تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ التحریم

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ

اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟

تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ  (۱)

 (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔

قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ۚ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ   (۲)

تحقیق کہ اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہےاور اللہ تمہارا کارساز ہے وہی (پورے) علم والا، حکمت والا ہے۔‏

وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ۖ

اور یاد کرو کہ جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی

پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دیاور اللہ نے اپنے نبی پر آگاہ کر دیاتو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے

فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا ۖ

پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی

قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ   (۳)

کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے ۔‏

شان نزول کے بارے میں مفسرین کے اقوال

اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں :

-       بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں،

-        نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں،

-       ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیمؓ کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ نےقسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری،

حضرت زیدؓ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے،

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا۔

حضرت مسروق فرماتے ہیں پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا،

ابن جریر میں ہے:

 حضرت ابن عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟

 فرمایا عائشہؓ اور حفصہؓ اور ابتدا قصہ ام ابراہیم قطبیہ ؓکے بارے میں ہوئی۔ حضرت حفصہؓ کے گھر میں ان کی باری والے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر حضرت حفصہؓ کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضور ﷺنے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لئے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا لیکن حضرت حفصہ ؓنے حضرت عائشہؓ سے واقعہ کہہ دیا اللہ نے اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں،

آپ نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے،

اسی واقعہ کو دلیل بنا کر حضرت عبداللہ بن عباس کا فتویٰ ہے :

 جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہئے،

ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں تو آپ نے فرمایا:

 وہ تجھ پر حرام نہیں،

سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ غلام آزاد کرنا ہے۔

 امام احمد اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے:

 جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔

امام شافعیؒ وغیرہ فرماتے ہیں :

صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی،

اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔

ابن عباس ؓسے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے باب میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا،

لیکن یہ غریب ہے،

بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔

صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر ہے کہ:

 حضرت زینب بنت بخش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر حضرت عائشہؓ اور حضرت حفضہؓ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا چنانچہ ہم نے یہی کیا

آپ نے فرمایا نہیں میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہو کہ نہ پیؤں گا یہ کسی سے کہنا مت،

 امام بخاری اس حدیث کو کتاب الایمان والندوہ میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ

 دونوں عورتوں سے یہاں مراد عائشہ اور حفصہ ہیں رضی اللہ عنہما اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے،

کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔پھر فرمایا ہے

مغافیر گوندے کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔

صحیح بخاری شریف کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث حضرت عائشہؓ سے ان الفاظ میں مروی ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے ایک مرتبہ آپ حضرت حفصہؓ کےہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کے انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا میں نے کہا خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی چنانچہ میں نے حضرت سودہ بنت زمعہؓ سے کہا کہ تمہارے پاس جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے

 آپ فرمائیں گے نہیں تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟

آپ فرمائیں گے مجھے حفصہؓ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا،

 میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی،

پھر اے صفیہؓ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا،

حضرت سودہؓ فرماتی ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا میں آپ سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ میرے پاس آئے میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا،

 پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا

پھر حضرت صفیہؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا

پھر جب حضرت حفصہؓ کے پاس گئے تو حضرت حفصہ نے شہد کا شربت پلانا چاہا

آپ نے فرمایا مجھے اس کی حاجت نہیں،

حضرت سودہؓ فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا

میں نے کہا خاموش رہو،

صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی اسی لئے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ نے جواب دیا کہ نہیں میں نے تو شہد پیا ہے تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی،

اس روایت میں لفظ جرست ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا

 اور شہد کی مکھیوں کو بھی جو راس کہتے ہیں

 اور جرس مد ہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں، عرب کہتے ہیں جبکہ پرنددانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو، ایک حدیث میں ہے پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے،

یہاں بھی عربی میں لفظ جرس ہے،

 اصمعی کہتے ہیں میں حضرت شعبہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ جرس کو جرش بڑی شین کے ساتھ پڑھا

میں نے کہا چھوٹے سین سے ہے حضرت شعبہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا

یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو،

 الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک حضرت حفصہؓ کا دوسرا حضرت زینبؓ کا بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں حضرت عائشہؓ کے ساتھ حضرت حفصہؓ کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے واللہ اعلم،

آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:

 مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ حضرت عمر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں حضرت عمر ؓ راستہ چھوڑ جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لئے ہوئے پیچھے پیچھے گیا آپ حاجت ضروری سے فارغی ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المومنین جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟

آپ نے فرمایا  ابن عباس افسوس،

حضرت زہری فرماتے ہیں حضرت عمر کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا

 لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لئے جواب دیا اس سے مراد حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ہیں رضی اللہ عنہما

 پھر حضرت عمر نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا :

 ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں حضرت امیہ بن زید کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟

یہ نئی بات کیسی؟

اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟

اللہ کی قسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں

اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟

جواب ملا کہ سچ ہے۔

میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہوگئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟

خبردار آئندہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا نہ آپ سے کچھ طلب کرنا جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو،

 حضرت عائشہ کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔

 اب اور سنو :

میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں ایک دن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے،

 ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھڑ کھڑا کر مجھے آوازیں دینے لگے میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟

اس نے کہا آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا

میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟

اس نے کہا اس سے بھی بڑھ کر

 میں نے پوچھا وہ کیا؟

 کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی

میں نے کہا افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفضہ کے پاس گیا دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں میں نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟

جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ ہم سے الگ ہو کر بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں

میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے میں نے کہا جاؤ میرے لئے اجازت طلب کرو وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا

میں وہاں سے واپس چلا آیا مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لئے اجازت طلب کرو اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا،میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی

 میں گیا دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟

آپ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا نہیں،

میں نے کہا اللہ اکبر!

یا رسول اللہ بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ بیان کیا۔یہ خبر پا کر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں یہ کہنا بھی بیان کیا کہ کیا انہیں ڈر نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔

 میں نے پھر اپنا حفصہ کے پاس جانا اور انہیں حضرت عائشہ کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے

میں نے کہا اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟

آپ نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ کی بیٹھک میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اُمت پر کشادگی کرے دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟

 یہ سنتے ہی آپ سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دی دی گئیں

میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے اللہ سے طلب بخشش کیجئے،

 بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھالی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہہ کی،

 یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے،

صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے

حضرت عمرؓ جس طرح حضرت حفضہ ؓکے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح حضرت عائشہؓ کے پاس بھی ہو آئے تھے،

اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے حضرت رباح تھا رضی اللہ عنہ،

یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :

آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل ، میکائیل اور میں اور ابوبکر اور جملہ مؤمن ہیں،

حضرت عمر ؓفرماتے ہیں:الحمد اللہ میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی یہ آیات آپ پر نازل ہوئیں،

مجھے جب آپ ﷺسے معلوم ہوا کہا آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی،

 اسی کے بارے میں آیت اتری

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ   (۴:۸۳)

جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے ۔

حضرت عمرؓ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہی ہوں

إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ۖ

(اے نبی کی دونوں بیویو !) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں

وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ

اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کار ساز اللہ ہے اور جبرائیل ہیں اور نیک ایماندار

اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ صالح المومنین سے مراد حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ ہیں،

 بعض نے حضرت عثمانؓ کا نام بھی لیا ہے بعض نے حضرت علیؓ کا۔

ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف حضرت علیؓ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے،

وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ   (۴)

اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں ‏

عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ

اگر وہ (پیغمبر) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں انکا رب تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا

صحیح بخاری شریف میں ہے :

 آپ کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں (حضرت عمرؓ) نے ان سے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کو دے گا پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری،

پہلے یہ بیان ہو چکا ہےحضرت عمرؓ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں بدری قیدیوں کے بارے میں مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں ،

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے :

 مجھے(حضرت عمرؓ)  جب امہات المومنین کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المومنین کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لئے کم ہیں جو تم آ گئے؟

 اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت عَسَى رَبُّهُ ، نازل ہوئی،

صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المومنین حضرت ام سلمہ تھیں۔

مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا   (۵)

جو اسلام والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا لانے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوہ اور کنواریاں۔

سَائِحَات کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں

 ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورہ برأت کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس اُمت کی سیاحت روزے رکھنا ہے،

دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے واللہ اعلم،

پھر فرمایا :

ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لئے جی خوش رہے، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے،

معجم طبرانی میں ابن یزید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد

-      بیوہ سے تو حضرت آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں

-      اور کنواری سے مراد حضرت مریم ہیں جو حضرت عمران کی بیٹی تھیں،

 ابن عساکر میں ہے:

