تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ مجادلہ

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ

یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی،

وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ (۱)

اللہ تعالیٰ  تم دونوں کے سوال جواب سن رہا تھابیشک اللہ تعالیٰ  سننے دیکھنے والا ہے۔‏

شان نزول اور حضرت خولہؓ  کا و ا قعہ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

 اللہ تعالیٰ کی ذات حمد و ثناء کے لائق ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے، یہ شکایت کرنے والی خاتون آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کر رہی تھیں کہ باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میں مطلقاً نہ سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں؟

 اللہ تعالیٰ نے اس پوشیدہ آواز کو بھی سن لیا اور یہ آیت اتری (بخاری و مسند)

اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے :

 بابرکت ہے وہ اللہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا تھا ورنہ اکثر باتیں باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ اپنے میاں کی شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جوانی تو ان کے ساتھ کٹی بچے ان سے ہوئے اب جبکہ میں بڑھیا ہوگئی بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی تو میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا،اے اللہ میں تیرے سامنے اپنے اس دکھڑے کا رونا روتی ہوں،

 ابھی یہ بی بی صاحبہ گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے،

ان کے خاوند کا نام حضرت اوس بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا  (ابن ابی حاتم)

انہیں بھی کچھ جنون سا ہو جاتا تھا اس حالت میں اپنی بیوی صاحبہ سے ظہار کرلیتے پھر جب اچھے ہو جاتے تو گویا کچھ کہا ہی نہ تھا، یہ بی بی صاحبہ حضور سے فتویٰ پوچھنے اور اللہ کے سامنے اپنی التجا بیان کرنے کو آئیں جس پر یہ آیت اتری۔

حضرت یزید فرماتے ہیں:

 حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اور لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک عورت نے آواز دے کر ٹھہرالیا، حضرت عمر فوراً ٹھہر گئے اور ان کے پاس جاکر توجہ اور ادب سے سر جھکائے ان کی باتیں سننے لگے، جب وہ اپنی فرمائش کی تعمیل کراچکیں اور خود لوٹ گئیں تب امیرالمؤمنین بھی واپس ہمارے پاس آئے،ایک شخص نے کہا امیرالمؤمنین ایک بڑھیا کے کہنے سے آپ رک گئے اور اتنے آدمیوں کو آپ کی وجہ سے اب تک رکنا پڑا،

آپ نے فرمایا افسوس جانتے بھی ہو یہ کون تھیں؟

 اس نے کہا نہیں،

فرمایا یہ وہ عورت ہیں جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سنی یہ حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ ہیں اگر یہ آج صبح سے شام چھوڑ رات کردیتیں اور مجھ سے کچھ فرماتی رہتیں تو بھی میں ان کی خدمت سے نہ ٹلتا ہاں نماز کے وقت نماز ادا کرلیتا اور پھر کمربستہ خدمت کیلئے حاضر ہو جاتا  (ابن ابی حاتم)

اس کی سند منقطع ہے اور دوسرے طریق سے بھی مروی ہے،

مسئلہ ظہار

حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت کے بارے میں اس سورۃ مجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں،

میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو،

لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آگئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کردیں،

آپؐ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو وہ بوڑھے بڑے ہیں،

 ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اترچکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خولہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں،

پھر آپ نے آیت  قَدْ سَمِعَ اللَّهُ سے وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ  تک پڑھ کر سنایا

ظہار کا کفارہ

 اور فرمایا جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں،

 میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس غلام کہاں؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں،

میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں،

میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دے دوں گا

 میں نے کہا بہتر آدھا وسق میں دے دوں گی۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کردو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو۔ (مسند احمد و ابوداؤد)

 ان کا نام بعض روایتوں میں خولہ کے بجائے خولہ بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو، واللہ اعلم۔

اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔

حضرت سلمہ بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا،

حضرت سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے :

 مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی، رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو دن میں روزے کے وقت میں بچ نہ سکوں میں نے رمضان بھر کیلئے اپنی بیوی سے ظہار کرلیا، ایک رات جبکہ وہ میری خدمت میں مصروف تھی بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا پھر تاب کہاں تھی؟

اس سے بات چیت کر بیٹھا صبح اپنی قوم کے پاس آکر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہوگیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور آپ سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے؟

 سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کی بابت کوئی آیت اترے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات فرما دیں کہ ہمیشہ کیلئے ہم پر عار باقی رہ جائے، تو جانے تیرا کام، تونے ایسا کیوں کیا؟ ہم تیرے ساتھی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔چنانچہ میں گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسا کیا؟

 میں نے کہا جی ہاں حضور مجھ سے ایسا ہوگیا۔

آپ نے پھر فرمایا تم نے ایسا کیا؟

میں نے پھر یہی عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے یہ خطا ہوگئی،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ بھی یہی فرمایا میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہوں جو سزا میرے لئے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیجئے،

آپ نے فرمایا جاؤ ایک غلام آزاد کرو،

میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تو صرف اس کا مالک ہوں اللہ کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دو مہینے کے پے درپے روزے رکھو،

