تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الحدید

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ

آسمانوں اور زمین میں جو ہے (سب) اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں

کل کائنات ثناء خواں ہے

تمام حیوانات، سب نباتات اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ،

تُسَبِّحُ لَهُ ٱلسَّمَـٰوَٲتُ ٱلسَّبۡعُ وَٱلۡأَرۡضُ وَمَن فِيہِنَّ‌ۚ

وَإِن مِّن شَىۡءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهِۦ وَلَـٰكِن لَّا تَفۡقَهُونَ تَسۡبِيحَهُمۡ‌ۗ إِنَّهُ ۥ كَانَ حَلِيمًا غَفُورً۬ا  (۱۷:۴۴)

ساتواں آسمان، زمینیں ، ان کی مخلوق اور ہر ایک چیز اس کی ستائش کرنے میں مشغول ہے گو تم ان کی تسبیح نہ سمجھ سکو اللہ حلیم و غفور ہے۔

وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ(۱)

وہ زبردست با حکمت ہے۔‏

 اس کے سامنے ہر کوئی پست و عاجز و لاچار ہے، اس کی مقرر کردہ شریعت اور اس کے احکام حکمت سے پر ہیں ۔

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے

حقیقی بادشاہ جس کی ملکیت میں آسمان و زمین ہیں وہی ہے ، خلق میں متصرف وہی ہے،

يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ(۲)

وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی وہ ہرچیز پر قادر ہے۔‏

زندگی موت اسی کے قبضے میں ہے، وہی فنا کرتا ہے، وہی پیدا کرتا ہے ۔ جسے جو چاہے عنایت فرماتا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، جو چاہتا ہے ہو جاتا ہے، جو نہ چاہے نہیں ہو سکتا۔

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۳)

وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی، وہ ہرچیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔

یہ وہ آیت ہے جس کی بابت اوپر کی حدیث میں گزرا کہ ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔

حضرت ابوزمیل حضرت ابن عباسؓ سے کہتے ہیں کہ میرے دل میں ایک کھٹکا ہے لیکن زبان پر لانے کو جی نہیں چاہتا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا شاید کچھ شک ہو گا جس سے کوئی نہیں بچا یہاں تک کہ قرآن میں ہے

فَإِن كُنتَ فِى شَكٍّ۬ مِّمَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ فَسۡـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقۡرَءُونَ ٱلۡڪِتَـٰبَ مِن قَبۡلِكَ‌ۚ (۱۰:۹۴)

یعنی اگر تو جو کچھ تیری طرف نازل کیا گیا ہے اس میں شک میں ہو تو تجھ سے پہلے جو کتاب پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لے ۔

پھر فرمایا جب تیرے دل میں کوئی شک ہو تو اس آیت کو پڑھ لیا کر

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ

وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی،

اس آیت کی تفسیر میں دس سے اوپر اوپر اقوال ہیں ۔

 بخاریؒ فرماتے ہیں یحیٰی کا قول ہے کہ ظاہر باطن سے مراد از روئے علم ہر چیز پر ظاہر اور پوشیدہ ہونا ہے ۔

یہ یحیٰی زیاد فراء کے لڑکے ہیں ان کی ایک تصنیف ہے جس کا نام معانی القرآن ہے۔

 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے۔

اللْهُمَّ رَبَّ السَّموَاتِ السَّبْعِ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ،

رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، لَا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ،

أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْاخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ. اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْر

اے اللہ اے ساتوں آسمانوں کے اور عرش عظیم کے رب،

 اے ہمارے اور ہرچیز کے رب! اے تورات و انجیل کے اتارنے والے! اے دانوں اور گٹھلیوں کو اگانے والے تیرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں میں تیری پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے کہ اس کی چوٹی تیرے ہاتھ میں ہے

 تو اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہ تھا تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ظاہر ہے تجھ سے اونچی کوئی چیز نہیں تو باطن ہے تجھ سے چھپی کوئی چیز نہیں ہمارے قرض ادا کرا دے اور ہمیں فقیری سے غنا دے۔

حضرت ابو صالحؒ اپنے متعلقین کو یہ دعا سکھاتے اور فرماتے سوتے وقت داہنی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا پڑھ لیا کرو، الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ملاحظہ ہو مسلم۔

 ابویعلی میں ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کا بسترہ قبلہ رخ بچھایا جاتا آپ آ کر اپنے داہنے ہاتھ پر تکیہ لگا کر آرام فرماتے ، پھر آہستہ آہستہ کچھ پڑھتے رہتے لیکن آخر رات میں با آواز بلند یہ دعا پڑھتے (جو اوپر بیان ہوئی) الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔

 اس آیت کی تفسیر میں جامع ترمذی میں ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت تشریف فرما تھے کہ ایک بادل سر پر آ گیا آپؐ نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا ہے؟

 صحابؓہ نے با ادب جواب دیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔

 فرمایا اسے عنان کہتے ہیں یہ زمین کو سیراب کرنے والے ہیں ان لوگوں پر بھی یہ برسائے جاتے ہیں جو نہ اللہ کے شکر گزار ہیں نہ اللہ کے پکارنے والے

پھر پوچھا معلوم ہے تمہارے اُوپر کیا ہے

 انہوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول زیادہ باخبر ہے،

 فرمایا بلند محفوظ چھت اور لپٹی ہوئی موج، جانتے ہو تم میں اس میں کس قدر فاصلہ ہے

 وہی جواب ملا،

 فرمایا پانچ سو سال کا راستہ۔

 پھر پوچھا جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟

صحابہؓ نے پھر اپنی لاعلمی ان ہی الفاظ میں ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 اس کے اوپر پھر دوسرا آسمان ہے اور ان دونوں آسمانوں میں بھی پانچ سو سال کا فاصلہ ہے اسی طرح آپ نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو میں اتنی ہی دوری بیان فرمائی۔

 پھر سوال کر کے جواب سن کر فرمایا اس ساتویں کے اوپر اتنے ہی فاصلہ سے عرش ہے،

پھر پوچھا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے اور وہی جواب سن کر فرمایا دوسری زمین ہے،

پھر سوال جواب کے بعد فرمایا اس کے نیچے دوسری زمین ہے اور دونوں زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے، اسی طرح سات زمینیں اسی فاصلہ کے ساتھ ایک دوسرے کے نیچے بتائیں،

پھر فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اگر تم کوئی رسی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ بھی اللہ کے پاس پہنچے گی

 پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی،

لیکن یہ حدیث غریب ہے اس کے راوی حسن کا ایوب یونس اور علی بن زید محدثین کا قول ہے ۔

 بعض اہل علم نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ اس سے مراد رسی کا اللہ تعالیٰ کے علم قدرت اور غلبے تک پہنچنا ہے (نہ کہ ذات باری تعالیٰ) اللہ تعالیٰ کا علم اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور سلطنت بیشک ہر جگہ ہے لیکن وہ اپنی ذات سے عرش پر ہے جیسے کہ اس نے اپنا یہ وصف اپنی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے۔

مسند احمد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں دو دو زمینوں کے درمیان کا فاصلہ سات سو سال کا بیان ہوا۔

 ابن ابی حاتم اور بزار میں بھی یہ حدیث ہے لیکن ابن ابی حاتم میں رسی لٹکانے کا جملہ نہیں اور ہر دو زمین کے درمیان کی دوری اس میں بھی پانچ سو سال کی بیان ہوئی ہے۔

 امام بزار نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس روایت کا راوی آنحضرت ﷺ سے بغیر حضرت ابوہریرہ کے اور کوئی نہیں۔

 ابن جریر میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے یعنی قتادہ فرماتے ہیں ہم سے یوں ذکر کیا گیا ہے پھر حدیث بیان کرتے ہیں صحابی کا نام نہیں لیتے۔

هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ۚ

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستویٰ ہوگیا۔

ہر چیز کا خالق و مالک اللہ ہے ، اللہ تعالیٰ کا زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کرنا اور عرش پر قرار پکڑنا سورہ اعراف کی تفسیر میں پوری طرح بیان ہو چکا ہے اس لئے یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں،

يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ

اور وہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسماں سے نیچے آئے  اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے

اسے بخوبی علم ہے کہ کس قدر بارش کی بوندیں زمین میں گئیں، کتنے دانے زمین میں پڑے اور کیا چارہ پیدا ہوا کس قدر کھیتیاں ہوئیں اور کتنے پھل کھلے، جیسے اور آیت میں ہے

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَآ إِلاَّ هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا وَلاَ حَبَّةٍ فِى ظُلُمَـتِ الاٌّرْضِ

وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِى كِتَـبٍ مُّبِينٍ (۶:۵۹)

غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جنہیں سوائے اس کے اور کوئی جانتا ہی نہیں وہ خشکی اور تری کی تمام چیزوں کا عالم ہے کسی پتے کا گرنا بھی اس کے علم سے باہر نہیں، زمین کے اندھیروں میں پوشیدہ دانہ اور کوئی ترو خشک چیز ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو،

 اسی طرح آسمان سے نازل ہونے والی بارش، اولے، برف، تقدیر اور احکام جو برتر فرشتوں کے بذریعہ نازل ہوتے ہیں، سب اس کے علم میں ہیں، سورہ بقرہ کی تفسیر میں یہ گزر چکا ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ فرشتے بارش کے ایک ایک قطرے کو اللہ کی بتائی ہوئی جگہ پہنچا دیتے ہیں، آسمان سے اترنے والے فرشتے اور اعمال بھی اس کے وسیع علم میں ہیں،

جیسے صحیح حدیث میں ہے:

 رات کے اعمال دن سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کی جناب میں پیش کر دیئے جاتے ہیں،

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ ۚ

اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے

وہ تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارا نگہبان ہے۔

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (۴)

اور جو تم کر رہے ہو وہ اللہ دیکھ رہا ہے۔

تمہارے اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے جیسے بھی ہوں جو بھی ہوں اور تم بھی خواہ خشکی میں ہو خواہ تری میں، راتیں ہوں یا دن ہوں، تم گھر میں ہو یا جنگل میں، ہر حالت میں اس کے علم کے لئے یکساں ہر وقت اس کی نگاہیں اور اس کا سننا تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہارے تمام کلمات سنتا رہتا ہے تمہارا حال دیکھتا رہتا ہے، تمہارے چھپے کھلے کا اسے علم ہے۔جیسے فرمایا ہے

أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۱۱:۵)

یاد رکھو وہ لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کئے دیتے ہیں تاکہ اپنی باتیں (اللہ)سے چھپا سکیں یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں وہ اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔بالیقین وہ دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے۔‏

یعنی اس سے جو چھپنا چاہے اس کا وہ فعل فضول ہے بھلا ظاہر باطن بلکہ دلوں کے ارادے تک سے واقفیت رکھنے والے سے کوئی کیسے چھپ سکتا ہے؟

 ایک اور آیت میں ہے :

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ (۱۳:۱۰)

تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بآواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر و یکساں ہیں

یعنی پوشیدہ باتیں ظاہر باتیں راتوں کو دن کو جو بھی ہوں سب اس پر روشن ہیں۔

یہ سچ ہے وہی رب ہے وہی معبود برحق ہے۔

صحیح حدیث میں ہے:

 جبرائیل کے سوال پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کر کہ گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ پس اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔

 ایک شخص آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتا ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا حکمت کا توشہ دیجئے کہ میری زندگی سنور جائے، آپؐ نے فرمایا:

 اللہ تعالیٰ کا لحاظ کر اور اس سے اس طرح شرما جیسے کہ تو اپنے کسی نزدیکی نیم قرابتدار سے شرماتا ہو جو تجھ سے کبھی جدا نہ ہوتا ہو،

