تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ المرسلات

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا (۱)

دل خوش کن چلتی ہوئی ہواؤں کی قسم ‏

فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا (۲)

پھر زور سے جھونکا دینے والیوں کی قسم

وَالنَّاشِرَاتِ نَشْرًا (۳)

پھر (ابر کو) ابھار کر پراگندہ کرنے والیوں  کی قسم۔‏

فَالْفَارِقَاتِ فَرْقًا (۴)

پھر حق اور باطل کو جدا جدا کر دینے والے ‏

فَالْمُلْقِيَاتِ ذِكْرًا (۵)

اور وحی لانے والے فرشتوں کی قسم۔

بعض بزرگ صحابہ تابعین وغیرہ سے تو مروی ہے کہ مذکورہ بالا قسمیں ان اوصاف والے فرشتوں کی کھائی ہیں،

بعض کہتے ہیں پہلے کی چار قسمیں تو ہواؤں کی ہیں اور پانچویں قسم فرشتوں کی ہے،

بعض نے توقف کیا ہے کہ الْمُرْسَلَاتِ سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا ہوائیں ہیں،

 ہاں الْعَاصِفَاتِ میں کہا ہے کہ اس سے مراد تو ہوائیں ہی ہیں، بعض الْعَاصِفَاتِ میں یہ فرماتے ہیں اور النَّاشِرَاتِ میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے،

یہ بھی مروی ہے کہ النَّاشِرَاتِ سے مراد بارش ہے،

بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ الْمُرْسَلَاتِ سے مراد ہوائیں ہے، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے،

وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ (۱۵:۲۲)

ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں

 اور جگہ ہے:

وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ (۷:۵۷)

اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے،

الْعَاصِفَاتِ سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں

النَّاشِرَاتِ سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں

 فَارِقَاتِ اور مُلْقِيَاتِ سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل حلال و حرام میں ضلالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں  کےعذر ختم ہو جائی اورمنکرین کو تنبیہ ہو جائے

عُذْرًا أَوْ نُذْرًا (۶)

جو (وحی) الزام اتارنے یا آگاہ کر دینے والی ہوتی ہے

ان قسموں کے بعد فرمان ہے کہ جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے جس دن تم سب کے سب اول آخر والے اپنی اپنی قبروں سے دوبارہ زندہ کئے جاؤ گے اور اپنے کرتوت کا پھل پاؤ گے نیکی کی جزا اور بدی کی سزا پاؤ گے، صور پھونک دیا جائے گا اور ایک چٹیل میدان میں تم سب جمع کر دئے جاؤ گے

إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعٌ (۷)

جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یقیناً ہونے والی ہے ۔‏

یہ وعدہ یقیناً حق ہے اور ہو کر رہنے والا اور لازمی طور پر آنے والا ہے،

فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ (۸)

پس جب ستارے بےنور کر دیئے جائیں گے ‏

اس دن ستاروں کا نور اورانکی   چمک دمک  ماند پڑ جائے  گی جیسےفرمایا:

وَإِذَا النُّجُومُ انْكَدَرَتْ (۸۱:۲)

اور جب ستارے بےنور ہو جائیں گے

اور جگہ فرمایا:

وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ (۸۲:۲

جب ستارے جھڑ جائیں گے۔‏

وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ (۹)

اور جب آسمان توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔‏

وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ (۱۰)

اور جب پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے کرکے اڑا دیئے جائیں گے۔ ‏

اس دن ستارے بےنور ہو کر گر جائیں گےاور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا

 جیسے اور جگہ ہے:

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا (۲۰:۱۰۵)

وہ آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں،تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔‏

اور فرمایا:

وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا (۱۸:۴۷)

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گےاور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک بھی باقی نہ چھوڑیں گے

وَإِذَا الرُّسُلُ أُقِّتَتْ (۱۱)

اور جب رسولوں کو وقت مقررہ پر لایا جائے گا۔

جیسے اور جگہ ہے:

يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۖ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ (۵:۱۰۹)

جس روز اللہ تعالیٰ تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا،

وہ عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں  تو ہی پوشیدہ باتوں کو پورا جاننے والا ہے۔‏

جیسے اور جگہ ہے:

وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ  وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (۳۹:۶۹)

زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی

 نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا،

لِأَيِّ يَوْمٍ أُجِّلَتْ (۱۲)

کس دن کے لئے (ان سب کو) مؤخر کیا گیا ‏

لِيَوْمِ الْفَصْلِ (۱۳)

فیصلے کے دن کے لئے۔

پھر فرماتا ہے کہ ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لئے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے،

جیسے فرمایا :

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (۱۴:۴۷،۴۸)

آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ اللہ اپنے نبیوں سے وعدہ خلافی کرے گا  اللہ بڑا ہی غالب اور بدلہ لینے والا ہے

جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان  بھی، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے رو برو ہونگے‏

 اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا،

وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الْفَصْلِ (۱۴)

تجھے کیا معلوم کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟‏

پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے،

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۱۵)

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ ‏

اس دن ان جھٹلانے والوں کے لئے سخت خرابی ہے،

ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ وَيْلٌ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔

أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ (۱۶)

کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟‏

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا

ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرِينَ (۱۷)

پھر ہم ان کے بعد پچھلوں کو لائے ‏

پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا

كَذَلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ (۱۸)

ہم گنہگاروں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں ‏

اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں،

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۱۹)

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے (افسوس) ہے۔‏

اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی،

پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ

أَلَمْ نَخْلُقْكُمْ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (۲۰)

کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا۔‏

ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا، جیسے سورہ یٰس کی تفسیر میں گزر چکا کہ

اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے،

فَجَعَلْنَاهُ فِي قَرَارٍ مَكِينٍ (۲۱)

پھر ہم نے اسے مضبوظ و محفوظ جگہ میں رکھا

پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے،

إِلَى قَدَرٍ مَعْلُومٍ (۲۲)

ایک مقررہ وقت تک۔‏

مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے،

فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرُونَ (۲۳)

پھر ہم نے اندازہ کیا  اور ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں‏

ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے،

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۲۴)

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہے۔‏

پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا۔

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا (۲۵)

کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟‏

أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا (۲۶)

زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی

پھر فرمایا کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے،

وَجَعَلْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ شَامِخَاتٍ وَأَسْقَيْنَاكُمْ مَاءً فُرَاتًا (۲۷)

اور ہم نے اس میں بلند اور بھاری پہاڑ بنا دیئے اور تمہیں سیراب کرنے والا میٹھا پانی پلایا۔‏

پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لئے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زود ہضم خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا ،

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۲۸)

اس دن جھوٹ جاننے والوں کے لئے وائے اور افسوس ہے۔‏

ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے۔

انْطَلِقُوا إِلَى مَا كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ (۲۹)

اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے ‏

جو کفار قیامت، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ،

انْطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ (۳۰)

چلو تین شاخوں والے تنے کی طرف ‏

لَا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ (۳۱)

جو دراصل نہ سایہ دینے والا ہے نہ شعلے سے بچا سکتا ہے۔‏

اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے

إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ (۳۲)

یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں ‏

یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں،

كَأَنَّهُ جِمَالَتٌ صُفْرٌ (۳۳)

گویا کہ وہ زرد اونٹ ہیں ۔‏

دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں،

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے،

کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے،

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۴)

آج ان جھٹلانے والوں کی درگت ہے۔‏

هَذَا يَوْمُ لَا يَنْطِقُونَ (۳۵)

آج (کا دن) وہ دن ہے کہ یہ بول بھی نہ سکیں گے ‏

وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ (۳۶)

نہ انہیں معذرت کی اجازت دی جائے گی۔ ‏

آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں،

یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے،

 تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہو جائے گی،

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۳۷)

اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔‏

غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے ۔

هَذَا يَوْمُ الْفَصْلِ ۖ جَمَعْنَاكُمْ وَالْأَوَّلِينَ (۳۸)

یہ ہے فیصلہ کا دن ہم نے تمہیں اور اگلوں کو سب کو جمع کرلیا ‏

فَإِنْ كَانَ لَكُمْ كَيْدٌ فَكِيدُونِ (۳۹)

پس اگر تم مجھ سے کوئی چال چل سکتے ہو تو چل لو

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۴۰)

وائے ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے۔‏

پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو ۔خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے،

پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو؟

 وہ عیاری ، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی؟

دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو،

جیسے اور جگہ ہے:

يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا ۚ  لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ (۵۵:۳۳)

اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے

 اور جگہ ہے:

وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا (۱۱:۵۷)

تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،

حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو،

حضرت ابوعبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت، حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہم بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں:

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو سنو! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے،

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں،

 اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے ۔

-   ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو،

-   دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور

-   تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو،

پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔

 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے۔

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلَالٍ وَعُيُونٍ (۴۱)

بیشک پرہیزگار لوگ سایوں میں ہیں  اور بہتے چشموں میں۔‏

اوپر چونکہ بدکاروں کی سزاؤں کا بیان ہوا تھا یہاں نیک کاروں کی جزا کا بیان ہو رہا ہے کہ

جو لوگ متقی پرہیزگار تھے اللہ کے عبادت گزار تھے فرائض اور واجبات کے پابند تھے ۔ اللہ کی نافرمانیوں سے حرام کاریوں سے بچتے تھے وہ قیامت کے دن جنتوں میں ہوں گے، جہاں قسم قسم کی نہریں چل رہی ہیں ۔

