Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ المزمل

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ (۱)

اے کپڑے میں لپٹنے والے ‏

قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (۲)

رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہو جاؤ مگر کم ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام اللیل اور ترتیل قرآن کا حکم

اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ راتوں کے وقت کپڑے لپیٹ کر سو رہنے کو چھوڑیں اور تہجد کی نماز کے قیام کو اختیار کر لیں، جیسے فرمان ہے:

تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ(۳۲:۱۶)

ان کے پہلو بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور اپنے رب کو خوف اور لالچ سے پکارتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دیتے رہتے ہیں،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے،

 جیسے اور جگہ ہے:

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا(۱۷:۷۹)

رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں  یہ زیادتی آپ کے لئےہے

عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا

یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش

مُزَّمِّلُ کے معنی سونے والے اور کپڑا لپیٹنے والے کے ہیں، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے

 اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے قرآن کے مفہوم کو اچھی طرح اخذ کرنے والے

نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا (۳)

آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے۔‏

أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (۴)

یا اس پر بڑھا دےاور قرآن ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کرو ‏

تو آدھی رات تک تہجد میں مشغول رہا کر، یا کچھ بڑھا گھٹا دیا کر اور قرآن شریف کو آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کر تاکہ خوب سمجھتا جائے، اس حکم کے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے ،

 حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے :

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی،

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا وصف پوچھا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں:

حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوب مد کر کے پڑھا کرتے تھے پھر بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر سنائی جس میں لفظ اللَّهِ پر لفظ الرَّحْمَنِ پر لفظ الرَّحِيمِ پر مد کیا،

 ابن جریج میں ہے :

 ہر ہر آیت پر آپ پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے آیت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر وقف کرتے آیت الحمد للہ رب العلمین پڑھ کر وقف کرتے آیت الرحمٰن الرحیم پڑھ کر وقف کرتے آیت مالک یوم الدین پڑھ کر ٹھہرتے ۔

یہ حدیث مسند احمد ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے :

 قرآن کے قاری سے قیامت والے دن کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور چڑھتا جا اور ترتیل سے پڑھ جیسے دنیا میں ترتیل سے پڑھا کرتا تھا تیرا درجہ وہ ہے جہاں تیری آخری آیت ختم ہو،

یہ حدیث ابو داؤد و ترمذی اور نسائی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں،

ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے:

 قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو،اور وہ شخص ہم میں سے نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے

 اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا :

 اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے

 اور حضرت ابو موسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا،

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان :

 ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو (بغوی)

 ایک شخص آ کر حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ سے کہتا ہے میں نے مفصل کی تمام سورتیں آج کی رات ایک ہی رکعت میں پڑھ ڈالیں آپ نے فرمایا :

پھر تو تو نے شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھا ہو گا مجھے برابر برابر کی سورتیں خوب یاد ہیں جنہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر مفصل کی سورتوں میں سے بیس سورتوں کے نام لئے کہ ان میں سے دو دو سورتیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔

إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا (۵)

یقیناً ہم تجھ پر بہت بھاری بات عنقریب نازل کریں گے

اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے، یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

 ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے،

مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

 میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی کا احساس بھی آپ کو ہوتا ہے؟

آپ نے فرمایا میں ایسی آواز سنتا ہوں جیسے کسی زنجیر کے بجنے کی آواز ہو میں چپکا ہو جاتا ہوں جب بھی وحی نازل ہوتی ہے مجھ پر اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی،

صحیح بخاری شریف کے شروع میں ہے حضرت حارث بن ہشام پوچھتے ہیں:

 یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟

 آپ نے فرمایا:

-      کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے

-      اور وہ گن گناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے

-      اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں،

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

 میں نے دیکھا ہے کہ سخت جاڑے والے دن میں بھی جب آپ پر وحی اتر چکتی تو آپ کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکتے،

مسند احمد میں ہے:

