Tafsir Ibn Kathir الْقُرْآن الْحَكِيمٌ (تفسیر ابن کثیر)
Alama Imad ud Din Ibn Kathir ( علامہ عمادالدین ابن کثیر)

اردو اور عربی فونٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

Home               Contact Us               Index               Previous               Next

Surah Al Rahman

Urdu Translation اردو ترجمہ  

Maulana Muhammad Sahib  مولانا محمد صا حب جونا گڑھی

Paperback Edition

Electronic Version


الرَّحْمَنُ (۱)

رحمٰن نے۔‏

عَلَّمَ الْقُرْآنَ (۲)

قرآن سکھایا

اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا

خَلَقَ الْإِنْسَانَ (۳)

اسی نے انسان کو پیدا کیا

عَلَّمَهُ الْبَيَانَ(۴)

اور اسے بولنا سکھایا

 اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا ۔

قتادہ ؒکہتے ہیں بیان سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے ۔

حضرت حسنؒ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے

 اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے خواہ حلق سے نکلتا ہو خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف، مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی ،

الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ (۵)

آفتاب اور مہتاب (مقررہ) حساب سے ہیں

سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں نہ ان میں اختلاف ہو نہ اضطراب نہ یہ آگے بڑھے نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے

 اور جگہ فرمایا ہے :

لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (۳۶:۴۰)

نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ جانے والی ہے اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں

اور جگہ فرمایا ہے :

فَالِقُ الإِصْبَاحِ وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَاناً ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (۶:۹۶)

اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لئے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے

یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے ۔

 حضرت عکرمہؑ فرماتے ہیں:

 تمام انسانوں ، جنات ، چوپایوں ، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمو دی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجودیکہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے

پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے (ابن ابی حاتم)

وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ (۶)

اور ستارے اور درخت دونوں سجدہ کرتے ہیں

اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ الشَّجَرُ اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہو لیکن النَّجْمُ کے معنی کئی ایک ہیں

-         بعض تو کہتے ہیں النَّجْمُ سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنا نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔

-         بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں ۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے گو اول قول امام ابن جریر کا اختیار کردہ ہے واللہ اعلم،

قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے ۔ فرمان ہے:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِى السَّمَـوَتِ وَمَن فِى الاٌّرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ (۲۲:۱۸)

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے لئے آسمان زمین کی تمام مخلوقات اور سورج ، چاند، ستارے ، پہاڑ، درخت، جانور اور اکثر لوگ سجدہ کرتے ہیں

پھر فرماتا ہے

وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ  (۷)

اسی نے آسمان کو بلند کیا اور اسی نے ترازو رکھی

آسمان کو اسی نے بلند کیا ہے اور اسی میں میزان قائم کی ہے یعنی عدل جیسے اور آیت میں ہے :

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَـتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَـبَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (۵۷:۲۵)

یقینا ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ اور ترازو کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ لوگ عدل پر قائم ہو جائیں

 یہاں بھی اس کے ساتھ ہی فرمایا

أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ  (۸)

تاکہ تولنے میں تجاوز نہ کرو

تا کہ تم ترازو میں حد سے نہ گزر جاؤ

یعنی اس اللہ نے آسمان و زمین کو حق اور عدل کے ساتھ پیدا کیا تاکہ تمام چیزیں حق و عدل کے ساتھ ہو جائیں ،

 پس فرماتا ہے

وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ  (۹)

انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول میں کم نہ دو۔‏

جب وزن کرو تو سیدھی ترازو سے عدل و حق کے ساتھ وزن کرو کمی زیادتی نہ کرو کہ لیتے وقت بڑھتی تول لیا اور دیتے وقت کم دے دیا

 اور جگہ ارشاد ہے:

وَزِنُواْ بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ (۲۶:۱۸۲)

صحت کے ساتھ کھرے پن سے تول کیا کرو ،

وَالْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ  (۱۰)

اور اسی نے مخلوق کے لئے زمین بچھا دی۔‏

آسمان کو تو اس نے بلند و بالا کیا اور زمین کو اس نے نیچی اور پست کر کے بچھا دیا اور اس میں مضبوط پہاڑ مثل میخ کے گاڑ دئیے تاکہ وہ ہلے جلے نہیں اور اس پر جو مخلوق بستی ہے وہ باآرام رہے

پھر زمین کی مخلوق کی دیکھو ان کی مختلف قسموں مختلف شکلوں مختلف رنگوں مختلف زبانوں مختلف عادات واطوار پر نظر ڈال کر اللہ کی قدرت کاملہ کا اندازہ کرو ۔

فِيهَا فَاكِهَةٌ وَالنَّخْلُ ذَاتُ الْأَكْمَامِ  (۱۱)

جس میں میوے ہیں اور خوشے والے کھجور کے درخت ہیں ۔‏

ساتھ ہی زمین کی پیداوار کو دیکھو کہ رنگ برنگ کے کھٹے میٹھے پھیکے سلونے طرح طرح کی خو شبوؤں والے میوے پھل فروٹ اور خاصتاًٍ کھجور کے درخت جو نفع دینے والا اور لگنے کے وقت سے خشک ہو جانے تک اور اس کے بعد بھی کھانے کے کام میں آنے والا عام میوہ ہے ، اس پر خوشے ہوتے ہیں جنہیں چیر کر یہ باہر آتا ہے پھر گدلا ہو جاتا ہے پھر تر ہو جاتا ہے پھر پک کر ٹھیک ہو جاتا ہے بہت نافع ہے ، ساتھ ہی اس کا درخت بالکل سیدھا اور بےضرر ہوتا ہے ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ قیصر نے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کو لکھا کہ میرے قاصد جو آپ کے پاس سے واپس آئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ کے ہاں ایک درخت ہوتا ہے جس کی سی خو خصلت کسی اور میں نہیں ، وہ جانور کے کان کی طرح زمین سے نکلتا ہے پھر کھل کر موتی کی طرح ہو جاتا ہے پھر سبز ہو کر زمرد کی طرح ہو جاتا ہے پھر سرخ ہو کر یاقوت جیسا بن جاتا ہے ، پھر یکتا ہے اور تیار ہو کر بہترین فالودے کے مزے کا ہو جاتا ہے پھر خشک ہو کر مقیم لوگوں کے بچاؤ کی اور مسافروں کے توشے بھتے کی چیز بن جاتا ہے پس اگر میرے قاصد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرے خیال سے تو یہ درخت جنتی درخت ہے

 اس کے جواب میں شاہ اسلام حضرت فاروق اعظم ؓنے لکھا کہ یہ خط ہے اللہ کے غلام مسلمانوں کے بادشاہ عمر کی طرف سے شاہ روم قیصر کے نام آپ کے قاصدوں نے جو خبر آپ کو دی ہے وہ سچ ہے اس قسم کے درخت ملک عرب میں بکثرت ہیں یہی وہ درخت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مریم کے پاس اگایا تھا جبکہ ان کے لڑکے حضرت عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدمؑ جیسی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر فرمایا ہو جا پس وہ ہوگئے اللہ کی طرف سے سچی اور حق بات یہی ہے تجھے چاہیے کہ شک و شبہ کرنے والوں میں نہ رہے

 أَكْمَام  کے معنی لیف کے بھی کئے گئے ہیں جو درخت کھجور کی گردن پر پوست کی طرح ہوتا ہے

