تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ النباء

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

پہاڑوں کی تنصیب ، زمین کی سختی اور نرمی دعوت فکر ہے

جو مشرک اور کفار قیامت کے آنے کے منکر تھے اور بطور انکار کے آپس میں سوالات کیا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کرتے تھے ان کے جواب میں اور قیامت کے قائم ہونے کی خبر میں اور اس کے دلائل میں پروردگار عالم فرماتا ہے کہ

عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ (۱)

یہ لوگ کس کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں

یہ لوگ آپس میں کس چیز کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں؟

عَنِ النَّبَإِ الْعَظِيمِ (۲)

اس بڑی خبر کے متعلق۔‏

پھر اللہ تعالیٰ  خودہی فرماتا ہے کہ یہ قیامت کے قائم ہونے کی بابت سوالات کرتے ہیں جو بڑا بھاری دن ہے اور نہایت دل ہلا دینے والا امر ہے۔

 حضرت قتادہ اور ابن زید نے اس النَّبَإِ الْعَظِيمِ (بہت بڑی خبر) سے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا مراد لیا ہے۔

مگر حضرت مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد قرآن ہے،

 لیکن بظاہر ٹھیک بات یہی ہے کہ اس سے مراد مرنے کے بعد جینا ہے جیسے کہ حضرت قتادہ اور حضرت ابن زید کا قول ہے،

الَّذِي هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ (۳)

جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں

اس آیت میں جس اختلاف کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اس کے بارے میں مختلف محاذوں پر ہیں ان کا اختلاف یہ تھا کہ مؤمن تو مانتے تھے کہ قیامت ہو گی لیکن کفار اس کے منکر تھے،

پھر ان منکروں کو اللہ تعالیٰ دھمکاتا ہے کہ

كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (۴)

یقیناً یہ ابھی جان لیں گے۔‏

ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ (۵)

پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا

تمہیں عنقریب اس کا علم حاصل ہو جائے گا اور تم ابھی ابھی معلوم کر لو گے، اس میں سخت ڈانٹ ڈپٹ ہے،

پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں بیان فرما رہا ہے جن سے قیامت کے قائم کرنے پر اس کی قدرت کا ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے کہ جب وہ اس تمام موجودات کو اول مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے تو فنا کے بعد دوبارہ ان کا پیدا کرنا اس پر کیا مشکل ہو گا؟

 تو فرماتا ہے

أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا (۶)

کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟‏

دیکھو کیا ہم نے زمین کو لوگوں کے لئے فرش نہیں بنایا کہ وہ بچھی ہوئی ہے، ٹھہری ہوئی ہے حرکت نہیں کرتی تمہاری فرماں بردار ہے اور مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی ہے

وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا (۷)

اور پہاڑوں کو میخیں (نہیں بنایا)؟

اور پہاڑوں کی میخیں بنا کر زمین میں ہم نے گاڑ دیا ہے، تاکہ نہ وہ ہل سکے، نہ اپنے اوپر کی چیزوں کو ہلا سکے،

 زمین اور پہاڑوں کی پیدائش پر ایک نظر ڈال کر پھر تم اپنے آپ کو دیکھو کہ

وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا (۸)

اور ہم نے تجھے جوڑا جوڑا پیدا کیا۔‏

ہم نے تمہیں جوڑا جوڑا پیدا کیا یعنی مرد و عورت کو آپس میں ایک دوسرے سے نفع اٹھاتے ہو اور توالد تناسل ہوتا ہے بال بچے پیدا ہو رہے ہیں جیسے اور جگہ فرمایا ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً   (۳۰:۲۱)

اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تم ہی میں سے تمہارے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اس نے اپنی مہربانی سے تم میں آپس میں محبت اور رحم ڈال دیا،

وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا (۹)

اور ہم نے تمہاری نیند کو آرام کا سبب بنایا۔‏

پھر فرماتا ہے ہم نے تمہاری نیند کو حرکت کے ختم ہونے کا سبب بنایا تاکہ آرام اور اطمینان حاصل کر لو، اور دن بھر کی تھکان کسل اور ماندگی دور ہو جائے،

اسی معنی کی اور آیت سورہ فرقان میں بھی گزر چکی ہے،

وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا (۱۰)