میں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جاؤ صدقہ کرو

میں نے کہا اس اللہ کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں بلکہ آج کی شب سب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے،

 پھر فرمایا اچھا بنو رزیق کے قبیلے کے صدقے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ صدقے کا مال تمہیں دےدیں تم اس میں سے ایک وسق کھجور تو ساٹھ مسکینوں کو دےدو اور باقی تم آپ اپنے اور اپنے بال بچوں کے کام میں لاؤ،

 میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں نے کشادگی اور برکت پائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دےدو چنانچہ انہوں نے مجھے دے دیئے  (مسند احمد ابوداؤد)

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اوس بن صامت اور ان کی بیوی صاحبہ حضرت خویلہ بنت ثعلبہ کے واقعہ کے بعد کا ہے، چنانچہ حضرت ابن عباسؓ کا فرمان ہے:

 ظہار کا پہلا واقعہ حضرت اوس بن صامتؓ  کا ہے جو حضرت عبادہ بن صامتؓ کے بھائی تھے، ان کی بیوی صاحبہ کا نام خولہ بنت ثعلبہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھا، اس واقعہ سے حضرت خولہ کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہوگئی، انہوں نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کرلیا ہے اور اگر ہم علیحدہ علیحدہ ہوگئے تو دونوں برباد ہو جائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ مجھے اولاد ہو ہمارے اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں،اب تک ظہار کا کوئی حکم اسلام میں نہ تھا اس پر یہ آیتیں شروع سورت سے وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ تک اتریں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اوس کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کرسکتے ہو؟ انہوں نے قسم کھاکر انکار کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے رقم جمع کی انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کیا  (ابن جریر)

حضرت ابن عباسؓ کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگوں کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں،  واللہ اعلم۔

ظہار کی تعریف  

لفظ ظہار ظہر سے مشتق ہے چونکہ اہل جاہلیت اپنی بیوی سے ظہار کرتے وقت یوں کہتے تھے کہ

 انت علی کظھر امییعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ،

شریعت میں حکم یہ ہے کہ اس طرح خواہ کسی عضو کا نام لے ظہار ہو جائے گا،

ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کیلئے اس میں کفارہ مقرر کردیا اور اسے طلاق شمار نہیں کیا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا۔

سلف میں سے اکثر حضرات نے یہی فرمایا ہے،

حضرت ابن عباسؓ جاہلیت کے اس دستور کا ذکر کرکے فرماتے ہیں:

 اسلام میں جب حضرت خویلہؓ والا واقعہ پیش آیا اور دونوں میاں بیوی پچھتانے لگے تو حضرت اوسؓ نے اپنی بیوی صاحبہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا یہ جب آئیں تو دیکھا کہ آپ کنگھی کر رہے ہیں، آپ نے واقعہ سن کر فرمایا ہمارے پاس اس کا کوئی حکم نہیں اتنے میں یہ آیتیں اتریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خویلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس کی خوشخبری دی اور پڑھ سنائیں، جب غلام کو آزاد کرنے کا ذکر کیا تو عذر کیا کہ ہمارے پاس غلام نہیں، پھر روزوں کا ذکر سن کر کہا اگر ہر روز تین مرتبہ پانی نہ پئیں تو بوجہ اپنے بڑھاپے کے فوت ہو جائیں، جب کھانا کھلانے کا ذکر سنا تو کہا چند لقموں پر تو سارا دن گزرتا ہے تو اوروں کو دینا کہاں؟ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا وسق تیس صاع منگواکر انہیں دیئے اور فرمایا اسے صدقہ کردو اور اپنی بیوی سے رجوع کرلو  (ابن جریر)

اس کی اسناد قوی اور پختہ ہے، لیکن ادائیگی غربت سے خالی نہیں۔

حضرت ابوالعالیہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، فرماتے ہیں:

 خولہ بنت دلیجؓ ایک انصاری کی بیوی تھیں جو کم نگاہ والے مفلس اور کج خلق تھے، کسی دن کسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہوگیا تو جاہلیت کی رسم کے مطابق ظہار کرلیا جو ان کی طلاق تھی۔

یہ بیوی صاحبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اس وقت آپؐ حضرت عائشہ ؓکے گھر میں تھے اور اُم المؤمنین آپ کا سر دھو رہی تھیں، جاکر سارا واقعہ بیان کیا،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب کیا ہوسکتا ہے، میرے علم میں تو تو اس پر حرام ہوگئی یہ سن کر کہنے لگیں اللہ میری عرض تجھ سے ہے،

 اب حضرت عائشہؓ آپ کے سرمبارک کا ایک طرف کا حصہ دھو کر گھوم کر دوسری جانب آئیں اور ادھر کا حصہ دھونے لگیں تو حضرت خولہؓ بھی گھوم کر اس دوسری طرف آ بیٹھیں اور اپنا واقعہ دہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا،

اُم المؤمنین نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ہے تو ان سے کہا کہ دور ہٹ کر بیٹھو، یہ دور کھسک گئیں ادھر وحی نازل ہونی شروع ہوئی جب اتر چکی تو آپ نے فرمایا وہ عورت کہاں ہے؟

