تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ الطلاق

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ

اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہوتوان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو 

طلاق کی عدت اور مسائل

اولاً تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا،

ابن ابی حاتم میں ہے:

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دی وہ اپنے میکے آ گئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ سے فرمایا گیا کہ ان سے رجوع کر لو وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں،

 یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا،

صحیح بخاری شریف میں ہے :

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ ناراض ہوئے اور فرمایا :

اسے چاہئے کہ رجوع کر لے پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سے پہلےیہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے

یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مذکور ہے،

حضرت عبدالرحمٰن بن ایمن نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں حضرت ابوالزبیر کے سنتے ہوئے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو آپ نے فرمایا سنو:

 ابن عمر ؓنے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی (مسلم)

 دوسری روایت میں ہے،

طہر کی حالت میں جماع سے پہلے،

بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے،

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں

یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے،

حضرت عکرمہؒ فرماتے ہیں عدت سے مراد طہر ہے، قرء سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو،

 جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں،

یہیں سے با سمجھ علماء نے احکام طلاق لئے ہیں اور طلاق کی دو قسمیں کی ہیں

-       طلاق سنت اور

-       طلاق بدعت،

طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے

اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟

-       طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔

وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ

اور عدت کا حساب رکھو

پھر فرمان ہے عدت کی حفاظت کرو اس کی ابتداء انتہا کی دیکھ بھال ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے

وَاتَّقُوا اللَّهَ رَبَّكُمْ ۖ

اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو،

اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی پروردگار عالم سے ڈرتے رہو،

لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ

نہ تم انہیں ان کے گھر سے نکالو  اور نہ وہ (خود) نکلیں  ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں

عدت کے زمانہ میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے

فَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے،

وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ

یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں

یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔

وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ

جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا

جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بےحرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے

لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ أَمْرًا  (۱)

تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ  کوئی نئی بات پیدا کردے۔‏

شاید کہ اللہ کوئی نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا،

عدت کا زمانہ مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیالات بدل جائیں، طلاق دینے پر نادم ہو دل میں لوٹا لینے کا خیال پیدا ہو جائے اور پھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزارہ کرنے لگیں،

 نیا کام پیدا کرنے سے مراد بھی رجعت ہے، اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً حضرت امام احمد بن حنبل وغیرہ کا مذہب ہے کہ:

 متبوتہ یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لئے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لئے دینا اس کے وارثوں پر نہیں ان کی اعتمادی دلیل حضرت فاطمہ بنت قیس فہریہ والی حدیث ہے :

 جب ان کے خاوند حضرت ابو عمر بن حفص نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں

اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں،

 یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ نے فرمایا:

 ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔

 مسلم میں ہے:

 نہ تیرے رہنے سہنے کا گھراور ان سے فرمایا کہ تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو،

 پھر فرمایا وہاں تو میرے اکثر صحابہ جایا آیا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو،

 مسند احمد میں ہے:

 ان کے خاوند کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد پر بھیجا تھا انہوں نے وہیں سے انہیں طلاق بھیج دی ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جاؤ انہوں نے کہا نہیں جب تک عدت ختم نہ ہو جائے میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے اس نے انکار کیا آخر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا :

نان نفقہ گھر بار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں تم یہاں سے چلی جاؤ اور فلاں عورت کے گھر اپنی عدت گزارو

 پھر فرمایا وہاں تو صحابہ کی آمد و رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہ گزارو وہ نابینا ہیں تمہیں دیکھ نہیں سکتے۔

 طبرانی میں ہے :

یہ حضرت فاطمہ بنت قیس ضحاک بن قیس قرشی کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے،

 طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے نہ ہمیں دینے کو کہا ہے

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے :

جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں

فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ

پس جب یہ عورتیں اپنی عدت کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو

یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو

عائلی قانون

ارشاد ہوتا ہے کہ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہئے کہ دو باتوں میں سے ایک کرلیں

-       یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں

-       یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر گالی گلوچ دیئے بغیر سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ۔

یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں

وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ۚ

اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لواور اللہ کی رضامندی کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو

پھر فرمایا ہے اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو،

ابو داؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے :

 حضرت عمران بن حصیص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا

 اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔

حضرت عطا رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے،

ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ

یہی ہے وہ جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے اور جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو

پھر فرماتا ہے گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں۔

حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے گو آپ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے

 اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں

 ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے،

اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا  (۲)