اور رات کو ہم نے پردہ بنایا

رات کو ہم نے لباس بنایا کہ اس کا اندھیرا اور سیاہی سب لوگوں پر چھا جاتی ہے، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا:

وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا (۸۱:۴)

قسم ہے رات کی جبکہ وہ ڈھک لے ،

عرب شاعر بھی اپنے شعروں میں رات کو لباس کہتے ہیں،

حضرت قتادہ نے فرمایا ہے کہ رات سکون کا باعث بن جاتی ہے

وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا (۱۱)

اور دن کو ہم نے وقت روزگار بنایا

اور برخلاف رات کے دن کو ہم نے روشن، اجالے والا اور بغیر اندھیرے کے بنایا ہے، تاکہ تم اپنا کام دھندا اس میں کر سکو جا آ سکو۔ بیوپار، تجارت، لین دین کر سکو اور اپنی روزیاں حاصل کر سکو،

وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا (۱۲)

تمہارے اوپر ہم نے سات مضبوط آسمان بنائے۔‏

ہم نے جہاں تمہیں رہنے سہنے کو زمین بنا دی وہاں ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے جو بڑے لمبے چوڑے مضبوط پختہ عمدہ اور زینت والے ہیں، تم دیکھتے ہو کہ اس میں ہیروں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے لگ رہے ہیں بعض چلتے پھرتے رہتے ہیں اور بعض ایک جگہ قائم ہیں،

وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا (۱۳)

اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ(سورج) پیدا کیا۔

پھر فرمایا ہم نے سورج کو چمکتا چراغ بنایا جو تمام جہان کو روشن کر دیتا ہے ہر چیز کو جگمگا دیتا ہے اور دنیا کو منور کر دیتا ہے

وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا (۱۴)

اور بدلیوں سے ہم نے بکثرت بہتا ہوا پانی برسایا

اور دیکھو کہ ہم نے پانی کی بھری بدلیوں سے بکثرت پانی برسایا،

ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہوائیں چلتی ہیں، ادھر سے ادھر بادلوں کو لے جاتی ہیں اور پھر ان بادلوں سے خوب بارش برستی ہے اور زمین کو سیراب کرتی ہے

اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے

 الْمُعْصِرَاتِ سے مراد بعض نے تو ہوا لی ہے اور بعض نے بادل جو ایک ایک قطرہ پانی برساتے رہتے ہیں۔

مرأۃ معصرۃ عرب میں اس عورت کو کہتے ہیں جس کے حیض کا زمانہ بالکل قریب آ گیا ہو، لیکن اب تک حیض جاری نہ ہوا ہو،

حضرت حسن اور قتادہ نے فرمایا الْمُعْصِرَاتِ سے مراد آسمان ہے، لیکن یہ قول غریب ہے

 سب سے زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ مراد اس سے بادل ہیں

 جیسے اور جگہ ہے:

اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا  فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ  (۳۰:۴۸)

اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو بادلوں کو ابھارتی ہیں اور انہیں پروردگار کی منشاء کے مطابق آسمان میں پھیلا دیتی ہیں اور انہیں وہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ ان کے درمیان سے پانی نکلتا ہے۔

 ثَجَّاجًا کے معنی خوب لگاتار بہنے کے ہیں جو بکثرت بہہ رہا ہو اور خوب برس رہا ہو،

 ایک حدیث میں ہے:

 افضل حج وہ ہے جس میں لبیک خوب پکاری جائے اور خون بکثرت بہایا جائے یعنی قربانیاں زیادہ کی جائیں

اس حدیث میں بھی لفظ ثج ہے،

 ایک اور حدیث میں ہے :

 استحاضہ کا مسئلہ پوچھنے والی ایک صحابیہ عورت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روئی کا پھایا رکھ لو،

 اس نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہ تو بہت زیادہ ہے میں تو ہر وقت خون بکثرت بہاتی رہتی ہوں،

اس روایت میں بھی لفظ اثج ثجا ہے یعنی بےروک برابر خون آتا رہتا ہے،

 تو یہاں اس آیت میں بھی مراد یہی ہے کہ ابر سے پانی کثرت سے مسلسل برستا ہی رہتا ہے، واللہ اعلم

لِنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا (۱۵)