 حضرت جبرائیل ؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں تو حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت خدیجہ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے نہ تکلیف ہے نہ شورو غل جو چھدے ہوئی موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم کے مکانات ہیں

 اور روایت میں ہے:

 حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خدیجہ اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا

 حضرت خدیجہؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟

آپ نے فرمایا نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے،

یہ حدیث بھی ضعیف ہے،

حضرت ابوامامہ سے ابویعلی میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے،

میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مبارک ہو،

یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ  جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ارشاد ربانی ہے کہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ،

حضرت ابن عباس علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کے فرمان بجا لاؤ اس کی نافرمانیاں مت کرو اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے،

 مجاہدؒ فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو،

قتادہؒ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔

 ضحاک و مقاتل فرماتے ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے،

 مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ،

یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے،

 فقہاء کا فرمان ہے:

 اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے اطاعت کے بجالانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔ ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہوگی؟

پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی

 جیسے اور جگہ ہے:

إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ   (۲۱:۹۸)

تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کا ایندھن بنو گے،

یعنی تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو، یا گندھک کے نہایت ہی بدبو دار پتھر ہیں،

 ایک رویات میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اس وقت آپ کی خدمت میں بعض اصحاب تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟

 حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے

 انہیں یہ سن کر غشی آ گئی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ نے انہیں آواز دی کہ کہو

لا الہ الا اللہ

اس نے اسے پڑھا

پھر آپ نے اسے جنت کی خوشخبری دی

 تو آپ کے اصحاب نے کہا کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟

آپ نے فرمایا ہاں

 دیکھو قرآن میں ہے یہ اس کے لئے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو،

 یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔

عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ

جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لئے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے،

لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ  (۶)

جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ  دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔‏

حضرت عکرمہؓ فرماتے ہیں:

 جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازہ پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں سخت بےرحم ہیں ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں،

 پھر دروازہ پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازہ سے دوسرے دروازہ کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے

 اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ   (۷)

اے کافرو! آج تم عذر و بہانہ مت کرو۔تمہیں صرف تمہارے کرتوت کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔‏

قیامت کے دن کفار سے کہا جائے گا کہ آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی۔ تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا

اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو

پھر ارشاد ہے کہ اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے،

حضرت نعمان بن بشیر نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ لوگو میں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے سنا ہے :

 خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے

 اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے،

 علماء سلف فرماتے ہیں کہ توبہ خالص یہ ہے کہ

-       گناہ کو اس وقت چھوڑ دے

-       جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو

-       اور آئندہ کے لئے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو،

-       اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

 نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے،

 حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں ہمیں کہا گیا تھا کہ اس اُمت کے آخری لوگ قیامت کے قریب کیا کیا کام کریں گے؟

-       ان میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی یا لونڈی سے اس کے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق حرام کر دیا ہے اور جس فعل پر اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہوتی ہے،

-        اسی طرح مرد مرد سے بدفعلی کریں گے جو حرام اور باعث ناراضی اللہ و رسول اللہ ہے،

 ان لوگوں کی نماز بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں جب تک کہ یہ توبہ نصوح نہ کریں،

حضرت ابوذرؓ نے حضرت ابیؓ سے پوچھا توبہ النصوح کیا ہے؟

فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا:

 قصور سے گناہ ہو گیا پھر اس پر نادم ہونا اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا اور پھر اس گناہ کی طرف مائل نہ ہونا،

 حضرت حسن ؒفرماتے ہیں:

 توبہ نصوح یہ ہے کہ جیسے گناہ کی محبت تھی ویسا ہی بغض دل میں بیٹھ جائے اور جب وہ گناہ یاد آئے اس سے استغفار ہو،

جب کوئی شخص توبہ کرنے پر پختگی کر لیتا ہے اور اپنی توبہ پر جما رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکی تمام اگلی خطائیں مٹا دیتا ہےجیسے صحیح حدیث میں ہے

 اسلام لانے سے پہلے کی تمام برائیاں اسلام فنا کر دیتا ہے اور توبہ سے پہلے کی تمام خطائیں توبہ سوخت کر دیتی ہے،

اب رہی یہ بات کہ توبہ نصوح میں یہ شرط بھی ہے کہ توبہ کرنے والا پھر مرتے دم تک یہ گناہ نہ کرے۔ جیسے کہ احادیث و آثار ابھی بیان ہوئے جن میں ہے کہ پھر کبھی نہ کرے، یا صرف اس کا عزم راسخ کافی ہے کہ اسے اب کبھی نہ کروں گا گو پھر بہ مقتضائے بشریت بھولے چوکے ہو جائے، جیسے کہ ابھی حدیث گزری کہ توبہ اپنے سے پہلے گناہوں کو بالکل مٹا دیتی ہے، تو تنہا توبہ کے ساتھ ہی گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا پھر مرتے دم تک اس کام کا نہ ہونا گناہ کی معافی کی شرط کے طور پر ہے؟

 پس پہلی بات کی دلیل تو یہ صحیح حدیث ہے:

 جو شخص اسلام میں نیکیاں کرے وہ اپنی جاہلیت کی برائیوں پر پکڑا نہ جائے گا اور جو اسلام لا کر بھی برائیوں میں مبتلا رہے وہ اسلام اور جاہلیت کی دونوں برائیوں میں پکڑا جائے گا،

پس اسلام جو کہ گناہوں کو دور کرنے میں توبہ سے بڑھ کر ہے جب اس کے بعد بھی اپنی بدکردارویوں کی وجہ سے پہلی برائیوں میں بھی پکڑ ہوئی تو توبہ کے بعد بطور اولیٰ ہونی چاہئے۔ واللہ اعلم۔

عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ

قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دےاور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں۔

لفظ عَسَى گو تمنا امید اور امکان کے معنی دیتا ہے لیکن کلام اللہ میں اس کے معنی تحقیق کے ہوتے ہیں

 پس فرمان ہے کہ خالص توبہ کرنے والے قطعاً اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں گے اور سرسبز و شاداب جنتوں میں آئیں گے۔

يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ

جس دن اللہ تعالیٰ  نبی کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا

پھر ارشاد ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو ہرگز شرمندہ نہ کرے گا، انہیں اللہ کی طرف سے نور عطا ہو گا

نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ

ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔

جو ان کے آگے آگے اور دائیں طرف ہو گا۔ اور سب اندھیروں میں ہوں گے اور یہ روشنی میں ہوں گے، جیسے کہ پہلے سورہ حدید کی تفسیر میں گز ر چکا،

جب یہ دیکھیں گے کہ منافقوں کو جو روشنی ملی تھیں عین ضرورت کے وقت وہ ان سے چھین لی گئی اور وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے تو دعا کریں گے کہ

يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ

یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما  اور ہمیں بخش دے

إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  (۸)

یقیناً تو ہرچیز پر قادر ہے۔‏

اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو ہماری روشنی تو آخر وقت تک ہمارے ساتھ ہی رہے ہمارا نور ایمان بجھنے نہ پائے۔

 بنو کنانہ کے ایک صحابی فرماتے ہیں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تو میں نے آپ کی اس دعا کو سنا

اللْهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَة

میرے اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا

ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 قیامت کے دن سب سے پہلے سجدے کی اجازت مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھی کو مرحمت ہو گی میں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظریں ڈال کر اپنی اُمت کو پہچان لوں گا

ایک صحابی نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے پہچانیں گے؟ وہاں تو بہت سی اُمتیں مخلوط ہوں گی

آپ نے فرمایا میری امت کے لوگوں کی ایک نشانی تو یہ ہے :

-       ان کے اعضاء وضو منور ہوں گے چمک رہے ہوں گے کسی اور اُمت میں یہ بات نہ ہو گی

-        دوسری پہچان یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے،

-       تیسری نشانی یہ ہو گی کہ سجدے کے نشان ان کی پیشانیوں پر ہوں گے جن سے میں پہچان لوں گا

-       چوتھی علامت یہ ہے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہو گا۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو  اور ان پر سختی کرو

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو،

وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ  (۹)

ان کا ٹھکانا جہنم ہے  اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‏

آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے،

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ

اللہ تعالیٰ  نے کافروں کے لئے نوح کی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی

كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا

یہ دونوں ہمارے بندوں میں دو (شائستہ اور) نیک بندوں کے گھر میں تھیں، پھر ان کی انہوں نے خیانت کی

فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ  (۱۰)

پس دونوں ان سے اللہ کے (عذاب کو) نہ روک سکےاور حکم دیا گیا (اے عورتوں) دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی چلی جاؤ، ‏