وَالْحَبُّ ذُو الْعَصْفِ وَالرَّيْحَانُ  (۱۲)

اور بھس والا اناج  اور خوشبودار پھول ہیں۔‏

اور اس نے زمین میں بھوسی اور اناج پیدا کیا

 عَصْف کے معنی کھیتی کے سبز پتے

مطلب یہ ہے کہ گیہوں جو وغیرہ کے وہ دانے جو خوشہ میں بھوسی سمیت ہوتے ہیں اور جو پتے ان کے درختوں پر لپٹے ہوئے ہوتے ہیں

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیتی سے پہلے ہی اُگے ہوئے پتوں کو تو عَصْف کہتے ہیں اور جب دانے نکل آئیں بالیں پیدا ہو جائیں تو انہیں رَيْحَان  کہتے ہیں ۔

پھر فرماتا ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۱۳)

پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

  اے جنو اور انسانو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے

یعنی تم اس کی نعمتوں کے سر سے پیر تک ڈوبے ہوئے ہو اور مالا مال ہو رہے ہو ناممکن ہے کہ حقیقی طور پر تم کسی نعمت کا انکار کر سکو اور اسے جھوٹ بتا سکو ایک دو نعمتیں ہوں تو خیر یہاں تو سر تاپا اس کی نعمتوں سے تم دبے ہوئے ہو اسی لئے مؤمن جنوں نے اسے سن کر جھٹ سے جواب دیا:

اللھم ولا بشئی من الائک ربنا نکذب فلک الحمد

حضرت ابن عباسؓ اس کے جواب میں فرمایا کرتے تھے لا فایھا یارب  یعنی خدایا ہم ان میں سے کسی نعمت کا انکار نہیں کر سکتے ۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صاحبزادی حضرت اسماءؓ فرماتی ہیں کہ شروع شروع رسالت کے زمانہ میں ابھی امر اسلام کا پوری طرح اعلان نہ ہوا تھا میں نے رسول اللہ کو بیت اللہ میں دکن کی طرف نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ اس نماز میں اس سورت کی تلاوت فرما رہے تھے اور مشرکین بھی سن رہے تھے ۔

خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ  (۱۴)

اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی

وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ  (۱۵)

اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا

مسند کی حدیث میں ہے کہ رسول ﷺ فرماتے ہیں :

فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۱۶)

پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟

پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ  (۱۷)

وہ رب ہے دونوں مشرقوں کا اور دونوں مغربوں کا

جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے

 دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ جگہیں بدلتی رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت میں ہے:

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا (۷۳:۹)

مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ

تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں ، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ کے جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لئے پھر فرمایا

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۱۸)

پس (اے انسانو اور جنو!) تم اپنے پروردگار کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے ؟

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ  (۱۹)

اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔‏

اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں ایک کھاری پانی کا ہے دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار سے چل رہے ہ

بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ  (۲۰)

ان دونوں میں سے ایک آڑ ہے کہ اس سے بڑھ نہیں سکتے

دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے نہ وہ اس میں مل سکے نہ وہ اس میں جا سکے یہ اپنی حد میں ہے وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں ۔

سورہ فرقان کی وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخاً وَحِجْراً مَّحْجُوراً  (۲۵:۵۳)کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گزر چکی ہے

امام ابن جریر یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور صدف جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر لؤلؤ پیدا ہوتا ہے واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی اس لئے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا ۔

 ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے ۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسان میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۲۱)

پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‏

يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ  (۲۲)

ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں

لؤلؤ موتی کو کہتے ہیں کہ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو مرجان کہتے ہیں

بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں ،

 بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے

 اور آیت میں ہے:

وَمِن كُلٍّ۬ تَأۡڪُلُونَ لَحۡمً۬ا طَرِيًّ۬ا وَتَسۡتَخۡرِجُونَ حِلۡيَةً۬ تَلۡبَسُونَهَا (۳۵:۱۲)

تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو

 تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے

 حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے

 پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۲۳)

پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‏

ایسی ہی بےشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے ؟

وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ  (۲۴)

اور اللہ ہی کی (ملکیت میں) ہیں جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند (چل پھر رہے) ہیں  

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادبانوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے آتے ہیں یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۲۵)

پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‏

 اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پھر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی ؟

حضرت عمیری بن سوید فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا:

 اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے نہ میں نے عثمان غنیؓ کو قتل کیا نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا نہ ان سے خوش نہ ان پر نرم ۔

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ  (۲۶)

زمین پر جو ہیں سب فنا ہونے والے ہیں۔‏

فرماتا ہے کہ زمین کی کل مخلوق فنا ہونے والی ہے ایک دن آئے گا کہ اس پر کچھ نہ ہو گا کل جاندار مخلوق کو موت آ جائے گی اسی طرح کل آسمان والے بھی موت کا مزہ چکھیں گے مگر جسے اللہ چاہے صرف اللہ کی ذات باقی رہ جائے گی جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ تک ہے جو موت و فوت سے پاک ہے

حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں اولاً تو پیدائش عالم کا ذکر فرمایا پھر ان کی فنا کا بیان کیا ۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک منقول دعا میں یہ بھی ہے:

یا حی یا قیوم

 یا بدیع السموات والارض

 یا ذا الجلال والاکرام لا الہ الا انت برحمتک نستغیث

اصلح لنا شاننا کلہ ولا تکلنا الی انفسنا طرفتہ عین ولا الی احد من خلقک

اے ہمیشہ جینے اور ابدالآباد تک باقی اور تمام قائم رہنے والے اللہ

 اے آسمان و زمین کے ابتدا پیدا کرنے والے ۔

 اے رب جلال اور بزرگی والے پروردگار تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہم تیری رحمت ہی سے استغاثہ کرتے ہیں ہمارے تمام کام تو بنا دے اور آنکھ جھپکنے کے برابر بھی تو ہماری طرف نہ سونپ اور نہ اپنی مخلوق میں سے کسی کی طرف ۔

 

حضرت شعبی فرماتے ہیں جب تو آیت كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ  پڑھے تو ٹھہر نہیں اور ساتھ ہی وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ  پڑھ لے ۔ اس آیت کا مضمون دوسری آیت میں ان الفاظ سے ہے:

كُلُّ شَىْءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ (۲۸:۸۸)

سوائے ذات باری کے ہرچیز ناپید ہونے والی ہے

پھر اپنے چہرے کی تعریف میں فرماتا ہے

وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ  (۲۷)

صرف تیرے رب کی ذات جو عظمت اور عزت والی ہے باقی رہ جائے گی۔‏

وہ ذُو الْجَلَالِ ہے یعنی اس قابل ہے کہ اس کی عزت کی جائے اس کا جاہ و جلال مانا جائے اور اس کے احکام کی اطاعت کی جائے اور اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے رکا جائے ۔

 جیسے اور جگہ ہے:

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِىِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ (۱۸:۲۸)

جو لوگ صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے رہتے ہیں اور اسی کی ذات کے مرید ہیں تو انہی کے ساتھ اپنے نفس کو وابستہ رکھ

 اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ (۷۶:۹)