 اُم المؤمنین نے انہیں آواز دے کر بلایا ۔

آپ نے فرمایا جاؤ اپنے خاوند کو لے آؤ، یہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اپنے شوہر کو بلا لائیں تو واقعی وہ ایسے ہی تھے جیسے انہوں نے کہا تھا،

آپ نے استعیذ باللہ السمیع العلیم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اس سورت کی یہ آیتیں سنائیں، اور فرمایا تم غلام آزاد کرسکتے ہو؟

 انہوں نے کہا نہیں،

کہا دو مہینے کے لگاتار ایک کے پیچھے ایک روزے رکھ سکتے ہو؟

 انہوں نے قسم کھاکر کہا کہ اگر دو تین دفعہ دن میں نہ کھاؤں تو بینائی بالکل جاتی رہتی ہے،

 فرمایا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو؟

انہوں نے کہا نہیں لیکن اگر آپ میری امداد فرمائیں تو اور بات ہے،

پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اعانت کی اور فرمایا ساٹھ مسکینوں کو کھلادو اور جاہلیت کی اس رسم طلاق کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ نے اسے ظہار مقرر فرمایا  (ابن ابی حاتم و ابن جریر)

حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

 ایلا اور ظہار جاہلیت کے زمانہ کی طلاقیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے ایلا میں تو چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا۔

حضرت امام مالک ؒ نے لفظ مِنْكُمْ سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ یہاں خطاب مؤمنوں سے ہے اس لئے اس حکم میں کافر داخل نہیں،

جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ بہ اعتبار غلبہ کے کہہ دیا گیا ہے اس لئے بطور قید کے اسکا مفہوم مخالف مراد نہیں لے سکتے، لفظ مِنْ نِسَائِهِمْ سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے ظہار نہیں نہ وہ اس خطاب میں داخل ہے۔

قُلْ أَعُوذُ بِرَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَائِهِمْ مَا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ

تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وہ دراصل انکی مائیں نہیں بن جاتیں،

إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ

ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے،

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کہنے سے کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے یا میرے لئے تو مثل میری ماں کے ہے یا مثل میری ماں کی پیٹھ کے ہے یا اور ایسے ہی الفاظ اپنی بیوی کو کہہ دینے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی، حقیقی ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے یہ تولد ہوا ہے،

وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ (۲)

یقینًا یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔خدا بڑا معاف کرنیوالا اور بخشنے والا ہے

یہ لوگ اپنے منہ سے فحش اور باطل قول بول دیتے ہیں اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشش دینے والا ہے۔اس نے جاہلیت کی اس تنگی کو تم سے دور کردیا، اسی طرح ہر وہ کلام جو ایک دم زبان سے بغیر سوچے سمجھے اور بلا قصد نکل جائے۔

 چنانچہ ابوداؤد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے اے میری بہن تو آپ نے فرمایا:

 یہ تیری بہن ہے؟

 غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی کیونکہ دراصل اس کا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد کے نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہو جاتی، کیونکہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنی بیوی کو جو شخض اس نام سے یاد کرے جو محرمات ابدیہ ہیں مثلاً بہن یا پھوپھی یا خالہ وغیرہ تو وہ بھی حکم میں ماں کہنے کے ہیں۔

وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ۚ

جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمے آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے  ایک غلام آزاد کرنا ہے،

جو لوگ ظہار کریں پھر اپنے کہنے سے لوٹیں اس کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہار کیا پھر مکرر اس لفظ کو کہا لیکن یہ ٹھیک نہیں،

 بقول حضرت امام شافعیؒ مطلب یہ ہے کہ ظہار کیا پھر اس عورت کو روک رکھا یہاں تک کہ اتنا زمانہ گزر گیا کہ اگر چاہتا تو اس میں باقاعدہ طلاق دے سکتا تھا لیکن طلاق نہ دی۔

امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ پھر لوٹے جماع کی طرف یا ارادہ کرے تو یہ حلال نہیں تاوقتیکہ مذکورہ کفارہ ادا نہ کرے۔

 امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے جماع کا ارادہ یا پھر بسانے کا عزم یا جماع ہے۔

 امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں:

 مراد ظہار کی طرف لوٹنا ہے اس کی حرمت اور جاہلیت کے حکم کے اٹھ جانے کے بعد پس جو شخص اب ظہار کرے گا اس پر اس کی بیوی حرام ہو جائے گی جب تک کہ یہ کفارہ ادا نہ کرے،

 حضرت سعیدؒ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنی جان پر حرام کرلیا تھا اب پھر اس کام کو کرنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔

حضرت حسن بصریؒ کا قول ہے کہ مجامعت کرنا چاہے ورنہ اور طرح چھونے میں قبل کفارہ کے بھی ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں۔

ابن عباسؓ فرماتے ہیں یہاں مس سے مراد صحبت کرنا ہے۔

 زہریؒ فرماتے ہیں کہ ہاتھ لگانا پیار کرنا بھی کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جائز نہیں۔

سنن میں ہے:

 ایک شخص نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے مل لیا

آپؐ نے فرمایا اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تونے کیوں کیا؟

کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بےتاب کردیا۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ ادا نہ کردے،

 نسائی میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے اور امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ مرسل ہونے کو اولیٰ بتاتے ہیں۔

پھر کفارہ بیان ہو رہا ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ہاں یہ قید نہیں کہ مؤمن ہی ہوجیسے قتل کے کفارے میں غلام کے مؤمن ہونے کی قید ہے۔

امام شافعیؒ تو فرماتے ہیں یہ مطلق اس مقید پر محمول ہوگی کیونکہ غلام کو آزاد کرنے کی شرط جیسی وہاں ہے ایسی ہی یہاں بھی ہے، اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی کی بابت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اسے آزاد کردو یہ مؤمنہ ہے،

 اوپر واقعہ گزر چکاجس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کرکے پھر کفارہ سے قبل واقع ہو نے والے کو آپ نے دوسرا کفارہ ادا کرنے کو نہیں فرمایا۔

ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ

اس کے ذریعے تم نصیحت کئے جاتے ہو

پھر فرماتا ہے اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے یعنی دھمکایا جا رہا ہے۔

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (۳)

اور اللہ تعالیٰ  تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔‏

اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں سے خبردار ہے اور تمہارے احوال کا عالم ہے۔

فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ۖ

‏ ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمے دو مہینوں کے لگا تار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں

جو غلام کو آزاد کرنے پر قادر نہ ہو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے کے بعد اپنی بیوی سے اس صورت میں مل سکتا ہے

فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ

اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔

اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینے کے بعد،

 پہلے حدیثیں گزر چکیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم پہلی صورت پھر دوسری پھر تیسری، جیسے کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپ نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو فرمایا تھا۔

ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ

یہ اس لئے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو،

ہم نے یہ احکام اس لئے مقرر کئے ہیں کہ تمہارا کامل ایمان اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو جائے۔

وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۗ

یہ اللہ تعالیٰ  کی وہ حدیں ہیں

یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کے محرمات ہیں خبردار اس حرمت کو نہ توڑنا۔

وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ  (۴)

اور کفار ہی کے لئے دردناک عذاب ہے

جو کافر ہوں یعنی ایمان نہ لائیں حکم برداری نہ کریں شریعت کے احکام کی بےعزتی کریں ان سے لاپرواہی برتیں انہیں بلاؤں سے بچنے والا نہ سمجھو بلکہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں۔

إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کئے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کئے گئے تھے

فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرع سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کردیئے گئے،

وَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۚ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ  (۵)

اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لئے تو ذلت والا عذاب ہے۔‏

اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کردی ہیں اور نشانیاں ظاہر کردی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بے انتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا،

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا ۚ

جس دن اللہ تعالیٰ  ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کئے ہوئے عمل سے آگاہ کرے گا

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔

أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ

جسے اللہ نے شمار کر رکھا ہے جسے یہ بھول گئے تھے

گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔

وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (۶)

اور اللہ تعالیٰ  ہرچیز سے واقف ہے ۔

نہ تو اللہ پر کوئ چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں کی اور زمین کی ہرچیز سے واقف ہے۔

پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے،

مَا يَكُونُ مِنْ نَجْوَى ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ

تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہےاور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وہ ہوتا ہے

تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں

وَلَا أَدْنَى مِنْ ذَلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ۖ

اور اس سے کم اور نہ زیادہ کی مگر وہ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں

پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے

یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔

جیسے اور جگہ ہے :

أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللَّهَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ   (۹:۷۸)

کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور انکی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہےاور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے،

اور جگہ ارشاد ہے:

أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ ۚ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ  (۴۳:۸۰)

کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں،

 اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے

یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔

بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے،

ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ

پھر قیامت کے دن انہیں اعمال سے آگاہ کرے گا

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا،

إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (۷)

بیشک اللہ تعالیٰ  ہرچیز سے واقف ہے۔‏

اللہ تعالیٰ ہرچیز کو جاننے والا ہے۔

حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم بیان پر کیا

 مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔ مترجم

معاشرتی آداب کا ایک پہلو  کانا پھوسی سے روک

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَى ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وہ پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوبارہ کرتے ہیں

کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لئے کہ ان میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا،

جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکں انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔

 ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے:

 ہم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آگئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آگئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہوگئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں؟

 کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا؟

 ہم نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے،

آپ نے فرمایا:

 سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (یعنی ریاکاری)

اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔

وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ

اور آپس میں گناہ کی اور ظلم کی زیادتی کی نافرمانی، پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں

پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔

وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ

اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ  نے نہیں کہا

پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں،

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

 ایک مرتبہ یہودی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا السام علیک یا ابوالقاسم حضرت عائشہ سے رہا نہ گیا فرمایا وعلیکم السام۔

 سام کے معنی موت کے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔

میں نے کہا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو السلام نہیں کہا بلکہ السام کہا ہے،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے نہیں سنا؟ میں نے کہہ دیا وعلیکم۔

 اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔

 دوسری روایت میں ہے:

 حضرت عائشہ نے ان کے جواب میں فرمایا تھا علیکم السام والنام واللعنتہ اور آپ نے صدیقہ کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کو سنانا مقبول ہے  (ابن ابی حاتم)

ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آکر سلام کیاصحابہ نے جواب دیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا؟

 انہوں نے کہا حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سلام کیا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں اس نے کہا تھا سام علیکم یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے،

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آگیا تو آپ نے فرمایا سچ سچ بتاکیا تونے سام علیکم نہیں کہا تھا؟

 اس نے کہا ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں نے یہی کہا تھا

آپ نے فرمایا سنو:

 جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف علیک کہہ دیا کرو یعنی جو تونے کہا ہو وہ تجھ پر (ابن جریر)

وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ

اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ  ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا

پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔

حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا  ۖ

ان کے لئے جہنم کافی سزا ہے جس میں یہ جائیں گے

پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے

فَبِئْسَ الْمَصِيرُ (۸)

سو وہ برا ٹھکانا ہے۔‏

اور بری جگہ پہنچیں گے۔

 حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے،

 حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى ۖ

اے ایمان والو!

تم جب سرگوشیاں کرو تو یہ سرگوشیاں گناہ اور ظلم (زیادتی) اور نافرمانی پیغمبر کی نہ ہوبلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو

تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔

وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (۹)

اور اس اللہ سے ڈرتے رہو، جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے۔‏

تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔

حضرت صفوان فرماتے ہیں:

 میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مؤمن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہوگی اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟

 آپ نے فرمایا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے :

 اللہ تعالیٰ مؤمن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کرلے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا فلاں کیا تھا فلاں کیا تھا یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہوگا کہ اب ہلاک ہوا،

 اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا

لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہو جاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (بخاری و مسلم)

إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا

بری سرگوشیاں پس شیطانی کام ہے جس سے ایمانداروں کو رنج پہنچے

پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لئے کراتا ہے کہ مؤمنوں کو غم و رنج ہو

وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ

گو اللہ تعالیٰ  کی اجازت کے بغیر وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا،

وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ  (۱۰)

اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہئے کہ اعوذ پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے انشاء اللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔

ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع ہے، مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہوگا (بخاری و مسلم)

اور روایت میں ہے :

 ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں۔ (مسلم)

آداب مجلس باہم معاملات اور علمائے حق و باعمل کی توقیر

یہاں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ مجلسی آداب سکھاتا ہے۔ انہیں حکم دیتا ہے کہ نشست و برخاست میں بھی ایک دوسرے کا خیال و لحاظ رکھو۔ تو فرماتا ہے کہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ ۖ

اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشادہ کردواللہ تمہیں کشادگی دے گا

جب مجلس جمع ہو اور کوئی آئے تو ذرا ادھر ادھر ہٹ ہٹ کر اسے بھی جگہ دو۔

مجلس میں کشادگی کرو  اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی دے گا۔ اس لئے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے،

چنانچہ ایک حدیث میں ہے:

 جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے مسجد بنادے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا۔

 ایک اور حدیث میں ہے :

 جو کسی سختی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا، جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہے اللہ تعالیٰ خود اپنے اس بندے کی مدد پر رہتا ہے

 اور بھی اسی طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔

 حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مجلس ذکر کے بارے میں اتری ہے مثلاً:

 وعظ ہو رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نصیحت کی باتیں بیان فرما رہے ہیں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں اب جو دوسرا کوئی آیا تو کوئی اپنی جگہ سے نہیں سرکتا تاکہ اسے بھی جگہ مل جائے۔ قرآن کریم نے حکم دیا کہ ایسا نہ کرو ادھر ادھر کھل جایا کرو تاکہ آنے والے کی جگہ ہو جائے۔

حضرت مقاتل فرماتے ہیں:

 جمعہ کے دن یہ آیت اتری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن صفہ میں تھے یعنی مسجد کے ایک چھپر تلے جگہ تنگ تھی اور آپ کی عادت مبارک تھی کہ جو مہاجر اور انصاری بدر کی لڑائی میں آپ کے ساتھ تھے آپ ان کی بڑی عزت اور تکریم کیا کرتے تھے اس دن اتفاق سے چند بدری صحابہ دیر سے آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس کھڑے ہوگئے آپ سے سلام علیک ہوئی آپ نے جواب دیا پھر اور اہل مجلس کو سلام کیا انہوں نے بھی جواب دیا اب یہ اسی امید پر کھڑے رہے کہ مجلس میں ذرا کشادگی دیکھیں تو بیٹھ جائیں لیکن کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلا جو ان کیلئے جگہ ہوتی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو نہ رہا گیا نام لے لے کر بعض لوگوں کو ان کی جگہ سے کھڑا کیا اور ان بدری صحابیوں کو بیٹھنے کو فرمایا،