پھر مثال دے کر سمجھایا کہ کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں حضرت نوح ؑ کی اور حضرت لوط ؑ کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا۔

یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورہ نور کی تفسیر میں کر چکے ہیں،

بلکہ یہاں داد خیانت فی الدین یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا،

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان حضرت لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھیں، یہ دونوں بد دین تھیں

نوح علیہ السلام کی بیوی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھیں، اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بد عمل کی عادت تھی،

 بلکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی،

اسی طرح حضرت عکرمہ حضرت سعید بن جیر حضرت ضحاک وغیرہ سے بھی مروی ہے،

 اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے،

 یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے،

ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟

 آپ نے فرمایا نہیں لیکن اب میں کہتا ہوں۔

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ

اور اللہ تعالیٰ  نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا جیسے اور جگہ ہے:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ    (۳:۲۸)

ایمانداروں کو چاہئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے،

 حضرت قتادہ ؒفرماتے ہیں:

 روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لئے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔

حضرت سلمان فرماتے ہیں:

 فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی،

فرعون اور حضرت موسیٰ کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ غالب رہے بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائی۔

 فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھوا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو،

جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لئے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لئے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی

جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں،

إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا

اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ اللہ جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما

 اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے۔

اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے،

وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ  (۱۱)

اور مجھے فرعوں سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔‏

پھر دعا کرتی ہیں کہ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم تھا ۔

 ان کے ایمان لانے کا واقعہ ا بوالعا لیہ اس طرح بیان فرماتےہیں:

 فرعون کےداروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوںاس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟

 اس نے کہا میرا اور تیرے باپ کا اور ہرچیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے،

اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی،

فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟

 جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے میں اسی کی عبادت کرتی ہوں،

 فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں، پھر ایک دن آیا اور کہا اب تیرے خیالات درست ہوئے؟

وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے،

 فرعون نے کہا اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دونگا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا،

انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال،

اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا اے ماں خوش ہو جا تیرے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی،

 انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں

 فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنے ہی قتل کرا دیا۔

اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی،

فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوش خبری سنی تھی اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوش خبری سنی اور ایمان لے آئیں،ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا۔ یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں  یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی،اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟تم اسے کیا جانتے ہو؟

سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا تمہیں نہیں معلوم وہ بھی میرا سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے

پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیااس وقت حضرت آسیہ نے اپنے رب سے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا،

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں،

 ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا لوگو تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقینا اس کا دماغ ٹھکانے نہیں،الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہا

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا

اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی  جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی

پھر دوسری مثال حضرت مریم بنت عمران علیہ السلام کی بیان کی جاتی ہے کہ وہ نہایت پاک دامن تھیں، ہم نے اپنے فرشتے جبرائیل کی معرفت ان میں روح پھونکی حضرت جبرائیل کو انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دیں، اسی سے حمل رہ گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے،

پس فرمان ہے کہ میں نے اس میں اپنی روح پھونکی،

 پھر حضرت مریم کی اور تعریف ہو رہی ہے کہ

وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ  (۱۲)

اور (مریم) اس نے اپنے رب کی باتوں  اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور عبادت گزاروں میں تھی۔ ‏

وہ اپنے رب کی تقدیر اور شریعت کو سچ ماننے والی تھیں اور پوری فرمانبردار تھیں،مسند احمد میں ہے :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو پورا علم ہے،

آپ نے فرمایا سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں،

صحیح بخاری صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور حضرت مریم بنت عمران ہیں اور حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں

اور حضرت عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر

*********

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ

اے نبی! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کر دیا ہے اسے آپ کیوں حرام کرتے ہیں؟

تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ  (۱)

 (کیا) آپ اپنی بیویوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔

قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ ۚ وَاللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ   (۲)

تحقیق کہ اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہےاور اللہ تمہارا کارساز ہے وہی (پورے) علم والا، حکمت والا ہے۔‏

وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ۖ

اور یاد کرو کہ جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیدہ بات کہی

پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دیاور اللہ نے اپنے نبی پر آگاہ کر دیاتو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے

فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا ۖ

پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وہ کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی

قَالَ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ   (۳)

کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے ۔‏

شان نزول کے بارے میں مفسرین کے اقوال

اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں :

-       بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں،

-        نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں،

-       ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیمؓ کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر؟ چنانچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہو جائے گا؟ تو آپ نےقسم کھائی کہ اب ان سے اس قسم کی بات چیت نہ کروں گا۔ اس پر یہ آیت اتری،

حضرت زیدؓ فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا یہ کہہ دینا کہ تو مجھ پر حرام ہے لغو اور فضول ہے،

حضرت زید بن اسلم فرماتے ہیں آپ نے یہ فرمایا تھا کہ تو مجھ پر حرام ہے اللہ کی قسم میں تجھ سے صحبت داری نہ کروں گا۔

حضرت مسروق فرماتے ہیں پس حرام کرنے کے باب میں تو آپ پر عتاب کیا گیا اور قسم کے کفارے کا حکم ہوا،

ابن جریر میں ہے:

 حضرت ابن عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا کہ یہ دونوں عورتیں کون تھیں؟

 فرمایا عائشہؓ اور حفصہؓ اور ابتدا قصہ ام ابراہیم قطبیہ ؓکے بارے میں ہوئی۔ حضرت حفصہؓ کے گھر میں ان کی باری والے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے۔ جس پر حضرت حفصہؓ کو رنج ہوا کہ میری باری کے دن میرے گھر اور میرے بستر پر؟ حضور ﷺنے انہیں رضامند کرنے اور منانے کے لئے کہہ دیا کہ میں اسے اپنے اوپر حرام کرتا ہوں، اب تم اس واقعہ کا ذکر کسی سے نہ کرنا لیکن حضرت حفصہ ؓنے حضرت عائشہؓ سے واقعہ کہہ دیا اللہ نے اس کی اطلاع اپنے نبی کو دے دی اور یہ کل آیتیں نازل فرمائیں،

آپ نے کفارہ دے کر اپنی قسم توڑ دی اور اس لونڈی سے ملے جلے،

اسی واقعہ کو دلیل بنا کر حضرت عبداللہ بن عباس کا فتویٰ ہے :

 جو کہے فلاں چیز مجھ پر حرام ہے اسے قسم کا کفارہ دینا چاہئے،

ایک شخص نے آپ سے یہی مسئلہ پوچھا کہ میں اپنی عورت کو اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں تو آپ نے فرمایا:

 وہ تجھ پر حرام نہیں،

سب سے زیادہ سخت کفارہ اس کا تو راہ اللہ غلام آزاد کرنا ہے۔

 امام احمد اور بہت سے فقہاء کا فتویٰ ہے:

 جو شخص اپنی بیوی، لونڈی یا کسی کھانے پینے پہننے اوڑھنے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔

امام شافعیؒ وغیرہ فرماتے ہیں :

صرف بیوی اور لونڈی کے حرام کرنے پر کفارہ ہے کسی اور پر نہیں، اور اگر حرام کہنے سے نیت طلاق کی رکھی تو بیشک طلاق ہو جائے گی،

اسی طرح لونڈی کے بارے میں اگر آزادگی کی نیت حرام کا لفظ کہنے سے رکھی ہے تو وہ آزاد ہو جائے گی۔

ابن عباس ؓسے مروی ہے کہ یہ آیت اس عورت کے باب میں نازل ہوئی ہے جس نے اپنا نفس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا تھا،

لیکن یہ غریب ہے،

بالکل صحیح بات یہ ہے کہ ان آیتوں کا اترنا آپ کے شہد حرام کر لینے پر تھا۔

صحیح بخاری میں اس آیت کے موقعہ پر ہے کہ:

 حضرت زینب بنت بخش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہد پیتے تھے اور اس کی خاطر ذرا سی دیر وہاں ٹھہرتے بھی تھے اس پر حضرت عائشہؓ اور حضرت حفضہؓ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے ہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئیں وہ کہے کہ یا رسول اللہ آج تو آپ کے منہ سے گوند کی سی بدبو آتی ہے شاید آپ نے مغافیر کھایا ہو گا چنانچہ ہم نے یہی کیا

آپ نے فرمایا نہیں میں نے تو زینب کے گھر شہد پیا ہے اب قسم کھاتا ہو کہ نہ پیؤں گا یہ کسی سے کہنا مت،

 امام بخاری اس حدیث کو کتاب الایمان والندوہ میں بھی کچھ زیادتی کے ساتھ لائے ہیں جس میں ہے کہ

 دونوں عورتوں سے یہاں مراد عائشہ اور حفصہ ہیں رضی اللہ عنہما اور چپکے سے بات کہنا یہی تھا کہ میں نے شہد پیا ہے،