تاکہ اس سے اناج اور سبزہ اگائیں۔‏

پھر ہم اس پانی سے جو پاک، صاف، بابرکت، نفع بخش ہے، اناج اور دانے پیدا کرتے ہیں جو انسان حیوان سب کے کھانے میں آتے ہیں اور سبزیاں اگاتے ہیں جو ترو تازہ کھائی جاتی ہیں اور اناج کھلیان میں رکھا جاتا ہے پھر کھایا جاتا ہے

وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا (۱۶)

اور گھنے باغ (بھی اگائیں)

اور باغات اس پانی سے پھلتے پھولتے ہیں اور قسم قسم کے ذائقوں، رنگوں خوشبوؤں والے میوے اور پھل پھول ان سے پیدا ہوتے ہیں گو کہ زمین کے ایک ہی ٹکڑے پر وہ ملے جلے ہیں۔

 أَلْفَافًا کے معنی جمع کے ہیں

 اور جگہ ہے:

وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٌ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ ۚ

 إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (۱۳:۴)

زمین میں مختلف ٹکڑے ہیں جو آپس میں ملے جلے ہیں اور انگور کے درخت، کھیتیاں، کھجور کے درخت، بعض شاخ دار، بعض زیادہ شاخوں کے بغیر، سب ایک ہی پانی سے سیراب کئے جاتے ہیں اور ہم ایک سے ایک بڑھ کر میوہ میں زیادہ کرتے ہیں

یقیناً عقل مندوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔

إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيقَاتًا (۱۷)

بیشک فیصلہ کا دن کا وقت مقرر ہے۔‏

یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔

جیسے اور جگہ ہے۔

وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَعْدُودٍ (۱۱:۱۰۴)

نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لئے،

يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا (۱۸)

جس دن کہ صور پھونکا جائے گا۔ پھر تم فوج در فوج چلے آؤ گے

اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی جیسے فرمایا :

يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (۱۷:۷۱)

جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے،

صحیح بخاری شریف میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے،

 لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟

کہا میں نہیں کہہ سکتا،

 پوچھا چالیس مہینے؟

کہا مجھے خبر نہیں

پوچھا چالیس سال؟

کہا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اُگتے ہیں لوگ زمین سے اُگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی،

وَفُتِحَتِ السَّمَاءُ فَكَانَتْ أَبْوَابًا (۱۹)

اور آسمان کھول دیا جائے گا پھر اس میں دروازے دروازے ہو جائیں گے

آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے،

وَسُيِّرَتِ الْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا (۲۰)

اور پہاڑ چلائے جائیں گے پس وہ سراب ہو جائیں گے

پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذریعے بن جائیں گے،

جیسے اور جگہ ہے

وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (۲۷:۸۸)

تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں

 اور جگہ ہے :

وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوشِ (۱۰۱:۵)

پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے،

یہاں فرمایا  فَكَانَتْ سَرَابًا پہاڑ سراب ہو جائیں گے یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا

 جیسے اور جگہ ہے

وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا ۔فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا ۔لَا تَرَى فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا (۲۰۱۰۵،۱۰)

لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا

اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا

 اور جگہ ہے:

وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً (۱۸:۴۷)

جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی،

إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا (۲۱)

بیشک دوزخ گھات میں ہے ۔‏

پھر فرماتا ہے سرکش، نافرمان، مخالفین رسول کی تاک میں جہنم لگی ہوئی ہے

لِلطَّاغِينَ مَآبًا (۲۲)

سرکشوں کا ٹھکانا وہی ہے۔‏

یہی ان کے لوٹنے اور رہنے سہنے کی جگہ ہے۔

 اس کے معنی حضرت حسن اور حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ نے یہ بھی کئے ہیں کہ کوئی شخص جنت میں بھی نہیں جا سکتا، جب تک جہنم پر سے نہ گزرے، اگر اعمال ٹھیک ہیں تو نجات پا لی اور اگر اعمال بد ہیں تو روک لیا گیا اور جہنم میں جھونک دیا گیا،

حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں اس پر تین تین پل ہیں،

لَابِثِينَ فِيهَا أَحْقَابًا (۲۳)

