Ads:

Rosegal Plus Size 

Invite Friends Get $15

Zaful site coupon

Clearance Sale

تفسیر ابن کثیر (عمادالدین ابن کثیر)

مترجم: محمد صاحب جونا گڑھی

سورۃ اللیل

Previous           Index           Next

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى (۱)

قسم ہے رات کی جب چھا جائے، ‏

وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى (۲)

اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو۔‏

وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى (۳)

اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر مادہ کو پیدا کیا ‏

دن  اور  ر ات کی قسم

مسند احمد میں ہے حضرت علقمہؒ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداءؓ سے ملاقات ہوئی

پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ ؒنے کہا میں کوفے والا ہوں

پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟

 میں نے کہا وَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى پڑھتے تھے ،

حضرت ابو الدرداءؓ فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں

پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو نہیں وہ جو شیطان سے بہ زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچالئے گئے تھے وہ نہیں ؟ یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

یہ حدیث بخاری میں ہے اس میں یہ ہے:

 حضرت عبداللہ بن مسعود کے شاگرد اور ساتھی حضرت ابو الدرداءؓ کے پاس آئے آپ بھی انہیں ڈھونڈتے ہوئے پہنچے پھر پوچھا کہ تم میں حضرت عبداللہ ؓکی قرأت پر قرآن پڑھنے والا کون ہے ؟

 کہا کہ ہم سب ہیں ،

پھر پوچھا کہ تم سب میں حضرت عبداللہ ؓکی قرأت کو زیادہ یاد رکھنے والاکون ہے ؟

 لوگوں نے حضرت علقمہ کی طرف اشارہ کیا تو ان سے سوال کیا کہ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى کو حضرت عبداللہ ؓسے تم نے کس طرح سنا ؟

تو کہا وہ وَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى پڑھتے تھے

 کہا میں نے بھی حضور علیہ السلام سے اسی طرح سنا ہے اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى پڑھوں اللہ کی قسم میں تو ان کی مانوں گا نہیں ،

 الغرض حضرت ابن مسعود اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کی قرأت یہی ہے اور حضرت ابو الدرداء نے تو اسے مرفوع بھی کہا ہے ۔ باقی جمہور کی قرأت وہی ہے جو موجودہ قرآنوں میں ہے ،

پس اللہ تعالیٰ رات کی قسم کھاتا ہے جبکہ اس کا اندھیرا تمام مخلوق پر چھا جائے اور دن کی قسم کھاتا ہے جبکہ وہ تمام چیزوں کو روشنی سے منور کر دے اور اپنی ذات کی قسم کھاتا ہے جو نر و مادہ کا پیدا کرنے والاہے،جیسے فرمایا

وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا (۷۸:۸)

ہم نے تمھیں جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے

وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ (۵۱:۴۹)

ہم نے ہرچیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں،

إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى (۴)

یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے ‏

ان متضاد اور ایک دوسری کے خلاف قسمیں کھاکر اب فرماتا ہے کہ تمہاری کوششیں اور تمہارے اعمال بھی متضاد اور ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔ بھلائی کرنے والے بھی ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہنے والے بھی ہیں

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (۵)

جس نے دیا (اللہ کی راہ میں) اور ڈرا (اپنے رب سے)۔

وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (۶)

اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا۔

فرمایا   کہ جس نے دیا یعنی اپنے مال کو اللہ کے حکم کے ماتحت خرچ کیا اور پھونک پھونک کر قدم رکھا ہر ایک امر میں خوف اللہ کرتا رہا اور اس کے بدلے کو سچا جانتا رہا اس کے ثواب پر یقین رکھا

حُسْنَى کے معنی

-       لا الہ الا اللہ کے بھی کئے گئے ہیں ۔

-        اللہ کی نعمتوں کے بھی کئے گئے ہیں،

-        نماز زکوٰۃ صدقہ فطر جنت کے بھی مروی ہیں

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (۷)