کتاب الطلاق میں امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو لائے ہیں۔پھر فرمایا ہے

مغافیر گوندے کے مشابہ ایک چیز ہے جو شور گھاس میں پیدا ہوتی ہے اس میں قدرے مٹھاس ہوتی ہے۔

صحیح بخاری شریف کی کتاب الطلاق میں یہ حدیث حضرت عائشہؓ سے ان الفاظ میں مروی ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹھاس اور شہد بہت پسند تھا عصر کی نماز کے بعد اپنی بیویوں کے گھر آتے اور کسی سے نزدیکی کرتے ایک مرتبہ آپ حضرت حفصہؓ کےہاں گئے اور جتنا وہاں رکتے تھے اس سے زیادہ رکے مجھے غیرت سوار ہوئی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان کی قوم کی ایک عورت نے ایک کپی شہد کے انہیں بطور ہدیہ کے بھیجی ہے، انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد کا شربت پلایا اور اتنی دیر روک رکھا میں نے کہا خیر اسے کسی حیلے سے ٹال دوں گی چنانچہ میں نے حضرت سودہ بنت زمعہؓ سے کہا کہ تمہارے پاس جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آئیں اور قریب ہوں تو تم کہنا کہ آج کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے

 آپ فرمائیں گے نہیں تم کہنا پھر یہ بدبو کیسی آتی ہے؟

آپ فرمائیں گے مجھے حفصہؓ نے شہد پلایا تھا تو تم کہنا کہ شاید شہد کی مکھی نے عرفط نامی خار دار درخت چوسا ہو گا،

 میرے پاس آئیں گے میں بھی یہی کہوں گی،

پھر اے صفیہؓ تمہارے پاس جب آئیں تو تم بھی یہی کہنا،

حضرت سودہؓ فرماتی ہیں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر آئے ابھی تو دروازے ہی پر تھے جو میں نے ارادہ کیا کہ تم نے جو مجھ سے کہا میں آپ سے کہہ دوں کیونکہ میں تم سے بہت ڈرتی تھی لیکن خیر اس وقت تو خاموش رہی جب آپ میرے پاس آئے میں نے تمہارا تمام کہنا پورا کر دیا،

 پھر حضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے میں نے بھی یہی کہا

پھر حضرت صفیہؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی یہی کہا

پھر جب حضرت حفصہؓ کے پاس گئے تو حضرت حفصہ نے شہد کا شربت پلانا چاہا

آپ نے فرمایا مجھے اس کی حاجت نہیں،

حضرت سودہؓ فرمانے لگیں افسوس ہم نے اسے حرام کرا دیا

میں نے کہا خاموش رہو،

صحیح مسلم کی اس حدیث میں اتنی زیادتی اور ہے کہ:

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدبو سے سخت نفرت تھی اسی لئے ان بیویوں نے کہا تھا کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے اس میں بھی قدرے بدبو ہوتی ہے، جب آپ نے جواب دیا کہ نہیں میں نے تو شہد پیا ہے تو انہوں نے کہہ دیا کہ پھر اس شہد کی مکھی نے عرفط درخت کو چوسا ہو گا جس کے گوند کا نام مغافیر ہے اور اس کے اثر سے اس شہد میں اس کی بو رہ گئی ہو گی،

اس روایت میں لفظ جرست ہے جس کے معنی جوہری نے کئے ہیں کھایا

 اور شہد کی مکھیوں کو بھی جو راس کہتے ہیں

 اور جرس مد ہم ہلکی آواز کو کہتے ہیں، عرب کہتے ہیں جبکہ پرنددانہ چگ رہا ہو اور اس کی چونچ کی آواز سنائی دیتی ہو، ایک حدیث میں ہے پھر وہ جنتی پرندوں کی ہلکی اور میٹھی سہانی آوازیں سنیں گے،

یہاں بھی عربی میں لفظ جرس ہے،

 اصمعی کہتے ہیں میں حضرت شعبہ کی مجلس میں تھا وہاں انہوں نے اس لفظ جرس کو جرش بڑی شین کے ساتھ پڑھا

میں نے کہا چھوٹے سین سے ہے حضرت شعبہ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا

یہ ہم سے زیادہ اسے جانتے ہیں یہی ٹھیک ہے تم اصلاح کر لو،

 الغرض شہد نوشی کے واقعہ میں شہد پلانے والیوں میں دو نام مروی ہیں ایک حضرت حفصہؓ کا دوسرا حضرت زینبؓ کا بلکہ اس امر پر اتفاق کرنے والیوں میں حضرت عائشہؓ کے ساتھ حضرت حفصہؓ کا نام ہے پس ممکن ہے یہ دو واقعہ ہوں، یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن ان دونوں کے بارے میں اس آیت کا نازل ہونا ذرا غور طلب ہے واللہ اعلم،

آپس میں اس قسم کا مشورہ کرنے والی حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ تھیں یہ اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے جو مسند امام احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں:

 مجھے مدتوں سے آرزو تھی کہ حضرت عمر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیوی صاحبان کا نام معلوم کروں جن کا ذکر آیت إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ، میں ہے پس حج کے سفر میں جب خلیفتہ الرسول چلے تو میں بھی ہم رکاب ہو لیا ایک راستے میں حضرت عمر ؓ راستہ چھوڑ جنگل کی طرف چلے میں ڈولچی لئے ہوئے پیچھے پیچھے گیا آپ حاجت ضروری سے فارغی ہو کر آئے میں نے پانی ڈلوایا اور وضو کرایا، اب موقعہ پا کر سوال کیا کہ اے امیر المومنین جن کے بارے میں یہ آیت ہے وہ دونوں کون ہیں؟

آپ نے فرمایا  ابن عباس افسوس،

حضرت زہری فرماتے ہیں حضرت عمر کو ان کا یہ دریافت کرنا برا معلوم ہوا

 لیکن چھپانا جائز نہ تھا اس لئے جواب دیا اس سے مراد حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ہیں رضی اللہ عنہما

 پھر حضرت عمر نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا :

 ہم قریش تو اپنی عورتوں کو اپنے زیر فرمان رکھتے تھے لیکن مدینہ آئے تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی ہم پر غلبہ حاصل کرنا چاہا۔ میں مدینہ شریف کے بالائی حصہ میں حضرت امیہ بن زید کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا ایک مرتبہ میں اپنی بیوی پر کچھ ناراض ہوا اور کچھ کہنے سننے لگا تو پلٹ کر اس نے مجھے جواب دینے شروع کئے مجھے نہایت برا معلوم ہوا کہ یہ کیا حرکت ہے؟

یہ نئی بات کیسی؟

اس نے میرا تعجب دیکھ کر کہا کہ آپ کس خیال میں ہیں؟

اللہ کی قسم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور بعض مرتبہ تو دن دن بھر بول چال چھوڑ دیتی ہیں

اب میں تو ایک دوسری الجھن میں پڑ گیا سیدھا اپنی بیٹی حفصہ کے گھر گیا اور دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیتی ہو اور کبھی کبھی سارا سارا دن روٹھی رہتی ہو؟

جواب ملا کہ سچ ہے۔

میں نے کہا کہ برباد ہوئی اور نقصان میں پڑی جس نے ایسا کیا۔ کیا تم اس سے غافل ہوگئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے ایسی عورت پر اللہ ناراض ہو جائے اور وہ کہیں کی نہ رہے؟

خبردار آئندہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جواب نہ دینا نہ آپ سے کچھ طلب کرنا جو مانگنا ہو مجھ سے مانگ لیا کرو،

 حضرت عائشہ کو دیکھ کر تم ان کی حرص نہ کرنا وہ تم سے اچھی اور تم سے بہت زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منظور نظر ہیں۔

 اب اور سنو :

میرا پڑوسی ایک انصاری تھا اس نے اور میں نے باریاں مقرر کر لی تھیں ایک دن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارتا اور ایک دن وہ، میں اپنی باری والے دن کی تمام حدیثیں آیتیں وغیرہ انہیں آ کر سنا دیتا اور یہ بات ہم میں اس وقت مشہور ہو رہی تھی کہ غسانی بادشاہ اپنے فوجی گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے اور اس کا ارادہ ہم پر چڑھائی کرنے کا ہے،

 ایک مرتبہ میرے ساتھی اپنی باری والے دن گئے ہوئے تھے عشاء کے وقت آ گئے اور میرا دروازہ کھڑ کھڑا کر مجھے آوازیں دینے لگے میں گھبرا کر باہر نکلا دریافت کیا خیریت تو ہے؟

