیک اوپر ہے جس طرح زمین کا کعبہ حرمت کی جگہ ہے اسی طرح وہ آسمانوں میں حرمت کی جگہ ہے ، ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں لیکن جو آج گئے ہیں ان کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آتی کیونکہ فرشتوں کی تعداد ہی اس قدر ہے ،

 ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ یہ عرش کے محاز میں ہے

 ایک مرفوع روایت میں ہے کہ صحابہ کو ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

الْبَيْتِ الْمَعْمُور کو جانتے ہو ؟

 انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول جانتے ہیں ،

فرمایا:

 وہ آسمانی کعبہ ہے اور زمینی کعبہ کے بالکل اوپر ہے ایسا کہ اگر وہ گرے تو اسی پر گرے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز ادا کرتے ہیں جن کی باری قیامت تک پھر نہیں آتی ،

حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں یہ فرشتے ابلیس کے قبیلے کے جنات میں سے ہیں ،

وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ (۵)‏

اور اونچی چھت کی

اونچی چھت سے مراد آسمان ہے جیسے اور جگہ ہے

وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَحْفُوظًا ۖ وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ (۲۱:۳۲)

آسمان کو محفوظ چھت بھی  ہم نے ہی بنایا ہے لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان ہی نہیں دھرتے۔

ربیع بن انس ؓفرماتے ہیں مراد اس سے عرش ہے اس لئے کہ وہ تمام مخلوق کی چھت ہے ، اس قول کی توجیہ اسطرح ہو سکتی ہے کہ مراد عام ہو ،

وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ (۶)‏

اور بھڑکائے ہوئے سمندر کی  

الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ سے مراد وہ پانی ہے جو عرش تلے ہے جو بارش کی طرح برسے گا جس سے قیامت کے دن مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے

جمہور کہتے ہیں یہی دریا مراد ہیں

 انہیں جو الْمَسْجُور کہا گیا ہے یہ اس لئے قیامت کے دن ان میں آگ لگا دی جائے گی جیسے اور جگہ ہے

وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ  (۸۱:۱۶)

جبکہ دریا بھڑکا دیئے جائیں اور ان میں آگ لگ جائے گی

جو پھیل کر تمام اہل محشر کو گھیر لے گی

حضرت علاء بن بدر کہتے ہیں کے بھڑکتے ہوئے دریا اس لیے کہا گیا کہ نہ اس کا پانی پینے کے کام میں آئے اور نہ کھیتی کو دیا جائے یہی حال قیامت کے دن دریاؤں کا ہو گا،

یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ دریا بہتا ہوا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دریا پرشدہ ادھر ادھر جاری

ابن عباس ؓفرماتے ہیں الْمَسْجُور سے مراد فارغ یعنی خالی ہے

 کوئی لونڈی پانی لینے کو جائے پھر لوٹ کر کہے کہ حوض الْمَسْجُور ہے اس سے مراد یہی ہے کہ خالی ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اسے زمین سے روک دیا گیا ہے اس لئے کہ ڈبو نہ سکے ۔

مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے:

 ہر رات تین مرتبہ دریا اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کرتا ہے کہ اگر حکم ہو تو تمام لوگوں کو ڈبو دوں لیکن اللہ تعالیٰ اسے روک دیتا ہے

دوسری روایت میں ہے:

 ایک بزرگ مجاہد جو سمندر کی سرحد کے لشکروں میں تھے وہ جہاد کی تیاری میں وہیں رہتے تھے فرماتے ہیں ایک رات میں چوکیداری کے لئے نکلا اس رات کوئی اور پہرے پر نہ تھا میں گشت کرتا ہوا میدان میں پہنچا اور وہاں سے سمندر پر نظریں ڈالیں تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا سمندر پہاڑ کی چوٹیوں سے ٹکرا رہا ہے بار بار یہی نظارہ میں نے دیکھا ۔

 میں نے ابو صالح سے یہ واقعہ بیان کیا انہوں نے بہ روایت حضرت عمر بن خطاب اوپر والی حدیث مجھے سنائی

إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ (۷)‏

بیشک آپ کے رب کا عذاب ہو کر رہنے والا ہے۔‏

مَا لَهُ مِنْ دَافِعٍ  (۸)‏

اسے کوئی روکنے والا نہیں۔

 ان قسموں کے بعد اب جس چیز پر قسمیں کھائی گئی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ کافروں کو جو عذاب الہیہ ہونے والا ہے وہ یقینی طور پر آنے والا ہی ہے جب وہ آئے گا کسی کے بس میں اس کا روکنا نہ ہو گا

ابن ابی الدنیا میں ہے:

ایک رات حضرت عمر فاروق شہر کی دیکھ بھال کے لئے نکلے تو ایک مکان سے کسی مسلمان کی قرآن خوانی کی آواز کان میں پڑی وہ سورہ والطور پڑھ رہے تھے ، آپ نے سواری روک لی اور کھڑے ہو کر قرآن سننے لگے جب وہ اس آیت پر پہنچے تو زبان سے نکل گیا کہ رب کعبہ کی قسم سچی ہے

 پھر اپنے گدھے سے اتر پڑے اور دیوار سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے چلنے پھرنے کی طاقت نہ رہی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد جب ہوش و حواس ٹھکانے آئے وہ اپنے گھر پہنچے لیکن اللہ کے کلام کی اس ڈراؤنی آیت کے اثر سے دل کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ مہینہ بھر تک بیمار پڑے رہے اور ایسے کہ لوگ بیمار پرسی کو آتے تھے گو کسی کو معلوم نہ تھا کہ بیماری کیا ہے ؟

 ایک روایت میں ہے :

آپکی تلاوت میں ایک مرتبہ یہ آیت آئی اسی وقت ہچکی بندھ گئی اور اس قدر قلب پر اثر پڑا کہ بیمار ہو گئے چنانچہ بیس دن تک عیادت کی جاتی رہی ۔

يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا (۹)‏

جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا  

وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا (۱۰)‏

اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے۔‏

اس دن آسمان تھر تھرائے گا پھٹ جائے گا چکر کھانے لگے گا پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں گے ہٹ جائیں گے ادھر کے ادھر ہو جائیں گے کانپ کانپ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پھر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے

 آخر روئی کے گالوں کی طرح ادھر ادھر اتر جائیں گے اور بےنام و نشان ہو جائیں گے

فَوَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ (۱۱)

اس دن جھٹلانے والوں کی (پوری) خرابی ہے۔‏

اس دن ان لوگوں پر جو اس دن کو نہ مانتے تھے وَیۡلٌ وحسرت خرابی ہلاکت ہو گی

الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ خَوۡضٍ یَّلۡعَبُوۡنَ  (۱۲)

جو اپنی بیہودہ گوئی میں اچھل کود رہے ہیں  

یَوۡمَ یُدَعُّوۡنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا  (۱۳)

جس دن وہ دھکے دے کر آتش جہنم کی طرف لائے جائیں گے۔‏

ہٰذِہِ النَّارُ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ  (۱۴)

یہی وہ آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے ۔‏

اللہ کا عذاب فرشتوں کی مار جہنم کی آگ ان کے لئے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے

اَفَسِحۡرٌ ہٰذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ (۱۵)

(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے نہیں

پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے اب بولو کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو ؟

اِصۡلَوۡہَا فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا ۚ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ  (۱۶)

جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لئے یکساں ہے۔ تمہیں فقط تمہارے کئے کا بدل دیا جائے گا۔‏

جاؤ اس میں ڈوب جاؤ یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی

 اب اس کے عذاب کی تمہیں سہارا ہو یا نہ ہو ہائے وائے کرو خواہ خاموش رہو اسی میں پڑے جھلستے رہو گے کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے

یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے ۔

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ  (۱۷)

یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں  

فٰکِہِیۡنَ بِمَاۤ اٰتٰہُمۡ رَبُّہُمۡ ۚ وَ وَقٰہُمۡ رَبُّہُمۡ عَذَابَ الۡجَحِیۡمِ  (۱۸)

جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں اور ان کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بچا لیا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بد بختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال خوش دل ہیں قسم قسم کے کھانے طرح طرح کے پینے بہترین لباس ، عمدہ عمدہ سواریاں ، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں

 اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی غرض دکھ سے دور ، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو نہ کسی کان نے سنا ہو نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو

کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا ہَنِیۡٓـًٔۢا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ  (۱۹)

تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے ۔‏

پھر اللہ کی طرف سے بار بار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے کہ کھاتے پیتے رہو خوش گوار خوش ذائقہ بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لئے مہیا ہیں پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لئے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو

 جیسے اور جگہ فرمایا:

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ  (۶۹:۲۴)

مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ زمانے میں کئے

مُتَّكِئِينَ عَلَى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ ۖ

برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے

مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں بیشمار سلیقہ شعار ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لئے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود آنکھوں کا نور دل کا سرور وافر و موفور سامنے

بے انتہاء خوبصورت خوب سیرت گورے گورے پنڈے والی بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی بہت سی حوریں پاک دل عفت مآب عصمت خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لئے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی ۔

ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے ہر چیز نئی ہے ہر نعمت جوبن پر ہے اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے ان کی پیاری پیاری بھولی بھالی شکلیں اچھوتے پنڈے اور کنوار پنے کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں شکر ہے کہ آپکا التفات ہماری طرف بھی ہوا غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں ۔

پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے

جیسے اور جگہ ہے :

عَلَى سُرُرٍ مُّتَقَـبِلِينَ  (۳۷:۴۴)

تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے

وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ (۲۰)

اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کرا دیئے ہیں۔‏

 پھر فرماتا ہے ہم نے انکے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں جب آنکھ پڑے جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے ؟

 ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اسلئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں ۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ ۚ

اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان تک پہنچا دیں گے

اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے   

اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مؤمنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا

حضرت ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں ۔

 ایک مرفوع حدیث بھی اس مضمون کی مروی ہے

 ایک اور روایت میں ہے کہ جب جنتی شخص جنت میں جائے گا اور اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کو نہ پائے گا تو دریافت کرے گا کہ وہ کہاں ہیں جواب ملے گا کہ وہ تمہارے مرتبہ تک نہیں پہنچے یہ کہے گا باری تعالیٰ میں نے تو اپنے لئے اور انکے لئے نیک اعمال کئے تھے چنانچہ حکم دیا جائے گا اور انہیں بھی ان کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا ۔

یہ بھی مروی ہے کہ جنتیوں کے بچوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے وہ تو ان کے ساتھ ملا دئیے جائیں گے لیکن ان کے جو چھوٹے بچے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے وہ بھی ان کے پاس پہنچا دئیے جائیں گے ۔

حضرت ابن عباس ، شعبی ، سعید بن جبیر ابراہیم قتادہ ابو صالح ربیع بن انس ضحاک بن زید بھی یہی کہتے ہیں

 امام ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں ۔

مسند احمد میں ہے:

 حضرت خدیجہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے دو بچوں کی نسبت دریافت کیا جو زمانہ جاہلیت میں مرے تھے تو آپ نے فرمایا وہ دونوں جہنم میں ہیں ،

پھر جب مائی صاحبہ کو غمگین دیکھا تو فرمایا اگر تم ان کی جگہ دیکھ لیتیں تو تمہارے دل میں ان کا بغض پیدا ہو جاتا

 مائی صاحبہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا بچہ جو آپ سے ہوا وہ کہاں ہے ؟

 آپ نے فرمایا وہ جنت میں ہے مؤمن مع اپنی اولاد کے جنت میں ہیں ۔

 پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔

یہ تو ہوئی ماں باپ کے اعمال صالحہ کی وجہ سے اولاد کی بزرگی اب اولاد کی دعا خیر کی وجہ سے ماں باپ کی بزرگی ملاحظہ وہ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں دفعۃً بڑھاتا ہے وہ دریافت کرتا ہے کہ اللہ میرا یہ درجہ کیسے بڑھ گیا ؟

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تیری اولاد نے تیرے لئے استغفار کیا اس بنا پر میں نے تیرا درجہ بڑھا دیا

اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہیں گو بخاری مسلم میں ان لفظوں سے نہیں آئی لیکن اس جیسی ایک روایت صحیح مسلم میں اسی طرح مروی ہے :

 ابن آدم کے مرتے ہی اس کے اعمال موقوف ہو جاتے ہیں لیکن تین عمل کہ وہ مرنے کے بعد بھی ثواب پہنچاتے رہتے ہیں ۔

-    صدقہ جاریہ

-    علم دین جس سے نفع پہنچتا ہے

-     نیک اولاد جو مرنے والے کے لئے دعائے خیر کرتی رہے

چونکہ یہاں بیان ہوا تھا کہ مؤمنوں کی اولاد کے درجے بےعمل بڑھا دئیے گئے تھے تو ساتھ ہی ساتھ اپنے اس فضل کے بعد اپنے عدل کا بیان فرماتا ہے

كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ (۲۱)‏

ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے  

 کسی کو کسی کے اعمال میں پکڑا نہ جائے گا بلکہ ہر شخص اپنے اپنے عمل میں رہن ہو گا باپ کا بوجھ بیٹے پر اور بیٹے کا باپ پر نہ ہو گا

 جیسے اور جگہ ہے

كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ -إِلَّا أَصْحَابَ الْيَمِينِ - فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ -عَنِ الْمُجْرِمِينَ  (۷۴:۳۸،۴۱)

ہر شخص اپنے کئے ہوئے کاموں میں گرفتار ہے مگر وہ جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال پہنچے

وہ جنتوں میں بیٹھے ہوئے گنہگاروں سے دریافت کرتے ہیں ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے

وَأَمْدَدْنَاهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ (۲۲)

ہم نے ان کے لئے میوے اور مرغوب گوشت کی ریل پیل کر دیں گے  

ان جنتیوں کو قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے گوشت دئیے جاتے ہیں جس چیز کو جی چاہے جس پر دل آئے وہ یک لخت موجود ہو جاتی ہے

يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ (۲۳)

(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) چھینا جھپٹی کریں گے جس شراب کے سرور میں تو بیہودہ گوئی ہوگی نہ گناہ

شراب طہور کے چھلکتے ہوئے جام ایک دوسرے کو پلا رہے ہیں جس کے پینے سے سرور اور کیف لطف اور بہار حاصل ہوتا ہے لیکن بد زبانی بےہودہ گوئی نہیں ہوتی ہذیان نہیں بکتے بےہوش نہیں ہوتے سچا سرور اور پوری خوشی حاصل بک جھک سے دور گناہ سے غافل باطل وکذب سے دور غیبت وگناہ سے نفور دنیا میں شرابیوں کی حالت دیکھی ہو گی کہ ان کے سر میں چکر پیٹ میں درد عقل زائل بکواس بہت بو بری چہرے بےرونق اسی طرح شراب کے بد ذائقہ اور بدبو یہاں جنت کی شراب ان تمام گندگیوں سے کوسوں دور ہے

بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ  - لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ  (۳۷:۴۶،۴۷)

یعنی یہ رنگ میں سفید پینے میں خوش ذائقہ نہ اس کے پینے سے حواس معطل ہوں نہ بک جھک ہو نہ بہکیں نہ بھٹکیں نہ مستی ہو نہ اور کسی طرح ضرر پہنچائے ہنسی خوشی اس پاک شراب کے جام پلا رہے ہوں گے

وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ (۲۴)

اور ان کے ارد گرد ان کے نو عمر غلام پھر رہے ہونگے، گویا موتی تھے جو ڈھکے رکھے تھے .

 ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں ان کی آبداری صفائی چمک دمک روپ رنگ کا کیا پوچھنا ؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں

 اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے

يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ - بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ  (۵۶:۱۷،۱۸)

ہمیشہ نو عمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس بار بار لانے کے لئے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں

وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ (۲۵)

اور آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے  

اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے دنیا کے احوال یاد آئیں گے

قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ (۲۶)

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے۔

کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے

فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ (۲۷)

پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں تیز و تند گرم ہواؤں کے عذاب سے بچا لیا ۔

إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ (۲۸)

ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے بیشک وہ محسن اور مہربان ہے۔  

 الحمد اللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔

مسند بزار میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا ۔

اس حدیث کی سند کمزور ہے

حضرت مائی عائشہؓ نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی

اللھم من علینا وقنا عذاب السموم انک انت البر الرحیم

حضرت اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی ؟

جواب دیا ہاں ۔

فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونٍ (۲۹)

تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ ۔

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے

 كَاهِن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے

 تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے ۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے ۔

پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے:

أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ (۳۰)

کیا کافر یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانے کے حوادث (یعنی موت) کا انتظار کر رہے ہیں ۔

یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟

 ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہو جائے گا

قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ (۳۱)

کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں ۔

پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی منتظر ہوں دنیا دیکھ لے گی کہ انجام کار غلبہ اور غیر فانی کامیابی کسے حاصل ہوتی ہے ؟

دارالندوہ میں قریش کا مشورہ ہوا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) بھی مثل اور شاعروں کے ایک شعر گو ہیں انہیں قید کر لو وہیں یہ ہلاک ہو جائیں گے جس طرح زہیر اور نابغہ شاعروں کا حشر ہوا ۔ اس پر یہ آیتیں اتریں ۔

أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُمْ بِهَذَا ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ (۳۲)

کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں

پھر فرماتا ہےان کی دانائی انہیں یہی سمجھاتی ہے کہ باوجود جاننے کے پھر بھی تیری نسبت غلط افواہیں اڑائیں اور بہتان بازی کریں حقیقت یہ ہے کہ یہ بڑے سرکش گمراہ اور عناد رکھنے والے لوگ ہیں دشمنی میں آکر واقعات سے چشم پوشی کر کے آپ کو مفت میں برا بھلا کہتے ہیں

أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَلْ لَا يُؤْمِنُونَ (۳۳)

کیا یہ کہتے ہیں اس نبی نے (قرآن) خود گھڑ لیا ہے، واقع یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔

 کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے خود آپ بنا لیا ہے ؟

 فی الواقع ایسا تو نہیں لیکن ان کا کفر ان کے منہ سے یہ غلط اور جھوٹ بات نکلوا رہا ہے

فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ (۳۴)

اچھا اگر یہ سچے ہیں تو بھلا اس جیسی ایک (ہی) بات یہ (بھی) تو لے آئیں  

اگر یہ سچے ہیں تو پھر یہ خود بھی مل جل کر ہی ایک ایسی بات بنا کر دکھا دیں یہ کفار قریش تو کیا ؟

 اگر ان کےساتھ روئے زمین کے جنات وانسان مل جائیں جب بھی اس قرآن کی نظیر سے وہ سب عاجز رہیں گے اور پورا قرآن تو بڑی چیز ہے اس جیسی دس سورتیں بلکہ ایک سورت بھی قیامت تک بنا کر نہیں لا سکتے ۔

 أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ (۳۵)

کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا خود پیدا کرنے والے ہیں۔

توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے

کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟

یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟

 دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کر دیا ۔

حضرت جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورہ والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت الْمُصَيْطِرُونَ  تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے  (بخاری )

بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے قرآن پاک کی ان آیتوں کا سننا ان کے لئے اسلام کا ذریعہ بن گیا

أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَلْ لَا يُوقِنُونَ (۳۶)

کیا انہوں نے ہی آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے، بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں ۔

پھر فرمایا ہےکیا آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے یہ ہیں ؟

یہ بھی نہیں بلکہ یہ جانتے ہوئے کہ خود ان کا اور کل مخلوقات کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر بھی یہ اپنے بےیقینی سے باز نہیں آتے

أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ  (۳۷)

یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا (ان خزانوں کے) یہ دروغہ ہیں۔

پھر فرماتا ہے کیا دنیا میں تصرف ان کا ہے ؟

کیا ہر چیز کے خزانوں کے مالک یہ ہیں ؟

یا مخلوق کے محاسب یہ ہیں حقیقت میں ایسا نہیں بلکہ مالک و متصرف صرف اللہ عزوجل ہی ہے وہ قادر ہے جو چاہے کر گزرے

