تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الواقعہ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (۱)‏

جب قیاُمت قائم ہو جائے گی

الْوَاقِعَةُ قیاُمت کا نام ہے کیونکہ اس کا ہونا یقینی امر ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے :

فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (۶۹:۱۵)

اس دن ہوپڑنے والی قیاُمت ہو  پڑے گی،

لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ (۲)‏

جس کے واقع ہونے میں کوئی جھوٹ نہیں۔‏

اس کا واقعہ ہونا حتمی امر ہے، نہ اسے کوئی ٹال سکے نہ ہٹا سکے وہ اپنے مقررہ وقت پر آ کر ہی رہے گی،

جیسے اور آیت میں ہے:

اسْتَجِيبُواْ لِرَبِّكُمْ مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ (۴۲:۲۷)

اپنے پروردگار کی باتیں مان لو اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں

 اور جگہ فرمایا :

سَأَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ـ لِّلْكَـفِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ  (۷۰:۱،۲)

سائل کا سوال اس کے متعلق ہے جو یقیناً آنے والا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔

 اور آیت میں ہے:

وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِى الصُّوَرِ عَـلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَـدَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (۶:۷۳)

جس وقت اللہ تعالیٰ اتنا کہہ دے گا تو ہوجا وہ ہو پڑے گا۔ اس کا کہنا حق اور با اثر ہے اور ساری حکومت خاص اس کی ہوگی جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی  وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت والا پوری خبر رکھنے والا۔‏

قیاُمت کاذبہ نہیں یعنی برحق ہے ضرور ہونے والی ہے اس دن نہ تو دوبارہ آنا ہے نہ وہاں سے لوٹنا ہے نہ واپس آنا ہے ۔

کاذبہ مصدر ہے جیسے عاقبۃ اور عافیہ

خَافِضَةٌ رَافِعَةٌ (۳)‏

وہ پست کرنے والی اور بلند کرنے والی ہوگی

وہ دن پست کرنے والا اور ترقی دینے والا ہے، بہت لوگوں کو پست کر کے جہنم میں پہنچا دے گا جو دنیا میں بڑے ذی عزت و وقعت تھے اور بہت سے لوگوں کو وہ اونچا کر دے گا اعلیٰ علین ہو کر جنتی ہو جائیں گے،

 متکبرین کو وہ ذلیل کر دے گی اور متواضعین کو وہ عزیز کر دے

وہی نزدیک و دور والوں کو سنا دے گی اور ہر اک کو چوکنا کر دے گی وہ نیچا کرے گی اور قریب والوں کو سنائے گی

إِذَا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا (۴)‏

جبکہ زمین زلزلہ کے ساتھ ہلا دی جائے گی۔‏

پھر اونچی ہو گی اور دور والوں کو سنائے گی، زمین ساری کی ساری لرزنے لگے گی، چپہ چپہ کپکپانے لگے گا طور و عرج زمین میں زلزلہ پڑ جائے گا، اور بےطرح ہلنے لگے گی ، یہ حالت ہو جائے گی کہ گویا چھلنی میں کوئی چیز ہے جسے کوئی ہلا رہا ہے اور آیت میں ہے :

إِذَا زُلْزِلَتِ الاٌّرْضُ زِلْزَالَهَا  (۹۹:۱)

جب زمین پوری طرح جھنجھوڑ دی جائے گی

اور جگہ ہے :

يأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَىْءٌ عَظِيمٌ  (۲۲:۱)

لوگو اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے یقین مانو کہ قیاُمت کا زلزلہ بہت بری چیز ہے ۔

وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا  (۵)‏

اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ کر دیئے جائیں گے ۔‏

فَكَانَتْ هَبَاءً مُنْبَثًّا (۶)‏

پھر وہ مثل پراگندہ غبار کے ہوجائیں گے۔‏

پھر فرمایا کہ پہاڑ اس دن ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور جگہ الفاظ كَثِيبًا مَهِيلًا (۷۳:۱۴)  آئے ہیں، پس وہ مثل غبار پریشان کے ہو جائیں گے جسے ہوا ادھر ادھر بکھیر دے اور کچھ نہ رہے

هَبَاءً ان شراروں کو بھی کہتے ہیں جو آگ جلاتے وقت پتنگوں کی طرح اڑتے ہیں، نیچے گرنے پر وہ کچھ نہیں رہتے ۔

مُنْبَث اس چیز کو کہتے ہیں جسے ہوا اوپر کر دے اور پھیلا کر نابود کر دے جیسے خشک پتوں کے چورے کو ہوا ادھر سے ادھر کر دیتی ہے ۔

 اس قسم کی اور آیتیں بھی بہت سی ہیں جن سے ثابت ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ ٹل جائیں گے ٹکڑے ہو جائیں گے پھر ریزہ ریزہ ہو کر بےنام و نشان ہو جائیں گے۔

وَكُنْتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (۷)‏

اور تم تین جماعتوں میں ہو جاؤ گے۔‏

لوگ اس دن تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے۔

فَأَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ (۸)‏

پس داہنے ہاتھ والے کیسے اچھے ہیں

ایک جماعت عرش کے دائیں ہو گی اور یہ لوگ وہ ہوں گے جو حضرت آدمؑ کی دائیں کروٹ سے نکلے تھے نامہ اعمال داہنے ہاتھ دیئے جائیں گے اور دائیں جانب چلائے جائیں گے، یہ جنتیوں کا عام گروہ ہے۔

وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ (۹)‏

اور بائیں ہاتھ والوں کا کیا حال ہے بائیں ہاتھ والوں کا

دوسری جماعت عرش کے بائیں جانب ہو گی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضرت آدم ؑکی بائیں کروٹ سے نکالے گئے تھے انہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے تھے اور بائیں طرف کی راہ پر لگائے گئے تھے ۔ یہ سب جہنمی ہیں،

اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ  (۱۰)‏

اور جو آگے والے ہیں وہ تو آگے والے ہیں

تیسری جماعت اللہ عزوجل کے سامنے ہوگی یہ خاص الخاص لوگ ہیں یہ اصحاب یمین سے بھی زیادہ باوقعت اور خاص قرب کے مالک ہیں ۔

یہ اہل جنت کے سردار ہیں ان میں رسول ہیں انبیاء ہیں صدیق و شہداء ہیں۔ یہ تعداد میں بہت دائیں ہاتھ والوں کی نسبت کم ہیں ۔

 پس تمام اہل محشر یہ تین قسمیں ہو جائیں گی جیسے کہ اس سورت کے آخر میں بھی اختصار کے ساتھ ان کی یہی تقسیم کی گئی ہے ۔ اسی طرح سورۃ فاطر  میں فرمایا ہے :

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَـبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَـلِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَتِ بِإِذُنِ اللَّهِ (۳۵:۳۲)

پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث اپنا چیدہ بندوں کو بنایا پس ان میں سے بعض تو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ روش ہیں اور بعض اللہ کے حکم سے نیکیوں کی طرف آگے بڑھنے والے ہیں ۔

 پس یہاں بھی تین قسمیں ہیں یہ اس وقت جبکہ ظَـلِمٌ لِّنَفْسِهِ (۳۵:۳۲) ٖ کی وہ تفسیر لیں جو اس کے مطابق ہے، ورنہ ایک دوسرا قول بھی ہے جو اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر گزر چکا ۔

حضرت ابن عباس ؓ بھی یہی فرماتے ہیں۔ دو گروہ تو جنتی اور ایک جہنمی ۔

 ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آیت وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ (۸۱:۷)  جب لوگوں کے جوڑے ملائے جائیں فرمایا قسم قسم کی

یعنی ہر عمل کے عامل کی ایک جماعت جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تین قسم پر ہو جاؤ گے ،

-        یعنی اصحاب یمین

-        اصحاب شمال

-         اور سابقین ۔

 مسند احمد میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیا بند کر لیں اور فرمایا :

یہ جنتی ہیں مجھے کوئی پرواہ نہیں یہ سب جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں،

مسند احمد میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانتے ہو اللہ تعالیٰ کے سائے کی طرف قیاُمت کے دن سب سے پہلے کون لوگ جائیں گے ؟

 انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ اور رسول خوب جانتے ہیں

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ جو جب اپنا حق دیئے جائیں قبول تو کر لیں اور جو حق ان پر ہو جب مانگا جائے ادا کر دیں اور لوگوں کے لئے بھی وہی حکم کریں جو خود اپنے لئے کرتے ہیں ۔

 سابقون کون لوگ ہیں؟

 اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں، مثلاً

-        انبیاء

-         اہل علین

-        حضرت یوشع بن نون جو حضرت موسیٰ پر سب سے پہلے ایمان لائے تھے

-         وہ مؤمن جن کا ذکر سوۃ یٰسین میں ہے

-        جو حضرت عیسیٰ پر پہلے ایمان لائے تھے،

-        حضرت علی ؓبن ابی طالب جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سبقت کر گئے تھے،

-         وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی،

-        ہر اُمت کے وہ لوگ جو اپنے اپنے نبیوں پر پہلے پہل ایمان لائے تھے،

-         وہ لوگ جو مسجد میں سب سے پہلے جاتے ہیں،

-         جو جہاد میں سب سے آگے نکلتے ہیں۔

 یہ سب اقوال دراصل صحیح ہیں یعنی یہ سب لوگ سابقون ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کو آگے بڑھ کر دوسروں پر سبقت کر کے قبول کرنے والے سب اس میں داخل ہیں، قرآن کریم میں اور جگہ ہے :

وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ (۳:۱۳۳)

اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جلدی کرو جس کا عرض مثل آسمان و زمین کے ہے،

پس جس شخص نے اس دنیا میں نیکیوں کی طرف سبقت کی وہ آخرت میں اللہ کی نعمتوں کی طرف بھی سابق ہی رہے گا، ہر عمل کی جزا اسی جنس سے ہوتی ہے جیسا جو کرتا ہے ویسا ہی پاتا ہے، اسی لئے یہاں ان کی نسبت فرمایا گیا

أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ  (۱۱)‏‏

وہ بالکل نزدیکی حاصل کئے ہوئے ہیں۔‏

فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ  (۱۲)‏‏

نعمتوں والی جنتوں میں ہیں۔‏

 یہ مقربین اللہ ہیں یہ نعمتوں والی جنت میں ہیں۔

 ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے:

 فرشتوں نے درگاہ اللہ میں عرض کی کہ پروردگار تو نے ابن آدم کے لئے تو دنیا بنا دی ہے وہ وہاں کھاتے پیتے ہیں اور بیوی بچوں سے لطف اٹھاتے ہیں پس ہمارے لئے آخرت کر دے

جواب ملا کہ میں ایسا نہیں کروں گا

انہوں نے تین مرتبہ یہی دعا کی، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

میں نے جسے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اسے ان جیسا ہرگز نہ کروں گا جنہیں میں نے صرف لفظ کن سے پیدا کیا،

 حضرت امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس اثر کو اپنی کتاب (الرد علی الجہمیہ) میں وارد کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:

 اللہ عزوجل نے فرمایا جسے میں نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے اس کی نیک اولاد کو میں اس جیسا نہ کروں گا جیسے میں نے کہا ہو جا تو وہ ہو گیا۔

ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ  (۱۳)‏‏

(بہت بڑا) گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا۔‏

وَقَلِيلٌ مِنَ الْآخِرِينَ   (۱۴)‏‏

اور تھوڑے سے پچھلے لوگوں میں سے

ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں، مثلاً اگلی اُمتوں میں سے اور اس اُمت میں سے ،

 امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا :

ہم پچھلے ہیں اور قیاُمت کے دن پہلے ہیں

 اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری۔ پس یہ آیت اتری ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ ـ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ (۵۶:۳۹،۴۰) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام اُمتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو ۔

یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے۔

 ابن عساکر میں ہے:

 حضرت عمر ؓنے اس آیت کو سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اگلی اُمتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟

 اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت

حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓکو بلا کر کہا سنو :

حضرت آدمؑ سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری اُمت ثلہ ہے، ہم اپنے (ثلہ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔

لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے،

 ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے :

 مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک ۔

 پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے۔

 امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس اُمت کا اور تمام اُمتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور اُمتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین اُمت میں سے کم ہوں، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام اُمتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک اُمت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں ، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل اُمتوں کے مقربین سے صرف اس ایک اُمت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں ، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل اُمتوں کے مقربین سے صرف اس اُمت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ آگے اللہ کو علم ہے۔

 دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس اُمت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم ۔ یہی قول رائج ہے۔

 چنانچہ حضرت حسنؒ سے مروی ہے:

 آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گزر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اس اُمت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے۔

 امام ابن سیرینؒ بھی یہی فرماتے ہیں،

کوئی شک نہیں کہ ہر اُمت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر اُمت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر اُمت کے پچھلے لوگوں کے، چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ، الخ ۔

ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا :

میری اُمت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ،

تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ایک جماعت میری اُمت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیاُمت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں ۔

 الغرض یہ اُمت باقی تمام اُمتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الہیہ بہ نسبت اور اُمتوں کے بہت ہیں، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں ۔

 تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اس اُمت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے،

طبرانی میں ہے:

 اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیاُمت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بڑی اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔

 مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بڑی جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابوبکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے:

 رسول اللہ لی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے

سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً

پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟

ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک خواب دیکھا ہے،

فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، اپنا خواب بیان کرو ۔

میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دیکھا:

 ایک راستہ ہے کشادہ، آسان ، نرم، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سر سبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر لیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے ۔

 پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گزرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے

میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں

پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں ، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

 ان سے آ گے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں،

یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ ﷺنے فرمایا :

-        سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو،

-        ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گزر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی،

-        پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے،

-        پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی فانا للہ وانا الیہ راجعون۔

-        اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی،

جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ

-         دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں

-        میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے

-        اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں

-         اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں

-        اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری اُمت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا، نہ میری اُمت کے بعد کوئی اُمت ہے۔

فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے ۔

عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ   (۱۵)‏‏

یہ لوگ سونے کی تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر۔‏

ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے۔

مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ  (۱۶)‏‏

ایک دوسرے کے سامنے تکیہ لگائے بیٹھے ہونگے۔‏

 سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا ،

يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ   (۱۷)‏‏

ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ (لڑکے ہی)  رہیں گے آمد و رفت کریں گے۔‏

وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے۔

بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ   (۱۸)‏‏

آبخورے اور جگ لے کر اور ایسا جام لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے پر ہو۔‏

أَكْوَاب کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو

أَبَارِيقَ وہ آفتابے جو ٹونٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں۔

یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے۔

لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُونَ  (۱۹)‏‏

جس سے نہ سر میں درد ہو نہ عقل میں فطور آئے

اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی۔

 شراب میں چار صفتیں ہیں

-        نشہ

-        سر درد

-         قیے

-        پیشاب ،

 پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے ۔

وَفَاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ  (۲۰)‏‏

اور ایسے میوے لئے ہوئے جو ان کی پسند کے ہوں۔‏

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ (۲۱)‏‏

اور پرندوں کے گوشت جو انہیں مرغوب ہوں۔‏

پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائے گا،

 یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تا کہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں ،

اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے،

مسند ابو یعلی موصلی میں ہے:

 حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کون ہو؟

میں نے کہا عکراش بن ذویب

فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے

پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے؟

جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا۔

 میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا ، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ ۔

 پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو،

 پھر پانی آیا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو۔ (ترمذی اور ابن ماجہ )

امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں۔

 مسند احمد میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا ۔

 ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا

پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا ، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے

 پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے،

مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے ۔

طبرانی میں ہے :

جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا ۔

 مسند احمد میں ہے:

 جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں،

حضرت صدیقؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے،

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے ۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابوبکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے۔

حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبیٰ کا ذکر ہو پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟

 آپ نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا ۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں،

 ابوبکرؓ نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو ۔

حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے ۔

 ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں۔

حضرت عمر ؓنے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں،

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے ۔ (ترمذی )

امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا

یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں ۔

 ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے:

 جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا ۔

وَحُورٌ عِينٌ (۲۲)‏‏

اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔‏

حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے۔

 پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی

 اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے،

اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہونگے لیکن انکے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر۔ واللہ اعلم

كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ (۲۳)‏‏

جو چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔‏

یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں، جیسے سورۃ صافات میں ہے:

كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ  (۳۷:۴۹)

سورۃ الرحمٰن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گزر چکا ہے۔

جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (۲۴)‏‏

یہ صلہ ہے ان کے اعمال کا۔‏

یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے۔

لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا تَأْثِيمًا (۲۵)‏‏

نہ وہاں بکواس سنیں گے اور نہ گناہ کی بات۔‏

یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا،

جیسے اور آیت میں ہے:

لاَّ تَسْمَعُ فِيهَا لَـغِيَةً (۸۸:۱۱)

فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے۔

 نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا ۔

إِلَّا قِيلًا سَلَامًا سَلَامًا (۲۶)‏‏

صرف سلام ہی سلام کی آواز ہوگی

 ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا :

تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَـمٌ (۱۴:۲۳)

انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا۔

ان کی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی۔

وَأَصْحَابُ الْيَمِينِ مَا أَصْحَابُ الْيَمِينِ (۲۷)‏‏

اور داہنے ہاتھ والے کیا ہی اچھے ہیں داہنے ہاتھ والے

سابقین کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ اب ابرار کا حال بیان فرماتا ہے جو سابقین سے کم مرتبہ ہیں ۔ ان کا کیا حال ہے کیا نتیجہ ہے اسے سنو ،

فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ (۲۸)‏‏

وہ بغیر کانٹوں کی بیریوں۔‏

یہ ان جنتوں میں ہیں جہاں بیری کے درخت ہیں لیکن کانٹے دار نہیں ۔ اور پھل بکثرت اور بہترین ہیں دنیا میں بیری کے درخت زیادہ کانٹوں والے اور کم پھلوں والے ہوتے ہیں ۔ جنت کے یہ درخت زیادہ پھلوں والے اور بالکل بےخار ہوں گے، پھلوں کے بوجھ سے درخت کے تنے جھکے جاتے ہوں گے

حضرت ابوبر احمد بن نجار رحمۃ اللہ علیہ نے ایک روایت وارد کی ہے:

 صحابہ کہتے ہیں کہ اعرابیوں کا حضور کے سامنے آنا اور آپ سے مسائل پوچھنا ہمیں بہت نفع دیتا تھا ایک مرتبہ ایک اعرابی نے آ کر کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن میں ایک ایسے درخت کا بھی ذکر ہے جو ایذاء دیتا ،

 آپؐ نے پوچھا وہ کونسا

اس نے کہا بیری کا درخت ،

آپ ؐنے فرمایا پھر تو نے اس کے ساتھ ہی لفظ مَخْضُود نہیں پڑھا ؟

اس کے کانٹے اللہ تعالیٰ نے دور کر دیئے ہیں اور ان کے بدلے پھل پیدا کر دیئے ہیں ہر ایک بیری میں بہتر قسم کے ذائقے ہوں گے جن کا رنگ و مزہ مختلف ہوگا،

یہ روایت دوسری کتابوں میں بھی مروی ہے اس میں لفظ طَلْح ہے اور ستر ذائقوں کا بیان ہے ۔

وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ (۲۹)‏‏

اور تہہ بہ تہہ کیلوں۔‏

طَلْح ایک بڑا درخت ہے جو حجاز کی سرزمین میں ہوتا ہے، یہ کانٹے دار درخت ہے اس میں کانٹے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ابن جریر نے اس کی شہادت عربی کے ایک شعر سے بھی دی ہے ۔

مَنْضُود کے معنی تہہ بہ تہہ پھل والا ، پھل سے لدا ہوا۔

 ان دونوں کا ذکر اس لئے ہوا کہ عرب ان درختوں کی گہری اور میٹھی چھاؤں کو پسند کرتے تھے، یہ درخت بظاہر دنیوی درخت جیسا ہو گا لیکن بجائے کانٹوں کے اس میں شیریں پھل ہوں گے۔

جوہری فرماتے ہیں طَلْح بھی کہتے ہیں اور طَلْع بھی ، حضرت علیؓ سے بھی یہ مروی ہے، تو ممکن ہے کہ یہ بھی بیری کی ہی صفت ہو، یعنی وہ بیریاں بےخاسر اور بکثرت پھلدار ہیں واللہ اعلم۔

 اور حضرات نے طَلْع سے مراد کیلے کا درخت کہا ہے،

 اہل یمن کیلے کو طَلْع کہتے ہیں اور اہل حجاز موز کہتے ہیں۔

وَظِلٍّ مَمْدُودٍ (۳۰)‏‏

اور لمبے لمبے سایوں

لمبے لمبے سایوں میں یہ ہوں گے۔

 صحیح بخاری میں ہے کہ  رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جنت کے درخت کے سائے تلے تیز سوار سو سال تک چلتا رہے ۔ گا لیکن سایہ ختم نہ ہوگا۔ اگر تم چاہو اس آیت کو پڑھو ،

 مسلم میں بھی یہ روایت موجود ہے اور مسند احمد ، مسند ابو یعلی میں بھی مسند کی اور حدیث میں شک کے ساتھ ہے یعنی ستر یا سو اور یہ بھی ہے کہ یہ شجرۃ الخلد ہے، ابن جریر اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے

 پس یہ حدث متواتر اور قطعاً صحیح ہے اس کی اسناد بہت ہیں اور اس کے راوی ثقہ ہیں، ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے،

 حضرت ابوہریرہؓ نے جب یہ روایت بیان کی اور حضرت کعبؓ کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:

 اس اللہ کی قسم جس نے تورات حضرت موسیٰ پر اور قرآن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا کہ اگر کوئی شخص نوجوان اونٹنی پر سوار ہو کر اس وقت چلتا رہے جب تک وہ بڑھیا ہو کر گر جائے تو بھی اس کی انتہاء کو نہیں پہنچ سکتا ، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے اور خود آپ اس میں اپنے پاس کی روح پھونکی ہے اس کی شاخیں جنت کی دیواروں سے باہر نکلی ہوئی ہیں ۔

 ابو حصین کہتے ہیں کہ ایک موضع میں ایک دروازے پر ہم تھے ہمارے ساتھ ابو صالح اور شفیق جہنی بھی تھے اور ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ والی اوپر کی حدیث بیان کی اور کہا کیا تو ابوہریرہ کو جھٹلاتا ہے ؟