اس میں وہ مدتوں تک پڑے رہیں گے۔‏

پھر فرمایا وہ اس میں مدتوں اور قرنوں پڑے کریں گے

 أَحْقَاب جمع ہے حقب کی ایک لمبے زمانے کو حقب کہتے ہیں  

بعض کہتے ہیں حقب اسی سال کا ہوتا ہے سال بارہ ماہ کا۔ مہینہ تیس دن اور ہر دن ایک ہزار سال کا، بہت سے صحابہ اور تابعین سے یہ مروی ہے،

 بعض کہتے ہیں ستر سال کا حقب ہوتا ہے،

کوئی کہتا ہے چالیس سال کا ہے، جس میں ہر دن ایک ہزار سال کا ،

 بشیر بن کعب تو کہتے ہیں ایک ایک دن اتنا بڑا اور ایسے تین سو ساٹھ سال کا ایک حقب،

ایک مرفوع حدیث میں ہے:

 حقب مہینہ کا، مہینہ تیس دن کا، سال بارہ مہینوں کا، سال کے دن تین سو ساٹھ ہر دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا  (ابن ابی حاتم)

لیکن یہ حدیث سخت منکر ہے اس کے راوی قاسم جو جابر بن زبیر کے لڑکے ہیں، یہ دونوں متروک ہیں،

ایک اور روایت میں ہے کہ ابو مسلم بن علاء نے سلیمان تیمی سے پوچھا کہ کیا جہنم میں سے کوئی نکلے گا بھی؟

تو جواب دیا کہ میں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 اللہ کی قسم جہنم میں سے کوئی بھی بغیر مدت دراز رہے نہ نکلے گا

 سدی کہتے ہیں سات سو حقب رہیں گے ہر حقب ستر سال کا ہر سال تین سو ساٹھ دن کا اور ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر کا،

 خالد بن معدان فرماتے ہیں:

 یہ آیت اور آیت الاماشاء ربک یعنی جہنمی جب تک اللہ چاہے جہنم میں رہیں گے، یہ دونوں آیتیں توحید والوں کے بارے میں ہیں،

 امام ابن جریر فرماتے ہیں یہ بھی ممکن ہے:

 أَحْقَاب تک رہنا متعلق ہو آیت حَمِيمًا وَغَسَّاقًا کے ساتھ یعنی وہ ایک ہی عذاب گرم پانی اور بہتی پیپ کا مدتوں رہے گا، پھر دوسری قسم کا عذاب شروع ہو گا

لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا خاتمہ ہی نہیں

حضرت حسن سے جب یہ سوال ہوا تو کہا :

أَحْقَاب سے مراد ہمیشہ جہنم میں رہنا ہےلیکن حقب کہتے ہیں ستر سال کو جس کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار برس کے برابر ہوتا ہے۔

حضرت قتادہ فرماتے ہیں:

 أَحْقَاب کبھی ختم نہیں ہوتے ایک حقب ختم ہوا دوسرا شروع ہو گیا

 ان أَحْقَاب کی صحیح مدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، ہاں یہ ہم نے سنا ہے کہ ایک حقب اسی سال کا، ایک سال تین سو ساٹھ دن کا ہر دن دنیا کے ایک ہزار سال کا،

لَا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلَا شَرَابًا (۲۴)

نہ کبھی اس میں خنکی کا مزہ چکھیں گے، نہ پانی کا۔‏

ان دوزخیوں کو نہ تو کلیجے کی ٹھنڈک ہو گی نہ کوئی اچھا پانی کا ملے گا، ہاں ٹھنڈے کے بدلے گرم کھولتا ہوا پانی ملے گا

بعض نے کہا ہے بَرْدًا سے مراد نیند ہے، عرب شاعروں کے شعروں میں بھی بَرْدًا نیند کے معنی میں پایا جاتا ہے۔

إِلَّا حَمِيمًا وَغَسَّاقًا (۲۵)

سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیپ کے

اور کھانے پینے کی چیز بہتی ہوئی پیپ ملے گی،

حَمِيم اس سخت گرم کو کہتے ہیں جس کے بعد حرارت کا کوئی درجہ نہ ہو،

 اور غَسَّاق کہتے ہیں جہنمی لوگوں کے لہو پیپ پسینہ آنسو اور زخموں سے بہتے  ہوئے خون پیپ وغیرہ کو اس گرم چیز کے مقابلہ میں یہ اس قدر سرد ہو گی جو بجائے خود عذاب ہے اور بیحد بدبو دار ہے۔