نیک لوگ صدقہ دیتے وقت سمجھتے ہیں کہ ہم محض اللہ کی رضا کے لئے کھلاتے پلاتے ہیں

 وہ کبریائی بڑائی عظمت اور جلال والا ہے پس اس بات کو بیان فرما کر کہ تمام اہل زمین فوت ہونے میں اور پھر اللہ کے سامنے قیامت کے دن پیش ہونے میں برابر ہیں اور اس دن وہ بزرگی والا اللہ ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ حکم فرمائے گا

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۲۸)

پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‏

ساتھ ہی فرمایا اب تم اے جن و انس رب کی کونسی نعمت کا انکار کرتے ہو ؟

 پھر فرماتا ہے

يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ

سب آسمان و زمین والے اسی سے مانگتے ہیں

وہ ساری مخلوق سے بےنیاز ہے اور کل مخلوق اس کی یکسر محتاج ہے سب کے سب سائل ہیں وہ غنی ہے سب فقیر ہیں اور وہ سب کے سوال پورے کرنے والا ہے ہر مخلوق اپنے حال و قال سے اپنی حاجتیں اس کی بارگاہ میں لے جاتی ہے اور ان کے پورا ہونے کا سوال کرتی ہے ۔

كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ  (۲۹)

ہر روز وہ ایک شان میں ہے ۔‏

وہ ہر دن نئی شان میں ہے اس کی شان ہے کہ

-        ہر پکارنے والے کو جواب دے ۔

-         مانگنے والے کو عطا فرمائے

-         تنگ حالوں کو کشادگی دے

-        مصیبت و آفات والوں کو رہائی بخشے

-        بیماروں کو تندرستی عنایت فرمائے

-        غم و ہم دور کرے

-        بےقرار کی بیقراری کے وقت کی دعا کو قبول فرما کر اسے قرار اور آرام عنایت فرمائے ۔

-        گنہگاروں کے واویلا پر متوجہ ہو کر خطاؤں سے درگزر فرمائے گناہوں کو بخشے

-         زندگی وہ دے موت وہ دے

-        تمام زمین والے کل آسمان والے اس کے آگے ہاتھ پھیلائے ہوئے اور دامن پھیلائے ہوئے ہیں

-         چھوٹوں کو بڑا وہ کرتا ہے

-         قیدیوں کو رہائی وہ دیتا ہے

-         نیک لوگوں کی حاجتوں کو پورا کرنے والا ان کی پکار کا مدعا ان کے شکوے شکایت کا مرجع وہی ہے

-         غلاموں کو آزاد کرنے کی رغبت وہی دلانے والا اور ان کو اپنی طرف سے عطیہ وہی عطا فرماتا ہے

 یہی اس کی شان ہے

 ابن جریر میں ہے:

 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو صحابہ نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ شان کیا ہے ؟

 فرمایا:

-         گناہوں کا بخشنا

-        دکھ کو دور کرنا

-        لوگوں کو ترقی اور تنزلی پر لانا

 ابن ابی حاتم میں اور ابن عساکر میں بھی اسی کے ہم معنی ایک حدیث ہے ۔

صحیح بخاری میں یہ روایت معلقاً حضرت ابو الدرداء کے قول سے مروی ہے بزار میں بھی کچھ کمی کے ساتھ مرفوعًا مروی ہے

 حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ کو سفید موتی سے پیدا کیا اس کے دونوں تختے سرخ یاقوت کے ہیں اس کا علم نوری ہے اس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے ۔ ہر روز تین سو ساٹھ مرتبہ اسے دیکھتا ہے ہر نگاہ پر کسی کو زندگی دیتا اور مارتا اور عزت و ذلت دیتا ہے اور جو چاہے کرتا ہے ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۳۰)

پس اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔‏

                                           سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ الثَّقَلَانِ  (۳۱)

(جنوں اور انسانوں کے گروہو!) عنقریب ہم تمہاری طرف پوری طرح متوجہ ہو جائیں گے

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بطور تنبیہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہو جائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہو گا ،

محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا،

 تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا ۔

الثَّقَلَان  سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے:

 اسے سوائے ثقلین کے ہرچیز سنتی ہے

 اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کےاور حدیث صور میں صاف ہے کہ ثقلین

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۳۳)

پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

یعنی جن و انس پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کر سکتے ہو ؟

يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا ۚ

اے گروہ جنات و انسان! اگر تم میں آسمانوں اور زمین میں کے کناروں سے باہر نکل جانے کی طاقت ہے تو نکل بھاگو!

لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ  (۳۳)

بغیر غلبہ اور طاقت کے تم نہیں نکل سکتے۔

اے جنو اور انسانو! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے

حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہو گا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الہٰی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں

يَقُولُ الإِنسَـنُ يَوْمَئِذٍ أَيْنَ الْمَفَرُّ ۔ كَلاَّ لاَ وَزَرَ۔ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمُسْتَقَرُّ (۷۵:۱۰،۱۲)

اس دن انسان کہے گا آج  بھاگنے کی جگہ کہاں ہے ؟ نہیں نہیں کوئی پناہ گاہ نہیں آج  تیرے پروردگار  کی طرف ہی قرار گاہ ہے

 اور آیت میں ہے:

وَالَّذِينَ كَسَبُواْ السَّيِّئَاتِ جَزَآءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ مَّا لَهُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ كَأَنَّمَا أُغْشِيَتْ وُجُوهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّيْلِ مُظْلِماً

أُوْلَـئِكَ أَصْحَـبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَـلِدُونَ (۱۹:۲۷)

بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہو گی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہو گا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۳۴)

پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ  (۳۵)

تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا  پھر تم مقابلہ نہ کر سکو گے۔

شُوَاظٌ کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں ۔

 بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کا اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے

نُحَاسٌ کہتے ہیں دھویں کو ، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے ۔

 نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے

ہاں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نُحَاسٌ سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا ۔

 اور نُحَاسٌ کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا ۔

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں نُحَاسٌ سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا ۔

 بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے تم نہ ان کا مقابلہ کر سکتے ہو نہ انہیں دفع کر سکتے ہو نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۳۶)

پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

 پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے ۔

فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ  (۳۷)

پس جب کہ آسمان پھٹ کر سرخ ہو جائے جیسے کہ سرخ چمڑہ

آسمان کا پھٹ جانا اور آیتوں میں بھی بیان ہوا ہے ۔

 ارشاد ہے :

وَانشَقَّتِ السَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ (۶۹:۱۶)

ایک اور جگہ ہے:

وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَـمِ وَنُزِّلَ الْمَلَـئِكَةُ تَنزِيلاً  (۲۵:۲۵)

 اور فرمان ہے:

إِذَا السَّمَآءُ انشَقَّتْ ۔وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ (۸۴:۱،۲)

 جس طرح چاندی وغیرہ پگھلائی جاتی ہے یہی حالت آسمان کی ہو جائے گی رنگ پر رنگ بدلے گا کیونکہ قیامت کی ہولناکی اس کی شدت و دہشت ہے ہی ایسی ۔

مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 لوگ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے اور آسمان ان پر ہلکی بارش کی طرح برستا ہو گا

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا ۔

 ایک روایت میں گلابی رنگ گھوڑے کے رنگ جیسا آسمان کا رنگ ہو جائے گا ۔

 ابو صالح فرماتے ہیں:

 پہلے گلابی رنگ ہو گا پھر سرخ ہو جائے گا ۔ گلابی رنگ گھوڑے کا رنگ موسم بہار میں تو زردی مائل نظر آتا ہے اور جاڑے میں بدل کر سرخ جچتا ہے جوں جوں سردی بڑھتی ہے اس کا رنگ متغیر ہوتا جاتا ہے ۔ اسی طرح آسمان بھی رنگ پر رنگ بدلے گا پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا ۔ جیسے روغن گلاب کا رنگ ہوتا ہے اس رنگ کا آسمان ہو جائے گا آج وہ سبز رنگ ہے لیکن اس دن اس کا رنگ سرخی لئے ہوئے ہو گا زیتون کی تلچھٹ جیسا ہو جائے گا۔

جہنم کی آگ تپش اسے پگھلا کر تیل جیسا کر دے گی ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۳۸)

پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ  (۳۹)

اس دن کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہوں کی پرسش نہ کی جائے گی  

اس دن کسی مجرم سے اس کا جرم نہ پوچھا جائے گا

جیسے ایک اور آیت میں ہے:

هَـذَا يَوْمُ لاَ يَنطِقُونَ ۔ وَلاَ يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (۷۷:۳۵،۳۶)

یہ وہ دن ہے کہ بات نہ کریں گے نہ انہیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر معذرت کریں ۔

ہاں اور آیات میں ان کا بولنا عذر کرنا ان سے حساب لیا جانا وغیرہ بھی بیان ہوا ہے

 فرمان ہے :

فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۔عَمَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ  (۱۵:۹۲،۹۳)

تیرے رب کی قسم ہم سب سے سوال کریں گے اور ان کے تمام کاموں کی پرسش کریں گے ۔

 تو مطلب یہ ہے کہ ایک موقعہ پر یہ ہے پرسش ہوئی حساب کتاب ہوا عذر معذرت ختم کر دی گئی اب منہ پر مہر لگ گئی ہاتھ پاؤں اور اعضاء جسم نے گواہی دی پھر پوچھ گچھ کی ضرورت نہ رہی عذر معذرت توڑ دی گئی ۔

 اور یہ تطبیق بھی ہے کہ کسی سے نہ پوچھا جائے گا کہ فلاں عمل کیا  یا نہیں کیا ؟ کیونکہ اللہ کو جو خوب معلوم ہے اس سے جو سوال ہو گا وہ یہ کہ ایسا کیوں کیا ؟

 تیسرا قول یہ ہے کہ فرشتے پوچھیں گے نہیں وہ تو چہرہ دیکھتے ہی پہچان لیں گے اور جہنمی کو زنجیروں میں باندھ کر اوندھے گھسیٹ کر جہنم واصل کر دیں گے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۴۰)

پھر اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

يُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ

گناہگار صرف حلیہ سے ہی پہچانے جائیں گے

 یہ گنہگار اپنے چہروں اور اپنی خاص علامتوں سے پہچان لئے جائیں گے چہرے سیاہ ہوں گے آنکھیں کیری ہوں گی ٹھیک اسی طرح مؤمنوں کے چہرے بھی الگ ممتاز ہوں گے ۔ ان کے اعضائے وضو چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے ۔

فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ  (۴۱)

اور ان کے پیشانیوں کے بال اور قدم پکڑ لئے جائیں گے ۔

گنہگاروں کو پیشانیوں اور قدموں سے پکڑا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا جس طرح بڑی لکڑی کو دو طرف سے پکڑ کر تنور میں جھونک دیا جاتا ہے پیٹھ کی طرف زنجیر لا کر گردن اور پاؤں ایک کر کے باندھ دیے جائیں گے ۔ کمر توڑ دی جائے گی اور قدم اور پیشانی ملا دیجائے گی اور جکڑ دیا جائے گا۔

 مسند احمد میں ہے :

قبیلہ بنو کندہ کا ایک شخص حضرت  عائشہؓ کے پاس گیا ۔ پردے کے پیچھے بیٹھا اور ام المؤمنین سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ کسی وقت آپ ؐ  کو کسی شخص کی شفاعت کا اختیار نہ ہو گا؟

 اُم المؤمنین نے جواب دیا ہاں ایک مرتبہ ایک ہی کپڑے میں ہم دونوں تھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا

ہاں جب کہ پل صراط رکھا جائے گا اس وقت مجھے کسی کی شفاعت کا اختیار نہ ہو گا یہاں تک کہ میں جان لوں کہ خود مجھے کہاں لے جاتے ہیں ؟

اور جس وقت کہ چہرے سفید ہونے شروع ہوں گے یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟

 یا فرمایا یہاں تک کہ میں دیکھ لوں کہ مجھ پر کیا وحی بھیجی جاتی ہے ؟

 اور جب جہنم پر پل رکھا جائیگا اور اسے تیز اور گرم کیا جائے گا

میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تیزی اور گرمی کی کیا حد ہے ؟

 فرمایا تلوار کی دھار جیسا تیز ہو گا اور آگ کے انگارے جیسا گرم ہو گا مؤمن تو بےضرر گزر جائے گا اور منافق لٹک جائے گا جب بیچ میں پہنچے گا اس کے قدم پھسل جائیں گے یہ اپنے ہاتھ اپنے پیروں کی طرف جھکائے گا جس طرح کوئی ننگے پاؤں چل رہا ہو اور اسے کانٹا لگ جائے اور اس زور کا لگے کہ گویا کہ اس نے اس کا پاؤں چھید دیا تو کس طرح بےصبری اور جلدی سے وہ سر اور ہاتھ جھکا کر اس کی طرف جھک پڑتا ہے اسی طرح یہ جھکے گا ادھر یہ جھکا ادھر داروغہ جہنم کی آگ میں گرا دے گا جس میں تقریباً پچاس پچاس سال تک وہ گہرا اترتا جائے گا ،

میں نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ جہنمی کس قدر بوجھل ہو گا

 آپ نے فرمایا مثل دس گابھن اونٹنیوں کے وزن کے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی

یہ حدیث غریب ہے اور اس کے بعض فقروں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہونا منکر ہے اور اس کی اسناد میں ایک شخص ہے جس کا نام بھی نیچے راوی نے نہیں لیا ۔ اس جیسی دلیلیں صحت کے قابل نہیں ہوتیں ، واللہ اعلم ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۴۲)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

هَذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ  (۴۳)

یہ ہے وہ جہنم جسے مجرم جھوٹا جانتے تھے۔‏

ان گنہگاروں سے کہا جائے گا کہ لو جس جہنم کا تم انکار کرتے تھے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو یہ انہیں بطور رسوا اور ذلیل کرنے شرمندہ اور نادم کرنے ان کی خفت بڑھانے کے لئے کہا جائے گا

يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ  (۴۴)

اس کے اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان چکر کھائیں گے  

پھر ان کی یہ حالت ہو گی کہ کبھی آگ کا عذاب ہو رہا ہے کبھی پانی کا ۔ کبھی جحیم میں جلائے جاتے ہیں اور کبھی حمیم پلائے جاتے ہیں ۔ جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح محض آگ ہے جو آنتوں کو کاٹ دیتی ہے اور جگہ ہے :

إِذِ الاٌّغْلَـلُ فِى أَعْنَـقِهِمْ والسَّلَـسِلُ يُسْحَبُونَ ۔ فِى الْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ (۴۰:۷۱،۷۲)