 پھر فرماتا ہے

أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ (۳۸)

یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے‏

کیا اونچے آسمانوں تک چڑھ جانے کا کوئی زینہ ان کے پاس ہے ؟

اگر یوں ہے تو ان میں سے جو وہاں پہنچ کر کلام سن آتا ہے وہ اپنے اقوال وافعال کی کوئی آسمانی دلیل پیش کرے لیکن نہ وہ پیش کر سکتا ہے نہ وہ کسی حقانیت کے پابند ہیں

أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ (۳۹)

کیا اللہ کے تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟‏

یہ بھی ان کی بڑی بھاری غلطی ہے کہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی لڑکیاں ہیں کیا مزے کی بات ہے کہ اپنے لئے تو لڑکیاں ناپسند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت کریں انہیں اگر معلوم ہو جائے کہ ان کے ہاں لڑکی ہوئی تو غم کے مارے چہرہ سیاہ پڑ جائے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بتائیں اتنا ہی نہیں بلکہ ان کی پرستش کریں ، پس نہایت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرماتا ہے کیا اللہ کی لڑکیاں ہیں اور تمہارے لڑکے ہیں ؟

پھر فرمایا

أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ (۴۰)

کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بو جھل ہو رہے ہیں ۔‏

کیا تو اپنی تبلیغ پر ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتا ہے جو ان پر بھاری پڑے ؟

 یعنی نبی اللہ دین اللہ کے پہنچانے پر کسی سے کوئی اجرت نہیں مانگتے پھر انہیں یہ پہنچانا کیوں بھاری پڑتا ہے ؟

أَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ (۴۱)

کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟

کیا یہ لوگ غیب دان ہیں ؟

 نہیں بلکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق میں سے کوئی بھی غیب کی باتیں نہیں جانتا

أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ (۴۲)

کیا یہ لوگ کوئی فریب کرنا چاہتے ہیں؟ تو یقین کرلیں کہ فریب خوردہ کافر ہی ہیں۔

 کیا یہ لوگ دین اللہ اور رسول اللہ کی نسبت بکواس کر کے خود رسول کو مؤمنوں اور عام لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں یاد رکھو یہی دھوکے باز دھوکے میں رہ جائیں گے اور اخروی عذاب سمیٹیں گے

پھر فرمایا

أَمْ لَهُمْ إِلَهٌ غَيْرُ اللَّهِ ۚ

کیا اللہ کے سوا کوئی معبود ہے؟

کیا اللہ کے سوا ان کے اور معبود ہیں ؟

اللہ کی عبادت میں بتوں کو اور دوسری چیزوں کو یہ کیوں شریک کرتے ہیں ؟

سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (۴۳)

 (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے۔‏

  اللہ تو شرکت سے مبرا شرک سے پاک اور مشرکوں کے اس فعل سے سخت بیزار ہے ۔

وَإِنْ يَرَوْا كِسْفًا مِنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَرْكُومٌ (۴۴)

اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہہ بہ تہہ بادل ہے ۔

مشرکوں اور کافروں کے عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اللہ کے عذاب کو محسوس کر لینے کے بعد بھی انہیں ایمان کی توفیق نہ ہو گی یہ اگر دیکھ لیں گے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا اللہ کا عذاب بن کر ان کے سروں پر گر رہا ہے تو بھی انہیں تصدیق ویقین نہ ہو گا بلکہ صاف کہدیں گے کہ غلیظ ابر ہے جو پانی برسانے کو آرہا ہے ۔  

جیسے اور جگہ فرمایا:

وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ

لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ  (۱۵:۱۴،۱۵)

اگر ہم ان کے لئے آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور یہ وہاں چڑھ جائیں تب بھی یہ تو یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھیں باندھ دی گئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے

 یعنی معجزات جو یہ طلب کر رہے ہیں اگر ان کی چاہت کے مطابق ہی دکھا دئیے جائیں بلکہ خود انہیں آسمانوں پر چڑھا دیا جائے جب بھی یہ کوئی بات بنا کر ٹال دیں گے اور ایمان نہ لائیں گے ۔