یہ حدیث ابوبکر اسماعیلی نے روایت کی ہے سند غریب ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 جس نے تین کام کر لئے اس نے ایمان کا مزہ اٹھا لیا۔

-         ایک اللہ کی عبادت کی

-         اور اپنے مال کی زکوٰۃ ہنسی خوشی راضی رضامندی سے ادا کی۔ جانور اگر زکوٰۃ میں دینے ہیں تو بوڑھے بیکار دبلے پتلے اور بیمار نہ دے بلکہ درمیانہ راہ اللہ میں دیا

-         اور اپنے نفس کو پاک کیا۔

اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نفس کو پاک کرنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا اس بات کو دل میں محسوس کرے اور یقین و عقیدہ رکھے کہ ہر جگہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے۔ (ابو نعیم) اور حدیث میں ہے افضل ایمان یہ ہے کہ تو جان رکھے کہ تو جہاں کہیں ہے اللہ تیرے ساتھ ہے (نعیم بن حماد) حضرت امام احمد رحمتہ اللہ علیہ اکثر ان دو شعروں کو پڑھتے رہتے تھے۔
اذا ما خلوت الدھر یوما فلا تقل
     خلوت ولکن قل علی رقیب
ولا تحسبن اللہ یغفل ساعتہ
     ولا ان ما یخفی علیہ یغیب

جب تو بالکل تنہائی اور خلوت میں ہو اس وقت بھی یہ نہ کہہ کہ میں اکیلا ہی ہوں۔ بلکہ کہتا رہ کہ تجھ پر ایک نگہبان ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔

 کسی ساعت اللہ تعالیٰ کو بےخبر نہ سمجھ اور مخفی سے مخفی کام کو اس پر مخفی نہ مان۔

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ

آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے

پھر فرماتا ہے کہ دنیا اور آخرت کا مالک وہی ہے جیسے اور آیت میں ہے

وَإِنَّ لَنَا لَلۡأَخِرَةَ وَٱلۡأُولَىٰ  (۹۲:۱۳)

دنیا آخرت کی ملکیت ہماری ہی ہے۔

اس کی تعریف اس بادشاہت پر بھی کرنی ہمارا فرض ہے۔ فرماتا ہے

وَهُوَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِى ٱلۡأُولَىٰ وَٱلۡأَخِرَةِ‌ۖ‌ۖ (۲۸:۷۰)

وہی معبود برحق ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ایک

 اور آیت میں ہے

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَهُ ۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَا فِى ٱلۡأَرۡضِوَلَهُ ٱلۡحَمۡدُ فِى ٱلۡأَخِرَةِۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ  (۳۴:۱)

اللہ کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس کی ملکیت میں آسمان و زمین کی تمام چیزیں ہیں اور اسی کی حمد ہے آخرت میں اور وہ دانا خبردار ہے۔

پس ہر وہ چیز جو آسمان و زمین میں ہے اس کی بادشاہت میں ہے۔ ساری آسمان و زمین کی مخلوق اس کی غلام اور اس کی خدمت گزار اور اس کے سامنے پست ہے۔ جیسے فرمایا

إِن ڪُلُّ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ إِلَّآ ءَاتِى ٱلرَّحۡمَـٰنِ عَبۡدً۬ا لَّقَدۡ أَحۡصَٮٰهُمۡ وَعَدَّهُمۡ عَدًّ۬ا وَكُلُّهُمۡ ءَاتِيهِ يَوۡمَ ٱلۡقِيَـٰمَةِ فَرۡدًا (۱۹:۹۳،۹۵)

آسمان و زمین کی کل مخلوق رحمن کے سامنے غلامی کی حیثیت میں پیش ہونے والی ہے ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو ایک ایک کر کے گن رکھا ہے، یہ سارے کے سارے قیامت  کے دن  اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں۔

وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (۵)

 اور تمام کام اس کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔‏

اسی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں، اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم دیتا ہے، وہ عدل ہے ظلم نہیں کرتا، بلکہ ایک نیکی کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے اور پھر اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے،

إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ۬‌ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً۬ يُضَـٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِن لَّدُنۡهُ أَجۡرًا عَظِيمً۬ا  (۴:۴۰)

بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتااور اگر نیکی ہو تو اسےدوگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے

ارشاد ہے :

وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٲزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَـٰمَةِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ۬ شَيۡـًٔ۬ا‌ۖ وَإِن ڪَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ۬ مِّنۡ خَرۡدَلٍ أَتَيۡنَا بِہَا‌ۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَـٰسِبِينَ  (۲۱:۴۷)

قیامت  کے روز ہم عدل کی ترازو رکھیں گے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا رائی کے برابر کا عمل بھی ہم سامنے لا رکھیں گے

 اور ہم حساب کرنے اور لینے میں کافی ہیں۔

پھر فرمایا

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۚ

وہی رات کو دن میں لے جاتا ہے اور وہی دن کو رات میں داخل کر دیتا ہے

خلق میں تصرف بھی اسی کا چلتا ہے دن رات کی گردش بھی اسی کے ہاتھ ہے اپنی حکمت سے گھٹاتا بڑھاتا ہے کبھی دن لمبے کبھی راتیں اور کبھی دونوں یکساں،کبھی جاڑا، کبھی گرمی، کبھی بارش ، کبھی بہار، کبھی خزاں اور یہ سب بندوں کی خیر خواہی اور انکی مصلحت کے لحاظ سے ہے

وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (۶)

اور سینوں کے بھید کا پورا عالم ہے۔‏

وہ دلوں کی چھوٹی سے چھوٹی باتوں اور دور کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے۔

آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ

اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے

 اللہ تبارک و تعالیٰ خود اپنے اوپر اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور اس پر مضبوطی اور ہمیشگی کے ساتھ جم کر رہنے کی ہدایت فرماتا ہے اور اپنی راہ میں خیرات کرنے کی رغبت دلاتا ہے جو مال ہاتھوں ہاتھ تمہیں اس نے پہنچایا ہو تم اس کی اطاعت گزاری میں اسے خرچ کرو اور سمجھ لو کہ جس طرح دوسرے ہاتھوں سے تمہیں ملا ہے اسی طرح عنقریب تمہارے ہاتھوں سے دوسرے ہاتھوں میں چلا جائے گا اور تم پر حساب اور عتاب رہ جائے گا

 اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ تیرے بعد تیرا وارث ممکن ہے نیک ہو اور وہ تیرے ترکے کو میری راہ میں خرچ کر کے مجھ سے قربت حاصل کرے اور ممکن ہے کہ وہ بد اور اپنی مستی اور سیاہ کاری میں تیرا اندوختہ فنا کر دے اور اس کی بدیوں کا باعث تو بنے نہ تو چھوڑتا نہ اڑاتا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ  پڑھ کر فرمانے لگے

 انسان گو کہتا رہتا ہے یہ بھی میرا مال ہے یہ بھی میرا مال ہے حالانکہ دراصل انسان کا مال وہ ہے جو کھا لیا پہن لیا صدقہ کر دیا کھایا ہوا فنا ہو گیا پہنا ہوا پرانا ہو کر برباد ہو گیا، ہاں راہ اللہ دیا ہوا بطور خزانہ کے جمع رہا۔  (مسلم)

اور جو باقی رہے گا وہ تو اوروں کا مال ہے تو تو اسے جمع کر کے چھوڑ جانے والا ہے۔

فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ (۷)

پس تم میں سے جو ایمان لائیں اور خیرات کریں انہیں بہت بڑا ثواب ملے گا۔‏

پھر ان ہی دونوں باتوں کی ترغیب دلاتا ہے اور بہت بڑے اجر کا وعدہ دیتا ہے۔

پھر فرماتا ہے

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ

تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ حالانکہ خود رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے

تمہیں ایمان سے کون سی چیز روکتی ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم میں موجود ہیں وہ تمہیں ایمان کی طرف بلا رہے ہیں دلیلیں دے رہے ہیں اور معجزے دکھا رہے ہیں،

صحیح بخاری کی شرح کے ابتدائی حصہ کتاب الایمان میں ہم یہ حدیث بیان کر آئے ہیں :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا سب سے زیادہ اچھے ایمان والے تمہارے نزدیک کون ہیں؟

 کہا فرشتے،

 فرمایا وہ تو اللہ کے پاس ہی ہیں پھر ایمان کیوں نہ لاتے؟

 کہا پھر انبیاء

فرمایا ان پر تو وحی اور کلام اللہ اترتا ہے وہ کیسے ایمان نہ لاتے؟

 کہا پھر ہم فرمایا:

 واہ تم ایمان سے کیسے رک سکتے تھے، میں تم میں زندہ موجود ہوں، سنو بہترین اور عجیب تر ایماندار وہ لوگ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، صحیفوں میں لکھا دیکھیں گے اور ایمان قبول کریں گے،

سورہ بقرہ کے شروع میں آیت  ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱلۡغَيۡبِ (۲:۳)  کی تفسیر میں بھی ہم ایسی احادیث لکھ آئے ہیں،

 وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (۸)

 اور اگر تم مؤمن ہو تو وہ تم سے مضبوط عہد و پیمان بھی لے چکا ہے ۔

پھر انہیں روز میثاق کا قول و قرار یاد دلاتا ہے جیسے اور آیت میں ہے:

وَٱذۡڪُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ وَمِيثَـٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦۤ إِذۡ قُلۡتُمۡ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَا‌ۖ (۵:۷)

تم پر اللہ کی نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور  اس کے اس عہد کوبھی جس کا تم سے معاہدہ ہوا ہے جبکہ تم نے سنا اور مانا

 اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنا ہے اور امام ابن جریر ؒفرماتے ہیں مراد وہ میثاق ہے جو حضرت آدمؑ کی پیٹھ میں ان سے لیا گیا تھا، مجاہد کا بھی یہی مذہب ہے ۔ واللہ اعلم

هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَى عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ

وہ (اللہ) ہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیتیں اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جائے

وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن حجتیں اور بہترین دلائل اور عمدہ تر آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ ظلم و جہل کی گھنگھور گھٹاؤں اور رائے قیاس کی بدترین اندھیریوں سے تمہیں نکال کر نورانی اور روشن صاف اور سیدھی راہ حق پر لا کھڑا کر دے ۔

وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (۹)

 یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نرمی کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔‏

اللہ رؤف ہے ساتھ ہی رحیم ہے یہ اس کا سلوک اور کرم ہے کہ لوگوں کی رہنمائی کے لئے کتابیں اتاریں، رسول بھیجے، شکوک و شبہات دور کر دیئے، ہدایت کی وضاحت کر دی ۔ ایمان اور خیرات کا حکم کر کے پھر ایمان کی رغبت دلا کر اور یہ بیان فرما کر کہ ایمان نہ لانے کا اب کوئی عذر میں نے باقی نہیں رکھا پھر صدقات کی رغبت دلائی،

اور فرمایا

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ

تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے؟ دراصل آسمانوں اور زمینوں کی میراث کا مالک (تنہا) اللہ ہی ہے

میری راہ میں خرچ کرو اور فقیری سے نہ ڈرو، اس لئے کہ جس کی راہ میں تم خرچ کر رہے ہو وہ زمین و آسمان کے خزانوں کا تنہا مالک ہے، عرش و کرسی اسی کی ہے اور وہ تم سے اس خیرات کے بدلے انعام کا وعدہ کر چکا ہے۔ فرماتا ہے:

وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَىۡءٍ۬ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۖ ۥ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٲزِقِينَ  (۳۴:۳۹)

جو کچھ تم راہ اللہ دو گے اس کا بہترین بدلہ وہ تمہیں دے گا اور روزی رساں درحقیقت وہی ہے