 کبھی اونٹنی پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی،

ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔

 مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔

یہی قول حضرت امام ابن جریر کا ہے،

حضرت عبدالرحمٰن سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔

إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا (۶)

بیشک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لئے انتہائی مناسب ہے اور بات کو بالکل درست کر دینے والا ہے ‏

پھر فرماتا ہے رات کا اٹھنا نفس کو زیر کرنے کے لئے اور زبان کو درست کرنے کے لئے اکسیر ہے ،

 نشاء کے معنی حبشی زبان میں قیام کرنے کے ہیں، رات بھر میں جب اٹھے اسے نَاشِئَةَ اللَّيْلِ کہتے ہیں،

 تہجد کی نماز کی خوبی یہ ہے کہ دل اور زبان ایک ہو جاتا ہے اور تلاوت کے جو الفاظ زبان سے نکلتے ہیں دل میں گڑ جاتے ہیں اور بہ نسبت دن کے رات کی تنہائی میں معنی خوب ذہن نشین ہوتا جاتا ہے کیونکہ دن بھیڑ بھاڑ کا، شورغل کا، کمائی دھندے کا وقت ہوتا ہے۔

إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا (۷)

یقیناً تجھے دن میں بہت شغل رہتا ہے ‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دن میں تجھے بہت فراغت ہے، نیند کر سکتے ہو، سو بیٹھ سکتے ہو، راحت حاصل کر سکتے ہو ، نوافل بکثرت ادا کر سکتے ہو، اسے دنیوی کام کاج پورے کر سکتے ہو۔

 پھر رات کو آخرت کے کام کے لئے خاص کر لو، اس بنا پر یہ حکم اس وقت تھا جب رات کی نماز فرض تھی پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر احسان کیا اور بطور تخفیف کے اس میں کمی کر دی اور فرمایا تھوڑی سی رات کا قیام کرو،

 اس فرمان کے بعد حضرت عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم نے آیت (۷۳:۲۰)إِنَّ رَبَّكَ سے فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ پڑھی

إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ

اور آیت وَمِنَ اللَّيْلِ (۱۷:۷۹) کی بھی تلاوت کی۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا

آپ کا یہ قول ہے بھی ٹھیک ،

مسند احمد میں ہے:

 حضرت سعید بن ہشام نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینہ کی طرف چلے تاکہ وہاں کے اپنے مکانات بیچ ڈالیں اور ان کی قیمت سے ہتھیار وغیرہ خرید کر جہاد میں جائیں اور رومیوں سے لڑتے رہیں یہاں تک کہ یا تو روم فتح ہو یا شہادت ملے مدینہ شریف میں اپنی قوم والوں سے ملے اور اپنا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے کہا سنو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ ہی کی قوم میں سے چھ شخصوں نے بھی ارادہ کیا تھا کہ عورتوں کو طلاق دے دیں مکانات وغیرہ بیچ ڈالیں اور راہ اللہ کھڑے ہو جائیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا:

 جس طرح میں کرتا ہوں کیا اس طرح کرنے میں تمہارے لئے اچھائی نہیں ہے؟ خبردار ایسا نہ کرنا اپنے اس ارادے سے باز آ جاؤ

یہ حدیث سن کر حضرت سعید نے بھی اپنا ارادہ ترک کیا اور وہیں اسی جماعت سے کہا کہ تم گواہ رہنا میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا

اب حضرت سعید چلے گئے پھر جب اس جماعت سے ملاقات ہوئی تو کہا کہ یہاں سے جانے کے بعد میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت دریافت تو انہوں نے کہا اس مسئلے کو سب سے زیادہ بہتری طور پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بتا سکتی ہیں تم وہیں جاؤ اور ام المومنین ہی سے دریافت کرو اور ام المومنین سے جو سنو وہ ذرا مجھ سے کہہ جانا۔

میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس گیا اور ان سے میں نے کہا تم مجھے ام المومنین کی خدمت میں لے چلو ۔

 انہوں نے فرمایا میں وہاں نہیں جاؤں گا اس لئے کہ میں نے انہیں مشورہ دیا کہ آپس میں لڑنے والی جماعتوں یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے مقابلین کے بارے میں آپ دخل نہ دیجئے لیکن انہوں نے نہ مانا اور دخل دیا۔