اس نے کہا آج تو بڑا بھاری کام ہو گیا

میں نے کہا کیا غسانی بادشاہ آ پہنچا؟

اس نے کہا اس سے بھی بڑھ کر

 میں نے پوچھا وہ کیا؟

 کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی

میں نے کہا افسوس حفصہ برباد ہو گئی اور اس نے نقصان اٹھایا مجھے پہلے ہی سے اس امر کا کھٹکا تھا صبح کی نماز پڑھتے ہی کپڑے پہن کر میں چلا سیدھا حفضہ کے پاس گیا دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں میں نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی؟

جواب دیا یہ تو کچھ معلوم نہیں، آپ ہم سے الگ ہو کر بالا خانہ میں تشریف فرما ہیں

میں وہاں گیا دیکھا کہ ایک حبشی غلام پہرے پر ہے میں نے کہا جاؤ میرے لئے اجازت طلب کرو وہ گیا پھر آ کر کہنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا

میں وہاں سے واپس چلا آیا مسجد میں گیا دیکھا کہ منبر کے پاس ایک گروہ صحابہ کا بیٹھا ہوا ہے اور بعض کے تو آنسو نکل رہے ہیں، میں تھوڑی سی دیر بیٹھا لیکن چین کہاں پھر اٹھ کھڑا ہوا اور وہاں جا کر غلام سے کہا کہ میرے لئے اجازت طلب کرو اس نے پھر آ کر یہی کہا کہ کچھ جواب نہیں ملا،میں دوبارہ مسجد چلا گیا پھر وہاں سے گھبرا کر نکلا یہاں آیا پھر غلام سے کہا غلام گیا آیا اور وہی جواب دیا میں واپس مڑا ہی تھا کہ غلام نے مجھے آواز دی کہ آیئے آپ کو اجازت مل گئی

 میں گیا دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورے پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ کے جسم مبارک پر ظاہر ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟

آپ نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور فرمایا نہیں،

میں نے کہا اللہ اکبر!

یا رسول اللہ بات یہ ہے کہ ہم قوم قریش تو اپنی بیویوں کو اپنے دباؤ میں رکھا کرتے تھے لیکن مدینے والوں پر ان کی بیویاں غالب ہیں یہاں آ کر ہماری عورتوں نے بھی ان کی دیکھا دیکھی یہی حرکت شروع کر دی، پھر میں نے اپنی بیوی کا واقعہ بیان کیا۔یہ خبر پا کر کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی ایسا کرتی ہیں یہ کہنا بھی بیان کیا کہ کیا انہیں ڈر نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غصہ کی وجہ سے اللہ بھی ان سے ناراض ہو جائے اور وہ ہلاک ہو جائیں اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔

 میں نے پھر اپنا حفصہ کے پاس جانا اور انہیں حضرت عائشہ کی ریس کرنے سے روکنا بیان کیا اس پر دوبارہ مسکرائے

میں نے کہا اگر اجازت ہو تو ذرا سی دیر اور رک جاؤں؟

آپ نے اجازت دی میں بیٹھ گیا اب جو سر اٹھا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو آپ کی بیٹھک میں سوائے تین خشک کھالوں کے اور کوئی چیز نہ دیکھی، آزردہ دل ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اُمت پر کشادگی کرے دیکھئے تو فارسی اور رومی جو اللہ کی عبادت ہی نہیں کرتے انہیں کس قدر دنیا کی نعمتوں میں وسعت دی گئی ہے؟

 یہ سنتے ہی آپ سنبھل بیٹھے اور فرمانے لگے اے ابن خطاب کیا تو شک میں ہے؟ اس قوم کی اچھائیاں انہیں بہ عجلت دنیا میں ہی دی دی گئیں

میں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے اللہ سے طلب بخشش کیجئے،

 بات یہ تھی کہ آپ نے سخت ناراضگی کی وجہ سے قسم کھالی تھی کہ مہینہ بھر تک اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہہ کی،

 یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے،

صحیح مسلم میں ہے کہ طلاق کی شہرت کا واقعہ پردہ کی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اس میں یہ بھی ہے

حضرت عمرؓ جس طرح حضرت حفضہ ؓکے پاس جا کر انہیں سمجھا آئے تھے اسی طرح حضرت عائشہؓ کے پاس بھی ہو آئے تھے،

اور یہ بھی ہے کہ اس غلام کا نام جو ڈیوڑھی پر پہرہ دے رہے تھے حضرت رباح تھا رضی اللہ عنہ،

یہ بھی ہے کہ حضرت عمر ؓنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا :

آپ عورتوں کے بارے میں اس مشقت میں کیوں پڑتے ہیں؟ اگر آپ انہیں طلاق بھی دے دیں دیں تو آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے، جبرائیل ، میکائیل اور میں اور ابوبکر اور جملہ مؤمن ہیں،

حضرت عمر ؓفرماتے ہیں:الحمد اللہ میں اس قسم کی جو بات کہتا مجھے امید لگی رہتی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق نازل فرمائے گا، پس اس موقعہ پر بھی یہ آیات آپ پر نازل ہوئیں،

مجھے جب آپ ﷺسے معلوم ہوا کہا آپ نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی تو میں نے مسجد میں آ کر دروازے پر کھڑا ہو کر اونچی آواز سے سب کو اطلاع دے دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی،

 اسی کے بارے میں آیت اتری

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ   (۴:۸۳)

جہاں انہیں کوئی امن کی یا خوف کی خبر پہنچی کہ یہ اسے شہرت دینے لگتے ہیں اگر یہ اس خبر کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا ذی عقل و علم مسلمانوں تک پہنچا دیتے تو بیشک ان میں سے جو لوگ محقق ہیں وہ اسے سمجھ لیتے ۔

حضرت عمرؓ یہاں تک اس آیت کو پڑھ کر فرماتے پس اس امر کا استنباط کرنے والوں میں سے میں ہی ہوں

إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا ۖ

(اے نبی کی دونوں بیویو !) اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کر لو (تو بہت بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں

وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ ۖ

اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کار ساز اللہ ہے اور جبرائیل ہیں اور نیک ایماندار

اور بھی بہت سے بزرگ مفسرین سے مروی ہے کہ صالح المومنین سے مراد حضرت ابوبکرؓ حضرت عمرؓ ہیں،

 بعض نے حضرت عثمانؓ کا نام بھی لیا ہے بعض نے حضرت علیؓ کا۔

ایک ضعیف حدیث میں مرفوعاً صرف حضرت علیؓ کا نام ہے لیکن سند ضعیف ہے اور بالکل منکر ہے،

وَالْمَلَائِكَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ظَهِيرٌ   (۴)

اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مدد کرنے والے ہیں ‏

عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ

اگر وہ (پیغمبر) تمہیں طلاق دے دیں تو بہت جلد انہیں انکا رب تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عنایت فرمائے گا

صحیح بخاری شریف میں ہے :

 آپ کی بیویاں غیرت میں آ گئیں جس پر میں (حضرت عمرؓ) نے ان سے کہا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں گے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں آپ کو دے گا پس میرے لفظوں ہی میں قرآن کی یہ آیت اتری،

پہلے یہ بیان ہو چکا ہےحضرت عمرؓ نے بہت سی باتوں میں قرآن کی موافقت کی جیسے پردے کے بارے میں بدری قیدیوں کے بارے میں مقام ابراہیم کو قبلہ ٹھہرانے کے بارے میں ،

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے :

 مجھے(حضرت عمرؓ)  جب امہات المومنین کی اس رنجش کی خبر پہنچی تو ان کی خدمت میں میں گیا اور انہیں بھی کہنا شروع کیا یہاں تک کہ آخری ام المومنین کے پاس پہنچا تو مجھے جواب ملا کہ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود نصیحت کرنے کے لئے کم ہیں جو تم آ گئے؟

 اس پر میں خاموش ہو گیا لیکن قرآن میں آیت عَسَى رَبُّهُ ، نازل ہوئی،

صحیح بخاری میں ہے کہ جواب دینے والی ام المومنین حضرت ام سلمہ تھیں۔

مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا   (۵)

جو اسلام والیاں توبہ کرنے والیاں، عبادت بجا لانے والیاں روزے رکھنے والیاں ہوں گی بیوہ اور کنواریاں۔

سَائِحَات کی تفسیر ایک تو یہ ہے کہ روزے رکھنے والیاں

 ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی تفسیر اس لفظ کی آئی ہے جو حدیث سورہ برأت کے اس لفظ کی تفسیر میں گزر چکی ہے کہ اس اُمت کی سیاحت روزے رکھنا ہے،

دوسری تفسیر یہ ہے کہ مراد اس ہجرت کرنے والیاں، لیکن اول قول ہی اولیٰ ہے واللہ اعلم،

پھر فرمایا :

ان میں سے بعض بیوہ ہوں گی اور بعض کنواریاں اس لئے جی خوش رہے، قسموں کی تبدیلی نفس کو بھلی معلوم ہوتی ہے،