 اور فرماتا ہے:

مَا عِندَكُمۡ يَنفَدُ‌ۖ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ بَاقٍ۬‌ۗ (۱۶:۹۶)

اگر یہ فانی مال تم خرچ کرو گے وہ اپنے پاس کا ہمیشگی والا مال تمہیں دے گا۔

توکل والے خرچ کرتے رہتے ہیں اور مالک عرش انہیں تنگی ترشی سے محفوظ رکھتا ہے، انہیں اس بات کا اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے فی سبیل اللہ خرچ کردہ مال کا بدلہ دونوں جہان میں ہمیں قطعاً مل کر رہے گا ۔

لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ

تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ (دوسروں کے) برابر نہیں   

أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ

بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہاد کیے،

پھر اس امر کا بیان ہو رہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے جن لوگوں نے راہ اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا اور جن لوگوں نے یہ نہیں کیا گو بعد فتح مکہ کیا ہو یہ دونوں برابر نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بھی کہ اس وقت تنگی ترشی زیادہ تھی اور قوت طاقت کم تھی اور اس لئے بھی کہ اس وقت ایمان وہی قبول کرتا تھا جس کا دل ہر میل کچیل سے پاک ہوتا تھا۔

فتح مکہ کے بعد تو اسلام کو کھلا غلبہ ملا اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور فتوحات کی وسعت ہوئی ساتھ ہی مال بھی نظر آنے لگا، پس اس وقت اور اس وقت میں جتنا فرق ہے اتنا ہی ان لوگوں اور ان لوگوں کے اجر میں فرق ہے، انہیں بہت بڑے اجر ملیں گے گو دونوں اصل بھلائی اور اصل اجر میں شریک ہیں،

 بعض نے کہا ہے فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے۔ اس کی تائید مسند احمد کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے :

 حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ میں کچھ اختلاف ہو گیا جس میں حضرت خالدؓ نے فرمایا تم اسی پر اکڑ رہے ہو کہ ہم سے کچھ دن پہلے اسلام لائے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا :

میرے صحابہ کو میرے لئے چھوڑ دو، اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم احد کے یا کسی اور پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو بھی ان کے اعمال کو پہنچ نہیں سکتے ۔

 ظاہر ہے کہ یہ واقعہ حضرت خالدؓ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے اور آپ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے تھے اور یہ اختلاف جس کا ذکر اس روایت میں ہے بنو جذیمہ کے بارے میں ہوا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد کی امارت میں اس کی طرف ایک لشکر بھیجا تھا جب وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے پکارنا شروع کیا ہم مسلمان ہوگئے ہم صابی ہوئے یعنی بےدین ہوئے، اس لئے کہ کفار مسلمانوں کو یہی لفظ کہا کرتے تھے حضرت خالدؓ نے غالباً اس کلمہ کا اصلی مطلب نہ سمجھ کر ان کے قتل کا حکم دے دیا بلکہ ان کے جو لوگ گرفتار کئے گئے تھے انہیں قتل کر ڈالنے کا حکم دیا اس پر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے ان کی مخالفت کی اس واقعہ کا مختصر بیان اوپر والی حدیث میں ہے۔

 صحیح حدیث میں ہے :

میرے صحابہ کو برا نہ کہو اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے تین پاؤ اناج کے ثواب کو نہیں پہنچے گا بلکہ ڈیڑھ پاؤ کو بھی نہ پہنچے گا۔

 ابن جریر میں ہے حدیبیہ والے سال ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب عسفان میں پہنچے تو آپ نے فرمایا :

ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں حقیر سمجھنے لگو گے

ہم نے کہا کیا قریشی؟

 فرمایا نہیں بلکہ یمنی نہایت نرم دل نہایت خوش اخلاق سادہ مزاج ۔

 ہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر کیا وہ ہم سے بہتر ہوں گے؟

 آپؐ نے جواب دیا کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو اور وہ اسے راہ اللہ خرچ کرے تو تم میں سے ایک کے تین پاؤ بلکہ ڈیڑھ پاؤ اناج کی خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکتا ۔ یاد رکھو کہ ہم میں اور دوسرے تمام لوگوں میں یہی فرق ہے

 پھر آپ نے اسی آیت لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ کی تلاوت کی،

لیکن یہ روایت غریب ہے،

بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید خدری ؓکی روایت میں خارجیوں کے ذکر میں ہے:

 تم اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلہ پر حقیر اور کمتر شمار کرو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے

 ابن جریر میں ہے:

 عنقریب ایک قوم آئے گی کہ تم اپنے اعمال کو کمتر سمجھنے لگو گے جب ان کے اعمال کے سامنے رکھو گے

صحابہ نے پوچھا کیا وہ قریشیوں میں سے ہوں گے

 آپؐ نے فرمایا نہیں وہ سادہ مزاج نرم دل یہاں والے ہیں اور آپ نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا پھر فرمایا وہ یمنی لوگ ہیں ایمان تو یمن والوں کا ایمان ہے اور حکمت یمن والوں کی حکمت ہے

ہم نے پوچھا کیا وہ ہم سے بھی افضل ہوں گے؟

فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ان میں سے کسی کے پاس سونے کا پہاڑ ہو اور اسے وہ راہ اللہ دے ڈالے تو بھی تمہارے ایک مد یا آدھے مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر آپ نے اپنی اور انگلیاں تو بند کر لیں اور چھنگیا کو دراز کر کے فرمایا خبردار رہو یہ ہے فرق ہم میں اور دوسرے لوگوں میں، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی،

پس اس حدیث میں حدیبیہ کا ذکر نہیں۔

پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کے بعد کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دی ہو، جیسے کہ سورہ مزمل میں جو ان ابتدائی سورتوں میں سے ہے جو مکہ شریف میں نازل ہوئی تھیں پروردگار نے خبر دی تھی کہ وَءَاخَرُونَ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ‌ (۷۳:۲۰) یعنی کچھ اور لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں پس جس طرح اس آیت میں ایک آنے والے واقعہ کا تذکرہ ہے اسی طرح اس آیت کو اور حدیث کو بھی سمجھ لیا جائے ۔ واللہ اعلم

وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى ۚ

ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے

 پھر فرماتا ہے کہ ہر ایک سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ کیا ہے یعنی فتح مکہ سے پہلے اور اس کے بعد بھی جس نے جو کچھ راہ اللہ دیا ہے کسی کو اس سے کم ۔ جیسے اور جگہ ہے:

لاَّ يَسْتَوِى الْقَـعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُوْلِى الضَّرَرِ وَالْمُجَـهِدُونَ فِى سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ بِأَمْوَلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَـعِدِينَ دَرَجَةً وَكُـلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَـهِدِينَ عَلَى الْقَـعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً (۴:۹۵)

اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مؤمن اور بغیر عذر کے بیٹھے رہنے والے مؤمن برابر نہیں  اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعدہ دیا  ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔‏

صحیح حدیث میں ہے:

 قوی مؤمن اللہ کے نزدیک ضعیف مؤمن سے افضل ہے لیکن بھلائی دونوں میں ہے ۔ اگر یہ فقرہ اس آیت میں نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ کسی کو ان بعد والوں کی سبکی کا خیال گذرے اس لئے فضیلت بیان فرما کر پھر عطف ڈال کر اصل اجر میں دونوں کو شریک بتایا۔

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۱۰)

جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے۔‏

پھر فرمایا تمہارے تمام اعمال کی تمہارے رب کو خبر ہے وہ درجات میں جو تفاوت رکھتا ہے وہ بھی انداز سے نہیں بلکہ صحیح علم سے۔

حدیث شریف میں ہے:

 ایک درہم ایک لاکھ درہم سے بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس آیت کے بڑے حصے دار حضرت صدیق اکبر ؓ ہیں اس لیے کہ اس پر عمل کرنے والے تمام نبیوں کی اُمت کے سردار  آپ ہیں آپ نے ابتدائی تنگی کے وقت اپنا کل مال راہ اللہ دے دیا تھا جس کا بدلہ سوائے اللہ کے کسی اور سے مطلوب نہ تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں دربار رسالت مآب میں تھا اور حضرت صدیق اکبرؓ بھی تھے۔ صرف ایک عبا آپ کے جسم پر تھی، گریبان کانٹے سے اٹکائے ہوئے تھے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور پوچھا

 کیا بات ہے جو حضرت ابوبکر نے فقط ایک عبا پہن رکھی ہے اور کانٹا لگا رکھا ہے؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

انہوں نے اپنا کل مال میرے کاموں میں فتح سے پہلے ہی راہ اللہ خرچ کر ڈالا ہے اب ان کے پاس کچھ نہیں،

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا ان سے کہو کہ اللہ انہیں سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس فقیری میں تم مجھ سے خوش ہو یا ناخوش ہو؟ آپ ؐنے حضرت صدیقؓ کو یہ سب کہہ کر سوال کیا۔

 جواب ملا کہ اپنے رب عزوجل سے ناراض کیسے ہو سکتا ہوں میں اس حال میں بہت خوش ہوں۔

 یہ حدیث سنداً ضعیف ہے۔  واللہ اعلم

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا

کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح قرض دے

  پھر فرماتا ہے کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا ہے۔ بعض نے کہا ہے بال بچوں کو کھلانا پلانا وغیرہ خرچ مراد ہے ۔

 ہو سکتا ہے کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے دونوں صورتوں کو شامل ہو،

فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ (۱۱)

پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کے لئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے پسندیدہ اجر ثابت ہو جائے۔

پھر اس پر وعدہ فرماتا ہے کہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر بدلہ ملے گا اور جنت میں پاکیزہ تر روزی ملے گی،

اس آیت کو سن کر حضرت ابو دحداح انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کیا ہمارا رب ہم سے قرض مانگتا ہے؟

 آپؐ نے فرمایا ہاں،

کہا ذرا اپنا ہاتھ تو دیجئے آپ نے ہاتھ بڑھایا تو آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا میرا باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں وہ میں نے اپنے رب کو دیا

 آپ کے بیوی بچے بھی اسی باغ میں تھے آپ آئے اور باغ کے دروازے پر کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی وہ لبیک کہتی ہوئی آئیں تو فرمانے لگے بچوں کو لے کر چلی آؤ میں نے یہ باغ اپنے رب عزوجل کو قرض دے دیا ہے۔

 وہ خوش ہو کر کہنے لگیں آپ نے بہت نفع کی تجارت کی اور بال بچوں کو اور گھر کے اثاثے کو لے کر باہر چلی آئیں،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے جنتی درخت وہاں کے باغات جو میوؤں سے لدے ہوئے اور جن کی شاخیں یا قوت اور موتی کی ہیں ابو دحداح کو اللہ نے دے دیں۔

يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ

(قیامت  کے) دن تو دیکھے گا کہ ایماندار مردوں اور عورتوں کا نور انکے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا

یہاں بیان ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے نیک اعمال کے مطابق انہیں نور ملے گا جو قیامت  کے دن کے ان کے ساتھ ساتھ رہے گا ۔

 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 ان میں بعض کا نور پہاڑوں کے برابر ہو گا اور بعض کا کھجوروں کے درختوں کے برابر اور بعض کا کھڑے انسان کے قد کے برابر سب سے کم نور جس گنہگار مؤمن کا ہو گا اس کے پیر کے انگوٹھے پر نور ہو گا جو کبھی روشن ہوتا ہو گا اور کبھی بجھ جاتا ہو گا  ۔ (ابن جریر)