 اس نے کہا نہیں، انہیں تو نہیں تجھے جھٹلاتا ہوں۔ پس یہ قاریوں پر بہت گراں گزرا ۔

 میں کہتا ہوں اس ثابت ، صحیح اور مرفوع حدیث کو جو جھٹلائے وہ غلطی پر ہے ۔

ترمذی میں ہے جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کا ہے۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں :

جنت میں ایک درخت ہے جس کے ہر طرف سو سو سال کے راستے تک سایہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی لوگ اس کے نیچے آکر بیٹھتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں ۔ کسی کو دنیوی کھیل تماشے اور دل بہلاوے یاد آتے ہیں تو اسی وقت ایک جنتی ہوا چلتی ہے اور اس درخت میں سے تمام راگ راگنیاں باجے گاجے اور کھیل تماشوں کی آوازیں آنے لگتی ہیں،

یہ اثر غریب ہے اور اس کی سند قوی ہے۔

حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں یہ سایہ ستر ہزار سال کی طولانی میں ہوگا۔ آپ سے مرفوع حدیث میں ایک سو سال مروی ہے یہ سایہ گھٹتا ہی نہیں نہ سورج آئے نہ گرمی ستائے ، فجر کے طلوع ہونے سے پیشتر کا سماں ہر وقت اس کے نیچے رہتا ہے۔

 ابن مسعودؓ فرماتے ہیں جنت میں ہمیشہ وہ وقت رہے گا جو صبح صادق کے بعد سے لے کر آفتاب کے طلوع ہونے کے درمیان درمیان رہتا ہے

سایہ کے مضمون کی روایتیں بھی اس سے پہلے گزر چکی ہیں، جیسے :

وَنُدۡخِلُهُمۡ ظِلاًّ۬ ظَلِيلاً    (۴:۵۷)

أُڪُلُهَا دَآٮِٕمٌ۬ وَظِلُّهَا‌ۚ (۱۳:۳۵)

إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِى ظِلَـٰلٍ۬ وَعُيُونٍ۬  (۷۷:۴۱)

وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ (۳۱)‏‏

اور بہتے ہوئے پانیوں۔‏

پانی ہو گا بہتا ہوا مگر نہروں کے گڑھے اور کھدی ہوئی زمین نہ ہوگی ، اس کی پوری تفسیر آیت فِيہَآ أَنۡہَـٰرٌ۬ مِّن مَّآءٍ غَيۡرِ ءَاسِنٍ۬ (۴۷:۱۵) میں گزر چکی ہے ۔

وَفَاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ (۳۲)‏‏

اور بکثرت پھلوں میں۔‏

لَا مَقْطُوعَةٍ وَلَا مَمْنُوعَةٍ (۳۳)‏‏

جو نہ ختم ہوں نہ روک لئے جائیں

ان کے پاس بکثرت طرح طرح کے لذیر میوے ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی انسانی دل پر ان کا وہم و خیال گزر ا۔

جیسے اور آیت میں ہے:

كُلَّمَا رُزِقُواْ مِنْهَا مِن ثَمَرَةٍ رِّزْقاً قَالُواْ هَـذَا الَّذِى رُزِقْنَا مِن قَبْلُ وَأُتُواْ بِهِ مُتَشَـبِهاً (۲:۲۵)

جب کبھی وہ پھلوں کا رزق دیئے جائیں گے اور ہم شکل لائے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو وہی ہیں جو ہم اس سے پہلے دیئے گئے تھے

یعنی جب وہاں پھلوں سے روزی دیئے جائیں گے تو کہیں گے کہ یہ تو ہم پہلے بھی دئیے گئے تھے کیونکہ بالکل ہم شکل ہوں گے، لیکن جب کھائیں گے تو ذائقہ اور ہی پائیں گے۔

 بخاری و مسلم میں سدرۃ المنتہی ٰکے ذکر میں ہے :

 اس کے پتے مثل ہاتھی کے کانوں کے ہوں گے اور پھل مثل ہجر کے بڑے بڑے مٹکوں کے ہوں گے،

حضرت ابن عباسؓ کی اس حدیث میں جس میں آپ نے سورج کے گہن ہونے کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سورج گہن کی نماز ادا کرنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے یہ بھی ہے کہ بعد فراغت آپ کے ساتھ کے نمازیوں نے آپ سے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو اس جگہ آگے بڑھتے اور پیچھے ہٹتے دیکھا کیا بات تھی؟

آپ ﷺنے فرمایا میں نے جنت دیکھی جنت کے میوے کا خوشہ لینا چاہا اگر میں لے لیتا تو رہتی دنیا تک وہ رہتا اور تم کھاتے رہتے۔

 ابو یعلی میں ہے:

 ظہر کی فرض نماز پڑھاتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور ہم بھی پھر آپ نے گویا کوئی چیز لینی چاہی، پھر پیچھے ہٹ آئے، نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی کعبؓ نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آج تو آپ نے ایسی بات کی جو اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی،

آپ ﷺنے فرمایا:

 میرے سامنے جنت لائی گئی اور جو اس میں تروتازگی اور سبزی ہے میں نے اس میں سے ایک انگور کا خوشہ توڑنا چاہا تا کہ لا کر تمہیں دوں پس میرے اور اس کے درمیان پردہ حائل کر دیا گیا اور اگر اس میں اسے تمہارے پاس لے آتا تو زمین و آسمان کے درمیان کی مخلوق اسے کھاتی رہتی تاہم اس میں ذرا سی بھی کمی نہ آتی۔

 اسی کے مثل حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صحیح مسلم شریف میں بھی مروی ہے،

 مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی نے آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حوض کوثر کی بابت سوال کیا اور جنت کا بھی ذکر کیا پوچھا کہ کیا اس میں میوے بھی ہیں؟

 آپؐ نے فرمایا ہاں وہاں طوبیٰ نامی درخت بھی ہے؟

پھر کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں

 پھر پوچھا وہ درخت ہماری زمین کے کس درخت سے مشابہت رکھتا ہے؟

 آپ ؐنے فرمایا تیرے ملک کی زمین میں کوئی درخت اس کا ہم شکل نہیں ۔

 کیا تو شام میں گیا ہے؟

 اس نے کہا نہیں،

 فرمایا شام میں ایک درخت ہوتا ہے جسے جوزہ کہتے ہیں ایک ہی تنا ہوتا ہے اور اوپر کا حصہ پھیلا ہوا ہوتا ہے وہ البتہ اس کے مشابہ ہے،

 اس نے پوچھا جنتی خوشے کتنے بڑے ہوتے ہیں؟

فرمایا کالا کوا مہینہ بھر تک اڑتا رہے اتنے بڑے۔

 وہ کہنے لگا اس درخت کا تنا کس قدر موٹا ہے

آپؐ نے فرمایا اگر تو اپنی اونٹنی کے بچے کو چھوڑ دے اور وہ چلتا رہے یہاں تک کہ بوڑھا ہو کر گر پڑے تب بھی اس کے تنے کا چکر پورا نہیں کر سکتا ۔

 اس نے کہا اس میں انگور بھی لگتے ہیں؟

 آپ نے فرمایا ہاں

 پوچھا کتنے بڑے ؟

 آپؐ نے جواب دیا کہ کیا کبھی تیرے باپ نے اپنے ریوڑ میں سے کوئی موٹا تازہ بکرا ذبح کر کے اس کی کھال کھینچ کر تیری ماں کو دے کر کہا ہے کہ اس کا ڈول بنا لو؟

 اس نے کہا ہاں،

 فرمایا بس اتنے ہی بڑے بڑے انگور کے دانے ہوتے ہیں۔

 اس نے کہا پھر تو ایک ہی دانہ مجھ کو اور میرے گھر والوں کو کافی ہے

 آپؐ نے فرمایا بلکہ ساری برادری کو ، پھر یہ میوے بھی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ نہ کبھی ختم ہوں نہ کبھی ان سے روکا جائے۔ یہ نہیں کہ جاڑے میں ہیں اور گرمیوں میں نہیں ، یا گرمیوں میں ہیں اور جاڑوں میں ندارد بلکہ یہ میوے دوام والے اور ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں جب طلب کریں پالیں اللہ کی قدرت ہر وقت وہ موجود رہیں گے، بلکہ کسی کانٹے اور کسی شاخ کو بھی آڑ نہ ہو گی نہ دوری ہو گی نہ حاصل کرنے میں تکلف اور تکلیف ہوگی۔ بلکہ ادھر پھل توڑا ادھر اس کے قائم مقام دوسرا پھل لگ گیا،

وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ (۳۴)‏‏

اور اونچے اونچے فرشوں میں ہونگے

جیسے کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا ۔

 ان کے فرش بلند و بالا نرم اور گدگدے راحت و آرام دینے والے ہوں گے ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ان کی اونچائی اتنی ہوگی جتنی زمین و آسمان کی یعنی پانچ سو سال کی (ترمذی)

یہ حدیث غریب ہے،

 بعض اہل معانی نے کہا ہے کہ مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہے کہ فرش کی بلندی درجے کی آسمان و زمین کے برابر ہے یعنی ایک درجہ دوسرے درجے سے اس قدر بلند ہے۔ ہر دو درجوں میں پانچ سو سال کی راہ کا فاصلہ ہے، پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ روایت صرف رشد بن سعد سے مروی ہے اور وہ ضعیف ہیں۔

یہ روایت ابن جرید ابن ابی حاتم وغیرہ میں بھی ہے۔

حضرت حسنؒ سے مروی ہے کہ ان کی اونچائی اسی سال کی ہے۔

 اس کے بعد ضمیر لائی جس کا مرجع پہلے مذکور نہیں اس لئے کہ قرینہ موجود ہے۔ بستر کا ذکر آیا جس پر جنتیوں کی بیویاں ہوں گی پس ان کی طرف ضمیر پھیر دی ۔ جیسے حضرت سلیمان کے ذکر میں تَوَارَتْ  کا لفظ آیا ہے اور شمس کا لفظ اس سے پہلے نہیں پس قرینہ کافی ہے۔

إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِىِّ الصَّـفِنَـتُ الْجِيَادُ ۔ فَقَالَ إِنِّى أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِى حَتَّى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ (۳۸:۳۱،۳۲)

لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں پہلے مذکورہ ہو چکا آیت وَحُورٌ عِينٌ - كَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ 

إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً (۳۵)‏‏

ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔‏

فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا (۳۶)‏‏

اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے۔

عُرُبًا أَتْرَابًا (۳۷)‏‏

محبت والیاں اور ہم عمر ہیں۔‏

پس فرماتا ہے کہ ہم نے ان بیویوں کو نئی پیدائش میں پیدا کیا ہے، اس کے بعد کہ وہ بالکل پھوس بڑھیا تھیں ہم نے انہیں نو عمر کنواریاں کر کے ایک خاص پیدائش میں پیدا کیا ۔ وہ اپنے ظفافت و ملاحت ، حسن صورت و جسامت سے خوش خلقی اور حلاوت کی وجہ سے اپنے خاوندوں کی بڑی پیاریاں ہیں،

 بعض کہتے ہیں عُرُبًا کہتے ہیں ناز و کرشمہ والیوں کو حدیث میں ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بڑھیا تھیں اور اب جنت میں گئی ہیں تو انہیں نو عمر کر دیا ہے

 اور روایت میں ہے کہ خواہ یہ عورتیں کنواری تھیں یا ثیبہ تھیں اللہ ان سب کو ایسی کر دے گا،