سورہ ص میں غَسَّاق کی پوری تفسیر بیان ہو چکی یہ اب یہاں دوبارہ اس کے بیان کی چنداں ضرورت نہیں،

 اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اپنے ہر عذاب سے بچائے،

جَزَاءً وِفَاقًا (۲۶)

(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا ‏

پھر فرمایا یہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے،

إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ حِسَابًا (۲۷)

ا نہیں تو حساب کی توقع ہی نہ تھی ‏

ان کی بد اعمالیاں بھی تو دیکھو کہ ان کا عقیدہ تھا کہ حساب کا کوئی دن آنے ہی کا نہیں،

وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كِذَّابًا (۲۸)

اور بےباقی سے ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے۔‏

ہم نے جو جو دلیلیں اپنے نبی پر نازل فرمائی تھیں یہ ان سب کو جھٹلاتے تھے۔

 كِذَّابًا مصدر ہے اس وزن پر اور مصدر بھی آتے ہیں،

وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ كِتَابًا (۲۹)

ہم نے ہرچیز کو لکھ کر شمار کر رکھا ہے ‏

پھر فرمایا کہ ہم نے اپنے بندوں کے تمام اعمال و افعال کو گن رکھا ہے اور شمار کر رکھا ہے وہ سب ہمارے پاس لکھے ہوئے ہیں اور سب کا بدلہ بھی ہمارے پاس تیار ہے۔

فَذُوقُوا فَلَنْ نَزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا (۳۰)

اب تم (اپنے کئے کا) مزہ چکھو ہم تمہارا عذاب ہی بڑھاتے رہیں گے۔‏

ان اہل جہنم سے کہا جائے گا کہ اب ان عذابوں کا مزہ چکھو، ایسے ہی اور اس سے بھی بدترین عذاب تمہیں بکثرت ہوتے رہیں گے،

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں دوزخیوں کے لئے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن اور کوئی آیت نہیں۔ ان کے عذاب ہر وقت بڑھتے ہی رہیں گے،

حضرت ابوبردہ اسلمی سے سوال ہوا کہ دوزخیوں کے لئے اس سے زیادہ سخت اور مایوس کن آیت کو نسی ہے ۔

 فرمایا حضور علیہ السلام نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا ان لوگوں کو اللہ کی نافرمانیوں نے تباہ کر دیا،

لیکن اس حدیث کے راوی جسر بن فرقد بالکل ضعیف ہیں۔

إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا (۳۱)

یقیناً پرہیزگار لوگوں کے لئے کامیابی ہے۔‏

نیک لوگوں کے لئے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے

یہ کامیاب مقصد ور اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے،

حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا (۳۲)

باغات ہیں اور انگور ہیں۔‏

حَدَائِقَ کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو،

وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًا (۳۳)

اور نوجوان کنواری ہم عمر عورتیں ہیں ‏

انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورہ واقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا،

 اس حدیث میں ہے :

 جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی  (ابن ابی حاتم)

وَكَأْسًا دِهَاقًا (۳۴)

چھلکتے ہوئے جام شراب ہیں۔‏

انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس پر نشہ نہ ہو گا کہ بیہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں،

لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا وَلَا كِذَّابًا (۳۵)

اور وہاں نہ تو وہ بیہودہ باتیں سنیں گے اور نہ ہی جھوٹیں باتیں سنیں گے

کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، جیسے اور جگہ ہے:

لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ (۵۲:۲۳)

اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں،

جَزَاءً مِنْ رَبِّكَ عَطَاءً حِسَابًا (۳۶)

(ان کو) تیرے رب کی طرف سے (ان کے نیک اعمال کا) یہ بدلہ ملے گا جو کافی انعام ہوگا

وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، بیحد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔

 عرب کہتے ہیں اعطانی فاحسبنی انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں حسبی اللہ یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔

(اس رب کی طرف سے ملے گا جو کہ)

رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمَنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًا (۳۷)

آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا پروردگار ہے اور بڑی بخشش کرنے والا ہے۔