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے ‏

پھر فرماتا ہے کہ جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے مخلصی پیدا کر دیتا ہے

وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ

اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو

یعنی اسے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو۔

مسند احمد میں ہے:

 حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا:

ابوذر اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے،

پھر آپ نے بار بار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی پھر آپ نے فرمایا:

 ابوذر تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟

جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا،

آپ نے فرمایا پھر کیا کرو گے جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟

میں نے کہا شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا

 فرمایا جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟

میں نے کہا حضور اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا،

آپ نے فرمایا کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟

 میں نے کہا ہاں

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور ارشاد ہو

 فرمایا سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو،

ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

 قرآن کریم میں بہت ہی جامع یہ آیت ہے:

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ  (۱۶:۹۰)

اللہ تعالیٰ عدل کا، بھلائی کا حکم دیتا ہے

 اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت میں ہے:

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے

مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

 جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو،

حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بےچینی سے نجات دے گا،

ربیع فرماتے ہیں لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا،

حضرت عکرمہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا،

ابن مسعود وغیرہ سے مروی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے،

 حضرت قتادہ فرماتے ہیں تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو،

 حضرت سدی فرماتے ہیں یہاں اللہ سے ڈرنے کی یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے،

آپ فرماتے ہیں:

 حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے آپ انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا،

 تھوڑے دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لئے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے

پس یہ آیت اتری کہ متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے،

 مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

 گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے

-       تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے

-       عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے۔

سیرت ابن اسحاق میں ہے :

 حضرت مالک بن اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لڑکے حضرت عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے کہلوا دو کہ بکثرت  لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھتا رہے،

 ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لئے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی

باپ نے آواز سن کر فرمایا اللہ کی قسم یہ تو عوف ہے

ماں نے کہا ہائے وہ کہاں وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا

اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے حضرت عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں

انہوں نے واقعہ بیان فرمایا

کہا اچھا ٹھہرو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں

حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ سب تمہارا مال ہے جو چاہو کرو

 اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے،

وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ

اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے:

 جو شخص ہر طرف سے کھینچ کر اللہ کا ہو جائے اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بےگمان روزیاں دیتا ہے

 اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے،

 مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے جو آپ نے فرمایا بچے میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو:

-       تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا

-        اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤں گے

-       جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو

-       جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو

-       تمام اPمت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہوگئے،

 ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں

مسند احمد کی اور حدیث میں ہے :

جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد۔

إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ

اللہ تعالیٰ  اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا

ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قضا اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے۔

قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا  (۳)

اللہ تعالیٰ  نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے ۔‏

ہرچیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے

جیسے اور جگہ ہے :

وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ  (۱۳:۸)

ہرچیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے

وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍوَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ

تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہوگئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے

اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع نہ ہوا ہو

مسائل عدت

جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہوگئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ بقرہ کی آیت (۲۲۸)

 اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی،

إِنِ ارْتَبْتُمْ اگر تمہیں شک ہو اس کی تفسیر میں دو قول ہیں:

-       ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گذرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاصہ کی بیماری کا،

-        دوسرا قول یہ ہے کہ ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو،

یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی کمسن لڑکیاں بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری،

پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی

وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ

اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے

کہ وضع حمل اس کی عدت ہے گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے، جیسے کہ اس آیہ کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے،

ہاں حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے :

 ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے،

صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

 ایک شخص حضرت ابن عباس ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے

آپ نے فرمایا دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے،

 ابو سلمہ نے کہا قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے،

حضرت ابوہریرہ ؓنے فرمایا میں بھی اپنے چچا زاد بھائی حضرت ابوسلمہ کے ساتھ ہوں یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے،

حضرت ابن عباسؓ نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ

 انہوں نے فرمایا سبیعہ اسلمیہ کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا

پیغام دینے والوں میں حضرت ابو السنابل بھی تھے۔

یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے،

 حضرت عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے دریافت کیا اور لکھا کہ

 ان کے خاوند حضرت سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہوگئے اس وقت یہ حمل سے تھیں تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں

حضرت ابوالسنابل بن بلک جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو واللہ تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔

میں یہ سن کر چادر اوڑھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے یہ مسئلہ پوچھا آپ نے فرمایا بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو (مسلم)

 صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت میں اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے :

 حضرت محمد بن سیرین ایک مجلس میں تھے جہاں حضرت عبدالرحمٰن بن ابویعلی بھی تھے جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی

 اس پر میں نے حضرت سبیعہ والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہو کے لگانے لگے میں نے کہا پھر تو میں نے بڑی جرات کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں

پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے

میں حضرت ابو عطیہ مالک بن عامر سے ملا انہوں نے مجھے حضرت سبیعہ والی حدیث پوری سنائی میں نے کہا تم نے اس بابت حضرت عبداللہ سے بھی کچھ سنا ہے؟

فرمایا ہم حضرت عبداللہ کے پاس تھے آپ نے فرمایا :

کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورہ نساء قصریٰ یعنی سورۃ طلاق سورہ نساء کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے،

 ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

 جو ملاعنہ کرنا چاہے میں اس سے ملاعنہ کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ کی لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے :

 حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے

پہلے عام حکم تھا کہ جن عورتوں کی خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گذاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہےپس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہوگئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔

 ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے:

 حضرت ابن مسعود نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ حضرت علی کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے،

 مسند احمد میں ہے :

 حضرت ابی بن کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی

آپ نے فرمایا دونوں کی ،

یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لئے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے،

لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا  (۴)

اور جو شخص اللہ تعالیٰ  سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔‏

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ متقیوں کے لئے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے،

ذَلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنْزَلَهُ إِلَيْكُمْ ۚ

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے

یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے

وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا  (۵)

اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناہ مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا۔‏

اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے۔

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ

تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھواور انہیں تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ پہنچاؤ

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے، یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ حضرت فتادہ فرماتے ہیں اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کو نہ اسے دے دے،اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ

-       وہ مکان چھوڑ کرچلی جائے

-       یا تم سے چھوٹنے کے لئے اپنا حق مہر چھوڑ دے

-       یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ،

وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ

اور اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے،

 اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خاص ان عورتوں کے لئے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لئے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بےحمل ہوں تو بھی

اور علماء حضرات فرماتے ہیں یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا اسے الگ اس لئے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں اس لئے صاف طور پر فرما دیا کہ رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے۔

 پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لئے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لئے ہے،

 امام شافعیؒ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔

فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ

پھراگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو

پھر فرماتا ہے کہ جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہئے۔

ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہئے گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہئے،

وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوفٍ ۖ

اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو

تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے،

جیسے سورہ بقرہ میں فرمایا:

لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ  (۲:۲۳۳)

بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو۔

پھر فرماتا ہے

وَإِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى  (۶)

اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی۔ ‏

اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں

 ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے ،

لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ ۖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ

کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیےاور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو  اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ  نے اسے دے رکھا ہےاسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے،

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ

کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے،

پھر فرماتا ہے کہ بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا،

تفسیر ابن جریر میں ہے:

 حضرت ابوعبیدہ کی بابت حضرت عمر نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟

جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق،

طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ایک شخص کے پاس دس دینار تھے اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا

 دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے

تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے

 تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لئے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے،

سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا  (۷)

اللہ تنگی کے بعد آسانی و فراغت بھی کر دے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا

جیسے اور جگہ فرمایا :

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا  (۹۴:۵)

تحقیق مشکل کے ساتھ آسانی ہے،

مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

 اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا بھوک کے مارے بیتاب تھا آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا کچھ کھانے کو ہے؟

اس نے کہا آپ خوش ہو جایئے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہےاس نے کہا پھر لاؤ جو کچھ ہو دے دو میں بہت بھوکا ہوں۔

بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے

 پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی اس نے بیتاب ہو کر کہا جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے

بیوی نے کہا اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضا کرنا چاہتے ہیں تو خود بخود کہنے لگیں اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے اور دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے

 انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں

 حضرت ابوہریرہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں

اور روایت میں ہے:

 ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا تنور سلگایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں اے اللہ ہمیں روزی دے

دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے

اتنے میں میاں بھی تشریف لائے پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟

 بیوی صاحبہ نے کہا ہاں ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا

 اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ نے فرمایا:

 اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔

وَكَأَيِّنْ مِنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُكْرًا  (۸)

اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اسکے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا

اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب۔ ‏

فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا  (۹)

پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزہ چکھ لیا اور انجام کار ان کا خسارہ ہی ہوا۔‏

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے

دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہوگئے جنہوں نے سرتابی سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بےپرواہی برتی آخرش انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بد کرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا

أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ

ان کے لئے اللہ تعالیٰ  نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے،

اس وقت نادم ہونے لگے لیکن اب ندامت کس کام کی؟

پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر بھلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں پھر ان کے لئے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بےپناہ مار ہے،

فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ

پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔

اب اے سوچ سمجھ والوتمہیں چاہئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو،

قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا  (۱۰)

یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے۔‏

اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے،

 ذِكْرًا سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ  (۱۵:۹)

ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں

 اور بعض نے کہا ہے ذِكْرًا سے مراد یہاں رسول ہے چونکہ ساتھ ہی فرمایا ہے رَسُولًا تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ کو لفظ ذکر سے یاد کیا گیا،

حضرت امام ابن جریر بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں،

رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ

یعنی رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ کر سناتا ہے

لِيُخْرِجَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ

تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں وہ تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے

پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں،

جیسے اور جگہ ہے:

كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ  (۱۴:۱)

یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں

 ایک اور جگہ ارشاد ہے:

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ  (۲:۲۵۷)

ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ خود ہے، وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے

یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف ، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے، چنانچہ ارشاد باری ہے:

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا ۚ مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ۚ

وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (42:52)

اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو اتارا ہے،  آپ اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہےلیکن ہم نے اسے نور بنایا، اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں

بیشک آپ راہ راست کی رہنمائی کر رہے ہیں۔‏

وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ وَيَعْمَلْ صَالِحًا يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ

اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرےاللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرےگا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

قَدْ أَحْسَنَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا  (۱۱)

بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے۔‏

پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنی عظیم الشان سلطنت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ مخلوق اس کی عظمت و عزت کا خیال کر کے اس کے فرمان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عامل بن کر اسے خوش کرے،

تو فرمایا کہ

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔اسکا حکم انکے درمیان اترتا ہےتاکہ تم جان لو کہ اللہ ہرچیز پر قادر ہے

وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا  (۱۲)

اور اللہ تعالیٰ  نے ہرچیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے ۔‏

ساتوں آسمانوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے،

جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا :

أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا  (۷۱:۱۵)

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پیدا کر دیئے ہیں؟

 اور جگہ ارشاد ہے:

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ   (۱۷:۴۴)

ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب اس اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں،

پھر فرماتا ہے

وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ اسی کے مثال زمینیں ہیں،

 جیسے کہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے:

 جو شخص ظلم کر کے کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے لے گا اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا،

صحیح بخاری میں ہے:

 اسے ساتویں زمین تک دھنسایا جائے گا،

میں نے اس کی تمام سندیں اور کل الفاظ ابتداء اور انتہا میں زمین کی پیدائش کے ذکر میں بیان کر دیئے ہیں، فالحمد اللہ،

جن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہفت اقلیم ہے انہوں نے بےفائدہ دوڑ بھاگ کی ہے اور اختلاف بےجا میں پھنس گئے ہیں اور بلا دلیل قرآن حدیث کا صریح خلاف کیا ہے

سورہ حدید میں آیت هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ  (۵۷:۳) ، کی تفسیر میں ساتوں زمینوں کا اور ان کے درمیان کی دوری کا اور ان کی موٹائی کا جو پانچ سو سال کی ہے پورا بیان ہو چکا ہے،

 حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں،

 حدیث میں بھی ہے :

ساتوں آسمان اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی لمبے چوڑے بہت بڑے چٹیل میدان میں ایک چھلا پڑا ہو،

ابن جریر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں اس کی تفسیر تمہارے سامنے بیان کروں تو اسے نہ مانو گے اور نہ ماننا جھوٹا جاننا ہے،

 اور روایت میں ہے کہ کسی شخص نے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا اس پر آپ نے فرمایا تھا کہ میں کیسے باور کرلوں کہ جو میں تجھے بتاؤں گا تو اس کا انکار کرے گا؟

 اور روایت میں مروی ہے ہر زمین میں مثل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اور اس زمین کی مخلوق کے ہے

اور ابن مثنی والی اس روایت میں آیا ہے ہر آسمان میں مثل ابراہیم کے ہے،

 بہیقی کی کتاب الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس کا قول ہے:

 ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک میں نبی ہے مثل تمہارے نبی کے اور آدم ہیں مثل آدم کے اور نوح ہیں مثل نوح کے اور ابراہیم ہیں مثل ابراہیم کے اور عیسیٰ ہیں مثل عیسیٰ کے

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com