جب کہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی وہ حمیم سے جحیم میں گھسیٹے جائیں گے اور بار بار یہ جلائے جائیں گے ۔

یہ گرم پانی حد درجہ کا گرم ہو گا بس یوں کہنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی جہنم کی آگ ہی ہے جو پانی کی صورت میں ہے ۔

حضرت قتادہ فرماتے ہیں آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش کے وقت سے آج تک وہ گرم کیا جا رہا ہے ۔

 محمد بن کعب فرماتے ہیں بدکار شخص کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے اس گرم پانی میں ایک غوطہ دیا جائے گا تمام گوشت گل جائے گا اور ہڈیوں کو چھوڑ دے گا ۔ بس دو آنکھیں اور ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا اسی کو فرمایا  فِى الْحَمِيمِ ثُمَّ فِى النَّارِ يُسْجَرُونَ (۴۰:۷۲)

ان کے معنی حاضر کے بھی کئے گئے ہیں

 اور آیت میں ہے:

تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍ  (۸۸:۵)

سخت گرم موجود پانی کی نہر سے انہیں پانی پلایا جائے گا

 جو ہرگز نہ پی سکیں گے کیونکہ وہ بے انتہا گرم بلکہ مثل آگ کے ہے۔

 قرآن کریم میں اور جگہ ہے:

غَيْرَ نَـظِرِينَ إِنَـهُ (۳۳:۵۳)

ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو

وہاں مراد تیاری اور پک جانا ہے ۔ چونکہ بدکاروں کی سزا اور نیک کاروں کی جزا بھی اس کا فضل و رحمت اور عدل و لطف ہے اپنے ان عذابوں کا قبل از وقت بیان کر دینا تاکہ شرک و معاصی کے کرنے والے ہوشیار ہو جائیں یہ بھی اس کی نعمت ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۴۵)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

اس لئے فرمایا پھر تم اے جن و انس اپنے رب کی کون کون سی نعمت کا انکار کرو گے ۔

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ  (۴۶)

اور اس شخص کے لئے جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا دو جنتیں ہیں  

ابن شوذب اور عطا خراسانی فرماتے ہیں آیت وَلِمَنْ خَافَ حضرت صدیق اکبرؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ،

حضرت عطیہ بن قیس فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے کہا تھا مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈوانے پر نہ ملوں یہ کلمہ کہنے کے بعد ایک رات ایک دن توبہ کی اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لی اور اسے جنت میں لے گیا ۔

 لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے حضرت ابن عباسؓ وغیرہ کا قول بھی یہی ہے ۔

مطلب یہ ہے کہ

-         جو شخص قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے

-        اور اپنے آپ کو نفس کی خواہشوں سے بچاتا ہے

-         اور سرکشی نہیں کرتا

-        زندگانی دنیا کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہے اور اسے بہتر اور پائدار سمجھتا ہے

-        فرائض بجا لاتا ہے محرمات سے رکتا ہے

قیامت کے دن اسے ایک چھوڑ دو دو جنتیں ملیں گی ۔

صحیح بخاری میں ہے کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:

 دو جنتیں چاندی کی ہوں گی اور ان کا تمام سامان بھی چاندی کا ہی ہو گا

اور دو جنتیں سونے کی ہوں گی ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سب سونے کا ہوگا

 ان جنتیوں میں اور دیدار باری میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی سوائے اس کبریائی کے پردے کے جو اللہ عزوجل کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے

یہ حدیث صحاح کی اور کتابوں میں بھی ہے بجز ابو داؤد کے

راوی حدیث حضرت حماد فرماتے ہیں میرے خیال میں تو یہ حدیث مرفوع ہے ۔

تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کے فرمان آیت وَلِمَنْ خَافَ اور آیت وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ  کی ۔ سونے کی دو جنتیں مقربین کے لئے اور چاندی کی دو جنتیں یمین کے لئے ۔

حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اس آیت کی تلاوت کی تو میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری بھی اس سے ہو گئی ہو آپ  ﷺنے پھر اسی آیت کی تلاوت کی

 میں نے پھر یہی کہا آپ ﷺ نے پھر یہی آیت پڑھی

میں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ ابو الدرداء کی ناک خاک آلود ہو جائے ۔

نسائی بعض سند سے یہ روایت موقوف بھی مروی ہے اور حضرت ابو الدرداء سے یہ بھی مروی ہے کہ جس دل میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف ہو گا ناممکن ہے کہ اس سے زنا ہو یا وہ چوری کرے

 یہ آیت عام ہے انسانوں اور جنات دونوں کو شامل ہے اور اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ جنوں میں بھی جو ایمان لائیں اور تقویٰ کریں وہ جنت میں جائیں گے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۴۷)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

اسی لئے جن وانس کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے ؟

 پھر ان دونوں جنتوں کے اوصاف بیان فرماتا ہے

ذَوَاتَا أَفْنَانٍ  (۴۸)

(دونوں جنتیں) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں  

یہ نہایت ہی سرسبز و شاداب ہیں بہترین اعلیٰ خوش ذائقہ عمدہ اور تیار پھل ہر قسم کے ان میں موجود ہیں ۔

أَفْنَان شاخوں اور ڈالیوں کو کہتے ہیں یہ اپنی کثرت سے ایک دوسری سے ملی جلی ہوئی ہوں گی اور سایہ دار ہوں گی جن کا سایہ دیواروں پر بھی چڑھا ہوا ہو گا ،

عکرمہ ؒیہی معنی بیان کرتے ہیں اور عربی کے شعر کو اس پر دلیل میں وارد کرتے ہیں

یہ شاخیں سیدھی اور پھیلی ہوئی رنگ برنگ کی ہوں گی ۔

یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان میں طرح طرح کے میوے ہوں گے کشادہ اور گھنے سایہ والی ہوں گی ۔

 یہ تمام اقوال صحیح ہیں اور ان میں کوئی منافاۃ نہیں یہ تمام اوصاف ان شاخوں میں ہوں گے

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

 اس کی شاخوں کا سایہ اس قدر دراز ہے کہ سوار سو سال تک اس میں چلا جائے ۔

 یا فرمایا کہ سو سوار اس کے تلے سایہ حاصل کرلیں ۔

 سونے کی ٹڈیاں اس پر چھائی ہوئی تھیں اس کے پھل بڑے بڑے منکوں اور بڑی گول جتنے تھے  (ترمذی)

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۴۹)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

 تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اپنے پروردگار کی کسی نعمت کا انکار کرو ۔

فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ  (۵۰)

ان دونوں (جنتوں) میں دو بہتے ہوئے چشمے ہیں  

پھر ان میں نہریں بہہ رہی ہیں تاکہ ان درختوں اور شاخوں کو سیراب کرتی رہیں اور بکثرت اور عمدہ پھل لائیں۔

ایک کا نام تسنیم ہے دوسری کا سلسبیل ہے یہ دونوں نہریں پوری روانی کے ساتھ بہہ رہی ہیں ۔ ایک ستھرے پانی کی دوسری لذت والے بےنشے کے شراب کی

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۵۱)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

اب تو تمہیں اپنے رب کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے

فِيهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجَانِ  (۵۲)