تو ہم بھی اسکو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔‏

وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى (۸)

لیکن جس نے بخیلی کی اور بےپرواہی برتی۔ ‏

وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى (۹)

اور نیک بات کو جھٹلایا۔ ‏

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى (۱۰)

تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ ‏

وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّى (۱۱)

اس کا مال اسے (اوندھا) کرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا۔ ‏

فرمایا   کہ ہم ا سے آسانی کی راہ آسان کر دیں گے یعنی بھلائی ، جنت اور نیک بدلے کی

 اور جس نے اپنے مال کو راہ اللہ میں نہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے بےنیازی برتی اور حُسْنَى کی یعنی قیامت کے بدلے کی تکذیب کی تو اس پر ہم برائی کا راستہ آسان کر دیں گے

 جیسے فرمایا

وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ(۶:۱۱۰)

ہم انکے دل اور انکی آنکھیں الٹ دینگے جس طرح وہ پہلی بار قرآن پر ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی میں ہی بہکنے دیں گے،

 اس مطلب کی آیتیں قرآن کریم میں جا بجا موجود ہیں کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے خیر کا قصد کرنے والے کو توفیق خیر ملتی ہے اور شر کا قصد رکھنے والوں کو اسی کی توفیق ہوتی ہے ۔

 اس معنی کی تائید میں یہ حدیثیں بھی ہیں ،

حضرت صدیق اکبر ؓنے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہمارے اعمال فارغ شدہ تقدیر کے ماتحت ہیں یا نوپید ہماری طرف سے ہیں ؟

آپ نے فرمایا بلکہ تقدیر کے لکھے ہوئے کے مطابق ،

کہنے لگے پھر عمل کی کیاضرورت؟

فرمایا  ہر شخص پر وہ عمل آسان ہوں گے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے (مسند احمد)

 حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بقیع غرقد میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے تو آپ نے فرمایا :

سنو تم میں سے ہر ایک کی جگہ جنت و دوزخ میں مقرر کردہ ہے ۔ اور لکھی ہوئی ہے

 لوگوں نے کہا پھر ہم اس پر بھروسہ کرکے بیٹھ کیوں نہ رہیں ؟

 تو آپ نے فرمایا :

عمل کرتے رہو ہر شخص سے وہی اعمال صادر ہوں گے جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے پھر آپ نے یہی آیتیں تلاوت فرمائیں (صحیح بخاری)

 اسی روایت کے اور طریق میں ہے کہ اس بیان کے وقت آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا اور سر نیچا کئے ہوئے زمین پر اسے پھیر رہے تھے ۔ الفاظ میں کچھ کمی بیشی بھی ہے ،

مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓکا بھی ایسا ہی سوال جیسا اوپر کی حدیث میں حضرت صدیقؓ کا گزرا مروی ہے اور آپ کا جواب بھی تقریبا ً ایسا ہی مروی ہے ۔

 ابن جریر میں حضرت جابر سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے ،

 ابن جریر کی ایک حدیث میں دو نوجوانوں کا ایسا ہی سوال اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایساہی جواب مروی ہے ، اور پھر ان دونوں حضرات کا یہ قول بھی ہے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم بہ کوشش نیک اعمال کرتے رہیں گے

حضرت ابو الدرداء ؓسے بھی اسی طرح مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

 ہر دن غروب کے وقت سورج کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں اور وہ با آواز بلند دعا کرتے ہیں جسے تمام چیزیں سنتی ہیں سوائے جنات اور انسان کے کہ اے اللہ سخی کو نیک بدلہ دے اور بخیل کا مال تلف کر

یہی معنی ہیں قرآن کی ان چاروں آیتوں کے۔

ابن ابی حاتم کی ایک بہت ہی غریب حدیث میں اس پوری سورت کا شان نزول یہ لکھا ہے :