 ایک بڑھیا عورت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہتی ہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے آپؐ نے فرمایا ام فلاں جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی ، وہ روتی ہوئی واپس لوٹیں تو آپؐ نے فرمایا جاؤ انہیں سمجھا دو، مطلب یہ ہے کہ جب وہ جنت میں جائیں گی بڑھیا نہ ہوں گی ۔

 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم انہیں نئی پیدائش میں پیدا کریں گے پھر باکرہ کر دیں گے ۔ شمائل ترمذی

طبرانی میں ہے حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ حُورٌ عِينٌ  کی خبر مجھے دیجئے

آپﷺ نے فرمایا:

 وہ گورے رنگ کی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں سخت سیاہ اور بڑے بڑے بالوں والی ہیں جیسے گدھ کا پر ۔

میں نے کہا لُّؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ  کی بابت خبر دیجئے

آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:

 دن کی صفائی اور جوت مثل اس موتی کے ہے جو سیپ سے ابھی ابھی نکلا ہو جسے کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو،

 میں نے کہا خیرات حسان کی کیا تفسیر ہے؟

فرمایا خوش خلق خوبصورت

 میں نے کہا بیض مکنون سے کیا مراد ہے؟

فرمایا ان کی نزاکت اور نرمی انڈے کی اس جھلی کی مانند ہو گی جو اندر ہوتی ہے،

میں نے عُرُبًا أَتْرَابًا کے معنی دریافت کئے ،

 فرمایا اس سے مراد دنیا کی مسلمان جنتی عورتیں ہیں جو بالکل بڑھیا پھوس تھیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں نئے سرے سے پیدا کیا اور کنواریاں اور خاوندوں کی چہیتیاں اور خاوندوں سے عشق رکھنے والیاں اور ہم عمر بنا دیں،

 میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی عورتیں افضل ہیں یا حُورٌ عِينٌ 

 فرمایا دنیا کی عورتیں حُورٌ عِينٌ  سے بہت بہتر ہیں جیسے استر سے ابرا بہتر ہوتا ہے،

 میں نے کہا اس فضیلت کی کیا وجہ ہے؟

فرمایا نمازیں روزے اور اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ نے ان کے چہرے نور سے ان کے جسم ریشم سے سنوار دیئے ہیں، سفید ریشم، سبز ریشم اور زرد سنہرے ریشم اور زرد سنہرے زیور بخوردان موتی کے کنگھیاں سونے کی یہ کہتی رہیں گی

نحن الخالدات فلا نموت ابدا      ونحن الناعمات فلا نباس ابدا

ونحن المقیمات فلا نطعن ابدا      ونحن الراضیات فلا نسخط ابدا

طوبی لمن کنا لہ وکان لنا

یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی مریں گی نہیں، ہم ناز اور نعمت والیاں ہیں کہ کبھی سفر میں نہیں جائیں گی ہم اپنے خاوندوں سے خوش رہنے والیاں ہیں کہ کبھی روٹھیں گی نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے لئے ہم ہیں اور خوش نصیب ہیں ہم کہ ان کے لئے ہیں۔

 میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض عورتوں کے دو دو تین تین چار چار خاوند ہو جاتے ہیں اس کے بعد اسے موت آتی ہے مرنے کے بعد اگر یہ جنت میں گئی اور اس کے سب خاوند بھی گئے تو یہ کسے ملے گی؟

 آپ ﷺنے فرمایا:

 اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس کے ساتھ چاہے رہے چنانچہ یہ ان میں سے اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ بہترین برتاؤ کرتا رہا ہو،

 اللہ تعالیٰ سے کہے گی پروردگار یہ مجھ سے بہت اچھی بودوباش رکھتا تھا اسی کے نکاح میں مجھے دے،

اے ام سلمہ حسن خلق دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو لئے ہوئے ہے۔

صور کی مشہور مطول حدیث میں ہے:

 رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی سفارش کریں گے جس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے آپ کی شفاعت قبول کی اور آپ کو انہیں جنت میں پہنچانے کی اجازت دی،

 آپ ﷺفرماتے ہیں پھر میں انہیں جنت میں لے جاؤں گا اللہ کی قسم تم جس قدر اپنے گھر بار اور اپنی بیویوں سے واقف ہو اس سے بہت زیادہ اہل جنت اپنے گھروں اور بیویوں سے واقف ہوں گے۔ پس ایک ایک جنتی کی بہتر بہتر بیویاں ہوں گی جو اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور دو دو بیویاں عورتوں میں سے ہوں گی کہ انہیں بوجہ اپنی عبادت کے ان سب عورتوں پر فضیلت حاصل ہوگی

جنتی ان میں سے ایک کے پاس جائے گا یہ اس بالا خانے میں ہوگی جو یاقوت کا بنا ہوا ہوگا اس پلنگ پر ہوگی جو سونے کی تاروں سے بنا ہوا ہوگا اور جڑاؤ جڑا ہوا ہوگا، ستر جوڑے پہنے ہوئے ہوں گے جو سب باریک اور سبز چمکیلے خالص ریشم کے ہوں گے، یہ بیوی اس قدر نازک نورانی ہوگی کہ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر سینے کی طرف سے دیکھے گا تو صاف نظر آجائے گا، کہ کپڑے گوشت ہڈی کوئی چیز روک نہ ہوگی اس قدر اس کا جسم صاف اور آئینہ نما ہوگا جس طرح مروارید میں سوراخ کر کے ڈورا ڈال دیں تو وہ ڈورا باہر سے نظر آتا ہے اسی طرح اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا۔

 ایسا ہی نورانی بدن اس جنتی کا بھی ہوگا، الغرض یہ اس کا آئینہ ہوگی، اور وہ اس کا یہ اس کے ساتھ عیش و عشرت میں مشغول ہوگا نہ یہ تھکے نہ وہ اس کا دل بھرے نہ اس کا۔ جب کبھی نزدیکی کرے گا تو کنواری پائے گا نہ اس کا عضو سست ہو نہ اسے گراں گزر ے مگر خاص پانی وہاں نہ ہوگا جس سے گھن آئے،

یہ یونہی مشغول ہوگا جو کان میں ندا آئے گی کہ یہ تو ہمیں خوب معلوم ہے کہ نہ آپ کا دل ان سے بھرے گا نہ ان کا آپ سے مگر آپ کی دوسری بیویاں بھی ہیں، اب یہ یہاں سے باہر آئے گا اور ایک ایک کے پاس جائے گا جس کے پاس جائے گا اسے دیکھ کر بےساختہ اس کے منہ سے نکل جائے گا۔ کہ رب کی قسم تجھ سے بہتر جنت میں کوئی چیز نہیں نہ میری محبت کسی سے تجھ سے زیادہ ہے،

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جنت میں جنتی لوگ جماع بھی کریں گے؟

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے خوب اچھی طرح بہترین طریق پر جب الگ ہوگا وہ اسی وقت پھر پاک صاف اچھوتی باکرہ بن جائے گی۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مؤمن کو جنت میں اتنی اتنی عورتوں کے پاس جانے کی قوت عطا کی جائے گی،

حضرت انسؓ نے پوچھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیا اتنی طاقت رکھے گا ؟

 آپ ﷺنے فرمایا ایک سو آدمیوں کے برابر اسے قوت ملے گی،

 طبرانی کی حدیث میں ہے ایک ایک سو کنواریوں کے پاس ایک ایک دن میں ہو آئے گا۔

 حافظ عبداللہ مقدسی فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ حدیث شرط صحیح پر ہے واللہ اعلم۔

 ابن عباسؓ عُرُبًا کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اپنے خاوندوں کی محبوبہ ہوں گی، یہ اپنے خاوندوں کی عاشق اور خاوند ان کے عاشق ۔

عکرمہ ؒسے مروی ہے کہ اس کا معنی ناز و کرشمہ والی ہے

 اور سند سے مروی ہے کہ معنی نزاکت والی ہے،

 تمیم بن حدلم کہتے ہیں عُرُبًا اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے خاوند کا دل مٹھی میں رکھے۔

زید بن اسلم وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد خوش کلام ہے اپنی باتوں سے اپنے خاوندوں کا دل مول لیتی ہیں جب کچھ بولیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ پھول جھڑتے ہیں اور نور برستا ہے ۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ انہیں عُرُباس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی بول چال عربی زبان میں ہوگی۔

 أَتْرَاب کے معنی ہیں ہم عمر عینی تینتیس برس کی اور معنی ہیں کہ خاوند کی اور ان کی طبیعت اور خلق بالکل یکساں ہے جس سے وہ خوش یہ خوش جو اسے ناپسند اسے بھی ناپسند ۔ ،

یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ آپس میں ان میں بیر بغض سوتیا ڈاہ حسد اور رشک نہ ہوگا ۔ یہ سب آپس میں بھی ہم عمر ہوں گی تاکہ بےتکلف ایک دوسری سے ملیں جلیں کھیلیں کودیں،

 ترمذی کی حدیث میں ہے :

 یہ جنتی حوریں ایک روح افزا باغ میں جمع ہو کر نہایت پیارے گلے سے گانا گائیں گی کہ ایسی سریلی اور رسیلی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ہوگی، ان کا گانا وہی ہوگا جو اوپر بیان ہوا

ابو یعلی میں ہے ان کے گانے میں یہ بھی ہوگا

نحن خیرات حسان۔ خبئنا لازواج کرام

ہم پاک صاف خوش وضع خوبصورت عورتیں ہیں جو بزرگ اور ذی عزت شوہروں کے لئے چھپا کر رکھی گئی تھیں

 اور روایت میں خیرات کے بدلے جوار کا لفظ آیا ہے۔

لِأَصْحَابِ الْيَمِينِ (۳۸)‏‏

دائیں ہاتھ والوں کے لئے ہیں۔‏

پھر فرمایا یہ اصحاب یمین کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور انہی کے لئے محفوظ و مصؤن رکھی گئی تھیں۔ لیکن زیادہ ظاہر یہ ہے کہ یہ متعلق ہے آیت إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً کے یعنی ہم نے انہیں ان کے لئے بنایا ہے۔

 حضرت ابو سلیمان دارانی رحمتۃ اللہ علیہ سے منقول ہے:

 میں نے ایک رات تہجد کی نماز کے بعد دعا مانگنی شروع کی، چونکہ سخت سردی تھی، بڑے زور کا پالا پڑھ رہا تھا، ہاتھ اٹھائے نہیں جاتے تھے اس لئے میں نے ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگی اور اسی حالت میں دعا مانگتے مانگتے مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے ایک حور کو دیکھا کہ اس جیسی خوبصورت نورانی شکل کبھی میری نگاہ سے نہیں گزری اس نے مجھ سے کہا اے ابو سلیمان ایک ہی ہاتھ سے دعا مانگنے لگے اور یہ خیال نہیں کہ پانچ سو سال سے اللہ تعالیٰ مجھے تمہارے لئے اپنی خاص نعمتوں میں پرورش کر رہا ہے۔

 یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لام متعلق أَتْرَابًا کے ہو یعنی ان کی ہم عمر ہوں گی جیسے کہ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودہویں رات جیسے روشن ہوں گے ان کے بعد والی جماعت کے بہت چمکدار ستارے جیسے روشن ہوں گے یہ پاخانے پیشاب تھوک رینٹ سے پاک ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کے پسینے مشک کی خوشبو والے ہوں گے ان کی انگیٹھیاں لؤلؤ کی ہوں گی ان کی بیویاں حور عین ہوں گی ان سب کے اخلاق مثل ایک ہی شخص کے ہوں گے، یہ سب اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام کی شکل پر ساٹھ ہاتھ کے لانبے قد کے ہوں گے۔