 میں نے انہیں قسم دی اور کہا کہ نہیں آپ مجھے ضرور وہاں لے چلئے خیر بمشکل تمام وہ راضی ہوئے اور میں ان کے ساتھ گیا۔

 ام المومنین صاحبہؓ نے حضرت حکیم کی آواز پہچان لی اور کہا کیا حکیم ہے؟

جواب دیا گیا کہ ہاں حضور میں حکیم بن افلح ہوں

 پوچھا تمہارے ساتھ کون ہیں؟

کہا سعید بن ہشام

پوچھا ہشام کون؟ عامر کے لڑکے؟

کہا ہاں عامر کے لڑکے،

 تو حضرت عائشہ نے حضرت عامر کے لئے دعاء رحمت کی اور فرمایا عامر بہت اچھا آدمی تھا اللہ اس پر رحم کرے

 میں نے کہا ام المومنین مجھے بتایئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیا تھے؟

 آپ نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟

 میں نے کہا کیوں نہیں؟

 فرمایا

 بس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا

اب میں نے اجازت مانگنے کا قصد کیا لیکن فوراً ہی یاد آ گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کا حال بھی دریافت کر لوں ،

 اس سوال کے جواب میں ام المومنین نے فرمایا کیا تم نے سورہ مزمل نہیں پڑھی؟

میں نے کہا ہاں پڑھی ہے،

 فرمایا

سنو اس سورت کے اول حصے میں قیام الیل فرض ہوا اور سال بھر تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تہجد کی نماز بطور فرضیت کے ادا کرتے رہے یہاں تک کہ قدموں پر ورم آگیا بارہ ماہ کے بعد اس سورت کے خاتمہ کی آیتیں اتریں اور اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی فرضیت اٹھ گئی اور عملی صورت باقی رہ گئی،

 میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن خیال آیا کہ وتر کا مسئلہ بھی دریافت کر لوں تو میں نے کہا ام المومنین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر پڑھنے کی کیفیت سے بھی آگاہ فرمایئے،

آپ نے فرمایا ہاں سنو

 ہم آپ کی مسواک وضو کا پانی وغیرہ تیار ایک طرف رکھ دیا کرتے تھے جب بھی اللہ چاہتا اور آپ کی آنکھ کھلتی اٹھتے مسواک کرتے وضو کرتے اور آٹھ رکعت پڑھتے بیچ میں تشہد میں بالکل نہ بیٹھتے آٹھویں رکعت پوری کر کے آپ التحیات میں بیٹھتے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے دعا کرتے اور زور سے سلام پھیرتے کہ ہم بھی سن لیں پھر بیٹھے بیٹھے ہی دو رکعت اور ادا کرتے (اور ایک وتر پڑھتے)  یٹا یہ سب مل کر گیارہ رکعت ہوئیں،

اب جبکہ آپ عمر رسیدہ ہوئے اور بدن بھاری ہو گیا تو آپ نے سات وتر پڑھے پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت ادا کیں بس بیٹا یہ نو رکعت ہوئیں

 اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جب کسی نماز کو پڑھتے تو پھر اس پر مداومت کرتے ہاں اگر کسی شغل یا نیند یا دکھ تکلیف اور بیماری کی وجہ سے رات کو نماز نہ پڑھ سکتے تو دن کو بارہ رکعت ادا فرما لیا کرتے

 میں نہیں جانتی کہ کسی ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن صبح تک پڑھا ہو اور نہ رمضان کے سوا کسی اور مہینے کے پورے روزے رکھے،

 اب میں ام المومنین سے رخصت ہو کر ابن عباس کے پاس آیا اور وہاں کے تمام سوال جواب دہرائے آپ نے سب کی تصدیق کی اور فرمایا اگر میری بھی آمد و رفت ام المومنین کے پاس ہوتی تو جا کر خود اپنے کانوں سن آتا،

یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی ہے،

ابن جریر میں ہے:

 حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بوریا رکھ دیا کرتی جس پر آپ تہجد کی نماز پڑھتے لوگوں نے کہیں یہ خبر سن لی اور رات کی نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے کے لئے وہ بھی آ گئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر باہر نکلے چونکہ شفقت و رحمت آپ کو امت پر تھی اور ساتھ ہی ڈر تھا کہ ایسا نہ ہو یا نماز فرض ہو جائے آپ ان سے فرمانے لگے :

 لوگو ان ہی اعمال کی تکلیف اٹھاؤ جن کی تم میں طاقت ہو اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہ تھکے گا البتہ تم عمل کرنے سے تھک جاؤ گے سب سے بہتر عمل وہ ہے جس پر دوام ہو سکے

 ادھر قرآن کریم میں یہ آیتیں اتریں اور صحابہ نے قیام الیل شروع کیا یہاں تک کہ رسیاں باندھنے لگے کہ نیند نہ آ جائے آٹھ مہینے اسی طرح گزر گئے ان کی اس کوشش کو جو وہ اللہ کی رضامندی کی طلب میں کر رہے تھے دیکھ کر اللہ نے بھی ان پر رحم کیا اور اسے فرض عشاء کی طرف لوٹا دیا اور قیام الیل چھوڑ دیا،

یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی ہے لیکن اس کا راوی موسیٰ بن عبیدہ زبیدی ضعیف ہے

 حضرت ابن عباسؓ سے بھی ابن ابی حاتم میں منقول ہے :

 سورہ مزمل کی ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام مثل رمضان شریف کے قیام کرتے رہے اور اس سورت کی اول آخر کی آیتوں کے اترنے میں تقریباً سال بھر کا فاصلہ تھا ۔

حضرت ابو اسامہ سے بھی ابن جریر میں اسی طرح مروی ہے،

حضرت ابو عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ ابتدائی آیتوں کے اترنے کے بعد صحابہ کرام نے سال بھر تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم اور پنڈلیوں پر ورم آگیا پھر آیت (۷۳:۲۰)نازل ہوئی

فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

 اور لوگوں نے راحت پائی،

حسن بصری اور سدی کا بھی یہی قول ہے۔

ابن ابی حاتم میں بہ روایت حضرت عائشہ سولہ مہینے کا فاصلہ مروی ہے،

حضرت قتادہ فرماتے ہیں ایک سال یا دو سال تک قیام کرتے رہے پنڈلیاں اور قدم سوج گئے پھر آخری سورت کی آیتیں اتریں اور تخفیف ہو گئی۔

حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ دس سال کا فاصلہ بتاتے ہیں (ابن جریر)

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلی آیت کے حکم کے مطابق ایمانداروں نے قیام الیل شروع کیا لیکن بڑی مشقت پڑتی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا اور

عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ

 آیت نازل فرما کر وسعت کر دی اور تنگی نہ رکھی فلہ الحمد

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا (۸)

تو اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کر اور تمام مخلوقات سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہو جا۔ ‏

پھر فرمان ہے اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہ اور اس کی عبادت کے لئے فارغ ہو جا،یعنی امور دنیا سے فارغ ہو کر دل جمعی اور اطمینان کے ساتھ بکثرت اس کا ذکر کر، اس کی طرف مائل اور سراسر راغب ہو جا،  جیسے اور جگہ ہے:

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (۹۴:۷)

پس جب تو فارغ ہو تو عبادت میں محنت کر

جب اپنے شغل سے فارغ ہو تو ہماری عبادت محنت سے بجا لاؤ، اخلاص فارغ البالی کوشش محنت دل لگی اور یکسوئی سے اللہ کیطرف جھک جاؤ،

 ایک حدیث میں ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل سے منع فرمایا یعنی بال بچے اور دنیا کو چھوڑ دینے سے۔

یہاں مطلب یہ ہے کہ علائق دنیوی سے کٹ کر اللہ کی عبادت میں توجہ اور انہماک کا وقت بھی ضرور نکالا کرو۔

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا (۹)