حضرت قتادہؒ فرماتے ہیں ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 بعض مؤمن ایسے بھی ہوں گے جن کا نور اس قدر ہو گا کہ جس قدر مدینہ سے عدن دور ہے اور ابین دور ہے اور صنعا دور ہے۔ بعض اس سے کم بعض اس سے کم یہاں تک کہ بعض وہ بھی ہوں گے جن کے نور سے صرف ان کے دونوں قدموں کے پاس ہی اجالا ہو گا۔

 حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں:

 لوگو ! تمہارے نام مع ولدیت کے اور خاص نشانیوں کے اللہ کے ہاں لکھے ہوئے ہیں اسی طرح تمہارا ہر ظاہر باطن عمل بھی وہاں لکھا ہوا ہے قیامت  کے دن نام لے کر پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ اے فلاں یہ تیرا نور ہے اور اے فلاں تیرے لئے کوئی نور ہمارے ہاں نہیں ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔

حضرت ضحاکؒ فرماتے ہیں:

اول اول تو ہر شخص کو نور عطا ہو گا لیکن جب پل صراط پر جائیں گے تو منافقوں کا نور بجھ جائے گا اسے دیکھ کر مؤمن بھی ڈرنے لگیں گے کہ ایسا نہ ہو ہمارا نور بھی بجھ جائے تو اللہ سے دعائیں کریں گے کہ یا اللہ ہمارا نور ہمارے لئے پورا پورا کر۔

حضرت حسنؒ فرماتے ہیں:

 اس آیت سے مراد پل صراط پر نور کا ملنا ہے تاکہ اس اندھیری جگہ سے با آرام گزر جائیں۔

 رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 سب سے پہلے سجدے کی اجازت قیامت  کے دن مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کا حکم بھی مجھے ہو گا میں آگے پیچھے دائیں بائیں نظریں ڈالوں گا اور اپنی اُمت کو پہچان لوں گا

تو ایک شخص نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ کی اُمت تک کی تمام اُمتیں اس میدان میں اکٹھی ہوں گی ان میں سے آپ اپنی اُمت کی شناخت کیسے کریں گے؟

 آپ ؐنے فرمایا :

بعض مخصوص نشانیوں کی وجہ سے میری اُمت کے اعضاء وضو چمک رہے ہوں گے یہ وصف کسی اور اُمت میں نہ ہو گا اور انہیں ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کے چہرے چمک رہے ہوں گے اور ان کا نور ان کے آگے آگے چلتا ہو گا اور ان کی اولاد ان کے ساتھ ہی ہو گی۔

 ضحاکؒ فرماتے ہیں ان کے دائیں ہاتھ میں ان کا عمل نامہ ہو گا جیسے اور آیتوں میں تشریح ہے۔

بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ

آج تمہیں ان جنتوں کی خوشخبری ہے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں ہمیشہ کی رہائش ہے۔

ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں ان جنتوں کی بشارت ہے جن کے چپے چپے پر چشمے جاری ہیں جہاں سے کبھی نکلنا نہیں،

ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ  (۱۲)

 یہ ہے بڑی کامیابی

یہ زبردست کامیابی ہے۔

 اگلی آیت میں میدان قیامت کے ہولناک دل شکن اور کپکپا دینے والے واقعہ کا بیان ہے کہ سوائے سچے ایمان اور کھرے اعمال والوں کے نجات کسی کو منہ دکھائے گی ۔

سلیم بن عامر فرماتے ہیں ہم ایک جنازے کے ساتھ باب دمشق میں تھے جب جنازے کی نماز ہو چکی اور دفن کا کام شروع ہوا تو حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

 لوگو! تم اس دنیا کی منزل میں آج صبح شام کر رہے ہو نیکیاں برائیاں کر سکتے ہو اس کے بعد ایک اور منزل کی طرف تم سب کوچ کرنے والے ہو وہ منزل یہی قبر کی ہے جو تنہائی کا، اندھیرے کا، کیڑوں کا اور تنگی اور تاریکی والا گھر ہے مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ اسے وسعت دے دے۔ یہاں سے تم پھر میدان قیامت کے مختلف مقامات پر وارد ہو گے۔ ایک جگہ بہت سے لوگوں کے چہرے سفید ہو جائیں گے اور بہت سے لوگوں کے سیاہ پڑ جائیں گے، پھر ایک اور میدان میں جاؤ گے جہاں سخت اندھیرا ہو گا وہاں ایمانداروں کو نور تقسیم کیا جائے گا اور کافر و منافق بےنور رہ جائے گا، اسی کا ذکر آیت أَوۡ كَظُلُمَـٰتٍ۬ فِى بَحۡرٍ۬ لُّجِّىٍّ۬ يَغۡشَٮٰهُ (۲۴:۴۰)  میں ہے

پس جس طرح آنکھوں والے کی بصارت سے اندھا کوئی نفع حاصل نہیں کر سکتا منافق و کافر ایماندار کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔

يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ

اس دن منافق مرد و عورت ایمانداروں سے کہیں گے کہ ہمارا انتظار تو کرو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں۔

تو منافق ایمانداروں سے آرزو کریں گے کہ اس قدر آگے نہ بڑھ جاؤ کچھ تو ٹھہرو جو ہم بھی تمہارے نور کے سہارے چلیں تو جس طرح یہ دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ مکر و فریب کرتے تھے

قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا

جواب دیا جائے گا کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ  اور روشنی تلاش کرو

آج ان سے کہا جائے گا کہ لوٹ جاؤ اور نور تلاش کر لاؤ یہ واپس نور کی تقسیم کی جگہ جائیں گے لیکن وہاں کچھ نہ پائیں گے، یہی اللہ کا وہ مکر ہے جس کا بیان آیت  وَهُوَ خَـٰدِعُهُمۡ (۴:۱۴۲) میں ہے۔

 اب لوٹ کر یہاں جو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ مؤمنوں اور ان کے درمیان ایک دیوار حائل ہو گئی ہے جس کے اس طرف رحمت ہی رحمت ہے اور اس طرف عذاب و سزا ہے ۔ پس منافق نور کی تقسیم کے وقت تک دھوکے میں ہی پڑ رہے گا نور مل جانے پر بھید کھل جائے گا تمیز ہو جائے گی اور یہ منافق اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جائیں گے ۔

 ابن عباسؓ سے مروی ہے :

جب کامل اندھیرا چھایا ہوا ہو گا کہ کوئی انسان اپنا ہاتھ بھی نہ دیکھ سکے اس وقت اللہ تعالیٰ ایک نور ظاہر کرے گا مسلمان اس طرف جانے لگیں گے تو منافق بھی پیچھے لگ جائیں گے۔ جب مؤمن زیادہ آگے نکل جائیں گے تو یہ انہیں ٹھہرانے کے لئے آواز دیں گے اور یاد دلائیں گے کہ دنیا میں ہم سب ساتھ ہی تھے ۔

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 قیامت کے دن لوگوں کو ان کی پردہ پوشی کے لئے ان کے ناموں سے پکارا جائے گا لیکن پل صراط پر تمیز ہو جائے گی مؤمنوں کو نور ملے گا اور منافقوں کو بھی ملے گا لیکن جب درمیان میں پہنچ جائیں گے منافقوں کا نور بجھ جائے گا یہ مؤمنوں کو آواز دیں گے لیکن اس وقت خود مؤمن خوف زدہ ہو رہے ہوں گے یہ وہ وقت ہو گا کہ ہر ایک آپادھاپی میں ہو گا،

فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ (۱۳)

پھر ان کے اور ان کے درمیان  ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں دروازہ بھی ہوگا اس کے اندرونی حصہ میں تو رحمت ہوگی

اور باہر کی طرف عذاب ہوگا۔

جس دیوار کا یہاں ذکر ہے یہ جنت و دوزخ کے درمیان حد فاصل ہو گی اسی کا ذکر آیت وَبَيۡنَہُمَا حِجَابٌ۬ (۷:۴۶)  میں ہے ۔ پس جنت میں رحمت اور جہنم میں عذاب۔

ٹھیک بات یہی ہے لیکن بعض کا قول ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کی دیوار ہے جو جہنم کی وادی کے پاس ہو گی،

 ابن عمر ؓسے مروی ہے کہ یہ دیوار بیت المقدس کی شرقی دیوار ہے جس کے باطن میں مسجد وغیرہ ہے اور جس کے ظاہر میں وادی جہنم ہے

 اور بعض بزرگوں نے بھی یہی کہا ہے،

لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ بعینہ یہی دیوار اس آیت میں مراد ہے بلکہ اس کا ذکر بطور قرب کے معنی میں آیت کی تفسیر میں ان حضرات نے کر دیا ہے اس لئے کہ جنت آسمانوں میں اعلیٰ علین میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں

حضرت کعب احبارؓ سے مروی ہے کہ جس دروازے کا ذکر اس آیت میں ہے اس سے مراد مسجد کا باب الرحمت ہے یہ بنو اسرائیل کی روایت ہے جو ہمارے لئے سند نہیں بن سکتی۔

 حقیقت یہ ہے کہ یہ دیوار قیامت کے دن مؤمنوں اور منافقوں کے درمیان علیحدگی کے لئے کھڑی کی جائے گی مؤمن تو اس کے دروازے میں سے جا کر جنت میں پہنچ جائیں گے پھر دروازہ بند ہو جائے گا اور منافق حیرت زدہ ظلمت و عذاب میں رہ جائیں گے۔ جیسے کہ دنیا میں بھی یہ لوگ کفر و جہالت شک و حیرت کی اندھیروں میں تھے،

يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ ۖ

یہ چلا چلا کر ان سے کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے

اب یہ یاد دلائیں گے کہ دیکھو دنیا میں ہم تمہارے ساتھ تھے جمعہ جماعت ادا کرتے تھے عرفات اور غزوات میں موجود رہتے تھے واجبات ادا کرتے تھے۔

قَالُوا بَلَى وَلَكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ

وہ کہیں گے ہاں تھے تو سہی لیکن تم نے اپنے آپ کو فتنہ میں پھنسا رکھا تھا اور وہ انتظار میں ہی رہےاور شک وشبہ کرتے رہے

ایماندار کہیں گے ہاں بات تو ٹھیک ہے لیکن اپنے کرتوت تو دیکھو گناہوں میں نفسانی خواہشوں میں اللہ کی نافرمانیوں میں عمر بھر تم لذتیں اٹھاتے رہے اور آج توبہ کر لیں گے کل بد اعمالیوں چھوڑ دیں گے اسی میں رہے۔ انتظار میں ہی عمر گزار دی کہ دیکھیں مسلمانوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟

 اور تمہیں یہ بھی یقین نہ آیا کہ قیامت  آئے گی بھی یا نہیں؟

وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّى جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ (۱۴)

تمہیں تمہاری فضول تمناؤں نے دھوکے میں ہی رکھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے رکھنے والے نے دھوکے میں رکھا۔

اور پھر اس آرزو میں رہے کہ اگر آئے گی پھر تو ہم ضرور بخش دیئے جائیں گے اور مرتے دم تک اللہ کی طرف یقین خلوص کے ساتھ جھکنے کی توفیق میسر نہ آئی اور اللہ کے ساتھ تمہیں دھوکے باز شیطان نے دھوکے میں ہی رکھا۔ یہاں تک کہ آج تم جہنم واصل ہو گئے ۔

 مطلب یہ ہے کہ جسموں سے تو تم ہمارے ساتھ تھے لیکن دل اور نیت سے ہمارے ساتھ نہ تھے بلکہ حیرت و شک میں ہی پڑے رہے ریا کاری میں رہے اور دل لگا کر یاد الہٰی کرنا بھی تمہیں نصیب نہ ہوا۔

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں:

 یہ منافق مؤمنوں کے ساتھ تھے نکاح بیاہ مجلس مجمع موت زیست میں شریک رہے۔ کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے۔ اصل و فرع میں ان سے بالکل الگ رہو،

حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ یہ منافق مؤمنوں کے ساتھ  تھے نکاح، بیاہ مجلس موت زیست میں شریک رہے۔ لیکن اب یہاں بالکل الگ کر دیئے گئے۔

سورہ مدثر کی آیتوں میں ہے کہ مسلمان مجرموں سے انہیں جہنم میں دیکھ کر پوچھیں گے کہ آخر تم یہاں کیسے پھنس گئے اور وہ اپنے بد اعمال گنوائیں گے۔ تو یاد رہے کہ یہ سوال صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے اور انہیں شرمندہ کرنے کے لئے ہو گا ورنہ حقیقت حال سے مسلمان خوب آگاہ ہوں گے۔ پھر یہ جیسے وہاں فرمایا تھا کہ کسی کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی،

 یہاں فرمایا

فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ

الغرض، آج تم سے فدیہ (اور نہ بدلہ) قبول کیا جائے گا اور نہ کافروں سے

آج ان سے فدیہ نہ لیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں قبول نہ کیا جائے گا نہ منافقوں سے نہ کافروں سے

مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (۱۵)

تم (سب) کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہاری رفیق ہےاور وہ برا ٹھکانا ہے۔‏

 ان کا مرجع و ماویٰ جہنم ہے وہی ان کے لائق ہے اور ظاہر ہے کہ وہ بدترین جگہ ہے۔

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ

کیا اب تک ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الہٰی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہوجائیں

پروردگار عالم فرماتا ہے کیا مؤمنوں کے لیے اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ذکر اللہ وعظ نصیحت آیات قرآنی اور احادیث نبوی سن کر  ان کے دل موم ہو جائیں؟ سنیں اور مانیں اور احکام بجا لائیں ممنوعات سے پرہیز کریں۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ قرآن نازل ہوتے ہی تیرہ سال کا عرصہ نہ گزرا تھا کہ مسلمانوں کے دلوں کو اس طرف نہ جھکنے کی دیر کی شکایت کی گئی۔

ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں چار ہی سال ہوئے تھے جو ہمیں یہ عذاب ہوا۔ مسلم

اصحاب رسول پر ملال ہوا  کہ رسول ﷺ سے کہتے ہیں حضرت کچھ بات تو بیان فرمائیے پس یہ آیت اتری:

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ أَحۡسَنَ (۱۲:۳) 

ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد عرض کرتے ہیں  تو یہ آیت اتری

ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحۡسَنَ ٱلۡحَدِيثِ (۳۹:۲۳)

پھر ایک عرصہ بعد  یہی بات کہتے ہیں تو یہ آیت أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا اترتی ہے

 رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

سب سے پہلے یو خیر میری اُمت سے اٹھ یائے گی وہ خشوع ہو گا۔

وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ

اور ان کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی  پھر جب زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے

پھر فرمایا تم یہود و انصاریٰ کی طرح مت ہو جانا جنہوں نے کتاب اللہ کو بدل دیا تھوڑے تھوڑے مول پر اسے فروخت کر دیا۔ پس کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر رائے اور قیاس کے پیچھے پڑھ گئے اور از خود ایجاد کردہ اقوال کو ماننے لگ گئے اور اللہ کے دین میں دوسروں کی تقلید  کرنے لگے، اپنے علماء اور درویشوں کی بے سند باتیں اپنے دین میں داخل کر لیں، ان بدعمالیوں کی سزا میں اللہ نے ان کے دل سخت کر دیئے کتنی ہی اللہ کی باتیں کیوں نہ سناؤ ان کے دل نرم نہیں ہوتے کوئی وعظ و نصیحتان پر  اثر نہیں  کرتا کوئی وعدہ وعید ان کے دل اللہ کی طرف موڑ نہیں سکتا،

وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (۱۶)

اور ان میں بہت سے فاسق ہیں۔

بلکہ ان کے اکثر و بیشتر فاسق اور کھلے بدکار بن گئے، دل کے کھوٹے اور اعمال کے بھی کچے، جیسے اور آیت میں ہے:

فَبِمَا نَقۡضِہِم مِّيثَـٰقَهُمۡ لَعَنَّـٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوبَهُمۡ قَـٰسِيَةً۬‌ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلۡڪَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ‌ۙ وَنَسُواْ حَظًّ۬ا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ‌ۚ (۵:۱۳)

پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دل سخت کر دیئے کہ وہ کلام کو اپنی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں  اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے

یعنی ان کے دل چھوٹے ہو گئے اللہ کی باتیں بدلنے لگ گئے نیکیاں چھوڑ دیں برائیوں میں منہمک ہو گئے اس لئے رب العالمین اس اُمت کو متنبہ کر رہا ہے کہ خبردار ان کا رنگ تم پر نہ چڑھ جائے ۔ اصل اور فرع میں ان سے بالکل الگ رہو۔

ابن ابی حاتم میں ہے حضرت ربیع بن ابو عمیلہؒ فرماتے ہیں قرآن حدیث کی مٹھاس تو مسلم ہی ہے لیکن میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک بہت ہی پیاری اور میٹھی بات سنی ہے جو مجھے بیحد محبوب اور مرغوب ہے

 آپ نے فرمایا:

 جب بنو اسرائیل کی الہامی کتاب پر کچھ زمانہ گزر گیا تو ان لوگوں نے کچھ کتابیں خود تصنیف کرلیں اور ان میں وہ مسائل لکھے جو انہیں پسند تھے اور جو ان کے اپنے ذہن سے انہوں نے تراش لئے تھے، اب مزے لے لے کر زبانیں موڑ موڑ کر انہیں پڑھنے لگے ان میں سے اکثر مسائل اللہ کی کتاب کے خلاف تھے جن جن احکام کے ماننے کو ان کا جی نہ چاہتا تھا انہوں نے بدل ڈالے تھے اور اپنی کتاب میں اپنی طبیعت کے مطابق مسائل جمع کر لئے تھے اور انہی پر عامل بن گئے، اب انہیں سوجھی کہ اور لوگوں کو بھی منوائیں اور انہیں بھی آمادہ کریں کہ ان ہی ہماری لکھی ہوئی کتابوں کو شرعی کتابیں سمجھیں اور مدار عمل انہیں پر رکھیں اب لوگوں کو اسی کی دعوت دینے لگے اور زور پکڑتے گئے، یہاں تک کہ جو ان کی ان کتابوں کو نہ مانتا اسے یہ ستاتے تکلیف دیتے مارتے پیٹتے بلکہ قتل کر ڈالتے،

 ان میں ایک شخص اللہ والے پورے عالم اور متقی تھے انہوں نے ان کی طاقت سے اور زیادتی سے مرعوب ہو کر کتاب اللہ کو ایک لطیف چیز پر لکھ کر ایک نر سنگھے میں ڈال کر اپنی گردن میں اسے ڈال لیا، ان لوگوں کا شر و فساد روز بروز بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ بہت سے ان لوگوں کو جو کتاب اللہ پر عامل تھے انہوں نے قتل کر دیا، پھر آپس میں مشورہ کیا کہ دیکھو کہ یوں ایک ایک کو کب تک قتل کرتے رہیں گے؟

 ان کا بڑا عالم اور ہماری اس کتاب کو بالکل نہ ماننے والا تمام بنی اسرائیل میں سب سے بڑھ کر کتاب اللہ کا عامل فلاں عالم ہے اسے پکڑو اور اس سے اپنی یہ رائے قیاس کی کتاب منواؤ اگر وہ مان لے گا تو پھر ہماری چاندی ہی چاندی ہے اور اگر وہ نہ مانے تو اسے قتل کر دو پھر تمہاری اس کتاب کا مخالف کوئی نہ رہے گا اور دوسرے لوگ خواہ مخواہ ہماری ان کتابوں کو قبول کر لیں گے اور انہیں ماننے لگیں گے،

 چنانچہ ان رائے قیاس والوں نے کتاب اللہ کے عالم و عامل اس بزرگ کو پکڑوا منگوایا اور اس سے کہا کہ دیکھ ہماری اس کتاب میں جو ہے اسے سب کو تو مانتا ہے یا نہیں؟ ان پر تیرا ایمان ہے یا نہیں؟ اس اللہ ترس کتاب اللہ کے ماننے والے عالم نے کہا اس میں تم نے کیا لکھا ہے؟

 ذرا مجھے سناؤ تو، انہوں نے سنایا اور کہا اس کو تو مانتا ہے؟

 اس بزرگ کو اپنی جان کا ڈر تھا اس لئے جرأت کے ساتھ یہ تو نہ کہہ سکا کہ نہیں مانتا بلکہ اپنے اس نرسنگھے کی طرف اشارہ کر کے کہا میرا اس پر ایمان ہے وہ سمجھ بیٹھے کہ اس کا اشارہ ہماری اس کتاب کی طرف ہے۔ چنانچہ اس کی ایذاء رسانی سے باز رہے لیکن تاہم اس کے اطوار و افعال سے کھٹکتے ہی رہے یہاں تک کہ جب اس کا انتقال ہوا تو انہوں نے تفتیش شروع کی کہ ایسا نہ ہو اس کے پاس کتاب اللہ اور دین کے سچے مسائل کی کوئی کتاب ہو

 آخر وہ نرسنگھا ان کے ہاتھ لگ گیا پڑھا تو اس میں اصلی مسائل کتاب اللہ کے موجود تھے اب بات بنالی کہ ہم نے تو کبھی یہ مسائل نہیں سنے ایسی باتیں ہمارے دین کی نہیں چنانچہ زبردست فتنہ برپا ہو گیا اور بہتر گروہ ہو گئے ان سب میں بہتر گروہ جو راستی پر اور حق پر تھا وہ تھا جو اس نرسنگھے والے مسائل پر عامل تھا۔

حضرت ابن مسعودؓ نے یہ واقعہ بیان فرما کر کہا:

 لوگو تم میں سے بھی جو باقی رہے گا وہ ایسے ہی امور کا معائنہ کرے گا اور وہ بالکل بےبس ہو گا ان بری کتابوں کے مٹانے کی اس میں قدرت نہ ہو گی، پس ایسے مجبوری اور بےکسی کے وقت بھی اس کا یہ فرض تو ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ پر یہ ثابت کر دے کہ وہ ان سب کو برا جانتا ہے۔

امام ابو جعفر طبری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ عتریس بن عرقوب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے اے ابوعبد اللہ جو شخص بھلائی کا حکم نہ کرے اور برائی سے نہ روکے وہ ہلاک ہوا

آپ نے فرمایا ہلاک وہ ہو گا جو اپنے دل سے اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، پھر آپ نے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان فرمایا۔

اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ

یقین مانو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے،

جان رکھو  مردہ زمین کو اللہ زندہ کر دیتا ہے  اس میں اس امر کی اشارہ ہے کہ سخت دلوں کے بعد بھی اللہ انہیں نرم کرنے پر قادر ہے۔

گمراہیوں کی تہہ میں اتر جانے کے بعد بھی اللہ راہ راست پر لاتا ہے جس طرح بارش خشک زمین کو تر کر دیتی ہے اسی طرح کتاب اللہ مردہ دلوں کو زندہ کر دیتی ہے۔  دلوں میں جبکہ گھٹا ٹوپ اندھیرا چھا گیا ہو کتاب اللہ کی روشنی اسے دفعتاً  منور کر دیتے ہے ۔ اللہ کی وحی کے قفل کی کنجی ہے۔ سچا ہادی وہی ہے، گمراہی کے بعد راہ پر لانے والا، جو چاہے کرنے والا، حکمت  عدل والا، لطیف و خیر والا، کبر و جلال والا، بلندی و علو والا وہی ہے۔

قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (۱۷)