 طبرانی میں ہے:

 اہل جنت بےبال اور بےریش گورے رنگ والے خوش خلق اور خوبصورت سرمگیں آنکھوں والے تینتیس برس کی عمر کے سات ہاتھ لانبے اور سات ہاتھ چوڑے چکلے مضبوط بدن والے ہوں گے۔

 اس کا کچھ حصہ ترمذی میں بھی مروی ہے۔

 اور حدیث میں ہے:

 گو کسی عمر میں انتقال ہوا ہو دخول جنت کے وقت تینتیس سالہ عمر کے ہوں گے اور اسی عمر میں ہمیشہ رہیں گے، اسی طرح جہنمی بھی (ترمذی )

اور روایت میں ہے:

 ان کے قد سات ہاتھ فرشتے کے ہاتھ کے اعتبار سے ہوں گے قد آدم حسن یوسف عمر عیسیٰ یعنی تینتیس سال اور زبان محمد صلی اللہ علیہ وسلم یعنی عربی والے ہوں گے، بےبال اور سرمگیں آنکھوں والے (ابن ابی الدنیا )

اور روایت میں ہے:

 دخول جنت کے ساتھ ہی انہیں ایک جنتی درخت کے پاس لایا جائے گا اور وہاں انہیں کپڑے پہنائے جائیں گے ان کے کپڑے نہ گلیں نہ سڑیں نہ پرانے ہوں نہ میلے ہوں ان کی جوانی نہ ڈھلے نہ جائے نہ فنا ہو۔

ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ (۳۹)‏‏

جم غفیر ہے اگلوں میں سے

وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ (۴۰)‏‏

اور بہت بڑی جماعت ہے پچھلوں میں سے۔

اصحاب یمین گزشتہ اُمتوں میں سے بھی بہت ہیں اور پچھلوں میں سے بھی بہت ہیں،

 ابن ابی حاتم میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے بیان فرمایا:

 میرے سامنے انبیاء مع اپنے تابعدار اُمتیوں کے پیش ہوئے بعض نبی گزر تے تھے اور بعض نبی کے ساتھ ایک جماعت ہوتی تھی اور بعض نبی کے ساتھ صرف تین آدمی ہوتے تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی تھا

 راوی حدیث حضرت قتادہ نے اتنا بیان فرمایا کہ یہ آیت پڑھی

أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ (۱۱:۷۸)

کیا تم میں سے ایک بھی رشد و سمجھ والا نہیں؟

یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام گزر ے جو بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت ساتھ لئے ہوئے تھے،

میں نے پوچھا پروردگار یہ کون ہیں؟

جواب ملا یہ تمہارے بھائی موسیٰ بن عمران ہیں اور ان کے ساتھ ان کی تابعداری کرنے والی اُمت ہے

 میں نے پوچھا الہٰی پھر میری اُمت کہاں ہے؟

 فرمایا اپنی داہنی جانب نیچے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو بہت بڑی جماعت نظر آئی لوگوں کے بکثرت چہرے دمک رہے تھے،

پھر مجھ سے پوچھا کہو اب تو خوش ہو

میں نے کہا ہاں الہٰی میں خوش ہوں،

 مجھ سے فرمایا اب اپنی بائیں جانب کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا وہ وہاں بیشمار لوگ تھے

 پھر مجھ سے پوچھا اب تو راضی ہوگئے؟

میں نے کہا ہاں میرے رب میں راضی ہوں،

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور سنو ان کے ساتھ ستر ہزار اور لوگ ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے

 یہ سن کر حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوگئے، یہ قبیلہ بنو اسد سے محصن کے لڑکے تھے بدر کی لڑائی میں موجود تھے عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی انہی میں سے کرے

 آپ ﷺنے دعا کی پھر ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور کہا اے اللہ کے رسول میرے لئے بھی دعا کیجئے ۔

 آپ ﷺنے فرمایا عکاشہ تجھ پر سبقت کر گئے،

 پھر آپﷺ نے فرمایا:

 لوگوں تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر تم سے ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے بنو جو بےحساب جنت میں جائیں گے، ورنہ کم سے کم دائیں جانب والوں میں سے ہو جاؤ گے، یہ بھی نہ ہو سکے تو کنارے والوں میں سے بن جاؤ۔ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ اپنے حال میں ہی لٹک جاتے ہیں۔

 پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تمام اہل جنت کی چوتھائی تعداد صرف تمہاری ہی ہوگی۔

پس ہم نے تکبیر کہی

پھر فرمایا بلکہ مجھے امید ہے کہ تم تمام جنت کی تہائی والے ہوگے،

 ہم نے پھر تکبیر کہی ۔

 فرمایا اور سنو! تم آدھوں آدھ اہل جنت کے ہوگے

ہم نے پھر تکبیر کہی

 اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ ـ وَثُلَّةٌ مِنَ الْآخِرِينَ کی تلاوت کی۔

 اب ہم میں آپس میں مذاکرہ شروع ہو گیا کہ یہ ستر ہزار کون لوگ ہوں گے، پھر ہم نے کہا وہ لوگ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور شرک کیا ہی نہیں

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو داغ نہیں لگواتے اور جھاڑ پھونک نہیں کرواتے اور فال نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

 یہ حدیث بہت سی سندوں سے صحابہ کی روایت سے بہت سی کتابوں میں صحت کے ساتھ مروی ہے۔

 ابن جریر میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اس آیت میں پہلوں پچھلوں سے مراد میری اُمت کے اگلے پچھلے ہی ہیں۔

وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ  (۴۱)‏‏

اور بائیں ہاتھ والے کیا ہیں بائیں ہاتھ والے

اصحاب یمین کا ذکر کرنے کے بعد اصحاب شمال کا ذکر ہو رہا ہے فرماتا ہے

 ان کا کیا حال ہے؟

یہ کس حال میں ہے؟

پھر ان عذابوں کا ذکر فرماتا ہے کہ

فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ  (۴۲)‏‏

گرم ہوا اور گرم پانی میں (ہوں گے)‏

وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ  (۴۳)‏‏

اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔‏

لَا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ  (۴۴)‏‏

جو ٹھنڈا ہے نہ فرحت بخش

یہ گرم  ہواؤں کے تھپیڑوں اور کھولتے ہوئے گرم پانی میں ہیں اور دھوئیں کے سخت سیادہ سائے میں جیسے اور جگہ فرمایا ہے:

انطَلِقُواْ إِلَى مَا كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ - انطَلِقُواْ إِلَى ظِلٍّ ذِى ثَلَـثِ شُعَبٍ - لاَّ ظَلِيلٍ وَلاَ يُغْنِى مِنَ اللَّهَبِ

 إِنَّهَا تَرْمِى بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ - كَأَنَّهُ جِمَـلَةٌ صُفْرٌ - وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ (۷۷:۲۹،۳۴)

یعنی اس دوزخ کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔ چلو تین شاخوں والے سایہ کی طرف جو نہ گھنا ہے نہ آگ کے شعلے سے بچا سکتا ہے،

وہ دوزخ محل کی اونچائی کے برابر چنگاریاں پھینکتی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ سرد اونٹنیاں ہیں۔ آج تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے

اسی طرح یہاں بھی فرمان ہے کہ یہ لوگ جن کے بائیں ہاتھ میں عمل نامہ دیا گیا ہے یہ سخت سیاہ دھوئیں میں ہوں گے جو نہ جسم کو اچھا لگے نہ آنکھوں کو بھلا معلوم ہو،

 یہ عرب کا محاورہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ برائی بیان کر نی ہو وہاں اس کا ہر ایک برا وصف بیان کر کے اس کے بعد وَلَا كَرِيمٍ  کہہ دیتے ہیں۔

إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ مُتْرَفِينَ  (۴۵)‏‏

بیشک یہ لوگ اس سے پہلے بہت نازوں سے پلے ہوئے تھے

وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ  (۴۶)‏‏

اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کرتے تھے۔‏

پھر اللہ تعالیٰ بیان فرمایا ہے یہ لوگ ان سزاؤں کے مستحق اس لئے ہوئے کہ دنیا میں جو اللہ کی نعمتیں انہں ملی تھیں ان میں یہ سست ہو گئے۔ رسولوں کی باتوں کی طرف نظر بھی نہ اٹھائی ۔ بدکاریوں میں پڑ گئے اور پھر توبہ کی طرف دلی توجہ بھی نہ رہی۔

الْحِنْثِ الْعَظِيمِ  سے مراد بقول حضرت ابن عباسؓ کفر شرک ہے،

 بعض کہتے ہیں جھوٹی قسم ہے،

 پھر ان کا ایک اور عیب بیان ہو رہا ہے

وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ  (۴۷)‏‏

اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مر جائیں گے مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ اٹھا کھڑے کئے جائیں گے۔‏

أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ   (۴۸)‏‏

اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی؟‏

یہ قیامت کا ہونا بھی محال جانتے تھے، اس کی تکذیب کرتے تھے اور عقلی استدلال پیش کرتے تھے کہ مر کر مٹی میں مل کر پھر بھی کہیں کوئی جی سکتا ہے؟

قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ  (۴۹)‏‏

آپ کہہ دیجئے کہ یقیناً سب اگلے اور پچھلے۔‏

لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ  (۵۰)‏‏

ضرور جمع کئے جائیں گے ایک مقرر دن کے وقت۔‏

انہیں جواب مل رہا ہے کہ تمام اولاد آدم قیاُمت کے دن نئی زندگی میں پیدا ہو کر اور ایک میدان میں جمع ہوگی، کوئی ایک وجود بھی ایسا نہ ہوگا جو دنیا میں آیا ہو اور یہاں نہ ہو،

جیسے اور جگہ ہے

ذلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ ـ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلاَّ لاًّجَلٍ مَّعْدُودٍ

يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِىٌّ وَسَعِيدٌ (۱۱:۱۰۳،۱۰۵)

یعنی اس دن سب جمع کر دیئے جائیں گے یہ حاضر باشی کا دن ہے، تمہیں دنیا میں چند روز مہلت ہے قیامت کے دن کون ہے جو بلا اجازت اللہ لب بھی ہلا سکے انسان دو قسم پر تقسیم کر دیئے جائیں گے نیک الگ اور بد علیحدہ ۔

وقت قیامت محدود اور مقرر ہے، کمی زیادتی تقدیم تاخیر اس میں بالکل نہ ہوگی۔

ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ  (۵۱)‏‏

پھر تم اے گمراہو جھٹلانے والو !‏

لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ  (۵۲)‏‏

البتہ کھانے والے ہو تھوہر کا درخت۔‏

پھر تم اے گمراہو اور جھٹلانے والو زقوم کے درخت کھلوائے جاؤ گے

فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ  (۵۳)‏‏

اور اسی سے پیٹ بھرنے والے ہو۔

انہیں سے پیٹ بوجھل کرو گے کیونکہ جبراً وہ تمہارے منہ میں ٹھونسا جائے گا

یعنی فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ  (۵۴)‏‏

پھر اس پر گرم کھولتا پانی پینے والے ہو۔‏

فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ  (۵۵)‏‏

پھر پینے والے بھی پیاسے اونٹوں کی طرح۔‏

پھر اس پر کھولتا ہوا گرم پانی تمہیں پینا پڑے گا اور وہ بھی اس طرح جیسے پیاسا اونٹ پی رہا ہو،