ان دونوں جنتوں میں ہر قسم کے میوؤں کی دو قسمیں ہونگی  

ان میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے بھی موجود ہیں اور پھل بھی وہ جن سے تم صورت شناس تو ہو لیکن لذت شناس نہیں ہو کیونکہ وہاں کی نعمتیں کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں نہ کسی دماغ میں آسکتی ہیں

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۵۳)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

 تمہیں رب کی نعمتوں کی ناشکری سے رک جانا چاہیے ۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 دنیا میں جتنے بھی کڑوے میٹھے پھل ہیں وہ سب جنت میں ہوں گے یہاں تک کہ حنظل یعنی اندرائن بھی ۔ ہاں دنیا کی ان چیزوں اور جنت کی ان چیزوں کے نام تو ملتے جلتے ہیں حقیقت اور لذت بالکل ہی جدا گانہ ہے یہاں تو صرف نام ہیں اصلیت تو جنت میں ہے اس فضیلت کا فرق وہاں جانے کے بعد ہی معلوم ہو سکتا ہے ۔

مُتَّكِئِينَ عَلَى فُرُشٍ بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ

جنتی ایسے فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہونگے جن کے استر و بیز ریشم کے ہونگے

جنتی لوگ بےفکری سے تکئے لگائے ہوئے ہوں گے خواہ لیٹے ہوئے ہوں خواہ باآرام بیٹھے ہوئے تکیہ سے لگے ہوئے ہوں ان کے بچھاؤنے بھی اتنے بڑھیا ہوں گے کہ ان کے اندر کا استر بھی دبیز اور خالص زرین ریشم کا ہو گا پھر اوپر کا ابرا کچھ ایسا ہو گا اسے تم آپ سوچ لو ۔

 مالک بن دینارؒ اور سفیان ثوریؒ فرماتے ہیں استر کا یہ حال ہے اور ابرا تو محض نورانی ہو گا جو سراسر اظہار رحمت و نور ہو گا ۔ پھر اس پر بہترین گلکاریاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا

وَجَنَى الْجَنَّتَيْنِ دَانٍ  (۵۴)

اور دونوں جنتوں کے میوے بالکل قریب ہونگے

ان جنتوں کے پھل جنتیوں سے بالکل قریب ہیں ۔ جب چاہیں جس حال میں چاہیں وہاں سے لے لیں لیٹے ہوں تو بیٹھا ہونے کی اور بیٹھے ہوں تو کھڑا ہونے کی ضرورت نہیں خودبخود شاخیں جھوم جھوم کر جھکتی رہتی ہیں ۔

جیسے فرمایا :

قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ (۶۹:۲۳)

جس کے میوے جھکے پڑے ہونگے

اور فرمایا :

وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَـلُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلاً (۷۶:۱۴)

ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہونگے  اور انکے میوے اور گچھے نیچے لٹکے ہوئے ہونگے

یعنی بیحد قریب میوے ہیں لینے والے کو کوئی تکلیف یا تکلف کی ضرورت نہیں خود شاخیں جھک جھک کر انہیں میوے دے رہی ہیں

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۵۵)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

پس تم اپنے رب کی نعمتوں کے انکار سے باز رہو ۔

فِيهِنَّ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ  (۵۶)

وہاں (شرمیلی) نیچی نگاہ والی حوریں ہیں جنہیں ان سے پہلے کسی جن و انس نے ہاتھ نہیں لگایا  

چونکہ فروش کا بیان ہوا تھا تو ساتھ ہی فرمایا کہ ان فروش پر ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہوں گی ،

جو عفیفہ ، پاکدامن ، شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی اپنے خاوندوں کے سوا کسی پر نظریں نہ ڈالیں گے اور ان کے خاوند بھی ان پر سو جان سے مائل ہوں گے ۔ یہ بھی جنت کی کسی چیز کو اپنے ان مؤمن خاوندوں سے بہتر نہ پائیں گی۔

 یہ بھی وارد ہوا ہے کہ یہ حوریں اپنے خاوندوں سے کہیں گی اللہ کی قسم ساری جنت میں میرے لئے تم سے بہتر کوئی چیز نہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ میرے دل میں جنت کی کسی چیز کی خواہش و محبت اتنی نہیں جتنی آپ کی ہے ، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے آپ کو میرے حصے میں کر دیا اور مجھے آپ کی خدمت کا شرف بخشا ۔

 یہ حوریں کنواری اچھوتی نوجوان ہوں گی ان جنتیوں سے پہلے ان کے پاک جسم کو کسی انس و جن کا ہاتھ بھی نہ لگا ۔

یہ آیت بھی مؤمن جنوں کے جنت میں جانے کی دلیل ہے ۔

 حضرت ضمرہ بن حبیب سے سوال ہوتا ہے کہ کیا مؤمن جن بھی جنت میں جائیں گے ؟

 آپ نے فرمایا ہاں اور جنیہ عورتوں سے ان کے نکاح ہوں گے جیسے انسان کے انسان عورتوں سے ۔ پھر یہی آیتیں تلاوت کیں

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۵۷)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ  (۵۸)

وہ حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی  

پھر ان حوروں کی تعریف بیان ہو رہی ہے کہ وہ اپنی صفائی خوبی اور حسن میں ایسی ہیں جیسے یاقوت و مرجان ، یاقوت سے صفائی میں تشبیہ دی اور مرجان سے بیاض میں پس مرجان سے مراد یہاں لؤلؤ ہے ۔

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اہل جنت کی بیویوں میں سے ہر ایک ایسی ہے کہ ان کی پنڈلی کی سفیدی ستر ستر حلوں کے پہننے کے بعد بھی نظر آتی ہے یہاں تک کہ اندر کا گودا بھی

آپ ﷺنے آیت كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ  پڑھی اور فرمایا :

دیکھو یاقوت ایک پتھر ہے لیکن قدرت نے اسکی صفائی اور جوت ایسی رکھی ہے کہ اسکے بیچ میں دھاگہ پرو دو تو باہر سے نظر آتا ہے (ابن ابی حاتم )

یہ روایت ترمذی میں بھی موقوفاً حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے اور امام ترمذی اس کو زیادہ صحیح بتاتے ہیں ۔

مسند احمد میں ہے پیغمبر مدنی احمد مجتبیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر اہل جنت کی دو بیویاں اس صفت کی ہوں گی کہ ستر ستر حلے پہن لینے کے بعد بھی ان کی پنڈلیوں کی جھلک نمودار رہے گی بلکہ اندر کا گودا بھی بوجہ صفائی کے دکھائی دے گا

صحیح مسلم میں ہے کہ یا تو فخر کے طور پر یا مذاکرہ کے طور پر یہ بحث چھڑ گئی کہ جنت میں عورتیں زیادہ ہوں گی یا مرد ؟

 تو حضرت ابوہریرہ ؓنے فرمایا :

کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا  کہ پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی وہ چاند جیسی صورتوں والی ہو گی ان کے پیچھے جو جماعت جائے گی وہ آسمان کے بہترین چمکیلے تاروں جیسے چہروں والی ہوگی۔ ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کی پنڈلی کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا اور جنت میں کوئی بغیر بیوی کے نہ ہو گا ۔

 اس حدیث کی اصل بخاری میں بھی ہے

 مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ کی راہ کی صبح اور شام ساری دنیا سے اور جو اس میں ہے سب سے بہتر ہے ۔ جنت میں جو جگہ ملے گی اس میں ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر کی جگہ ساری دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے افضل ہے اگر جنت کی عورتوں میں سے ایک عورت دنیا میں جھانک لے تو زمین و آسمان کو جگمگا دے اور خوشبو سے تمام عالم مہک اٹھے ۔ ان کی ہلکی سی چھوٹی دو پٹیا بھی دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے گراں ہے