مشرق و مغرب کا پروردگار جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اسی کو اپنا کارساز بنا لے۔‏

وہ مالک ہے وہ متصرف ہے مشرق مغرب سب اس کے قبضہ میں ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، تو جس طرح صرف اسی اللہ کی عبادت کرتا ہے اسی طرح صرف اسی پر بھروسہ بھی رکھ،

جیسے اور آیت میں ہے:

فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ (۱۱:۱۲۳)

اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر،

یہی مضمون آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (۱:۵) میں بھی ہے،

اس معنی کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں کہ عبادت، اطاعت، توکل اور بھروسہ کے لائق ایک اس کی پاک ذات ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کو کفار کی طعن آمیز باتوں پر صبر کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے:

وَاصْبِرْ عَلَى مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا (۱۰)

اور جو کچھ وہ کہیں تو سہتا رہ اور وضعداری کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہ۔‏

وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا (۱۱)

اور مجھے اور ان جھٹلانے والے آسودہ حال لوگوں کو چھوڑ دے اور انہیں ذرا سی مہلت دے۔‏

ان کے حال پر بغیر ڈانٹ ڈپٹ کے ہی چھوڑ دے، میں خود ان سے نمٹ لوں گا۔ میرے غضب اور غصے کے وقت دیکھ لوں گا کہ کیسے یہ لوگ نجات پاتے ہیں۔ ہاں ان کے مالدار خوش حال لوگوں کو جو بےفکر ہیں اور تجھے ستانے کے لئے باتیں بنا رہے ہیں جن پر دوہرے حقوق ہیں مال کے اور جان کے اور یہ ان میں سے ایک بھی ادا نہیں کرتے تو ان سے بےتعلق ہو جا پھر دیکھ کہ میں ان کے ساتھ کیا کرتا ہوں

تھوڑی دیر دنیا میں تو چاہے یہ فائدہ اٹھا لیں گے مگر انجام کار عذابوں میں پھنسیں گے اور عذاب بھی کونسے؟

إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَجَحِيمًا (۱۲)

یقیناً ہمارے ہاں سخت بیڑیاں ہیں اور سلگتی ہوئی جہنم۔‏

وَطَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَعَذَابًا أَلِيمًا (۱۳)

اور حلق میں اٹکنے والا کھانا ہے اور درد دینے والا عذاب ہے ‏

سخت قید و بند کے ، بدترین بھڑکتی ہوئی نہ بجھنے والی اور نہ کم ہونے والی آگ کے اور ایسا کھانا جو حلق میں جا کر اٹک جائے نہ نگل سکیں نہ اُگل سکیں اور بھی طرح طرح کے المناک عذاب ہوں گے،

يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ وَكَانَتِ الْجِبَالُ كَثِيبًا مَهِيلًا (۱۴)

جس دن زمین اور پہاڑ تھر تھرائیں گے اور پہاڑ مثل بھربھری ریت کے ٹیلوں کے ہوجائیں گے۔ ‏

پھر وہ وقت بھی ہو گاجب زمینوں میں اور پہاڑوں پر زلزلہ طاری ہو گا سخت اور بڑی چٹانوں والے پہاڑ آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چُور چُور ہو گئے ہوں گے جیسے بھربھری ریت کے بکھرے ہوئے ذرے ہوں جنہیں ہوا اِدھر سے اُدھر لے جائے گی اور نام و نشان تک مٹا دے گی اور زمین ایک چٹیل صاف میدان کی طرح رہ جائے گی جس میں کہیں اونچ نیچ نظر نہ آئے گی،

إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا (۱۵)

بیشک ہم نے تمہاری طرف بھی تم پر گواہی دینے والا  رسول بھیج دیا ہے جیسے کہ ہم نے فرعون کے پاس رسول بھیجا تھا۔‏

فَعَصَى فِرْعَوْنُ الرَّسُولَ فَأَخَذْنَاهُ أَخْذًا وَبِيلًا (۱۶)