هِيمِ  جمع ہے اس کا واحد اهِيم ہےسخت پیاس والے اونٹ کو کہتے ہیں جسے سخت پیاس کی بیماری ہوتی ہے اور نہ اس بیماری سے اونٹ جانبر ہوتا ہے، اسی طرح یہ جنت جبراً سخت گرم پانی پلائے جائیں گے جو خود ایک بدترین عذاب ہوگا بھلا اس سے پیاس کیا رکتی ہے؟

 حضرت خالد بن معدان رضی اللہ فرماتے ہیں:

 ایک ہی سانس میں پانی پینا یہ بھی پیاس والے اونٹ کا سا پینا ہے اس لیے مکروہ ہے

هَذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ  (۵۶)‏‏

قیامت کے دن ان کی مہمانی یہ ہے۔‏

پھر فرمایا ان مجرموں کی ضیافت آج جزا کے دن یہی ہے، جیسے متقین کے بارے میں اور جگہ ہے :

إِنَّ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّـلِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّـتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلاً (۱۸:۱۰۷)

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کئے یقیناً ان کے لئے فردوس کے باغات کی مہمانی ہے۔

نَحْنُ خَلَقْنَاكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ  (۵۷)‏‏

ہم ہی نے تم سب کو پیدا کیا ہے پھر تم کیوں باور نہیں کرتے؟

اللہ تعالیٰ قیامت کے منکرین کو لاجواب کرنے کے لئے قیامت کے قائم ہونے اور لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے کی دلیل دے رہا ہے،

 فرماتا ہے کہ جب ہم نے پہلی مرتبہ جبکہ تم کچھ نہ تھے تمہیں پیدا کر دیا تو اب فنا ہونے کے بعد جبکہ کچھ نہ کچھ تو تم رہو گے ہی۔ تمہیں دوبارہ پیدا کرنا ہم پر کیا گراں ہوگا؟

 جب ابتدائی اور پہلی پیدائش کو مانتے ہو تو پھر دوسری مرتبہ کے پیدا ہونے سے کیوں انکار کرتے ہو؟

أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ  (۵۸)‏‏

اچھا پھر یہ بتلاؤ کہ جو منی تم ٹپکاتے ہو۔‏

أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ  (۵۹)‏‏

کیا اس کا (انسان) تم بناتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہی ہیں

دیکھو انسان کے خاص پانی کے قطرے تو عورت کے بچہ دان میں پہنچ جاتے ہیں اتنا کام تو تمہارا تھا لیکن اب ان قطروں کو بصورت انسان پیدا کرنا یہ کس کا کام ہے؟

 ظاہر ہے کہ تمہارا اس میں کوئی دخل نہیں کوئی ہاتھ نہیں کوئی قدرت نہیں کوئی تدبیر نہیں،

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ  (۶۰)‏‏

ہم ہی نے تم میں موت کو معین کر دیا اور ہم اس سے ہارے ہوئے نہیں ہیں۔‏

عَلَى أَنْ نُبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنْشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ  (۶۱)‏‏

کہ تمہاری جگہ تم جیسے اور پیدا کر دیں اور تمہیں نئے سرے سے اس عالم میں پیدا کریں جس سے تم (بالکل) بےخبر ہو

پیدا کرنا یہ صفت صرف خالق کل اللہ رب العزت کی ہی ہے ٹھیک اسی طرح مار ڈالنے پر بھی وہی قادر ہے ۔ کل آسمان و زمین والوں کی موت کا متصرف بھی اللہ ہی ہے۔ پھر بھلا اتنی بڑی قدرتوں کا مالک کیا یہ نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن تمہاری پیدائش میں تبدیلی کر کے جس صفت اور جس حال میں چاہے تمہیں از سر نو پیدا کر دے ۔

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولَى فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ  (۶۲)‏‏

یقینی طور پر پہلی دفعہ کی پیدائش معلوم ہی ہے پھر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ۔‏

 پس جبکہ جانتے ہو مانتے ہو کہ ابتدائے آفرینش اسی نے کی ہے اور عقل باور کرتی ہے کہ پہلی پہلی پیدائش دوسری پیدائش سے مشکل ہے پھر دوسری پیدائش کا انکار کیوں کرتے ہو ؟

 یہی اور جگہ ہے :

وَهُوَ الَّذِى يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ (۳۰:۲۷)

اللہ ہی نے پہلی پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اور وہی دوبارہ دوہرائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے،

 سورۃ یسین میں ارشاد فرمایا :

أَوَلَمْ يَرَ الإِنسَـنُ أَنَّا خَلَقْنَـهُ مِن نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مٌّبِينٌ ـ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَنَسِىَ خَلْقَهُ قَالَ مَن يُحىِ الْعِظَـمَ وَهِىَ رَمِيمٌ ـ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِى أَنشَأَهَآ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ  (۳۶:۷۷،۷۹)

یعنی ہم انسان کو نطفے سے پیدا کرتے ہیں پھر وہ حجت بازیاں کرنے لگتا ہے اور ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے ان بوسیدہ گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا تم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف سے جواب دو کہ انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلے پہل پیدا کیا ہے وہ ہر پیدائش کا علم رکھنے والا ہے

سورہ قیامہ میں فرمایا :

أَيَحْسَبُ الإِنسَـنُ أَن يُتْرَكَ سُدًىـ أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِىٍّ يُمْنَى ـ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّى  ـ  فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالاٍّنثَى ـ

أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَـدِرٍ عَلَى أَن يُحْيِىَ الْمَوْتَى (۷۵:۳۶،۴۰)

کیا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اسے یونہی آوارہ چھوڑ دیا جائے گا؟

کیا یہ ایک غلیظ پانی کے نطفے کی شکل میں نہ تھا، پھر خون کے لوتھڑے کی صورت میں نمایا ہوا تھا؟

پھر اللہ نے اسے پیدا کیا درست کیا مرد عورت بنایا ایسا اللہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟

أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ  (۶۳)‏‏

اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہو۔‏

أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ  (۶۴)‏‏

اسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں۔‏

ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ تم جو کھیتیاں بوتے ہو زمین کھود کر بیج ڈالتے ہو پھر ان بیجوں کو اگانا بھی کیا تمہارے بس میں ہے؟

نہیں نہیں بلکہ انہیں اگانا انہیں پھل پھول دینا ہمارا کام ہے۔

 ابن جریر میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

زراعت نہ کہا کرو بلکہ حرثت کہا کرو یعنی یوں کہو میں نے بویا یوں نہ کہو کہ میں نے اگایا ۔

 حضرت ابوہریرہ ؓنے یہ حدیث سنا کر پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔

 امام حجر مدریؒ ان آیتوں کے ایسے سوال کے موقعوں کو جب پڑھتے تو کہتے (بل انت یا ربی) ہم نے نہیں بلکہ اے ہمارے رب تو نے ہی۔

لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَاهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ   (۶۵)‏‏

اگر ہم چاہیں تو اسے ریزہ ریزہ کر ڈالیں اور تم حیرت کے ساتھ باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔‏

إِنَّا لَمُغْرَمُونَ  (۶۶)‏‏

کہ ہم پر تاوان ہی پڑ گیا

بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ  (۶۷)‏‏

بلکہ ہم بالکل محروم ہی رہ گئے۔‏

پھر فرماتا ہے کہ پیدا کرنے کے بعد بھی ہماری مہربانی ہے کہ ہم اسے بڑھائیں اور پکائیں ورنہ ہمیں قدرت ہے کہ سکھا دیں اور مضبوط نہ ہونے دیں برباد کر دیں اور بےنشان دنیا بنا دیں۔ اور تم ہاتھ ملتے اور باتیں بناتے ہی رہ جاؤ ۔ کہ ہائے ہم پر آفت آگئی ہائے ہماری تو اصل بھی ماری گئی بڑا نقصان ہوگیا نفع ایک طرف پونجی بھی غارت ہوگئی غم و رنج سے نہ جانیں کیا کیا بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگ جاؤ ۔

کبھی کہو کاش کہ اب کی مرتبہ بوتے ہی نہیں کاش کہ یوں کرتے ووں کرتے،

 یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس وقت تم اپنے گناہوں پر نادم ہو جاؤ

تَفَكَّه کا لفظ اپنے میں دونوں معنی رکھتا ہے نفع کے اور غم کے

أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ  (۶۸)‏‏

اچھا یہ تو بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو۔‏

أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ  (۶۹)‏‏

اسے بادلوں سے بھی تم ہی اتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں۔‏

پھر اپنی پانی جیسی اعلیٰ نعمت کا ذکر کرتا ہے کہ دیکھو اس کا برسانا بھی میرے قبضہ میں ہے کوئی ہے جو اس بادل سے اتار لائے ؟

مُزْن بادل کو کہتے ہیں ۔

لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ  (۷۰)‏‏

اگر ہماری منشا ہو تو ہم اسے کڑوا زہر کر دیں پھر ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟

اور جب اتر آیا پھر بھی اس میں مٹھاس ، کڑواہٹ پیدا کرنے پر مجھے قدرت ہے ۔ یہ میٹھا پانی بیٹھے بٹھائے میں تمہیں دوں جس سے تم نہاؤ دھوؤ کپڑے صاف کرو کھیتیوں اور باغوں کو سیراب کرو جانوروں کو پلاؤ پھر کیا تمہیں یہی چاہیئے کہ میرا شکر بھی ادا نہ کرو

 جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی پی کر فرمایا کرتے :

الحمد اللہ اللذی سقاناہ عذبا فراتا برحمتہ ولم یجعلہ ملحا اجاجا بذنوبنا

اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں میٹھا اور عمدہ پانی اپنی رحمت سے لایا اور ہمارے گناہوں کے باعث اسے کھاری اور کڑوا نہ بنا دیا

أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ  (۷۱)‏‏

اچھا ذرا یہ بھی بتاؤ کہ جو آگ تم سلگاتے ہو۔‏

أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ  (۷۲)‏‏

اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں

عرب میں دو درخت ہوتے ہیں مرخ اور عفار ان کی سبز شاخیں جب ایک دوسری سے رگڑی جائیں تو آگ نکلتی ہے اس نعمت کو یاد دلا کر فرماتا ہے کہ یہ آگ جس سے تم پکاتے رہتے ہو اور سینکڑوں فائدے حاصل کر رہے ہو بتاؤ کہ اصل یعنی درخت اس کے پیدا کرنے والے تم ہو یا میں ؟

نَحْنُ جَعَلْنَاهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ  (۷۳)‏‏

ہم نے اسے سبب نصیحت اور مسافروں کے فائدے کی چیز بنایا

اس آگ کو ہم نے تذکرہ بنایا ہے یعنی اسے دیکھ کر جہنم کی آگ کو یاد کرو اور اس سے بچنے کی راہ لو۔

حضرت قتادہ کی ایک مرسل حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 تمہاری یہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے

 لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی بہت کچھ ہے

 آپ ﷺنے فرمایا ہاں پھر یہ سترواں حصہ بھی دو مرتبہ پانی سے بجھایا گیا ہے، اب یہ اس قابل ہوا کہ تم اس سے نفع اٹھا سکو اور اس کے قریب جا سکو۔

یہ مرسل حدیث مسند میں مروی ہے اور بالکل صحیح ہے ۔

 مُقْوِينَ  مراد مسافر ہیں،

بعض نے کہا ہے جنگل میں رہنے سہنے والے لوگ مراد ہیں۔

 بعض نے کہا ہے ہر بھوکا مراد ہے۔

غرض دراصل ہر وہ شخص مراد ہے جسے آگ کی ضرورت ہو اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا محتاج ہو، ہر امیر فقیر شہری دیہاتی مسافر مقیم کو اس کی حاجت ہوتی ہے، پکانے کے لئے اپنے ساتھ لے جا سکے اور ضرورت کے وقت اپنا کام نکال سکے ۔