 گنہگار سیاہ بدبو دار دھوئیں میں گھرے ہوئے ہوں گے اور یہ نیک کردار جنتوں کے گھنے ٹھنڈے اور پرکیف سایوں میں بہ آرام تمام لیٹے بیٹھے ہوں گے ۔ سامنے صاف شفاف چشمے اپنی پوری پوری روانی سے جاری ہیں۔

وَفَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ (۴۲)

اور ان میوؤں میں جن کی وہ خواہش کریں ‏

قسم قسم کے پھل میوے اور ترکاریاں موجود ہیں، جسے جب جی چاہے کھائیں، نہ روک ٹوک ہے نہ کمی اور نقصان کا اندیشہ ہے، نہ فنا ہونے اور ختم ہونے کا خطرہ ہے،

پھر حوصلہ بڑھانے اور دل میں خوشی کو دو بالا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار فرمایا جاتا ہے کہ

كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (۴۳)

(اے جنتیو!) کھاؤ پیؤ مزے سے اپنے کئے ہوئے اعمال کے بدلے۔‏

اے میرے پیارے بندو تم بہ خوشی اور بافراغت لذیذ پر کیف طعام خوب کھاؤ پیو،

إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (۴۴)

یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ ‏

 ہم ہر نیک کار پرہیزگار مخلص انسان کو اسی طرح بھلا بدلہ اور نیک جزا دیتے ہیں۔

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۴۵)

اس دن سچا نہ جاننے والوں کے لئے (افسوس) ہے

كُلُوا وَتَمَتَّعُوا قَلِيلًا إِنَّكُمْ مُجْرِمُونَ (۴۶)

(اے جھٹلانے والو) تم دنیا میں تھوڑا سا کھا لو اور فائدہ اٹھالو بیشک تم گنہگار ہو ‏

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۴۷)

اس دن جھٹلانے والوں کے لئے سخت ہلاکت ہے۔‏

ان جھٹلانے والوں کو دھمکایا جاتا ہے کہ اچھا دنیا میں تو تم کچھ کھا پی لو، برت برتالو، فائدے اٹھالو ، عنقریب یہ نعمتیں بھی فنا ہو جائیں گی اور تم بھی موت کے گھاٹ اترو گے۔ پھر تمہارا نتیجہ جہنم ہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ تمہاری بد اعمالیوں اور سیاہ کاریوں کی سزا ہمارے پاس تیار ہے کوئی مجرم ہماری نگاہ سے باہر نہیں، قیامت کو، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری وحی کو نہ ماننے والا اسے جھوٹا جاننے والا قیامت کے دن سخت نقصان میں اور پورے خسارے میں ہو گا۔ اسی کی سخت خرابی ہو گی ۔

جیسے اور جگہ ارشاد ہے:

نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ (۳۱:۲۴)

دنیا میں ہم انہیں تھوڑا سا فائدہ پہنچا دیں گے پھر تو ہم انہیں سخت عذاب کی طرف بےبس کر دیں گے

 اور جگہ فرمان ہے:

قُلْ إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ

مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ (۱۰:۶۹،۷۰)

اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا کامیاب نہیں ہو سکتے ۔

 دنیا میں یونہی سا فائدہ اٹھا لیں پھر ان کا لوٹنا تو ہماری ہی طرف ہے، ہم انہیں ان کے کفر کی سزا میں سخت تر عذاب چکھائیں گے۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ (۴۸)

ان سے جب کہا جاتا ہے کہ رکوع کر لو تو نہیں کرتے ‏

پھر فرمایا کہ ان نادان منکروں کو جب کہا جاتا ہے کہ آؤ اللہ کے سامنے جھک تو لو، جماعت کے ساتھ نماز تو ادا کر لو تو ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا، اس سے بھی جی چراتے ہیں بلکہ اسے حقارت سے دیکھتے ہیں اور تکبر کے ساتھ انکار کر دیتے ہیں۔

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ (۴۹)

اس دن جھٹلانے والوں کی تباہی ہے۔

ان کے لئے جو جھٹلانے میں عمریں گزار دیتے ہیں قیامت کے دن بڑی مصیبت ہو گی ۔

فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ (۵۰)

اب اس قرآن کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے ‏

پھر فرمایا جب یہ لوگ اس پاک کلام مجید پر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر کس کلام کو مانیں گے؟

 جیسے اور جگہ ہے:

فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ  (۴۵:۶)

اللہ تعالیٰ پر اور اسکی آیتوں پر جب یہ ایمان نہ لائے تو اب کس بات پر ایمان لائیں گے؟

ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جو شخص اس سورت کی اس آیت کو پڑھے اسے اس کے جواب میں امنت باللہ وبما انزل کہنا چاہئے۔ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی اتاری ہوئی کتابوں پر ایمان لایا۔

یہ حدیث سورہ قیامہ کی تفسیر میں بھی گزر چکی ہے،

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com