تو فرعون نے اس رسول کی نافرمانی کی تو ہم نے اسے سخت (وبال) کی پکڑ میں پکڑ لیا ‏

پھر فرماتا ہے اے لوگو اور خصوصاً اے کافرو ہم نے تم پر گواہی دینے والا اپنا سچا رسول تم میں بھیج دیا ہے جیسے کہ فرعون کے پاس بھی ہم نے اپنے احکام کے پہنچا دینے کے لئے اپنے ایک رسول کو بھیجا تھا، اس نے جب اس رسول کی نہ مانی تو تم جانتے ہو کہ ہم نے اسے بری طرح برباد کیا اور سختی سے پکڑ لیا،

 اسی طرح یاد رکھو اگر اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تم نے بھی نہ مانی تو تمہاری خیر نہیں اللہ کے عذاب تم پر بھی اتر آئیں گے اور نیست و نابود کر دیئے جاؤ گے کیونکہ یہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم رسولوں کے سردار ہیں ان کے جھٹلانے کا وبال بھی اور وبالوں سے بڑا ہے۔

فَكَيْفَ تَتَّقُونَ إِنْ كَفَرْتُمْ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا (۱۷)

تم اگر کافر رہے تو اس دن کیسے پناہ پاؤ گے جو دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا ‏

اس کے آیت کے دو معنی ہیں

-      ایک تو یہ کہ اگر تم نے کفر کیا تو بتاؤ تو سہی کہ اس دن کے عذابوں سے کیسے نجات حاصل کرو گے؟ جس دن کی ہیبت خوف اور ڈربچوں کو بوڑھا کر دے گا

-       اور دوسرے معنی یہ کہ اگر تم نے اتنے بڑے ہولناک دن کا بھی کفر کیا اور اس کے بھی منکر رہے تو تمہیں تقویٰ اور اللہ کا ڈر کیسے حاصل ہو گا؟

گو یہ دونوں معنی نہایت عمدہ ہیں لیکن اول اولیٰ ہیں۔  واللہ اعلم۔

طبرانی میں ہے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا:

 یہ قیامت کا دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اٹھو اور اپنی اولاد میں سے دوزخیوں کو الگ الگ کردو

پوچھیں گے اے اللہ کتنی تعداد میں سے کتنے؟

 حکم ہو گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے

یہ سنتے ہی مسلمانوں کے تو ہوش اڑ گئے اور گھبرا گئے،

حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے چہرے دیکھ کر سمجھ گئے اور بطور تشفی کے فرمایا سنو:

 بنو آدم بہت سے ہیں یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہیں جن میں سے ہر ایک نسلی تسلسل میں خاص اپنی صلبی اولاد ایک ایک ہزار چھوڑ کر جاتا ہے

 پس ان میں اور ان حبشیوں میں مل کر دوزخیوں کی یہ تعداد ہو جائے گی اور جنت تمہارے لئے اور تم جنت کے لئے ہو جاؤ گے،

یہ حدیث غریب ہے اور سورہ حج کی تفسیر کے شروع میں اس جیسی احادیث کا تذکرہ گزر چکا ہے

السَّمَاءُ مُنْفَطِرٌ بِهِ ۚ

جس دن آسمان پھٹ جائے گا

اس دن کی ہیبت اور دہشت کے مارے آسمان بھی پھٹ جائے گا،

بعض نے ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف کیا ہے لیکن یہ قوی نہیں اس لئے کہ یہاں ذکر ہی نہیں،

كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا (۱۸)

 اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہو کر ہی رہے گا۔

اس دن کا وعدہ یقیناً سچ ہے اور ہو کر ہی رہے گا اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں۔

پیغام نصیحت و عبرت اور قیام الیل

إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا (۱۹)

بیشک یہ نصیحت ہےپس جو چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے۔‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سورت عقل مندوں کے لئے سراسر نصیحت وعبرت ہے جو بھی طالب ہدایت ہو وہ مرضی مولا سے ہدایت کا راستہ پا لے گا اور اپنے رب کی طرف پہنچ جانے کا ذریعہ حاصل کر لے گا،

جیسے دوسری سورت میں فرمایا:

وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا (۷۶:۳۰)

اور تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی چاہے بیشک اللہ تعالیٰ علم والا با حکمت ہے۔‏

إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ

آپ کا رب بخوبی جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے

اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتی ہے

پھر فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا اور آپ کے اصحاب کی ایک جماعت کا کبھی دو تہائی رات تک قیام میں مشغول رہنا کبھی آدھی رات اسی میں گزارنا کبھی تہائی رات تک تہجد پڑھنا اللہ تعالیٰ کو بخوبی معلوم ہے

وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ

اور رات دن کا پورا اندازہ اللہ تعالیٰ کو ہی ہے،

گو تمہارا مقصد ٹھیک اس وقت کو پورا کرنا نہیں ہوتا اور ہے بھی وہ مشکل کام، کیونکہ رات دن کا صحیح اندازہ اللہ ہی کو ہے کبھی دونوں برابر ہوتے ہیں کبھی رات چھوٹی دن بڑا، کبھی دن چھوٹا رات بڑی،

عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ

وہ خوب جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے

اللہ جانتا ہے کہ اس کو بننے کی طاقت تم میں نہیں

فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ

پس تم پر مہربانی کی  لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو پڑھو

تو اب رات کی نماز اتنی ہی پڑھو جتنی تم با آسانی پڑھ سکو کوئی وقت مقرر نہیں کہ فرضاً اتنا وقت تو لگانا ہی ہوگا

یہاں صلوٰۃ کی تعبیر قرأت سے کی ہے جیسے سورہ  اسراء میں کی ہے:

وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا  (۱۷:۱۱۰)

نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ

 امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کے اصحاب نے اس آیت سے استدلال کر کے یہ مسئلہ لیا ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ ہی کا پڑھنا متعین نہیں اسے پڑھے خواہ اور کہیں سے پڑھ لے گو ایک ہی آیت پڑھے کافی ہےاور پھر اس مسئلہ کی مضبوطی اس حدیث سے کی ہے جس میں ہے :

 بہت جلدی جلدی نماز ادا کرنے والے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا پھر پڑھ جو آسان ہو تیرے ساتھ قرآن سے  (بخاری و مسلم)

 یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے

 اور جمہور نے انہیں یہ جواب دیا ہے کہ بخاری و مسلم کی حضرت عبادہ بن صامت والی حدیث میں آ چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 نماز نہیں ہے مگر یہ کہ تو سورہ فاتحہ پڑھے

 اور صحیح مسلم شریف میں بہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ بالکل ادھوری محض ناکارہ ناقص اور ناتمام ہے،

 صحیح ابن خزیمہ میں بھی ان ہی کی روایت سے ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہ پڑھے

پس ٹھیک قول جمہور کا ہی ہے کہ ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا لازمی اور متعین ہے

عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ

وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کافضل یعنی روزی بھی تلاش کریں گے

وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ

اور کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کریں گے

پھر فرماتا ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس امت میں عذر والے لوگ بھی ہیں جو قیام الیل کے ترک پر معذور ہیں، مثلاً بیمار کہ جنہیں اس کی طاقت نہیں مسافر جو روزی کی تلاش میں ادھر ادھر جا رہے ہیں، مجاہد جو اہم تر شغل میں مشغول ہیں،

یہ آیت بلکہ یہ پوری سورت مکی ہے مکہ شریف میں نازل ہوئی اس وقت جہاد فرض نہیں تھا بلکہ مسلمان نہایت پست حالت میں تھے پھر غیب کی یہ خبر دینا اور اسی طرح ظہور میں بھی آنا کہ مسلمانوں جہاد میں پوری طرح مشغول ہوئے یہ نبوت کی اعلیٰ اور بہترین دلیل ہے۔

فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ

سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو

تو ان معذورات کے باعث تمہیں رخصت دی جاتی ہے کہ جتنا قیام تم سے با آسانی کیا جا سکے کر لیا کرو،

حضرت ابو رجاء محمد نے حسن رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ اے ابو سعید اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو پورے قرآن کا حافظ ہے لیکن تہجد نہیں پڑھتا صرف فرض نماز پڑھتا ہے؟