فَذَرْهُمْ حَتَّى يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ (۴۵)

تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بےہوش کر دیئے جائیں گے۔‏

يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ (۴۶)

جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وہ مدد کئے جائیں گے۔‏

 اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ انہیں چھوڑ دیجئے قیامت والے دن خود انہیں معلوم ہو جائے گا اس دن ان کی ساری فریب کاریاں دھری کی دھری رہ جائیں گی کوئی مکاری وہاں کام نہ دے گی چوکڑی بھول جائیں گے اور چالاکی بھول جائیں گے ۔ آج جن جن کو یہ پکارتے ہیں اور اپنا مددگار جانتے ہیں اس دن سب کے منہ تکیں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی ذرا سی بھی مدد کر سکے بلکہ ان کی طرف سے کچھ عذر بھی پیش کر سکے

وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَلِكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (۴۷)

بیشک ظالموں کے لئے اس کے علاوہ اور عذاب بھی ہیں لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں

یہی نہیں کہ انہیں صرف قیامت کے دن ہی عذاب ہو اور یہاں اطمینان و آرام کے ساتھ زندگی گزار لیں بلکہ ان ناانصافوں کے لئے اس سے پہلے دنیا میں بھی عذاب تیار ہیں ۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے

وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ  لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ  (۳۲:۲۱)

ہم انہیں آخرت کے بڑے عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھائیں گے تاکہ یہ رجوع کریں

 لیکن ان میں سے اکثر بےعلم ہیں نہیں جانتے کہ یہ دنیوی مصیبتوں میں بھی مبتلا ہوں گے اور اللہ کی نافرمانیاں رنگ لائیں گی ۔ یہی بےعلمی ہے جو انہیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے ۔ کہ گناہ پر گناہ ظلم پر ظلم کرتے جائیں پکڑے جاتے ہیں عبرت حاصل ہوتی ہے لیکن جہاں پکڑ ہٹی یہ پھر ویسے کے ویسے سخت دل بدکار بن گئے ۔

بعض احادیث میں ہے :

منافق کی مثال اُونٹ کی سی ہے جس طرح اونٹ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا ؟

 اسی طرح منافق بھی نہیں جانتا کہ کیوں بیمار کیا گیا ؟

 اور کیوں تندرست کر دیا گیا ؟

 اثر الہٰی میں ہے کہ میں کتنی ایک تیری نافرمانیاں کروں گا اور تو مجھے سزا نہ دے گا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندے کتنی مرتبہ میں نے تجھے عافیت دی اور تجھے علم بھی نہ ہوا ۔

وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ

تو اپنے رب کے حکم کے انتظار میں صبر سے کام لے، بیشک تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔

پھر فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ صبر کیجئے ان کی ایذاء دہی سے تنگ دل نہ ہو جائیے ان کی طرف سے کوئی خطرہ بھی دل میں نہ لائیے سنئے آپ ہماری حفاظت میں ہیں آپ ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں آپ کی نگہبانی کے ذمہ دار ہم ہیں تمام دشمنوں سے آپ کو بچانا ہمارے سپرد ہے

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ (۴۸)

صبح کو جب تو اٹھے اپنے رب کی پاکی اور حمد بیان کر۔‏

 پھر حکم دیتا ہے جب آپ کھڑے ہوں تو اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تعریف بیان کیجئے

اس کا ایک مطلب یہ کیا گیا ہے کہ جب رات کو جاگیں

 دونوں مطلب درست ہیں چنانچہ صحیح مسلم میں ہے :

 نماز کو شروع کرتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالٰی جدک ولا الہ غیرک

اے اللہ تو پاک ہے تمام تعریفوں کا مستحق ہے تیرا نام برکتوں والا ہے تیری بزرگی بہت بلند و بالا ہے ۔

تیرے سوا معبود برحق کوئی اور نہیں

 

مسند احمد اور سنن میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کہنا مروی ہے

 مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جو شخص رات کو جاگے اور کہے:

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر

 سبحان اللہ والحمد اللہ ولا الہ الاللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ

 

 پھر خواہ اپنے لئے بخشش کی دعا کرے خواہ جو چاہے طلب کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے پھر اگر اس نے پختہ ارادہ کیا اور وضو کر کے نماز بھی ادا کی تو وہ نماز قبول کی جاتی ہے ۔

 یہ حدیث صحیح بخاری شریف میں اور سنن میں بھی ہے ۔

حضرت مجاہد فرماتے ہیں اللہ کی تسبیح اور حمد کے بیان کرنے کا حکم ہر مجلس سے کھڑے ہونے کے وقت ہے

حضرت ابوالاحوص کا قول بھی یہی ہے کہ جب مجلس سے اٹھنا چاہے یہ پڑھے  سبحانک اللھم وبحمدک

حضرت عطا بن ابو رباح بھی یہی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر اس مجلس میں نیکی ہوئی ہے تو وہ اور بڑھ جاتی ہے اور اگر کچھ اور ہوا ہے تو یہ کلمہ اس کا کفارہ ہو جاتا ہے

جامع عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی کہ جب کبھی کسی مجلس سے کھڑے ہو تو  یہ دعاپڑھو ۔

سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک

 اس کے راوی حضرت معمر فرماتے ہیں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ یہ قول اس مجلس کا کفارہ ہو جاتا ہے ۔

یہ حدیث تو مرسل ہے لیکن مسند حدیثیں بھی اس بارے میں بہت سی مروی ہیں جن کی سندیں ایک دوسری کو تقویت پہنچاتی ہیں

 ایک حدیث میں ہے:

 جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے وہاں کچھ بک جھک ہو اور کھڑا ہونے سے پہلے ان کلمات کو کہہ لے تو اس مجلس میں جو کچھ ہوا ہے اس کا کفارہ ہو جاتا ہے (ترمذی)

اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں ۔

اور حدیث میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں جس مجلس سے کھڑے ہوتے ان کلمات کو کہتے بلکہ ایک شخص نے پوچھا بھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس سے پہلے تو اسے نہیں کہتے تھے ؟

آپ ﷺنے فرمایا مجلس میں جو کچھ ہوا ہو یہ کلمات اس کا کفارہ ہو جاتے ہیں

یہ روایت مرسل سند سے بھی حضرت ابو العالیہ سے مروی ہے واللہ اعلم ۔

حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں:

 یہ کلمات ایسے ہیں کہ جو انہیں مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ کہہ لے اس کے لئے یہ کفارہ ہو جاتے ہیں مجلس خیر اور مجلس ذکر میں انہیں کہنے سے یہ مثل مہر کے ہو جاتے ہیں  (ابو داؤد وغیرہ )

وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ (۴۹)

اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی

 پھر ارشاد ہوتا ہے رات کے وقت اس کی یاد اور اس کی عبادت تلاوت اور نماز کے ساتھ کرتے رہو جیسے فرمان ہے

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا (۱۷:۷۸)

رات کے وقت تہجد پڑھا کرو یہ تیرے لئے نفل ہے ممکن ہے تیرا رب تجھے مقام محمود پر اٹھائے

وَإِدْبَارَ النُّجُومِ یعنی ستاروں کے ڈوبتے وقت سے مراد صبح کی فرض نماز سے پہلے کی دو رکعتیں ہیں کہ وہ دونوں ستاروں کے غروب ہونے کے لئے جھک جانے کے وقت پڑھی جاتی ہیں چنانچہ ایک مرفوع حدیث میں ہے ان سنتوں کو نہ چھوڑو گو تمہیں گھوڑے کچل ڈالیں ۔

اسی حدیث میں ہے:

 دن رات میں پانچ نمازیں ہیں

 سننے والے نے کہا کیا مجھ پر اس کے سوا اور کچھ بھی ہے ؟

 آپ ﷺنے فرمایا نہیں مگر یہ کہ تو نفل ادا کرے

بخاری و مسلم میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سے کسی نفل کی بہ نسبت صبح کی دو سنتوں کے زیادہ پابندی اور ساری دنیا سے اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں ۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com