 ایک شخص کا کھجوروں کا باغ تھا ان میں سے ایک درخت کی شاخیں ایک مسکین شخص کے گھر میں پڑ تی تھیں اوروہ  بیچارہ غریب شخص بال بچے دار تھا باغ والا جب اس درخت کی کھجوریں اتار نے آتا تو اس مسکین کے گھر جا کر وہاں کی کھجوریں اتارتا اس میں جو کھجوریں نیچے گرتیں انہیں اس غریب شخص کے بچے چن لیتے تو یہ آکر ان سے چھین لیتا بلکہ اگر کسی بچے نے منہ میں ڈال لی ہے تو انگلی ڈال کر اس کے منہ سے نکلوا لیتا، اس مسکین نے اسکی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی آپ نے اس سے فرما دیا کہ اچھا تم جاؤ

 اور آپ اس باغ والے سے ملے اور فرمایا کہ تو اپنا وہ درخت جس کی شاخیں فلاں مسکین کے گھر میں ہیں مجھے دے دو، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تجھے جنت کا ایک درخت دے گا وہ کہنے لگا اچھا حضرت میں نے دیا مگر مجھے اس کی کھجوریں بہت اچھی لگتی ہیں میرے تمام باغ میں ایسی کھجوریں کسی اور درخت کی نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر خاموشی کے ساتھ واپس تشریف لے گئے ۔

 ایک شخص جو یہ بات چیت سن رہا تھا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا حضرت اگر یہ درخت میرا ہو جائے اور میں آپ کا کردوں تو کیا مجھے اس کے بدلے جنتی درخت مل سکتا ہے ؟

آپ نے فرمایا ہاں ،

یہ شخص اس باغ والے کے پاس آئے ان کا بھی باغ کھجوروں کا تھا یہ پہلا شخص ان سے وہ ذکر کرنے لگا کہ حضرت مجھے فلاں درخت کھجور کے بدلے جنت کا ایک درخت دینے کو کہہ رہے تھے۔ میں نے یہ جواب دیا یہ سن کر خاموش ہو رہےپھر تھوڑی دیر بعد فرمایا کہ کیا تم اسے بیچنا چاہتے ہو ؟

 اس نے کہا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ جو قیمت اس کی مانگوں وہ کوئی مجھے دے دے ۔ لیکن کون دے سکتا ہے ؟

پوچھا کیا قیمت لینا چاہتے ہو؟  کہا چالیس درخت خرما کے۔

اس نے کہا یہ تو بڑی زبردست قیمت لگا رہے ہو ایک کے چالیس؟ پھر اور باتوں میں لگ گئے پھر کہنے لگے اچھا میں اسے اتنے ہی میں خریدتا ہوںاس نے کہا اچھا اگر سچ مچ خریدنا ہے تو گواہ کر لو، اس نے چند لوگوں کو بلا لیا اور معاملہ طے ہو گیا گواہ مقرر ہوگئے

پھر اسے کچھ سوجھی تو کہنے لگا کہ دیکھئے صاحب جب تک ہم تم الگ نہیں ہوئے یہ معاملہ طے نہیں ہوا ۔ اس نے بھی کہا بہت اچھا میں بھی ایسا احمق نہیں ہوں کہ تیرے ایک درخت کے بدلے جو خم کھایا ہوا ہے اپنے چالیس درخت دے دوں تو یہ کہنے لگا کہ اچھا اچھا مجھے منظور ہے ۔ لیکن درخت جو میں لوں گا وہ تنے والے بہت عمدہ لوں گا

اس نے کہا اچھا منظور ۔ چنانچہ گواہوں کے روبرو یہ سودا فیصل ہوا اور مجلس برخاست ہوئی۔

یہ شخص خوشی خوشی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب وہ درخت میرا ہو گیا اور میں نے اسے آپ کو دے دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مسکین کے پاس گئے اور فرمانے لگے۔ یہ درخت تمھارا ہے اور تمھارے بال بچوں کا،