 ابو داؤد وغیرہ میں حدیث ہے:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزوں میں تمام مسلمانوں کا برابر کا حصہ ہے آگ گھاس اور پانی ۔

 ابن ماجہ میں ہے یہ تینوں چیزیں روکنے کا کسی کو حق نہیں ۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ  (۷۴)‏‏

پس اپنے بہت بڑے رب کے نام کی تسبیح کیا کرو۔‏

پھر فرماتا ہے تم سب کو چاہیئے کہ اس بہت بڑی قدرتوں کے مالک اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے رہو جس نے آگ جیسی جلا دینے والی چیز کو تمہارے لئے نفع دینے والی بنا دیا۔ جس نے پانی کو کھاری اور کڑوا نہ کر دیا کہ تم پیاس کے مارے تکلیف اٹھاؤ بلکہ اسے میٹھا صاف شفاف اور مزیدار بنایا، دنیا میں رب کی ان نعمتوں سے فائدے اٹھاؤ اور اس کا شکر بجا لاؤ تو پھر آخرت میں بھی فائدے ہی فائدے ہیں

 دنیا میں یہ آگ اس نے تمہارے فائدہ کے لئے بنائی ہے اور ساتھ ہی اس لئے کہ آخرت کی آگ کا بھی اندازہ تم کر سکو اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ ۔

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ  (۷۵)‏‏

پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے گرنے کی ‏

حضرت ضحاک فرماتے ہیں اللہ کی یہ قسمیں کلام کو شروع کرنے کے لئے ہوا کرتی ہیں۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے ۔

 جمہور فرماتے ہیں یہ قسمیں ہیں اور ان میں ان چیزوں کی عظمت کا اظہار بھی ہے،

بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہاں پر لا زائد ہے اور إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ  جواب قسم ہے

 اور لوگ کہتے ہیں لا کو زائد بتانے کی کوئی وجہ نہیں کلام عرب کے دستور کے مطابق وہ قسم کے شروع میں آتا ہے، جبکہ جس چیز پر قسم کھائی جائے وہ منفی ہو، جیسے حضرت عائشہ کے اس قول میں ہے لا واللہ ما مست ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ید امراۃ قط یعنی اللہ کی قسم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ سے لگایا نہیں یعنی بیعت میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کیا ۔

 اسی طرح یہاں بھی لا قسم کے شروع میں مطابق قاعدہ ہے نہ کہ زائد ۔

تو کلام کا مقصود یہ ہے کہ تمہارے جو خیالات قرآن کریم کی نسبت ہیں یہ جادو ہے یا کہانت ہے غلط ہیں ۔ بلکہ یہ پاک کتاب کلام اللہ ہے۔

بعض عرب کہتے ہیں کہ لا سے ان کے کلام کا انکار ہے پھر اصل امر کا اثبات الفاظ میں ہے

مَوَاقِعِ النُّجُومِ  سے مراد قرآن کا بتدریج اترنا ہے، لوح محفوظ سے تو لیلہ القدر میں ایک ساتھ آسمان اول پر اترا آیا پھر حسب ضروت تھوڑا تھوڑا وقت بروقت اترتا رہا یہاں تک کہ کئی برسوں میں پورا اتر آیا ۔

 مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد ستاروں کے طلوع اور ظاہر ہونے کی آسمان کی جگہیں ہیں ۔

مَوَاقِعِ سے مراد منازل ہیں ۔

حسن فرماتے ہیں قیاُمت کے دن ان کا منتشر ہو جانا ہے ۔

 ضحاک فرماتے ہیں اس سے مراد وہ ستارے ہیں جن کی نسبت مشرکین عقیدہ رکھتے تھے کہ فلاں فلاں تارے کی وجہ سے ہم پر بارش برسی ۔

وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ  (۷۶)‏‏

اور اگر تمہیں علم ہو تو یہ بہت بڑی قسم ہے۔‏

إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ  (۷۷)‏‏

کہ بیشک یہ قرآن بہت بڑی عزت والا ہے

فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ  (۷۸)‏‏

جو ایک محفوظ کتاب میں درج ہے

لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ  (۷۹)‏‏

جسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں

پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے اس لئے کہ جس امر پر یہ قسم کھائی جا رہی ہے وہ بہت بڑا امر ہے

یعنی یہ قرآن بڑی عظمت والی کتاب ہے معظم و محفوظ اور مضبوط کتاب میں ہے۔ جسے صرف پاک ہاتھ ہی لگتے ہیں یعنی فرشتوں کے ہاں یہ اور بات ہے کہ دنیا میں اسے سب کے ہاتھ لگتے ہیں ۔

 ابن مسعود کی قرأت میں مَا يَمَسُّهُ ہے

ابو العالیہ کہتے ہیں یہاں پاک سے مراد انسان نہیں انسان تو  گنہگار ہے۔ یہ کفار کا جواب ہے وہ کہتے تھے کہ اس قرٓن کو لے کر شیطان اترتے ہیں۔ جیسے اور جگہ صاف فرمایا :

وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيَـطِينُ  ـ وَمَا يَنبَغِى لَهُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ ـ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ (۲۶:۲۱۰،۲۱۲)

اسے نہ تو شیطان لے کر اترا ہیں نہ ان کے یہ لائق نہ ان کی یہ مجال بلکہ وہ تو اس کے سننے سے بھی الگ ہیں۔

یہی قول اس آیت کی تفسیر میں دل کو زیادہ لگتا ہے ۔

 اور اقوال بھی اس کے مطابق ہو سکتے ہیں۔

 فراء نے کہا ہے اس کا ذائقہ اور اس کا لطف صرف باایمان لوگوں کو ہی میسر آتا ہے۔

 بعض کہتے ہیں مراد جنابت اور حدث سے پاک ہونا ہے

 گو یہ خبر ہے لیکن مراد اس سے انشاء ہے۔ اور قرآن سے مراد یہاں پر مصحف ہے ۔

مطلب یہ ہے کہ مسلمان ناپاکی کی حالت میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے

 ایک حدیث میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن ساتھ لے کر حربی کافروں کے ملک میں جانے سے منع فرمایا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اسے دشمن کچھ نقصان پہنچائے (مسلم)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمان حضرت عمرو بن حرم کو لکھ کر دیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو نہ چھوئے مگر پاک ۔ (موطا مالک )

مراسیل ابو داؤد میں ہے زہری فرماتے ہیں میں نے خود اس کتاب کو دیکھا ہے اور اس میں یہ جملہ پڑھا ہے گو اس روایت کی بہت سی سندیں ہیں لیکن ہر ایک قابل غور ہے واللہ اعلم ۔

تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ   (۸۰)‏‏

یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔‏

أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنْتُمْ مُدْهِنُونَ  (۸۱)‏‏

پس کیا تم ایسی بات کو سرسری (اور معمولی) سمجھ رہے ہو۔‏

وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ  (۸۲)‏‏

اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو۔‏

 پھر ارشاد ہے کہ یہ قرآن شعرو سخن جادو اور فن نہیں بلکہ اللہ کا کلام ہے اور اسی کی جانب سے اترا ہے، یہ سراسر حق ہے بلکہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا اس کے خلاف جو ہے باطل اور یکسر مردود ہے ۔ پھر تم ایسی پاک بات کیوں انکار کرتے ہو؟

کیوں اس سے ہٹنا اور یکسو ہو جانا چاہتے ہو؟

 کیا اس کا شکر یہی ہے کہ تم اسے جھٹلاؤ ؟

 قبیلہ ازد کے کلام میں رزق و شکر کے معنی میں آتا ہے ۔

 مسند کی ایک حدیث میں بھی رزق کا معنی شکر کیا ہے۔

 یعنی تم کہتے ہو کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں پانی ملا اور فلاں ستارے سے فلاں چیز ۔

 ابن عباسؓ فرماتے ہیں ہر بارش کے موقعہ پر بعض لوگ کفریہ کلمات بک دیتے ہیں کہ بارش کا باعث فلاں ستارہ ہے ۔

 موطا میں ہے:

 ہم حدیبیہ کے میدان میں تھے رات کو بارش ہوئی ، صبح کی نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جانتے بھی ہو آج شب تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟

 لوگوں نے کہا اللہ کو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ۔

 آپ ﷺنے فرمایا سنو یہ فرمایا کہ آج میرے بندوں میں سے بہت سے میرے ساتھ کافر ہو گئے اور بہت سے ایماندار بن گئے ۔ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل و کرم سے پانی برسا وہ میری ذات پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں سے کفر کرنے والا ہوا۔ اور جس نے کہا فلاں فلاں ستارے سے بارش برسی اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور اس ستارے پر ایمان لایا۔

 مسلم کی حدیث میں عموم ہے کہ آسمان سے جو برکت نازل ہوتی ہے وہ بعض کے ایمان کا اور بعض کے کفر کا باعث بن جاتی ہے ۔ ہاں یہ خیال رہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے حضرت عباسؓ سے پوچھا تھا کہ ثریا ستارہ کتنا باقی ہے؟

پھر کہا تھا کہ اس علم والوں کا خیال ہے کہ یہ اپنے ساقط ہو جانے کے ہفتہ بھر بعد افق پر نمودار ہوتا ہے چنانچہ یہی ہوا بھی کہ اس سوال جواب اور استسقاء کو سات روز گزرے تھے جو پانی برسا۔

یہ واقعہ محمول ہے عادت اور تجربہ پر نہ یہ کہ اس ستارے میں ہے اور اس ستارے کو ہی اثر کا موجد جانتے ہوں۔ اس قسم کا عقیدہ تو کفر ہے ہاں تجربہ سے کوئی چیز معلوم کر لینا یا کوئی بات کہہ دینا دوسری چیز ہے، اس بارے کی بہت سی حدیثیں آیت مَّا يَفۡتَحِ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحۡمَةٍ۬ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا (۳۵:۲)  کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔

 ایک شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہتے ہوئے سن لیا کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی تو آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے یہ تو اللہ کی برسائی ہوئی ہے، یہ رزق الہٰی ہے ۔

 ایک مرفوع حدیث میں ہے:

 لوگوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے اگر سات سال قحط سالی رہے اور پھر اللہ اپنے فضل و کرم سے بارش برسائے تو بھی یہ جھٹ سے زبان سے نکالنے لگیں گے کہ فلاں تارے نے برسایا۔

 مجاہد فرماتے ہیں:

 اپنی روزی تکذیب کو ہی نہ بنا لو یعنی یوں نہ کہو کہ فلاں فراخی کا سبب فلاں چیز ہے بلکہ یوں کہو کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔

 پس یہ بھی مطلب ہے اور یہ بھی کہ قرآن میں ان کا حصہ کچھ نہیں بلکہ ان کا حصہ یہی ہے کہ یہ اسے جھوٹا کہتے رہیں اور اسی مطلب کی تائید اس سے پہلے کی آیت سے بھی ہوتی ہے۔

فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ  (۸۳)‏‏

پس جبکہ روح نرخرے تک پہنچ جائے۔‏

اسی مضمون کی آیتیں سورۃ قیامہ میں بھی ہیں(۷۵:۲۶،۳۰)۔

وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ  (۸۴)‏‏

اور تم اس وقت آنکھوں سے دیکھتے رہو

وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ  (۸۵)‏‏

ہم اس شخص سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم دیکھ نہیں سکتے۔‏