صحیح بخاری میں یہ حدیث بھی ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۵۹)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ  (۶۰)

احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے  

ارشاد ہے کہ جس نے دنیا میں نیکی کی اس کا بدلہ آخرت میں سلوک و احسان کے سوا اور کچھ نہیں جیسے ارشاد ہے:

لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواْ الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ (۱۰:۲۶)

نیکی کرنے والے کے لئے نیکی ہے اور زیادتی

 یعنی جنت اور دیدار باری ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر کے اپنے اصحاب سے پوچھا جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا ؟

 انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی علم ہے

 آپ ﷺنے فرمایا:

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں جس پر اپنی توحید کا انعام دنیا میں کروں اس کا بدلہ آخرت میں جنت ہے اور چونکہ یہ بھی ایک عظیم الشان نعمت ہے جو دراصل کسی عمل کے بدلے نہیں بلکہ صرف اسی کا احسان اور فضل و کرم ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۶۱)

پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

  اس لئے اس کے بعد ہی فرمایا اب تم میری کس کس نعمت سے لاپرواہی برتو گے ؟

رب کے مقام سے ڈرنے والے کی بشارت کے متعلق ترمذی شریف کی یہ حدیث بھی خیال میں رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جو ڈرے گا وہ رات کے وقت ہی کوچ کرے گا اور جو اندھیری رات میں چل پڑا وہ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا خبردار ہو جاؤ اللہ کا سودا بہت گراں ہے یاد رکھو وہ سودا جنت ہے

 امام ترمذی اس حدیث کو غریب بتاتے ہیں

حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے منبر پر وعظ بیان فرماتے ہوئے سنا کہا آپ نے آیت وَلِمَنْ خَافَ پڑھی تو میں نے کہا اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو ؟

باقی حدیث اوپر گزر چکی ۔

وَمِنْ دُونِهِمَا جَنَّتَانِ  (۶۲)

اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں ۔‏

یہ دونوں جنتیں ہیں جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان جنتوں سے کم مرتبہ ہیں جن کا ذکر پہلے گزرا اور وہ حدیث بھی بیان ہو چکی جس میں ہے دو جنتیں سونے کی اور دو چاندی کی ۔ پہلی دو تو مقربین خاص کی جگہ ہیں اور یہ دوسری دو اصحاب یمین کی

الغرض درجے اور فضیلت میں یہ دو ان دو سے کم ہیں جس کی دلیلیں بہت سی ہیں

-         ایک یہ کہ ان کا ذکر اور صف ان سے پہلے بیان ہوئی اور یہ تقدیم بیان بھی دلیل ہے ان کی فضیلت کی ،

-         پھر یہاں وَمِنْ دُونِهِمَا فرمانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان سے کم مرتبہ ہیں وہاں ان کی تعریف میں ذَوَاتَا أَفْنَانٍ  یعنی بکثرت مختلف مزے کے میوؤں والی شاخ دار۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۶۳)

پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

مُدْهَامَّتَانِ  (۶۴)

جو دونوں گہری سبز سیاہی مائل ہیں ۔‏

یہاں فرمایا مُدْهَامَّتَانِ یعنی پانی کی پوری تری سے سیاہ

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں سبز،

 محمد بن کعبؒ فرماتے ہیں سبزی سے پُر،

 قتادہؓ فرماتے ہیں اس قدر پھل پکے ہوئے تیار ہیں کہ وہ ساری جنت سرسبز معلوم ہو رہی ہے

الغرض وہاں شاخوں کی پھیلاوٹ بیان ہوئی یہاں درختوں کی کثرت بیان فرمائی گئی تو ظاہر ہے کہ اس میں اور اس میں بھی بہت فرق ہے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۶۵)

پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ  (۶۶)

ان میں دو (جوش سے) ابلنے والے چشمے ہیں  

ان کی نہروں کی بابت لفظ آیت تَجْرِيَانِ  ہے اور یہاں لفظ نَضَّاخَتَانِ  ہے یعنی ابلنے والی اور یہ ظاہر ہے کہ نضخ سے جری یعنی ابلنے سے بہنا بہت برتری والا ہے

 حضرت ضحاک فرماتے ہیں یعنی پُر ہیں پانی رکتا نہیں

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۶۷)

پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

فِيهِمَا فَاكِهَةٌ وَنَخْلٌ وَرُمَّانٌ  (۶۸)

ان دونوں میں میوے اور کھجور اور انار ہوں گے  

اور لیجئے وہاں فرمایا تھا کہ ہر قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں اور یہاں فرمایا اس میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں تو ظاہر ہے کہ پہلے کے الفاظ عمومیت کے لئے ہوئے ہیں وہ قسم کے اعتبار سے اور کمیت کے اعتبار سے بھی اس سے افضلیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ فَاكِهَة گو نکرہ ہے لیکن سیاق میں اثبات کے ہے اس لئے عام نہ ہو گا اسی لئے بطور تفسیر کے بعد میں نَخْلٌ وَرُمَّانٌ  کہہ دیا ۔ جیسے عطف خاص عام پر ہوتا ہے

 امام بخاریؒ کی تحقیق بھی یہی ہے

 کھجور اور انار کو خاص کر اس لئے ذکر کیا کہ اور میوؤں پر انہیں شرف ہے ۔

 مسند عبد بن حمید میں ہے:

 یہودیوں نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا جنت میں میوے ہیں ؟

 آپ ﷺنے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا ہاں ہیں

 انہوں نے پوچھا کیا جنتی دنیا کی طرح وہاں بھی کھائیں پئیں گے؟

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں بلکہ بہت کچھ زیادہ اور بہت کچھ زیادہ

 انہوں نے کہا پھر وہاں فضلہ بھی نکلے گا ؟

 آپ ﷺنے فرمایا نہیں نہیں بلکہ پسینہ آ کر سب ہضم ہو جائے گا

 ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے:

 جنتی کھجور کے درختوں کے ریش کا جنتیوں کا لباس بنائیں گے ۔ یہ سرخ رنگ سونے کے ہوں گے اس کے تنے سبز زمرد میں ہوں گے اس کے پھل شہد سے زیادہ میٹھے اور مکھن سے زیادہ نرم ہوں گے گھٹلی بالکل نہ ہو گی ۔

 ایک اور حدیث میں ہے:

 میں نے جنت کے انار دیکھے اتنے بڑے تھے جیسے اونٹ مع ہودج ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۶۹)

پس اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ  (۷۰)

ان میں نیک سیرت خوبصورت عورتیں ہیں  

خَيْرَاتٌ کے معنی بکثرت اور بہت حسین نہایت نیک خلق اور بہتر خلق

 ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ معنی مروی ہے

 ایک اور حدیث میں ہے:

 حور عین جو گانا گائیں گی ان میں یہ بھی ہو گا ہم خوش خلق خوبصورت ہیں جو بزرگ خاوندوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں

یہ پوری حدیث سورہ واقعہ کی تفسیر میں ابھی آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۷۱)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

پھر سوال ہوتا ہے کہ اب تم اپنے رب کی کس کس نعمت کی تکذیب کرتے ہو ؟

حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ  (۷۲)