کسی کو اس سے بات چیت کرنے کا اختیار نہیں ہوگا ‏

اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و جلال کی خبر دے رہا ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق کا پالنے پوسنے والا ہے، وہ رحمٰن ہے، جس کے رحم نے تمام چیزوں کو گھیر لیا ہے، جب تک اس کی اجازت نہ ہو کوئی اس کے سامنے لب نہیں ہلا سکتا،

جیسے اور جگہ ہے:

مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ (۲:۲۵۵)

کون ہے جو اس کی اجازت بغیر اس کے سامنے سفارش لےجاسکے

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ (۱۱:۱۰۵)

جس دن وہ آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کرلے،

يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ

جس دن روح اور فرشتے صفیں باندھ کھڑے ہونگے

الرُّوحُ سے مراد یا توتمام انسانوں کی روحیں ہیں یا تمام انسان ہیں یا اس قسم کی خاص مخلوق ہے جو انسانوں  کی سی صورتوں والے ہیں کھاتے پیتے ہیں نہ وہ فرشتے ہیں نہ انسان،یا مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں،

حضرت جبرائیل کو اور جگہ بھی روح کہا گیا ہے، ارشاد ہے:

نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ۔عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ(۲۶۱۹۳،۱۹۴)

اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے آپ کے دل پر اترا ہے  کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہوجائیں

یہاں روح سے مراد یقیناً حضرت جبرائیل ہیں

 حضرت مقاتل فرماتے ہیں کہ تمام فرشتوں سے بزرگ، اللہ کے مقرب اور وحی لے کر آنے والے بھی ہیں،

یا مراد روح سے قرآن ہے، اس کی دلیل میں یہ آیت پیش کی جا سکتی ہے

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا  (۴۲۵۲)

ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف روح اتاری

یہاں روح سے مراد قرآن ہے،

چھٹا قول یہ ہے کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو تمام مخلوق کے برابر ہے،

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ فرشتہ تمام فرشتوں سے بہت بڑا ہے،

حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

 یہ روح نامی فرشتہ چوتھے آسمان میں ہے، تمام آسمانوں کل پہاڑوں اور سب فرشتوں سے بڑا ہے، ہر دن بارہ ہزار تسبیحات پڑھتا ہے ہر ایک تسبیح سے ایک ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے، قیامت کے دن وہ اکیلا ایک صف بن کر آئے گا۔

لیکن یہ قول بہت ہی غریب ہے،

 طبرانی میں حدیث ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:

 فرشتوں میں ایک فرشتہ وہ بھی ہے کہ اگر اسے حکم ہو کہ تمام آسمانوں اور زمینوں کو لقمہ بنا لے تو وہ ایک لقمہ میں سب کو لے لے اس کی تسبیح یہ ہے سبحانک حیث کنت اللہ تو جہاں کہیں بھی ہے پاک ہے

 یہ حدیث بھی بہت غریب ہے بلکہ اس کے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہونے میں بھی کلام ہے، ممکن ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس کا قول ہو ، اور ہو بھی بنی اسرائیل سے لیا ہوا، واللہ اعلم۔

میرے نزدیک ان تمام اقوال میں سے بہتر قول یہ ہے کہ یہاں روح سے مراد کل انسان ہیں۔ واللہ اعلم

لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَنُ

تو کوئی کلام نہ کر سکے گا مگر جسے رحمٰن اجازت دے دے

پھر فرمایا صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمٰن اجازت دے جیسے فرمایا :

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ (۱۱:۱۰۵)

جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا

صحیح حدیث میں بھی ہے :

 اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا،

وَقَالَ صَوَابًا (۳۸)

اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے

پھر فرمایا کہ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو، سب سے زیادہ حق بات لا الہ الا اللہ ہے ،

ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا (۳۹)

یہ دن حق ہے اب جو چاہے اپنے رب کے پاس (نیک اعمال کر کے) ٹھکانا بنالے

پھر فرمایا کہ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے،

إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ

ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا اور (چوکنا کر دیا) ہےجس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا

ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہئے، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گےجیسے فرمایا:

وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا (۱۸:۴۹)

جو کیا اسے سامنے پا لیں گے

يُنَبَّأُ الْإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ (۷۵:۱۳)

ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا،

وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا (۴۰)

اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا

اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا،

اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصف ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں،

-   پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا،

-   دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے،اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا

حضور کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی یہی مروی ہے،

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016

AmazingCounters.com