 ہم نے تو تمہارے لئے اپنی آیتیں بیان کر دیں تاکہ تم سمجھو۔‏

إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ (۱۸)

بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں۔ انکے لئے یہ بڑھایا جائے گا  اور ان کے لئے پسندیدہ اجر و ثواب ہے۔

فقیر مسکین محتاجوں اور حاجت مندوں کو خالص اللہ کی مرضی کی جستجو میں جو لوگ اپنے حلال مال نیک نیتی سے اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہیں ان کے بدلے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اللہ تعالیٰ انہیں عطا فرمائے گا۔ دس دس گنا اور اس سے بھی زیادہ سات سات سو تک بلکہ اس سے بھی سوا ان کے ثواب بےحساب ہیں ان کے اجر بہت بڑے ہیں۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق (۱)اور شہید ہیں

اللہ رسول پر ایمان رکھنے والے ہی صدیق و شہید ہیں ، ان دونوں اوصاف کے مستحق صرف با ایمان لوگ ہیں،

 بعض حضرات نے الشہداء کو الگ جملہ مانا ہے،

غرض تین قسمیں ہوئیں

-        مصدقین

-        صدیقین

-        شہداء

جیسے اور روایت میں ہے اللہ اور اس کے رسول کا اطاعت گزار انعام یافتہ لوگوں کے ساتھ ہے جو نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں، پس صدیق و شہید میں یہاں بھی فرق کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو قسم کے لوگ ہیں،

 صدیق کا درجہ شہید سے یقیناً بڑا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 جنتی لوگ اپنے سے اوپر کے بالا خانے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے چمکتے ہوئے مشرقی یا مغربی ستارے کو تم آسمان کے کنارے پر دیکھتے ہو،

 لوگوں نے کہا یہ درجے تو صرف انبیاء کے ہوں گے

 آپ نے فرمایا ہاں قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی (بخاری مسلم)

ایک غریب حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہید اور صدیق دونوں وصف اس آیت میں اسی مؤمن کے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری اُمت کے مؤمن شہید ہیں، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔

حضرت عمرو بن میمون کا قول ہے یہ دونوں ان دونوں انگلیوں کی طرح قیامت  کے دن آئیں گے،

 بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے:

 شہیدوں کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے قالب میں ہوں گی جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی پھریں گی اور رات کو قندیلوں میں سہارا لیں گی

ان کے رب نے ان کی طرف ایک بار دیکھا اور پوچھا تم کیا چاہتے ہو؟

 انہوں نے کہا یہ کہ تو ہمیں دنیا میں دوبارہ بھیج تاکہ ہم پھر تیری راہ میں جہاد کریں اور شہادت حاصل کریں

 اللہ نے جواب دیا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی لوٹ کر پھر دنیا میں نہیں جائے گا

لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ

 ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور ہے،

پھر فرماتا ہے کہ انہیں اجر و نور ملے گا جو نور ان کے سامنے رہے گا اور ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔

 مسند احمد کی حدیث میں ہے شہیدوں کی چار قسمیں ہیں ۔

-        وہ پکے ایمان والا مؤمن جو دشمن اللہ سے بھڑ گیا اور لڑتا رہا یہاں تک کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اس کا وہ درجہ ہے کہ اہل محشر اس طرح سر اٹھا اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا سر اس قدر بلند کیا کہ ٹوپی نیچے گر گئی اور اس حدیث کے راوی حضرت عمر نے بھی اسے بیان کرنے کے وقت اتنا ہی اپنا سر بلند کیا کہ آپ کی ٹوپی بھی زمین پر جا پڑی۔

-         دوسرا وہ ایمان دار نکلا جہاد میں لیکن دل میں جرأت کم ہے کہ یکایک ایک تیر آ لگا اور روح پرواز کر گئی وہ  دوسرے درجہ کا شہید جنتی ہے

-         تیسرا وہ جس کے بھلے برے اعمال تھے لیکن رب نے اسے پسند فرما لیا اور میدان جہاد میں کفار کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی تیسرے درجے میں ہیں۔

-         چوتھا وہ جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جہاد میں نکلا اور اللہ نے شہادت نصیب فرما کر اپنے پاس بلوا لیا۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (۱۹)

اور جو لوگ کفر کرتے ہیں اور ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جہنمی ہیں۔‏

ان نیک لوگوں کا انجام بیان کر کے اب بد لوگوں کا نتیجہ بیان کیا کہ یہ جہنمی ہیں۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ

خوب جان رکھو کہ

دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشہ زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال اولاد میں ایک دوسرے سے اپنے آپ کو زیادہ بتلانا ہے،

امر دنیا کی تحقیر و توہین بیان ہو رہی ہے کہ اہل دنیا کو سوائے لہو و لعب زینت و فخر اور اولاد و مال کی کثرت کی چاہت کے اور ہے بھی کیا؟

جیسے اور آیت میں ہے:

زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَـطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَـمِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَـعُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَأَبِ (۳:۱۴)

مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزیّن کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔‏

لوگوں کے لئے ان کی خواہش کی چیزوں کو مزین کر دیا گیا ہے جیسے عورتیں بچے وغیرہ

پھر حیات دنیا کی مثال بیان ہو رہی ہے کہ

كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ

جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے

پھر جب وہ خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وہ بالکل چورا چورا ہوجاتی ہے۔

اس کی تازگی فانی ہے اور یہاں کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔

 غَيْثٍ کہتے ہیں اس بارش کو جو لوگوں کی نا امیدی کے بعد برسے۔ جیسے فرمان ہے:

وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِن بَعْدِ مَا قَنَطُواْ (۴۲:۲۸)

اللہ وہ ہے جو لوگوں کی نا امیدی کے بعد بارش برساتا ہے۔

 پس جس طرح بارش کی وجہ سے زمین سے کھیتیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ لہلہاتی ہوئی کسان کی آنکھوں کو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں، اسی طرح اہل دنیا اسباب دنیوی پر پھولتے ہیں، لیکن نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہری بھری کھیتی خشک ہو کر زرد پڑ جاتی ہے پھر آخر سوکھ کر ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح دنیا کی ترو تازگی اور یہاں کی بہبودی اور ترقی بھی خاک میں مل جانے والی ہے،

 دنیا کی بھی یہی صورتیں ہوتی ہیں کہ ایک وقت جوان ہے پھر ادھیڑ ہے پھر بڑھیا ہے، ٹھیک اسی طرح خود انسان کی حالت ہے اس کے بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کو دیکھتے جائیے پھر اس کی موت اور فنا کو سامنے رکھے، کہاں جوانی کے وقت اس کا جوش و خروش زور طاقت اور کس بل؟ اور کہاں بڑھاپے کی کمزوری جھریاں پڑا ہوا جسم خمیدہ کمر اور بےطاقت ہڈیاں؟

جیسے ارشاد باری ہے:

اللَّهُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفاً وَشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ (۳۰:۵۴)

اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس وقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا کر دیا وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے اور وہ عالم اور قادر ہے ۔

 اس مثال سے دنیا کی فنا اور اس کا زوال ظاہر کر کے پھر آخرت کے دونوں منظر دکھا کر ایک سے ڈراتا ہے اور دوسرے کی رغبت دلاتا ہے،

وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ

اور آخرت میں سخت عذاب اور اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے ۔

پس فرماتا ہےعنقریب آنے والی قیامت  اپنے ساتھ عذاب اور سزا کو لائے گی اور مغفرت اور رضامندی رب کو لائے گی، پس تم وہ کام کرو کہ ناراضگی سے بچ جاؤ اور رضا حاصل کر لو سزاؤں سے بچ جاؤ اور بخشش کے حقدار بن جاؤ،

وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (۲۰)

اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔‏

 دنیا صرف دھوکے کی ٹٹی ہے اس کی طرف جھکنے والے پر آخر وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اس کے سوا کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں کرتا اسی کی دھن میں روز و شب مشغول رہتا ہے بلکہ اس کمی والی اور زوال والی کمینی دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگتا ہے، شدہ شدہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ بسا اوقات آخرت کا منکر بن جاتا ہے،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 ایک کوڑے برابر جنت کی جگہ ساری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ پڑھو قرآن فرماتا ہے کہ دنیا تو صرف دھوکے کا سامان ہے (ابن جریر)

آیت کی زیادتی بغیر یہ حدیث صحیح میں بھی ہے واللہ اعلم۔

 مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے :

تم میں سے ہر ایک سے جنت اس سے بھی زیادہ قریب ہے جتنا تمہارا جوتی کا تسمہ اور اسی طرح جہنم بھی (بخاری)

پس معلوم ہوا کہ خیر و شر انسان سے بہت نزدیک ہے اور اس لئے اسے چاہئے کہ بھلائیوں کی طرف سبقت کرے اور برائیوں سے منہ پھیر کر بھاگتا رہے۔ تاکہ گناہ اور برائیاں معاف ہو جائیں اور ثواب اور درجے بلند ہو جائیں۔

 اسی لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا

سَابِقُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ

 (آؤ) دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسماں و زمین کی وسعت کے برابر ہے۔

دوڑو اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی جنس کے برابر ہے، جیسے اور آیت (وسارعوا الی مغفرۃ) میں ہے اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف سبقت کرو جس کی کشادگی کل آسمان اور ساری زمینیں ہیں جو پارسا لوگوں کے لئے بنائی گی ہیں۔

أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ

یہ ان کے لئے بنائی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں ایمان رکھتے ہیں۔

یہاں فرمایا یہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے،

ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (۲۱)

یہ اللہ کا فضل ہے جس چاہے دے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

یہ لوگ اللہ کے اس فضل کے لائق تھے اسی لئے اس بڑے فضل و کرم والے نے اپنی نوازش کے لئے انہیں چن لیا اور ان پر اپنا پورا احسان اور اعلیٰ انعام کیا۔

پہلے ایک صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ مہاجرین کے فقراء نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مالدار لوگ تو جنت کے بلند درجوں کو اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو پا گئے

 آپؐ نے فرمایا یہ کیسے؟

کہا نماز روزہ تو وہ اور ہم سب کرتے ہیں لیکن مال کی وجہ سے وہ صدقہ کرتے ہیں غلام آزاد کرتے ہیں جو مفلسی کی وجہ سے ہم سے نہیں ہو سکتا

آپؐ نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاؤں کہ اس کے کرنے سے تم ہر شخص سے آگے بڑھ جاؤ گے مگر ان سے جو تمہاری طرح خود بھی اس کو کرنے لگیں، دیکھو تم ہر فرض نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو اور اتنی ہی بار اللہ اکبر اور اسی طرح الحمد اللہ۔

 کچھ دنوں بعد یہ بزرگ پھر حاضر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مال دار بھائیوں کو بھی اس وظیفہ کی اطلاع مل گئی اور انہوں نے بھی اسے پڑھنا شروع کر دیا

 آپؐ نے فرمایا یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے۔

اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی،

مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا ۚ

نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہےنہ(خاص) تمہاری جانوں میں مگر اس سے پہلے کہ ہم پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔

فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آ پڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے،

 امام حسن ؒسے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے؟

 زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آ جاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے،

یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔

صحیح مسلم شریف ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی

 اور رویات میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا ۔ (ترمذی)

إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (۲۲)

یہ کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے۔

پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کر لینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کر لینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں ۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے ۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی ، ہو چکی، ہو گی تمام چیزوں کو شامل ہے۔

لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ

تاکہ تم اپنے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر گھمنڈ میں آجاؤ

پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بےصبری اور بےضبطی تم سے دور رہے جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی،

 اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہو جاؤ اسے عطیہ الہٰی مانو تکبر اور غرور تم میں نہ آ جائے ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لئے کہ اس وقت بھی ہماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہو گی کہ یہ میرے دست و بازو کا میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے ۔