جو لوگ کھڑے کرائے گئے تھے انہیں ذرا بھاری پڑا ادھر منافقین کے ہاتھ میں ایک مشغلہ لگ گیا، کہنے لگے لیجئے یہ عدل کرنے کے مدعی نبی ہیں کہ جو لوگ شو ق سے آئے پہلے آئے اپنے نبی کے قریب جگہ لی اطمینان سے اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے انہیں تو ان کی جگہ سے کھڑا کردیا اور دیر سے آنے والوں کو ان کی جگہ دلوا دی کس قدر ناانصافی ہے،

ادھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے ان کے دل میلے نہ ہوں دعا کی کہ

 اللہ اس پر رحم کرے جو اپنے مسلمان بھائی کیلئے مجلس میں جگہ کردے۔

اس حدیث کو سنتے ہی صحابہ نے فوراً خود بخود اپنی جگہ سے ہٹنا اور آنے والوں کو جگہ دینا شروع کردیا اور جمعہ ہی کے دن یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم)

 بخاری مسلم مسند وغیرہ میں حدیث ہے:

 کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے ہٹاکر وہاں نہ بیٹھے بلکہ تمہیں چاہئے کہ ادھر ادھر سرک کر اس کیلئے جگہ بنا دو۔

مسند شافعی میں ہے:

 تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے بلکہ کہہ دے کہ گنجائش کرو۔

 اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ کسی آنے والے کیلئے کھڑے ہو جانا جائز ہے یا نہیں؟

-        بعض لوگ تو اجازت دیتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردار کیلئے کھڑے ہو جاؤ،

-        بعض علماء منع کرتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ لوگ اس کیلئے سیدھے کھڑے ہوں وہ جہنم میں اپنی جگہ بنالے،

-        بعض بزرگ تفصیل بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سفر سے اگر کوئی آیا ہو تو حاکم کیلئے عہدہ حکمرانی کے سبب لوگوں کا کھڑے ہو جانا درست ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کیلئے کھڑا ہونے کو فرمایا تھا یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ بنو قریظہ کے آپ حاکم بنائے گئے تھے جب انہیں آتا ہوا دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے سردار کیلئے کھڑے ہوجاؤ اور یہ (بطور تعظیم کے نہ تھا بلکہ) صرف اس لئے تھا کہ ان کے احکام کو بخوبی جاری کرائے۔ واللہ اعلم

ہاں اسے عادت بنالینا کہ مجلس میں جہاں کوئی بڑا آدمی آیا اور لوگ کھڑے ہوگئے یہ عجمیوں کا طریقہ ہے،

 سنن کی حدیث میں ہے :

صحابہ کرام کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور باعزت کوئی نہ تھا لیکن تاہم آپ کو دیکھ کر وہ کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے، جانتے تھے کہ آپ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔

سنن کی اور حدیث میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی مجلس کے خاتمہ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور جہاں آپ تشریف فرما ہوجاتے وہی جگہ صدارت کی جگہ ہو جاتی اور صحابہ کرام اپنے اپنے مراتب کے مطابق مجلس میں بیٹھ جاتے۔ حضرت الصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے دائیں جانب، فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں اور عموماً حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے بیٹھتے تھے کیونکہ یہ دونوں بزرگ کاتب وحی تھے آپ ان سے فرماتے اور یہ وحی کو لکھ لیا کرتے تھے۔

صحیح مسلم میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ مجھ سے قریب ہو کر عقل مند، صاحب فراست لوگ بیٹھیں پھر درجہ بدرجہ اور یہ انتظام اس لئے تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات یہ حضرات سنیں اور بخوبی سمجھیں،

یہی وجہ تھی کہ صفہ والی مجلس میں جس کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے آپ نے اور لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹاکر وہ جگہ بدری صحابہ کو دلوائی، گو اس کے ساتھ اور وجوہات بھی تھیں مثلاً

-        ان لوگوں کو خود چاہئے تھا کہ ان بزرگ صحابہ کا خیال کرتے اور لحاظ و مروت برت کر خود ہٹ کر انہیں جگہ دیتے جب انہوں نے از خود ایسا نہیں کیا تو پھر حکماً ان سے ایسا کرایا گیا،

-         اسی طرح پہلے کے لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے کلمات پوری طرح سن چکے تھے اب یہ حضرات آئے تھے تو آپ نے چاہا کہ یہ بھی بہ آرام بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور دینی تعلیم حاصل کرلیں،

-         اسی طرح اُمت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔

مسند احمد میں ہے :

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صفوں کی درستی کے وقت ہمارے مونڈھے خود پکڑ پکڑ کر ٹھیک ٹھاک کرتے اور زبانی بھی فرماتے جاتے سیدھے رہو ٹیڑھے ترچھے نہ کھڑے ہوا کرو، دانائی اور عقلمندی والے مجھ سے بالکل قریب رہیں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔

حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے اس حکم کے باوجود افسوس کہ اب تم بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو،

مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے

ظاہر ہے کہ جب آپ کا یہ حکم نماز کیلئے تھا تو نماز کے سوا کسی اور وقتوں میں تو بطور اولیٰ یہی حکم رہے گا،