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں اس پر یہ سورت نازل ہوئی

 ابن جریر میں مروی ہے کہ یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق ؓکے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔

 آپ مکہ شریف میں ابتداء میں اسلام کے زمانے میں بڑھیا عورتوں اور ضعیف لوگوں کو جو مسلمان ہو جاتے تھے آزاد کر دیا کرتے تھے اس پر ایک مرتبہ آپ کے والد حضرت ابو قحافہ نے جو اب تک مسلمان نہیں ہوئے تھے کہا کہ بیٹا تم جوان کمزور ہستیوں کو آزاد کرتے پھرتے ہو اس سے تو یہ اچھا ہو کہ نوجوان طاقت والوں کو آزاد کراؤ تاکہ وقت پر وہ تمھارے کام آئیں، تمہاری مدد کریں اور دشمنوں سے لڑیں۔ تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا :

 ابا جی میرا ارادہ دنیوی فائدے کا نہیں میں تو صرف رضائے رب اور مرضی مولا چاہتا ہوں۔

 اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئیں۔

 تَرَدَّى کے معنی مرنے کے بھی مروی ہیں اور آگ میں گرنے کے بھی۔

إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَى (۱۲)

بیشک راہ دکھا دینا ہمارا ذمہ ہے۔ ‏

یعنی حلال و حرام کا ظاہر کر دینا ہمارے ذمے ہے،

یہ بھی معنی ہیں کہ جو ہدایت پر چلا وہ یقیناً ہم تک پہنچ جائیگا

وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَى (۱۳)

اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے ۔‏

جیسے فرمایا

وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ (۱۶:۱۹)

آخرت اور دنیا کی ملکیت ہماری ہی ہے۔

فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّى (۱۴)

میں نے تو تمہیں شعلہ مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے۔‏

لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى (۱۵)

جس میں صرف وہی بد بخت داخل ہوگا۔‏

الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى (۱۶)

جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منہ پھیر لیا۔‏

میں نے بھڑکتی ہوئی آگ سے تمہیں ہوشیار کر دیا ہے

مسند احمد میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میں نے خطبہ کی حالت میں سنا ہے آپ بہت بلند آواز سے فرما رہے تھے یہاں تک کہ میری اس جگہ سے بازار تک آواز پہنچے اور بار بار فرماتے جاتے تھے:

 لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا چکا ۔ لوگو! میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈرا رہا ہوں،

بار بار یہ فرما رہے تھے یہاں تک کہ چادر مبارک کندھوں سے سرک کر پیروں میں گر پڑی

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

 سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی قیامت کے دن وہ ہو گا جس کے دونوں قدموں تلے دو انگارے رکھ دئیے جائیں جس سے اس کا دماغ ابل رہا ہو،

 مسلم شریف کی حدیث میں ہے:

 ہلکے عذاب والا ہے جہنمی وہ ہو گا جس کی دونوں جوتیاں اور دونوں تسمے آگ کے ہوں گے جن سے اس کا دماغ اس طرح ابل رہا ہو گا جس طرح ہنڈیا جوش کھا رہی ہو باوجود یہ کہ سب سے ہلکے عذاب والا یہی ہے لیکن اس کے خیال میں اس سے زیادہ عذاب والا اور کوئی نہ ہو گا، اس جہنم میں صرف وہی لوگ گھیر گھار کر بدترین عذاب کیے جائیں گے جو بد بخت تر ہوں جن کے دل میں کذب بغض ہو اور اسلام پر عمل نہ ہو،

مسند احمد کی حدیث میں بھی ہے :

 جہنم میں صرف شقی لوگ جائیں گے

 لوگوں نے پوچھا وہ کون ہیں؟

 فرمایا جو اطاعت گزار نہ ہوں اور نہ اللہ کے خوف سے کوئی بدی چھوڑتا ہو

مسند کی اور حدیث میں ہے:

 میری ساری امت جنت میں جائیگی سوائے اس کے جو جنت میں جانے سے انکار کریں

 لوگوں نے پوچھا جنت میں جانے سے انکار کرنے والا کون ہے؟

فرمایا جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے گویا جنت میں جانے سے انکار کر دیا

اور فرمایا

وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى (۱۷)

اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہوگا۔

جہنم سے دوری اسے ہوگی جو تقویٰ شعار، پرہیزگار اور اللہ کے ڈر والا ہو گا جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے تاکہ خود بھی پاک ہو جائے اور اپنی چیزوں کو بھی پاک کر لے اور دین دنیا میں پاکیزگی حاصل کر لے کیونکہ یہ شخص اس کے لیے کسی کے ساتھ سلوک نہیں کرتا کہ اس کا کوئی احسان اس پر ہے بلکہ اس لیے کہ آخرت میں جنت ملے اور وہاں اللہ کا دیدار نصیب ہو

الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّى (۱۸)

جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے ‏

وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (۱۹)

کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو۔‏

إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (۲۰)

بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے۔‏

وَلَسَوْفَ يَرْضَى (۲۱)

یقیناً وہ (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا

پھر فرماتا ہے کہ بہت جلد بالیقین ایسی پاک صفتوں والا شخص راضی ہو جائیگا

 اکثر مفسرین کہتے ہیں یہ آیتیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں اتری ہیں یہاں تک کہ بعض مفسرین نے تو اس پر اجماع نقل کیا ہے بیشک صدیق اکبرؓ اس میں داخل ہیں اور اس کی عمومیت میں ساری اُمت سے پہلے ہیں گو الفاظ آیت کے عام ہیں لیکن آپ سے اول اس کے مصداق ہیں ان تمام اوصاف میں اور کل کی کل نیکیوں میں سب سے پہلے اور سب سے آگے اور سب سے بڑھے چڑھے ہوئے آپ ہی تھے

 آپ صدیق تھے پرہیزگار تھے بزرگ تھے سخی تھے ۔ آپ مالوں کو اپنے مولا کی اطاعت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امداد میں دل کھول کر خرچ کرتے رہتے تھے ہر ایک کیساتھ احسان و سلوک کرتے اور کسی دنیوی فائدے کی چاہت پر نہیں کسی کے احسان کے بدلے نہیں بلکہ صرف اللہ کی مرضی کے لیے

 رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کے لیے جتنے لوگ تھے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے سب پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احسانات کے بار تھے یہاں تک کہ عروہ بن مسعود جو قبیلہ ثقیف کا سردار تھا صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جبکہ حضرت صدیقؓ نے اسے ڈانٹا ڈپٹا اور دوباتیں سنائیں تو اس نے کہاکہ اگر آپ کے احسان مجھ پر نہ ہوتے جس کا بدلہ میں نہیں دے سکا تو میں آپ کو ضرور جواب دیتا پس جبکہ عرب کے سردار اور قبائل عرب کے بادشاہ کے اوپر آپ کے اس قدر احسان تھے کہ وہ سر نہیں اٹھا سکتا تھا تو بھلا اور تو کہاں ؟

 اسی لیے یہاں بھی فرمایا گیا کہ کسی پر احسان کا بدلہ انہیں دینا نہیں بلکہ صرف دیدار اللہ کی خواہش ہے

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے:

 جو شخص جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغے پکاریں گے کہ اے اللہ کے بندے ادھر سے آؤ یہ سب سے اچھا ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کوئی ضرورت تو ایسی نہیں لیکن فرمائیے تو کیا کوئی ایسا بھی ہے جو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے؟

 آپ نے فرمایا ہاں ہے اور مجھے اللہ سے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو۔

*********

Copy Rights:

Zahid Javed Rana, Abid Javed Rana, Lahore, Pakistan

Pages Viewed since 2016