 ایک قرأت اس کی آتکم ہے دوسری اتکم ہے اور دونوں میں تلازم ہے،

 

وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (۲۳)

اور گھمنڈ اور شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔‏

اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں،

 حضرت ابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ رنج و راحت خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گزار دو،

الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۗ وَمَنْ يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (۲۴)

جو (خود بھی) بخل کریں اور دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیں، سنو! جو بھی منہ پھیرے اللہ بےنیاز اور سزاوار حمد و ثنا ہے۔‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔

 جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا :

إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ (۱۴:۱۸)

یعنی اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہو جائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے۔

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ

ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی دلیلیں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان (ترازو) نازل فرمایا (١) تاکہ لوگ عدل پر قائم رہیں

اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے پیغمبروں کو ظاہر حجتیں اور بھرپور دلائل دے کر دنیا میں مبعوث فرمایا، پھر ساتھ ہی انہیں کتاب بھی دی جو کھری اور صاف سچی ہے اور عدل و حق دیا جس سے ہر عقل مند انسان ان کی باتوں کے قبول کر لینے پر فطرتاً مجبور ہو جاتا ہے، ہاں بیمار رائے والے اور خلاف عقل والے اس سے محروم رہ جاتے ہیں، جیسے اور جگہ ہے:

أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ (۱۱:۱۷)

جو شخص اپنے رب کی طرف دلیل پر ہو اور ساتھ ہی اس کے شاہد بھی ہو۔

 ایک اور جگہ ہے:

فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِى فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (۳۰:۳۰)

اللہ کی یہ فطرت ہے جس پر مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے

 اور فرماتا ہے:

وَالسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ (۵۵:۷)

آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان رکھ دی،

پس یہاں فرمان ہے یہ اس لئے کہ لوگ حق و عدل پر قائم ہو جائیں، یعنی اتباع رسول کرنے لگیں امر رسول صلی اللہ علیہ وسلم بجا لائیں۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تمام باتوں کو حق سمجھیں کیونکہ اس کے سوا حق کسی اور کا کلام نہیں۔

 جیسے فرمان ہے:

وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَعَدْلاً (۶:۱۱۵)

تیرے رب کا کلمہ جو اپنی خبروں میں سچا اور اپنے احکام میں عدل والا ہے پورا ہو چکا۔

 یہی وجہ ہے کہ جب ایمان دار جنتوں میں پہنچ جائیں گے اللہ کی نعمتوں سے مالا مال ہو جائیں گے تو کہیں گے

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدَانَا لِهَـذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ (۷:۴۳)

اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں ہدایت دی اگر اس کی ہدایت نہ ہوتی تو ہم اس راہ نہیں لگ سکتے تھے ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے ۔

وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ

 اور ہم نے لوہے کو اتارا جس میں سخت ہیبت اور قوت ہے اور لوگوں کے لئے اور بھی بہت سے فائدے ہیں

پھر فرماتا ہے ہم نے منکرین حق کی سرکوبی کے لئے لوہا بنایا ہے،یعنی اولاً تو کتاب و رسول اور حق سے حجت قائم کی پھر ٹیڑھے دل والوں کی کجی نکالنے کے لئے لوہے کو پیدا کر دیا تاکہ اس کے ہتھیار بنیں اور اللہ دوست حضرات اللہ کے دشمنوں کے دل کا کانٹا نکال دیں،

یہی نمونہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بالکل عیاں نظر آتا ہے کہ مکہ شریف کے تیرہ سال مشرکین کو سمجھانے، توحید و سنت کی دعوت دینے، ان کے عقائد کی اصلاح کرنے میں گذارے۔ خود اپنے اوپر مصیبتیں جھیلیں لیکن جب یہ حجت ختم ہو گئی تو شرع نے مسلمانوں کو ہجرت کی اجازت دی، پھر حکم دیا کہ اب ان مخالفین سے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو روک رکھا ہے مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے ان کی زندگی دو بھر کر دی ہے ان سے باقاعدہ جنگ کرو، ان کی گردنیں مارو اور ان مخالفین وحی الہٰی سے زمین کو پاک کرو۔

 مسند احمد اور ابو داؤد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 میں قیامت  کے آگے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں یہاں تک کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ہی عبادت کی جائے اور میرا رزق میرے نیزے کے سایہ تلے رکھا گیا ہے اور کمینہ پن اور ذلت ان لوگوں پر ہے جو میرے حکم کی مخالفت کریں اور جو کسی قوم کی مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔

پس لوہے سے لڑائی کے ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار نیزے چھریاں تیز زرہیں وغیرہ اور لوگوں کے لئے اس کے علاوہ بھی بہت سے فائدے ہیں  جیسے سکے، کدال، پھاوڑے، آرے، کھیتی کے آلات، بننے کے آلات، پکانے کے برتن، توے وغیرہ وغیرہ اور بھی بہت سی ایسی ہی چیزیں جو انسانی زندگی کی ضروریات سے ہیں،

 حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں تین چیزیں حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے آئیں نہائی، سنی اور ہتھوڑا (ابن جریر)

وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ

اور اس لئے بھی کہ اللہ جان لے کہ اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد بےدیکھے کون کرتا ہے ۔

پھر فرمایا تا کہ اللہ جان لے کہ ان ہتھیاروں کے اٹھانے سے اللہ رسول کی مدد کرنے کا نیک ارادہ کس کا ہے؟

إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (۲۵)

بیشک اللہ قوت والا زبردست ہے۔‏

اللہ قوت و غلبہ والا ہے، اس کے دین کی جو مدد کرے وہ اس کی مدد کرتا ہے، دراصل اپنے دین کو وہی قوی کرتا ہے اس نے جہاد تو صرف اپنے بندوں کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا ہے ورنہ غلبہ و نصرت تو اسی کی طرف سے ہے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ۖ فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (۲۶)

بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم (علیہما السلام) کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا اور ہم نے دونوں کو اولاد پیغمبری اور کتاب جاری رکھی

 تو ان میں کچھ تو راہ یافتہ ہوئے اور ان میں سے اکثر نافرمان رہے۔‏

حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس فضیلت کو دیکھئے کہ حضرت نوح ؑکے بعد سے لے کر حضرت ابراہیمؑ تک جتنے پیغمبر آئے سب آپ ہی کی نسل سے آئے اور پھر حضرت ابراہیمؑ کے بعد جتنے نبی اور رسول آئے سب کے سب آپ ہی کی نسل سے ہوئے

جیسے اور آیت میں ہے :

وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَـبَ (۲۹:۲۷)

اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی

ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ

ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے درپے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی

یہاں تک کہ بنو اسرائیل کے آخری پیغمبر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم کی خوش خبری سنائی۔ پس نوح اور ابراہیم صلوات اللہ علیہما کے بعد برابر رسولوں کا سلسلہ رہا حضرت عیسیٰ تک جنہیں انجیل ملی

وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً

اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کر دیا  

اور جن کی تابع فرمان اُمت رحمدل اور نرم مزاج واقع ہوئی، خشیت الہٰی اور رحمت خلق کے پاک اوصاف سے متصف۔

وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ

ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے از خود ایجاد کر لی تھی ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا

پھر نصرانیوں کی ایک بدعت کا ذکر ہے جو ان کی شریعت میں تو نہ تھی لیکن انہوں نے خود اپنی طرف سے اسے ایجاد لی تھی،

إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ

سو اللہ کی رضاجوئی کے سوا  انہوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی

اس کے جملے کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں

-        ایک تو یہ ان کا مقصد نیک تھا کہ اللہ کی رضا جوئی کے لئے یہ طریقہ نکالا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر حضرت قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے ۔

-        دوسرا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا ہاں ہم نے ان پر صرف اللہ کی رضا جوئی واجب کی تھی۔

پھر فرماتا ہے یہ اسے بھی نبھا نہ سکے جیسا چاہیے تھا ویسا اس پر بھی نہ جمے، پس دوہری خرابی آئی ایک اپنی طرف سے ایک نئی بات دین اللہ میں ایجاد کرنے کی دوسرے اس پر بھی قائم نہ رہیں کی،

 یعنی جسے وہ خود قرب اللہ کا ذریعہ اپنے ذہن سے سمجھ بیٹھے تھے بالآخر اس پر بھی پورے نہ اترے۔

 ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو پکارا آپ نے لبیک کہا آپؐ نے فرمایا سنو بنی اسرائیل کے بہتر گروہ ہو گئے جن میں سے تین نے نجات پائی،

پہلے فرقہ نے تو بنی اسرائیل کی گمراہی دیکھ کر ان کی ہدایت کے لئے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر ان کے بڑوں کو تبلیغ شروع کی لیکن آخر وہ لوگ جدال و قتال پر اترے آئے اور بادشاہ اور امراء نے جو اس تبلیغ سے بہت گھبراتے تھے ان پر لشکر کشی کی اور انہیں قتل بھی کیا قید بھی کیا ان لوگوں نے تو نجات حاصل کر لی،

 پھر دوسری جماعت کھڑی ہوئی ان میں مقابلہ کی طاقت تو نہ تھی تاہم اپنے دین کی قوت سے سرکشوں اور بادشاہوں کے دربار میں حق گوئی شروع کی اور اللہ کے سچے دین اور حضرت عیسیٰ کے اصلی مسلک کی طرف انہیں دعوت دینے لگے، ان بدنصیبوں نے انہیں قتل بھی کرایا آروں سے بھی چیرا اور آگ میں بھی جلایا جسے اس جماعت نے صبر و شکر کے ساتھ برداشت کیا اور نجات حاصل کی،

 پھر تیسری جماعت اٹھی یہ ان سے بھی زیادہ کمزور تھے ان میں طاقت نہ تھی کہ اصل دین کے احکام کی تبلیغ ان ظالموں میں کریں اس لئے انہوں نے اپنے دین کا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ جنگلوں میں نکل جائیں اور پہاڑوں پر چڑھ جائیں عبادت میں مشغول ہو جائیں اور دنیا کو ترک کر دیں انہی کا ذکر رہبانیت والی آیت میں ہے،

 یہی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے اس میں تہتر فرقوں کا بیان ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اجراء نہیں ملے گا جو مجھ پر ایمان لائیں اور میری تصدیق کریں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں ایسے ہیں جو مجھے جھٹلائیں اور میرا خلاف کریں،

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:

بنی اسرائیل کے بادشاہوں نے حضرت عیسیٰ کے بعد توریت وانجیل میں تبدیلیاں کر لیں، لیکن ایک جماعت ایمان پر قائم رہی اور اصلی تورات و انجیل ان کے ہاتھوں میں رہی جسے وہ تلاوت کیا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان لوگوں نے (جنہوں نے کتاب اللہ میں رد و بدل کر لیا تھا) اپنے بادشاہوں سے ان سچے مؤمنوں کی شکایت کی کہ یہ لوگ کتاب اللہ کہہ کر جس کتاب کو پڑھتے ہیں اس میں تو ہمیں گالیاں لکھی ہیں اس میں لکھا ہوا ہے جو کوئی اللہ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اسی طرح کی بہت سی آیتیں ہیں، پھر یہ لوگ ہمارے اعمال پر بھی عیب گیری کرتے رہتے ہیں، پس آپ انہیں دربار میں بلوایئے اور انہیں مجبور کیجئے کہ یا تو وہ اسی طرح پڑھیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور ویسا ہی عقیدہ ایمان رکھیں جیسا ہمارا ہے ورنہ انہیں بدترین عبرت ناک سزا دیجیے،