ابوداؤد شریف میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

-        صفوں کو درست کرو،

-        مونڈھے ملائے رکھو،

-        صفوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو

-        اپنے بھائیوں کے پاس صف میں نرم بن جایا کرو،

-        صف میں شیطان کیلئے سوراخ نہ چھوڑو

-        صف ملانے والے کو اللہ تعالیٰ ملاتا ہے اور صف توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ کاٹ دیتا ہے،

 اسی لئے سید القراء حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب پہنچتے تو صف اول میں سے کسی ضعیف العقل شخص کو پیچھے ہٹا دیتے اور خود پہلی صف میں مل جاتے اور اسی حدیث کو دلیل میں لاتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مجھ سے قریب ذی رائے اور اعلیٰ عقل مند کھڑے ہوں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر اگر کوئی شخص کھڑا ہوجاتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے اور اس حدیث کو پیش کرتے جو اوپر گزری کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ میں کوئی اور نہ بیٹھے،

یہاں بطور نمونے کے یہ چند مسائل اور تھوڑی حدیثیں لکھ کر ہم آگے چلتے ہیں بسط و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں نہ یہ موقع ہے،

 ایک صحیح حدیث میں ہے :

 ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ تین شخص آئے ایک تو مجلس کے درمیان جگہ خالی دیکھ کر وہاں آکر بیٹھ گئے دوسرے نے مجلس کے آخرمیں جگہ بنالی تیسرے واپس چلے گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لوگوں میں تمہیں تین شخصوں کی بابت خبر دوں

-        ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی،

-        دوسرے نے شرم کی۔ اللہ نے بھی اس سے حیا کی،

-        تیسرے نے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔

 مسند احمد میں ہے:

 کسی کو حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان تفریق کرے، ہاں ان کی خوشنودی سے ہو تو اور بات ہے (ابوداؤد ترمذی)

امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے،

 حضرت ابن عباس حضرت حسن بصری وغیرہ فرماتے ہیں مجلسوں کی کشادگی کا حکم جہاد کے بارے میں ہے، اسی طرح اٹھ کھڑے ہونے کا حکم بھی جہاد کے بارے میں ہے،

 حضرت قتادہ فرماتے ہیں :

 جب تمہیں بھلائی اور کارخیر کی طرف بلایا جائے تو تم فوراً آجاؤ،

حضرت مقاتل فرماتے ہیں:

مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں نماز کیلئے بلایا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جایا کرو،

وَإِذَا قِيلَ انْشُزُوا فَانْشُزُوا

اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ

اللہ تعالیٰ  فرماتا ہے کہ مجلسوں میں جگہ دینے کو جب کہا جائے تو جگہ دینے میں اور جب چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جانے میں اپنی ہتک نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ بلند کرنا اور اپنی توقیر کرانا ہے اسے اللہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس پر دنیا اور آخرت میں نیک بدلہ دے گا، جو شخص احکام الٰہیہ پر تواضع سے گردن جھکا دے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور اس کی شہرت نیکی کے ساتھ کرتا ہے۔

حضرت عبدالرحمٰن بن زید فرماتے ہیں:

 صحابہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آتے تو جاتے وقت ہر ایک کی چاہت یہ ہوتی کہ سب سے آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا میں ہوں، بسا اوقات آپ کو کوئی کام کاج ہوتا تو بڑا حرج ہوتا لیکن آپ مروت سے کچھ نہ فرماتے اس پر یہ حکم ہوا کہ جب تم سے کھڑے ہونے کو کہا جائے تو کھڑے ہو جایا کرو،

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا ایمان الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ

اللہ تعالیٰ  تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا

والوں اور صحیح علم والوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کے سامنے گردن جھکا دیا کریں اور اس سے وہ بلند درجوں کے مستحق ہو جاتے ہیں۔

وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ  (۱۱)

اور اللہ تعالیٰ(ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے۔‏

اللہ تعالیٰ  کو بخوبی علم ہے کہ بلند مرتبوں کا مستحق کون ہے اور کون نہیں؟

حضرت نافع بن عبدالحارث سے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات عسفان میں ہوئی ہے حضرت عمر نے انہیں مکہ شریف کا عامل بنایا تھا تو ان سے پوچھا کہ تم مکہ شریف میں اپنی جگہ کسے چھوڑ آئے ہو؟

 جواب دیا کہ ابن ابزیٰ کو

حضرت عمر فاروق نے فرمایا وہ تو ہمارے مولیٰ ہیں یعنی آزاد کردہ غلام انہیں تم اہل مکہ کا امیر بناکر چلے آئے ہو؟

کہا ہاں اس لئے کہ وہ اللہ کی کتاب کا ماہر اور فرائض کا جاننے والا اور اچھا وعظ کہنے والا ہے،

حضرت عمر نے اس وقت فرمایا :

سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ

 اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے ایک قوم کو عزت پر پہنچا کر بلند مرتبہ کرے گا اور بعض کو پست و کم مرتبہ بنا دے گا۔ (مسلم)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ

اے مسلمانو! جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو

ذَلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ  (۱۲)

یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزہ تر ہے ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ  بخشنے والا ہے۔‏

اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہو جاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کرسکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔

أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ

کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟

پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔

فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ

پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ  نے بھی تمہیں معاف فرما دیا

فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ

تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ  کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو

وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ  (۱۳)

تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے۔‏

جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرمایا اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو،

کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے حضور سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

 اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کرسکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھناکر میں نے دس درہم لے لئے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دےدیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کرسکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔

ابن جریر میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے پوچھا کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو بہت ہوئی۔

فرمایا پھر آدھا دینار

 کہا ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں

آپ نے فرمایا اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟

فرمایا ایک جو برابر سونا

آپ نے فرمایا واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو،

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کردی،

ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے،

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مسلمان برابر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں :

صحابہ نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کردیئے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کردی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کردی اور اس حکم کو منسوخ کردیا،

 عکرمہ اور حسن بصری کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، حضرت قتادہ اور حضرت مقاتل بھی یہی فرماتے ہیں،

حضرت قتادہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا

حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کرسکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہوگیا۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ

کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے اس سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہو چکا ہے

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں

مَا هُمْ مِنْكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ  (۱۴)

نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں باوجود علم کے پھر بھی جھوٹی قسمیں کھا رہے ہیں۔

صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول ؐ کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بےدھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں،

أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ

اللہ تعالیٰ  نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے

ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے

إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ  (۱۵)

جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں۔‏

اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا

اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ

ان لوگوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے  اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں

یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں،

فَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ  (۱۶)

ان کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔‏

چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی اسلئے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہونگے

لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ

ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ  آئیں گی۔

جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی

أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ  (۱۷)

یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے‏

یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔

يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ ۚ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ  (۱۸)

جس دن اللہ تعالیٰ  ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں

(اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے  اور سمجھیں گے کہ وہ بھی کسی (دلیل) پر  ہیں یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں۔‏

قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟

وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

 ابن ابی حاتم میں ہے:

 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لئے بیٹھے تھے کہ آپ نے فرمایا دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا

تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟

یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔

اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔

یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا، قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔

اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ ۚ

ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے  اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے

پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے یاد اللہ ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔

ابو داؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ،

بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔

حضرت سائب فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔

أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ  (۱۹)

یہ شیطانی لشکر ہے۔کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے والا ہے ‏

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ  (۲۰)

بیشک اللہ تعالیٰ  کی اور اسکے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں  وہی لوگ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں ہدایت سے دو رہیں اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل بےوقار اور خستہ حال ہیں، رحمت رب سے دور اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔

كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۚ

اللہ تعالیٰ  لکھ چکا ہے  کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔

اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے نہ بدلے نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت، کہ وہ اور اسکی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مؤمن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے، جیسے اور جگہ ہے:

إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُيَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ ۖ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ  (۴۰:۵۱،۵۲)

ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان دار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لئے برا گھر ہو گا

إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (۲۱)

یقیناً اللہ تعالیٰ  زورآور اور غالب ہے ‏

یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مؤمنوں کا حصہ ہے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ

اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے  گو وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے عزیز ہی کیوں نہ ہوں

اللہ تعالیٰ فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں،ایک اور جگہ ہے:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ  وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ  

وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ۗ   (۳:۲۸)

مسلمانوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا ولی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں،

ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لئے ہو تو اور بات ہےاللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے

 اور جگہ ہے:

قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ  وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (۹:۲۴)

اور جگہ ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت ، تجارت حرفت، گھر بار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔

حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 یہ آیت حضرت ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کر دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لئے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں اس وقت حضرت ابوعبیدہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا

اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی،

-        مثلاً حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور

-        حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور

-        حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا

-         اور حضرت عمر اور حضرت حمزہ اور حضرت علی اور حضرت عبیدہ بن حارث نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا واللہ اعلم۔

 اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہو سکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہو جائیں مشرکوں سے جہاد کرنے کے لئے آلات حرب جمع کرلیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے۔

لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کر دیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئے اور حضرت علی کے حوالے عقیل کر دیجئے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئے وغیرہ۔

أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ  نے ایمان کو لکھ دیا  ہے

پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محبت سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے

وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ ۖ

اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے

جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جمالی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت بچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنا دیا ہے

وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ

اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے،

اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں،

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ۚ

اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں،

اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے لئےرشتہ کنبہ والوں کو ناراض کر دیا تھا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہو گیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہوگئے۔

أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ  (۲۲)

یہ خدائی لشکر ہےآگاہ رہو بیشک اللہ کے گروہ والے ہی کامیاب لوگ ہیں

اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے،

حضرت ابو حازم اعرج نے حضرت زہری رحمتہ اللہ علیہ کو لکھا:

 جاہ دو قسم کی ہے

ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمائی ہے:

 اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکو کار ہیں اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آ جائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں،

ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں

یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ (ابن ابی حاتم)

 نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا:

 اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے،

حضرت سفیان فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں (ابو احمد عسکری)

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com