معجم طبرانی میں ابن یزید اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت میں جو وعدہ فرمایا ہے اس سے مراد

-      بیوہ سے تو حضرت آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں

-      اور کنواری سے مراد حضرت مریم ہیں جو حضرت عمران کی بیٹی تھیں،

 ابن عساکر میں ہے:

 حضرت جبرائیل ؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں تو حضرت جبرائیل نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت خدیجہ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں خوشی ہو جنت کے ایک چاندی کے گھر کی جہاں نہ گرمی ہے نہ تکلیف ہے نہ شورو غل جو چھدے ہوئی موتی کا بنا ہوا ہے جس کے دائیں بائیں مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم کے مکانات ہیں

 اور روایت میں ہے:

 حضرت خدیجہؓ کے انتقال کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے خدیجہ اپنی سوکنوں سے میرا سلام کہنا

 حضرت خدیجہؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح کیا تھا؟

آپ نے فرمایا نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم بہن موسیٰ کی ان تینوں کو میرے نکاح میں دے رکھا ہے،

یہ حدیث بھی ضعیف ہے،

حضرت ابوامامہ سے ابویعلی میں مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کیا جانتے ہو اللہ تعالیٰ نے جنت میں میرا نکاح مریم بنت عمران کلثوم اخت موسیٰ اور آسیہ زوجہ فرعون سے کر دیا ہے،

میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو مبارک ہو،

یہ حدیث بھی ضعیف ہے اور ساتھ ہی مرسل بھی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ

اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ  جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ارشاد ربانی ہے کہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ،

حضرت ابن عباس علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کے فرمان بجا لاؤ اس کی نافرمانیاں مت کرو اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے،

 مجاہدؒ فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو،

قتادہؒ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔

 ضحاک و مقاتل فرماتے ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے رشتے کنبے کے لوگوں کو اور اپنے لونڈی غلام کو اللہ کے فرمان بجا لانے کی اور اس کی نافرمانیوں سے رکنے کی تعلیم دیتا رہے،

 مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 جب بچے سات سال کے ہو جائیں انہیں نماز پڑھنے کو کہتے سنتے رہا کرو جب دس سال کے ہو جائیں اور نماز میں سستی کریں تو انہیں مار کر دھمکا کر پڑھاؤ،

یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے،

 فقہاء کا فرمان ہے:

 اسی طرح روزے کی بھی تاکید اور تنبیہہ اس عمر سے شروع کر دینی چاہئے تاکہ بالغ ہونے تک پوری طرح نماز روزے کی عادت ہو جائے اطاعت کے بجالانے اور معصیت سے بچنے رہنے اور برائی سے دور رہنے کا سلیقہ پیدا ہو جائے۔ ان کاموں سے تم اور وہ جہنم کی آگ سے بچ جاؤ گے جس آگ کا ایندھن انسانوں کے جسم اور پتھر ہیں ان چیزوں سے یہ آگ سلگائی گئی ہے پھر خیال کر لو کہ کس قدر تیز ہوگی؟

پتھر سے مراد یا تو وہ پتھر ہے جن کی دنیا میں پرستش ہوتی رہی

 جیسے اور جگہ ہے:

إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ   (۲۱:۹۸)

تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کا ایندھن بنو گے،

یعنی تم اور تمہارے معبود جہنم کی لکڑیاں ہو، یا گندھک کے نہایت ہی بدبو دار پتھر ہیں،

 ایک رویات میں ہے:

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اس وقت آپ کی خدمت میں بعض اصحاب تھے جن میں سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جہنم کے پتھر دنیا کے پتھروں جیسے ہیں؟

 حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کا ایک پتھر ساری دنیا کے تمام پتھروں سے بڑا ہے

 انہیں یہ سن کر غشی آ گئی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دل پر ہاتھ رکھا تو وہ دل دھڑک رہا تھا آپ نے انہیں آواز دی کہ کہو

لا الہ الا اللہ

اس نے اسے پڑھا

پھر آپ نے اسے جنت کی خوشخبری دی

 تو آپ کے اصحاب نے کہا کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کو یہ خوشخبری دی جا رہی ہے؟

آپ نے فرمایا ہاں

 دیکھو قرآن میں ہے یہ اس کے لئے ہے جو میرے سامنے کھڑا ہونے اور میرے دھمکیوں کا ڈر رکھتا ہو،

 یہ حدیث غریب اور مرسل ہے۔

عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ

جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں

پھر ارشاد ہوتا ہے اس آگ سے عذاب کرنے والے فرشتے سخت طبیعت والے ہیں جن کے دلوں میں کافروں کے لئے اللہ نے رحم رکھا ہی نہیں اور جو بدترین ترکیبوں میں بڑی بھاری سزائیں کرتے ہیں جن کے دیکھنے سے بھی پتہ پانی اور کلیجہ چھلنی ہو جائے،

لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ  (۶)

جنہیں جو حکم اللہ تعالیٰ  دیتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جائے بجا لاتے ہیں۔‏

حضرت عکرمہؓ فرماتے ہیں:

 جب دوزخیوں کا پہلا جتھا جہنم کو چلا جائے گا تو دیکھے گا کہ پہلے دروازہ پر چار لاکھ فرشتے عذاب کرنے والے تیار ہیں جن کے چہرے بڑے ہیبت ناک اور نہایت سیاہ ہیں کچلیاں باہر کو نکلی ہوئی ہیں سخت بےرحم ہیں ایک ذرے کے برابر بھی اللہ نے ان کے دلوں میں رحم نہیں رکھا اس قدر جسیم ہیں کہ اگر کوئی پرند ان کے ایک کھوے سے اڑ کر دوسرے کھوے تک پہنچنا چاہے تو کئی مہینے گزر جائیں،

 پھر دروازہ پر انیس فرشتے پائیں گے جن کے سینوں کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے پھر ایک دروازہ سے دوسرے دروازہ کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے پانچ سو سال تک گرتے رہنے کے بعد دوسرا دروازہ آئے گا وہاں بھی اسی طرح ایسے ہی اور اتنے ہی فرشتوں کو موجود پائیں گے اسی طرح ہر ایک دروازہ پر یہ فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہیں ادھر فرمایا گیا ادھر انہوں نے عمل شروع کر دیا ان کا نام زبانیہ ہے

 اللہ ہمیں اپنے عذاب سے پناہ دے آمین۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ   (۷)

اے کافرو! آج تم عذر و بہانہ مت کرو۔تمہیں صرف تمہارے کرتوت کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔‏

قیامت کے دن کفار سے کہا جائے گا کہ آج تم بے کار عذر پیش نہ کرو کوئی معذرت ہمارے سامنے نہ چل سکے گی۔ تمہارے کرتوت کا مزہ تمہیں چکھنا ہی پڑے گا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا

اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو

پھر ارشاد ہے کہ اے ایمان والو تم سچی اور خالص توبہ کرو جس سے تمہارے اگلے گناہ معاف ہو جائیں میل کچیل دھل جائے، برائیوں کی عادت ختم ہو جائے،

حضرت نعمان بن بشیر نے اپنے ایک خطبے میں بیان فرمایا کہ لوگو میں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے سنا ہے :

 خالص توبہ یہ ہے کہ انسان گناہ کی معافی چاہے اور پھر اس گناہ کو نہ کرے

 اور روایت میں ہے پھر اس کے کرنے کا ارادہ بھی نہ کرے،

 علماء سلف فرماتے ہیں کہ توبہ خالص یہ ہے کہ

-       گناہ کو اس وقت چھوڑ دے

-       جو ہو چکا ہے اس پر نادم ہو

-       اور آئندہ کے لئے نہ کرنے کا پختہ عزم ہو،

-       اور اگر گناہ میں کسی انسان کا حق ہے تو چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ حق باقاعدہ ادا کر دے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

 نادم ہونا بھی توبہ کرنا ہے،

 حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں ہمیں کہا گیا تھا کہ اس اُمت کے آخری لوگ قیامت کے قریب کیا کیا کام کریں گے؟

-       ان میں ایک یہ ہے کہ انسان اپنی بیوی یا لونڈی سے اس کے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرے گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق حرام کر دیا ہے اور جس فعل پر اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی ہوتی ہے،

-        اسی طرح مرد مرد سے بدفعلی کریں گے جو حرام اور باعث ناراضی اللہ و رسول اللہ ہے،

 ان لوگوں کی نماز بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں جب تک کہ یہ توبہ نصوح نہ کریں،

حضرت ابوذرؓ نے حضرت ابیؓ سے پوچھا توبہ النصوح کیا ہے؟

فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا:

 قصور سے گناہ ہو گیا پھر اس پر نادم ہونا اللہ تعالیٰ سے معافی چاہنا اور پھر اس گناہ کی طرف مائل نہ ہونا،