 آپ نے فرمایا اس نے قرآن کو تکیہ بنا لیا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک غلام کے لئے فرمایا کہ وہ ہمارے علم کو جاننے والا ہے اور فرمایا تم وہ سکھائے گئے ہو جسے نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا،

 میں نے کہا۔ ابو سعید اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے جو قرآن آسانی سے تم پڑھ سکو پڑھو،

 فرمایا ہاں ٹھیک تو ہے پانچ آیتیں ہی پڑھ لو، پس بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حافظ قرآن کا رات کی نماز میں کچھ نہ کچھ قیام کرنا امام حسن بصری ؒ کے نزدیک حق و واجب تھا،

 ایک حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جو صبح تک سویا رہتا ہے فرمایا:

 یہ وہ شخص ہے جس کے کان میں شیطان پیشاب کر جاتا ہے

-      اس کا تو ایک تو یہ مطلب بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو عشاء کے فرض بھی نہ پڑھے

-       اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو رات کو نفلی قیام نہ کرے،

سنن کی حدیث میں ہے:

 اے قرآن والو وتر پڑھا کرو،

 دوسری روایت میں ہے:

 جو وتر نہیں پڑھے وہ ہم میں سے نہیں،

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ

اور نماز کی پابندی کیا کرو اور زکوٰۃ دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو

پھر ارشاد ہے کہ فرض نمازوں کی حفاظت کرو اور فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کیا کرو،

یہ آیت ان حضرات کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں فرضیت زکوٰۃ کا حکم مکہ شریف میں ہی نازل ہو چکا تھا ہاں کتنی نکالی جائی؟

 نصاب کیا ہے؟ وغیرہ یہ سب مدینہ میں بیان ہوا واللہ اعلم۔

حضرت ابن عباس عکرمہ مجاہد حسن قتادہ وغیرہ سلف کا فرمان ہے کہ اس آیت نے اس سے پہلے کے حکم رات کے قیام کو منسوخ کر دیا ان دونوں حکموں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟

 اس میں جو اختلاف ہے اس کا بیان اوپر گزر چکا،

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے :

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا پانچ نمازیں دن رات میں فرض ہیں

 اس نے پوچھا اس کے سوا بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے؟

 آپ نے فرمایا باقی سب نوافل ہیں۔

وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ

اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے

پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو یعنی راہ اللہ صدقہ خیرات کرتے رہو جس پر اللہ تعالیٰ تمہیں بہت بہتر اور اعلیٰ اور پورا بدلہ دے گا، جیسے اور جگہ ہے:

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً  (۲:۲۴۵)

ایسا کون ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قرض حسن دے اور اللہ اسے بہت کچھ بڑھائے چڑھائے۔

 تم جو بھی نیکیاں کر کے بھیجو گے وہ تمہارے لئے اس چیز سے جسے تم اپنے پیچھے چھوڑ کر جاؤ گے بہت ہی بہتر اور اجر و ثواب میں بہت ہی زیادہ ہے،

 ابو یعلی موصلی کی روایت میں ہے:

 رسول اللہ نے اپنے اصحاب سے ایک مرتبہ پوچھا تم میں سے ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟

 لوگوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے تو ایک بھی ایسا نہیں

 آپ نے فرمایا اور سوچ لو

 انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہی بات ہے فرمایا :

سنو تمہارا مال وہ ہے جسے تم راہ اللہ دے کر اپنے لئے آگے بھیج دو اور جو چھوڑ جاؤ گے وہ تمہارا مال نہیں وہ تمہارا وارثوں کا مال ہے،

یہ حدیث بخاری شریف اور نسائی میں بھی مروی ہے۔

وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (۲۰)

اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہا کرو یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

پھر فرمان ہے کہ ذکر اللہ بکثرت کیا کرو اور اپنے تمام کاموں میں استغفار کیا کرو جو استغفار کرے وہ مغفرت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ اللہ مغفرت کرنے والا اور مہربانیوں والا ہے۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016