چنانچہ ان سچے مسلمانوں کو دربار میں بلوایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ یا تو ہماری اصلاح کردہ کتاب پڑھا کرو اور تمہارے اپنے ہاتھوں میں جو الہامی کتابیں انہیں چھوڑ دو ورنہ جان سے ہاتھ دھو لو اور قتل گاہ کی طرف قدم بڑھاؤ،

اس پر ان پاک بازوں کی ایک جماعت نے کہا کہ تم ہمیں ستاؤ نہیں تم اونچی عمارت بنا دو ہمیں وہاں پہنچا دو اور ڈوری چھڑی دیدو ہمارا کھانا پینا اس میں ڈال دیا کرو ہم اوپر سے گھسیٹ لیا کریں گے نیچے اتریں گے ہی نہیں اور تم میں آئیں گے ہی نہیں،

 ایک جماعت نے کہا سنو ہم یہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں نکل جاتے ہیں تمہاری بادشاہت کی سرزمین سے باہر ہو جاتے ہیں چشموں، نہروں، ندیوں، نالوں اور تالابوں سے جانوروں کی طرح منہ لگا کر پانی پیا کریں گے اور جو پھول پات مل جائیں گے ان پر گزارہ کر لیں گے۔ اس کے بعد اگر تم ہمیں اپنے ملک میں دیکھ لو تو بیشک گردن اڑا دینا،

 تیسری جماعت نے کہا ہمیں اپنی آبادی کے ایک طرف کچھ زمین دےدو اور وہاں حصار کھینچ دو وہیں ہم کنویں کھود لیں گے اور کھیتی کر لیا کریں گے تم میں ہرگز نہ آئیں گے ۔

 چونکہ اس اللہ پرست جماعت سے ان لوگوں کی قریبی رشتہ داریاں تھیں اس لئے یہ درخواستیں منظور کر لی گئیں اور یہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانے چلے گئے، لیکن ان کے ساتھ بعض اور لوگ بھی لگ گئے جنہیں دراصل علم و ایمان نہ تھا تقلیداً ساتھ ہو لیے، ان کے بارے میں یہ آیت وَرَهْبَانِيَّةً نازل ہوئی،

پس جب اللہ تعالیٰ نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اس وقت ان میں سے بہت کم لوگ رہ گئے تھے آپ کی بعثت کی خبر سنتے ہی خانقاہوں والے اپنی خانقاہوں سے اور جنگلوں والے اپنے جنگلوں سے اور حصار والے اپنے حصاروں سے نکل کھڑے ہوئے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ پر ایمان لائے، آپ کی تصدیق کی جس کا ذکر اس آیت میں ہے:

(یاایھا الذین امنوا برسولہ یؤتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ) الخ،

یعنی ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تمہیں اللہ اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا (یعنی حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا) اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو (یعنی قرآن و سنت) تاکہ اہل کتاب جان لیں (جو تم جیسے ہیں) کہ اللہ کے کسی فضل کا انہیں اختیار نہیں اور سارا فضل اللہ کے ہاتھ ہے جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے ۔

یہ سیاق غریب ہے اور ان دونوں پچھلی آیتوں کی تفسیر اس آیت کے بعد ہی آ رہی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ

ابو یعلی میں ہے:

 لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی خلافت کے زمانہ میں آئے، آپ اس وقت امیر مدینہ تھے جب یہ آئے اس وقت حضرت انسؓ نماز ادا کر رہے تھے اور بہت ہلکی نماز پڑھ رہے تھے جیسے مسافرت کی نماز ہو یا اس کے قریب قریب جب سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے فرض نماز پڑھی یا نفل؟

فرمایا فرض اور یہی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، میں نے اپنے خیال سے اپنی یاد برابر تو اس میں کوئی خطا نہیں کی، ہاں اگر کچھ بھول گیا ہوں تو اس کی بابت نہیں کہہ سکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ورنہ تم پر سختی کی جائے گی، ایک قوم نے اپنی جانوں پر سختی کی اور ان پر بھی سختی کی گئی پس ان کی بقیہ خانقاہوں میں اور گھروں میں اب بھی دیکھ لو ترک دنیا کی ہی وہی سختی تھی جسے اللہ نے ان پر واجب نہیں کیا تھا۔

 دوسرے دن ہم لوگوں نے کہا آیئے سواریوں پر چلیں اور دیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔

 حضرت انس نے فرمایا بہت اچھا ہم سوار ہو کر چلے اور کئی ایک بستیاں دیکھیں جو بالکل اجڑ گئی تھیں اور مکانات اوندھے پڑے ہوئے تھے تو ہم نے کہا ان شہروں سے آپ واقف ہیں؟

 فرمایا خوب اچھی طرح بلکہ ان کے باشندوں سے بھی انہیں سرکشی اور حسد نے ہلاک کیا۔ حسد نیکیوں کے نور کو بجھا دیتا ہے اور سرکشی اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ آنکھ کا بھی زنا ہے ہاتھ اور قدم اور زبان کا بھی زنا ہے اور شرمگاہ اسے سچ ثابت کرتی ہے یا جھٹلاتی ہے۔

 مسند احمد میں ہے :

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کیلئے رہبانیت تھی اور میری اُمت کی رہبانیت اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔

 ایک شخص حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کچھ وصیت کیجئے۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ سے وہ سوال کیا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا۔

میں تجھے وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرتے رہنے کی، یہی تمام نیکیوں کا سر ہے اور تو جہاد کو لازم پکڑے رہ یہی اسلام کی رہبانیت ہے اور ذکر اللہ اور تلاوت قرآن پر مداومت کر۔ وہی آسمان میں، زمین میں تیری راحت و روح ہے اور تیری یاد ہے۔ یہ روایت مسند احمد میں ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔

فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ (۲۷)

پھر بھی ہم نے ان میں سے جو ایمان لائے انہیں اس کا اجر دیا تھا اور ان میں اکثر نافرمان  لوگ ہیں

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ دے گا  

وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۲۸)

اور تمہیں نور دے گا جس کی روشنی میں تم چلو پھرو گے اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‏

اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جن مؤمنوں کا یہاں ذکر ہے اس سے مراد اہل کتاب کے مؤمن ہیں اور انہیں دوہرا اجر ملے گا جیسے کہ سورۃ قصص کی آیت میں ہے اور جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ تین شخصوں کو اللہ تعالیٰ دوہرا اجر دے گا:

-        ایک وہ اہل کتاب جو اپنے نبی پر ایمان لایا پھر مجھ پر بھی ایمان لایا اسے دوہرا اجر ہے

-         اور وہ غلام جو اپنے آقا کی تابعداری کرے اور اللہ کا حق بھی ادا کرے اسے بھی دو دو اجر ہیں

-         اور وہ شخض جو اپنی لونڈی کو ادب سکھائے اور بہت اچھا ادب سکھائے یعنی شرعی ادب پھر اسے آزاد کر دے اور نکاح کر دے وہ بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے (بخاری و مسلم)

حضرت سعید بن جبیرؓ فرماتے ہیں جب اہل کتاب اس دوہرے اجر پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اس اُمت کے حق میں نازل فرمائی۔ پس انہیں دوہرے اجر کے بعد نور ہدایت دینے کا بھی وعدہ کیا اور مغفرت کا بھی پس نور اور مغفرت انہیں زیادہ ملی  (ابن جریر)

اسی مضمون کی یہ آیت ہے

يِـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إَن تَتَّقُواْ اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (۸:۲۹)

اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہے تو وہ تمہارے لئے فرقان کرے گا اور تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں معاف فرما دے گا اللہ بڑے فضل والا ہے۔

 حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہودیوں کے ایک بہت بڑے عالم سے دریافت فرمایا کہ تمہیں ایک نیکی پر زیادہ سے زیادہ کس قدر فضیلت ملتی ہے اس نے کہا ساڑھے تین سو تک، آپ نے اللہ کا شکر کیا اور فرمایا ہمیں تم سے دوہرا اجر ملا ہے۔

حضرت سعید نے اسے بیان فرما کر یہی آیت پڑھی اور فرمایا اسی طرح جمعہ کا دوہرا اجر ہے،

 مسند احمد کی حدیث میں ہے:

 تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال اس شخض جیسی ہے جس نے چند مزدور کسی کام پر لگانے چاہے اور اعلان کیا کہ کوئی ہے جو مجھ سے ایک قیراط لے اور صبح کی نماز سے لے کر آدھے دن تک کام کرے؟

 پس یہود تیار ہو گئے،

 اس نے پھر کہا ظہر سے عصر تک اب جو کام کرے اسے میں ایک قیراط دوں گا، اس پر نصرانی تیار ہوئے کام کیا اور اجرت لی

 اس نے پھر کہا اب عصر سے مغرب تک جو کام کرے میں اسے دو قیراط دوں گا پس وہ تم مسلمان ہو،

 اس پر یہود و نصاریٰ بہت بگڑے اور کہنے لگے کام ہم نے زیادہ کیا اور دام انہیں زیادہ ملے۔ ہمیں کم دیا گیا۔ تو انہیں جواب ملا کہ میں نے تمہارا کوئی حق تو نہیں مارا؟

انہوں نے کہا ایسا تو نہیں ہوا۔

جواب ملا کہ پھر یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں دو،

 صحیح بخاری شریف میں ہے:

 مسلمانوں اور یہود نصرانیوں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے چند لوگوں کو کام پر لگایا اجرت ٹھہرالی اور کہا دن بھر کام کرکے کہہ دیا کہ اب ہمیں ضرورت نہیں جو ہم نے کیا اس کی اجرت بھی نہیں چاہتے اور اب ہم کام بھی نہیں کریں گے، اس نے انہیں سمجھایا بھی کہ ایسا نہ کرو کام پورا کرو اور مزدوری لے جاؤ لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کام ادھورا چھوڑ کر اجرت لئے بغیر چلتے بنے،

 اس نے اور مزدور لگائے اور کہا کہ باقی کام شام تک تم پورا کرو اور پورے دن کی مزدوری میں تمہیں دوں گا، یہ کام پر لگے، لیکن عصر کے وقت یہ بھی کام سے ہٹ گئے اور کہہ دیا کہ اب ہم سے نہیں ہو سکتا ہمیں آپ کی اجرت نہیں چاہئے اس نے انہیں بھی سمجھایا کہ دیکھو اب دن باقی ہی کیا رہ گیا ہے تم کام پورا کرو اور اجرت لے جاؤ لیکن یہ نہ مانے اور چلے گئے،

 اس نے پھر اوروں کو بلایا اور کہا لو تم مغرب تک کام کرو اور دن بھر کی مزدوری لے جاؤ چنانچہ انہوں نے مغرب تک کام کیا اور ان دونوں جماعتوں کی اجرت بھی یہی لے گئے،

 پس یہ ہے ان کی مثال اور اس نور کی مثال جسے انہوں نے قبول کیا۔

لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ

یہ اس لئے کہ اہل کتاب جان لیں کہ اللہ کے فضل کے حصے پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ جسے چاہے دے،

وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (۲۹)

 اور اللہ ہے ہی بڑے فضل والا۔‏

پھر فرماتا ہے یہ اس لئے کہ اہل کتاب یقین کر لیں کہ اللہ جسے دے یہ اس کے لوٹانے کی اور جسے نہ دے اسے دینے کی کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے اور اس بات کو بھی وہ جان لیں کہ فضل و کرم کا مالک صرف وہی پروردگار ہے، اس کے فضل کا کوئی اندازہ و حساب نہیں لگا سکتا۔

 امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں آیت لِئَلَّا يَعْلَمَ کا معنی لیعلم ہے۔

 حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں لکی یعلم ہے،

 اسی طرح حضرت عطا بن عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ سے بھی یہی قرأت مروی ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com