 حضرت حسن ؒفرماتے ہیں:

 توبہ نصوح یہ ہے کہ جیسے گناہ کی محبت تھی ویسا ہی بغض دل میں بیٹھ جائے اور جب وہ گناہ یاد آئے اس سے استغفار ہو،

جب کوئی شخص توبہ کرنے پر پختگی کر لیتا ہے اور اپنی توبہ پر جما رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسکی تمام اگلی خطائیں مٹا دیتا ہےجیسے صحیح حدیث میں ہے

 اسلام لانے سے پہلے کی تمام برائیاں اسلام فنا کر دیتا ہے اور توبہ سے پہلے کی تمام خطائیں توبہ سوخت کر دیتی ہے،

اب رہی یہ بات کہ توبہ نصوح میں یہ شرط بھی ہے کہ توبہ کرنے والا پھر مرتے دم تک یہ گناہ نہ کرے۔ جیسے کہ احادیث و آثار ابھی بیان ہوئے جن میں ہے کہ پھر کبھی نہ کرے، یا صرف اس کا عزم راسخ کافی ہے کہ اسے اب کبھی نہ کروں گا گو پھر بہ مقتضائے بشریت بھولے چوکے ہو جائے، جیسے کہ ابھی حدیث گزری کہ توبہ اپنے سے پہلے گناہوں کو بالکل مٹا دیتی ہے، تو تنہا توبہ کے ساتھ ہی گناہ معاف ہو جاتے ہیں یا پھر مرتے دم تک اس کام کا نہ ہونا گناہ کی معافی کی شرط کے طور پر ہے؟

 پس پہلی بات کی دلیل تو یہ صحیح حدیث ہے:

 جو شخص اسلام میں نیکیاں کرے وہ اپنی جاہلیت کی برائیوں پر پکڑا نہ جائے گا اور جو اسلام لا کر بھی برائیوں میں مبتلا رہے وہ اسلام اور جاہلیت کی دونوں برائیوں میں پکڑا جائے گا،

پس اسلام جو کہ گناہوں کو دور کرنے میں توبہ سے بڑھ کر ہے جب اس کے بعد بھی اپنی بدکردارویوں کی وجہ سے پہلی برائیوں میں بھی پکڑ ہوئی تو توبہ کے بعد بطور اولیٰ ہونی چاہئے۔ واللہ اعلم۔

عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ

قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ دور کر دےاور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جنکے نیچے نہریں جاری ہیں۔

لفظ عَسَى گو تمنا امید اور امکان کے معنی دیتا ہے لیکن کلام اللہ میں اس کے معنی تحقیق کے ہوتے ہیں

 پس فرمان ہے کہ خالص توبہ کرنے والے قطعاً اپنے گناہوں کو معاف کروا لیں گے اور سرسبز و شاداب جنتوں میں آئیں گے۔

يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ ۖ

جس دن اللہ تعالیٰ  نبی کو اور ایمان داروں کو جو ان کے ساتھ ہیں رسوا نہ کرے گا

پھر ارشاد ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو ہرگز شرمندہ نہ کرے گا، انہیں اللہ کی طرف سے نور عطا ہو گا

نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ

ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا۔

جو ان کے آگے آگے اور دائیں طرف ہو گا۔ اور سب اندھیروں میں ہوں گے اور یہ روشنی میں ہوں گے، جیسے کہ پہلے سورہ حدید کی تفسیر میں گز ر چکا،

جب یہ دیکھیں گے کہ منافقوں کو جو روشنی ملی تھیں عین ضرورت کے وقت وہ ان سے چھین لی گئی اور وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے تو دعا کریں گے کہ

يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ

یہ دعائیں کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمیں کامل نور عطا فرما  اور ہمیں بخش دے

إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ  (۸)

یقیناً تو ہرچیز پر قادر ہے۔‏

اے اللہ ہمارے ساتھ ایسا نہ ہو ہماری روشنی تو آخر وقت تک ہمارے ساتھ ہی رہے ہمارا نور ایمان بجھنے نہ پائے۔

 بنو کنانہ کے ایک صحابی فرماتے ہیں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے میں نے نماز پڑھی تو میں نے آپ کی اس دعا کو سنا

اللْهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَة

میرے اللہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا

ایک حدیث میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 قیامت کے دن سب سے پہلے سجدے کی اجازت مجھے دی جائے گی اور اسی طرح سب سے پہلے سجدے سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھی کو مرحمت ہو گی میں اپنے سامنے اور دائیں بائیں نظریں ڈال کر اپنی اُمت کو پہچان لوں گا

ایک صحابی نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کیسے پہچانیں گے؟ وہاں تو بہت سی اُمتیں مخلوط ہوں گی

آپ نے فرمایا میری امت کے لوگوں کی ایک نشانی تو یہ ہے :

-       ان کے اعضاء وضو منور ہوں گے چمک رہے ہوں گے کسی اور اُمت میں یہ بات نہ ہو گی

-        دوسری پہچان یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے،

-       تیسری نشانی یہ ہو گی کہ سجدے کے نشان ان کی پیشانیوں پر ہوں گے جن سے میں پہچان لوں گا

-       چوتھی علامت یہ ہے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے ہو گا۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو  اور ان پر سختی کرو

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو،

وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ  (۹)

ان کا ٹھکانا جہنم ہے  اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‏

آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے،

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ

اللہ تعالیٰ  نے کافروں کے لئے نوح کی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی

كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا

یہ دونوں ہمارے بندوں میں دو (شائستہ اور) نیک بندوں کے گھر میں تھیں، پھر ان کی انہوں نے خیانت کی

فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ  (۱۰)

پس دونوں ان سے اللہ کے (عذاب کو) نہ روک سکےاور حکم دیا گیا (اے عورتوں) دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی چلی جاؤ، ‏

پھر مثال دے کر سمجھایا کہ کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں حضرت نوح ؑ کی اور حضرت لوط ؑ کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور اپنے کفر پر قائم تھیں، پس پیغمبروں کی آٹھ پہر کی صحبت انہیں کچھ کام نہ آئی، انبیاء اللہ انہیں آخروی نفع نہ پہنچا سکے اور نہ آخروی نقصان سے بچا سکے، بلکہ ان عورتوں کو بھی دوزخیوں کے ساتھ جہنم میں جانے کو کہہ دیا گیا۔

یہ یاد رہے کہ خیانت کرنے سے مراد بدکاری نہیں، انبیاء علیہم السلام کی حرمت و عصمت اس سے بہت اعلیٰ اور بالا ہے کہ ان کی گھر والیاں فاحشہ ہوں، ہم اس کا پورا بیان سورہ نور کی تفسیر میں کر چکے ہیں،

بلکہ یہاں داد خیانت فی الدین یعنی دین میں اپنے خاوندوں کی خیانت کی ان کا ساتھ نہ دیا،

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

 ان کی خیانت زنا کاری نہ تھی بلکہ یہ تھی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی تو لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ہیں اور لوط علیہ السلام کی بیوی جو مہمان حضرت لوط کے ہاں آتے تو کافروں کو خبر کر دیتی تھیں، یہ دونوں بد دین تھیں

نوح علیہ السلام کی بیوی راز داری اور پوشیدہ طور پر ایمان لانے والوں کے نام کافروں پر ظاہر کر دیا کرتی تھیں، اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی بھی اپنے خاوند اللہ کے رسول کی مخالف تھی اور جو لوگ آپ کے ہاں مہمان بن کر ٹھہرتے یہ جا کر اپنی کافر قوم کو خبر کر دیتی جنہیں بد عمل کی عادت تھی،

 بلکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی پیغمبر کی کسی عورت نے کبھی بدکاری نہیں کی،

اسی طرح حضرت عکرمہ حضرت سعید بن جیر حضرت ضحاک وغیرہ سے بھی مروی ہے،

 اس سے استدلال کر کے بعض علماء نے کہا ہے کہ وہ جو عام لوگوں میں مشہور ہے کہ حدیث میں ہے جو شخص کسی ایسے کے ساتھ کھائے جو بخشا ہوا ہو اسے بھی بخش دیا جاتا ہے،

 یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ حدیث محض بے اصل ہے،

ہاں ایک بزرگ سے مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے؟

 آپ نے فرمایا نہیں لیکن اب میں کہتا ہوں۔

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ

اور اللہ تعالیٰ  نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی

یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہو گا جیسے اور جگہ ہے:

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ    (۳:۲۸)

ایمانداروں کو چاہئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے،

 حضرت قتادہ ؒفرماتے ہیں:

 روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لئے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم ہے وہ ایک گناہ پر دوسرے کو نہیں پکڑتا۔

حضرت سلمان فرماتے ہیں:

 فرعون اس نیک بخت بیوی کو طرح طرح سے ستاتا تھا سخت گرمیوں میں انہیں دھوپ میں کھڑا کر دیتا لیکن پروردگار اپنے فرشتوں کے پروں کا سایہ ان پر کر دیتا اور انہیں گرمی کی تکلیف سے بچا لیتا بلکہ ان کے جنتی مکان کو دکھا دیتا جس سے ان کی روح کی تازگی اور ایمان کی زیادتی ہو جاتی،

فرعون اور حضرت موسیٰ کی بابت یہ دریافت کرتی رہتی تھیں کہ کون غالب رہا تو ہر وقت یہی سنتیں کہ موسیٰ غالب رہے بس یہی ان کے ایمان کا باعث بنا اور یہ پکار اٹھیں کہ میں موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائی۔

 فرعون کو جب یہ معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ جو بڑی سے بڑی پتھر کی چٹان تمہیں ملے اسے اٹھوا لاؤ اسے چت لٹاؤ اور اسے کہو کہ اپنے اس عقیدے سے باز آئے اگر باز آ جائے تو میری بیوی ہے عزت و حرمت کے ساتھ واپس لاؤ اور اگر نہ مانے تو وہ چٹان اس پر گرا دو اور اس کا قیمہ قیمہ کر ڈالو،

جب یہ لوگ پتھر لائے انہیں لے گئے لٹایا اور پتھر ان پر گرانے کے لئے اٹھایا تو انہوں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی پروردگار نے حجاب ہٹا دیئے اور جنت کو اور وہاں جو مکان ان کے لئے بنایا گیا تھا اسے انہوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لیا اور اسی میں ان کی روح پرواز کر گئی

جس وقت پتھر پھینکا گیا اس وقت ان میں روح تھی ہی نہیں،

إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب! میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا

اپنی شہادت کے وقت دعا مانگتی ہیں کہ اللہ جنت میں اپنے قریب کی جگہ مجھے عنایت فرما

 اس دعا کی اس باریکی پر بھی نگاہ ڈالئے کہ پہلے اللہ کا پڑوس مانگا جا رہا ہے پھر گھر کی درخواست کی جا رہی ہے۔

اس واقعہ کے بیان میں مرفوع حدیث بھی وارد ہوئی ہے،

وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ  (۱۱)

اور مجھے فرعوں سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے خلاصی دے۔‏

پھر دعا کرتی ہیں کہ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے میں اس کی کفریہ حرکتوں سے بیزار ہوں، مجھے اس ظالم قوم سے عافیت میں رکھ، ان بیوی صاحبہ کا نام آسیہ رضی اللہ عنہا بنت مزاحم تھا ۔

 ان کے ایمان لانے کا واقعہ ا بوالعا لیہ اس طرح بیان فرماتےہیں:

 فرعون کےداروغہ کی عورت کا ایمان ان کے ایمان کا باعث بنا وہ ایک روز فرعون کی لڑکی کا سر گوندھ رہی تھی اچانک کنگھی ہاتھ سے گر گئی اور ان کے منہ سے نکل گیا کہ کفار برباد ہوںاس پر فرعون کی لڑکی نے پوچھا کہ کیا میرے باپ کے سوا تو کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے؟

 اس نے کہا میرا اور تیرے باپ کا اور ہرچیز کا رب اللہ تعالیٰ ہے،

اس نے غصہ میں آ کر انہیں خوب مارا پیٹا اور اپنے باپ کو اس کی خبر دی،

فرعون نے انہیں بلا کر خود پوچھا کہ کیا تم میرے سوا کسی اور کی عبادت کرتی ہو؟

 جواب دیا کہ ہاں میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہے میں اسی کی عبادت کرتی ہوں،

 فرعون نے حکم دیا اور انہیں چت لٹا کر ان کے ہاتھ پیروں پر میخیں گڑوا دیں اور سانپ چھوڑ دیئے جو انہیں کاٹتے رہیں، پھر ایک دن آیا اور کہا اب تیرے خیالات درست ہوئے؟

وہاں سے جواب ملا کہ میرا اور تیرا اور تمام مخلوق کا رب اللہ ہی ہے،

 فرعون نے کہا اب تیرے سامنے میں تیرے لڑکے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دونگا ورنہ اب بھی میرا کہا مان لے اور اس دین سے باز آ جا،

انہوں نے جواب دیا کہ جو کچھ تو کر سکتا ہو کر ڈال،

اس ظالم نے ان کے لڑکے کو منگوایا اور ان کے سامنے اسے مار ڈالا جب اس بچہ کی روح نکلی تو اس نے کہا اے ماں خوش ہو جا تیرے لئے اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے ثواب تیار کر رکھے ہیں اور فلاں فلاں نعمتیں تجھے ملیں گی،

 انہوں نے اس روح فرسا سانحہ کو بچشم خود دیکھا لیکن صبر کیا اور راضی بہ قضاء ہو کر بیٹھی رہیں

 فرعون نے انہیں پھر اسی طرح باندھ کر ڈلوا دیا اور سانپ چھوڑ دیئے پھر ایک دن آیا اور اپنی بات دہرائی بیوی صاحبہ نے پھر نہایت صبر و استقلال سے وہی جواب دیا اس نے پھر وہی دھمکی دی اور ان کے دوسرے بچے کو بھی ان کے سامنے ہی قتل کرا دیا۔

اس کی روح نے بھی اسی طرح اپنی والدہ کو خوشخبری دی اور صبر کی تلقین کی،

فرعون کی بیوی صاحبہ نے بڑے بچہ کی روح کی خوش خبری سنی تھی اب اس چھوٹے بچے کی روح کی بھی خوش خبری سنی اور ایمان لے آئیں،ادھر ان بیوی صاحبہ کی روح اللہ تعالیٰ نے قبض کر لی اور ان کی منزل و مرتبہ جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تھا وہ حجاب ہٹا کر فرعون کی بیوی کو دکھا دیا گیا۔ یہ اپنے ایمان و یقین میں بہت بڑھ گئیں  یہاں تک کہ فرعون کو بھی ان کے ایمان کی خبر ہو گئی،اس نے ایک روز اپنے درباریوں سے کہا تمہیں کچھ میری بیوی کی خبر ہے؟تم اسے کیا جانتے ہو؟

سب نے بڑی تعریف کی اور ان کی بھلائیاں بیان کیں فرعون نے کہا تمہیں نہیں معلوم وہ بھی میرا سوا دوسرے کو اللہ مانتی ہے

پھر مشورہ ہوا کہ انہیں قتل کر دیا جائے، چنانچہ میخیں گاڑی گئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دیا گیااس وقت حضرت آسیہ نے اپنے رب سے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے اپنے پاس جنت میں مکان بنا،

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حجاب ہٹا کر انہیں ان کا جنتی درجہ دکھا دیا جس پر یہ ہنسنے لگیں،

 ٹھیک اسی وقت فرعون آ گیا اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر کہنے لگا لوگو تمہیں تعجب نہیں معلوم ہوتا کہ اتنی سخت سزا میں یہ مبتلا ہے اور پھر ہنس رہی ہے یقینا اس کا دماغ ٹھکانے نہیں،الغرض انہی عذابوں میں یہ بھی شہید ہوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہا

وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا

اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی  جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی پھر ہم نے اپنی طرف سے اس میں جان پھونک دی

پھر دوسری مثال حضرت مریم بنت عمران علیہ السلام کی بیان کی جاتی ہے کہ وہ نہایت پاک دامن تھیں، ہم نے اپنے فرشتے جبرائیل کی معرفت ان میں روح پھونکی حضرت جبرائیل کو انسانی صورت میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک مار دیں، اسی سے حمل رہ گیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے،

پس فرمان ہے کہ میں نے اس میں اپنی روح پھونکی،

 پھر حضرت مریم کی اور تعریف ہو رہی ہے کہ

وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ  (۱۲)

اور (مریم) اس نے اپنے رب کی باتوں  اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور عبادت گزاروں میں تھی۔ ‏

وہ اپنے رب کی تقدیر اور شریعت کو سچ ماننے والی تھیں اور پوری فرمانبردار تھیں،مسند احمد میں ہے :

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور صحابہ سے دریافت کیا کہ جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو پورا علم ہے،

آپ نے فرمایا سنو تمام جنتی عورتوں میں سے افضل خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں،

صحیح بخاری صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 مردوں میں سے تو صاحب کمال بہت سارے ہوئے ہیں، لیکن عورتوں میں سے کامل عورتیں صرف حضرت آسیہ ہیں جو فرعون کی بیوی تھیں اور حضرت مریم بنت عمران ہیں اور حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں

اور حضرت عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہی ہے جیسے سالن میں چوری ہوئی روٹی کی فضیلت باقی کھانوں پر

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com