فرماتا ہے کہ ایک شخص اپنے آخری وقت میں ہے نزع کا عالم ہے روح پرواز کر رہی ہے تم سب پاس بیٹھے دیکھ رہے ہو کوئی کچھ نہیں کر سکتا ہمارے فرشتے جنہیں تم دیکھ نہیں سکتے تم سے بھی زیادہ قریب اس مرنے والے سے ہیں ۔جیسے اور جگہ ہے :

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ

ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَـسِبِينَ (۶:۶۱،۶۲)

اللہ اپنے بندوں پر غالب ہے وہ تم پر اپنے پاس سے محافظ بھیجتا ہے جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اسے ٹھیک طور پر فوت کر لیتے ہیں پھر وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ مولائے حق کی طرف بازگشت کرائے جائیں گے جو حاکم ہے اور جلد حساب لے لینے والا ہے ۔

یہاں فرماتا ہے

فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ  (۸۶)‏‏

پس اگر تم کسی کے زیر فرمان نہیں۔‏

تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ  (۸۷)‏‏

اور اس قول میں سچے ہو تو (ذرا) اس روح کو تو لوٹاؤ ۔‏

اگر سچ مچ تم لوگ کسی کے زیر فرمان نہیں ہوا اگر یہ حق ہے کہ تم دوبارہ جینے اور میدان قیامت میں حاضر ہونے کے قائل نہیں ہو اور اس میں تم حق پر ہو اگر تمہیں حشر و نشر کا یقین نہیں اگر تم عذاب نہیں کئے جاؤ گے وغیرہ تو ہم کہتے ہیں اس روح کو جانے ہی کیوں دیتے ہو؟

 اگر تمہارے بس میں ہے تو حلق تک پہنچی ہوئی روح کو واپس اس کی اصلی جگہ پہنچا دو ۔

پس یاد رکھو جیسے اس روح کو اس جسم میں ڈالنے پر ہم قادر تھے اور اس کو بھی تم نے بہ چشم خود دیکھ لیا یقین مانو اسی طرح ہم دوبارہ اسی روح کو اس جسم میں ڈال کر نئی زندگی دینے پر بھی قادر ہیں۔

 تمہارا اپنی پیدائش میں دخل نہیں تو مرنے میں پھر دوبارہ جی اٹھنے میں تمہارا دخل کہاں سے ہو گیا ؟

پھر کیوں تم کہتے پھرتے ہو کہ ہم مر کر زندہ نہیں ہوں گے۔

آگے وہ احوال بیان ہو رہے ہیں جو موت کے وقت سکرات کے وقت دنیا کی آخری ساعت میں انسانوں کے ہوتے ہیں کہ یا تو وہ اعلیٰ درجہ کا اللہ کا مقرب ہے یا اس سے کم درج کا ہے

 جن کے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا ۔ یا بالکل بدنصیب ہے جو اللہ سے جاہل رہا اور راہ حق سے غافل رہا ۔

فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ  (۸۸)‏‏

پس جو کوئی بارگاہ الہٰی سے قریب ہوگا۔‏

فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيمٍ  (۸۹)‏‏

اسے تو راحت ہے اور غذائیں ہیں اور آرام والی جنت ہے۔‏

فرماتا ہے کہ جو مقربین بارگاہ الہٰی ہیں، جو احکام کے عامل تھے، نافرمانیوں کے تارک تھے انہیں تو فرشتے طرح طرح کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے براء کی حدیث گزر ی:

أَيَّتُهَا الرُّوحُ الطَّيِّبَةُ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ كُنْتِ تَعْمُرِينَه، اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبَ غَيْرِ غَضْبَان

رحمت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں اے پاک روح پاک جسم والی روح چل راحت و آرام کیطرف چل کبھی نہ ناراض ہونے والے رحمٰن کی طرف

 رَوْح سے مرد راحت ہے اور رَيْحَان سے مراد آرام ہے۔

غرض دنیا کے مصائب سے راحت مل جاتی ہے ابدی سرور اور سچی خوشی اللہ کے غلام کو اسی وقت حاصل ہوتی ہے وہ ایک فراخی اور وسعت دیکھتا ہے اس کے سامنے رزق اور رحمت ہوتی ہے وہ جنت عدن کی طرف لپکتا ہے۔

حضرت ابوالعالیہ فرماتے ہیں جنت کی ایک ہری بھری شاخ آتی ہے اور اس وقت مقرب اللہ کی روح قبض کی جاتی ہے۔

 محمد بن کعب فرماتے ہیں مرنے سے پہلے ہی ہر مرنے والے کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ جنتی ہے یا جہنمی ہے

 یا اللہ ! ہمارے اس وقت میں تو ہماری مدد کر ہمیں ایمان سے اٹھا اور اپنی رضامندی کی خوشخبری سنا کر سکون و راحت کے ساتھ یہاں سے لے جا آمین

گو سکرات کے وقت کی احادیث ہم سورہ ابراہیم کی آیتيُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡقَوۡلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِى ٱلۡأَخِرَةِ‌، (۱۴:۲۷)  کی تفسیر میں وارد کر چکے ہیں لیکن چونکہ یہ ان کا بہترین موقعہ ہے اس لئے یہاں ایک ٹکڑا بیان کرتے ہیں ۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اللہ تعالیٰ حضرت ملک الموت علیہ السلام سے فرماتا ہے میرے فلاں بندے کے پاس جا اور اسے میرے دربار میں لے آ میں نے اسے رنج راحت و آرام تکلیف خوشی نا خوشی غرض ہر آزمائش میں آزما لیا اور اپنی مرضی کے مطابق پایا بس اب میں اسے ابدی راحت دینا چاہتا ہوں جا اسے میرے خاص دربار میں پیش کر۔

 ملک الموت پانچ سو رحمت کے فرشتے اور جنت کے کفن اور جنتی خوشبوئیں ساتھ لے کر اس کے پاس آتے ہیں گو ریحان ایک ہی ہوتا ہے لیکن سرے پر بیس قسمیں ہوتی ہیں ہر ایک کی جداگانہ مہک ہوتی ہے سفید ریشم ساتھ ہوتا ہے جس میں مشک کی لپٹیں آتی ہیں.۔

 مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت فَرُوْحٌ رے کے پیش سے تھی۔ لیکن تمام قاریوں کی قرأت رے کے زبر سے ہے یعنی فَرَوْحٌ

مسند میں ہے:

 حضرت ام ہانیؓ نے رسول مقبول علیہ السلام سے پوچھا کیا مرنے کے بعد ہم آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے؟

 اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟

 آپ ﷺنے فرمایا :

روح ایک پرند ہو جائے گی جو درختوں کے میوے چگے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو اس وقت اپنے اپنے جسم میں چلی جائیگی،

 اس حدیث میں ہر مؤمن کے لئے بہت بڑی بشارت ہے۔

 مسند احمد میں بھی اس کی شاہد ایک حدیث ہے جس کی اسناد بہت بہتر ہے اور متن بھی بہت قوی ہے

 اور صحیح روایت میں ہے:

 شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہیں، ساری جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی رہتی ہیں اور عرش تلے لٹکی ہوئی قندیلوں میں آ بیٹھتی ہیں۔

 مسند احمد میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابو یعلی ایک جنازے میں گدھے پر سوار جا رہے تھے آپ کی عمر اس وقت بڑھاپے کی تھی سر اور داڑھی کے بال سفید تھے اسی اثناء میں آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جو اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو برا جانتا ہے اللہ بھی اس کی ملاقات سے کراہت کرتا ہے

صحابہ یہ سن کر سر جھکائے رونے لگے۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روتے کیوں ہوں؟

صحابہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھلا موت کون چاہتا ہے؟

فرمایا سنو سنو مطلب سکرات کے وقت سے ہے اس وقت نیک مقرب بندے کو تو راحت و انعام اور آرام دہ جنت کی خوشخبری سنائی جاتی ہے جس پر وہ تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو جلد اللہ سے ملے تا کہ ان نعمتوں سے مالا مال ہو جائے پس اللہ بھی اس کی ملاقات کی تمنا کرتا ہے اور اگر بد بندہ ہے تو اسے موت کے وقت گرمی پانی اور جہنم کی مہمانی کی خبر دی جاتی ہے جس سے یہ بیزار نہ ہوؤں پس اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔

وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ  (۹۰)‏‏

اور جو شخص داہنے (ہاتھ) والوں میں سے ہے

فَسَلَامٌ لَكَ مِنْ أَصْحَابِ الْيَمِينِ  (۹۱)‏‏

تو بھی سلاُمتی ہے تیرے لئے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے۔‏

پھر فرماتا ہےاگر وہ سعادت مندوں سے ہے تو موت کے فرشتے اسے سلام کہتے ہیں تجھ پر سلامتی ہو تو اصحاب یمین میں سے ہے ، اللہ کے عذاب سے تو سلامتی پائے گا اور خود فرشتے بھی اسے سلام کرتے ہیں ۔جیسے اور آیت میں ہے :

إِنَّ الَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَـمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَـئِكَةُ أَلاَّ تَخَافُواْ وَلاَ تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ

نَحْنُ أَوْلِيَآؤُكُمْ فِى الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِى الاٌّخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِى أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَـ نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ (۴۱:۳۰،۳۲)

یعنی سچے پکے توحید والوں کے پاس ان کے انتقال کے وقت رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور انہیں بشارت دیتے ہیں کہ کچھ ڈر خوف نہیں کچھ رنج غم نہ کر جنت تیرے لئے حسب وعدہ تیار ہے، دنیا اور آخرت میں ہم تیری حمایت کے لئے موجود ہیں جو تمہارا جی چاہے تمہارے لئے موجود ہے جو تمنا تم کرو گے پوری ہو کر رہے گی، غفور و رحیم اللہ کے تم ذی عزت مہمان ہو۔

بخاری میں ہے یعنی تیرے لئے مسلم ہے کہ تو اصحاب یمین میں سے ہے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سلام یہاں دعا کے معنی میں ہو، واللہ اعلم

وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ  (۹۲)‏‏

لیکن اگر کوئی جھٹلانے والوں گمراہوں میں سے ہے

فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ  (۹۳)‏‏

تو کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی ہے۔‏

وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ  (۹۴)‏‏

اور دوزخ میں جانا ہے۔‏

اور اگر مرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور ہدایت سے کھویا ہوا ہے تو اس کی ضیافت اس گرم حَمِيم سے ہو گی جو آنتیں اور کھال تک جھلسا دے پھر چاروں طرف سے جہنم کی آگ گھیر لے گی جس میں جلتا بھنتا رہے گا۔

إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ  (۹۵)‏‏

یہ خبر سراسر حق اور قطعاً یقینی ہے۔‏

پھر فرمایا یہ یقینی باتیں ہیں جن کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ  (۹۶)‏‏

پس تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر

پس اپنے بڑے رب کے نام کی تسبیح کرتا رہے۔

مسند میں ہے اس آیت کے اترنے پر آپ ﷺنے فرمایا :

اسے رکوع میں رکھو اور آیت سبح اسم ربک الاعلیٰ  اترنے پر فرمایا اسے سجدے میں رکھو۔

آپﷺ فرماتے ہیں:

 جس نے سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کہا اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگایا جاتا  (ترمذی)

صحیح بخاری شریف کے ختم پر یہ حدیث ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں میزان میں بوجھ ہیں اللہ کو بہت پیارے ہیں

سبحان اللہ وبحمدہ       سبحان اللہ العظیم

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com