(گوری رنگت کی) حوریں جنتی خیموں میں رہنے والیاں ہیں  

حوریں ہیں جو خیموں میں رہتی سہتی ہیں

 یہاں بھی وہی فرق ملاحظہ ہو کہ وہاں تو فرمایا تھا کہ خود وہ حوریں اپنی نگاہ نیچی رکھتی ہیں اور یہاں فرمایا ان کی نگاہیں نیچی کی گئی ہیں ، پس اپنے آپ ایک کام کرنا اور دوسرے سے کرایا جانا ان دونوں میں کس قدر فرق ہے گو پردہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے ،

 حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

 ہر مسلمان کے لئے خیرہ یعنی نیک اور بہترین نورانی حور اور ہر خیرہ کے لئے خیمہ ہے اور خیمہ کے چار دروازے ہیں جن میں سے ہر روز تحفہ کرامت ہدیہ اور انعام آتا رہتا ہے ۔ نہ وہاں کوئی فساد ہے نہ سختی نہ گندگی نہ بدبو ۔ حوروں کی صحبت ہے جو اچھوتے صاف سفید چمکیلے موتیوں جیسی ہیں ۔

 صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جنت میں ایک خیمہ ہے در مجوف ، جس کا عرض ساٹھ میل کا ہے اس کے ہر ہر کونے میں جنتی کی بیویاں ہیں جو دوسرے کونے والیوں کو نظر نہیں آتیں مؤمن ان سب کے پاس آتا جاتا رہے گا ۔

دوسری روایت میں چوڑائی کا تیس میل ہونا مروی ہے

 یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے

حضرت ابودرداءؓ فرماتے ہیں خیمہ ایک ہی لؤلؤ کا ہے جس میں ستر دروازے موتی کے ہیں

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں:

 جنت میں ایک خیمہ ہو گا جو ایک موتی کا بنا ہوا ہو گا چار فرسخ چوڑا جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور چوکھٹیں سب کی سونے کی ہوں گی

 ایک مرفوع حدیث میں ہے:

 ادنیٰ درجے کے جنتی کے اسی ہزار خادم ہوں گے اور بہتر بیویاں ہوں گی اور لؤلؤ زبرجد کا محل ہو گا جو جابیہ سے صنعاء تک پہنچے

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۷۳)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَانٌّ  (۷۴)

ان کو ہاتھ نہیں لگایا کسی انسان یا جن نے اس سے قبل۔‏

پھر فرماتا ہےان بےمثل حسینوں کے پنڈے اچھوتے ہیں کسی جن و انس کا گزر ان کے پاس سے نہیں ہوا ۔ پہلے بھی اس قسم کی آیت مع تفسیر گزر چکی ہے ہاں پہلی جنتوں کی حوروں کے اوصاف میں اتنا جملہ وہاں تھا کہ وہ یاقوت و مرجان جیسی ہیں یہاں انکے لئے یہ نہیں فرمایا گیا

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۷۵)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

پھر سوال ہوا کہ تمہیں رب کی کس کس نعمت کا انکار ہے ؟  یعنی کسی نعمت کا انکار نہ کرنا چاہیے

مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ  (۷۶)

سبز مسندوں اور عمدہ فرشوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے  

یہ جنتی سبز رنگ اعلیٰ قیمتی فرشوں غالیچوں اور تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہوں گے تخت ہوں گے اور تختوں پر پاکیزہ اعلیٰ فرش ہوں گے اور بہترین منقش تکئے لگے ہوئے ہوں گے یہ تخت یہ فرش یہ تکئے جنت کے باغیچوں اور ان کی کیاریوں پر ہوں گے اور یہی ان کے فرش ہوں گے کوئی سرخ رنگ ہو گا کوئی زرد رنگ اور کوئی سبز رنگ جنتیوں کے کپڑے بھی ایسے ہی اعلیٰ اور بالا ہوں گے دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے انہیں تشبیہ دی جاسکے یہ بسترے مخملی ہوں گے جو بہت نرم اور بالکل خالص ہوں گے کئی کئی رنگ کے ملے جلے نقش ان میں بنے ہوئے ہوں گے

 ابو عبیدہ فرماتے ہیں عبقرہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں منقش بہترین کپڑے بنے جاتے تھے ،

خلیل بن احمد فرماتے ہیں ہر نفیس اور اعلیٰ چیز کو عرب عَبْقَرِي کہتے ہیں چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب کی نسبت فرمایا:

 میں نے کسی عبقری کو نہیں دیکھا جو عمر کی طرح پانی کے بڑے بڑے ڈول کھینچتا ہو

یہاں یہ بھی خیال فرمائیے کہ پہلی دو جنتوں کے فرش و فروش اور وہاں کے تکیوں کی جو صفت بیان کی گئی ہے وہ ان سے اعلیٰ ہے وہاں بیان فرمایا گیا تھا کہ ان کے استر یعنی اندر کا کپڑا خالص دبیز ریشم ہو گا پھر اوپر کے کپڑے کا بیان نہیں ہوا تھا اس لئے کہ جس کا استر اتنا اعلیٰ ہے اس کے ابرے یعنی اوپر کے کپڑے کا تو کہنا ہی کیا ہے ؟

 پھر اگلی دو جنتوں کے اوصاف میں احسان کو بیان فرمایا جو اعلیٰ مرتبہ اور غایت ہے جیسے کہ حضرت جبرائیل والی حدیث میں ہے کہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے پھر احسان کے بارے میں

پس یہ کئی کئی وجوہ ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کہ دو جنتوں کو ان دو جنتوں پر بہترین فضیلت حاصل ہے

 اللہ تعالیٰ کریم و وہاب سے ہمارا سوال ہے کہ وہ ہمیں بھی ان جنتیوں میں سے کرے جو ان دو جنتوں میں ہوں گے جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے ہیں ۔ آمین

فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ  (۷۷)

پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے؟‏

تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ  (۷۸)

تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے جو عزت و جلال والا ہے۔‏

پھر فرماتا ہے تیرے رب ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ  کا نام بابرکت ہے وہ جلال والا ہے یعنی اس لائق ہے کہ اس کا جلال مانا جائے اور اس کی بزرگی کا پاس کر کے اس کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ کامل اطاعت گزاری کی جائے اور وہ اس قابل ہے کہ اس کا اکرام کیا جائے یعنی اس کی عبادت کی جائے اس کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اسے بھلایا نہ جائے ۔ وہ عظمت اور کبریائی والا ہے ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ کا اجلال کرو اس کی عظمت کو مانو وہ تمہیں بخش دے گا  (احمد)

ایک اور حدیث میں ہے:

 اللہ تعالیٰ کی عظمت ماننے میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان کی اور بادشاہ کی اور عامل قرآن جو قرآن میں کمی زیادتی نہ کرتا ہو یعنی نہ اس میں غلو کرتا ہو نہ کمی کرتا ہو عزت کی جائے ۔

 ابو یعلیٰ میں ہے  یا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ  کے ساتھ چمٹ جاؤ

ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے امام ترمذی اس کی سند کو غیر محفوظ اور غریب بتاتے ہیں

صحیح مسلم اور سنن اربعہ میں حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی ہی دیر بیٹھتے تھے کہ یہ کلمات کہہ لیں

اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com